Sahih Bukhariصحيح البخاری

All 7,282 hadiths in order · Page 351 of 365

7483Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول کہ اللہ کے پاس شفاعت کچھ کام نہ دے گی مگر جس کے بارے میں اجازت دی گئی، یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جائے گی تو وہ کہیں گے کہ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا، وہ کہیں گے حق فرمایا ہے اور وہ بلند و بزرگ ہے اور یہ نہیں کہا کہ تمہارے رب نے کیا پیدا کیا، اور اللہ عزوجل نے فرمایا کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے نزدیک سفارش کرے اور مسروق نے ابن مسعود سے نقل کیا کہ جب اللہ وحی کے ذریعہ کلام کرتا ہے تو آسمان والے کچھ سنتے ہیں، جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ جاتی رہتی ہے اور آواز رک جاتی ہے تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ حق ہے اور وہ لوگ ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا، وہ کہتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور جابر سے بواسطہ عبداللہ بن انیس منقول ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ اپنے بندوں کو اٹھائے گا پھر ان کو ایسی آواز سے پکارے گا جس کو دور و نزدیک سب ایک ہی جیسا سنیں گے فرمائے گا کہ میں ہی ہوں بادشاہ بدلہ لینے والا۔

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ: يَا آدَمُ، فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، فَيُنَادَى بِصَوْتٍ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُخْرِجَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ بَعْثًا إِلَى النَّارِ.

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے آدم ! وہ کہیں گے لبيك وسعديك. پھر بلند آواز سے ندا دے گا کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنی نسل میں سے دوزخ کا لشکر نکال۔

Narrated Abu Said Al-Khudri(RA): The Prophet ﷺ said, "Allah will say (on the Day of Resurrection), O Adam! Adam will reply, Labbaik wa Sadaik! Then a loud Voice will be heard (Saying) Allah Commands you to take out the mission of the Hell Fire from your offspring. "

7484Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول کہ اللہ کے پاس شفاعت کچھ کام نہ دے گی مگر جس کے بارے میں اجازت دی گئی، یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جائے گی تو وہ کہیں گے کہ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا، وہ کہیں گے حق فرمایا ہے اور وہ بلند و بزرگ ہے اور یہ نہیں کہا کہ تمہارے رب نے کیا پیدا کیا، اور اللہ عزوجل نے فرمایا کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے نزدیک سفارش کرے اور مسروق نے ابن مسعود سے نقل کیا کہ جب اللہ وحی کے ذریعہ کلام کرتا ہے تو آسمان والے کچھ سنتے ہیں، جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ جاتی رہتی ہے اور آواز رک جاتی ہے تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ حق ہے اور وہ لوگ ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا، وہ کہتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور جابر سے بواسطہ عبداللہ بن انیس منقول ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ اپنے بندوں کو اٹھائے گا پھر ان کو ایسی آواز سے پکارے گا جس کو دور و نزدیک سب ایک ہی جیسا سنیں گے فرمائے گا کہ میں ہی ہوں بادشاہ بدلہ لینے والا۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ.

ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ جس قدر مجھے خدیجہ (رض) پر غیرت آتی تھی اور کسی عورت پر نہیں آتی تھی اور ان کے رب نے حکم دیا تھا کہ انہیں جنت میں ایک گھر کی بشارت دے دیں۔

Narrated Aisha (RA) : I never felt so jealous of any woman as I felt of Khadija, for Allah ordered him (the Prophet) to give Khadija (RA) the glad tidings of a palace in Paradise (for her).

7485Sahih Bukhariصحیح

پروردگار کا جبریل سے کلام کرنے اور فرشتوں کو اللہ کا آواز دینے کا بیان۔ اور معمر نے کہا وانک لتقلن القرآن سے مراد یہ ہے کہ تم اس کو ان سے لیتے ہو"فتلقی آدم من ربہ کلمات"(آدم نے اپنے رب سے چند کلمات اخذ کیے) اسی کے مثل ہے

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا، فَأَحِبَّهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، ثُمَّ يُنَادِي جِبْرِيلُ فِي السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا، فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، وَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي أَهْلِ الْأَرْضِ.

مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کے ’ ، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو آواز دیتا ہے کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چناچہ جبرائیل (علیہ السلام) بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر وہ آسمان میں آواز دیتے ہیں کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو چناچہ اہل آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور اس طرح روئے زمین میں بھی اسے مقبولیت حاصل ہوجاتی ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "If Allah loves a person, He calls Gabriel (علیہ السلام), saying, Allah loves so and so, O Gabriel (علیہ السلام) love him So Gabriel (علیہ السلام) would love him and then would make an announcement in the Heavens: Allah has loved so and-so therefore you should love him also. So all the dwellers of the Heavens would love him, and then he is granted the pleasure of the people on the earth." (See Hadith No. 66, Vol. 8)

7486Sahih Bukhariصحیح

پروردگار کا جبریل سے کلام کرنے اور فرشتوں کو اللہ کا آواز دینے کا بیان۔ اور معمر نے کہا وانک لتقلن القرآن سے مراد یہ ہے کہ تم اس کو ان سے لیتے ہو "فتلقی آدم من ربہ کلمات" (آدم نے اپنے رب سے چند کلمات اخذ کیے) اسی کے مثل ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ وَصَلَاةِ الْفَجْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي ؟، فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے مالک نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس رات اور دن کے فرشتے یکے بعد دیگرے آتے ہیں اور عصر اور فجر کی نمازیوں میں دو وقت کے فرشتے اکٹھے ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ فرشتے اوپر جاتے ہیں جنہوں نے رات تمہارے ساتھ گزاری ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ بندوں کے احوال کا سب سے زیادہ جاننے والا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم نے انہیں اس حال میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس گئے جب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "There are angels coming to you in succession at night, and others during the day, and they all gather at the time of Asr and Fajr prayers. Then the angels who have stayed with you overnight ascend (to the heaven) and He (Allah) asks them though He perfectly knows their affairs. In what state have you left my slaves? They say, When we left them, they were praying and when we came to them they were praying. "

7487Sahih Bukhariصحیح

پروردگار کا جبریل سے کلام کرنے اور فرشتوں کو اللہ کا آواز دینے کا بیان۔ اور معمر نے کہا وانک لتقلن القرآن سے مراد یہ ہے کہ تم اس کو ان سے لیتے ہو"فتلقی آدم من ربہ کلمات"(آدم نے اپنے رب سے چند کلمات اخذ کیے) اسی کے مثل ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ الْمَعْرُورِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، قُلْتُ: وَإِنْ سَرَقَ، وَإِنْ زَنَى، قَالَ: وَإِنْ سَرَقَ، وَإِنْ زَنَى.

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے واصل نے بیان کیا، ان سے معرور نے بیان کیا کہ میں نے ابوذر (رض) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور مجھے بشارت دی کہ جو شخص اس حال میں مرے گا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے پوچھا گو اس نے چوری اور زنا بھی کیا ہو ؟ فرمایا کہ گو اس نے چوری اور زنا کیا ہو۔

Narrated Abu Dharr (RA) : The Prophet ﷺ said, Gabriel (علیہ السلام) came to me and gave me the glad tidings that anyone who died without worshipping anything besides Allah, would enter Paradise. I asked ( Gabriel (علیہ السلام)), Even if he committed theft, and even if he committed illegal sexual intercourse? He said, (Yes), even if he committed theft, and even if he Committed illegal sexual intercourse."

7488Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول اللہ نے اس کو اپنے علم سے نازل کیا ہے اور فرشتے گواہ ہیں، مجاہد نے کہا کہ یتنزل الامر بینھن سے مراد یہ ہے کہ حکم ساتویں آسمان اور ساتویں زمین کے درمیان نازل ہوتا ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا فُلَانُ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ، فَقُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَإِنَّكَ إِنْ مُتَّ فِي لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ أَجْرًا.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسحاق ہمدانی نے بیان کیا، ان سے براء بن عازب (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے فلان ! جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو یہ دعا کرو اللهم أسلمت نفسي إليك، ووجهت وجهي إليك وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، رغبة ورهبة إليك، لا ملجأ ولا منجا منک إلا إليك، آمنت بکتابک الذي أنزلت، وبنبيك الذي أرسلت. اے اللہ ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کردی اور اپنا رخ تیری طرف موڑ دیا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کردیا اور تیری پناہ لی، تیری طرف رغبت کی وجہ سے اور تجھ سے ڈر کر۔ تیرے سوا کوئی پناہ اور نجات کی جگہ نہیں، میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے نبی پر ایمان لایا جو تو نے بھیجے۔ پس اگر تم آج رات مرگئے تو فطرت پر مرو گے اور صبح کو زندہ اٹھے تو ثواب ملے گا۔

