دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 65 · 173 hadiths · Page 9 of 9

6579Sahih Bukhari(6580)

حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ قَدْرَ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ وصَنْعَاءَ مِنْ الْيَمَنِ، وَإِنَّ فِيهِ مِنَ الْأَبَارِيقِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ.

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، اور ان سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے حوض کی لمبائی اتنی ہوگی جتنی ایلہ اور یمن اور شہر صنعاء کے درمیان کی لمبائی ہے۔ اور وہاں اتنی بڑی تعداد میں پیالے ہوں گے جتنی آسمان کے ستاروں کی تعداد ہے۔

Narrated Anas bin Malik (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "The width of my Lake-Fount is equal to the distance between Aila (a town in Sham) and Sana (the capital of Yemen) and it has as many (numerous) jugs as the number of stars of the sky."

6580Sahih Bukhari(6579)

حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ، مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهَا فَلَا يَظْمَأُ أَبَدًا.

ہم سے سعید بن مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو نافع بن عمر نے خبر دی، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمرو ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرا حوض ایک مہینے کی مسافت کے برابر ہوگا۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی ہوگی اور اس کے کوزے آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے۔ جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا وہ پھر کبھی بھی (میدان محشر میں) پیاسا نہ ہوگا۔

Narrated Abdullah bin Amr (RA) (RA) : The Prophet ﷺ said, "My Lake-Fount is (so large that it takes) a months journey to cross it. Its water is whiter than milk, and its smell is nicer than musk (a kind of Perfume), and its drinking cups are (as numerous) as the (number of) stars of the sky; and whoever drinks from it, will never be thirsty."

6581Sahih Bukhari

حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ، إِذَا أَنَا بِنَهَرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ الْمُجَوَّفِ، قُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ، فَإِذَا طِينُهُ أَوْ طِيبُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ، شَكَّ هُدْبَةُ.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس ؓ نے اور ان سے نبی کریم ﷺ نے (دوسری سند) اور ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم ﷺ نے بیان کیا کہ میں جنت میں چل رہا تھا کہ میں ایک نہر پر پہنچا اس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے گنبد بنے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا یہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو دیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ اس کی خوشبو یا مٹی تیز مشک جیسی تھی۔ راوی ہدبہ کو شک تھا۔

Narrated Anas bin Malik (RA): The Prophet ﷺ said: "While I was walking in Paradise (on the night of Miraj), I saw a river, on the two banks of which there were tents made of hollow pearls. I asked, "What is this, O Gabriel (علیہ السلام)? He said, That is the Kauthar which Your Lord has given to you. Behold! Its scent or its mud was sharp smelling musk!" (The sub-narrator, Hudba is in doubt as to the correct expression. )

6582Sahih Bukhari

حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِي الْحَوْضَ حَتَّى عَرَفْتُهُمُ اخْتُلِجُوا دُونِي، فَأَقُولُ: أَصْحَابِي، فَيَقُولُ: لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ.

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، ان سے انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے کچھ ساتھی حوض پر میرے سامنے لائے جائیں گے اور میں انہیں پہچان لوں گا لیکن پھر وہ میرے سامنے سے ہٹا دئیے جائیں گے۔ میں اس پر کہوں گا کہ یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔

Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ said, "Some of my companions will come to me at my Lake Fount, and after I recognize them, they will then be taken away from me, whereupon I will say, My companions! Then it will be said, You do not know what they innovated (new things) in the religion after you."

6583Sahih Bukhari(6585)

حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ مَنْ مَرَّ عَلَيَّ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَسَمِعَنِي النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، فَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْتَ مِنْ سَهْلٍ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، لَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَزِيدُ فِيهَا، فَأَقُولُ: إِنَّهُمْ مِنِّي فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِي، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سُحْقًا: بُعْدًا، يُقَالُ: سَحِيقٌ: بَعِيدٌ سَحَقَهُ، وَأَسْحَقَهُ: أَبْعَدَهُ، وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ الْحَبَطِيُّ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَرِدُ عَلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِي، فَيُحَلَّئُونَ عَنِ الْحَوْضِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أَصْحَابِي، فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا عِلْمَ لَكَ بِمَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى.

