Sahih Bukhariصحيح البخاری

All 7,282 hadiths in order · Page 291 of 365

6208Sahih Bukhariصحیح

مشرک کی کنیت رکھنے کا بیان اور مسورنے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا مگر یہ کہ ابن ابی طالب چاہے ( یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ ؟ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ، قَالَ: نَعَمْ، هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ، لَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرَكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن حارث بن نوفل نے اور ان سے عباس بن عبدالمطلب (رض) نے کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے جناب ابوطالب کو ان کی وفات کے بعد کوئی فائدہ پہنچایا، وہ آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے اور آپ کے لیے لوگوں پر غصہ ہوا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہاں وہ دوزخ میں اس جگہ پر ہیں جہاں ٹخنوں تک آگ ہے اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے نیچے کے طبقے میں رہتے۔

Narrated Abdullah bin Al-Harith bin Naufal (RA) : Abbas bin Abdul Muttalib said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Did you benefit Abu Talib with anything as he used to protect and take care of you, and used to become angry for you?" The Prophet ﷺ said, "Yes, he is in a shallow place of Fire. But for me he would have been in the lowest part of the Fire."

6209Sahih Bukhariصحیح

تصریح سے بات نہ کہنا جھوٹ میں داخل نہیں ہے اور اسحٰق نے کہا میں نے انس (رض) سے سنا کہ ابوطلحہ کا ایک بیٹا مر گیا ابوطلحہ (رض) نے پوچھا لڑکا کیسا ہے ؟ ام سلیم (رض) نے جواب دیا اس کی جان آرام میں ہے اور میں گمان کرتی ہوں کہ اس نے راحت پائی ابوطلحہ (رض) نے گمان کیا کہ ام سلیم ٹھیک کہتی ہے۔

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَحَدَا الْحَادِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْفُقْ يَا أَنْجَشَةُ وَيْحَكَ بِالْقَوَارِيرِ.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے ثابت بنانی نے، ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تھے، راستہ میں حدی خواں نے حدی پڑھی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے انجشہ ! شیشوں کو آہستہ آہستہ لے کر چل، تجھ پر افسوس۔

Narrated Anas bin Malik (RA): Once the Prophet ﷺ was on one of his journeys, and the driver of the camels started chanting (to let the camels go fast). The Prophet ﷺ said to him. "(Take care) Drive slowly with the glass vessels, O Anjasha! Waihaka (May Allah be Merciful to you)."

6210Sahih Bukhariصحیح

تصریح سے بات نہ کہنا جھوٹ میں داخل نہیں ہے اور اسحٰق نے کہا میں نے انس (رض) سے سنا کہ ابوطلحہ کا ایک بیٹا مر گیا ابوطلحہ (رض) نے پر چھا لڑکا کیسا ہے ؟ ام سلیم (رض) نے جواب دیا اس کی جان آرام میں ہے اور میں گمان کرتی ہوں کہ اس نے راحت پائی ابوطلحہ (رض) نے گمان کیا کہ ام سلیم ٹھیک کہتی ہے۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ وَكَانَ غُلَامٌ يَحْدُو بِهِنَّ يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: يَعْنِي النِّسَاءَ.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی نے بیان کیا، ان سے انس و ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تھے، انجشہ نامی غلام عورتوں کی سواریوں کو حدی پڑھتا لے کر چل رہا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا انجشہ ! شیشوں کو آہستہ لے چل۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ مراد عورتیں تھیں۔

Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ was on a journey and a slave named Anjasha was chanting (singing) for the camels to let them go fast (while driving). The Prophet ﷺ said, "O Anjasha, drive slowly (the camels) with the glass vessels!" Abu Qilaba said, "By the glass vessels he meant the women (riding the camels)."

6211Sahih Bukhariصحیح

تصریح سے بات نہ کہنا جھوٹ میں داخل نہیں ہے اور اسحٰق نے کہا میں نے انس (رض) سے سنا کہ ابوطلحہ کا ایک بیٹا مر گیا ابوطلحہ (رض) نے پر چھا لڑکا کیسا ہے ؟ ام سلیم (رض) نے جواب دیا اس کی جان آرام میں ہے اور میں گمان کرتی ہوں کہ اس نے راحت پائی ابوطلحہ (رض) نے گمان کیا کہ ام سلیم ٹھیک کہتی ہے۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَادٍ يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ، وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ، قَالَ قَتَادَةُ: يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ.

ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے ایک حدی خواں تھے انجشہ نامی ان کی آواز بڑی اچھی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا انجشہ ! آہستہ چال اختیار کر، ان شیشوں کو مت توڑ۔ قتادہ نے بیان کیا کہ مراد کمزور عورتیں تھیں (کہ سواری سے گر نہ جائیں) ۔

Narrated Anas bin Malik (RA): The Prophet ﷺ had a Had (a camel driver) called Anjasha, and he had a nice voice. The Prophet ﷺ said to him, "(Drive) slowly, O Anjasha! Do not break the glass vessels!" And Qatada said, "(By vessels) he meant the weak women."

