Sahih Bukhariصحيح البخاری

All 7,282 hadiths in order · Page 297 of 365

6331Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کے قول وصل علیہم کا بیان اور اس شخص کا بیان جو صرف اپنے بھائی کیلئے دعا کرے، اپنے لئے نہ کرے، اور ابوموسیٰ نے بیان کیا کی نبی ﷺ نے فرمایا، کہ اے اللہ عبید ابی عامر کو بخش دے، اے اللہ عبداللہ بن قیس کے گناہ کو بخش دے۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَيَا عَامِرُ، لَوْ أَسْمَعْتَنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ، فَنَزَلَ يَحْدُو بِهِمْ يُذَكِّرُ تَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَذَكَرَ شِعْرًا غَيْرَ هَذَا وَلَكِنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ هَذَا السَّائِقُ، قَالُوا: عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ، وَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْلَا مَتَّعْتَنَا بِهِ، فَلَمَّا صَافَّ الْقَوْمَ قَاتَلُوهُمْ، فَأُصِيبَ عَامِرٌ بِقَائِمَةِ سَيْفِ نَفْسِهِ فَمَاتَ، فَلَمَّا أَمْسَوْا أَوْقَدُوا نَارًا كَثِيرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا هَذِهِ النَّارُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ ؟، قَالُوا: عَلَى حُمُرٍ إِنْسِيَّةٍ، فَقَالَ: أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَكَسِّرُوهَا، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ: أَوْ ذَاكَ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے مسلم کے مولیٰ یزید بن ابی عبیدہ نے اور ان سے سلمہ بن الاکوع (رض) نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ خیبر گئے (راستہ میں) مسلمانوں میں سے کسی شخص نے کہا عامر ! اپنی حدی سناؤ۔ وہ حدی پڑھنے لگے اور کہنے لگے۔ اللہ کی قسم ! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اس کے علاوہ دوسرے اشعار بھی انہوں نے پڑھے مجھے وہ یاد نہیں ہیں۔ (اونٹ حدی سن کر تیز چلنے لگے تو) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سواریوں کو کون ہنکا رہا ہے، لوگوں نے کہا کہ عامر بن اکوع ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اس پر رحم کرے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کاش ابھی آپ ان سے ہمیں اور فائدہ اٹھانے دیتے۔ پھر جب صف بندی ہوئی تو مسلمانوں نے کافروں سے جنگ کی اور عامر (رض) کی تلوار چھوٹی تھی جو خود ان کے پاؤں پر لگ گئی اور ان کی موت ہوگئی۔ شام ہوئی تو لوگوں نے جگہ جگہ آگ جلائی۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ آگ کیسی ہے، اسے کیوں جلایا گیا ہے ؟ صحابہ نے کہا کہ پالتو گدھوں (کا گوشت پکانے) کے لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو کچھ ہانڈیوں میں گوشت ہے اسے پھینک دو اور ہانڈیوں کو توڑ دو ۔ ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اجازت ہو تو ایسا کیوں نہ کرلیں کہ ہانڈیوں میں جو کچھ ہے اسے پھینک دیں اور ہانڈیوں کو دھو لیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اچھا یہی کرلو۔

Narrated Salama bin Al-Akwa: We went out with the Prophet ﷺ to Khaibar. A man among the people said, "O Amir! Will you please recite to us some of your poetic verses?" So Amir got down and started chanting among them, saying, "By Allah! Had it not been for Allah, we would not have been guided." Amir also said other poetic verses which I do not remember. Allahs Apostle ﷺ said, "Who is this (camel) driver?" The people said, "He is Amir bin Al-Akwa," He said, "May Allah bestow His Mercy on him." A man from the People said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Would that you let us enjoy his company longer." When the people (Muslims) lined up, the battle started, and Amir was struck with his own sword (by chance) by himself and died. In the evening, the people made a large number of fires (for cooking meals). Allahs Apostle ﷺ said, "What is this fire? What are you making the fire for?" They said, "For cooking the meat of donkeys." He said, "Throw away what is in the pots and break the pots!" A man said, "O Allahs Prophet! May we throw away what is in them and wash them?" He said, "Never mind, you may do so." (See Hadith No. 509, Vol. 5).