ہم سے سعید بن ابومریم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن مطرف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے، ان سے سہل بن سعد ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں اپنے حوض کوثر پر تم سے پہلے موجود رہوں گا۔ جو شخص بھی میری طرف سے گزرے گا وہ اس کا پانی پئے گا اور جو اس کا پانی پئے گا وہ پھر کبھی پیاسا نہیں ہوگا اور وہاں کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہچانوں گا اور وہ مجھے پہچانیں گے لیکن پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا۔ ابوحازم نے بیان کیا کہ یہ حدیث مجھ سے نعمان بن ابی عیاش نے سنی اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابو سعید خدری ؓ سے یہ حدیث اسی طرح سنی تھی اور وہ اس حدیث میں کچھ زیادتی کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ (یعنی یہ کہ نبی کریم ﷺ فرمائیں گے کہ) میں کہوں گا کہ یہ تو مجھ میں سے ہیں) نبی کریم ﷺ سے کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔ اس پر میں کہوں گا کہ دور ہو وہ شخص جس نے میرے بعد دین میں تبدیلی کرلی تھی۔ ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ سحقا بمعنی بعدا ہے، سحيق یعنی بعيد، أسحقه یعنی أبعده.۔ احمد بن شبیب بن سعید حبطی نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے، ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میرے صحابہ میں سے ایک جماعت مجھ پر پیش کی جائے گی۔ پھر وہ حوض سے دور کر دئیے جائیں گے۔ میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے صحابہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں گھڑ لی تھیں؟ یہ لوگ (دین سے) الٹے قدموں واپس لوٹ گئے تھے۔ (دوسری سند) شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے کہ ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ کے حوالے سے فيجلون (بجائے فيحلؤون ) کے بیان کرتے تھے۔ اور عقیل فيحلؤون بیان کرتے تھے اور زبیدی نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے محمد بن علی نے، ان سے عبیداللہ بن ابی رافع نے، ان سے ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے۔

Narrated Abu Hazim from Sahl bin Sad (RA) : The Prophet ﷺ said, "I am your predecessor (forerunner) at the Lake-Fount, and whoever will pass by there, he will drink from it and whoever will drink from it, he will never be thirsty. There will come to me some people whom I will recognize, and they will recognize me, but a barrier will be placed between me and them." Abu Hazim added: An-Numan bin Abi Aiyash, on hearing me, said. "Did you hear this from Sahl?" I said, "Yes." He said, " I bear witness that I heard Abu Said Al-Khudri(RA) saying the same, adding that the Prophet ﷺ said: I will say: They are of me (i.e. my followers). It will be said, You do not know what they innovated (new things) in the religion after you left. I will say, Far removed, far removed (from mercy), those who changed (their religion) after me." Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, "On the Day of Resurrection a group of companions will come to me, but will be driven away from the Lake-Fount, and I will say, O Lord (those are) my companions! It will be said, You have no knowledge as to what they innovated after you left; they turned apostate as renegades (reverted from Islam)."

6586Sahih Bukhari

حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِي فَيُحَلَّئُونَ عَنْهُ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أَصْحَابِي، فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا عِلْمَ لَكَ بِمَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى، وَقَالَ شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيُجْلَوْنَ، وَقَالَ عُقَيْلٌ : فَيُحَلَّئُونَ، وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابن مسیب نے، وہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ سے روایت کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا حوض پر میرے صحابہ کی ایک جماعت آئے گی۔ پھر انہیں اس سے دور کردیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا میرے رب! یہ تو میرے صحابہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلی تھیں، یہ الٹے پاؤں (اسلام سے) واپس لوٹ گئے تھے۔

Narrated Ibn Al-Musaiyab (RA) : The companions of the Prophet ﷺ said, "Some men from my companions will come to my Lake-Fount and they will be driven away from it, and I will say, O Lord, my companions! It will be said, You have no knowledge of what they innovated after you left: they turned apostate as renegades (reverted from Islam).

6587Sahih Bukhari

حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا قَائِمٌ إِذَا زُمْرَةٌ حَتَّى إِذَا عَرَفْتُهُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِي وَبَيْنِهِمْ، فَقَالَ: هَلُمَّ، فَقُلْتُ: أَيْنَ ؟ قَالَ: إِلَى النَّارِ، وَاللَّهِ قُلْتُ: وَمَا شَأْنُهُمْ ؟ قَالَ: إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا بَعْدَكَ عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى، ثُمَّ إِذَا زُمْرَةٌ حَتَّى إِذَا عَرَفْتُهُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِي وَبَيْنِهِمْ، فَقَالَ: هَلُمَّ، قُلْتُ: أَيْنَ ؟ قَالَ: إِلَى النَّارِ، وَاللَّهِ قُلْتُ: مَا شَأْنُهُمْ ؟ قَالَ: إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا بَعْدَكَ عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى، فَلَا أُرَاهُ يَخْلُصُ مِنْهُمْ إِلَّا مِثْلُ هَمَلِ النَّعَمِ.

ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، کہا کہ مجھ سے ہلال نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں (حوض پر) کھڑا ہوں گا کہ ایک جماعت میرے سامنے آئے گی اور جب میں انہیں پہچان لوں گا تو ایک شخص (فرشتہ) میرے اور ان کے درمیان سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ۔ میں کہوں گا کہ کدھر؟ وہ کہے گا کہ واللہ جہنم کی طرف۔ میں کہوں گا کہ ان کے حالات کیا ہیں؟ وہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں (دین سے) واپس لوٹ گئے تھے۔ پھر ایک اور گروہ میرے سامنے آئے گا اور جب میں انہیں بھی پہچان لوں گا تو ایک شخص (فرشتہ) میرے اور ان کے درمیان میں سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ۔ میں پوچھوں گا کہ کہاں؟ تو وہ کہے گا، اللہ کی قسم! جہنم کی طرف۔ میں کہوں گا کہ ان کے حالات کیا ہیں؟ فرشتہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں واپس لوٹ گئے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان گروہوں میں سے ایک آدمی بھی نہیں بچے گا۔ ان سب کو دوزخ میں لے جائیں گے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "While I was sleeping, a group (of my followers were brought close to me), and when I recognized them, a man (an angel) came out from amongst (us) me and them, he said (to them), Come along. I asked, Where? He said, To the (Hell) Fire, by Allah I asked, what is wrong with them He said, They turned apostate as renegades after you left. Then behold! (Another) group (of my followers) were brought close to me, and when I recognized them, a man (an angel) came out from (me and them) he said (to them); Come along. I asked, "Where? He said, To the (Hell) Fire, by Allah. I asked, What is wrong with them? He said, They turned apostate as renegades after you left. So I did not see anyone of them escaping except a few who were like camels without a shepherd."

6588Sahih Bukhari

حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي.

مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ کا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "Between my house and my pulpit there is a garden from amongst the gardens of Paradise, and my pulpit is over my Lake-Fount."

6589Sahih Bukhari

حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنِي أَبِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدَبًا ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ.

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، ان سے عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جندب ؓ سے سنا، کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں حوض پر تم سے پہلے موجود ہوں گا۔

Narrated Jundab (RA) : I heard the Prophet, saying, "I am your predecessor at the Lake-Fount. (Al-Kauthar) .

6590Sahih Bukhari

حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.

ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید نے، ان سے ابوالخیر مرثد بن عبداللہ نے اور ان سے عقبہ بن عامر ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے اور شہداء احد کے لیے اس طرح دعا کی جس طرح میت کے لیے جنازہ میں دعا کی جاتی ہے۔ پھر آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا لوگو! میں تم سے آگے جاؤں گا اور تم پر گواہ رہوں گا اور میں واللہ اپنے حوض کی طرف اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا فرمایا کہ زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، البتہ اس سے ڈرتا ہوں کہ تم دنیا کے لالچ میں پڑ کر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگو گے۔

Narrated Uqba bin Amir (RA) : Once the Prophet ﷺ went out and offered the funeral prayers for the martyrs of Uhud, and then went to the pulpit and said, "I am a predecessor for you and I am a witness for you: and by Allah, I am looking at my Fount just now, and the keys of the treasures of the earth (or the keys of the earth) have been given to me: and by Allah, I am not afraid that you will worship others besides Allah after me, but I am afraid that you will strive and struggle against each other over these treasures of the world."

6591Sahih Bukhari(6592)

حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَذَكَرَ الْحَوْضَ، فَقَالَ: كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ، وَصَنْعَاءَ. وَزَادَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَارِثَةَ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ: حَوْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ، وَالْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ : أَلَمْ تَسْمَعْهُ، قَالَ الْأَوَانِي: قَالَ: لَا، قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ: تُرَى فِيهِ الْآنِيَةُ مِثْلَ الْكَوَاكِبِ.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معبد بن خالد نے بیان کیا، انہیں نے حارثہ بن وہب ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ نے حوض کا ذکر کیا اور فرمایا کہ (وہ اتنا بڑا ہے) جتنی مدینہ اور صنعاء کے درمیان دوری ہے۔ اور ابن ابوعدی محمد بن ابراہیم نے بھی شعبہ سے روایت کیا، ان سے معبد بن خالد نے اور ان سے حارثہ ؓ نے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد سنا، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ کا حوض اتنا لمبا ہوگا جتنی صنعاء اور مدینہ کے درمیان دوری ہے۔ اس پر مستورد نے کہا: کیا آپ نے برتنوں والی روایت نہیں سنی؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ مستورد نے کہا کہ کہ اس میں برتن (پینے کے) اس طرح نظر آئیں گے جس طرح آسمان میں ستارے نظر آتے ہیں۔

Narrated Haritha bin Wahb (RA) : I heard the Prophet ﷺ mentioning the Lake-Fount (Al-Kauthar), saying, "(The width of the Lake-Fount) is equal to the distance between Madinah and Sana (capital of Yemen)." Haritha said that he heard the Prophet ﷺ saying that his Lake-Fount would be as large as the distance between Sana and Medina. Al-Mustaurid said to Haritha, "Didnt you hear him talking about the vessels?" He said, "No." Al-Mustaurid said, "The vessels are seen in it as (numberless as) the stars."

