اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہر روز ایک نئے کام میں ہے اور ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی بات نہیں آتی اللہ تعالیٰ کا قول بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد کوئی نئی بات پیدا کرے اور اس کا نئی بات کرنا مخلوق کے نئی بات کرنے کے مشابہ نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے اور ابن مسعود نے آنحضرت ﷺ سے روایت کیا ہے کہ اللہ کوئی نیا حکم چاہتا ہے دے دیتا ہے اور ان نئے حکموں میں ایک یہ ہے کہ تم نماز میں کلام نہ کرو۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ ؟ وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ الْأَخْبَارِ بِاللَّهِ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ، وَقَدْ حَدَّثَكُمُ اللَّهُ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ بَدَّلُوا مِنْ كُتُبِ اللَّهِ وَغَيَّرُوا، فَكَتَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْكُتُبَ، قَالُوا: هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِذَلِكَ ثَمَنًا قَلِيلًا، أَوَلَا يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مَسْأَلَتِهِمْ فَلَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا رَجُلًا مِنْهُمْ يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے بیان کیا کہ اے مسلمانو ! تم اہل کتاب سے کسی مسئلہ میں کیوں پوچھتے ہو۔ تمہاری کتاب جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی ﷺ پر نازل کی ہے وہ اللہ کے یہاں سے بالکل تازہ آئی ہے، خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے خود تمہیں بتادیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتابوں کو بدل ڈالا۔ وہ ہاتھ سے ایک کتاب لکھتے اور دعویٰ کرتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے تھوڑی پونچی حاصل کریں، تم کو جو اللہ نے قرآن و حدیث کا علم دیا ہے کیا وہ تم کو اس سے منع نہیں کرتا کہ تم دین کی باتیں اہل کتاب سے پوچھو۔ اللہ کی قسم ! ہم تو ان کے کسی آدمی کو نہیں دیکھتے کہ جو کچھ تمہارے اوپر نازل ہوا ہے اس کے متعلق وہ تم سے پوچھتے ہوں۔
Narrated Ubaidullah bin Abdullah (RA) :
Abdullah bin Abbas (RA) said, "O the group of Muslims! How can you ask the people of the Scriptures about anything while your Book which Allah has revealed to your Prophet ﷺ contains the most recent news from Allah and is pure and not distorted? Allah has told you that the people of the Scriptures have changed some of Allahs Books and distorted it and wrote something with their own hands and said, This is from Allah, so as to have a minor gain for it. Wont the knowledge that has come to you stop you from asking them? No, by Allah, we have never seen a man from them asking you about that (the Book Al-Quran) which has been revealed to you.
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو اور وحی اترتے وقت آنحضرت ﷺ کے ایسا کرنے کا بیان۔ اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے آنحضرت ﷺ سے روایت کیا ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب تک کہ وہ میری یاد کرتا ہے اور اس کے دونوں ہونٹ میری یاد میں ہل رہے ہوں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ سورة القيامة آية 16، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً وَكَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَنَا أُحَرِّكُهُمَا لَكَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُهُمَا، فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ 16 إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ 17 سورة القيامة آية 16-17، قَالَ: جَمْعُهُ فِي صَدْرِكَ، ثُمَّ تَقْرَؤُهُ: فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 18، قَالَ: فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ، ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام اسْتَمَعَ، فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَقْرَأَهُ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے (سورۃ القیامہ میں) اللہ تعالیٰ کا ارشاد لا تحرک به لسانک کے متعلق کہ وحی نازل ہوتی ہے تو نبی کریم ﷺ پر اس کا بہت بار پڑتا ہے اور آپ اپنے ہونٹ ہلاتے۔ مجھ سے ابن عباس (رض) نے کہا کہ میں تمہیں ہلا کے دکھاتا ہوں جس طرح نبی کریم ﷺ ہلاتے تھے۔ سعید نے کہا کہ جس طرح ابن عباس (رض) ہونٹ ہلا کردکھاتے تھے، میں تمہارے سامنے اسی طرح ہلاتا ہوں۔ چناچہ انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔ (ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی لا تحرک به لسانک لتعجل به * إن علينا جمعه وقرآنه یعنی تمہارے سینے میں قرآن کا جما دینا اور اس کو پڑھا دینا ہمارا کام ہے جب ہم (جبرائیل (علیہ السلام) کی زبان پر) اس کو پڑھ چکیں اس وقت تم اس کے پڑھنے کی پیروی کرو۔ مطلب یہ ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) کے پڑھتے وقت کان لگا کر سنتے رہو اور خاموش رہو، یہ ہمارا ذمہ ہے کہ ہم تم سے ویسا ہی پڑھوا دیں گے۔ ابن عباس (رض) نے کہا کہ اس آیت کے اترنے کے بعد جب جبرائیل (علیہ السلام) آتے (قرآن سناتے) تو آپ کان لگا کر سنتے۔ جب جبرائیل (علیہ السلام) چلے جاتے تو آپ لوگوں کو اسی طرح پڑھ کر سنا دیتے جیسے جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ کو پڑھ کر سنایا تھا۔
Narrated Musa bin Abi Aisha (RA) :
Said bin Jubair reported from Ibn Abbas (RA) (regarding the explanation of the Verse: Do not move your tongue concerning (the Quran) to make haste therewith) . He said, "The Prophet ﷺ used to undergo great difficulty in receiving the Divine Inspiration and used to move his lips. Ibn Abbas (RA) said (to Said), "I move them (my lips) as Allahs Apostle ﷺ used to move his lips." And Said said (to me), "I move my lips as I saw Ibn Abbas (RA) moving his lips," and then he moved his lips. So Allah revealed:--
( O Muhammad ﷺ !) Do not move your tongue concerning (the Quran) to make haste therewith. It is for Us to collect it and give you ( O Muhammad ﷺ ) the ability to recite it. (i.e., to collect it in your chest and then you recite it). (75.16-17) But when We have recited it, to you ( O Muhammad ﷺ through Gabriel (علیہ السلام)) then follow you its recital. (75.18) This means, "You should listen to it and keep quiet and then it is upon Us to make you recite it."
