16- بَابُ مَتَى يَسْتَوْجِبُ الرَّجُلُ الْقَضَاءَ:
باب : قاضی بننے کیلئے کیا کیا شرطیں ہونی ضروری ہیں
وَقَالَ الْحَسَنُ: أَخَذَ اللَّهُ عَلَى الْحُكَّامِ أَنْ لَا يَتَّبِعُوا الْهَوَى، وَلَا يَخْشَوْا النَّاسَ، وَلَا يَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا، ثُمَّ قَرَأَ: يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ سورة ص آية 26وَقَرَأَ: إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ فَلا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلا وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ سورة المائدة آية 44 بِمَا اسْتُحْفِظُوا: اسْتُودِعُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَقَرَأَ وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ 78 فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا سورة الأنبياء آية 78-79، فَحَمِدَ سُلَيْمَانَ وَلَمْ يَلُمْ دَاوُدَ وَلَوْلَا مَا ذَكَرَ اللَّهُ مِنْ أَمْرِ هَذَيْنِ لَرَأَيْتُ أَنَّ الْقُضَاةَ هَلَكُوا فَإِنَّهُ أَثْنَى عَلَى هَذَا بِعِلْمِهِ وَعَذَرَ هَذَا بِاجْتِهَادِهِ، وَقَالَ مُزَاحِمُ بْنُ زُفَرَ قَالَ لَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ خَمْسٌ إِذَا أَخْطَأَ الْقَاضِي: مِنْهُنَّ خَصْلَةً كَانَتْ فِيهِ وَصْمَةٌ أَنْ يَكُونَ فَهِمًا حَلِيمًا عَفِيفًا صَلِيبًا عَالِمًا سَئُولًا عَنِ الْعِلْمِ
اور امام حسن بصری (رح) نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حاکموں سے یہ عہد لیا ہے کہ خواہشات نفس کی پیروی نہ کریں اور لوگوں سے نہ ڈریں (آیت قرآنی) ولا تشتروا بآياتي ثمنا قليلا اور میری آیات کو معمولی قیمت کے بدلے میں نہ بیچیں پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی يا داود إنا جعلناک خليفة في الأرض فاحکم بين الناس بالحق ولا تتبع الهوى فيضلک عن سبيل الله إن الذين يضلون عن سبيل الله لهم عذاب شديد بما نسوا يوم الحساب اے داؤد ! ہم نے تم کو زمین پر خلیفہ بنایا ہے، پس تم لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہش نفسانی کی پیروی نہ کرو کہ وہ تم کو اللہ کے راستے سے گمراہ کر دے۔ بلاشبہ جو لوگ اللہ کے راستہ سے گمراہ ہوجاتے ہیں ان کو قیامت کے دن سخت عذاب ہوگا بوجہ اس کے جو انہوں نے حکم الٰہی کو بھلا دیا تھا۔ اور امام حسن بصری نے یہ آیت تلاوت کی إنا أنزلنا التوراة فيها هدى ونور يحكم بها النبيون الذين أسلموا للذين هادوا والربانيون والأحبار بما استحفظوا، استودعوا، من کتاب الله وکانوا عليه شهداء فلا تخشوا الناس واخشون ولا تشتروا بآياتي ثمنا قليلا ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الکافرون بلاشبہ ہم نے توریت نازل کی، جس میں ہدایت اور نور تھا اس کے ذریعہ انبیاء جو اللہ کے فرمانبردار تھے، فیصلہ کرتے رہے۔ ان لوگوں کے لیے انہوں نے ہدایت اختیار کی اور پاک باز اور علماء (فیصلہ کرتے ہیں) اس کے ذریعہ جو انہوں نے کتاب اللہ کو یاد رکھا اور وہ اس پر نگہبان ہیں۔ پس لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ہی ڈرو اور میری آیات کے ذریعہ دنیا کی تھوڑی پونجی نہ خریدو اور جو اللہ کے نازل کئے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تو وہی منکر ہیں۔ بما استحفظوا، استودعوا، من کتاب الله اور امام حسن بصری نے سورة انبیاء کی یہ آیت بھی تلاوت کی وداود وسليمان إذ يحکمان في الحرث إذ نفشت فيه غنم القوم وکنا لحکمهم شاهدين * ففهمناها سليمان وکلا آتينا حکما وعلما (اور یاد کرو) داؤد اور سلیمان کو جب انہوں نے کھیتی کے بارے میں فیصلہ کیا جب کہ اس میں ایک جماعت کی بکریاں گھس پڑیں اور ہم ان کے فیصلہ کو دیکھ رہے تھے۔ پس ہم نے فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے دونوں کو نبوت اور معرفت دی تھی۔ پس سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی حمد کی اور داؤد (علیہ السلام) کو ملامت نہیں کی۔ اگر ان دو انبیاء کا حال جو اللہ نے ذکر کیا ہے نہ ہوتا تو میں سمجھتا کہ قاضی تباہ ہو رہے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کی تعریف ان کے علم کی وجہ سے کی ہے اور داؤد (علیہ السلام) کو ان کے اجتہاد میں معذور قرار دیا اور مزاحم بن زفر نے کہا کہ ہم سے عمر بن عبدالعزیز نے بیان کیا کہ پانچ خصلتیں ایسی ہیں کہ اگر قاضی میں ان میں سے کوئی ایک خصلت بھی نہ ہو تو اس کے لیے باعث عیب ہے۔ اول یہ کہ وہ دین کی سمجھ والا ہو، دوسرے یہ کہ وہ بردبار ہو، تیسرے وہ پاک دامن ہو، چوتھے وہ قوی ہو، پانچویں یہ کہ عالم ہو، علم دین کی دوسروں سے بھی خوب معلومات حاصل کرنے والا ہو۔
Narrated Anas bin Malik: When the Prophet intended to write to the Byzantines, the people said, They do not read a letter unless it is sealed (stamped). Therefore the Prophet took a silver ring----as if I am looking at its glitter now----and its engraving was: 'Muhammad, Apostle of Allah'.