6332Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کے قول وصل علیہم کا بیان اور اس شخص کا بیان جو صرف اپنے بھائی کیلئے دعا کرے، اپنے لئے نہ کرے، اور ابوموسیٰ نے بیان کیا کی نبی ﷺ نے فرمایا، کہ اے اللہ عبید ابی عامر کو بخش دے، اے اللہ عبداللہ بن قیس کے گناہ کو بخش دے۔

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو هُوَ ابْنُ مُرَّةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَتَاهُ رَجُلٌ بِصَدَقَةٍ قَالَ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ، فَأَتَاهُ أَبِي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى.

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اگر کوئی شخص صدقہ لاتا تو نبی کریم ﷺ فرماتے کہ اے اللہ ! فلاں کی آل اولاد پر اپنی رحمتیں نازل فرما۔ میرے والد صدقہ لائے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے اللہ ! ابی اوفی کی آل اولاد پر رحمتیں نازل فرما۔

Narrated Ibn Abi Aufa (RA) : Whenever a man brought his alms to the Prophet, the Prophet ﷺ would say, "O Allah! Bestow Your Blessing upon the family of so-and-so." When my father came to him (with his alms), he said, "O Allah! Bestow Your Blessings upon the family of Abi Aufa."

6333Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کے قول وصل علیہم کا بیان اور اس شخص کا بیان جو صرف اپنے بھائی کیلئے دعا کرے، اپنے لئے نہ کرے، اور ابوموسیٰ نے بیان کیا کی نبی ﷺ نے فرمایا، کہ اے اللہ عبید ابی عامر کو بخش دے، اے اللہ عبداللہ بن قیس کے گناہ کو بخش دے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرًا ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ، وَهُوَ نُصُبٌ كَانُوا يَعْبُدُونَهُ يُسَمَّى: الْكَعْبَةَ الْيَمَانِيَةَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَصَكَّ فِي صَدْرِي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، قَالَ: فَخَرَجْتُ فِي خَمْسِينَ فَارِسًا مِنْ أَحْمَسَ مِنْ قَوْمِي، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: فَانْطَلَقْتُ فِي عُصْبَةٍ مِنْ قَوْمِي فَأَتَيْتُهَا فَأَحْرَقْتُهَا، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا مِثْلَ الْجَمَلِ الْأَجْرَبِ، فَدَعَا لِأَحْمَسَ، وَخَيْلِهَا.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس نے کہ میں نے جریر بن عبداللہ بجلی سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی ایسا مرد مجاہد ہے جو مجھ کو ذی الخلصہ بت سے آرام پہنچائے وہ ایک بت تھا جس کو جاہلیت میں لوگ پوجا کرتے تھے اور اس کو کعبہ کہا کرتے تھے۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ ! اس خدمت کے لیے میں تیار ہوں لیکن میں گھوڑے پر ٹھیک جم کر بیٹھ نہیں سکتا ہوں آپ نے میرے سینہ پر ہاتھ مبارک پھیر کر دعا فرمائی کہ اے اللہ ! اسے ثابت قدمی عطا فرما اور اس کو ہدایت کرنے والا اور نور ہدایت پانے والا بنا۔ جریر نے کہا کہ پھر میں اپنی قوم احمس کے پچاس آدمی لے کر نکلا اور ابی سفیان نے یوں نقل کیا کہ میں اپنی قوم کی ایک جماعت لے کر نکلا اور میں وہاں گیا اور اسے جلا دیا پھر میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میں آپ کے پاس نہیں آیا جب تک میں نے اسے جلے ہوئے خارش زدہ اونٹ کی طرح سیاہ نہ کردیا۔ پس آپ نے قبیلہ احمس اور اس کے گھوڑوں کے لیے دعا فرمائی۔

Narrated Jarir (RA) : Allahs Apostle ﷺ said to me. "Will you relieve me from Dhi-al-Khalasa? " Dhi-al-Khalasa was an idol which the people used to worship and it was called Al-Ka’bah al Yamaniyya. I said, "O Allahs Apostle ﷺ I am a man who cant sit firm on horses." So he stroked my chest (with his hand) and said, "O Allah! Make him firm and make him a guiding and well-guided man." So I went out with fifty (men) from my tribe of Ahrnas. (The sub-narrator, Sufyan, quoting Jarir, perhaps said, "I went out with a group of men from my nation.") and came to Dhi-al-Khalasa and burnt it, and then came to the Prophet ﷺ and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! I have not come to you till I left it like a camel with a skin disease." The Prophet ﷺ then invoked good upon Ahmas and their cavalry (fighters).