The narrator added, "So Allahs Apostle ﷺ used to listen whenever Gabriel (علیہ السلام) came to him, and when Gabriel (علیہ السلام) left, the Prophet ﷺ would recite the Quran as Gabriel (علیہ السلام) had recited it to him."
اللہ کا قول کہ تم اپنی بات آہستہ آہستہ کرو یا زور سے بے شک اللہ دل کی باتوں کا جاننے والا ہے۔ کیا وہ ان چیزوں کو نہیں جانتا جو اس نے پیدا کیں وہ باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے اور یتخافتون کے معنی ہیں کہ وہ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، عَنْ هُشَيْمٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110، قَالَ: نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مختف بمكة، فكان إذا صلى بأصحابه رفع صوته بالقرآن، فإذا سمعه المشركون سبوا القرآن ومن أنزله ومن جاء به، فقال الله لنبيه صلى الله عليه وسلم: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110 أي بقراءتك فيسمع المشركون فيسبوا القرآن وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110.
مجھ سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، ان سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابوبشر نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور انہیں عبداللہ بن عباس (رض) نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ولا تجهر بصلاتک ولا تخافت بها کے بارے میں کہ یہ آیت جب نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ مکہ میں چھپ کر (اعمال اسلام ادا کرتے تھے) لیکن جب اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے تو قرآن مجید بلند آواز سے پڑھتے، جب مشرکین سنتے تو قرآن مجید کو، اس کے اتارنے والے کو اور اسے لے کر آنے والے کو گالی دیتے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے کہا کہ اپنی قرآت میں آواز بلند نہ کریں کہ مشرکین سنین اور پھر قرآن کو گالی دیں اور نہ اتنا آہستہ ہی پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ ان کے درمیان کا راستہ اختیار کریں۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
regarding the explanation of the Verse:-- ( O Muhammad ﷺ !) Neither say your prayer aloud, nor say it in a low tone. (17.110) This Verse was revealed while Allahs Apostle ﷺ was hiding himself at Makkah. At that time, when he led his companions in prayer, he used to raise his voice while reciting the Quran; and if the pagans heard him, they would abuse the Quran, its Revealer, and the one who brought it. So Allah said to His Prophet: "Neither say your prayer aloud. i.e., your recitation (of Quran) lest the pagans should hear (it) and abuse the Quran" nor say it in a low tone, "lest your voice should fail to reach your companions, "but follow a way between." (17.110)
اللہ کا قول کہ تم اپنی بات آہستہ آہستہ کرو یا زور سے بے شک اللہ دل کی باتوں کا جاننے والا ہے۔ کیا وہ ان چیزوں کو نہیں جانتا جو اس نے پیدا کیں وہ باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے اور یتخافتون کے معنی ہیں کہ وہ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 فِي الدُّعَاءِ.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ آیت ولا تجهر بصلاتک ولا تخافت بها دعا کے بارے میں نازل ہوئی، یعنی دعا نہ بہت چلا کر مانگ نہ آہستہ بلکہ درمیانہ راستہ اختیار کر۔
Narrated Aisha (RA) :
The Verse:-- ( O Muhammad ﷺ !) Neither say your prayer aloud nor say it in a low tone. (17.110) was revealed in connection with the invocations.
اللہ کا قول کہ تم اپنی بات آہستہ آہستہ کرو یا زور سے بے شک اللہ دل کی باتوں کا جاننے والا ہے۔ کیا وہ ان چیزوں کو نہیں جانتا جو اس نے پیدا کیں وہ باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے اور یتخافتون کے معنی ہیں کہ وہ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِوَزَادَ غَيْرُهُ يَجْهَرُ بِهِ.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو خوش آوازی سے قرآن نہیں پڑھتا وہ ہم مسلمانوں کے طریق پر نہیں ہے۔ اور ابوہریرہ (رض) کے سوا دوسرے لوگوں نے اس حدیث میں اتنا زیادہ کیا ہے یعنی اس کو پکار کر نہ پڑھے۔
Narrated Abu Salama (RA) :
Abu Hurairah (RA) said, "Allahs Apostle ﷺ said, Whoever does not recite Quran in a nice voice is not from us, and others said extra," (that means) to recite it aloud."