حکام اور عاملوں کی تنخواہ کا بیان،۔ اور قاضی شریح قضاء کی اجرت لیا کرتے تھے حضرت عائشہ نے کہا کی وصی اپنی محنت کے مطابق (یتیم کے مال میں سے) کھائے اور حضرت ابوبکر و عمر نے کھایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنُ أُخْتِ نَمِرٍ، أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَه، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ فِي خِلَافَتِهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَلِيَ مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا ؟، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ كَرِهْتَهَا، فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ، قُلْتُ: إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَيْرٍ وَأُرِيدُ أَنْ تَكُونَ عُمَالَتِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، قَالَ عُمَرُ: لَا تَفْعَلْ فَإِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ الَّذِي أَرَدْتَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ، فَخُذْهُ وَإِلَّا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ،
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ، فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَالَا، فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں نمر کے بھانجے سائب بن یزید نے خبر دی، انہیں حویطب بن عبدالعزیٰ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن السعیدی نے خبر دی کہ وہ عمر (رض) کے پاس ان کے زمانہ خلافت میں آئے تو ان سے عمر (رض) نے پوچھا : کیا مجھ سے یہ جو کہا گیا ہے وہ صحیح ہے کہ تمہیں لوگوں کے کام سپرد کئے جاتے ہیں اور جب اس کی تنخواہ دی جاتی ہے تو تم اسے لینا پسند نہیں کرتے ؟ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے۔ عمر (رض) نے کہا کہ تمہارا اس سے مقصد کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میرے پاس گھوڑے اور غلام ہیں اور میں خوشحال ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں پر صدقہ ہوجائے۔ عمر (رض) نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ میں نے بھی اس کا ارادہ کیا تھا جس کا تم نے ارادہ کیا ہے نبی کریم ﷺ مجھے عطا کرتے تھے تو میں عرض کردیتا تھا کہ اسے مجھ سے زیادہ اس کے ضرورت مند کو عطا فرما دیجئیے۔ آخر آپ نے ایک مرتبہ مجھے مال عطا کیا اور میں نے وہی بات دہرائی کہ اسے ایسے شخص کو دے دیجئیے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے لو اور اس کے مالک بننے کے بعد اس کا صدقہ کرو۔ یہ مال جب تمہیں اس طرح ملے کہ تم اس کے نہ خواہشمند ہو اور نہ اسے مانگا تو اسے لے لیا کرو اور اگر اس طرح نہ ملے تو اس کے پیچھے نہ پڑا کرو۔
اور زہری سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے کہ میں نے عمر (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ مجھے عطا کرتے تھے تو میں کہتا کہ آپ اسے دے دیں جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو، پھر آپ ﷺ نے مجھے ایک مرتبہ مال دیا اور میں نے کہا کہ آپ اسے ایسے شخص کو دے دیں جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے لے لو اور اس کے مالک بننے کے بعد اس کا صدقہ کر دو ۔ یہ مال جب تمہیں اس طرح ملے کہ تم اس کے خواہشمند نہ ہو اور نہ اسے تم نے مانگا ہو تو اسے لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے نہ پڑا کرو۔
Narrated Abdullah bin As-Sadi (RA) :
That when he went to Umar during his Caliphate. Umar said to him, "Havent I been told that you do certain jobs for the people but when you are given payment you refuse to take it?" Abdullah added: I said, "Yes." Umar said, "Why do you do so?" I said, "I have horses and slaves and I am living in prosperity and I wish that my payment should be kept as a charitable gift for the Muslims." Umar said, "Do not do so, for I intended to do the same as you do. Allahs Apostles used to give me gifts and I used to say to him, Give it to a more needy one than me. Once he gave me some money and I said, Give it to a more needy person than me, whereupon the Prophet ﷺ said, Take it and keep it in your possession and then give it in charity. Take what ever comes to you of this money if you are not keen to have it and not asking for it; otherwise (i.e., if it does not come to you) do not seek to have it yourself. "
Narrated Abdullah bin Umar (RA) : I have heard Umar saying, "The Prophet ﷺ used to give me some money (grant) and I would say (to him), Give it to a more needy one than me. Once he gave me some money and I said, Give it to a more needy one than me. The Prophet ﷺ said (to me), Take it and keep it in your possession and then give it in charity. Take whatever comes to you of this money while you are not keen to have it and not asking for it; take it, but you should not seek to have what you are not given. "
مسجد میں فیصلہ کرنے اور لعان کرنے کا بیان۔ حضرت عمر نے منبر نبوی ﷺ کے پاس لعان کیا اور شریح و شعبی نے اور یحیی بن یعمر نے مسجد میں فیصلہ کیا اور مروان نے زید بن ثابت پر منبر کے پاس قسم کھانے کا حکم دیا اور حسن اور زرارہ بن اوفی مسجد کے باہر میدان میں فیصلہ کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً وَفُرِّقَ بَيْنَهُمَا.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد (رض) نے بیان کیا کہ میں نے دو لعان کرنے والوں کو دیکھا، میں اس وقت پندرہ سال کا تھا اور ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی گئی تھی۔
Narrated Sahl bin Sad (RA) :
I witnessed a husband and a wife who were involved in a case of Lian. Then (the judgment of) divorce was passed. I was fifteen years of age, at that time.
مسجد میں فیصلہ کرنے اور لعان کرنے کا بیان۔ حضرت عمر نے منبر نبوی ﷺ کے پاس لعان کیا اور شریح و شعبی نے اور یحیی بن یعمر نے مسجد میں فیصلہ کیا اور مروان نے زید بن ثابت پر منبر کے پاس قسم کھانے کا حکم دیا اور حسن اور زرارہ بن اوفی مسجد کے باہر میدان میں فیصلہ کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ ؟، فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ.
