Sunan Ibne-Majah 1701

روزوں کا بیان

1701Sunan Ibne-Majah

رات سے روزہ کی بیت کرنا اور نفلی روزہ میں اختیار

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟، فَنَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: إِنِّي صَائِمٌفَيُقِيمُ عَلَى صَوْمِهِ، ثُمَّ يُهْدَى لَنَا شَيْءٌ فَيُفْطِرُ، قَالَتْ: وَرُبَّمَا صَامَ وَأَفْطَرَ، قُلْتُ: كَيْفَ ذَا؟، قَالَتْ: إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا، مَثَلُ الَّذِي يَخْرُجُ بِصَدَقَةٍ فَيُعْطِي بَعْضًا وَيُمْسِكُ بَعْضًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ آتے اور پوچھتے: کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے ؟ ہم کہتے: نہیں، تو آپ ﷺ کہتے: میں روزے سے ہوں ، اور اپنے روزے پر قائم رہتے، پھر کوئی چیز بطور ہدیہ آتی تو روزہ توڑ دیتے، ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ کبھی روزہ رکھتے، اور کبھی کھول دیتے، میں نے پوچھا: یہ کیسے؟ تو کہا: اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کوئی صدقہ نکالے پھر کچھ دے اور کچھ رکھ لے ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ would enter upon me and say: Do you have anything (any food)? If we said: No: he would say: Then I am fasting. So he would continue fasting, then if we were given some food, he would break his fast." She said: "Sometimes he would fast and (then) break fast (i.e., combine fasting and breaking fast in one day)." I said: "How was that?" She said: "Like the one who goes out with charity (i.e., something to give in charity), and he gives some away and keeps some." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر دعوت ہو یا عمدہ کھانا سامنے آجائے، یا کوئی دوست کھانے کے لئے اصرار کرے تو نفلی روزہ توڑ ڈالے، یہی نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٥٧٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم ٣٢ (١١٥٤)، سنن ابی داود/الصوم ٧٢ (٢٤٥٥)، سنن الترمذی/الصوم ٣٥ (٧٣٤)، سنن النسائی/الصوم ٣٩ (٢٣٢٧)، مسند احمد (٦/٤٩، ٢٠٧) (حسن صحیح )