جب کوئی شخص بھول کر قسم کے خلاف کرے۔ اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں جو بھول کر کرو اور میرا اس پر مواخذہ نہ کرو جو میں بھول گیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: لَا حَرَجَ، قَالَ آخَرُ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ: لَا حَرَجَ، قَالَ آخَرُ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: لَا حَرَجَ.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے نبی کریم ﷺ سے کہا، میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف زیارت کرلیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ تیسرے نے کہا کہ میں نے رمی کرنے سے پہلے ہی ذبح کرلیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
A man said to the Prophet ﷺ (while he was delivering a sermon on the Day of Nahr), "I have performed the Tawaf round the Ka’bah before the Rami (throwing pebbles) at the Jamra." The Prophet ﷺ said, "There is no harm (therein)." Another man said, "I had my head shaved before slaughtering (the sacrifice)." The Prophet ﷺ said, "There is no harm." A third said, "I have slaughtered (the sacrifice) before the Rami (throwing pebbles) at the Jamra." The Prophet ﷺ said, "There is no harm."
جب کوئی شخص بھول کر قسم کے خلاف کرے۔ اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں جو بھول کر کرو اور میرا اس پر مواخذہ نہ کرو جو میں بھول گیا۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، فَرَجَعَ فَصَلَّى ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَالَ: وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: فَأَعْلِمْنِي، قَالَ: إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، فَكَبِّرْ وَاقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ ایک صحابی مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کے لیے آئے۔ نبی کریم ﷺ مسجد کے ایک کنارے تشریف رکھتے تھے۔ پھر وہ صحابی آئے اور سلام کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جا پھر نماز پڑھ، اس لیے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گئے اور پھر نماز پڑھ کر آئے اور سلام کیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس مرتبہ بھی ان سے یہی فرمایا کہ واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ آخر تیسری مرتبہ میں وہ صحابی بولے کہ پھر مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوا کرو تو پہلے پوری طرح وضو کرلیا کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر کہو اور جو کچھ قرآن مجید میں تمہیں یاد ہے اور تم آسانی کے ساتھ پڑھ سکتے ہو اسے پڑھا کرو، پھر رکوع کرو اور سکون کے ساتھ رکوع کر چکو تو اپنا سر اٹھاؤ اور جب سیدھے کھڑے ہوجاؤ تو سجدہ کرو، جب سجدے کی حالت میں اچھی طرح ہوجاؤ تو سجدہ سے سر اٹھاؤ، یہاں تک کہ سیدھے ہوجاؤ اور اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو اور جب اطمینان سے سجدہ کرلو تو سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہوجاؤ، یہ عمل تم اپنی پوری نماز میں کرو۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
A man entered the mosque and started praying while Allahs Apostle ﷺ was sitting somewhere in the mosque. Then (after finishing the prayer) the man came to the Prophet ﷺ and greeted him. The Prophet ﷺ said to him, "Go back and pray, for you have not prayed. The man went back, and having prayed, he came and greeted the Prophet. The Prophet ﷺ after returning his greetings said, "Go back and pray, for you did not pray." On the third time the man said, "(O Allahs Apostle! ﷺ ) teach me (how to pray)." The Prophet ﷺ said, "When you get up for the prayer, perform the ablution properly and then face the Qibla and say Takbir (Allahu Akbar), and then recite of what you know of the Quran, and then bow, and remain in this state till you feel at rest in bowing, and then raise your head and stand straight; and then prostrate till you feel at rest in prostration, and then sit up till you feel at rest while sitting; and then prostrate again till you feel at rest in prostration; and then get up and stand straight, and do all this in all your prayers."
جب کوئی شخص بھول کر قسم کے خلاف کرے۔ اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں جو بھول کر کرو اور میرا اس پر مواخذہ نہ کرو جو میں بھول گیا۔
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ هَزِيمَةً تُعْرَفُ فِيهِمْ، فَصَرَخَ إِبْلِيسُ: أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: أَبِي أَبِي، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا انْحَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ، قَالَ عُرْوَةُ: فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهَا بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ.