نبی ﷺ کا ارشاد کہ ایک شخص جس کو اللہ نے قرآن دیا اور وہ اس کو رات دن پڑھتا رہتا ہے۔ دوسرا شخص اس کو دیکھ کر کہتا ہے کاش مجھے بھی وہ ملتا جواسے ملا ہے میں بھی ایسا ہی کرتا جیسا یہ کرتا ہے تو اللہ نے بیان کردیا کہ اس کا کتاب کو پڑھنا اس کا فعل ہے اور فرمایا کہ آسمان وزمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف اس کی نشانیوں میں سے ہے اور اللہ بزرگ وبرتر نے فرمایا کہ بھلائی کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحَاسُدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا لَفَعَلْتُ كَمَا يَفْعَلُ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ فِي حَقِّهِ، فَيَقُولُ: لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رشک صرف دو آدمیوں پر کیا جاسکتا ہے، ایک اس پر جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا اور وہ اس کی تلاوت رات دن کرتا ہے تو ایک دیکھنے والا کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اسی جیسا قرآن کا علم ہوتا تو میں بھی اس کی طرح تلاوت کرتا رہتا اور دوسرا وہ شخص ہے جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے اس کے حق میں خرچ کرتا ہے جسے دیکھنے والا کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اللہ اتنا مال دیتا تو میں بھی اسی طرح خرچ کرتا جیسے یہ کرتا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "Not to wish to be the like of except the like of two men: a man whom Allah has given the Quran and he recites it during the hours of the night and the hours of the day, in which case one may say, "If I were given the same as this man has been given, I would do the same as he is doing. The other is a man whom Allah has given wealth and he spends it in the right way, in which case one may say, If I were given the same as he has been given, I would do the same as he is doing."
نبی ﷺ کا ارشاد کہ ایک شخص جس کو اللہ نے قرآن دیا اور وہ اس کو رات دن پڑھتا رہتا ہے۔ دوسرا شخص اس کو دیکھ کر کہتا ہے کاش مجھے بھی وہ ملتا جواسے ملا ہے میں بھی ایسا ہی کرتا جیسا یہ کرتا ہے تو اللہ نے بیان کردیا کہ اس کا کتاب کو پڑھنا اس کا فعل ہے اور فرمایا کہ آسمان وزمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف اس کی نشانیوں میں سے ہے اور اللہ بزرگ وبرتر نے فرمایا کہ بھلائی کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، سَمِعْتُ سُفْيَانَ مِرَارًا لَمْ أَسْمَعْهُ يَذْكُرُ الْخَبَرَ، وَهُوَ مِنْ صَحِيحِ حَدِيثِهِ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رشک کے قابل تو دو ہی آدمی ہیں۔ ایک وہ جسے اللہ نے قرآن دیا اور وہ اس کی تلاوت رات دن کرتا رہتا ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اسے رات و دن خرچ کرتا رہا۔ علی بن عبداللہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث سفیان بن عیینہ سے کئی بار سنی أخبرنا کے لفظوں کے ساتھ انہیں کہتا سنا باوجود اس کے ان کی یہ حدیث صحیح اور متصل ہے۔
Narrated Salims father (RA) :
The Prophet ﷺ said, "Not to wish to be the like of except the like of two (persons): a man whom Allah has given the knowledge of the Quran and he recites it during the hours of the night and the hours of the day; and a man whom Allah has given wealth and he spends it (in Allahs Cause) during the hours of the night and during the hours of the day."
اللہ تعالیٰ کا قول کہ رسول پہنچا دیجئے جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اور اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آپ نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا، اور زہری نے کہا کہ اللہ کی طرف سے پیغام پہنچتا ہے اور رسول اللہ ﷺ پر پہنچانا ہے اور ہم پر اس کا تسلیم کرنا ہے اور اللہ نے فرمایا کہ جان لے کہ ان لوگوں نے اپنے رب کے پیغام کو پہنچا دیا اور فرمایا کہ میں تمہارے پاس اپنے رب کے پیغام کو پہنچاتا ہوں اور کعب بن مالک نے جبکہ وہ غزوہ تبوک میں نبی ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے کہا کہ عنقریب اللہ اور اس کے رسول تمہارے کام دیکھیں گے اور حضرت عائشہ سے کہا کہ جب تم کو کسی کا عمل پسند ہو تو کہو عمل کرو عنقریب اللہ اور اسکے رسول اور ایماندار تمہارے کام دیکھیں گے اور تم کو کوئی فریب نہ ڈا لے اور معمر نے کہا کہ ذالک الکتاب سے مراد ھذا لقرآن ہے ھدی المتقین (ہدایت متقین کے لئے) میں ھدی سے مراد بیان ہے اور دلالت ہے جسا کہ اللہ کا قول ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے اس میں کوئی ریب یعنی شک نہیں تلک آیات سے مراد ھذہ اعلام القرآن ہے اور اس کی مثال آیت حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بھم ہے جس میں جرین بھم سے مراد جرین بکم ہے اور انس نے کہا کہ آنحضرت ﷺ کہ ان کے ماموں حرام کو ان کی قوم کے پاس بھیجا تو انہوں نے جا کر کہا تم مجھ پر ایمان لاتے ہو کہ میں آنحضرت ﷺ کا پیغام پہنچاتا ہوں پھر ان سے باتیں کرنے لگے
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بنُ عبْد اللهِ المُزَنيُّ ، وَزِيَادُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ، قَالَ الْمُغِيرَةُ : أَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رِسَالَةِ رَبِّنَا، أَنَّهُ مَنْ قُتِلَ مِنَّا صَارَ إِلَى الْجَنَّةِ.
