حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، سَمِعْتُ طَارِقًا ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مخارق نے، انہوں نے کہا میں نے طارق سے سنا، کہا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا بلاشبہ سب سے اچھا کلام اللہ کی کتاب ہے اور سب سے اچھا طریقہ (چال چلن) محمد ﷺ کا طریقہ ہے۔
Narrated Tariq (RA) :
Abdullah said, "The best talk is Allahs Book (Quran), and the best guidance is the guidance of Muhammad."
تکلیف پر صبر کرنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب ملے گا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ أَحَدٌ أَوْ لَيْسَ شَيْءٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى سَمِعَهُ مِنَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ لَيَدْعُونَ لَهُ وَلَدًا وَإِنَّهُ لَيُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا مجھ سے اعمش نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے، ان سے ابوموسیٰ اشعری ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی شخص بھی یا کوئی چیز بھی تکلیف برداشت کرنے والی، جو اسے کسی چیز کو سن کر ہوئی ہو، اللہ سے زیادہ (صبر کرنے والا) نہیں ہے۔ لوگ اس کے لیے اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ انہیں تندرستی دیتا ہے بلکہ انہیں روزی بھی دیتا ہے۔
Narrated Abu Musa (RA) :
The Prophet ﷺ said: None is more patient than Allah against the harmful saying. He hears from the people they ascribe children to Him, yet He gives them health and (supplies them with) provision."
تکلیف پر صبر کرنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب ملے گا
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَقِيقًا ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَسَم النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةً كَبَعْضِ مَا كَانَ يَقْسِمُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَاللَّهِ إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ، قُلْتُ: أَمَّا أَنَا لَأَقُولَنَّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ فَسَارَرْتُهُ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَغَضِبَ، حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَخْبَرْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَبَرَ.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ان سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے (جنگ حنین) میں کچھ مال تقسیم کیا جیسا کہ آپ ہمیشہ تقسیم کیا کرتے تھے۔ اس پر قبیلہ انصار کے ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم! اس تقسیم سے اللہ کی رضا مندی حاصل کرنا مقصود نہیں تھا۔ میں نے کہا کہ یہ بات میں ضرور رسول اللہ ﷺ سے کہوں گا۔ چناچہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے، میں نے چپکے سے یہ بات آپ ﷺ سے کہی۔ نبی کریم ﷺ کو اس کی یہ بات بڑی ناگوار گزری اور آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ غصہ ہوگئے یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں نے نبی کریم ﷺ کو اس بات کی خبر نہ دی ہوتی پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) کو اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی گئی تھی لیکن انہوں نے صبر کیا۔
Narrated Abdullah (RA) :
The Prophet ﷺ divided and distributed something as he used to do for some of his distributions. A man from the Ansar said, "By Allah, in this division the pleasure of Allah has not been intended." I said, "I will definitely tell this to the Prophet ﷺ ." So I went to him while he was sitting with his companions and told him of it secretly. That was hard upon the Prophet ﷺ and the color of his face changed, and he became so angry that I wished I had not told him. The Prophet ﷺ then said, " Moses (علیہ السلام) was harmed with more than this, yet he remained patient."
اس شخص کا بیان جو عتاب کہ وجہ سے لوگوں کی طرف متوجہ ہو
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَرَخَّصَ فِيهِ، فَتَنَزَّهَ عَنْهُ قَوْمٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَنَزَّهُونَ عَنِ الشَّيْءِ أَصْنَعُهُ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً.
ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم نے بیان کیا، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک کام کیا اور لوگوں کو بھی اس کی اجازت دے دی لیکن کچھ لوگوں نے اس کا نہ کرنا اچھا جانا۔ جب نبی کریم ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے خطبہ دیا اور اللہ کی حمد کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو اس کام سے پرہیز کرتے ہیں، جو میں کرتا ہوں، اللہ کی قسم میں اللہ کو ان سب سے زیادہ جانتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔
Narrated Aisha (RA) :
The Prophet ﷺ did something and allowed his people to do it, but some people refrained from doing it. When the Prophet ﷺ learned of that, he delivered a sermon, and after having sent Praises to Allah, he said, "What is wrong with such people as refrain from doing a thing that I do? By Allah, I know Allah better than they, and I am more afraid of Him than they."