Narrated Al-Bara bin Azib: Allahs Apostle ﷺ said, "O so-and-so, whenever you go to your bed (for sleeping) say, O Allah! I have surrendered myself over to you and have turned my face towards You, and leave all my affairs to You and depend on You and put my trust in You expecting Your reward and fearing Your punishment. There is neither fleeing from You nor refuge but with You. I believe in the Book (Quran) which You have revealed and in Your Prophet ﷺ (Muhammad) whom You have sent. If you then die on that night, then you will die as a Muslim, and if you wake alive in the morning then you will receive the reward." (See Hadith No. 323, Vol. 8)

7489Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول اللہ نے اس کو اپنے علم سے نازل کیا ہے اور فرشتے گواہ ہیں، مجاہد نے کہا کہ یتنزل الامر بینھن سے مراد یہ ہے کہ حکم ساتویں آسمان اور ساتویں زمین کے درمیان نازل ہوتا ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمْ الْأَحْزَابَ، وَزَلْزِلْ بِهِمْ، زَادَالْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے عبداللہ بن ابی اوفی (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خندق کے دن فرمایا اے اللہ ! کتاب قرآن کے نازل کرنے والے، جلد حساب لینے والے، ان دشمن جماعتوں کو شکست دے اور ان کے پاؤں ڈگمگا دے۔ حمیدی نے اسے یوں روایت کیا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے سنا، کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔

Narrated Abdullah bin Abi Aufa: Allahs Apostle ﷺ said on the Day of (the battle of) the Clans, "O Allah! The Revealer of the Holy Book, The Quick Taker of Accounts! Defeat the clans and shake them."

7490Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول اللہ نے اس کو اپنے علم سے نازل کیا ہے اور فرشتے گواہ ہیں، مجاہد نے کہا کہ یتنزل الامر بینھن سے مراد یہ ہے کہ حکم ساتویں آسمان اور ساتویں زمین کے درمیان نازل ہوتا ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110، قَالَ: أُنْزِلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم متوار بمكة، فكان إذا رفع صوته، سَمِعَ الْمُشْرِكُونَ فَسَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ حَتَّى يَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110 أَسْمِعْهُمْ وَلَا تَجْهَرْ حَتَّى يَأْخُذُوا عَنْكَ الْقُرْآنَ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے ہشیم بن بشیر نے، ان سے ابی بشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے (سورۃ بنی اسرائیل کی) آیت ولا تجهر بصلاتک ولا تخافت بها کے بارے میں کہ یہ اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپ کر عبادت کیا کرتے تھے۔ جب آپ نماز میں آواز بلند کرتے تو مشرکین سنتے اور قرآن مجید اور اس کے نازل کرنے والے اللہ کو اور اس کے لانے والے جبرائیل (علیہ السلام) کو گالی دیتے (اور نبی کریم ﷺ کو بھی) اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ولا تجهر بصلاتک ولا تخافت بها کہ اپنی نماز میں نہ آواز بلند کرو اور نہ بالکل آہستہ یعنی آواز اتنی بلند بھی نہ کر کہ مشرکین سن لیں اور اتنی آہستہ بھی نہ کر کہ آپ کے ساتھی بھی نہ سن سکیں بلکہ ان کے درمیان کا راستہ اختیار کر۔ مطلب یہ ہے کہ اتنی آواز سے پڑھ کہ تیرے اصحاب سن لیں اور قرآن سیکھ لیں، اس سے زیادہ چلا کر نہ پڑھ۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : (regarding the Verse):-- Neither say your prayer aloud, nor say it in a low tone. (17.110) This Verse was revealed while Allahs Apostle ﷺ was hiding himself in Makkah, and when he raised his voice while reciting the Quran, the pagans would hear him and abuse the Quran and its Revealer and to the one who brought it. So Allah said:-- Neither say your prayer aloud, nor say it in a low tone. (17.110) That is, Do not say your prayer so loudly that the pagans can hear you, nor say it in such a low tone that your companions do not hear you. But seek a middle course between those (extremes), i.e., let your companions hear, but do not relate the Quran loudly, so that they may learn it from you.

7491Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کو بدل ڈالنا چاہتے ہیں۔ قرآن کے قول فعل ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ حق ہے اور کھیل کود کی چیز نہیں۔

حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ ، حدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِي الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ.

ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانہ کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ کا پیدا کرنے والا ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں، میں جس طرح چاہتا ہو رات اور دن کو پھیرتا رہتا ہوں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "Allah said: "The son of Adam hurts Me by abusing Time, for I am Time; in My Hands are all things and I cause the revolution of night and day. " (See Hadith No. 351, Vol. 6)

7492Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کو بدل ڈالنا چاہتے ہیں۔ قرآن کے قول فعل ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ حق ہے اور کھیل کود کی چیز نہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ، وَأَكْلَهُ وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ.

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ روزہ خالص میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں۔ بندہ اپنی شہوت، کھانا پینا میری رضا کے لیے چھوڑتا ہے اور روزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اس وقت جب وہ افطار کرتا ہے اور ایک خوشی اس وقت جب وہ اپنے رب سے ملتا ہے اور روزہ دار کے منہ کی بو، اللہ کے نزدیک مشک عنبر کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "Allah said: The Fast is for Me and I will give the reward for it, as he (the one who observes the fast) leaves his sexual desire, food and drink for My Sake. Fasting is a screen (from Hell) and there are two pleasures for a fasting person, one at the time of breaking his fast, and the other at the time when he will meet his Lord. And the smell of the mouth of a fasting person is better in Allahs Sight than the smell of musk." (See Hadith No. 128, Vol. 3).

7493Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کو بدل ڈالنا چاہتے ہیں۔ قرآن کے قول فعل ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ حق ہے اور کھیل کود کی چیز نہیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَى رَبُّهُ: يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى، قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ.

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایوب (علیہ السلام) کپڑے اتار کر نہا رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیوں کا ایک دل ان پر آ کر گرا اور آپ انہیں کپڑے میں سمیٹنے لگے۔ ان کے رب نے انہیں پکارا کہ اے ایوب ! کیا میں نے تجھے مالدار بنا کر ان ٹڈیوں سے بےپروا نہیں کردیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں بیشک تو نے مجھ کو بےپروا مالدار کیا ہے مگر تیرے فضل و کرم اور رحمت سے بھی میں کہیں بےپروا ہوسکتا ہوں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "Once while Job (Aiyub) was taking a bath in a naked state. Suddenly a great number of gold locusts started falling upon him and he started collecting them in his clothes. His Lord called him, O Job! Didnt I make you rich enough to dispense with what you see now? Job said, Yes, O Lord! But I cannot dispense with Your Blessings

7494Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کو بدل ڈالنا چاہتے ہیں۔ قرآن کے قول فعل ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ حق ہے اور کھیل کود کی چیز نہیں۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ.

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوعبداللہ الاغر نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر آتا ہے، اس وقت جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے کون بلاتا ہے کہ میں اسے جواب دوں، مجھ سے کون مانگتا ہے کہ میں اسے عطا کروں، مجھ سے کون مغفرت طلب کرتا ہے میں اس کی مغفرت کروں ؟

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "Every night when it is the last third of the night, our Lord, the Superior, the Blessed, descends to the nearest heaven and says: Is there anyone to invoke Me that I may respond to his invocation? Is there anyone to ask Me so that I may grant him his request? Is there anyone asking My forgiveness so that I may forgive him?. " (See Hadith No. 246,Vol. 2)

7495Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کو بدل ڈالنا چاہتے ہیں۔ قرآن کے قول فعل ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ حق ہے اور کھیل کود کی چیز نہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، أَنَّ الْأَعْرَجَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا گو دنیا میں ہم سب سے آخری امت ہیں لیکن آخرت میں سب سے آگے ہوں گے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "We (Muslims) are the last (to come) but will be the foremost on the Day of Resurrection.

7496Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کو بدل ڈالنا چاہتے ہیں۔ قرآن کے قول فعل ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ حق ہے اور کھیل کود کی چیز نہیں۔

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: اللَّهُ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ.

اور اسی سند سے یہ بھی مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم خرچ کرو تو میں تم پر خرچ کروں گا۔

" The narrators of this Hadith said: Allah said (to man), Spend (in charity), for then I will compensate you (generously). "

7497Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کو بدل ڈالنا چاہتے ہیں۔ قرآن کے قول فعل ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ حق ہے اور کھیل کود کی چیز نہیں۔

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ: هَذِهِ خَدِيجَةُ أَتَتْكَ بِإِنَاءٍ فِيهِ طَعَامٌ، أَوْ إِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ، فَأَقْرِئْهَا مِنْ رَبِّهَا السَّلَامَ، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ.

ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ (جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا : یا رسول اللہ ! ) یہ خدیجہ (رض) جو آپ کے پاس برتن میں کھانا یا پانی لے کر آتی ہیں انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہئیے اور انہیں خولدار موتی کے ایک محل کی جنت میں خوشخبری سنائیے جس میں نہ شور ہوگا اور نہ کوئی تکلیف ہوگی۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said that Gabriel (علیہ السلام) said, "Here is Khadija (RA) coming to you with a dish of food or a tumbler containing something to drink. Convey to her a greeting from her Lord (Allah) and give her the glad tidings that she will have a palace in Paradise built of Qasab wherein there will be neither any noise nor any fatigue (trouble)." (See Hadith No. 168, Vol. 5)

7498Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کو بدل ڈالنا چاہتے ہیں۔ قرآن کے قول فعل ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ حق ہے اور کھیل کود کی چیز نہیں۔

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ اللَّهُ: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ، مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ.

ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا کہا، ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے اور انہیں ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنت میں، میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : the Prophet ﷺ said, "Allah said, "I have prepared for My righteous slaves (such excellent things) as no eye has ever seen, nor an ear has ever heard nor a human heart can ever think of. "

7499Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کو بدل ڈالنا چاہتے ہیں۔ قرآن کے قول فعل ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ حق ہے اور کھیل کود کی چیز نہیں۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ.

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے مجھ کو سلیمان احول نے خبر دی، انہیں طاؤس یمانی نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عباس (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ جب رات میں تہجد پڑھنے اٹھتے تو کہتے اللهم لک الحمد أنت نور السموات والأرض، ولک الحمد أنت قيم السموات والأرض، ولک الحمد أنت رب السموات والأرض، ومن فيهن أنت الحق، ووعدک الحق وقولک الحق، ولقاؤك الحق، والجنة حق، والنار حق، والنبيون حق، والساعة حق، اللهم لك أسلمت، وبک آمنت، وعليك توکلت، وإليك أنبت، وبک خاصمت، وإليك حاکمت، فاغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت، أنت إلهي، لا إله إلا أنت حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا نور ہے، حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا تھامنے والا ہے، حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا اور جو کچھ اس میں ہے سب کا رب ہے۔ تو سچ ہے، تیرا وعدہ سچا ہے اور تیرا قول سچا ہے، تیری ملاقات سچی ہے، جنت سچ ہے اور دوزخ سچ ہے، سارے انبیاء سچے ہیں اور قیامت سچ ہے۔ اے اللہ ! میں تیرے سامنے ہی جھکا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری ہی طرف رجوع کیا، تیرے ہی سامنے اپنا جھگڑا پیش کرتا اور تجھ ہی سے اپنا فیصلہ چاہتا ہوں، پس تو میری مغفرت کر دے اگلے پچھلے تمام گناہوں کی جو میں نے چھپا کر کئے اور جو ظاہر کئے، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : Whenever the Prophet ﷺ offered the night (Tahajjud) prayer, he used to say, "O Allah! All the Praises are for You; You are the Light of the Heavens and the Earth. And all the Praises are for You; You are the Keeper of the Heavens and the Earth. All the Praises are for You; You are the Lord of the Heavens and the Earth and whatever is therein. You are the Truth, and Your Promise is the Truth, and Your Speech is the Truth, and meeting You is the Truth, and Paradise is the Truth and Hell (Fire) is the Truth and all the prophets are the Truth and the Hour is the Truth. O Allah! I surrender to You, and believe in You, and depend upon You, and repent to You, and in Your cause I fight and with Your orders I rule. So please forgive my past and future sins and those sins which I did in secret or in public. It is You Whom I worship, None has the right to be worshipped except You ." (See Hadith No. 329,Vol. 8)

7500Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کو بدل ڈالنا چاہتے ہیں۔ قرآن کے قول فعل ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ حق ہے اور کھیل کود کی چیز نہیں۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي، طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: وَلَكِنِّي وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ يُنْزِلُ فِي بَرَاءَتِي وَحْيًا يُتْلَى، وَلَشَأْنِي فِي نَفْسِي كَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى، وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ سورة النور آية 11 الْعَشْرَ الْآيَاتِ.

