جس کو اللہ دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ: اكْتُبْ إِلَيَّ مَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَلْفَ الصَّلَاةِ، فَأَمْلَى عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ خَلْفَ الصَّلَاةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ، وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ ، أَنَّ وَرَّادًا ، أَخْبَرَهُ بِهَذَا، ثُمَّ وَفَدْتُ بَعْدُ إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَسَمِعْتُهُ يَأْمُرُ النَّاسَ بِذَلِكَ الْقَوْلِ.
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن ابی لبابہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن شعبہ کے غلام وردا نے بیان کیا کہ معاویہ ؓ نے مغیرہ بن شعبہ ؓ کو لکھا مجھے رسول اللہ ﷺ کی وہ دعا لکھ کر بھیجو جو تم نے نبی کریم ﷺ کو نماز کے بعد کرتے سنی ہے۔ چناچہ مغیرہ ؓ نے مجھ کو لکھوایا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے نبی کریم ﷺ ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منک الجد اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اے اللہ! جو تو دینا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روکنا چاہے اسے کوئی دینے والا نہیں اور تیرے سامنے دولت والے کی دولت کچھ کام نہیں دے سکتی۔ اور ابن جریج نے کہا کہ مجھ کو عبدہ نے خبر دی اور انہیں وردا نے خبر دی، پھر اس کے بعد میں معاویہ ؓ کے یہاں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ لوگوں کو اس دعا کے پڑھنے کا حکم دے رہے تھے۔
Narrated Warrad (RA) :
(the freed slave of Al-Mughira bin Shuba) Muawiyah wrote to Mughira. Write to me what you heard the Prophet ﷺ saying after his prayer. So Al-Mughira dictated to me and said, "I heard the Prophet ﷺ saying after the prayer, None has the right to be worshipped but Allah Alone Who has no partner. O Allah! No-one can withhold what You give, and none can give what You withhold, and the fortune of a man of means is useless before You (i.e., only good deeds are of value)."
اس شخص کا بیان جو بدبختی کی پستی پر بری تقدیر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول آپ کہہ دیجئے کہ میں مخلوقات کے شر سے صبح کی روشنی کے رب کی پناہ مانگتا ہوں
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ سے پناہ مانگا کرو آزمائش کی مشقت، بدبختی کی پستی، برے خاتمے اور دشمن کے ہنسنے سے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "Take refuge with Allah from the difficulties of severe calamities, from having an evil end and a bad fate and from the malicious joy of your enemies."
اللہ تعالیٰ انسان اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہوتا ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَثِيرًا مِمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْلِفُ: لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ.
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، ان سے سالم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ اکثر نبی کریم ﷺ قسم کھایا کرتے تھے کہ نہیں! دلوں کو پھیرنے والے کی قسم۔
Narrated Abdullah (RA) :
When taking an oath, the Prophet ﷺ very often used to say, "No, by Him Who turns the hearts."
اللہ تعالیٰ انسان اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہوتا ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَبِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَيَّادٍ: خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئَا، قَالَ: الدُّخُّ ؟ قَالَ: اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ، قَالَ عُمَرُ: ائْذَنْ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، قَالَ: دَعْهُ إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَا تُطِيقُهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ.
ہم سے علی بن حفص اور بشر بن محمد نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ عبداللہ نے ہمیں خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور ان سے ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ابن صیاد سے فرمایا کہ میں نے تیرے لیے ایک بات دل میں چھپا رکھی ہے (بتا وہ کیا ہے؟ ) اس نے کہا کہ دھواں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بدبخت! اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ۔ عمر ؓ نے عرض کیا: آپ مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، اگر یہ وہی (دجال) ہوا تو تم اس پر قابو نہیں پاسکتے اور اگر یہ وہ نہ ہوا تو اسے قتل کرنے میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
The Prophet ﷺ said to Ibn Saiyad, "I have kept for you a secret." Ibn Saiyad said, "Ad-Dukh." The Prophet ﷺ said, "Keep quiet, for you cannot go beyond your limits (or you cannot exceed what has been foreordained for you)." On that, Umar said (to the Prophet ﷺ ), "Allow me to chop off his neck!" The Prophet ﷺ said, "Leave him, for if he is he (i.e., Ad-Dajjal), then you will not be able to overcome him, and if he is not, then you gain no good by killing him."