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ جب احد کی لڑائی میں مشرک شکست کھا گئے اور اپنی شکست ان میں مشہور ہوگئی تو ابلیس نے چیخ کر کہا (مسلمانوں سے) کہ اے للہ کے بندو ! پیچھے دشمن ہے چناچہ آگے کے لوگ پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والے (مسلمانوں ہی سے) لڑ پڑے۔ اس حالت میں حذیفہ بن الیمان (رض) نے دیکھا کہ لوگ ان کے مسلمان والد کو بیخبر ی میں مار رہے ہیں تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ یہ تو میرے والد ہیں جو مسلمان ہیں، میرے والد ! عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم لوگ پھر بھی باز نہیں آئے اور آخر انہیں قتل کر ہی ڈالا۔ حذیفہ (رض) نے کہا، اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ نے بیان کیا کہ حذیفہ (رض) کو اپنے والد کی اس طرح شہادت کا آخر وقت تک رنج اور افسوس ہی رہا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔
Narrated Aisha (RA) :
When the pagans were defeated during the (first stage) of the battle of Uhud, Satan shouted, "O Allahs slaves! Beware of what is behind you!" So the front files of the Muslims attacked their own back files. Hudhaifa bin Al-Yaman looked and on seeing his father he shouted: "My father! My father!" By Allah! The people did not stop till they killed his father. Hudhaifa then said, "May Allah forgive you." Urwa (the sub-narrator) added, "Hudhaifa continued asking Allah forgiveness for the killers of his father till he met Allah (till he died)."
جب کوئی شخص بھول کر قسم کے خلاف کرے۔ اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں جو بھول کر کرو اور میرا اس پر مواخذہ نہ کرو جو میں بھول گیا۔
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، وَمُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ.
مجھ سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عوف اعرابی نے بیان کیا، ان سے خلاص بن عمرو اور محمد بن سیرین نے کہا کہ ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے روزہ رکھا ہو اور بھول کر کھالیا ہو تو اسے اپنا روزہ پورا کرلینا چاہیے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "If somebody eats something forgetfully while he is fasting, then he should complete his fast, for Allah has made him eat and drink."
جب کوئی شخص بھول کر قسم کے خلاف کرے۔ اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں جو بھول کر کرو اور میرا اس پر مواخذہ نہ کرو جو میں بھول گیا۔
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ، فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، انْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ، فَكَبَّرَ وَسَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَسَلَّمَ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے عبداللہ بن بجینہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعات کے بعد بیٹھنے سے پہلے ہی اٹھ گئے اور نماز پوری کرلی۔ جب نماز پڑھ چکے تو لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے سلام کا انتظار کیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ کیا، پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور دوبارہ تکبیر کہہ کر سجدہ کیا۔ پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور سلام پھیرا۔
Narrated Abdullah bin Buhaina (RA) :
Once Allahs Apostle ﷺ led us in prayer, and after finishing the first two Rakat, got up (instead of sitting for At-Tahiyyat) and then carried on with the prayer. When he had finished his prayer, the people were waiting for him to say Taslim, but before saying Tasiim, he said Takbir and prostrated; then he raised his head, and saying Takbir, he prostrated (SAHU) and then raised his head and finished his prayer with Taslim.
جب کوئی شخص بھول کر قسم کے خلاف کرے۔ اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں جو بھول کر کرو اور میرا اس پر مواخذہ نہ کرو جو میں بھول گیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعَ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ، فَزَادَ أَوْ نَقَصَ مِنْهَا، قَالَ مَنْصُورٌ: لَا أَدْرِي إِبْرَاهِيمُ، وَهِمَ أَمْ، عَلْقَمَةُ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ، قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ لَا يَدْرِي زَادَ فِي صَلَاتِهِ أَمْ نَقَصَ، فَيَتَحَرَّى الصَّوَابَ: فَيُتِمُّ مَا بَقِيَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ.