اس شخص کا بیان جو عتاب کہ وجہ سے لوگوں کی طرف متوجہ ہو
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ هُوَ ابْنُ أَبِي عُتْبَةَ مَوْلَى أَنَسٍ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا، فَإِذَا رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے، کہا میں نے عبداللہ بن عتبہ سے سنا، جو انس ؓ کے غلام ہیں کہ ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے تھے، جب آپ کوئی ایسی چیز دیکھتے جو آپ کو ناگوار ہوتی تو ہم آپ کے چہرے مبارک سے سمجھ جاتے تھے۔
Narrated Abu Said Al-Khudri(RA):
The Prophet ﷺ was more shy than a virgin in her separate room. And if he saw a thing which he disliked, we would recognize that (feeling) in his face.
جو شخص اپنے بھائی کو بغیر تاویل کے کافر کہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسے اس نے کہا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍعَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا، وَقَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی (یا محمد بن بشار) اور احمد بن سعید دارمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مبارک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص اپنے کسی بھائی کو کہتا ہے کہ اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہوگیا۔ اور عکرمہ بن عمار نے یحییٰ سے بیان کیا کہ ان سے عبداللہ بن یزید نے کہا، انہوں نے ابوسلمہ سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا انہوں نے نبی کریم ﷺ سے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "If a man says to his brother, O Kafir (disbeliever)! Then surely one of them is such (i.e., a Kifir). "
جو شخص اپنے بھائی کو بغیر تاویل کے کافر کہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسے اس نے کہا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک (رح) نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے، ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے بھی اپنے کسی بھائی کو کہا کہ اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہوگیا۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, If anyone says to his brother, O misbeliever! Then surely, one of them such."
جو شخص اپنے بھائی کو بغیر تاویل کے کافر کہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسے اس نے کہا
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ رَمَى مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَتْلِهِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے ثابت بن ضحاک ؓ نے اور ان سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اسلام کے سوا کسی اور مذہب کی جھوٹ موٹ قسم کھائی تو وہ ویسا ہی ہوجاتا ہے، جس کی اس نے قسم کھائی ہے اور جس نے کسی چیز سے خودکشی کرلی تو اسے جہنم میں اسی سے عذاب دیا جائے گا اور مومن پر لعنت بھیجنا اسے قتل کرنے کے برابر ہے اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی تو یہ اس کے قتل کے برابر ہے۔
Narrated Thabit bin Ad-Dahhak (RA) :
The Prophet ﷺ said, "Whoever swears by a religion other than Islam (i.e. if he swears by saying that he is a non-Muslim in case he is telling a lie), then he is as he says if his oath is false and whoever commits suicide with something, will be punished with the same thing in the (Hell) fire, and cursing a believer is like murdering him, and whoever accuses a believer of disbelief, then it is as if he had killed him."
ان لوگوں کی دلیل جو جہالت یا تاویل کی بناء پر کسی کافر کہنے والے کو کافر نہیں کہتے، حضرت عمر (رض) نے حاطب کے متعلق فرمایا کہ وہ منافق ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ اہل بدر کے متعلق واقف تھا، چنانچہ ان کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ میں نے تم کو بخش دیا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَلِيمٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمُ الصَّلَاةَ، فَقَرَأَ بِهِمُ الْبَقَرَةَ قَالَ: فَتَجَوَّزَ رَجُلٌ فَصَلَّى صَلَاةً خَفِيفَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا، فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَوْمٌ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا وَنَسْقِي بِنَوَاضِحِنَا، وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّى بِنَا الْبَارِحَةَ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ فَتَجَوَّزْتُ، فَزَعَمَ أَنِّي مُنَافِقٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ ثَلَاثًا، اقْرَأْ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى وَنَحْوَهَا.