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں بنی ساعدہ کے ایک فرد سہل (رض) نے خبر دی کہ قبیلہ انصار کا ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے مرد کو دیکھے، کیا اسے قتل کرسکتا ہے ؟ پھر دونوں (میاں بیوی) میں میری موجودگی میں لعان کرایا گیا۔
Narrated Sahl (RA) :
(the brother of Bani Saida) A man from the Ansar came to the Prophet ﷺ and said, "If a man finds another man sleeping with his wife, should he kill him?" That man and his wife then did Lian in the mosque while I was present.
جس نے مسجد میں فیصلہ کیا یہاں تک کہ جب حد کا وقت آیا تو حکم دیا کہ مسجد سے نکل کر حد قائم کی جائے۔ حضرت عمر نے کہا ہے اس کو مسجد سے باہر نکالو اور حضرت علی سے بھی اسی طرح منقول ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَنَادَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعًا، قَالَ: أَبِكَ جُنُونٌ، قَالَ: لَا، قَالَ: اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ.
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ، كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ بِالْمُصَلَّى، رَوَاهُ يُونُسُ ، وَمَعْمَرٌ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجْمِ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، نبی کریم ﷺ مسجد میں تھے اور انہوں نے آپ کو آواز دی اور کہا : یا رسول اللہ ! میں نے زنا کرلیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے منہ موڑ لیا لیکن جب اس نے اپنے ہی خلاف چار مرتبہ گواہی دی تو آپ نے اس سے پوچھا کیا تم پاگل ہو ؟ اس نے کہا کہ نہیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو ۔
ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے جابر بن عبداللہ (رض) سے سنا تھا، انہوں نے بیان کیا کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اس شخص کو عیدگاہ پر رجم کیا تھا۔ اس کی روایت یونس، معمر اور ابن جریج نے زہری سے کی، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے جابر (رض) نے نبی کریم ﷺ سے رجم کے سلسلے میں یہی حدیث ذکر کی۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
A man came to Allahs Apostle ﷺ while he was in the mosque, and called him, saying, "O Allahs Apostle ﷺ ! I have committed illegal sexual intercourse." The Prophet ﷺ turned his face to the other side, but when the man gave four witnesses against himself, the Prophet ﷺ said to him, "Are you mad?" The man said, "No." So the Prophet ﷺ said (to his companions), "Take him away and stone him to death. "
جھگڑنے والوں کو امام کے نصیحت کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِي عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام سلمہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ میں ایک انسان ہوں، تم میرے پاس اپنے جھگڑے لاتے ہو ممکن ہے تم میں سے بعض اپنے مقدمہ کو پیش کرنے میں فریق ثانی کے مقابلہ میں زیادہ چرب زبان ہو اور میں تمہاری بات سن کر فیصلہ کر دوں تو جس شخص کے لیے میں اس کے بھائی (فریق مخالف) کا کوئی حق دلا دوں، چاہیے کہ وہ اسے نہ لے کیونکہ یہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو میں اسے دیتا ہوں۔
Narrated Um Salama (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "I am only a human being, and you people (opponents) come to me with your cases; and it may be that one of you can present his case eloquently in a more convincing way than the other, and I give my verdict according to what I hear. So if ever I judge (by error) and give the right of a brother to his other (brother) then he (the latter) should not take it, for I am giving him only a piece of Fire." (See Hadith No. 638, Vol. 3).
جھگڑنے والوں کے لئے قاضی کی گواہی حاکم کے سامنے ہونی چاہیے، خواہ قاضی ہونے سے پہلے گواہ ہویا گفتگو ہونے کے بعد، قاضی شریح سے ایک آدمی نے اپنی گواہی دینے کے لئے کہا جس شخص کا مقدمہ انہیں کے پاس تھا انہوں نے اس آدمی سے کہا کہ امیر کے پاس چلو میں تمہاری گواہی دوں گا، اور عکرمہ نے کہا کہ حضرت عمر نے عبدالرحمن بن عوف سے کہا کہ اگر تم کسی آدمی کو زنا یا چوری کرتا دیکھو اور تم امیر ہو تو کیا تم محض اپنے دیکھنے پر اس کو حد لگادو گے، عبدالرحمن نے کہا تمہاری گواہی ایک عام مسلمان جیسی ہے، حضرت عمر نے کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو، پھر حضرت عمرنے کہا کہ اگر میں یہ خوف نہ کر تاکہ لوگ کہتے کہ عمر نے کتاب اللہ میں زیادتی کی ہے تو رجم کرنے والی آیت کو اپنے ہاتھ سے لکھ دیتا، اور ماعز نے نبی ﷺ کے سامنے چار مرتبہ اقرار کیا تو آپ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، اور یہ کسی نے کہا کہ نبی ﷺ نے حاضرین کو گواہ بنایا، حماد نے کہا کہ جب زانی ایک بار اقرار کرے تو اسے رجم کردیا جائے اور حکم نے کہا کہ چار بارا قرار کرے توا سے رجم کیا جائے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ: مَنْ لَهُ بَيِّنَةٌ عَلَى قَتِيلٍ قَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ، فَقُمْتُ لِأَلْتَمِسَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَشْهَدُ لِي، فَجَلَسْتُ ثُمَّ بَدَا لِي، فَذَكَرْتُ أَمْرَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: سِلَاحُ هَذَا الْقَتِيلِ الَّذِي يَذْكُرُ عِنْدِي، قَالَ: فَأَرْضِهِ مِنْهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَلَّا لَا يُعْطِهِ أُصَيْبِغَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعَ أَسَدًا مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدَّاهُ إِلَيَّ، فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ خِرَافًا، فَكَانَ أَوَّلَ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ، قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ ، عَنِ اللَّيْثِ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدَّاهُ إِلَيَّ، وَقَالَ أَهْلُ الْحِجَازِ: الْحَاكِمُ لَا يَقْضِي بِعِلْمِهِ شَهِدَ بِذَلِكَ فِي وِلَايَتِهِ أَوْ قَبْلَهَا، وَلَوْ أَقَرَّ خَصْمٌ عِنْدَهُ لِآخَرَ بِحَقٍّ فِي مَجْلِسِ الْقَضَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَقْضِي عَلَيْهِ فِي قَوْلِ بَعْضِهِمْ حَتَّى يَدْعُوَ بِشَاهِدَيْنِ فَيُحْضِرَهُمَا إِقْرَارَهُ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِرَاقِ: مَا سَمِعَ أَوْ رَآهُ فِي مَجْلِسِ الْقَضَاءِ قَضَى بِهِ وَمَا كَانَ فِي غَيْرِهِ لَمْ يَقْضِ إِلَّا بِشَاهِدَيْنِ، وَقَالَ آخَرُونَ مِنْهُمْ: بَلْ يَقْضِي بِهِ لِأَنَّهُ مُؤْتَمَنٌ، وَإِنَّمَا يُرَادُ مِنَ الشَّهَادَةِ مَعْرِفَةُ الْحَقِّ، فَعِلْمُهُ أَكْثَرُ مِنَ الشَّهَادَةِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَقْضِي بِعِلْمِهِ فِي الْأَمْوَالِ وَلَا يَقْضِي فِي غَيْرِهَا، وَقَالَ الْقَاسِمُ: لَا يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يُمْضِيَ قَضَاءً بِعِلْمِهِ دُونَ عِلْمِ غَيْرِهِ مَعَ أَنَّ عِلْمَهُ أَكْثَرُ مِنْ شَهَادَةِ غَيْرِهِ وَلَكِنَّ فِيهِ تَعَرُّضًا لِتُهَمَةِ نَفْسِهِ عِنْدَ الْمُسْلِمِينَ وَإِيقَاعًا لَهُمْ فِي الظُّنُونِ، وَقَدْ كَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظَّنَّ، فَقَالَ: إِنَّمَا هَذِهِ صَفِيَّةُ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے عمر بن کثیر نے، ان سے ابوقتادہ کے غلام ابو محمد نافع نے اور ان سے ابوقتادہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کی جنگ کے دن فرمایا جس کے پاس کسی مقتول کے بارے میں جسے اس نے قتل کیا ہو گواہی ہو تو اس کا سامان اسے ملے گا۔ چناچہ میں مقتول کے لیے گواہ تلاش کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو میرے لیے گواہی دے سکے، اس لیے میں بیٹھ گیا۔ پھر میرے سامنے ایک صورت آئی اور میں نے اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا تو وہاں بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ اس مقتول کا سامان جس کا ابوقتادہ ذکر کر رہے ہیں، میرے پاس ہے۔ انہیں اس کے لیے راضی کر دیجئیے (کہ وہ یہ ہتھیار وغیرہ مجھے دے دیں) اس پر ابوبکر (رض) نے کہا کہ ہرگز نہیں۔ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نظر انداز کر کے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کرتا ہے وہ قریش کے معمولی آدمی کو ہتھیار نہیں دیں گے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ نے حکم دیا اور انہوں نے ہتھیار مجھے دے دئیے اور میں نے اس سے ایک باغ خریدا۔ یہ پہلا مال تھا جو میں نے (اسلام کے بعد) حاصل کیا تھا۔ امام بخاری (رح) نے کہا اور مجھ سے عبداللہ بن صالح نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے کہ پھر نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور مجھے وہ سامان دلا دیا، اور اہل حجاز، امام مالک وغیرہ نے کہا کہ حاکم کو صرف اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا درست نہیں۔ خواہ وہ معاملہ پر عہدہ قضاء حاصل ہونے کے بعد گواہ ہوا ہو یا اس سے پہلے اور اگر کسی فریق نے اس کے سامنے دوسرے کے لیے مجلس قضاء میں کسی حق کا اقرار کیا تو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس بنیاد پر وہ فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ دو گواہوں کو بلا کر ان کے سامنے اقرار کرائے گا۔ اور بعض اہل عراق نے کہا ہے کہ جو کچھ قاضی نے عدالت میں دیکھا یا سنا اس کے مطابق فیصلہ کرے گا لیکن جو کچھ عدالت کے باہر ہوگا اس کی بنیاد پر دو گواہوں کے بغیر فیصلہ نہیں کرسکتا اور انہیں میں سے دوسرے لوگوں نے کہا کہ اس کی بنیاد پر بھی فیصلہ کرسکتا ہے کیونکہ وہ امانت دار ہے۔ شہادت کا مقصد تو صرف حق کا جاننا ہے پس قاضی کا ذاتی علم گواہی سے بڑھ کر ہے۔ اور بعض ان میں سے کہتے ہیں کہ اموال کے بارے میں تو اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا اور اس کے سوا میں نہیں کرے گا اور قاسم نے کہا کہ حاکم کے لیے درست نہیں کہ وہ کوئی فیصلہ صرف اپنے علم کی بنیاد پر کرے اور دوسرے کے علم کو نظر انداز کر دے گو قاضی کا علم دوسرے کی گواہی سے بڑھ کر ہے لیکن چونکہ عام مسلمانوں کی نظر میں اس صورت میں قاضی کے مہتمم ہونے کا خطرہ ہے اور مسلمانوں کو اس طرح بدگمانی میں مبتلا کرنا ہے اور نبی کریم ﷺ نے بدگمانی کو ناپسند کیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہ صفیہ میری بیوی ہیں۔
Narrated Abu Qatada (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said on the Day of (the battle of) Hunain, "Whoever has killed an infidel and has a proof or a witness for it, then the salb (arms and belongings of that deceased) will be for him." I stood up to seek a witness to testify that I had killed an infidel but I could not find any witness and then sat down. Then I thought that I should mention the case to Allahs Apostle ﷺ I (and when I did so) a man from those who were sitting with him said, "The arms of the killed person he has mentioned, are with me, so please satisfy him on my behalf." Abu Bakr (RA) said, "No, he will not give the arms to a bird of Quraish and deprive one of Allahs lions of it who fights for the cause of Allah and His Apostle." Allahs Apostle ﷺ I stood up and gave it to me, and I bought a garden with its price, and that was my first property which I owned through the war booty.