(آیت) آپ کہہ دیجیے ہمیں وہی پہنچے گا جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے۔ کتب کے معنی ہیں فیصلہ کردیا، فاتنین کے معنی ہیں گمراہ ہونے والے (الامن صال الجحیم) کے معنی مگر جس کا جہنم میں داخل ہونا اللہ نے لکھ دیا، قدر فہدی کے معنی ہیں کہ بدبختی اور نیک بختی تقدیر میں لکھی جاچکی ہے اور وھدی الانعام لمراتعھا کے معنی ہیں جانور کو چراگاہ تک پہنچا دینا۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْيَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ ؟ فَقَالَ: كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ فَجَعَلَهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، مَا مِنْ عَبْدٍ يَكُونُ فِي بَلَدٍ يَكُونُ فِيهِ، وَيَمْكُثُ فِيهِ لَا يَخْرُجُ مِنَ الْبَلَدِ، صَابِرًا مُحْتَسِبًا، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ.
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو نضر نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے داؤد بن ابی الفرات نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا اور انہیں عائشہ ؓ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ عذاب تھا اور اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اسے بھیجتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنادیا، کوئی بھی بندہ اگر کسی ایسے شہر میں ہے جس میں طاعون کی وبا پھوٹی ہوئی ہے اور اس میں ٹھہرا ہے اور اس شہر سے بھاگا نہیں صبر کئے ہوئے ہے اور اس پر اجر کا امیدوار ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اس تک صرف وہی چیز پہنچ سکتی ہے جو اللہ نے اس کی تقدیر میں لکھ دی ہے تو اسے شہید کے برابر ثواب ملے گا۔
Narrated Aisha (RA) :
I asked Allahs Apostle ﷺ about the plague. He said, "That was a means of torture which Allah used to send upon whom-so-ever He wished, but He made it a source of mercy for the believers, for anyone who is residing in a town in which this disease is present, and remains there and does not leave that town, but has patience and hopes for Allahs reward, and knows that nothing will befall him except what Allah has written for him, then he will get such reward as that of a martyr."
اللہ تعالیٰ کا قول کہ) ہم ہدایت پانے والے نہ ہوتے اگر اللہ مجھے ہدایت نہ دیتا۔ اگر اللہ مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں متقین میں سے ہوتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، أَخْبَرَنَا جَريِرٌ هُوَ ابْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاء بْنِ عَازِب ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا صُمْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا، إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو جریر نے خبر دی جو ابن حازم ہیں، انہیں ابواسحاق نے، ان سے براء بن عازب ؓ نے کہا کہ میں نے غزوہ خندق کے دن رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ہمارے ساتھ مٹی اٹھا رہے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے۔ واللہ، اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاسکتے۔ نہ روزہ رکھ سکتے اور نہ نماز پڑھ سکتے۔ پس اے اللہ! ہم پر سکینت نازل فرما۔ اور جب سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ اور مشرکین نے ہم پر زیادتی کی ہے۔ جب وہ کسی فتنہ کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں۔
Narrated Al-Bara bin Azib (RA) :
I saw the Prophet ﷺ on the Day of (the battle of) Al-Khandaq, carrying earth with us and saying, "By Allah, without Allah we would not have been guided, neither would we have fasted, nor would we have prayed. O Allah! Send down Sakina (calmness) upon us and make our feet firm when we meet (the enemy). The pagans have rebelled against us, but if they want to put us in affliction (i.e., fight us) we refuse (to flee)." (See Hadith No. 430, Vol. 5).