Sunan Ibne-Majah 3062

حج کا بیان

3062Sunan Ibne-Majah

زمزم پینا۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: زمزم کا پانی اس مقصد اور فائدے کے لیے ہے جس کے لیے وہ پیا جائے ١ ؎۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The water of Zamzam is for whatever it is drunk for."

Notes · وضاحت
١ ؎: اگر آدمی زمزم کا پانی شفا کے لیے پئے تو شفا حاصل ہوگی، اگر پیٹ بھرنے کے لئے تو کھانے کی احتیاج نہ ہوگی، اگر پیاس بجھانے کے لیے پئے تو پیاس دور ہوجائے گی، بہرحال جس نیت سے پئے گا وہی فائدہ اللہ چاہے تو حاصل ہوگا، خواہ دنیا کا فائدہ ہو یا آخرت کا، صحیح کہا اور بہت سے ائمہ دین نے زمزم کو مختلف اغراض سے پیا ہے اور جو غرض تھی، وہ حاصل ہوئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٧٨٤، ومصباح الزجاجة: ١٠٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٧، ٣٧٢) (صحیح) (اس سند میں عبداللہ بن مؤمل ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث دوسرے طرق کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١١٢٣ )