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے عبدالعزیز بن عبدالصمد سے سنا، کہا ہم سے منصور بن معتمر نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے ابن مسعود (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی اور نماز میں کوئی چیز زیادہ یا کم کردی۔ منصور نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں ابراہیم کو شبہ ہوا تھا یا علقمہ کو۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ ! نماز میں کچھ کمی کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا، کیا بات ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس اس طرح نماز پڑھائی ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ نے ان کے ساتھ دو سجدے (سہو کے) کئے اور فرمایا یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں جسے یقین نہ ہو کہ اس نے اپنی نماز میں کمی یا زیادہ کردی ہے اسے چاہیے کہ صحیح بات تک پہنچنے کے لیے ذہن پر زور ڈالے اور جو باقی رہ گیا ہو اسے پورا کرے پھر دو سجدے (سہو کے) کرلے۔
Narrated Ibn Masud (RA) :
that Allahs Prophet ﷺ led them in the Zuhr prayer and he offered either more or less Rakat, and it was said to him, "O Allahs Apostle ﷺ ! Has the prayer been reduced, or have you forgotten?" He asked, "What is that?" They said, "You have prayed so many Rakat." So he performed with them two more prostrations and said, "These two prostrations are to be performed by the person who does not know whether he has prayed more or less (Rakat) in which case he should seek to follow what is right. And then complete the rest (of the prayer) and perform two extra prostrations."
جب کوئی شخص بھول کر قسم کے خلاف کرے۔ اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں جو بھول کر کرو اور میرا اس پر مواخذہ نہ کرو جو میں بھول گیا۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا سورة الكهف آية 73، قَالَ: كَانَتِ الْأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا.
ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا مجھ کو سعید بن جبیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن عباس (رض) سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابی بن کعب (رض) نے بیان کیا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آیت لا تؤاخذني بما نسيت ولا ترهقني من أمري عسرا کے متعلق کہ پہلی مرتبہ اعتراض موسیٰ (علیہ السلام) سے بھول کر ہوا تھا۔
Narrated Ubai bin Kab (RA) (RA) :
that he heard Allahs Apostle ﷺ saying, "( Moses (علیہ السلام)) said, Call me not to account for what I forget and be not hard upon me for my affair (with you) (18.73) the first excuse of Moses (علیہ السلام) was his forgetfulness."
Narrated Al-Bara bin Azib (RA) that once he had a guest, so he told his family (on the Day of Id-ul-Adha) that they should slaughter the animal for sacrifice before he returned from the (Id) prayer in order that their guest could take his meal. So his family slaughtered (the animal) before the prayer. Then they mentioned that event to the Prophet ﷺ who ordered Al-Bara to slaughter another sacrifice. Al-Bara said to the Prophet ﷺ , "I have a young milch she-goat which is better than two sheep for slaughtering." (The sub-narrator, Ibn Aun used to say, "I dont know whether the permission (to slaughter a she-goat as a sacrifice) was especially given to Al-Bara or if it was in general for all the Muslims.") (See Hadith No. 99, Vol. 2.)