ہم سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن جعفر الرقی نے بیان کیا، ان سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے سعید بن عبیداللہ ثقفی نے بیان کیا، ان سے بکر بن عبداللہ مزنی اور زیاد بن جبیر بن حیہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن شعبہ (رض) نے (ایران کی فوج کے سامنے) کہا کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں اپنے رب کے پیغامات میں سے یہ پیغام پہنچایا کہ ہم میں سے جو (فی سبیل اللہ) قتل کیا جائے گا وہ جنت میں جائے گا۔
Narrated Al-Mughira:
Our Prophet ﷺ has informed us our Lords Message that whoever of us is martyred, will go to Paradise.
اللہ تعالیٰ کا قول کہ رسول پہنچا دیجئے جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اتا را گیا ہے اور اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آپ نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا، اور زہری نے کہا کہ اللہ کی طرف سے پیغام پہنچتا ہے اور رسول اللہ ﷺ پر پہنچانا ہے اور ہم پر اس کا تسلیم کرنا ہے اور اللہ نے فرمایا کہ جان لے کہ ان لوگوں نے اپنے رب کے پیغام کو پہنچا دیا اور فرمایا کہ میں تمہارے پاس اپنے رب کے پیغام کو پہنچاتا ہوں اور کعب بن مالک نے جبکہ وہ غزوہ تبوک میں نبی ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے کہا کہ عنقریب اللہ اور اس کے رسول تمہارے کام دیکھیں گے اور حضرت عائشہ سے کہا کہ جب تم کو کسی کا عمل پسند ہو تو کہو عمل کرو عنقریب اللہ اور اسکے رسول اور ایماندار تمہارے کام دیکھیں گے اور تم کو کوئی فریب نہ ڈا لے اور معمر نے کہا کہ ذالک الکتاب سے مراد ھذا لقرآن ہے ھدی المتقین (ہدایت متقین کے لئے) میں ھدی سے مراد بیان ہے اور دلالت ہے جیسا کہ اللہ کا قول ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے اس میں کوئی ریب یعنی شک نہیں تلک آیات سے مراد ھذہ اعلام القرآن ہے اور اس کی مثال آیت حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بھم ہے جس میں جرین بھم سے مراد جرین بکم ہے اور انس نے کہا کہ آنحضرت ﷺ کہ ان کے ماموں حرام کو ان کی قوم کے پاس بھیجا تو انہوں نے جا کر کہا تم مجھ پر ایمان لاتے ہو کہ میں آنحضرت ﷺ کا پیغام پہنچاتا ہوں پھر ان سے باتیں کرنے لگے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ شَيْئًا، وَقَالَ مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ شَيْئًا مِنَ الْوَحْيِ فَلَا تُصَدِّقْهُ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ سورة المائدة آية 67.
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے، ان سے شعبی نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ اگر کوئی تم سے یہ بیان کرتا ہے کہ محمد ﷺ نے کوئی چیز چھپائی، (اور دوسری سند) اور محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے شعبی نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ اگر تم سے کوئی یہ بیان کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے وحی میں کچھ چھپالیا تو اس کی تصدیق نہ کرنا (وہ جھوٹا ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربک وإن لم تفعل فما بلغت رسالته کہ اے رسول ! پہنچا دیجئیے وہ پیغام جو آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اور اگر آپ نے یہ نہیں کیا تو آپ اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا۔
Narrated Aisha (RA) :
Whoever tells you that the Prophet ﷺ concealed something of the Divine Inspiration, do not believe him, for Allah said: O Apostle ﷺ Muhammad ﷺ ! Proclaim (the Message) which has been sent down to you from your Lord, and if you do it not, then you have not conveyed His Message. (5.67)
اللہ تعالیٰ کا قول کہ رسول پہنچا دیجئے جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اتا را گیا ہے اور اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آپ نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا، اور زہری نے کہا کہ اللہ کی طرف سے پیغام پہنچتا ہے اور رسول اللہ ﷺ پر پہنچانا ہے اور ہم پر اس کا تسلیم کرنا ہے اور اللہ نے فرمایا کہ جان لے کہ ان لوگوں نے اپنے رب کے پیغام کو پہنچا دیا اور فرمایا کہ میں تمہارے پاس اپنے رب کے پیغام کو پہنچاتا ہوں اور کعب بن مالک نے جبکہ وہ غزوہ تبوک میں نبی ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے کہا کہ عنقریب اللہ اور اس کے رسول تمہارے کام دیکھیں گے اور حضرت عائشہ سے کہا کہ جب تم کو کسی کا عمل پسند ہو تو کہو عمل کرو عنقریب اللہ اور اسکے رسول اور ایماندار تمہارے کام دیکھیں گے اور تم کو کوئی فریب نہ ڈا لے اور معمر نے کہا کہ ذالک الکتاب سے مراد ھذا لقرآن ہے ھدی المتقین (ہدایت متقین کے لئے) میں ھدی سے مراد بیان ہے اور دلالت ہے جیسا کہ اللہ کا قول ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے اس میں کوئی ریب یعنی شک نہیں تلک آیات سے مراد ھذہ اعلام القرآن ہے اور اس کی مثال آیت حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بھم ہے جس میں جرین بھم سے مراد جرین بکم ہے اور انس نے کہا کہ آنحضرت ﷺ کہ ان کے ماموں حرام کو ان کی قوم کے پاس بھیجا تو انہوں نے جا کر کہا تم مجھ پر ایمان لاتے ہو کہ میں آنحضرت ﷺ کا پیغام پہنچاتا ہوں پھر ان سے باتیں کرنے لگے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ ؟