ہم سے محمد بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید نے خبر دی، کہا ہم کو سلیم نے خبر دی، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ معاذ بن جبل ؓ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم میں آتے اور انہیں نماز پڑھاتے۔ انہوں نے (ایک مرتبہ) نماز میں سورة البقرہ پڑھی۔ اس پر ایک صاحب جماعت سے الگ ہوگئے اور ہلکی نماز پڑھی۔ جب اس کے متعلق معاذ کو معلوم ہوا تو کہا وہ منافق ہے۔ معاذ کی یہ بات جب ان کو معلوم ہوئی تو وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم لوگ محنت کا کام کرتے ہیں اور اپنی اونٹنیوں کو خود پانی پلاتے ہیں معاذ نے کل رات ہمیں نماز پڑھائی اور سورة البقرہ پڑھنی شروع کردی۔ اس لیے میں نماز توڑ کر الگ ہوگیا، اس پر وہ کہتے ہیں کہ میں منافق ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے معاذ! تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرتے ہو، تین مرتبہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا (جب امام ہو تو) سورة اقرأ، والشمس وضحاها اور سبح اسم ربک الأعلى جیسی سورتیں پڑھا کرو۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) :
Muadh bin Jabal used to pray with the Prophet ﷺ and then go to lead his people in prayer. Once he led the people in prayer and recited Surat-al-Baqara. A man left (the row of the praying people) and offered (light) prayer (separately) and went away. When Muadh came to know about it, he said. "He (that man) is a hypocrite." Later that man heard what Muadh said about him, so he came to the Prophet ﷺ and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! We are people who work with our own hands and irrigate (our farms) with our camels. Last night Muadh led us in the (night) prayer and he recited Sura-al-Baqara, so I offered my prayer separately, and because of that, he accused me of being a hypocrite." The Prophet ﷺ called Muadh and said thrice, "O Muadh! You are putting the people to trials? Recite Wash-shamsi wad-uhaha (91) orSabbih isma Rabbi ka-l-Ala (87) or the like."
ان لوگوں کی دلیل جو جہالت یا تاویل کی بناء پر کسی کافر کہنے والے کو کافر نہیں کہتے، حضرت عمر (رض) نے حاطب کے متعلق فرمایا کہ وہ منافق ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ اہل بدر کے متعلق واقف تھا، چنانچہ ان کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ میں نے تم کو بخش دیا
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ مِنْكُمْ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ.
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوالمغیرہ نے خبر دی، کہا ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس نے لات، عزیٰ کی (یا دوسرے بتوں کی) قسم کھائی تو اسے لا إله إلا الله. پڑھنا چاہیئے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے بطور کفارہ صدقہ دینا چاہیئے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said: "Whoever amongst you swears, (saying by error) in his oath By Al-Lat and Al-Uzza, then he should say, None has the right to be worshipped but Allah. And whoever says to his companions, Come let me gamble with you, then he must give something in charity (as an expiation for such a sin)." (See Hadith No. 645)
ان لوگوں کی دلیل جو جہالت یا تاویل کی بناء پر کسی کافر کہنے والے کو کافر نہیں کہتے، حضرت عمر (رض) نے حاطب کے متعلق فرمایا کہ وہ منافق ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ اہل بدر کے متعلق واقف تھا، چنانچہ ان کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ میں نے تم کو بخش دیا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي رَكْبٍ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَنَادَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ وَإِلَّا فَلْيَصْمُتْ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر ؓ نے کہ وہ عمر بن خطاب ؓ کے پاس پہنچے جو چند سواروں کے ساتھ تھے، اس وقت عمر ؓ اپنے والد کی قسم کھا رہے تھے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں پکار کر کہا، خبردار! یقیناً اللہ پاک تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے باپ دادوں کی قسم کھاؤ، پس اگر کسی کو قسم ہی کھانی ہے تو اللہ کی قسم کھائے، ورنہ چپ رہے۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
that he found Umar bin Al-Khattab (RA) in a group of people and he was swearing by his father. So Allahs Apostle ﷺ called them, saying, "Verily! Allah forbids you to swear by your fathers. If one has to take an oath, he should swear by Allah or otherwise keep quiet."
