مشرکین پر بدعا کرنے کا بیان۔ اور ابن مسعود نے کہا نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ تو ان کافروں کے خلاف یوسف (علیہ السلام) کے سات (قحط) کی طرح سات (قحط) کے ذریعے ہماری مدد فرما اور فرمایا یا اللہ ابوجہل پر لعنت فرما اور ابن عمر نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے نماز میں دعا فرمائی کہ یا اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر یہاں تک کہ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ قَنَتَ اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ جب عشاء کی آخر رکعت میں (رکوع سے اٹھتے ہوئے) سمع الله لمن حمده کہتے تھے تو دعائے قنوت پڑھتے تھے اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج الوليد بن الوليد، اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتک على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف اے اللہ ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ ! کمزور ناتواں مومنوں کو نجات دے، اے اللہ ! اے اللہ ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ کو سخت کر دے، اے اللہ ! وہاں ایسا قحط پیدا کر دے جیسا یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں ہوا تھا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
When the Prophet ﷺ said, "Sami al-lahu Liman hamidah (Allah heard him who sent his praises to Him)" in the last Raka of the Isha prayer, he used to invoke Allah, saying, "O Allah! Save Aiyash bin Abi Rabia; O Allah! Save Al-Walid bin Al-Walid; O Allah! Save the weak people among the believers; O Allah! Be hard on the Tribe of Mudar; O Allah! Inflict years of drought upon them like the years (of drought) of the Prophet ﷺ Joseph."
مشرکین پر بدعا کرنے کا بیان۔ اور ابن مسعود نے کہا نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ تو ان کافروں کے خلاف یوسف (علیہ السلام) کے سات (قحط) کی طرح سات (قحط) کے ذریعے ہماری مدد فرما اور فرمایا یااللہ ابوجہل پر لعنت فرما اور ابن عمر نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے نماز میں دعا فرمائی کہ یااللہ فلاں فلاں پر لعنت کر یہاں تک کہ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً يُقَالُ لَهُمْ: الْقُرَّاءُ، فَأُصِيبُوا فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ، فَقَنَتَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَيَقُولُ: إِنَّ عُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے عاصم نے اور ان سے انس (رض) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم بھیجی، جس میں شریک لوگوں کو قراء (یعنی قرآن مجید کے قاری) کہا جاتا تھا۔ ان سب کو شہید کردیا گیا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کو کبھی کسی چیز کا اتنا غم ہوا ہو جتنا آپ کو ان کی شہادت کا غم ہوا تھا۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں ان کے لیے بددعا کی، آپ کہتے کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
Narrated Anas (RA) :
The Prophet ﷺ sent a Sariya (an army detachment) consisting of men called Al-Qurra, and all of them were martyred. I had never seen the Prophet ﷺ so sad over anything as he was over them. So he said Qunut (invocation in the prayer) for one month in the Fajr prayer, invoking for Allahs wrath upon the tribe of Usaiya, and he used to say, "The people of Usaiya have disobeyed Allah and His Apostle."
مشرکین پر بدعا کرنے کا بیان۔ اور ابن مسعود نے کہا نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ تو ان کافروں کے خلاف یوسف (علیہ السلام) کے سات (قحط) کی طرح سات (قحط) کے ذریعے ہماری مدد فرما اور فرمایا یااللہ ابوجہل پر لعنت فرما اور ابن عمر نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے نماز میں دعا فرمائی کہ یااللہ فلاں فلاں پر لعنت کر یہاں تک کہ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ الْيَهُودُ يُسَلِّمُونَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُونَ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ إِلَى قَوْلِهِمْ، فَقَالَتْ: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْلًا يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا يَقُولُونَ ؟، قَالَ: أَوَلَمْ تَسْمَعِي أَنِّي أَرُدُّ ذَلِكِ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ وَعَلَيْكُمْ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ یہود نبی کریم ﷺ کو سلام کرتے تو کہتے السام عليك. آپ کو موت آئے۔ عائشہ (رض) ان کا مقصد سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ عليكم السام واللعنة. تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ٹھہرو عائشہ ! اللہ تمام امور میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ عائشہ (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! کیا آپ نے نہیں سنا یہ لوگ کیا کہتے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم نے نہیں سنا کہ میں انہیں کس طرح جواب دیتا ہوں۔ میں کہتا ہوں وعليكم۔
Narrated Aisha (RA) :
The Jews used to greet the Prophet ﷺ by saying, "As-Samu Alaika (i.e., death be upon you), so I understood what they said, and I said to them, "As-Samu alaikum wal-lana (i.e. Death and Allahs Curse be upon you)." The Prophet ﷺ said, "Be gentle and calm, O Aisha, as Allah likes gentleness in all affairs." I said, "O Allahs Prophet! Didnt you hear what they said?" He said, "Didnt you hear me answering them back by saying, Alaikum (i.e., the same be upon you)?"