، قَالَ: أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ، قَالَ: ثُمَّ أَيْ ؟، قَالَ: ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ، قَالَ: ثُمَّ أَيْ ؟، قَالَ: أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَهَا: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا 68 يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ سورة الفرقان آية 68-69.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابو وائل نے، ان سے عمرو بن شرجیل نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کون سا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے ؟ فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت میں کسی کو بھی ساجھی بناؤ حالانکہ تمہیں اللہ نے پیدا کیا ہے۔ پوچھا پھر کون سا ؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے بچے کو اس خوف سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔ پوچھا پھر کون سا ؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے (سورۃ الفرقان میں) اس کی تصدیق میں قرآن نازل فرمایا والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود باطل کو نہیں پکارتے اور جو کسی ایسے کی جان نہیں لیتے جسے اللہ نے حرام کیا ہے سوا حق کے اور جو زنا نہیں کرتے اور جو کوئی ایسا کرے گا وہ گناہ سے بھڑ جائے گا۔
Narrated Abdullah (RA) :
A man said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Which sin is the biggest in Allahs Sight?" The Prophet ﷺ said, "To set up rivals unto Allah though He Alone created you." That man said, "What is next?" The Prophet ﷺ said, "To kill your son lest he should share your food with you. The man said, "What is next?" The Prophet ﷺ said, "To commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor." Then Allah revealed in confirmation of that: "And those who invoke not with Allah any other god, nor kill such life as Allah has made sacred except for just cause, nor commit illegal sexual intercourse and whoever does this shall receive the punishment..... (25.68)
اللہ تعالیٰ کا قول کہ آپ کہہ دیجئے کہ تورا ة لاؤ اور اسے پڑھو، نبی ﷺ کا قول کہ تو رات والوں کو تورات دی گئی تو انہوں نے اس پر عمل کیا اور تم لوگوں کو قرآن دیا گیا تو تم لوگوں نے اس پر عمل کیا، ابو رزین نے کہا کہ ’ یتلونہ‘ سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں اور جیسا کہ عمل کرنا چاہیے اس پر عمل کرتے ہیں اور ”یتلی “ بول کر یہ مراد لیتے ہیں کہ پڑھا جاتا ہے، قرآن کے اچھی طرح پڑھنے اور تلاوت کرنے کو کہتے ہیں ،’ لا یمسہ ’ کے معنی ہیں کہ اس کا مزہ وہی پائیں جو قرآن پر ایمان لائیں اور اس کو اس کے حق کے ساتھ وہی اٹھائے گا جو یقین رکھے لہذا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن پر تورات کی ذمہ داری تھی انہوں نے اسے ادا نہیں کیا تو ان کی مثال گدے کی ہے جس پر کتابیں لدی ہوں، اس قوم کی بری مثال ہے جس نے اللہ کی آیت کو جھٹلا یا اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا نبی ﷺ نے اسلام اور ایمان کو عمل فرمایا۔ ابوہریرہ (رض) نے کہا کہ نبی ﷺ نے بلال سے فرمایا کہ مجھ کو وہ عمل بتاؤ جو تم حالت اسلام میں بہت زیادہ امید کا کیا ہو انہوں نے کہا کیا میں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو میرے نزدیک بہت امید کا ہو بجز اس کے کہ میں نے پاکی ہی کی حالت میں نماز پڑھی ہے اور آپ سے کسی نے پوچھا کہ کو نسا عمل سب سے اچھا ہے، آپ نے فرمایا اللہ اور اس کو رسول پر ایمان لانا، پھر جہاد کرنا، پھر حج قبول ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَنْ سَلَفَ مِنَ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ أُوتِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ، فَعَمِلُوا بِهَا حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ ثُمَّ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، ثُمَّ أُوتِيَ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ الْإِنْجِيلَ، فَعَمِلُوا بِهِ حَتَّى صُلِّيَتِ الْعَصْرُ، ثُمَّ عَجَزُوا فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، ثُمَّ أُوتِيتُمُ الْقُرْآنَ فَعَمِلْتُمْ بِهِ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأُعْطِيتُمْ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، فَقَالَ أَهْلُ الْكِتَابِ: هَؤُلَاءِ أَقَلُّ مِنَّا عَمَلًا وَأَكْثَرُ أَجْرًا، قَالَ اللَّهُ: هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ: فَهُوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گذشتہ امتوں کے مقابلہ میں تمہارا وجود ایسا ہے جیسے عصر اور مغرب کے درمیان کا وقت، اہل توریت کو توریت دی گئی تو انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ دن آدھا ہوگیا اور وہ عاجز ہوگئے۔ پھر انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی اور انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہوگیا، انہیں بھی ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر تمہیں قرآن دیا گیا اور تم نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ مغرب کا وقت ہوگیا، تمہیں دو دو قیراط دئیے گئے، اس پر کتاب نے کہا کہ یہ ہم سے عمل میں کم ہیں اور اجر میں زیادہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا میں نے تمہارا حق دینے میں کوئی ظلم کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں دوں۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "Your stay (in this world) in comparison to the stay of the nations preceding you, is like the period between Asr prayer and the sun set (in comparison to a whole day). The people of the Torah were given the Torah and they acted on it till midday and then they were unable to carry on. And they were given (a reward equal to) one Qirat each. Then the people of the Gospel were given the Gospel and they acted on it till Asr Prayer and then they were unable to carry on, so they were given la reward equal to) one Qirat each. Then you were given the Quran and you acted on it till sunset, therefore you were given (a reward equal to) two Qirats each. On that, the people of the Scriptures said, These people (Muslims) did less work than we but they took a bigger reward. Allah said (to them). Have I done any oppression to you as regards your rights? They said, "No." Then Allah said, That is My Blessing which I grant to whomsoever I will. "
اس امر کا بیان کہ نبی صلی اللہ وسلم نے نماز کو عمل فرمایا۔ اور فرمایا کہ اس شخص کی نماز (کامل) نہ ہوگی جس نے سورت فاتحہ نہیں پڑھی۔
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْوَلِيدِ . ح وحَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْالشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟، قَالَ: الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ، ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
مجھ سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے ولید بن عیزار نے (دوسری سند) اور امام بخاری (رح) نے کہا کہ مجھ سے عباد بن یعقوب اسدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عباد بن العوام نے خبر دی، انہیں شیبانی نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا : کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ ﷺ فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا اور والدین کے ساتھ نیک معاملہ کرنا، پھر اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔
Narrated Ibn Masud (RA):
A man asked the Prophet ﷺ "What deeds are the best?" The Prophet ﷺ said: (1) To perform the (daily compulsory) prayers at their (early) stated fixed times, (2) To be good and dutiful to ones own parents. (3) and to participate in Jihad in Allahs Cause."
اللہ کا قول کہ انسان بہت ہی گھبراہٹ والا پیدا کیا گیا۔ جب اسے کوئی مصیبت آتی ہے تو گریہ و زاری کرنے لگتا ہے اور جب اسے کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو نیک کاموں سے رک جاتا ہے۔ ھلوعا بمعنی ضجورا ہے (گھیرنے والا)
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالٌ، فَأَعْطَى قَوْمًا وَمَنَعَ آخَرِينَ، فَبَلَغَهُ أَنَّهُمْ عَتَبُوا، فَقَالَ: إِنِّي أُعْطِي الرَّجُلَ وَأَدَعُ الرَّجُلَ، وَالَّذِي أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي أُعْطِي، أُعْطِي أَقْوَامًا لِمَا فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ، وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِ مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ، فَقَالَ عَمْرٌو: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے عمرو بن تغلب (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس مال آیا اور آپ نے اس میں سے کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ کو نہیں دیا۔ پھر نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا کہ اس پر کچھ لوگ ناراض ہوئے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں ایک شخص کو دیتا ہوں اور دوسرے کو نہیں دیتا اور جسے نہیں دیتا وہ مجھے اس سے زیادہ عزیز ہوتا ہے جسے دیتا ہوں۔ میں کچھ لوگوں کو اس لیے دیتا ہوں کہ ان کے دلوں میں گھبراہٹ اور بےچینی ہے اور دوسرے لوگوں پر اعتماد کرتا ہوں کہ اللہ نے ان کے دلوں کو بےنیازی اور بھلائی عطا فرمائی ہے۔ انہیں میں سے عمرو بن تغلب بھی ہیں۔ عمرو (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے اس کلمہ کے مقابلہ میں مجھے لال لال اونٹ ملتے تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔
Narrated Al-Hasan:
Amr bin Taghlib said, "Some property was given to the Prophet ﷺ and he gave it to some people and withheld it from some others. Then he came to know that they (the latter) were dissatisfied. So the Prophet ﷺ said, I give to one man and leave (do not give) another, and the one to whom I do not give is dearer to me than the one to whom I give. I give to some people because of the impatience and discontent present in their hearts, and leave other people because of the content and goodness Allah has bestowed on them, and one of them is Amr bin Taghlib." Amr bin Taghlib said, "The sentence which Allahs Apostle ﷺ said in my favor is dearer to me than the possession of nice red camels."