اللہ تعالیٰ کے احکام میں غضب اور سختی جائز ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ قِرَامٌ فِيهِ صُوَرٌ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ، ثُمَّ تَنَاوَلَ السِّتْرَ فَهَتَكَهُ، وَقَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُصَوِّرُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ.
ہم سے بسرہ بن صفوان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے قاسم نے بیان کیا اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ اندر تشریف لائے اور گھر میں ایک پردہ لٹکا ہوا تھا جس پر تصویریں تھیں۔ نبی کریم ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر آپ نے پردہ پکڑا اور اسے پھاڑ دیا۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ان لوگوں پر سب سے زیادہ عذاب ہوگا، جو یہ صورتیں بناتے ہیں۔
Narrated Aisha (RA) :
The Prophet ﷺ entered upon me while there was a curtain having pictures (of animals) in the house. His face got red with anger, and then he got hold of the curtain and tore it into pieces. The Prophet ﷺ said, "Such people as paint these pictures will receive the severest punishment on the Day of Resurrection ."
اللہ تعالیٰ کے احکام میں غضب اور سختی جائز ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ فَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے ابومسعود نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں صبح کی نماز جماعت سے فلاں امام کی وجہ سے نہیں پڑھتا کیونکہ وہ بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دن ان امام صاحب کو نصیحت کرنے میں نبی کریم ﷺ کو میں نے جتنا غصہ میں دیکھا ایسا میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا تھا، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو! تم میں سے کچھ لوگ (نماز باجماعت پڑھنے سے) لوگوں کو دور کرنے والے ہیں، پس جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے مختصر پڑھائے، کیونکہ نمازیوں میں کوئی بیمار ہوتا ہے کوئی بوڑھا کوئی کام کاج والا۔
Narrated Abu Masud (RA) :
A man came to the Prophet ﷺ and said "I keep away from the morning prayer only because such and such person prolongs the prayer when he leads us in it. The narrator added: I had never seen Allahs Apostle ﷺ more furious in giving advice than he was on that day. He said, "O people! There are some among you who make others dislike good deeds) cause the others to have aversion (to congregational prayers). Beware! Whoever among you leads the people in prayer should not prolong it, because among them there are the sick, the old, and the needy." (See Hadith No. 670, Vol 1)
اللہ تعالیٰ کے احکام میں غضب اور سختی جائز ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَحَكَّهَا بِيَدِهِ فَتَغَيَّظَ، ثُمَّ قَالَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّ اللَّهَ حِيَالَ وَجْهِهِ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ حِيَالَ وَجْهِهِ فِي الصَّلَاةِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ ﷺ نے مسجد میں قبلہ کی جانب منہ کا تھوک دیکھا۔ پھر آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے صاف کیا اور غصہ ہوئے پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص نماز میں اپنے سامنے نہ تھوکے۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) :
While the Prophet ﷺ was praying, he saw sputum (on the wall) of the mosque, in the direction of the Qibla, and so he scraped it off with his hand, and the sign of disgust (was apparent from his face) and then said, "Whenever anyone of you is in prayer, he should not spit in front of him (in prayer) because Allah is in front of him."