مشرکین پر بدعا کرنے کا بیان۔ اور ابن مسعود نے کہا نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ تو ان کافروں کے خلاف یوسف (علیہ السلام) کے سات (قحط) کی طرح سات (قحط) کے ذریعے ہماری مدد فرما اور فرمایا یااللہ ابوجہل پر لعنت فرما اور ابن عمر نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے نماز میں دعا فرمائی کہ یااللہ فلاں فلاں پر لعنت کر یہاں تک کہ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ: مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى، حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، وَهِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ.
ہم سے محمد بن مثنی ٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے انصاری نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے عبیدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن ابی طالب (رض) نے بیان کیا کہ غزوہ خندق کے موقع پر ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ ان کی قبروں اور ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے۔ انہوں نے ہمیں صلاة الوسطى (عصر کی نماز) نہیں پڑھنے دی جب تک کہ سورج غروب ہوگیا اور یہ عصر کی نماز تھی۔
Narrated Ali Ibn Abi Talib (RA) :
We were in the company of the Prophet ﷺ on the day (of the battle) of Al-Khandaq (the Trench). The Prophet ﷺ said, "May Allah fill their (the infidels) graves and houses with fire, as they have kept us so busy that we could not offer the middle prayer till the sun had set; and that prayer was the Asr prayer."
مشرکین کے لئے بددعا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا، فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّهُ يَدْعُو عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ.
ہم سے علی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے کہا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ طفیل بن عمرو (رض) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! قبیلہ دوس نے نافرمانی اور سرکشی کی ہے، آپ ان کے لیے بددعا کیجئے۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم ﷺ ان کے لیے بددعا ہی کریں گے لیکن نبی کریم ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور انہیں (میرے پاس) بھیج دے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
At-Tufail bin Amr came to Allahs Apostle ﷺ and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! The tribe of Daus has disobeyed (Allah and His Apostle) ﷺ and refused (to embrace Islam), therefore, invoke Allahs wrath for them." The people thought that the Prophet ﷺ would invoke Allahs wrath for them, but he said, "O Allah! Guide the tribe Of Daus and let them come to us,"
نبی ﷺ کا فرمانا کہ یا اللہ مجھے معاف کر دے جو میں نے پہلے کیا ہے اور جو میں نے اخیر میں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْأَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ: رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي كُلِّهِ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ، وَعَمْدِي، وَجَهْلِي، وَهَزْلِي وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَحَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن صباح نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے ابن ابی موسیٰ نے، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا کرتے تھے رب اغفر لي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري كله، وما أنت أعلم به مني، اللهم اغفر لي خطاياى وعمدي وجهلي وهزلي، وکل ذلک عندي، اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت، أنت المقدم، وأنت المؤخر، وأنت على كل شىء قدير میرے رب ! میری خطا، میری نادانی اور تمام معاملات میں میرے حد سے تجاوز کرنے میں میری مغفرت فرما اور وہ گناہ بھی جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ اے اللہ ! میری مغفرت کر، میری خطاؤں میں، میرے بالا ارادہ اور بلا ارادہ کاموں میں اور میرے ہنسی مزاح کے کاموں میں اور یہ سب میری ہی طرف سے ہیں۔ اے اللہ ! میری مغفرت کر ان کاموں میں جو میں کرچکا ہوں اور انہیں جو کروں گا اور جنہیں میں نے چھپایا اور جنہیں میں نے ظاہر کیا ہے، تو سب سے پہلے ہے اور تو ہی سب سے بعد میں ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اور عبیداللہ بن معاذ (جو امام بخاری (رح) کے شیخ ہیں) نے بیان کیا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے اور ان سے نبی کریم ﷺ نے۔
Narrated Abu Musa (RA) :
The Prophet ﷺ used to invoke Allah with the following invocation: Rabbi-ghfir-li Khati ati wa jahli wa israfi fi amri kullihi, wa ma anta alamu bihi minni. Allahumma ighfirli khatayaya wa amdi, wa jahli wa jiddi, wa kullu dhalikaindi. Allahumma ighrifli ma qaddamtu wa ma akhartu wa ma asrartu wa ma alantu. Anta-l-muqaddimu wa anta-l-muakh-khiru, wa anta ala kulli shaiin qadir.