جب کوئی شخص بھول کر قسم کے خلاف کرے۔ اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں جو بھول کر کرو اور میرا اس پر مواخذہ نہ کرو جو میں بھول گیا۔
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: كَتَبَ إِلَيَّ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ : وَكَانَ عِنْدَهُمْ ضَيْفٌ لَهُمْ، فَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يَذْبَحُوا قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ، لِيَأْكُلَ ضَيْفُهُمْ، فَذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الذَّبْحَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي عَنَاقٌ جَذَعٌ عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَكَانَ ابْنُ عَوْنٍ يَقِفُ فِي هَذَا الْمَكَانِ، عَنْ حَدِيثِ الشَّعْبِيِّ، وَيُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَبِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَيَقِفُ فِي هَذَا الْمَكَانِ وَيَقُولُ: لَا أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ غَيْرَهُ، أَمْ لَا، رَوَاهُ أَيُّوبُ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوعبداللہ (امام بخاری (رح)) نے کہا کہ محمد بن بشار نے مجھے لکھا کہ ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے شعبی نے بیان کیا، کہ براء بن عازب (رض) نے بیان کیا، ان کے یہاں کچھ ان کے مہمان ٹھہرے ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ان کے واپس آنے سے پہلے جانور ذبح کرلیں تاکہ ان کے مہمان کھائیں، چناچہ انہوں نے نماز عید الاضحی سے پہلے جانور ذبح کرلیا۔ پھر نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ نماز کے بعد دوبارہ ذبح کریں۔ براء (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک سال سے زیادہ دودھ والی بکری ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بڑھ کر ہے۔ ابن عوف شعبی کی حدیث کے اس مقام پر ٹھہر جاتے تھے اور محمد بن سیرین سے اسی حدیث کی طرح حدیث بیان کرتے تھے اور اس مقام پر رک کر کہتے تھے کہ مجھے معلوم نہیں، یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے یا صرف براء (رض) کے لیے ہی تھی۔ اس کی روایت ایوب نے ابن سیرین سے کی ہے، ان سے انس (رض) نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) that he heard the Prophet ﷺ saying, "Allah decided to test three people from Bani Israil. So, He sent an angel who came first to the leper and said, (I am a traveller) who has run short of all means of living, and I have nobody to help me except Allah, and then with your help." Abu Hurairah (RA) then mentioned the complete narration.
جب کوئی شخص بھول کر قسم کے خلاف کرے۔ اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں جو بھول کر کرو اور میرا اس پر مواخذہ نہ کرو جو میں بھول گیا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدَبًا ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ عِيدٍ، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ ذَبَحَ فَلْيُبَدِّلْ مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے اسود بن قیس نے کہا کہ میں نے جندب (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اس وقت تک موجود تھا جب رسول اللہ ﷺ نے عید کی نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا ہو اسے چاہیے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ابھی ذبح نہ کیا ہو اسے چاہیے کہ اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کرے۔
Narrated Jundub (RA) :
I witnessed the Prophet ﷺ offering the Id prayer (and after finishing it) he delivered a sermon and said, "Whoever has slaughtered his sacrifice (before the prayer) should make up for it (i.e. slaughter another animal) and whoever has not slaughtered his sacrifice yet, should slaughter it by mentioning Allahs Name over it."
یمین غموس کا بیان۔ اور اللہ کا قول کہ اپنی قسموں کو آپس میں مکرو خیانت نہ بناؤ کہ قدم ثابت ڈگمگا جائیں اور یہ سبب اس کے کہ تم نے اللہ کی راہ سے روکا برائی کو چکھو اور تمہارے لئے دردناک عذاب ہے۔ دخلاً کے معنی مکر و خیانت ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا فِرَاسٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو نضر نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، کہا ہم سے فراس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کی ناحق جان لینا اور يمين الغموس. قصداً جھوٹی قسم کھانے کو کہتے ہیں۔
Narrated Abdullah bin Amr (RA) (RA) :
The Prophet ﷺ said, "The biggest sins are: To join others in worship with Allah; to be undutiful to ones parents; to kill somebody unlawfully; and to take an oath Al-Ghamus.