The people of Hijaz said, "A judge should not pass a judgment according to his knowledge, whether he was a witness at the time he was the judge or before that" And if a litigant gives a confession in favor of his opponent in the court, in the opinion of some scholars, the judge should not pass a judgment against him till the latter calls two witnesses to witness his confession. And some people of Iraq said, "A judge can pass a judgement according to what he hears or witnesses (the litigants confession) in the court itself, but if the confession takes place outside the court, he should not pass the judgment unless two witnesses witness the confession." Some of them said, "A judge can pass a judgement depending on his knowledge of the case as he is trust-worthy, and that a witness is Required just to reveal the truth. The judges knowledge is more than the witness." Some said, "A judge can judge according to his knowledge only in cases involving property, but in other cases he cannot." Al-Qasim said, "A judge ought not to pass a judgment depending on his knowledge if other people do not know what he knows, although his knowledge is more than the witness of somebody else because he might expose himself to suspicion by the Muslims and cause the Muslims to have unreasonable doubt. "
جھگڑنے والوں کے لئے قاضی کی گواہی حاکم کے سامنے ہونی چاہیے، خواہ قاضی ہونے سے پہلے گواہ ہو یا گفتگو ہونے کے بعد، قاضی شریح سے ایک آدمی نے اپنی گواہی دینے کے لئے کہا جس شخص کا مقدمہ انہیں کے پاس تھا انہوں نے اس آدمی سے کہا کہ امیر کے پاس چلو میں تمہاری گواہی دوں گا، اور عکرمہ نے کہا کہ حضرت عمر نے عبدالرحمن بن عوف سے کہا کہ اگر تم کسی آدمی کو زنا یا چوری کرتا دیکھو اور تم امیر ہو تو کیا تم محض اپنے دیکھنے پر اس کو حد لگادو گے، عبدالرحمن نے کہا تمہاری گواہی ایک عام مسلمان جیسی ہے، حضرت عمر نے کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو، پھر حضرت عمرنے کہا کہ اگر میں یہ خوف نہ کر تاکہ لوگ کہتے کہ عمر نے کتاب اللہ میں زیادتی کی ہے تو رجم کرنے والی آیت کو اپنے ہاتھ سے لکھ دیتا، اور ماعز نے نبی ﷺ کے سامنے چار مرتبہ اقرار کیا تو آپ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، اور یہ کسی نے کہا کہ نبی ﷺ نے حاضرین کو گواہ بنایا، حماد نے کہا کہ جب زانی ایک بار اقرار کرے تو اسے رجم کردیا جائے اور حکم نے کہا کہ چار بارا قرار کرے توا سے رجم کیا جائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، فَلَمَّا رَجَعَتِ انْطَلَقَ مَعَهَا، فَمَرَّ بِهِ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَدَعَاهُمَا، فَقَالَ: إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ، قَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ، رَوَاهُ شُعَيْبٌ ، وَابْنُ مُسَافِرٍ ، وابْنُ أَبِي عَتِيقٍ ، وإسحاق بن يحيى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے جناب زین العابدین علی بن حسین (رح) نے کہ صفیہ بنت حیی (رض) (رات کے وقت) نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں (اور نبی کریم ﷺ مسجد میں معتکف تھے) جب وہ واپس آنے لگیں تو نبی کریم ﷺ بھی ان کے ساتھ آئے۔ اس وقت دو انصاری صحابی ادھر سے گزرے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ یہ صفیہ ہیں۔ ان دونوں انصاریوں نے کہا، سبحان اللہ (کیا ہم آپ پر شبہ کریں گے) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا ہے جیسے خون دوڑتا ہے۔ اس کی روایت شعیب، ابن مسافر، ابن ابی عتیق اور اسحاق بن یحییٰ نے زہری سے کی ہے، ان سے علی بن حسین نے اور ان سے صفیہ (رض) نے نبی کریم ﷺ سے یہی واقعہ نقل کیا ہے۔
Narrated Ali bin Husain (RA) :
Safiya bint (daughter of) Huyai came to the Prophet ﷺ (in the mosque), and when she returned (home), the Prophet ﷺ accompanied her. It happened that two men from the Ansar passed by them and the Prophet ﷺ called them saying, "She is Safiya!" those two men said, "Subhan Allah!" The Prophet ﷺ said, "Satan circulates in the human body as blood does."
حاکم جب دو آدمیوں کو کسی ایک جگہ بھیجے تو ان دونوں کو حکم دینا کہ دونوں ایک دوسرے کا کہا مانیں اور جھگڑا نہ کریں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِي، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: إِنَّهُ يُصْنَعُ بِأَرْضِنَا الْبِتْعُ، فَقَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَقَالَ النَّضْرُ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْشُعْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمرو عقدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی بردہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے میرے والد (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) اور معاذ بن جبل (رض) کو یمن بھیجا اور ان سے فرمایا کہ آسانی پیدا کرنا اور تنگی نہ کرنا اور خوشخبری دینا اور نفرت نہ دلانا اور آپس میں اتفاق رکھنا۔ ابوموسیٰ (رض) نے پوچھا کہ ہمارے ملک میں شہد کا نبیذ (تبع) بنایا جاتا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ نضر بن شمیل، ابوداؤد طیالسی، یزید بن ہارو اور وکیع نے شعبہ سے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ان کے دادا نے نبی کریم ﷺ سے یہی حدیث نقل کی۔
Narrated Abu Burda (RA) :
The Prophet ﷺ sent my father and Muadh bin Jabal to Yemen and said (to them), "Make things easy for the people and do not put hurdles in their way, and give them glad tiding, and dont let them have aversion (i.e. to make people to hate good deeds) and you both should work in cooperation and mutual understanding" Abu Musa (RA) said to Allahs Apostle, "In our country a special alcoholic drink called Al-Bit, is prepared (for drinking)." The Prophet ﷺ said, "Every intoxicant is prohibited. "
حاکم کے دعوت قبول کرنے کا بیان۔ اور حضرت عثمان نے مغیرہ بن شعبہ کے ایک غلام کی دعوت قبول کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فُكُّوا الْعَانِيَ وَأَجِيبُوا الدَّاعِيَ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، کہا مجھ سے منصور نے بیان کیا، ان سے ابوائل نے اور ان سے ابوموسیٰ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیدیوں کو چھڑاؤ اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرو۔
Narrated Abu Musa (RA) :
The Prophet ﷺ said, "Set free the captives and accept invitations."
