Sahih Bukhariصحيح البخاری

All 7,282 hadiths in order · Page 319 of 365

6789Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُقْطَعُ الْيَدُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ، فَصَاعِدًا، تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، وَمَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عمرہ نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ پر ہاتھ کاٹ لیا جائے گا۔ اس روایت کی متابعت عبدالرحمٰن بن خالد زہری کے بھتیجے اور معمر نے زہری کے واسطہ سے کی۔

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ said, "The hand should be cut off for stealing something that is worth a quarter of a Dinar or more."

6790Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةَ ، عَنْعَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے، ان سے عمرہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا چور کا ہاتھ ایک چوتھائی دینار پر کاٹ لیا جائے گا۔

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ said, "The hand of a thief should be cut off for stealing a quarter of a Dinar."

6791Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْها، حَدَّثّتْهُم عن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تُقْطَعُ الْيَدُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ.

ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حسین نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن انصاری نے بیان کیا، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا چوتھائی دینار پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ said, "The hand should be cut off for stealing a quarter of a Dinar."

6792Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : مِثْلَهُ.

ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عائشہ (رض) نے اسی طرح (بیان کیا) ۔

Narrated Aisha (RA) : as above (783).

6793Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمْ تَكُنْ تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي أَدْنَى مِنْ حَجَفَةٍ، أَوْ تُرْسٍ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ذُو ثَمَنٍ، رَوَاهُ وَكِيعٌ ، وَابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِمُرْسَلًا.

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ چور کا ہاتھ لکڑی کے چمڑے کی ڈھال یا عام ڈھال کی قیمت سے کم پر نہیں کاٹا جاتا تھا۔ یہ دونوں ڈھال قیمت سے ملتی تھیں۔ اس کی روایت وکیع اور ابن ادریس نے ہشام کے واسطے سے کی، ان سے ان کے والد نے مرسلاً روایت کیا۔

Narrated Aisha (RA) : A thiefs hand was not cut off for stealing something cheaper than a Hajafa or a Turs (two kinds of shields), each of which was worth a (respectable) price.

6794Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنَا، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمْ تُقْطَعْ يَدُ سَارِقٍ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي أَدْنَى مِنْ ثَمَنِ الْمِجَنِّ تُرْسٍ، أَوْ حَجَفَةٍ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ذَا ثَمَنٍ.

مجھ سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہشام بن عروہ نے، ہم کو ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے خبر دی، انہوں نے عائشہ (رض) سے، انہوں نے بیان کیا نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم پر نہیں کاٹا جاتا تھا۔ لکڑی کے چمڑے کی ڈھال ہو یا عام ڈھال، یہ دونوں چیزیں قیمت والی تھیں۔

Narrated Aisha (RA) : A thiefs hand was not cut off for stealing something worth less than the price of a shield, whether a Turs or Hajafa (two kinds of shields), each of which was worth a (respectable) price.

6795Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ، تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَقَالَ اللَّيْثُحَدَّثَنِي نَافِعٌ ، قِيمَتُهُ.

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر (رض) کے آزاد کردہ غلام نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔

Narrated Ibn Umar (RA) : Allahs Apostle ﷺ cut off the hand of a thief for stealing a shield that was worth three Dirhams.

6796Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ cut off the hand of a thief for stealing a shield that was worth three Dirhams.

6797Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ (رض) نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ڈھال پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA) : The Prophet ﷺ cut off the hand of a thief for stealing a shield that was worth three Dirhams.

6798Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَدَ سَارِقٍ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ، تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَقَالَاللَّيْثُ حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، قِيمَتُهُ.

مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک چور کا ہاتھ ایک ڈھال پر کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی، اس روایت کی متابعت محمد بن اسحاق نے کی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے ( ثمنه کے بجائے) لفظ قيمته کہا۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA) : The Prophet ﷺ cutoff the hand of a thief for stealing a shield that was worth three Dirhams.

6799Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ، يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ، وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوصالح سے سنا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے چور پر لعنت کی ہے کہ ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے ، ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allah s Apostle ﷺ said, "Allah curses the thief who steals an egg (or a helmet) for which his hand is to be cut off, or steals a rope, for which his hand is to be cut off."

6800Sahih Bukhariصحیح

چور کی توبہ کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَطَعَ يَدَ امْرَأَةٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَتْ تَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَابَتْ وَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا.

ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک عورت کا ہاتھ کٹوایا۔ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ وہ عورت بعد میں بھی آتی تھی اور میں اس کی ضرورتیں نبی کریم ﷺ کے سامنے رکھتی تھی ، اس عورت نے توبہ کرلی تھی اور حسن توبہ کا ثبوت دیا تھا۔

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ cut off the hand of a lady, and that lady used to come to me, and I used to convey her message to the Prophet ﷺ and she repented, and her repentance was sincere.