اللہ تعالیٰ کا قول کہ بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی سی قیمت خریدتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نہ تو ان سے گفتگو فرمائے گا۔ اور نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے اور اللہ بزرگ و برتر کا قول کہ اللہ کو اپنی قسموں کا سپر نہ بناؤ کہ تم نیکی کرتے ہو اور تقوی کرتے ہو اور لوگوں کے درمیان اصلاح کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ کے عہد کے زریعہ قیمت وصول نہ کرو بے شک جو کچھ اللہ کے نزدیک ہے وہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو اور اپنے عہد کو پورا کرو جب کہ تم معاہدہ کرو اور اپنی قسموں کو ان کے مستحکم کرنے کے بعد نہ توڑو، حالانکہ تم نے اللہ کو اپنے اوپر کفیل بنایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ: مَا حَدَّثَكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالُوا: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فِيَّ أُنْزِلَتْ، كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمِينُهُ، قُلْتُ: إِذًا يَحْلِفُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابو وائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے جھوٹی قسم اس طور سے کھائی کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناجائز طریقہ سے حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غصہ ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق وحی کے ذریعہ نازل کی إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا کہ بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے معمولی دنیا کی پونجی خریدتے ہیں آخر آیت تک۔
عبداللہ یہ حدیث بیان کرچکے تھے، اتنے میں اشعث بن قیس آئے اور پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن نے تم لوگوں سے کیا حدیث بیان کی ہے ؟ لوگوں نے کہا اس اس مضمون کی۔ انہوں نے کہا اجی یہ آیت تو میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میرے ایک چچازاد بھائی کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا اس کے جھگڑے کے سلسلہ میں میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے گواہ لاؤ ورنہ مدعاعلیہ سے قسم لی جائے گی۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! پھر وہ تو جھوٹی قسم کھالے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے جھوٹی قسم بدنیتی کے ساتھ اس لیے کھائی کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر جائے تو قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اللہ اس پر انتہائی غضب ناک ہوگا۔
Narrated Abdullah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "If somebody is ordered (by the ruler or the judge) to take an oath, and he takes a false oath in order to grab the property of a Muslim, then he will incur Allahs Wrath when he will meet Him." And Allah revealed in its confirmation: Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allahs covenants and their own oaths. (3.77) (The sub-narrator added:) Al-Ashath bin Qais entered, saying, "What did Abu Abdur-Rahman narrate to you?" They said, "So-and-so," Al-Ashath said, "This verse was revealed in my connection. I had a well on the land of my cousin (and we had a dispute about it). I reported him to Allah s Apostle ﷺ who said (to me). "You should give evidence (i.e. witness) otherwise the oath of your opponent will render your claim invalid." I said, "Then he (my opponent) will take the oath, O Allahs Apostle." Allahs Apostle ﷺ said, "Whoever is ordered (by the ruler or the judge) to give an oath, and he takes a false oath in order to grab the property of a Muslim, then he will incur Allahs Wrath when he meets Him on the Day of Resurrection."
اس چیز میں قسم کھانا جس کا مالک نہ ہو۔ اور گناہ کی قسم اور غصہ کی قسم کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَسْأَلُهُ الْحُمْلَانَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ، وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ، قَالَ: انْطَلِقْ إِلَى أَصْحَابِكَ، فَقُلْ: إِنَّ اللَّهَ، أَوْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَحْمِلُكُمْ.
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ (رض) نے بیان کیا کہ میرے ساتھیوں نے مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں سواری کے جانور مانگنے کے لیے بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہارے لیے کوئی سواری کا جانور نہیں دے سکتا (کیونکہ موجود نہیں ہیں) جب میں آپ کے سامنے آیا تو آپ کچھ خفگی میں تھے۔ پھر جب دوبارہ آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے ساتھیوں کے پاس جا اور کہہ کہ اللہ تعالیٰ نے یا (یہ کہا کہ) رسول اللہ ﷺ نے تمہارے لیے سواری کا انتظام کردیا۔
Narrated Abu Musa (RA) :
My companions sent me to the Prophet ﷺ to ask him for some mounts. He said, "By Allah! I will not mount you on anything!" When I met him, he was in an angry mood, but when I met him (again), he said, "Tell your companions that Allah or Allahs Apostle ﷺ will provide you with mounts."
اس چیز میں قسم کھانا جس کا مالک نہ ہو۔ اور گناہ کی قسم اور غصہ کی قسم کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا، كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ سورة النور آية 11 الْعَشْرَ الْآيَاتِ كُلَّهَا فِي بَرَاءَتِي. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ، وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى سورة النور آية 22 الْآيَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي، فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ، وَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَنْزِعُهَا عَنْهُ أَبَدًا.
ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن المسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہم سے سنا۔ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) پر بہتان کی بات کے متعلق، جب ان پر اتہام لگانے والوں نے اتہام لگایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس اتہام سے بری قرار دیا تھا، ان سب لوگوں نے مجھ سے اس قصہ کا کوئی ایک ٹکڑا بیان کیا (اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی إن الذين جاء وا بالإفك کہ بلاشبہ جن لوگوں نے جھوٹی تہمت لگائی ہے دس آیتوں تک۔ جو سب کی سب میری پاکی بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی تھیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، مسطح (رض) کے ساتھ قرابت کی وجہ سے ان کا خرچ اپنے ذمہ لیے ہوئے تھے، کہا کہ اللہ کی قسم اب کبھی مسطح پر کوئی چیز ایک پیسہ خرچ نہیں کروں گا۔ اس کے بعد کہ اس نے عائشہ (رض) پر اس طرح کی جھوٹی تہمت لگائی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ولا يأتل أولو الفضل منکم والسعة أن يؤتوا أولي القربى الخ۔ ابوبکر (رض) نے اس پر کہا، کیوں نہیں، اللہ کی قسم میں تو یہی پسند کرتا ہوں کہ اللہ میری مغفرت کر دے۔ چناچہ انہوں نے پھر مسطح کو وہ خرچ دینا شروع کردیا جو اس سے پہلے انہیں دیا کرتے تھے اور کہا کہ اللہ کی قسم میں اب خرچ دینے کو کبھی نہیں روکوں گا۔
Narrated Az-Zuhri (RA) :
I heard Urwa bin Az-Zubair, Said bin Al-Musaiyab, Alqama bin Waqqas and Ubaidullah bin Abdullah bin Uqba relating from Aisha (RA), the wife of the Prophet ﷺ the narration of the people (i.e. the liars) who spread the slander against her and they said what they said, and how Allah revealed her innocence. Each of them related to me a portion of that narration. (They said that Aisha (RA) said), Then Allah revealed the ten Verses starting with:--Verily! Those who spread the slander.. (24.11-21)
All these verses were in proof of my innocence. Abu Bakr (RA) As-Siddiq who used to provide for Mistah some financial aid because of his relation to him, said, "By Allah, I will never give anything (in charity) to Mistah, after what he has said about Aisha (RA)" Then Allah revealed:-- And let not those among you who are good and are wealthy swear not to give (any sort of help) to their kins men.... (24.22) On that, Abu Bakr (RA) said, "Yes, by Allah, I like that Allah should forgive me." and then resumed giving Mistah the aid he used to give him and said, "By Allah! I will never withhold it from him."
اس چیز میں قسم کھانا جس کا مالک نہ ہو۔ اور گناہ کی قسم اور غصہ کی قسم کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ، فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَاسْتَحْمَلْنَاهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَتَحَلَّلْتُهَا.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے قاسم نے، ان سے زہدم نے بیان کیا کہ ہم ابوموسیٰ (رض) کے پاس تھے تو انہوں نے بیان کیا کہ میں قبیلہ اشعر کے چند ساتھیوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ غصہ تھے پھر ہم نے آپ سے سواری کا جانور مانگا تو آپ نے قسم کھالی کہ آپ ہمارے لیے اس کا انتظام نہیں کرسکتے۔ اس کے بعد فرمایا : واللہ، اللہ نے چاہا تو میں کبھی بھی اگر کوئی قسم کھا لوں گا اور اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو وہی کروں گا جس میں بھلائی ہوگی اور قسم توڑ دوں گا۔
Narrated Abu Musa Al-Ashari (RA) :
I went along with some men from the Ash-ariyin to Allahs Apostle ﷺ and it happened that I met him while he was in an angry mood. We asked him to provide us with mounts, but he swore that he would not give us any. Later on he said, "By Allah, Allah willing, if ever I take an oath (to do something) and later on I find something else better than the first, then I do the better one and give expiation for the dissolution of my oath."