6334Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کے قول وصل علیہم کا بیان اور اس شخص کا بیان جو صرف اپنے بھائی کیلئے دعا کرے، اپنے لئے نہ کرے، اور ابوموسیٰ نے بیان کیا کی نبی ﷺ نے فرمایا، کہ اے اللہ عبید ابی عامر کو بخش دے، اے اللہ عبداللہ بن قیس کے گناہ کو بخش دے۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَسٌ خَادِمُكَ، قَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ.

ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہا کہ میں نے انس (رض) سے سنا، کہا کہ ام سلیم (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ انس آپ کا خادم ہے اس کے حق میں دعا فرمائیے۔ نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی اللهم أكثر ماله وولده، و بارک له فيما أعطيته یا اللہ ! اس کے مال و اولاد کو زیادہ کر اور جو کچھ تو نے اسے دیا ہے، اس میں اسے برکت عطا فرمائیو۔

Narrated Anas (RA) : Um Sulaim said to the Prophet ﷺ "Anas is your servant." The Prophet ﷺ said, "O Allah! increase his wealth and offspring, and bless (for him) what ever you give him."

6335Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کے قول وصل علیہم کا بیان اور اس شخص کا بیان جو صرف اپنے بھائی کیلئے دعا کرے، اپنے لئے نہ کرے، اور ابوموسیٰ نے بیان کیا کی نبی ﷺ نے فرمایا، کہ اے اللہ عبید ابی عامر کو بخش دے، اے اللہ عبداللہ بن قیس کے گناہ کو بخش دے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقْرَأُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: رَحِمَهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً أَسْقَطْتُهَا فِي سُورَةِ كَذَا وَكَذَا.

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی کو مسجد میں قرآن پڑھتے سنا تو فرمایا اللہ اس پر رحم فرمائے اس نے مجھے فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں جو میں فلاں فلاں سورتوں سے بھول گیا تھا۔

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ heard a man reciting (the Quran) in the mosque. He said," May Allah bestow His Mercy on him, as he made me remember such and-such Verse which I had missed in such-and-such Sura."

6336Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کے قول وصل علیہم کا بیان اور اس شخص کا بیان جو صرف اپنے بھائی کیلئے دعا کرے، اپنے لئے نہ کرے، اور ابوموسیٰ نے بیان کیا کی نبی ﷺ نے فرمایا، کہ اے اللہ عبید ابی عامر کو بخش دے، اے اللہ عبداللہ بن قیس کے گناہ کو بخش دے۔

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَضِبَ حَتَّى رَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، وَقَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ.

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، کہا مجھ کو سلیمان بن مہران نے خبر دی، انہیں ابو وائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کوئی چیز تقسیم فرمائی تو ایک شخص بولا کہ یہ ایسی تقسیم ہے کہ اس سے اللہ کی رضا مقصود نہیں ہے۔ میں نے نبی کریم ﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ اس پر غصہ ہوئے اور میں نے خفگی کے آثار آپ کے چہرہ مبارک پر دیکھے اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے، انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔

Narrated Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ divided something (among the Muslims) and distributed the shares (of the booty). A man said, "This division has not been made to please Allah." When I informed the Prophet ﷺ about it, he became so furious that I noticed the signs of anger on his face and he then said, "May Allah bestow His Mercy on Moses (علیہ السلام), for he was hurt with more than this, yet he remained patient."

6337Sahih Bukhariصحیح

دعا میں قافیہ آرائی کی کراہت کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ أَبُو حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: حَدِّثْ النَّاسَ كُلَّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ أَبَيْتَ فَمَرَّتَيْنِ، فَإِنْ أَكْثَرْتَ فَثَلَاثَ مِرَارٍ، وَلَا تُمِلَّ النَّاسَ هَذَا الْقُرْآنَ، وَلَا أُلْفِيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِهِمْ فَتَقُصُّ عَلَيْهِمْ، فَتَقْطَعُ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ فَتُمِلُّهُمْ، وَلَكِنْ أَنْصِتْ فَإِذَا أَمَرُوكَ، فَحَدِّثْهُمْ وَهُمْ يَشْتَهُونَهُ، فَانْظُرِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَاجْتَنِبْهُ، فَإِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ لَا يَفْعَلُونَ إِلَّا ذَلِكَ، يَعْنِي لَا يَفْعَلُونَ إِلَّا ذَلِكَ الِاجْتِنَابَ.