نبی پاک صلی اللہ وسلم کا اپنے پروردگار سے ذکر و روایت کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ الْهَرَوِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ، قَالَ: إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَإِذَا أَتَانِي مَشْيًا أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً.
مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوزید بن ربیع ہروی نے، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے رب سے روایت کیا کہ اللہ پاک فرماتا ہے کہ جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس سے قریب ہوتا ہوں اور جب بندہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور جب وہ میرے پاس پیدل چل کر آتا ہے تو میں دوڑ کر آجاتا ہوں۔
Narrated Anas (RA) :
The Prophet ﷺ said, "My Lord says, If My slave comes nearer to me for a span, I go nearer to him for a cubit; and if he comes nearer to Me for a cubit, I go nearer to him for the span of outstretched arms; and if he comes to Me walking, I go to him running. "
نبی پاک صلی اللہ وسلم کا اپنے پروردگار سے ذکر و روایت کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: رُبَّمَا ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، أَوْ بُوعًا، وَقَالَمُعْتَمِرٌ ، سَمِعْتُ أَبِي ، سَمِعْتُ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ، عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے تمیمی نے، ان سے انس بن مالک (رض) نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ اکثر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ) جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہوجاتا ہوں اور جب وہ ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں۔ اور معتمر نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے انس (رض) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے تھے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Perhaps the Prophet ﷺ mentioned the following (as Allahs Saying): "If My slave comes nearer to Me for a span, I go nearer to him for a cubit; and if he comes nearer to Me for a cubit; I go nearer to him for the span of outstretched arms. (See Hadith No. 502)
نبی پاک صلی اللہ وسلم کا اپنے پروردگار سے ذکر و روایت کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ، عَنْ رَبِّكُمْ، قَالَ: لِكُلِّ عَمَلٍ كَفَّارَةٌ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا ان سے نبی کریم ﷺ نے، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ پروردگار نے فرمایا ہر گناہ کا ایک کفارہ ہے (جس سے وہ گناہ معاف ہوجاتا ہے) اور روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بڑھ کر ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said that your Lord said, "Every (sinful) deed can be expiated; and the fast is for Me, so I will give the reward for it; and the smell which comes out of the mouth of a fasting person, is better in Allahs Sight than the smell of musk." (See Hadith No. 584)
نبی پاک صلی اللہ وسلم کا اپنے پروردگار سے ذکر و روایت کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وقَالَ لِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْقَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ، عَنْ رَبِّهِ، قَالَ: لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ إِنَّهُ خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى، وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے (دوسری سند) اور امام بخاری (رح) نے کہا کہ مجھ سے خلفیہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے پروردگار سے روایت کیا پروردگار نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی (علیہ السلام) سے بہتر ہوں اور آپ نے یونس (علیہ السلام) کو ان کے باپ کی طرف نسبت دی۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
The Prophet ﷺ said that his Lord said: "It does not befit a slave that he should say that he is better than Jonah (Yunus) bin Matta.
نبی پاک صلی اللہ وسلم کا اپنے پروردگار سے ذکر و روایت کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ، أَوْ مِنْ سُورَةِ الْفَتْحِ، قَالَ: فَرَجَّعَ فِيهَا، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ مُعَاوِيَةُ يَحْكِي قِرَاءَةَ ابْنِ مُغَفَّلٍ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيْكُمْ لَرَجَّعْتُ كَمَا رَجَّعَ ابْنُ مُغَفَّلٍ يَحْكِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ: كَيْفَ كَانَ تَرْجِيعُهُ ؟، قَالَ: آ آ آ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
ہم سے احمد بن ابی سریح نے بیان کیا، کہا ہم کو شبابہ نے خبر دی، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن قرہ نے، ان سے عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) نے بیان کیا کہ میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھے اور سورة الفتح پڑھ رہے تھے یا سورة الفتح میں سے کچھ آیات پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ نے اس میں ترجیع کی۔ شعبہ نے کہا یہ حدیث بیان کر کے معاویہ نے اس طرح آواز دہرا کر قرآت کی جیسے عبداللہ بن مغفل کیا کرتے تھے اور معاویہ نے کہا اگر مجھ کو اس کا خیال نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے پاس جمع ہو کر ہجوم کریں گے تو میں اسی طرح آواز دہرا کر قرآت کرتا جس طرح عبداللہ بن مغفل نے نبی کریم ﷺ کی طرح آواز دہرانے کو نقل کیا تھا۔ شعبہ نے کہا میں نے معاویہ سے پوچھا ابن مغفل کیوں کر آواز دہراتے تھے ؟ انہوں نے کہا آآآ تین تین بار مد کے ساتھ آواز دہراتے تھے۔
Narrated Shuba:
Muawiya bin Qurra reported that Abdullah bin Al-Maghaffal Al-Muzani said, "I saw Allahs Apostle ﷺ on the day of the Conquest of Makkah, riding his she-camel and reciting Surat-al-Fath (48) or part of Surat-al-Fath. He recited it in a vibrating and pleasant voice. Then Muawiya recited as Abdullah bin Mughaffal had done and said, "Were I not afraid that the people would crowd around me, I would surely recite in a vibrating pleasant voice as Ibn Mughaffal did, imitating the Prophet." I asked Muawiyah, "How did he recite in that tone?" He said thrice, "A, A , A."