6801Sahih Bukhariصحیح

چور کی توبہ کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ، فَقَالَ: أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَأُخِذَ بِهِ فِي الدُّنْيَا، فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَطَهُورٌ، وَمَنْ سَتَرَهُ اللَّهُ، فَذَلِكَ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: إِذَا تَابَ السَّارِقُ بَعْدَ مَا قُطِعَ يَدُهُ، قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ، وَكُلُّ مَحْدُودٍ كَذَلِكَ، إِذَا تَابَ قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ.

ہم سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوادریس نے اور ان سے عبادہ بن صامت (رض) نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک جماعت کے ساتھ بیعت کی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ میں تم سے عہد لیتا ہوں کہ تم اللہ کا کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، تم چوری نہیں کرو گے، اپنی اولاد کی جان نہیں لو گے، اپنے دل سے گھڑ کر کسی پر تہمت نہیں لگاؤ گے اور نیک کاموں میں میری نافرمانی نہ کرو گے۔ پس تم میں سے جو کوئی وعدے پورا کرے گا اس کا ثواب اللہ کے اوپر لازم ہے اور جو کوئی ان میں سے کچھ غلطی کر گزرے گا اور دنیا میں ہی اسے اس کی سزا مل جائے گی تو یہ اس کا کفارہ ہوگی اور اسے پاک کرنے والی ہوگی اور جس کی غلطی کو اللہ چھپالے گا تو اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے، چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اس کی مغفرت کر دے۔ ابوعبداللہ امام بخاری (رح) نے کہا کہ ہاتھ کٹنے کے بعد اگر چور نے توبہ کرلی تو اس کی گواہی قبول ہوگی۔ یہی حال ہر اس شخص کا ہے جس پر حد جاری کی گئی ہو کہ اگر وہ توبہ کرلے گا تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔

Narrated Ubadah bin As-Samit (RA): I gave the pledge of allegiance to the Prophet ﷺ with a group of people, and he said, "I take your pledge that you will not worship anything besides Allah, will not steal, will not commit infanticide, will not slander others by forging false statements and spreading it, and will not disobey me in anything good. And whoever among you fulfill all these (obligations of the pledge), his reward is with Allah. And whoever commits any of the above crimes and receives his legal punishment in this world, that will be his expiation and purification. But if Allah screens his sin, it will be up to Allah, Who will either punish or forgive him according to His wish." Abu Abdullah said: "If a thief repents after his hand has been cut off, the his witness well be accepted. Similarly, if any person upon whom any legal punishment has been inflicted, repents, his witness will be accepted."

6802Sahih Bukhariصحیح

جنگ کرنے والے کافر اور مرتد کا بیان ۔ اللہ تعالیٰ کا قول کہ اس کے سوا کوئی بات نہیں کہ ان لوگوں کی سزا جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں یہ ہے کہ وہ قتل کیے جائیں یا سولی دیے جائیں یاان کے ہاتھ پاؤں خلاف سے کاٹے جائیں یا جلاوطن کیے جائیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ، فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَفَعَلُوا، فَصَحُّوا، فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، ثُمَّ لَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ جرمی نے بیان کیا، ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس قبیلہ عکل کے چند لوگ آئے اور اسلام قبول کیا لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی (ان کے پیٹ پھول گئے) تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ صدقہ کے اونٹوں کے ریوڑ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ ملا کر پئیں۔ انہوں نے اس کے مطابق عمل کیا اور تندرست ہوگئے لیکن اس کے بعد وہ مرتد ہوگئے اور ان اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹ ہنکا لے گئے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے اور انہیں پکڑ کے لایا گیا پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں (کیونکہ انہوں نے اسلامی چرواہے کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کیا تھا) اور ان کے زخموں پر داغ نہیں لگوایا گیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔

Narrated Anas (RA) : Some people from the tribe of Ukl came to the Prophet ﷺ and embraced Islam. The climate of Madinah did not suit them, so the Prophet ﷺ ordered them to go to the (herd of milch) camels of charity and to drink, their milk and urine (as a medicine). They did so, and after they had recovered from their ailment (became healthy) they turned renegades (reverted from Islam) and killed the shepherd of the camels and took the camels away. The Prophet ﷺ sent (some people) in their pursuit and so they were (caught and) brought, and the Prophets ordered that their hands and legs should be cut off and that their eyes should be branded with heated pieces of iron, and that their cut hands and legs should not be cauterized, till they die.

6803Sahih Bukhariصحیح

نبی ﷺ نے مرتد جنگ کرنے والے کے داغ نہیں لگوائے یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوگئے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَطَعَ الْعُرَنِيِّينَ، وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا.