جب کوئی شخص کہے کہ اللہ کی قسم میں آج کلام نہیں کروں گا۔، پھر اس نے نماز پڑھی یا قرات کی یا سبحان اللہ کہا یااللہ اکبر کہا یا الحمدللہ یا لاالہ الااللہ کہا تو وہ قسم کی اس نیت پر محمول ہوگی اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بہتر کلام چار ہیں، سبحان اللہ، الحمدللہ، لاالہ الااللہ، اور اللہ اکبر، ابوسفیان نے کہا کہ نبی ﷺ نے ہرقل کولکھ بھیجا کہ اس کلمہ کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اور مجاہد نے کہا کہ تقوی کا کلمہ لاالہ الااللہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی، ان کے والد (مسیب رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ جب جناب ابوطالب کی موت کی وقت قریب ہوا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کہہ دیجئیے کہ لا الہٰ الا اللہ تو میں آپ کے لیے اللہ سے جھگڑ سکوں گا۔
Narrated Al-Musaiyab (RA) :
When the death of Abu Talib approached, Allahs Apostle ﷺ came to him and said, "Say: La ilaha illallah, a word with which I will be able to defend you before Allah."
جب کوئی شخص کہے کہ اللہ کی قسم میں آج کلام نہیں کروں گا۔، پھر اس نے نماز پڑھی یا قرات کی یا سبحان اللہ کہا یااللہ اکبر کہا یا الحمدللہ یا لاالہ الااللہ کہا تو وہ قسم کی اس نیت پر محمول ہوگی اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بہتر کلام چار ہیں، سبحان اللہ، الحمدللہ، لاالہ الااللہ، اور اللہ اکبر، ابوسفیان نے کہا کہ نبی ﷺ نے ہرقل کولکھ بھیجا کہ اس کلمہ کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اور مجاہد نے کہا کہ تقوی کا کلمہ لاالہ الااللہ ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو کلمے جو زبان پر ہلکے ہیں لیکن ترازو پر (آخرت میں) بھاری ہیں اور اللہ رحمن کے یہاں پسندیدہ ہیں وہ یہ ہیں سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم.۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "(Following are) two words (sentences or utterances that are very easy for the tongue to say, and very heavy in the balance (of reward,) and the must beloved to the Gracious Almighty (And they are): Subhan Allah wa bi-hamdihi; Subhan Allahi-l-Azim,"
جب کوئی شخص کہے کہ اللہ کی قسم میں آج کلام نہیں کروں گا۔، پھر اس نے نماز پڑھی یا قرات کی یا سبحان اللہ کہا یااللہ اکبر کہا یا الحمدللہ یا لاالہ الااللہ کہا تو وہ قسم کی اس نیت پر محمول ہوگی اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بہتر کلام چار ہیں، سبحان اللہ، الحمدللہ، لاالہ الااللہ، اور اللہ اکبر، ابوسفیان نے کہا کہ نبی ﷺ نے ہرقل کولکھ بھیجا کہ اس کلمہ کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اور مجاہد نے کہا کہ تقوی کا کلمہ لاالہ الااللہ ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَلِمَةً، وَقُلْتُ أُخْرَى: مَنْ مَاتَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أُدْخِلَ النَّارَ، وَقُلْتُ أُخْرَى: مَنْ مَاتَ لَا يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أُدْخِلَ الْجَنَّةَ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور میں نے (اسی پر قیاس کرتے ہوئے) دوسرا کلمہ کہا (کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ) جو شخص اس حال میں مرجائے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہوگا تو وہ جہنم میں جائے گا۔ اور میں نے دوسری بات کہی کہ جو شخص اس حال میں مرجائے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہوگا وہ جنت میں جائے گا۔
Narrated Abdullah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said a sentence and I said another. He said, "Whoever dies while he is setting up rivals along with Allah (i.e. worshipping others along with Allah) shall be admitted into the (Hell) Fire." And I said the other: "W