نبی ﷺ کا فرمانا کہ یا اللہ مجھے معاف کر دے جو میں نے پہلے کیا ہے اور جو میں نے اخیر میں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي، وَجِدِّي، وَخَطَايَايَ، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عبدالمجید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن ابی موسیٰ اور ابوبردہ نے میرا خیال ہے کہ ابوموسیٰ اشعری (رض) کے حوالہ سے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے اللهم اغفرلي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري، وما أنت أعلم به مني، اللهم اغفر لي هزلي وجدي وخطاى وعمدي، وكل ذلک عندي. اے اللہ ! میری مغفرت فرما میری خطاؤں میں، میری نادانی میں اور میری کسی معاملہ میں زیادتی میں، ان باتوں میں جن کا تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ اے اللہ ! میری مغفرت کر میرے ہنسی مزاح اور سنجیدگی میں اور میرے ارادہ میں اور یہ سب کچھ میری ہی طرف سے ہیں۔
Narrated Abu Musa Al-Ashari (RA) :
The Prophet ﷺ used to invoke Allah, saying, "Allahumma ighfirli khatiati wa jahli wa israfi fi amri, wa ma anta a-lamu bihi minni. Allahumma ighfirli hazali wa jiddi wa khatai wa amdi, wa kullu dhalika indi"
جمعہ کے دن (مقبول) ساعت میں دعا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ، وَقَالَ بِيَدِهِ، قُلْنَا: يُقَلِّلُهَا يُزَهِّدُهَا.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، انہیں ایوب نے خبر دی، انہیں محمد نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں اگر کوئی مسلمان اس حال میں پالے کہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو تو جو بھلائی بھی وہ مانگے گا اللہ عنایت فرمائے گا اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا اور ہم نے اس سے یہ سمجھا کہ نبی کریم ﷺ اس گھڑی کے مختصر ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Abu-l-Qasim (the Prophet) said, "On Friday there is a particular time. If a Muslim happens to be praying and invoking Allah for something good during that time, Allah will surely fulfill his request." The Prophet ﷺ pointed out with his hand. We thought that he wanted to illustrate how short that time was.
نبی ﷺ کا فرمانا، کہ یہود کے متعلق ہماری دعا مقبول ہوتی ہے، اور ہمارے متعلق ان کی دعا مقبول نہیں ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ الْيَهُودَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، قَالَ: وَعَلَيْكُمْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، وَلَعَنَكُمُ اللَّهُ، وَغَضِبَ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْلًا يَا عَائِشَةُ، عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ، أَوِ الْفُحْشَ، قَالَتْ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ؟ قَالَ: أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ، وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِيَّ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ یہود نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا السام عليك. نبی کریم ﷺ نے جواب دیا وعليكم. لیکن عائشہ (رض) نے کہا السام عليكم، ولعنکم الله وغضب عليكم. نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ٹھہر، عائشہ ! نرم خوئی اختیار کر اور سختی اور بدکلامی سے ہمیشہ پرہیز کر۔ انہوں نے کہا : کیا آپ نے نہیں سنا کہ یہودی کیا کہہ رہے تھے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم نے نہیں سنا کہ میں نے انہیں کیا جواب دیا، میں نے ان کی بات انہیں پر لوٹا دی اور میری ان کے بدلے میں دعا قبول کی گئی اور ان کی میرے بارے میں قبول نہیں کی گئی۔
Narrated Ibn Abi Mulaika (RA) :
Aisha (RA) said, "The Jews came to the Prophet ﷺ and said to him, "As-Samu Alaika (i.e., Death be upon you)." He replied, The same on you. " Aisha (RA) said to them, "Death be upon you, and may Allah curse you and shower His wrath upon you!" Allahs Apostle ﷺ I said, "Be gentle and calm, O Aisha! Be gentle and beware of being harsh and of saying evil things." She said, "Didnt you hear what they said?" He said, "Didnt you hear what I replied (to them)? have returned their statement to them, and my invocation against them will be accepted but theirs against me will not be accepted."