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي أَسْدٍ، يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْأُتَبِيَّةِ عَلَى صَدَقَةٍ، فَلَمَّا قَدِمَ، قَالَ: هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ سُفْيَانُ أَيْضًا: فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُهُ فَيَأْتِي، يَقُولُ: هَذَا لَكَ وَهَذَا لِي، فَهَلَّا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرُ أَيُهْدَى لَهُ أَمْ لَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَأْتِي بِشَيْءٍ إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةً تَيْعَرُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَتَيْ إِبْطَيْهِ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ثَلَاثًا، قَالَ سُفْيَانُ: قَصَّهُ عَلَيْنَا الزُّهْرِيُّ، وَزَادَ هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعَ أُذُنَايَ، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنِي، وَسَلُوا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَإِنَّهُ سَمِعَهُ مَعِي، وَلَمْ يَقُلِ الزُّهْرِيُّ، سَمِعَ أُذُنِي خُوَارٌ صَوْتٌ، وَالْجُؤَارُ: مِنْ تَجْأَرُونَ كَصَوْتِ الْبَقَرَةِ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے، انہوں نے عروہ سے سنا، انہیں ابوحمید ساعدی (رض) نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ بنی اسد کے ایک شخص کو صدقہ کی وصولی کے لیے رسول اللہ ﷺ نے تحصیلدار بنایا، ان کا نام ابن الاتیتہ تھا۔ جب وہ لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا کہ یہ آپ لوگوں کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ میں دیا گیا ہے۔ پھر نبی کریم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے، سفیان ہی نے یہ روایت بھی کی کہ پھر آپ منبر پر چڑھے پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا کہ اس عامل کا کیا حال ہوگا جسے ہم تحصیل کے لیے بھیجتے ہیں پھر وہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ مال تمہارا ہے اور یہ میرا ہے۔ کیوں نہ وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھا رہا اور دیکھا ہوتا کہ اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، عامل جو چیز بھی (ہدیہ کے طور پر) لے گا اسے قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا۔ اگر اونٹ ہوگا تو وہ اپنی آواز نکالتا آئے گا، اگر گائے ہوگی تو وہ اپنی آواز نکالتی آئے گی، بکری ہوگی تو وہ بولتی آئے گی، پھر آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے۔ یہاں تک کہ ہم نے آپ کے دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھی اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے پہنچا دیا ! تین مرتبہ یہی فرمایا۔ سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ یہ حدیث ہم سے زہری نے بیان کی اور ہشام نے اپنے والد سے روایت کی، ان سے ابوحمید (رض) نے بیان کیا کہ میرے دونوں کانوں نے سنا اور دونوں آنکھوں نے دیکھا اور زید بن ثابت صحابی (رض) سے بھی پوچھ کیونکہ انہوں نے بھی یہ حدیث میرے ساتھ سنی ہے۔ سفیان نے کہا زہری نے یہ لفظ نہیں کہا کہ میرے کانوں نے سنا۔ امام بخاری (رح) نے کہا حدیث میں خوار کا لفظ ہے یعنی گائے کی آواز یا جؤار کا لفظ جو لفظ تجأرون سے نکلا ہے جو سورة مومنون میں ہے یعنی گائے کی آواز نکالتے ہوں گے۔
Narrated Abu Humaid Al-Saidi (RA) :
The Prophet ﷺ appointed a man from the tribe of Bani Asad, called Ibn Al-Utabiyya to collect the Zakat. When he returned (with the money) he said (to the Prophet), "This is for you and this has been given to me as a gift." The Prophet ﷺ stood up on the pulpit (Sufyan said he ascended the pulpit), and after glorifying and praising Allah, he said, "What is wrong with the employee whom we send (to collect Zakat from the public) that he returns to say, This is for you and that is for me? Why didnt he stay at his fathers and mothers house to see whether he will be given gifts or not? By Him in Whose Hand my life is, whoever takes anything illegally will bring it on the Day of Resurrection by carrying it over his neck: if it is a camel, it will be grunting: if it is a cow, it will be mooing: and if it is a sheep it will be bleating!" The Prophet ﷺ then raised both his hands till we saw the whiteness of his armpits (and he said), "No doubt! Havent I conveyed Allahs Message?" And he repeated it three times.
غلاموں کو قاضی بنانے اور ان کو عامل بنانے کا بیان
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَه قَالَ: كَانَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَؤُمُّ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ، وَأَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ، فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَبُو سَلَمَةَ، وَزَيْدٌ،وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ.
ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر (رض) نے خبر دی کہا کہ ابوحذیفہ (رض) کے (آزاد کردہ غلام) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم ﷺ کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان اصحاب میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم بھی ہوتے تھے۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
Salim, the freed salve of Abu Hudhaifa used to lead in prayer the early Muhajirin (emigrants) and the companions of the Prophet ﷺ in the Quba mosque. Among those (who used to pray behind him) were Abu Bakr, Umar, Abu Salama, and Amir bin Rabia.