اللہ تعالیٰ کے احکام میں غضب اور سختی جائز ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ، قَالَ: خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْإِبِلِ، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن جعفر نے خبر دی، کہا ہم کو ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں زید بن خالد جہنی نے کہ ایک صاحب نے رسول اللہ ﷺ سے لقطہٰ (راستہ میں گری پڑی چیز جسے کسی نے اٹھا لیا ہو) کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا سال بھر لوگوں سے پوچھتے رہو پھر اس کا سر بندھن اور ظرف پہچان کے رکھ اور خرچ کر ڈال۔ پھر اگر اس کے بعد اس کا مالک آجائے تو وہ چیز اسے آپس کر دے۔ پوچھا: یا رسول اللہ! بھولی بھٹکی بکری کے متعلق کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ لا کیونکہ وہ تمہارے بھائی کی ہے یا پھر بھیڑیئے کی ہوگی۔ پوچھا: یا رسول اللہ! اور کھویا ہوا اونٹ؟ بیان کیا کہ اس پر نبی کریم ﷺ ناراض ہوگئے اور آپ کے دونوں رخسار سرخ ہوگئے، یا راوی نے یوں کہا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا، پھر آپ نے فرمایا کہ تمہیں اس اونٹ سے کیا غرض ہے اس کے ساتھ تو اس کے پاؤں ہیں اور اس کا پانی ہے وہ کبھی نہ کبھی اپنے مالک کو پالے گا۔
Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani (RA) :
A man asked Allahs Apostle ﷺ about "Al-Luqata" (a lost fallen purse or a thing picked up by somebody). The Prophet ﷺ said, "You should announce it publicly for one year, and then remember and recognize the tying material of its container, and then you can spend it. If its owner came to you, then you should pay him its equivalent." The man said, "O Allahs Apostle ﷺ ! What about a lost sheep?" The Prophet ﷺ said, "Take it because it is for you, for your brother, or for the wolf." The man again said, "O Allahs Apostle ﷺ ! What about a lost camel?" Allahs Apostle ﷺ became very angry and furious and his cheeks became red (or his face became red), and he said, "You have nothing to do with it (the camel) for it has its food and its water container with it till it meets its owner."
اللہ تعالیٰ کے احکام میں غضب اور سختی جائز ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو
وَقَالَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَيْرَةً مُخَصَّفَةً أَوْ حَصِيرًا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيهَا فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَجَاءُوا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، ثُمَّ جَاءُوا لَيْلَةً فَحَضَرُوا وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ، فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا الْباب فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ مُغْضَبًا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ.
اور مکی بن ابراہیم نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا اور مجھ سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابوالنضر نے بیان کیا، ان سے بسر بن سعید نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور کی شاخوں یا بوریئے سے ایک مکان چھوٹے سے حجرے کی طرح بنا لیا تھا۔ وہاں آ کر آپ تہجد کی نماز پڑھا کرتے تھے، چند لوگ بھی وہاں آگئے اور انہوں نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی پھر سب لوگ دوسری رات بھی آگئے اور ٹھہرے رہے لیکن آپ گھر ہی میں رہے اور باہر ان کے پاس تشریف نہیں لائے۔ لوگ آواز بلند کرنے لگے اور دروازے پر کنکریاں ماریں تو نبی کریم ﷺ غصہ کی حالت میں باہر تشریف لائے اور فرمایا تم چاہتے ہو کہ ہمیشہ یہ نماز پڑھتے رہو تاکہ تم پر فرض ہوجائے (اس وقت مشکل ہو) دیکھو تم نفل نمازیں اپنے گھروں میں ہی پڑھا کرو۔ کیونکہ فرض نمازوں کے سوا آدمی کی بہترین نفل نماز وہ ہے جو گھر میں پڑھی جائے۔
Narrated Zaid bin Thabit (RA) :
Allahs Apostle ﷺ made a small room (with a palm leaf mat). Allahs Apostle ﷺ came out (of his house) and prayed in it. Some men came and joined him in his prayer. Then again the next night they came for the prayer, but Allahs Apostle ﷺ delayed and did not come out to them. So they raised their voices and knocked the door with small stones (to draw his attention). He came out to them in a state of anger, saying, "You are still insisting (on your deed, i.e. Tarawih prayer in the mosque) that I thought that this prayer (Tarawih) might become obligatory on you. So you people, offer this prayer at your homes, for the best prayer of a person is the one which he offers at home, except the compulsory (congregational) prayer."