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : حَدَّثَنَاهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ زہری نے بیان کیا کہ ہم سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب پڑھنے والا آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ اس وقت ملائکہ بھی آمین کہتے ہیں اور جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے ساتھ ہوتی ہے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "When the Imam says Amin, then you should all say Amin, for the angels say Amin at that time, and he whose Amin coincides with the Amin of the angels, all his past sins will be forgiven."
لا الہ الا اللہ کہنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ، لَهُ لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ إِلَّا رَجُلٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْهُ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سمی نے، ان سے ابوصالح نے، ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے یہ کلمہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ دن میں سو دفعہ پڑھا اسے دس غلاموں کو آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی اور اس دن وہ شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا شام تک کے لیے اور کوئی شخص اس دن اس سے بہتر کام کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا، سوا اس کے جو اس سے زیادہ کرے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said," Whoever says: "La ilaha illal-lah wahdahu la sharika lahu, lahu-l-mulk wa lahu-l-hamd wa huwa ala kulli shaiin qadir," one hundred times will get the same reward as given for manumitting ten slaves; and one hundred good deeds will be written in his accounts, and one hundred sins will be deducted from his accounts, and it (his saying) will be a shield for him from Satan on that day till night, and nobody will be able to do a better deed except the one who does more than he." Narrated Amr bin Maimun:
Whoever recites it (i.e., the invocation in the above Hadith (412) ten times will be as if he manumitted one of Ishmaels descendants. Abu Aiyub narrated the same Hadith from the Prophet ﷺ saying, "(Whoever recites it ten times) will be as if he had manumitted one of Ishmaels descendants."
لا الہ الا اللہ کہنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: مَنْ قَالَ: عَشْرًا كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، وَحَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ ، مِثْلَهُ، فَقُلْتُ لِلرَّبِيعِ: مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ: مِنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، فَأَتَيْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، فَقُلْتُ: مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ: مِن ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، فَأَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، فَقُلْتُ: مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ مِن أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، . وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَوْلَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، . وَقَالَ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، . وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الرَّبِيعِ قَوْلَهُ. وَقَالَ آدَمُ ، حَدَّثَنَاشُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَسَافٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنِابْنِ مَسْعُودٍ قَوْلَهُ. وَقَالَ الْأَعْمَشُ ، وَحُصَيْنٌ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَوْلَهُ. وَرَوَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلِ، قَالَ: أَبُو عَبْد اللَّهِ: الصَّحِيحُ قَوْلُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرٍو.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمرو نے، کہا کہ ہم سے عمر بن ابی زائد نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ جس نے یہ کلمہ دس مرتبہ پڑھ لیا وہ ایسا ہوگا جیسے اس نے ایک عربی غلام آزاد کیا۔ اسی سند سے عمر بن ابی زائدہ نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن ابی السفر نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے ربیع بن خثیم نے یہی مضمون تو میں نے ربیع بن خثیم سے پوچھا کہ تم نے کس سے یہ حدیث سنی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ عمرو بن میمون اودی سے۔ پھر میں عمرو بن میمون کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ابن ابی لیلیٰ سے۔ (پھر میں) ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا اور پوچھا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ابوایوب انصاری (رض) سے، وہ یہ حدیث نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے تھے اور ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ان کے والد یوسف بن اسحاق نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن میمون اودی نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے ابوایوب انصاری (رض) نے نبی کریم ﷺ سے یہی حدیث نقل کی۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے داؤد بن ابی ہند نے، ، ان سے عامر شعبی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے ابوایوب (رض) نے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے۔ اور اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے ربیع نے موقوفاً ان کا قول نقل کیا۔ اور آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا، کہا میں نے ہلال بن یساف سے سنا، ان سے ربیع بن خثیم اور عمرو بن میمون دونوں نے اور ان سے ابن مسعود (رض) نے۔ اور اعمش اور حصین دونوں نے ہلال سے بیان کیا، ان سے ربیع بن خثیم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے، یہی حدیث روایت کی۔ اور ابو محمد حضرمی نے ابوایوب (رض) سے، انہوں نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً اسی حدیث کو روایت کیا۔
Narrated `Amr bin Maimun:
Whoever recites it (i.e., the invocation in the above Hadith (412) ten times will be as if he manumitted one of Ishmaels descendants. Abu Aiyub narrated the same Hadith from the Prophet ﷺ saying, "(Whoever recites it ten times) will be as if he had manumitted one of Ishmaels descendants".