حاکم کے سامنے واقف کاروں کے پیش کئے جانے کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، أَخْبَرَاهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ حِينَ أَذِنَ لَهُمُ الْمُسْلِمُونَ فِي عِتْقِ سَبْيِ هَوَازِنَ: إِنِّي لَا أَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ، فَرَجَعَ النَّاسُ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ النَّاسَ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے چچا موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور انہیں مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے، جب مسلمانوں نے قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کو اجازت دی تو فرمایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی ہے۔ پس واپس جاؤ اور تمہارا معاملہ ہمارے پاس تمہارے نقیب یا چودھری اور تمہارے سردار لائیں۔ چناچہ لوگ واپس چلے گئے اور ان کے ذمہ داروں نے ان سے بات کی اور پھر نبی کریم ﷺ کو آ کر اطلاع دی کہ لوگوں نے دلی خوشی سے اجازت دے دی ہے۔
Narrated Urwa bin Az-Zubair (RA) :
Marwan bin Al-Hakam and Al-Miswar bin Makhrama told him that when the Muslims were permitted to set free the captives of Hawazin, Allahs Apostle ﷺ said, "I do not know who amongst you has agreed (to it) and who has not. Go back so that your Urafa may submit your decision to us." So the people returned and their Urafa talked to them and then came back to Allahs Apostle ﷺ and told him that the people had given their consent happily and permitted (their captives to be freed).
بادشاہ کے سامنے اس کی تعریف کرنا اور اس کے پیچھے اس کے خلاف کہنا مکروہ ہے
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ أُنَاسٌ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّا نَدْخُلُ عَلَى سُلْطَانِنَا، فَنَقُولُ لَهُمْ خِلَافَ مَا نَتَكَلَّمُ إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمْ، قَالَ: كُنَّا نَعُدُّهَا نِفَاقًا.
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے، اور ان سے ان کے والد نے کہ کچھ لوگوں نے ابن عمر (رض) سے کہا کہ ہم اپنے حاکموں کے پاس جاتے ہیں اور ان کے حق میں وہ باتیں کہتے ہیں کہ باہر آنے کے بعد ہم اس کے خلاف کہتے ہیں۔ ابن عمر (رض) نے کہا کہ ہم اسے نفاق کہتے تھے۔
Narrated Muhammad bin Zaid bin Abdullah bin Umar (RA) :
Some people said to Ibn Umar (RA), "When we enter upon our ruler(s) we say in their praise what is contrary to what we say when we leave them." Ibn Umar (RA) said, "We used to consider this as hypocrisy."
بادشاہ کے سامنے اس کی تعریف کرنا اور اس کے پیچھے اس کے خلاف کہنا مکروہ ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے عراک نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بدترین وہ شخص دورخا ہے، کسی کے سامنے اس کا ایک رخ ہوتا ہے اور دوسرے کے سامنے دوسرا رخ برتتا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostles said, "The worst of all mankind is the double-faced one, who comes to some people with one countenance and to others, with another countenance."
غائب شخص پر حکم لگانے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ هِنْدًا، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ فَأَحْتَاجُ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ، قَالَ: خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ ہند نے نبی کریم ﷺ سے کہا کہ (ان کے شوہر) ابوسفیان بخیل ہیں اور مجھے ان کے مال میں سے لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دستور کے مطابق اتنا لے لیا کرو جو تمہارے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو۔
Narrated Aisha (RA) :
Hind (bint Utba) said to the Prophet ﷺ " Abu Sufyan (RA) is a miserly man and I need to take some money of his wealth." The Prophet ﷺ said, "Take reasonably what is sufficient for you and your children "
جس شخص کے لئے اس کے بھائی کے حق میں سے جو فیصلہ کیا جائے تو وہ اس کو نہ لے اس لئے کہ حاکم کا فیصلہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہیں کرتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَال: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُسَمِعَ خُصُومَةً بِبَابِ حُجْرَتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ، فَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ، فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ فَأَقْضِي لَهُ بِذَلِكَ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ، فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا، أَوْ لِيَتْرُكْهَا.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے خبر دی اور انہیں نبی کریم ﷺ کی زوجہ ام سلمہ (رض) نے خبر دی۔ آپ نے اپنے حجرہ کے دروازے پر جھگڑے کی آواز سنی تو باہر ان کی طرف نکلے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں بھی ایک انسان ہوں اور میرے پاس لوگ مقدمے لے کر آتے ہیں۔ ممکن ہے ان میں سے ایک فریق دوسرے فریق سے بولنے میں زیادہ عمدہ ہو اور میں یقین کرلوں کی وہی سچا ہے اور اس طرح اس کے موافق فیصلہ کر دوں۔ پس جس شخص کے لیے بھی میں کسی مسلمان کا حق دلا دوں تو وہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے وہ چاہے اسے لے یا چھوڑ دے، میں اس کو درحقیقت دوزخ کا ایک ٹکڑا دلا رہا ہوں۔
Narrated Um Salama (RA) :
(the wife of the Prophet) Allahs Apostle ﷺ heard some people quarreling at the door of his dwelling, so he went out to them and said, "I am only a human being, and litigants with cases of dispute come to me, and someone of you may happen to be more eloquent (in presenting his case) than the other, whereby I may consider that he is truthful and pass a judgment in his favor. If ever I pass a judgment in favor of somebody whereby he takes a Muslims right unjustly, then whatever he takes is nothing but a piece of Fire, and it is up to him to take or leave."