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر ’ سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے سنا، نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) کے بارے میں جب تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور اللہ نے اس سے انہیں بَری قرار دیا تھا۔ ان سب نے بیان کیا اور ہر ایک نے مجھ سے عائشہ (رض) کی بیان کی ہوئی بات کا ایک حصہ بیان کیا۔ ام المؤمنین نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ میری پاکی بیان کرنے کے لیے وحی نازل کرے گا جس کی تلاوت ہوگی۔ میرے دل میں میرا درجہ اس سے بہت کم تھا کہ اللہ میرے بارے میں (قرآن مجید میں) وحی نازل کرے گا جس کی تلاوت ہوگی، البتہ مجھے امید تھی کہ رسول اللہ ﷺ کوئی خواب دیکھیں گے جس کے ذریعہ اللہ میری برات کر دے گا، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیات إن الذين جاء وا بالإفك نازل کی ہیں، دس آیات۔

Narrated Urwa bin Az-Zubair (RA) : Said bin Al-Musaiyab, Alqama bin Waqqas and Ubaidullah bin Abdullah regarding the narrating of the forged statement against Aisha (RA), the wife of the Prophet, when the slanderers said what they said and Allah revealed her innocence. Aisha (RA) said, "But by Allah, I did not think that Allah, (to confirm my innocence), would reveal Divine Inspiration which would be recited, for I consider myself too unimportant to be talked about by Allah through Divine Inspiration revealed for recitation, but I hoped that Allahs Apostle ﷺ might have a dream in which Allah would reveal my innocence. So Allah revealed:-- Verily! Those who spread the slander are a gang among you... (The ten Verses in Surat-an-Nur) (24.11-20)

7501Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کو بدل ڈالنا چاہتے ہیں۔ قرآن کے قول فعل ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ حق ہے اور کھیل کود کی چیز نہیں۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ: إِذَا أَرَادَ عَبْدِي أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً فَلَا تَكْتُبُوهَا عَلَيْهِ حَتَّى يَعْمَلَهَا، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا بِمِثْلِهَا، وَإِنْ تَرَكَهَا مِنْ أَجْلِي، فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً فَلَمْ يَعْمَلْهَا، فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ کرے تو اسے نہ لکھو یہاں تک کہ اسے کر نہ لے۔ جب اس کو کرلے پھر اسے اس کے برابر لکھو اور اگر اس برائی کو میرے خوف سے چھوڑ دے تو اس کے حق میں ایک نیکی لکھو اور اگر بندہ کوئی نیکی کرنی چاہے تو اس کے لیے ارادہ ہی پر ایک نیکی اس کے لیے لکھو۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "Allah says, "If My slave intends to do a bad deed then (O Angels) do not write it unless he does it; if he does it, then write it as it is, but if he refrains from doing it for My Sake, then write it as a good deed (in his account). (On the other hand) if he intends to go a good deed, but does not do it, then write a good deed (in his account), and if he does it, then write it for him (in his account) as ten good deeds up to seven-hundred times. "

7502Sahih Bukhariصحیح

اللہ کا قول کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کو بدل ڈالنا چاہتے ہیں۔ قرآن کے قول فعل ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ حق ہے اور کھیل کود کی چیز نہیں۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُ قَامَتِ الرَّحِمُ، فَقَالَ: مَهْ، قَالَتْ: هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ الْقَطِيعَةِ، فَقَالَ: أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ؟، قَالَتْ: بَلَى يَا رَبِّ، قَالَ: فَذَلِكِ لَكِ، ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ سورة محمد آية 22.

ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن ابی مزرد نے بیان کیا اور ان سے سعید بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ٹھہر جا۔ اس نے کہا کہ یہ قطع رحم (ناطہٰ توڑنا) سے تیری پناہ مانگنے کا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میں ناطہٰ کو جوڑنے والے سے اپنے رحم کا ناطہٰ جوڑوں اور ناطہٰ کو کاٹنے والوں سے جدا ہوجاؤں۔ اس نے کہا کہ ضرور، میرے رب ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہی تیرا مقام ہے۔ پھر ابوہریرہ (رض) نے (سورۃ محمد کی) یہ آیت پڑھی فهل عسيتم إن توليتم أن تفسدوا في الأرض وتقطعوا أرحامکم ممکن ہے کہ اگر تم حاکم بن جاؤ تو زمین میں فساد کرو اور قطع رحم کرو۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "Allah created the creation, and when He finished from His creation the Rahm (womb) got up, and Allah said (to it). "Stop! What do you want? It said; "At this place I seek refuge with You from all those who sever me (i.e. sever the ties of Kinship.)" Allah said: "Would you be pleased that I will keep good relation with the one who will keep good relation with you, and I will sever the relation with the one who will sever the relation with you. It said: Yes, O my Lord. Allah said (to it), That is for you. And then Abu Hurairah (RA) recited the Verse:-- "Would you then if you were given the authority, do mischief in the land, and sever your ties of kinship." (47.22)