سبحان اللہ پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، حُطَّتْ خَطَايَاهُ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے سبحان الله وبحمده. دن میں سو مرتبہ کہا، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "Whoever says, Subhan Allah wa bihamdihi, one hundred times a day, will be forgiven all his sins even if they were as much as the foam of the sea.
سبحان اللہ پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دو کلمے جو زبان پر ہلکے ہیں ترازو میں بہت بھاری اور رحمان کو عزیز ہیں سبحان الله العظيم، سبحان الله وبحمده۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "There are two expressions which are very easy for the tongue to say, but they are very heavy in the balance and are very dear to The Beneficent (Allah), and they are, Subhan Allah Al-Azim and Subhan Allah wa bihamdihi."
اللہ بزرگ وبرتر کے ذکر کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کی مثال جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا زندہ اور مردہ جیسی ہے۔
Narrated Abu Musa (RA) : The Prophet ﷺ said, "The example of the one who celebrates the Praises of his Lord (Allah) in comparison to the one who does not celebrate the Praises of his Lord, is that of a living creature compared to a dead one."
اللہ بزرگ وبرتر کے ذکر کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى حَاجَتِكُمْ، قَالَ: فَيَحُفُّونَهُمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، قَالَ: فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا يَقُولُ عِبَادِي ؟ قَالُوا: يَقُولُونَ يُسَبِّحُونَكَ، وَيُكَبِّرُونَكَ، وَيَحْمَدُونَكَ، وَيُمَجِّدُونَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ: هَلْ رَأَوْنِي ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَا وَاللَّهِ مَا رَأَوْكَ، قَالَ: فَيَقُولُ: وَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ كَانُوا أَشَدَّ لَكَ عِبَادَةً، وَأَشَدَّ لَكَ تَمْجِيدًا، وَتَحْمِيدًا، وَأَكْثَرَ لَكَ تَسْبِيحًا، قَالَ: يَقُولُ: فَمَا يَسْأَلُونِي ؟ قَالَ: يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ، قَالَ: يَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: لَا، وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا، قَالَ: يَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْهَا ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا، وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا، وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً، قَالَ: فَمِمَّ يَتَعَوَّذُونَ ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ، قَالَ: يَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: لَا، وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا، قَالَ: يَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا فِرَارًا، وَأَشَدَّ لَهَا مَخَافَةً، قَالَ: فَيَقُولُ: فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، قَالَ: يَقُولُ: مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ: فِيهِمْ فُلَانٌ لَيْسَ مِنْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ، قَالَ: هُمُ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ، رَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَرَوَاهُسُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے رہتے ہیں اور اللہ کی یاد کرنے والوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔ پھر جہاں وہ کچھ ایسے لوگوں کو پالیتے ہیں کہ جو اللہ کا ذکر کرتے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں کہ آؤ ہمارا مطلب حاصل ہوگیا۔ پھر وہ پہلے آسمان تک اپنے پروں سے ان پر امنڈتے رہتے ہیں۔ پھر ختم پر اپنے رب کی طرف چلے جاتے ہیں۔ پھر ان کا رب ان سے پوچھتا ہے .... حالانکہ وہ اپنے بندوں کے متعلق خوب جانتا ہے .... کہ میرے بندے کیا کہتے تھے ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ وہ تیری تسبیح پڑھتے تھے، تیری کبریائی بیان کرتے تھے، تیری حمد کرتے تھے اور تیری بڑائی کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے ؟ کہا کہ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ ! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پھر ان کا اس وقت کیا حال ہوتا جب وہ مجھے دیکھے ہوئے ہوتے ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر وہ تیرا دیدار کرلیتے تو تیری عبادت اور بھی بہت زیادہ کرتے، تیری بڑائی سب سے زیادہ بیان کرتے، تیری تسبیح سب سے زیادہ کرتے۔ پھر اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے، پھر وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں ؟ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ جنت مانگتے ہیں۔ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ اے رب ! انہوں نے تیری جنت نہیں دیکھی۔ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے ان کا اس وقت کیا عالم ہوتا اگر انہوں نے جنت کو دیکھا ہوتا ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے جنت کو دیکھا ہوتا تو وہ اس سے اور بھی زیادہ خواہشمند ہوتے، سب سے بڑھ کر اس کے طلب گار ہوتے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں، دوزخ سے۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے جہنم دیکھا ہے ؟ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ، انہوں نے جہنم کو دیکھا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پھر اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو ان کا کیا حال ہوتا ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو اس سے بچنے میں وہ سب سے آگے ہوتے اور سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی مغفرت کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس پر ان میں سے ایک فرشتے نے کہا کہ ان میں فلاں بھی تھا جو ان ذاکرین میں سے نہیں تھا، بلکہ وہ کسی ضرورت سے آگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ یہ (ذاکرین) وہ لوگ ہیں جن کی مجلس میں بیٹھنے والا بھی نامراد نہیں رہتا۔ اس حدیث کو شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کیا لیکن اس کو مرفوع نہیں کیا۔ اور سہیل نے بھی اس کو اپنے والدین ابوصالح سے روایت کیا، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allah s Apostle ﷺ said, "Allah has some angels who look for those who celebrate the Praises of Allah on the roads and paths. And when they find some people celebrating the Praises of Allah, they call each other, saying, "Come to the object of your pursuit. " He added, "Then the angels encircle them with their wings up to the sky of the world." He added. "(after those people celebrated the Praises of Allah, and the angels go back), their Lord, asks them (those angels)----though He knows better than them----What do My slaves say? The angels reply, They say: Subhan Allah, Allahu Akbar, and Alham-du-lillah, Allah then says Did they see Me? The angels reply, No! By Allah, they didnt see You.
Allah says, How it would have been if they saw Me? The angels reply, If they saw You, they would worship You more devoutly and celebrate Your Glory more deeply, and declare Your freedom from any resemblance to anything more often. Allah says (to the angels), What do they ask Me for? The angels reply, They ask You for Paradise. Allah says (to the angels), Did they see it? The angels say, No! By Allah, O Lord! They did not see it. Allah says, How it would have been if they saw it? The angels say, If they saw it, they would have greater covetousness for it and would seek It with greater zeal and would have greater desire for it. Allah says, From what do they seek refuge? The angels reply, They seek refuge from the (Hell) Fire. Allah says, Did they see it? The angels say, No By Allah, O Lord! They did not see it. Allah says, How it would have been if they saw it? The angels say, If they saw it they would flee from it with the extreme fleeing and would have extreme fear from it. Then Allah says, I make you witnesses that I have forgiven them." Allahs Apostle ﷺ added, "One of the angels would say, There was so-and-so amongst them, and he was not one of them, but he had just come for some need. Allah would say, These are those people whose companions will not be reduced to misery. "
لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَقَبَةٍ، أَوْ قَالَ فِي ثَنِيَّةٍ قَالَ: فَلَمَّا عَلَا عَلَيْهَا رَجُلٌ نَادَى، فَرَفَعَ صَوْتَهُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ، قَالَ: فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو سلیمان بن طرخان تیمی نے خبر دی، انہیں ابوعثمان نہدی نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک گھاٹی یا درے پر چڑھنے لگے۔ بیان کیا کہ جب ایک اور صحابی بھی اس پر چڑھ گئے تو انہوں نے بلند آواز سے لا إله إلا الله والله أكبر. کہا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس وقت نبی کریم ﷺ اپنے خچر پر سوار تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے۔ پھر فرمایا، ابوموسیٰ یا تو یوں (فرمایا) اے عبداللہ بن قیس ! کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ بتادوں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے۔ میں نے عرض کیا، ضرور ارشاد فرمائیں، فرمایا کہ لا حول ولا قوة إلا بالله۔
