ترک ملاقات کا بیان اور رسول اللہ ﷺ کا فرمانا کہ کسی شخص کے لئے جائز نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک ملاقات کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ.
ہم سے عبدالرحمٰن بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک (رح) نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عطاء بن یزید لیثی نے اور انہیں ابوایوب انصاری ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ اپنے کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ کے لیے ملاقات چھوڑے، اس طرح کہ جب دونوں کا سامنا ہوجائے تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔
Narrated Abu Aiyub Al-Ansari (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "It is not lawful for a man to desert his brother Muslim for more than three nights. (It is unlawful for them that) when they meet, one of them turns his face away from the other, and the other turns his face from the former, and the better of the two will be the one who greets the other first."
نافرمانی کرنے والے سے ترک ملاقات کا جائز ہونا اور کعب نے بیان کیا کہ جب وہ نبی ﷺ سے پیچھے رہ گئے اور نبی ﷺ نے مسلمانوں کو ہم سے گفتگو کرنے سے منع فرمایا اور پچاس راتوں کا تذکرہ کیا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَعْرِفُ غَضَبَكِ وَرِضَاكِقَالَتْ: قُلْتُ: وَكَيْفَ تَعْرِفُ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: إِنَّكِ إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً قُلْتِ: بَلَى وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ سَاخِطَةً قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: أَجَلْ لَسْتُ أُهَاجِرُ إِلَّا اسْمَكَ.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہاری ناراضگی اور خوشی کو خوب پہچانتا ہوں۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کس طرح سے پہچانتے ہیں؟ فرمایا کہ جب تم خوش ہوتی ہو کہتی ہو، ہاں محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم! بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ کا فرمانا بالکل صحیح ہے میں صرف آپ کا نام لینا چھوڑتی ہوں۔
Narrated Aisha (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, " I know whether you are angry or pleased." I said, "How do you know that, Allahs Apostle?" He said, "When you are pleased, you say, "Yes, by the Lord of Muhammad, but when you are angry, you say, No, by the Lord of Abraham! " I said, "Yes, I do not leave, except your name."
کیا اپنے دوست کی ملاقات کے لئے روزانہ یا صبح و شام کے وقت جایا جائے
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ، وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْهِمَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً، فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلٌ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا أَمْرٌ، قَالَ: إِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي بِالْخُرُوجِ.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، ان سے زہری نے (دوسری سند) اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین اسلام کا پیرو پایا اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ جس میں رسول اللہ ﷺ ان کے پاس صبح و شام تشریف نہ لاتے ہوں، ایک دن ابوبکر ؓ (والد ماجد) گھر میں بھری دوپہر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کہا یہ رسول اللہ ﷺ تشریف لا رہے ہیں، یہ ایسا وقت تھا کہ اس وقت ہمارے یہاں نبی کریم ﷺ کے آنے کا معمول نہیں تھا، ابوبکر ؓ بولے کہ اس وقت نبی کریم ﷺ کا تشریف لانا کسی خاص وجہ ہی سے ہوسکتا ہے، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے مکہ چھوڑنے کی اجازت مل گئی ہے۔
Narrated Aisha (RA) :
(the wife of the Prophet) "I do not remember my parents believing in any religion other than the Religion (of Islam), and our being visited by Allahs Apostle ﷺ in the morning and in the evening. One day, while we were sitting in the house of Abu Bakr (RA) (my father) at noon, someone said, This is Allahs Apostle ﷺ coming at an hour at which he never used to visit us. Abu Bakr (RA) said, There must be something very urgent that has brought him at this hour. The Prophet ﷺ said, I have been allowed to go out (of Makkah) to migrate. "
ملاقات اور اس شخص کا بیان، جو کسی جماعت کی ملاقات کو جائے اور وہاں کھانا کھائے اور سلمان نبی ﷺ کے زمانہ میں ابودرادء کی ملاقات کو گئے تو ان کے ہاں کھانا کھایا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَطَعِمَ عِنْدَهُمْ طَعَامًا، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَمَرَ بِمَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ فَنُضِحَ لَهُ عَلَى بِسَاطٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُمْ.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں انس بن سیرین نے اور انہیں انس بن مالک ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ قبیلہ انصار کے گھرانہ میں ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اور انہیں کے یہاں کھانا کھایا، جب آپ واپس تشریف لانے لگے تو آپ کے حکم سے ایک چٹائی پر پانی چھڑکا گیا اور نبی کریم ﷺ نے اس پر نماز پڑھی اور گھر والوں کے لیے دعا کی۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
Allahs Apostle ﷺ visited a household among the Ansars, and he took a meal with them. When he intended to leave, he asked for a place in that house for him, to pray so a mat sprinkled with water was put and he offered prayer over it, and invoked for Allahs Blessing upon them (his hosts).