ہم سے ابویعلیٰ محمد بن صلت نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے عرینیوں کے (ہاتھ پاؤں) کٹوا دئیے لیکن ان پر داغ نہیں لگوایا، یہاں تک کہ وہ مرگئے۔

Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ cut off the hands and feet of the men belonging to the tribe of Uraina and did not cauterise (their bleeding limbs) till they died.

6804Sahih Bukhariصحیح

اس چیز کا بیان کہ آپ نے مرتد محاربین کو پانی نہیں پلایا یہاں تک کہ وہ لوگ مرگئے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ وُهَيْبٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ رَهْطٌ مِنْ عُكْلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا فِي الصُّفَّةِ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْغِنَا رِسْلًا، فَقَالَ: مَا أَجِدُ لَكُمْ إِلَّا أَنْ تَلْحَقُوا بِإِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ، فَأَتَوْهَا فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، حَتَّى صَحُّوا وَسَمِنُوا، وَقَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّرِيخُ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ، فَمَا تَرَجَّلَ النَّهَارُ حَتَّى أُتِيَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ، فَكَحَلَهُمْ وَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ وَمَا حَسَمَهُمْ، ثُمَّ أُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ، فَمَا سُقُوا حَتَّى مَاتُواقَالَ أَبُو قِلَابَةَ: سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس سنہ ٦ ھ میں آئے اور یہ لوگ مسجد کے سائبان میں ٹھہرے۔ مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی۔ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہمارے لیے دودھ کہیں سے مہیا کرا دیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو میرے پاس نہیں ہے۔ البتہ تم لوگ ہمارے اونٹوں میں چلے جاؤ۔ چناچہ وہ آئے اور ان کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو کر موٹے تازے ہوگئے۔ پھر انہوں نے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہنکا لے گئے۔ اتنے میں نبی کریم ﷺ کے پاس فریادی پہنچا اور نبی کریم ﷺ نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے۔ ابھی دھوپ زیادہ پھیلی بھی نہیں تھی کہ انہیں پکڑ کر لایا گیا پھر نبی کریم ﷺ کے حکم سے سلائیاں گرم کی گئیں اور ان کی آنکھوں میں پھیر دی گئیں اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کے (زخم سے خون کو روکنے کے لیے) انہیں داغا بھی نہیں گیا۔ اس کے بعد وہ حرہ (مدینہ کی پتھریلی زمین) میں ڈال دئیے گئے، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ مرگئے۔ ابوقلابہ نے کہا کہ یہ اس وجہ سے کیا گیا تھا کہ انہوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول سے غدارانہ لڑائی لڑی تھی۔

Narrated Anas (RA) : A group of people from Ukl (tribe) came to the Prophet ﷺ and they were living with the people of As-Suffa, but they became ill as the climate of Madinah did not suit them, so they said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Provide us with milk." The Prophet ﷺ said, I see no other way for you than to use the camels of Allahs Apostle." So they went and drank the milk and urine of the camels, (as medicine) and became healthy and fat. Then they killed the shepherd and took the camels away. When a help-seeker came to Allahs Apostle, he sent some men in their pursuit, and they were captured and brought before mid day. The Prophet ﷺ ordered for some iron pieces to be made red hot, and their eyes were branded with them and their hands and feet were cut off and were not cauterized. Then they were put at a place called Al-Harra, and when they asked for water to drink they were not given till they died. (Abu Qilaba said, "Those people committed theft and murder and fought against Allah and His Apostle.")

6805Sahih Bukhariصحیح

نبی ﷺ کا جنگ کرنے والوں کی آنکھیں پھڑوانے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ أَوْ قَالَ عُرَيْنَةَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ مِنْ عُكْلٍ، قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَشَرِبُوا حَتَّى إِذَا بَرِئُوا، قَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي إِثْرِهِمْ، فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، فَأُلْقُوا بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَقَالَ أَبُو قِلَابَةَ: هَؤُلَاءِ قَوْمٌ سَرَقُوا وَقَتَلُوا، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ، وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ قبیلہ عکل یا عرینہ کے چند لوگ میں سمجھتا ہوں عکل کا لفظ کہا، مدینہ آئے اور نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے دودھ دینے والی اونٹنیوں کا انتظام کردیا اور فرمایا کہ وہ اونٹوں کے گلہ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔ چناچہ انہوں نے پیا اور جب وہ تندرست ہوگئے تو چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہنکا لے گئے۔ نبی کریم ﷺ کے پاس یہ خبر صبح کے وقت پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے سوار دوڑائے۔ ابھی دھوپ زیادہ پھیلی بھی نہیں تھی کہ وہ پکڑ کر لائے گئے۔ چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کے بھی ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی بھی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی اور انہیں حرہ میں ڈال دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ ابوقلابہ نے کہا کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان کے بعد کفر اختیار کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول سے غدارانہ لڑائی لڑی تھی۔