Narrated Abu Musa Al-Ashari (RA) :
The Prophet ﷺ started ascending a high place or hill. A man (amongst his companions) ascended it and shouted in a loud voice, "La ilaha illal-lahu wallahu Akbar." (At that time) Allahs Apostle ﷺ was riding his mule. Allahs Apostle ﷺ said, "You are not calling upon a deaf or an absent one." and added, "O Abu Musa (or, O Abdullah)! Shall I tell you a sentence from the treasure of Paradise?" I said, "Yes." He said, "La haul a wala quwwata illa billah,"
اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَفِظْنَاهُ مِنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رِوَايَةً قَالَ: لِلَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا، مِائَةٌ إِلَّا وَاحِدًا لَا يَحْفَظُهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَهُوَ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ حدیث ابوالزناد سے یاد کی، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے روایتاً بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، ایک کم سو، جو شخص بھی انہیں یاد کرلے گا جنت میں جائے گا۔ اللہ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allah has ninety-nine Names, i.e., one hundred minus one, and whoever believes in their meanings and acts accordingly, will enter Paradise; and Allah is Witr (one) and loves the Witr (i.e., odd numbers).
کچھ وقفہ سے وعظ کہنے کا بیان۔
حدثنا عمر بن حفص ، حدثنا أبي ، حدثنا الأعمش ، حدثني شقيق ، قال: كنا ننتظر عبد الله إذ جاء يزيد بن معاوية، فقلنا: ألا تجلس ؟ قال: لا، ولكن أدخل فاخرج إليكم صاحبكم، وإلا جئت أنا فجلست، فخرجعبد الله ، وهو آخذ بيده، فقام علينا، فقال: أما إني أخبر بمكانكم، ولكنهيمنعني من الخروج إليكم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتخولنا بالموعظة في الأيام كراهية السامة علينا.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے شقیق نے بیان کیا، کہا کہ ہم عبداللہ بن مسعود (رض) کا انتظار کر رہے تھے کہ یزید بن معاویہ آئے۔ ہم نے کہا، تشریف رکھئے لیکن انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، میں اندر جاؤں گا اور تمہارے ساتھ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کو باہر لاؤں گا۔ اگر وہ نہ آئے تو میں ہی تنہا آجاؤں گا اور تمہارے ساتھ بیٹھوں گا۔ پھر عبداللہ بن مسعود (رض) باہر تشریف لائے اور وہ یزید بن معاویہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے پھر ہمارے سامنے کھڑے ہوئے کہنے لگے میں جان گیا تھا کہ تم یہاں موجود ہو۔ پس میں جو نکلا تو اس وجہ سے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا آپ مقررہ دنوں میں ہم کو وعظ فرمایا کرتے تھے، (فاصلہ دے کر) آپ کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ کہیں ہم اکتا نہ جائیں۔
Narrated Shaqiq (RA) :
While we were waiting for Abdullah (bin Masud). Yazid bin Muawiyah came. I said (to him), "Will you sit down?" He said, "No, but I will go into the house (of Ibn Masud (RA)) and let your companion (Ibn Masud (RA)) come out to you; and if he should not (come out), I will come out and sit (with you)." Then Abdullah came out, holding the hand of Yazid, addressed us, saying, "I know that you are assembled here, but the reason that prevents me from coming out to you, is that Allahs Apostle ﷺ used to preach to us at intervals during the days, lest we should become bored."
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان، اور یہ کہ آخرت ہی کی زندگی زندگی ہے۔
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ، وَالْفَرَاغُ، قَالَعَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن سعید نے خبر دی، وہ ابوہند کے صاحب زادے ہیں، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے، صحت اور فراغت۔ عباس عنبری نے بیان کیا کہ ہم سے صفوان بن عیسیٰ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی ہند نے، ان سے ان کے والد نے کہ میں نے عبداللہ بن عباس (رض) سے سنا، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی حدیث کی طرح۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
The Prophet ﷺ said, "There are two blessings which many people lose: (They are) Health and free time for doing good."