غصے سے پرہیز کرنے کا بیان، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب وہ غصہ ہوتے ہیں تو بخش دیتے ہیں، جو لوگ خوشحالی اور مصیبت میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ کو ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے درگذر کرنے والے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پہلوان وہ نہیں ہے جو کشتی لڑنے میں غالب ہوجائے بلکہ اصلی پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پائے بےقابو نہ ہوجائے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "The strong is not the one who overcomes the people by his strength, but the strong is the one who controls himself while in anger."
غصے سے پرہیز کرنے کا بیان، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب وہ غصہ ہوتے ہیں تو بخش دیتے ہیں، جو لوگ خوشحالی اور مصیبت میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ کو ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے درگذر کرنے والے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ، قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ وَأَحَدُهُمَا يَسُبُّ صَاحِبَهُ مُغْضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ، لَوْ قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، فَقَالُوا لِلرَّجُلِ: أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنِّي لَسْتُ بِمَجْنُونٍ.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے سلیمان بن صرد ؓ نے بیان کیا کہ دو آدمیوں نے نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں جھگڑا کیا، ہم بھی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص دوسرے کو غصہ کی حالت میں گالی دے رہا تھا اور اس کا چہرہ سرخ تھا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہوجائے۔ اگر یہ أعوذ بالله من الشيطان الرجيم کہہ لے۔ صحابہ نے اس سے کہا کہ سنتے نہیں، نبی کریم ﷺ کیا فرما رہے ہیں؟ اس نے کہا کہ کیا میں دیوانہ ہوں؟
Narrated Sulaiman bin Sarad (RA) :
Two men abused each other in front of the Prophet ﷺ while we were sitting with him. One of the two abused his companion furiously and his face became red. The Prophet ﷺ said, "I know a word (sentence) the saying of which will cause him to relax if this man says it. Only if he said, "I seek refuge with Allah from Satan, the outcast. " So they said to that (furious) man, Dont you hear what the Prophet ﷺ is saying?" He said, "I am not mad."
غصے سے پرہیز کرنے کا بیان، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب وہ غصہ ہوتے ہیں تو بخش دیتے ہیں، جو لوگ خوشحالی اور مصیبت میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ کو ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے درگذر کرنے والے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي، قَالَ: لَا تَغْضَبْفَرَدَّدَ مِرَارًا، قَالَ: لَا تَغْضَبْ.
مجھ سے یحییٰ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبکر نے خبر دی جو ابن عیاش ہیں، انہیں ابوحصین نے، انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ ؓ نے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے آپ کوئی نصیحت فرما دیجئیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر۔ انہوں نے کئی مرتبہ یہ سوال کیا اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
A man said to the Prophet ﷺ , "Advise me! "The Prophet ﷺ said, "Do not become angry and furious." The man asked (the same) again and again, and the Prophet ﷺ said in each case, "Do not become angry and furious."
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍفَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ: مَكْتُوبٌ فِي الْحِكْمَةِ إِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ وَقَارًا وَإِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ سَكِينَةً، فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صَحِيفَتِكَ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے ان سے ابوالسوار عدوی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمران بن حصین سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حیاء سے ہمیشہ بھلائی پیدا ہوتی ہے۔ اس پر بشیر بن کعب نے کہا کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقار حاصل ہوتا ہے، حیاء سے سکینت حاصل ہوتی ہے۔ عمران نے ان سے کہا میں تجھ سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں اور تو اپنی (دو ورقی) کتاب کی باتیں مجھ کو سناتا ہے۔
Narrated Abu As-Sawar Al-Adawi (RA) :
Imran bin Husain said, "The Prophet ﷺ said, Haya does not bring anything except good." Thereupon Bashir bin Kab said, It is written in the wisdom paper: Haya leads to solemnity; Haya leads to tranquility (peace of mind)." Imran said to him, "I am narrating to you the saying of Allahs Apostle ﷺ and you are speaking about your paper (wisdom book)?"