جس شخص کے لئے اس کے بھائی کے حق میں سے جو فیصلہ کیا جائے تو وہ اس کو نہ لے اس لئے کہ حاکم کا فیصلہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہیں کرتا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ ابْنُ أَخِي: قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَتَسَاوَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: احْتَجِبِي مِنْهُ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص (رض) کو یہ وصیت کی تھی کہ زمعہ کی لونڈی (کا لڑکا) میرا ہے۔ تم اسے اپنی پرورش میں لے لینا۔ چناچہ فتح مکہ کے دن سعد (رض) نے اسے لے لیا اور کہا کہ یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور مجھے اس کے بارے میں انہوں نے وصیت کی تھی، پھر عبد بن زمعہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ میرا بھائی، میرے والد کی لونڈی کا لڑکا ہے اور انہیں کے فراش پر پیدا ہوا۔ چناچہ یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے۔ سعد (رض) نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میرے بھائی کا لڑکا ہے، انہوں نے مجھے اس کی وصیت کی تھی اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ میرا بھائی ہے، میرے والد کی لونڈی کا لڑکا ہے اور انہیں کے فراش پر پیدا ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ عبد بن زمعہ ! یہ تمہارا ہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ بچہ فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے۔ پھر آپ نے سودہ بنت زمعہ (رض) سے کہا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کرو کیونکہ آپ ﷺ نے لڑکے کی عتبہ سے مشابہت دیکھ لی تھی۔ چناچہ اس نے سودہ (رض) کو موت تک نہیں دیکھا۔
Narrated Aisha (RA) :
(the wife of the Prophet) Utba bin Abi Waqqas said to his brother Sad bin Abi Waqqas (RA), "The son of the slave girl of Zama is from me, so take him into your custody." So in the year of Conquest of Makkah, Sad took him and said. (This is) my brothers son whom my brother has asked me to take into my custody." Abd bin Zama got up before him and said, (He is) my brother and the son of the slave girl of my father, and was born on my fathers bed." So they both submitted their case before Allahs Apostle. Sad said, "O Allahs Apostle ﷺ ! This boy is the son of my brother and he entrusted him to me." Abd bin Zama said, "This boy is my brother and the son of the slave girl of my father, and was born on the bed of my father." Allahs Apostle ﷺ said, "The boy is for you, O Abd bin Zama!" Then Allahs Apostle ﷺ further said, "The child is for the owner of the bed, and the stone is for the adulterer," He then said to Sauda bint Zama, "Veil (screen) yourself before him," when he saw the childs resemblance to Utba. The boy did not see her again till he met Allah.
کنوئیں وغیرہ کے متعلق فیصلہ کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَعَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحْلِفُ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77.
فَجَاءَ الْأَشْعَثُ، وَعَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُهُمْ، فَقَالَ: فِيَّ نَزَلَتْ وَفِي رَجُلٍ خَاصَمْتُهُ فِي بِئْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ، قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَلْيَحْلِفْ، قُلْتُ: إِذًا يَحْلِفُ، فَنَزَلَتْ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 77.
ہم سے اسحاق بن نفر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی ، ، انہیں منصور اور اعمش نے، ان سے ابو وائل نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ایسی قسم کھائے جو جھوٹی ہو جس کے ذریعہ وہ کسی دوسرے کا مال مار لے تو اللہ سے وہ اس حال میں ملے کا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (اس کی تصدیق میں) نازل فرمائی إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا بلاشبہ جو لوگ اللہ کے عہد اور اس کی قسموں کو تھوڑی پونجی کے بدلے خریدتے ہیں الآية.۔
اتنے میں اشعث (رض) بھی آگئے۔ ابھی عبداللہ بن مسعود (رض) ان سے حدیث بیان کر ہی رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرے ہی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی اور ایک شخص کے بارے میں میرا ان سے کنویں کے بارے میں جھگڑا ہوا تو نبی کریم ﷺ نے (مجھ سے) کہا کہ تمہارے پاس کوئی گواہی ہے ؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر فریق مقابل کی قسم پر فیصلہ ہوگا۔ میں نے کہا کہ پھر تو یہ (جھوٹی) قسم کھالے گا۔ چناچہ آیت إن الذين يشترون بعهد الله بلاشبہ جو لوگ اللہ کے عہد کو الخ نازل ہوئی۔
Narrated Abdullah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "If somebody on the demand of a judge takes an oath to grab (a Muslims) property and he is liar in it, he will meet Allah Who will be angry with him". So Allah revealed,:--
Verily! those who purchase a small gain at the cost of Allahs Covenant and their oaths.. (3.77) Al-Ashath came while Abdullah was narrating (this) to the people. Al-Ashath said, "This verse was revealed regarding me and another man with whom I had a quarrel about a well. The Prophet ﷺ said (to me), "Do you have any evidence? I replied, No. He said, Let your opponent take an oath. I said: I am sure he would take a (false) oath." Thereupon it was revealed: Verily! those who purchase a small gain at the cost of Allahs Covenant.... (3.77) (See Hadith No. 72, Vol 6).
تھوڑے اور زیادہ مال میں فیصلہ کرنے کا بیان اور ابن عیینہ نے ابن شبرمہ سے نقل کیا ہے کہ تھوڑے اور زیادہ مال میں فیصلہ کرنا برابر ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، أَخْبَرَتْهُ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَبَةَ خِصَامٍ عِنْدَ بَابِهِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ، فَلَعَلَّ بَعْضًا أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ أَقْضِي لَهُ بِذَلِكَ وَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا، أَوْ لِيَدَعْهَا.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ (رض) نے خبر دی، ان سے ان کی والدہ ام سلمہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دروازے پر جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی اور ان کی طرف نکلے۔ پھر ان سے فرمایا کہ میں تمہارے ہی جیسا انسان ہوں، میرے پاس لوگ مقدمہ لے کر آتے ہیں، ممکن ہے ایک فریق دوسرے سے زیادہ عمدہ بولنے والا ہو اور میں اس کے لیے اس حق کا فیصلہ کر دوں اور یہ سمجھوں کہ میں نے فیصلہ صحیح کیا ہے (حالانکہ وہ صحیح نہ ہو) تو جس کے لیے میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں تو بلاشبہ یہ فیصلہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے۔
Narrated Um Salama (RA) :
The Prophet ﷺ heard the voices of some people quarreling near his gate, so he went to them and said, "I am only a human being and litigants with cases of disputes come to me, and maybe one of them presents his case eloquently in a more convincing and impressive way than the other, and I give my verdict in his favor thinking he is truthful. So if I give a Muslims right to another (by mistake), then that (property) is a piece of Fire, which is up to him to take it or leave it." (See Hadith No. 281 )