تورات و دیگر کتب الہیہ کی عربی اور دوسری زبانوں میں تفسیر کے جائز ہونے کا بیان۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تورات لاؤ اور اس کو پڑھو اگر تم سچے ہو اور ابن عباس (رض) نے کہا کہ مجھ سے ابو سفیان بن حرب نے بیان کیا کہ ہرقل نے اپنے مترجم کو بلایا پھر نبی ﷺ کا خط منگوایا، انہوں نے اس کو پڑھا اس میں لکھا تھا" بسم اللہ الرحمن الرحیم من محمد عبداللہ ورسولہ الی ھرقل و یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم " اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد ﷺ کی طرف سے ہرقل کے نام، اہل کتاب تم اس کلمہ کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ وَيُفَسِّرُونَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ سورة البقرة آية 136.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہیں علی بن مبارک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ اہل کتاب توریت کو عبرانی میں پڑھتے اور مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی میں کرتے تھے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم نہ اہل کتاب کی تصدیق کرو اور نہ اس کی تکذیب، بلکہ کہو کہ ہم اللہ اور اس کی تمام نازل کی ہوئی کتابوں پر ایمان لائے۔ الآیہ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The people of the Scripture used to read the Torah in Hebrew and explain it to the Muslims in Arabic. Then Allahs Apostle ﷺ said, "Do not believe the people of the Scripture, and do not disbelieve them, but say, We believe in Allah and whatever has been revealed... (3.84)
تورات و دیگر کتب الہیہ کی عربی اور دوسری زبانوں میں تفسیر کے جائز ہونے کا بیان۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تورات لاؤ اور اس کو پڑھو اگر تم سچے ہو اور ابن عباس (رض) نے کہا کہ مجھ سے ابو سفیان بن حرب نے بیان کیا کہ ہرقل نے اپنے مترجم کو بلایا پھر نبی ﷺ کا خط منگوایا، انہوں نے اس کو پڑھا اس میں لکھا تھا" بسم اللہ الرحمن الرحیم من محمد عبداللہ ورسولہ الی ھرقل و یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم " اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد ﷺ کی طرف سے ہرقل کے نام، اہل کتاب تم اس کلمہ کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ زَنَيَا، فَقَالَ لِلْيَهُودِ: مَا تَصْنَعُونَ بِهِمَا ؟، قَالُوا: نُسَخِّمُ وُجُوهَهُمَا وَنُخْزِيهِمَا، قَالَ: فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ سورة آل عمران آية 93 فَجَاءُوا، فَقَالُوا لِرَجُلٍ مِمَّنْ يَرْضَوْنَ: يَا أَعْوَرُ اقْرَأْ، فَقَرَأَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَوْضِعٍ مِنْهَا، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ، قَالَ: ارْفَعْ يَدَكَ، فَرَفَعَ يَدَهُ، فَإِذَا فِيهِ آيَةُ الرَّجْمِ تَلُوحُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ عَلَيْهِمَا الرَّجْمَ وَلَكِنَّا نُكَاتِمُهُ بَيْنَنَا، فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُجِمَا فَرَأَيْتُهُ يُجَانِئُ عَلَيْهَا الْحِجَارَةَ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک یہودی مرد اور عورت لائے گئے، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے یہودیوں سے پوچھا کہ تم ان کے ساتھ کیا کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ہم ان کا منہ کالا کر کے انہیں رسوا کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر توریت لاؤ اور اس کی تلاوت کرو اگر تم سچے ہو چناچہ وہ (توریت) لائے اور ایک شخص سے جس پر وہ مطمئن تھے کہا کہ اے اعور ! پڑھو۔ چناچہ اس نے پڑھا اور جب اس کے ایک مقام پر پہنچا تو اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اپنا ہاتھ اٹھاؤ، جب اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس میں آیت رجم بالکل واضح طور پر موجود تھی، اس نے کہا : اے محمد ! ان پر رجم کا حکم تو واقعی ہے لیکن ہم اسے آپس میں چھپاتے ہیں۔ چناچہ دونوں رجم کئے گئے، میں نے دیکھا کہ مرد عورت کو پتھر سے بچانے کے لیے اس پر جھکا پڑتا تھا۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
A Jew and Jewess were brought to the Prophet ﷺ on a charge of committing an illegal sexual intercourse. The Prophet ﷺ asked the Jews, "What do you (usually) do with them?" They said, "We blacken their faces and disgrace them." He said, "Bring here the Torah and recite it, if you are truthful." They (fetched it and) came and asked a one-eyed man to recite. He went on reciting till he reached a portion on which he put his hand. The Prophet ﷺ said, "Lift up your hand!" He lifted his hand up and behold, there appeared the verse of Ar-Rajm (stoning of the adulterers to death). Then he said, " O Muhammad ﷺ ! They should be stoned to death but we conceal this Divine Law among ourselves." Then the Prophet ﷺ ordered that the two sinners be stoned to death and, and they were stoned to death, and I saw the man protecting the woman from the stones. (See Hadith No. 809, Vol. 8)