Narrated Anas bin Malik (RA): A group of people from Ukl (or Uraina) tribe ----but I think he said that they were from Ukl came to Madinah and (they became ill, so) the Prophet ﷺ ordered them to go to the herd of (Milch) she-camels and told them to go out and drink the camels urine and milk (as a medicine). So they went and drank it, and when they became healthy, they killed the shepherd and drove away the camels. This news reached the Prophet ﷺ early in the morning, so he sent (some) men in their pursuit and they were captured and brought to the Prophet ﷺ before midday. He ordered to cut off their hands and legs and their eyes to be branded with heated iron pieces and they were thrown at Al-Harra, and when they asked for water to drink, they were not given water. (Abu Qilaba said, "Those were the people who committed theft and murder and reverted to disbelief after being believers (Muslims), and fought against Allah and His Apostle").

6806Sahih Bukhariصحیح

اس شخص کی فضیلت کا بیان جس نے فواحش کو چھوڑ دیا ہو۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلِّهِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ فِي خَلَاءٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا، قَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ، فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ.

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عمر عمری نے، انہیں خبیب بن عبدالرحمٰن نے، انہیں حفص بن عاصم نے اور انہیں ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا جبکہ اس کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ عادل حاکم، نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی پائی، ایسا شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، وہ آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، وہ شخص جسے کسی بلند مرتبہ اور خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا اور اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے اتنا پوشیدہ صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ دائیں نے کتنا اور کیا صدقہ کیا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "Seven (people) will be shaded by Allah by His Shade on the Day of Resurrection when there will be no shade except His Shade. (They will be), a just ruler, a young man who has been brought up in the worship of Allah, a man who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears, a man whose heart is attached to mosques (offers his compulsory congregational prayers in the mosque), two men who love each other for Allahs Sake, a man who is called by a charming lady of noble birth to commit illegal sexual intercourse with her, and he says, I am afraid of Allah, and (finally), a man who gives in charity so secretly that his left hand does not know what his right hand has given."

6807Sahih Bukhariصحیح

اس شخص کی فضیلت کا بیان جس نے فواحش کو چھوڑ دیا ہو۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ . ح وحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَكَّلَ لِي مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ، وَمَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ، تَوَكَّلْتُ لَهُ بِالْجَنَّةِ.

ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا۔ (دوسری سند امام بخاری (رح) نے کہا) اور مجھ سے خلیفہ بن حیاط نے بیان کیا، ان سے عمر بن علی نے، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مجھے اپنے دونوں پاؤں کے درمیان یعنی (شرمگاہ) کی اور اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان (یعنی زبان) کی ضمانت دے دی تو میں اسے جنت میں جانے کا بھروسہ دلاتا ہوں۔

Narrated Sahl bin Sad (RA) : The Prophet ﷺ said, "Whoever guarantees me (the chastity of) what is between his legs (i.e. his private parts), and what is between his jaws (i.e., his tongue), I guarantee him Paradise."

6808Sahih Bukhariصحیح

زنا کرنے والوں کے گناہ کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ وہ لوگ زنا نہیں کرتے ہیں اور زنا کے قریب نہ جاؤ اس لئے وہ فحش اور برا راستہ ہے۔

أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَخْبَرَنَا أَنَسٌ ، قَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لَا يُحَدِّثُكُمُوهُ أَحَدٌ بَعْدِي، سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ وَإِمَّا قَالَ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ، حَتَّى يَكُونَ لِلْخَمْسِينَ امْرَأَةً، الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ.

ہمیں داؤد بن شبیب نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، کہا ہم کو انس (رض) نے خبر دی ہے کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کروں گا کہ میرے بعد کوئی اسے نہیں بیان کرے گا۔ میں نے یہ حدیث نبی کریم ﷺ سے سنی ہے۔ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ کہتے سنا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یا یوں فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم دین دنیا سے اٹھ جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی، شراب بکثرت پی جانے لگے گی اور زنا پھیل جائے گا۔ مرد کم ہوجائیں گے اور عورتوں کی کثرت ہوگی۔ حالت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ پچاس عورتوں پر ایک ہی خبر لینے والا مرد رہ جائے گا۔

Narrated Anas (RA): I will narrate to you a narration which nobody will narrate to you after me. I heard that from the Prophet ﷺ. I heard the Prophet ﷺ saying, "The Hour will not be established" or said: "From among the portents of the Hour is that the religious knowledge will be taken away (by the death of religious Scholars) and general ignorance (of religion) will appear; and the drinking of alcoholic drinks will be very common, and (open) illegal sexual intercourse will prevail, and men will decrease in number while women will increase so much so that, for fifty women there will only be one man to look after them" .