6212Sahih Bukhariصحیح

تصریح سے بات نہ کہنا جھوٹ میں داخل نہیں ہے اور اسحٰق نے کہا میں نے انس (رض) سے سنا کہ ابوطلحہ کا ایک بیٹا مر گیا ابوطلحہ (رض) نے پر چھا لڑکا کیسا ہے ؟ ام سلیم (رض) نے جواب دیا اس کی جان آرام میں ہے اور میں گمان کرتی ہوں کہ اس نے راحت پائی ابوطلحہ (رض) نے گمان کیا کہ ام سلیم ٹھیک کہتی ہے۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ، فَقَالَ: مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ مدینہ منورہ پر (ایک رات نامعلوم آواز کی وجہ سے) ڈر طاری ہوگیا۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ ابوطلحہ کے ایک گھوڑے پر سوار ہوئے۔ پھر (واپس آ کر) فرمایا ہمیں تو کوئی (خوف کی) چیز نظر نہ آئی، البتہ یہ گھوڑا تو گویا دریا تھا۔

Narrated Anas bin Malik (RA): There was a state of fear in Medina. Allahs Apostle ﷺ rode a horse belonging to Abu Talha (in order to see the matter). The Prophet ﷺ said, "We could not see anything, and we found that horse like a sea (fast in speed)."

6213Sahih Bukhariصحیح

کسی آدمی کا یہ کہنا کہ کیا یہ چیز نہیں ہے اور اس سے مراد یہ ہو کہ کیا یہ واقعہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ : سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسُوا بِشَيْءٍ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ.

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھ کو یحییٰ بن عروہ نے خبر دی، انہوں نے عروہ سے سنا، کہا کہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ان کی (پیشین گوئیوں کی) کوئی حیثیت نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! لیکن وہ بعض اوقات ایسی باتیں کرتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ بات، سچی بات ہوتی ہے جسے جِن فرشتوں سے سن کر اڑا لیتا ہے اور پھر اسے اپنے ولی (کاہن) کے کان میں مرغ کی آواز کی طرح ڈالتا ہے۔ اس کے بعد کاہن اس (ایک سچی بات میں) سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔

Narrated Aisha (RA) : Some people asked Allahs Apostle ﷺ about the fore-tellers. Allahs Apostle ﷺ said to them, "They are nothing (i.e., liars)." The people said, O Allahs Apostle ﷺ ! Sometimes they tell something which comes out to be true." Allahs Apostle ﷺ said, "That word which comes to be true is what a jinx snatches away by stealing and then pours it in the ear of his fore-teller with a sound similar to the cackle of a hen, and then they add to it one-hundred lies."

6214Sahih Bukhariصحیح

آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح پیدا کیا گیا اور آسمان کی طرف کہ کس طرح بلند کئے گئے اور ایوب نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے عائشہ (رض) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ثُمَّ فَتَرَ عَنِّي الْوَحْيُ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ.

ہم سے ابن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے جابر بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر میرے پاس وحی آنے کا سلسلہ بند ہوگیا۔ ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی، میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو میں نے پھر اس فرشتہ کو دیکھا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا، وہ آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : That he heard Allahs Apostle ﷺ saying. "Then there was a pause in the revelation of the Divine Inspiration to me. Then while I was walking all of a sudden I heard a voice from the sky, and I raised my sight towards the sky and saw the same angel who had visited me in the cave of Hira, sitting on a chair between the sky and the earth."

6215Sahih Bukhariصحیح

آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کا باین اور اللہ تعالیٰ کا قول کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح پیدا کیا گیا اور آسمان کی طرف کہ کس طرح بلند کئے گئے اور ایوب نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے عائشہ (رض) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا، فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْ بَعْضُهُ قَعَدَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَرَأَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190.

ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ مجھے شریک نے خبر دی، انہیں کریب نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ میں نے ایک رات میمونہ (رض) (خالہ) کے گھر گزاری، نبی کریم ﷺ بھی اس رات وہیں ٹھہرے ہوئے تھے۔ جب رات کا آخری تہائی حصہ ہوا یا اس کا بعض حصہ رہ گیا تو نبی کریم ﷺ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف دیکھا پھر اس آیت کی تلاوت کی إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب بلاشبہ آسمان کی اور زمین کی پیدائش میں اور دن رات کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : Once I stayed overnight at the house of Maimuna and the Prophet ﷺ was there with her. When it was the last third of the night, or some part of the night, the Prophet ﷺ got up looking towards the sky and recited: Verily! In the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of Night and Day, there are indeed signs for men of u understanding. (3.190)

6216Sahih Bukhariصحیح

پانی اور مٹی میں لکڑی مارنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودٌ يَضْرِبُ بِهِ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِحُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، فَذَهَبْتُ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، فَفَتَحْتُ لَهُ، وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، فَإِذَا عُمَرُ، فَفَتَحْتُ لَهُ، وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ، أَوْ تَكُونُ، فَذَهَبْتُ فَإِذَا عُثْمَانُ فَقُمْتُ، فَفَتَحْتُ لَهُ، وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ. قَالَ: اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ.

ہم سے مسدد نے کہا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عثمان بن غیاث نے، کہا ہم سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری نے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں تھے۔ نبی کریم ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، آپ اس کو پانی اور کیچڑ میں مار رہے تھے۔ اس دوران میں ایک صاحب نے باغ کا دروازہ کھلوانا چاہا۔ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اس کے لیے دروازہ کھول دے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنا دے۔ میں گیا تو وہاں ابوبکر (رض) موجود تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی پھر ایک اور صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دروازہ کھول دے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنا دے اس مرتبہ عمر (رض) تھے۔ میں نے ان کے لیے بھی دروازہ کھولا اور انہیں بھی جنت کی خوشخبری سنا دی۔ پھر ایک تیسرے صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ نبی کریم ﷺ اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا دروازہ کھول دے اور جنت کی خوشخبری سنا دے، ان آزمائشوں کے ساتھ جس سے (دنیا میں) انہیں دوچار ہونا پڑے گا۔ میں گیا تو وہاں عثمان (رض) تھے۔ ان کے لیے بھی میں نے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی اور وہ بات بھی بتادی جو نبی کریم ﷺ نے فرمائی تھی۔ عثمان (رض) نے کہا خیر اللہ مددگار ہے۔

Narrated Abu Musa (RA) : That he was in the company of the Prophet ﷺ in one of the gardens of Madinah and in the hand of the Prophet ﷺ there was a stick, and he was striking (slowly) the water and the mud with it. A man came (at the gate of the garden) and asked permission to enter. The Prophet ﷺ said, "Open the gate for him and give him the glad tidings of entering Paradise. "I went, and behold! It was Abu Bakr. So I opened the gate for him and informed him of the glad tidings of entering Paradise. Then another man came and asked permission to enter. The Prophet ﷺ said, "Open the gate for him and give him the glad tidings of entering Paradise." Behold! It was Umar. So I opened the gate for him and gave him the glad tidings of entering Paradise. Then another man came and asked permission to enter. The Prophet ﷺ was sitting in a leaning posture, so he sat up and said, "Open the gate for him and give him the glad tidings of entering Paradise with a calamity which will befall him or which will take place." I went, and behold ! It was Uthman. So I opened the gate for him and gave him the glad tidings of entering Paradise and also informed him of what the Prophet ﷺ had said (about a calamity). Uthman said, "Allah Alone Whose Help I seek (against that calamity).

6217Sahih Bukhariصحیح

اپنے ہاتھ سے زمین میں کسی چیز کو کریدنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ الْأَرْضَ بِعُودٍ، فَقَالَ: لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ فُرِغَ مِنْ مَقْعَدِهِ مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَقَالُوا: أَفَلَا نَتَّكِلُ. قَالَ: اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى سورة الليل آية 5الْآيَةَ..

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان و منصور نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک تھے۔ نبی کریم ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس کو آپ زمین پر مار رہے تھے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کا جنت یا دوزخ کا ٹھکانا طے نہ ہوچکا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا : پھر کیوں نہ ہم اس پر بھروسہ کرلیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص جس ٹھکانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کو ویسی ہی توفیق دی جائے گی۔ جیسا کہ قرآن شریف کے سورة واللیل میں ہے فأما من أعطى واتقى جس نے للہ خیرات کی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا آخر تک۔

Narrated Ali (RA) : We were with the Prophet ﷺ in a funeral procession, and he started scraping the ground with a small stick and said, "There is none amongst you but has been assigned a place (either) in Paradise and (or) in the Hell-Fire." The people said (to him), "Should we not depend upon it?" He said: carry on doing (good) deeds, for everybody will find easy such deeds as will lead him to his destined place. He then recited: "As for him who gives (in charity) and keeps his duty to Allah.." (92.5)