6593Sahih Bukhari

حوض کوثر کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ بیشک ہم نے تجھ کو کوثر عطا کیا ہے اور عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صبر کرو یہاں تک تم مجھ سے حوض پر ملو۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، وَسَيُؤْخَذُ نَاسٌ دُونِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي، فَيُقَالُ: هَلْ شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، وَاللَّهِ مَا بَرِحُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا أَوْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا. أَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُونَ، تَرْجِعُونَ عَلَى الْعَقِبِ.

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے نافع بن عمر نے، کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے اسماء بنت ابی بکر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں حوض پر موجود رہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کردیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا کہ اے میرے رب! یہ تو میرے ہی آدمی ہیں اور میری امت کے لوگ ہیں۔ مجھ سے کہا جائے گا کہ تمہیں معلوم بھی ہے انہوں نے تمہارے بعد کیا کام کئے تھے؟ واللہ یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے۔ (دین اسلام سے پھرگئے) ابن ابی ملیکہ (جو کہ یہ حدیث اسماء سے روایت فرماتے ہیں) کہا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہم اس بات سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں (دین سے) لوٹ جائیں یا اپنے دین کے بارے میں فتنہ میں ڈال دئیے جائیں۔ ابوعبداللہ امام بخاری (رح) نے کہا کہ سورة مومنون میں جو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے أعقابکم تنکصون اس کا معنی بھی یہی ہے کہ تم دین سے اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پھرگئے تھے یعنی اسلام سے مرتد ہوگئے تھے۔

Narrated Asma bint Abu Bakr (RA) : The Prophet ﷺ said, "I will be standing at the Lake-Fount so that I will see whom among you will come to me; and some people will be taken away from me, and I will say, O Lord, (they are) from me and from my followers. Then it will be said, Did you notice what they did after you? By Allah, they kept on turning on their heels (turned as renegades). " The sub-narrator, Ibn Abi Mulaika said, "O Allah, we seek refuge with You from turning on our heels, or being put to trial in our religion."

6553Sahih Bukhari

قَالَ أَبُو حَازِمٍ: فَحَدَّثْتُ بِهِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ""إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السَّرِيعَ مِائَةَ عَامٍ مَا يَقْطَعُهَا"".

نبی کریم ﷺ نے فرمایا ”جنت میں ایک درخت ہو گا جس کے سایہ میں عمدہ اور تیز رفتار گھوڑے پر سوار شخص سو سال تک چلتا رہے گا اور پھر بھی اسے طے نہ کر سکے گا۔“

Narrated Abu Sa'id: The Prophet said: There is a tree in Paradise (so huge) that a fast (or a trained) rider may travel: for one hundred years without being able to cross it.

6585Sahih Bukhari

وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ الْحَبَطِيُّ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ""يَرِدُ عَلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِي، فَيُحَلَّئُونَ عَنِ الْحَوْضِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أَصْحَابِي، فَيَقُولُ: ""إِنَّكَ لَا عِلْمَ لَكَ بِمَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى"".

نبی کریم ﷺ نے فرمایا ”قیامت کے دن میرے صحابہ میں سے ایک جماعت مجھ پر پیش کی جائے گی۔ پھر وہ حوض سے دور کر دئیے جائیں گے۔ میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے صحابہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں گھڑ لی تھیں؟ یہ لوگ ( دین سے ) الٹے قدموں واپس لوٹ گئے تھے۔“ ( دوسری سند ) شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے کہ ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ کے حوالے سے «فيجلون» ( بجائے «فيحلؤون» ) کے بیان کرتے تھے۔ اور عقیل «فيحلؤون» بیان کرتے تھے اور زبیدی نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے محمد بن علی نے، ان سے عبیداللہ بن ابی رافع نے، ان سے ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے۔

Abu Huraira narrated that the Prophet said: On the Day of Resurrection a group of companions will come to me, but will be driven away from the Lake-Fount, and I will say, 'O Lord (those are) my companions!' It will be said, 'You have no knowledge as to what they innovated after you left; they turned apostate as renegades (reverted from Islam).