اس شخص کا بیان جوقسم کھائے کہ اپنی بیوی کے پاس ایک مہینہ تک نہ جائے گا۔ اور مہینہ انتیس دن کا ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ نَزَلَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ: آلَيْتَ شَهْرًا، فَقَالَ: إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کے ساتھ ایلاء کیا (یعنی قسم کھائی کہ آپ ان کے یہاں ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے) اور نبی کریم ﷺ کے پاؤں میں موچ آگئی تھی۔ چناچہ نبی کریم ﷺ اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام پذیر رہے پھر وہاں سے اترے، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے ایلاء ایک مہینے کے لیے کیا تھا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس دن کا ہے۔
Narrated Anas (RA) :
Allahs Apostle ﷺ took an oath for abstention from h is wives (for one month), and during those days he had a sprain in his foot. He stayed in a Mashrubah (an upper room) for twenty-nine nights and then came down. Then the people said, "O Allahs Apostle ﷺ ! You took an oath for abstention (from your wives) for one month." On that he said, A month can be of twenty-nine days
اگر کوئی شخص قسم کھائے کہ میں نبیذ نہیں پیؤں گا۔ اور اس نے طلا یا سکر یا عصیر پی لیا تو بعض (یعنی حنفیہ) کے قول کے مطابق اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی اور یہ ان کے نزدیک نبیذ میں داخل نہیں۔
حَدَّثَنِي عَلِيٌّ ، سَمِعَ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَسَ، فَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُرْسِهِ، فَكَانَتِ الْعَرُوسُ خَادِمَهُمْ، فَقَالَ سَهْلٌ لِلْقَوْمِ: هَلْ تَدْرُونَ مَا سَقَتْهُ ؟ قَالَ: أَنْقَعَتْ لَهُ تَمْرًا فِي تَوْرٍ مِنَ اللَّيْلِ، حَتَّى أَصْبَحَ عَلَيْهِ، فَسَقَتْهُ إِيَّاهُ.
مجھ سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے عبدالعزیز بن ابی حازم سے سنا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی، انہیں سہل بن سعد (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابی ابواسید (رض) نے نکاح کیا اور نبی کریم ﷺ کو اپنی شادی کے موقع پر بلایا۔ دلہن ہی ان کی میزبانی کا کام کر رہی تھیں، پھر سہل (رض) نے لوگوں سے پوچھا، تمہیں معلوم ہے، میں نے نبی کریم ﷺ کو کیا پلایا تھا۔ کہا کہ رات میں نبی کریم ﷺ کے لیے میں نے کھجور ایک بڑے پیالہ میں بھگو دی تھی اور صبح کے وقت اس کا پانی نبی کریم ﷺ کو پلایا تھا۔
Narrated Abu Hazim (RA) :
Sahl bin Sad said, "Abu Usaid, the companion of the Prophet, got married, so he invited the Prophet ﷺ to his wedding party, and the bride herself served them. Sahl said to the People, Do you know what drink she served him with? She infused some dates in a pot at night and the next morning she served him with the infusion."
اگر کوئی شخص قسم کھائے کہ میں نبیذ نہیں پیؤں گا۔ اور اس نے طلا یا سکر یا عصیر پی لیا تو بعض (یعنی حنفیہ) کے قول کے مطابق اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی اور یہ ان کے نزدیک نبیذ میں داخل نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ سَوْدَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: مَاتَتْ لَنَا شَاةٌ فَدَبَغْنَا مَسْكَهَا، ثُمَّ مَا زِلْنَا نَنْبِذُ فِيهِ حَتَّى صَارَ شَنًّا.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی، انہیں شعبی نے، انہیں عکرمہ نے اور انہیں ابن عباس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ کی بیوی صاحبہ سودہ (رض) نے بیان کیا کہ ان کی ایک بکری مرگئی تو اس کے چمڑے کو ہم نے دباغت دے دیا۔ پھر ہم اس کی مشک میں نبیذ بناتے رہے یہاں تک کہ وہ پرانی ہوگئی۔
Narrated Sauda (RA) :
(the wife of the Prophet) One of our sheep died and we tanned its skin and kept on infusing dates in it till it was a worn out water skin.