وفد سے ملنے کے لئے زینت کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: قَالَ لِيسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : مَا الْإِسْتَبْرَقُ ؟ قُلْتُ: مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، يَقُولُ: رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَرِ هَذِهِ فَالْبَسْهَا لِوَفْدِ النَّاسِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُفَمَضَى مِنْ ذَلِكَ مَا مَضَى، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيْهِ بِحُلَّةٍ فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ فِي مِثْلِهَا مَا قُلْتَ، قَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالًافَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ لِهَذَا الْحَدِيثِ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے، کہا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ نے پوچھا کہ إستبرق کیا چیز ہے؟ میں نے کہا کہ دیبا سے بنا ہوا دبیز اور کھردرا کپڑا پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عمر ؓ نے ایک شخص کو استبرق کا جوڑا پہنے ہوئے دیکھا تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اسے لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اسے آپ خرید لیں اور وفد جب آپ سے ملاقات کے لیے آئیں تو ان کی ملاقات کے وقت اسے پہن لیا کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ریشم تو وہی پہن سکتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہو خیر اس بات پر ایک مدت گزر گئی پھر ایسا ہوا کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے خود انہیں ایک جوڑا بھیجا تو وہ اسے لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا آپ نے یہ جوڑا میرے لیے بھیجا ہے، حالانکہ اس کے بارے میں آپ اس سے پہلے ایسا ارشاد فرما چکے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے تاکہ تم اس کے ذریعہ (بیچ کر) مال حاصل کرو۔ چناچہ ابن عمر ؓ اسی حدیث کی وجہ سے کپڑے میں (ریشم کے) بیل بوٹوں کو بھی مکروہ جانتے تھے۔
Narrated Abdullah (RA) :
Umar saw a silken cloak over a man (for sale) so he took it to the Prophet ﷺ and said, O Allahs Apostle ﷺ ! Buy this and wear it when the delegate come to you. He said, The silk is worn by one who will have no share (in the Here-after). Some time passed after this event, and then the Prophet ﷺ sent a (similar) cloak to him. Umar brought that cloak back to the Prophet ﷺ and said, You have sent this to me, and you said about a similar one what you said? The Prophet ﷺ said, I have sent it to you so that you may get money by selling it. Because of this, Ibn Umar (RA) used to hate the silken markings on the garments.
بھائی چارہ کرنے اور قسم کھانے کا بیان اور ابوجحیفہ کا بیان ہے کہ آپ ﷺ نے سلمان اور ابودرداء کے درمیان بھائی چارہ کرادیا تھا اور عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا کہ ہم لوگ جب مدینہ آئے تو نبی ﷺ نے میرے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ قائم کردیا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَآخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف ہمارے یہاں آئے تو نبی کریم ﷺ نے ان میں اور سعد بن ربیع میں بھائی چارگی کرائی تو پھر (جب عبدالرحمٰن بن عوف نے نکاح کیا تو) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اب ولیمہ کر خواہ ایک بکری کا ہو۔
Narrated Anas (RA) :
When Abdur-Rahman came to us, the Prophet ﷺ established a bond of brotherhood between him and Sad bin Ar-Rabi. Once the Prophet ﷺ said, "As you (O Abdur-Rahman) have married, give a wedding banquet even if with one sheep."