ہم سے یحییٰ بن محمد بن سکن نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حبان بن ہلال ابوحبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ہارون مقری نے بیان، کہا ہم سے زبیر بن خریت نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے کہا کہ لوگوں کو وعظ ہفتہ میں صرف ایک دن جمعہ کو کیا کر، اگر تم اس پر تیار نہ ہو تو دو مرتبہ اگر تم زیادہ ہی کرنا چاہتے ہو تو پس تین دن اور لوگوں کو اس قرآن سے اکتا نہ دینا، ایسا نہ ہو کہ تم کچھ لوگوں کے پاس پہنچو، وہ اپنی باتوں میں مصروف ہوں اور تم پہنچتے ہی ان سے اپنی بات (بشکل وعظ) بیان کرنے لگو اور ان کی آپس کی گفتگو کو کاٹ دو کہ اس طرح وہ اکتا جائیں، بلکہ (ایسے مقام پر) تمہیں خاموش رہنا چاہیے۔ جب وہ تم سے کہیں تو پھر تم انہیں اپنی باتیں سناؤ۔ اس طرح کہ وہ بھی اس تقریر کے خواہشمند ہوں اور دعا میں قافیہ بندی سے پرہیز کرتے رہنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کو دیکھا ہے کہ وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتے تھے۔

Narrated Ikrima (RA) : Ibn Abbas (RA) said, "Preach to the people once a week, and if you wont, then preach them twice, but if you want to preach more, then let it be three times (a week only), and do not make the people fed-up with this Quran. If you come to some people who are engaged in a talk, dont start interrupting their talk by preaching, lest you should cause them to be bored. You should rather keep quiet, and if they ask you, then preach to them at the time when they are eager to hear what you say. And avoid the use of rhymed prose in invocation for I noticed that Allahs Apostle ﷺ and his companions always avoided it."

6338Sahih Bukhariصحیح

یقین کے ساتھ دعا کرے، اس لئے اللہ پر کوئی جبر کرنیوالا نہیں۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ، وَلَا يَقُولَنَّ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي، فَإِنَّهُ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالعزیز بن صہیب نے خبر دی، ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اللہ سے قطعی طور پر مانگے اور یہ نہ کہے کہ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے عطا فرما کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔

Narrated Anas (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "When anyone of you appeal to Allah for something, he should ask with determination and should not say, O Allah, if You wish, give me., for nobody can force Allah to do something against His Will.

6339Sahih Bukhariصحیح

یقین کے ساتھ دعا کرے، اس لئے اللہ پر کوئی جبر کرنیوالا نہیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ، فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ.

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس طرح نہ کہے کہ یا اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کر دے، میری مغفرت کر دے۔ بلکہ یقین کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "None of you should say: O Allah, forgive me if You wish; O Allah, be merciful to me if You wish, but he should always appeal to Allah with determination, for nobody can force Allah to do something against His Will."

6340Sahih Bukhariصحیح

بندے کی دعا مقبول ہوتی ہے جب کہ وہ جلد بازی سے کام نہ لے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ يَقُولُ: دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبدالرحمٰن بن ازہر کے غلام ابوعبید نے اور انہیں ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بندہ کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ وہ جلدی نہ کرے کہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی تھی اور میری دعا قبول نہیں ہوئی۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "The invocation of anyone of you is granted (by Allah) if he does not show impatience (by saying, "I invoked Allah but my request has not been granted.")

6341Sahih Bukhariصحیح

23- بَابُ رَفْعِ الأَيْدِي فِي الدُّعَاءِ:

باب : دعا میں ہاتھوں کا اٹھانا

وَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ الْأُوَيْسِيُّ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَشَرِيكٍ، سَمِعَا أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ.

اور ابوموسیٰ اشعری (رض) نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے دعا کی اور اپنے ہاتھ اٹھائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھی اور عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی کہ اے اللہ ! خالد نے جو کچھ کیا ہے میں اس سے بیزار ہوں۔ ابوعبداللہ امام بخاری (رح) نے کہا اور عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے کہا مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید اور شریک بن ابی نمر نے، انہوں نے انس (رض) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ اتنے اٹھائے کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔

Narrated Anas (RA): "The Prophet ﷺ raised his hands (in invocation) till I saw the whiteness of his armpits".

6342Sahih Bukhariصحیح

قبلہ رو ہوئے بغیر دعا مانگنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَتَغَيَّمَتِ السَّمَاءُ وَمُطِرْنَا حَتَّى مَا كَادَ الرَّجُلُ يَصِلُ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَلَمْ تَزَلْ تُمْطَرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ، فَقَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَصْرِفَهُ عَنَّا فَقَدْ غَرِقْنَا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَقَطَّعُ حَوْلَ الْمَدِينَةِ، وَلَا يُمْطِرُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ.

ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! اللہ سے دعا فرما دیجئیے کہ ہمارے لیے بارش برسائے (نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی) اور آسمان پر بادل چھا گیا اور بارش برسنے لگی، یہ حال ہوگیا کہ ہمارے لیے گھر تک پہنچنا مشکل تھا۔ یہ بارش اگلے جمعہ تک ہوتی رہی پھر وہی صحابی یا کوئی دوسرے صحابی اس دوسرے جمعہ کو کھڑے ہوئے اور کہا کہ اللہ سے دعا فرمائیے کہ اب بارش بند کر دے ہم تو ڈوب گئے۔ نبی کریم ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ ! ہمارے چاروں طرف بستیوں کو سیراب کر اور ہم پر بارش بند کر دے۔ چناچہ بادل ٹکڑے ہو کر مدینہ کے چاروں طرف بستیوں میں چلا گیا اور مدینہ والوں پر بارش رک گئی۔

Narrated Anas (RA) : While the Prophet ﷺ was delivering a sermon on a Friday, a man stood up and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Invoke Allah to bless us with rain." (The Prophet ﷺ invoked Allah for rain.) So, the sky became overcast and it started raining till one could hardly reach ones home. It kept on raining till the next Friday when the same man or another man got up and said (to the Prophet), "Invoke Allah to withhold the rain from us, for we have been drowned (with heavy rain )." The Prophet ﷺ said, "O Allah! Let it rain around us and not on us." Then the clouds started dispersing around Madinah and rain ceased to fall on the people of Medina.

6343Sahih Bukhariصحیح

قبلہ رو ہو کر دعا کرنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هَذَا الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي، فَدَعَا وَاسْتَسْقَى، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبادہ بن تمیم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن زید انصاری (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ اس عیدگاہ میں استسقاء کی دعا کے لیے نکلے اور بارش کی دعا کی، پھر آپ قبلہ رخ ہوگئے اور اپنی چادر کو پلٹا۔

Narrated Abdullah bin Zaid (RA) : Allahs Apostle ﷺ went out to this Musalla (praying place) to offer the prayer of Istisqa. He invoked Allah for rain and then faced the Qibla and turned his Rida (upper garment) inside out.

6344Sahih Bukhariصحیح

نبی ﷺ کا اپنے خادم کیلئے طول عمر اور کثرت مال کی دعا کرنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيٌّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَتْ أُمِّي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَادِمُكَ أَنَسٌ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ.

ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس (رض) نے کہ میری والدہ (ام سلیم رضی اللہ عنہ) نے کہا : یا رسول اللہ ! انس (رض) آپ کا خادم ہے اس کے لیے دعا فرما دیں۔ نبی کریم ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس کے مال و اولاد کو زیادہ کر اور جو کچھ تو نے اسے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما۔

Narrated Anas (RA) : My mother said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Please invoke Allah on behalf of your servant." He said, "O Allah! Increase his wealth and children, and bestow Your Blessing on whatever You give him." a time of distress.

6345Sahih Bukhariصحیح

تکلیف کے وقت دعا کرے کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ، يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ.

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ پریشانی کے وقت یہ دعا کرتے تھے لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله رب السموات والأرض، رب العرش العظيم اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بہت عظمت والا ہے اور برد بار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمین کا رب اور بڑے بھاری عرش کا رب ہے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ used to invoke Allah at the time of distress, saying, "La ilaha illal-lahu al-Azim, al-Halim, La ilaha illal-lahu Rabbu-s-samawati wal-ard wa Rabbu-l-arsh il-azim,"

6346Sahih Bukhariصحیح

تکلیف کے وقت دعا کرے کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ، وَقَالَ وَهْبٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، مِثْلَهُ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن ابی عبداللہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ حالت پریشانی میں یہ دعا کیا کرتے تھے لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله رب العرش العظيم، لا إله إلا الله رب السموات، ورب الأرض، ورب العرش الکريم اللہ صاحب عظمت اور بردبار کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے اور عرش عظیم کا رب ہے۔ اور وہب نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اس طرح بیان کیا۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : Allahs Apostle ﷺ used to say at a time of distress, "La ilaha illal-lahu Rabbul-l-arsh il-azim, La ilaha illallahu Rabbu-s-samawati wa Rabbu-l-ard, Rabbu-l-arsh-il-Karim."

6347Sahih Bukhariصحیح

سخت مصیبت سے پناہ مانگنے سے کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي سُمَيٌّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَتَعَوَّذُ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ، قَالَ سُفْيَانُ: الْحَدِيثُ ثَلَاثٌ زِدْتُ أَنَا وَاحِدَةً، لَا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ هِيَ.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ مصیبت کی سختی، تباہی تک پہنچ جانے، قضاء و قدر کی برائی اور دشمنوں کے خوش ہونے سے پناہ مانگتے تھے اور سفیان نے کہا کہ حدیث میں تین صفات کا بیان تھا۔ ایک میں نے بھلا دی تھی اور مجھے یاد نہیں کہ وہ ایک کون سی صفت ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ used to seek refuge with Allah from the difficult moment of a calamity and from being overtaken by destruction and from being destined to an evil end, and from the malicious joy of enemies. Sufyan said, "This narration contained three items only, but I added one. I do not know which one that was."

6348Sahih Bukhariصحیح

نبی ﷺ کا اللھم الرفیق الاعلی کہہ کر دعا مانگنا۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ في رجال من أهل العلم، أن عائشة رضي الله عنها، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ: لَنْ يُقْبَضَ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ، فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي، غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى السَّقْفِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى، قُلْتُ: إِذًا لَا يَخْتَارُنَا، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ، قَالَتْ: فَكَانَتْ تِلْكَ آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى.

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے بہت سے علم والوں کے سامنے خبر دی کہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب بیمار نہیں تھے تو فرمایا کرتے تھے کہ جب بھی کسی نبی کی روح قبض کی جاتی تو پہلے جنت میں اس کا ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے، اس کے بعد اسے اختیار دیا جاتا ہے (کہ چاہیں دنیا میں رہیں یا جنت میں چلیں) چناچہ جب نبی کریم ﷺ بیمار ہوئے اور سر مبارک میری ران پر تھا۔ اس وقت آپ پر تھوڑی دیر کے لیے غشی طاری ہوئی۔ پھر جب آپ کو اس سے کچھ ہوش ہوا تو چھت کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگے، پھر فرمایا اللهم الرفيق الأعلى اے اللہ ! رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔ میں نے سمجھ لیا کہ نبی کریم ﷺ اب ہمیں اختیار نہیں کرسکتے، میں سمجھ گئی کہ جو بات نبی کریم ﷺ صحت کے زمانے میں بیان فرمایا کرتے تھے، یہ وہی بات ہے۔ بیان کیا کہ یہ نبی کریم ﷺ کا آخری کلمہ تھا جو آپ نے زبان سے ادا فرمایا کہا اللهم الرفيق الأعلى اے اللہ ! رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔

Narrated Aisha (RA) : When Allahs Apostle ﷺ was healthy, he used to say, "No prophet dies till he is shown his place in Paradise, and then he is given the option (to live or die)." So when death approached him(during his illness), and while his head was on my thigh, he became unconscious for a while, and when he recovered, he fixed his eyes on the ceiling and said, "O Allah! (Let me join) the Highest Companions (see Quran 4:69)," I said, "So, he does not choose us." Then I realized that it was the application of the statement he used to relate to us when he was healthy. So that was his last utterance (before he died), i.e. "O Allah! (Let me join) the Highest Companions."

6349Sahih Bukhariصحیح

موت اور حیات کی دعا مانگنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ خَبَّابًا وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا، قَالَ: لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ،

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا، کہا کہ میں خباب بن ارت (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے سات داغ (کسی بیماری کے علاج کے لیے) لگوائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اگر ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔

Narrated Qais (RA) : I came to Khabbab who had been branded with seven brands(1) and he said, "Had Allahs Apostle ﷺ not forbidden us to invoke (Allah) for death, I would have invoked (Allah) for it."

6350Sahih Bukhariصحیح

موت اور حیات کی دعا مانگنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ: أَتَيْتُ خَبَّابًا وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا فِي بَطْنِهِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: لَوْلَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ.

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا، کہا کہ میں خباب بن ارت (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے اپنے پیٹ پر سات داغ لگوا رکھے تھے، میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ اگر نبی کریم ﷺ نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی ضرور دعا کرلیتا۔

Narrated Qais (RA) : I came to Khabbab who had been branded with seven brands over his abdomen, and I heard him saying, "If the Prophet: had not forbidden us to invoke (Allah) for death, I would have invoked Allah for it."