بھائی چارہ کرنے اور قسم کھانے کا بیان اور ابوجحیفہ کا بیان ہے کہ آپ ﷺ نے سلمان اور ابودرداء کے درمیان بھائی چارہ کرادیا تھا اور عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا کہ ہم لوگ جب مدینہ آئے تو نبی ﷺ نے میرے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ قائم کردیا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَبَلَغَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ ؟ فَقَالَ: قَدْ حَالَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِي.
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن سلیمان احول نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے پوچھا، کیا تم کو یہ بات معلوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسلام میں معاہدہ (حلف) کی کوئی اصل نہیں؟ انس ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے خود قریش اور انصار کے درمیان میرے گھر میں حلف کرائی تھی۔
Narrated Asim (RA) :
I said to Anas bin Malik (RA), "Did it reach you that the Prophet ﷺ said, "There is no treaty of brotherhood in Islam?" Anas said, "The Prophet ﷺ made a treaty (of brotherhood) between the Ansar and the Quraish in my home."
مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَبَتَّ طَلَاقَهَا فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الْهُدْبَةِ، لِهُدْبَةٍ أَخَذَتْهَا مِنْ جِلبابهَا، قَالَ: وَأَبُو بَكْرٍ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بباب الْحُجْرَةِ لِيُؤْذَنَ لَهُ، فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَكْرٍ، يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ وَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّبَسُّمِ، ثُمَّ قَالَ: لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ.
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں عائشہ ؓ نے کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور طلاق رجعی نہیں دی۔ اس کے بعد ان سے عبدالرحمٰن بن زبیر ؓ نے نکاح کرلیا، لیکن وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں رفاعہ ؓ کے نکاح میں تھی لیکن انہوں نے مجھے تین طلاقیں دے دیں۔ پھر مجھ سے عبدالرحمٰن بن زبیر ؓ نے نکاح کرلیا، لیکن اللہ کی قسم ان کے پاس تو پلو کی طرح کے سوا اور کچھ نہیں۔ (مراد یہ کہ وہ نامرد ہیں) اور انہوں نے اپنے چادر کا پلو پکڑ کر بتایا (راوی نے بیان کیا کہ) ابوبکر ؓ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور سعید بن العاص کے لڑکے خالد حجرہ کے دروازے پر تھے اور اندر داخل ہونے کی اجازت کے منتظر تھے۔ خالد بن سعید اس پر ابوبکر ؓ کو آواز دے کر کہنے لگے کہ آپ اس عورت کو ڈانتے نہیں کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے کس طرح کی بات کہتی ہے اور نبی کریم ﷺ نے تبسم کے سوا اور کچھ نہیں فرمایا۔ پھر فرمایا، غالباً تم رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہو لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک تم ان کا (عبدالرحمٰن ؓ کا) مزا نہ چکھ لو اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھ لیں۔
Narrated Aisha (RA) :
Rifaa Al-Qurazi divorced his wife irrevocably (i.e. that divorce was the final). Later on Abdur-Rahman bin Az-Zubair married her after him. She came to the Prophet ﷺ and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! I was Rifaas wife and he divorced me thrice, and then I was married to Abdur-Rahman bin AzZubair, who, by Allah has nothing with him except something like this fringe, O Allahs Apostle," showing a fringe she had taken from her covering sheet. Abu Bakr (RA) was sitting with the Prophet ﷺ while Khalid Ibn Said bin Al-As was sitting at the gate of the room waiting for admission. Khalid started calling Abu Bakr, "O Abu Bakr! Why dont you reprove this lady from what she is openly saying before Allahs Apostle?" Allahs Apostle ﷺ did nothing except smiling, and then said (to the lady), "Perhaps you want to go back to Rifaa? No, (it is not possible), unless and until you enjoy the sexual relation with him (Abdur Rahman), and he enjoys the sexual relation with you."
مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَسْأَلْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ عَلَى صَوْتِهِ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ تَبَادَرْنَ الْحِجَابَ، فَأَذِنَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَقَالَ: عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي لَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ تَبَادَرْنَ الْحِجَابَفَقَالَ: أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِنَّ، فَقَالَ: يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَمْ تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَ إِنَّكَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيهٍ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب نے، ان سے محمد بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ اس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس آپ کی کئی بیویاں جو قریش سے تعلق رکھتی تھیں آپ سے خرچ دینے کے لیے تقاضا کر رہی تھیں اور اونچی آواز میں باتیں کر رہی تھیں۔ جب عمر ؓ نے اجازت چاہی تو وہ جلدی سے بھاگ کر پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ان کو اجازت دی اور وہ داخل ہوئے۔ نبی کریم ﷺ اس وقت ہنس رہے تھے، عمر ؓ نے عرض کیا: اللہ آپ کو خوش رکھے، یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ان پر مجھے حیرت ہوئی، جو ابھی میرے پاس تقاضا کر رہی تھیں، جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو فوراً بھاگ کر پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ عمر ؓ نے اس پر عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ سے ڈرا جائے، پھر عورتوں کو مخاطب کر کے انہوں نے کہا، اپنی جانوں کی دشمن! مجھ سے تو تم ڈرتی ہو او اللہ کے رسول سے نہیں ڈرتیں۔ انہوں نے عرض کیا: آپ نبی کریم ﷺ سے زیادہ سخت ہیں۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہاں اے ابن خطاب! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر شیطان بھی تمہیں راستے پر آتا ہوا دیکھے گا تو تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلا جائے گا۔
Narrated Sad (RA) :
Umar bin Al-Khattab (RA) asked permission of Allahs Apostle ﷺ to see him while some Quraishi women were sitting with him and they were asking him to give them more financial support while raising their voices over the voice of the Prophet. When Umar asked permission to enter, all of them hurried to screen themselves the Prophet ﷺ admitted Umar and he entered, while the Prophet ﷺ was smiling. Umar said, "May Allah always keep you smiling, O Allahs Apostle ﷺ ! Let my father and mother be sacrificed for you !" The Prophet ﷺ said, "I am astonished at these women who were with me. As soon as they heard your voice, they hastened to screen themselves." Umar said, "You have more right, that they should be afraid of you, O Allahs Apostle! ﷺ " And then he (Umar) turned towards them and said, "O enemies of your souls! You are afraid of me and not of Allahs Apostle?" The women replied, "Yes, for you are sterner and harsher than Allahs Apostle." Allahs Apostle ﷺ said, "O Ibn Al-Khattab! By Him in Whose Hands my life is, whenever Satan sees you taking a way, he follows a way other than yours!"
مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّائِفِ قَالَ: إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَبْرَحُ أَوْ نَفْتَحَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَاغْدُوا عَلَى الْقِتَالِقَالَ: فَغَدَوْا فَقَاتَلُوهُمْ قِتَالًا شَدِيدًا وَكَثُرَ فِيهِمُ الْجِرَاحَاتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُقَالَ: فَسَكَتُوا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِالْخَبَرِ كُلِّهِ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابو العباس سائب نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ طائف میں تھے (فتح مکہ کے بعد) تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہاں سے کل واپس ہوں گے۔ آپ کے بعض صحابہ نے کہا کہ ہم اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک اسے فتح نہ کرلیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہی بات ہے تو کل صبح لڑائی کرو۔ بیان کیا کہ دوسرے دن صبح کو صحابہ نے گھمسان کی لڑائی لڑی اور بکثرت صحابہ زخمی ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انشاء اللہ ہم کل واپس ہوں گے۔ بیان کیا کہ اب سب لوگ خاموش رہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ ہنس پڑے۔ حمیدی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے پوری سند خبر. کے لفظ کے ساتھ بیان کی۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) :
When Allah Apostle ﷺ was in Taif (trying to conquer it), he said to his companions, "Tomorrow we will return (to Medina), if Allah wills." Some of the companions of Allahs Apostle ﷺ said, "We will not leave till we conquer it." The Prophet ﷺ said, "Therefore, be ready to fight tomorrow." On the following day, they (Muslims) fought fiercely (with the people of Taif) and suffered many wounds. Then Allahs Apostle ﷺ said, "Tomorrow we will return (to Medina), if Allah wills." His companions kept quiet this time. Allahs Apostle ﷺ then smiled.
مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَلَكْتُ وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: أَعْتِقْ رَقَبَةًقَالَ: لَيْسَ لِي، قَالَ: فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا، قَالَ: لَا أَجِدُ، فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: الْعَرَقُ الْمِكْتَلُ، فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ ؟ تَصَدَّقْ بِهَاقَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي، وَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ: فَأَنْتُمْ إِذًا.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں تو تباہ ہوگیا اپنی بیوی کے ساتھ رمضان میں (روزہ کی حالت میں) ہمبستری کرلی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر۔ انہوں نے عرض کیا: میرے پاس کوئی غلام نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر دو مہینے کے روزے رکھ۔ انہوں نے عرض کیا: اس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اتنا بھی میرے پاس نہیں ہے۔ بیان کیا کہ پھر کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ ابراہیم نے بیان کیا کہ عرق ایک طرح کا (نو کلوگرام کا) ایک پیمانہ تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ لو اسے صدقہ کردینا۔ انہوں نے عرض کیا مجھ سے جو زیادہ محتاج ہو اسے دوں؟ اللہ کی قسم! مدینہ کے دونوں میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ بھی ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ ہنس دیئے اور آپ کے سامنے کے دندان مبارک کھل گئے، اس کے بعد فرمایا کہ اچھا پھر تو تم میاں بیوی ہی اسے کھالو۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
A man came to the Prophet ﷺ and said, "I have been ruined for I have had sexual relation with my wife in Ramadan (while I was fasting)" The Prophet ﷺ said (to him), "Manumit a slave." The man said, " I cannot afford that." The Prophet ﷺ said, "(Then) fast for two successive months continuously". The man said, "I cannot do that." The Prophet ﷺ said, "(Then) feed sixty poor persons." The man said, "I have nothing (to feed them with)." Then a big basket full of dates was brought to the Prophet. The Prophet ﷺ said, "Where is the questioner? Go and give this in charity." The man said, "(Shall I give this in charity) to a poorer person than l? By Allah, there is no family in between these two mountains (of Medina) who are poorer than we." The Prophet ﷺ then smiled till his premolar teeth became visible, and said, "Then (feed) your (family with it).
مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً، قَالَ أَنَسٌ: فَنَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِكَ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک (رح) نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ ابن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا۔ آپ کے جسم پر ایک نجرانی چادر تھی، جس کا حاشیہ موٹا تھا۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپ کی چادر بڑے زور سے کھینچی۔ انس ؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے شانے کو دیکھا کہ زور سے کھینچنے کی وجہ سے، اس پر نشان پڑگئے۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے دیئے جانے کا حکم فرمایئے۔ اس وقت میں نے نبی کریم ﷺ کو مڑ کر دیکھا تو آپ مسکرا دیئے پھر آپ ﷺ نے اسے دیئے جانے کا حکم فرمایا۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
While I was going along with Allahs Apostle ﷺ who was wearing a Najrani Burd (sheet) with a thick border, a bedouin overtook the Prophet ﷺ and pulled his Rida (sheet) forcibly. I looked at the side of the shoulder of the Prophet ﷺ and noticed that the edge of the Rida had left a mark on it because of the violence of his pull. The bedouin said, " O Muhammad ﷺ ! Order for me some of Allahs property which you have." The Prophet ﷺ turned towards him, (smiled) and ordered that he be given something.
مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي.
وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ: اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا.
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے جریر ؓ نے بیان کیا کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا نبی کریم ﷺ نے (اپنے پاس آنے سے) کبھی نہیں روکا اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا تو مسکرائے۔
میں نے نبی کریم ﷺ سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ پاتا تو نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور دعا کی اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا اے اللہ! اسے ثبات فرما، اسے ہدایت کرنے والا اور خود ہدایت پایا ہوا بنا۔
Narrated Jarir (RA) :
The Prophet ﷺ did not screen himself from me (had never prevented me from entering upon him) since I embraced Islam, and whenever he saw me, he would receive me with a smile. Once I told him that I could not sit firm on horses. He stroked me on the chest with his hand, and said, "O Allah! Make him firm and make him a guiding and a rightly guided man.
مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَفَضَحِكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: أَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَبِمَ شَبَهُ الْوَلَدِ.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں ان کے والد نے خبر دی، انہیں زینب بنت ام سلمہ ؓ نے، انہیں ام سلمہ ؓ نے کہ ام سلیم ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ حق سے نہیں شرماتا، کیا عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہاں جب عورت پانی دیکھے (تو اس پر غسل واجب ہے) اس پر ام سلمہ ؓ ہنسیں اور عرض کیا، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر بچہ کی صورت ماں سے کیوں ملتی ہے۔
Narrated Zainab bint Um Salama (RA) :
Um Sulaim said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Verily Allah is not shy of (telling you) the truth. Is it essential for a woman to take a bath after she had a wet dream (nocturnal sexual discharge)?" He said, "Yes, if she notices discharge. On that Um Salama laughed and said, "Does a woman get a (nocturnal sexual) discharge?" He said, "How then does (her) son resemble her (his mother)?"
مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ ، حَدَّثَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا قَطُّ ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ.
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عمرو نے خبر دی، ان سے ابوالنضر نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن یسار نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کو اس طرح کھل کر کبھی ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کوا نظر آنے لگتا ہو، آپ ﷺ صرف مسکراتے تھے۔
Narrated Aisha (RA) :
I never saw the Prophet ﷺ laughing to an extent that one could see his palate, but he always used to smile only.
مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وقَالَ لِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ: قَحَطَ الْمَطَرُ فَاسْتَسْقِ رَبَّكَ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ وَمَا نَرَى مِنْ سَحَابٍ فَاسْتَسْقَى، فَنَشَأَ السَّحَابُ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ ثُمَّ مُطِرُوا، حَتَّى سَالَتْ مَثَاعِبُ الْمَدِينَةِ فَمَا زَالَتْ إِلَى الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا تُقْلِعُ، ثُمَّ قَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: غَرِقْنَا فَادْعُ رَبَّكَ يَحْبِسْهَا عَنَّا، فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَامَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَصَدَّعُ عَنِ الْمَدِينَةِ يَمِينًا وَشِمَالًا يُمْطَرُ مَا حَوَالَيْنَا وَلَا يُمْطِرُ مِنْهَا شَيْءٌ، يُرِيهِمُ اللَّهُ كَرَامَةَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِجَابَةَ دَعْوَتِهِ.
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس ؓ نے (دوسری سند) اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس ؓ نے کہ ایک صاحب جمعہ کے دن نبی کریم ﷺ کے پاس آئے نبی کریم ﷺ اس وقت مدینہ میں جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے عرض کیا بارش کا قحط پڑگیا ہے، آپ اپنے رب سے بارش کی دعا کیجئے۔ نبی کریم ﷺ نے آسمان کی طرف دیکھا کہیں ہمیں بادل نظر نہیں آ رہا تھا۔ پھر آپ نے بارش کی دعا کی، اتنے میں بادل اٹھا اور بعض ٹکڑے بعض کی طرف بڑھے اور بارش ہونے لگی، یہاں تک کہ مدینہ کے نالے بہنے لگے۔ اگلے جمعہ تک اسی طرح بارش ہوتی رہی سلسلہ ٹوٹتا ہی نہ تھا چناچہ وہی صاحب یا کوئی دوسرے (اگلے جمعہ کو) کھڑے ہوئے، نبی کریم ﷺ خطبہ دے رہے تھے اور انہوں نے عرض کیا: ہم ڈوب گئے، اپنے رب سے دعا کریں کہ اب بارش بند کر دے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اے اللہ! ہمارے چاروں طرف بارش ہو، ہم پر نہ ہو۔ دو یا تین مرتبہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا، چناچہ مدینہ منورہ سے بادل چھٹنے لگے، بائیں اور دائیں، ہمارے چاروں طرف دوسرے مقامات پر بارش ہونے لگی اور ہمارے یہاں بارش یکدم بند ہوگئی۔ یہ اللہ نے لوگوں کو نبی کریم ﷺ کا معجزہ اور اپنے پیغمبر ﷺ کی کرامت اور دعا کی قبولیت بتلائی۔
Narrated Anas (RA) :
A man came to the Prophet ﷺ on a Friday while he (the Prophet) was delivering a sermon at Medina, and said, "There is lack of rain, so please invoke your Lord to bless us with the rain." The Prophet ﷺ looked at the sky when no cloud could be detected. Then he invoked Allah for rain. Clouds started gathering together and it rained till the Madinah valleys started flowing with water. It continued raining till the next Friday. Then that man (or some other man) stood up while the Prophet ﷺ was delivering the Friday sermon, and said, "We are drowned; Please invoke your Lord to withhold it (rain) from us" The Prophet ﷺ smiled and said twice or thrice, "O Allah! Please let it rain round about us and not upon us." The clouds started dispersing over Madinah to the right and to the left, and it rained round about Madinah and not upon Medina. Allah showed them (the people) the miracle of His Prophet ﷺ and His response to his invocation.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ ہوجاؤ اور جھوٹ کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يَكُونَ صِدِّيقًا، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا، ان سے ابو وائل نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا لقب اور مرتبہ حاصل کرلیتا ہے اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔
Narrated Abdullah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "Truthfulness leads to righteousness, and righteousness leads to Paradise. And a man keeps on telling the truth until he becomes a truthful person. Falsehood leads to Al-Fajur (i.e. wickedness, evil-doing), and Al-Fajur (wickedness) leads to the (Hell) Fire, and a man may keep on telling lies till he is written before Allah, a liar."
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ ہوجاؤ اور جھوٹ کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي قَالَا: الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ فَكَذَّابٌ يَكْذِبُ بِالْكَذْبَةِ تُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّى تَبْلُغَ الْآفَاقَ فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابورجاء نے بیان کیا، ان سے سمرہ بن جندب ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے پاس گذشتہ رات خواب میں دو آدمی آئے انہوں نے کہا کہ جسے آپ نے دیکھا کہ اس کا جبڑا چیرا جا رہا تھا وہ بڑا ہی جھوٹا تھا، جو ایک بات کو لیتا اور ساری دنیا میں پھیلا دیتا تھا، قیامت تک اس کو یہی سزا ملتی رہے گی۔
Narrated Samura bin Jundub (RA) :
The Prophet ﷺ said, "I saw (in a dream), two men came to me." Then the Prophet ﷺ narrated the story (saying), "They said, The person, the one whose cheek you saw being torn away (from the mouth to the ear) was a liar and used to tell lies and the people would report those lies on his authority till they spread all over the world. So he will be punished like that till the Day of Resurrection."
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ ہوجاؤ اور جھوٹ کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابی سہیل نافع بن مالک بن ابی عامر نے، ان سے ان کے والد مالک بن ابی عامر نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے خلاف کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "The signs of a hypocrite are three: Whenever he speaks, he tells a lie; and whenever he promises, he breaks his promise; and whenever he is entrusted, he betrays (proves to be dishonest)".
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ، أَحَدَّثَكُمُ الْأَعْمَشُ، سَمِعْتُ شَقِيقًا ، قَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ أَشْبَهَ النَّاسِ دَلًّا وَسَمْتًا وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَابْنُ أُمِّ عَبْدٍ، مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى أَنْ يَرْجِعَ إِلَيْهِ، لَا نَدْرِي مَا يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ إِذَا خَلَا.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم راہویہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا کیا تم سے اعمش نے یہ بیان کیا کہ میں نے شقیق سے سنا، کہا میں نے حذیفہ ؓ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ بلاشبہ سب لوگوں سے اپنی چال ڈھال اور وضع اور سیرت میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ عبداللہ بن مسعود ؓ ہیں۔ جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلتے اور اس کے بعد دوبارہ اپنے گھر واپس آنے تک ان کا یہی حال رہتا ہے لیکن جب وہ اکیلے گھر میں رہتے تو معلوم نہیں کیا کرتے رہتے ہیں۔
Narrated Hudhaifa (RA) :
From among the people, Ibn Um Abd greatly resembled Allahs Apostles in solemn gate and good appearance of piety and in calmness and sobriety from the time he goes out of his house till he returns to it. But we do not know how he behaves with his family when he is alone with them.