6218Sahih Bukhariصحیح

تعجب کے وقت تکبیر اور تسبیح پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ، وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجَرِ يُرِيدُ بِهِ أَزْوَاجَهُ حَتَّى يُصَلِّينَ، رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ فِي الْآخِرَةِ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَلَّقْتَ نِسَاءَكَ. قَالَ: لَا. قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے ہند بن حارث نے بیان کیا کہ ام سلمہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ (رات میں) بیدار ہوئے اور فرمایا سبحان اللہ ! اللہ کی رحمت کے کتنے خزانے آج نازل کئے گئے ہیں اور کس طرح کے فتنے بھی اتارے گئے ہیں۔ کون ہے ! جو ان حجرہ والیوں کو جگائے۔ نبی کریم ﷺ کی مراد ازواج مطہرات سے تھی تاکہ وہ نماز پڑھ لیں کیونکہ بہت سی دنیا میں کپڑے پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ اور ابن ابی ثور نے بیان کیا، ان سے ابن عباس (رض) نے اور ان سے عمر (رض) نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، کیا آپ نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا اللہ اکبر !۔

Narrated Um Salama (RA) : (One night) the Prophet ﷺ woke up and said, "Subhan Allah ! How many treasures have been (disclosed) sent down! And how many afflictions have been descended! Who will go and wake the sleeping lady-occupants up of these dwellings (for praying)?" (He meant by this his wives.) The Prophet ﷺ added, "A well-dressed soul (person) in this world may be naked in the "Hereafter." Umar said, "I asked the Prophet, Have you divorced your wives? He said, No. I said, Allahu Akbar. "

6219Sahih Bukhariصحیح

تعجب کے وقت تکبیر اور تسبیح پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُأَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً مِنَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ، فَقَامَ مَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْلِبُهَا، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ باب الْمَسْجِدِ الَّذِي عِنْدَ مَسْكَنِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِهِمَا رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَفَذَا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى رِسْلِكُمَا، إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، قَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا مَا قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَبْلَغَ الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے (دوسری سند) اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی عتیق نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے امام زین العابدین علی بن حسین نے کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ صفیہ بنت حی (رض) نے انہیں خبر دی کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس ملنے آئیں۔ نبی کریم ﷺ اس وقت مسجد میں رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کئے ہوئے تھے۔ عشاء کے وقت تھوڑی دیر انہوں نے نبی کریم ﷺ سے باتیں کیں اور واپس لوٹنے کے لیے اٹھیں تو نبی کریم ﷺ بھی انہیں چھوڑ آنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ جب وہ مسجد کے اس دروازہ کے پاس پہنچیں جہاں نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ (رض) کا حجرہ تھا، تو ادھر سے دو انصاری صحابی گزرے اور نبی کریم ﷺ کو سلام کیا اور آگے بڑھ گئے۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر جاؤ۔ یہ صفیہ بنت حی میری بیوی ہیں۔ ان دونوں صحابہ نے عرض کیا : سبحان اللہ، یا رسول اللہ۔ ان پر بڑا شاق گزرا۔ لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے، اس لیے مجھے خوف ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کوئی شبہ نہ ڈال دے۔

Narrated Safiya bint Huyai (RA) : The wife of the Prophet ﷺ that she went to Allahs Apostle ﷺ while he was in Itikaf (staying in the mosque) during the last ten nights of the month of Ramadan. She spoke to him for an hour (a while) at night and then she got up to return home. The Prophet ﷺ got up to accompany her, and when they reached the gate of the mosque opposite the dwelling place of Um Salama, the wife of the Prophet, two Ansari men passed by, and greeting Allahs Apostle ﷺ , they quickly went ahead. Allahs Apostle ﷺ said to them, "Do not be in a hurry She is Safiya, the daughter of Huyai." They said, "Subhan Allah! O Allahs Apostle ﷺ (how dare we suspect you)." That was a great thing for both of them. The Prophet ﷺ then said, "Satan runs in the body of Adams son (i.e. man) as his blood circulates in it, and I was afraid that he (Satan) might insert an evil thought in your hearts."

6220Sahih Bukhariصحیح

کنکری پھینکنے کی ممانعت کا بیان

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ صُهْبَانَ الْأَزْدِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ، وَقَالَ: إِنَّهُ لَا يَقْتُلُ الصَّيْدَ، وَلَا يَنْكَأُ الْعَدُوَّ، وَإِنَّهُ يَفْقَأُ الْعَيْنَ وَيَكْسِرُ السِّنَّ.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے عقبہ بن صہبان ازدی سے سنا، وہ عبداللہ بن مغفل مزنی سے نقل کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے کنکری پھینکنے سے منع کیا تھا اور فرمایا تھا کہ وہ نہ شکار مار سکتی ہے اور نہ دشمن کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے، البتہ آنکھ پھوڑ سکتی ہے اور دانت توڑ سکتی ہے۔

Narrated Abdullah bin Mughaffal Al-Muzani (RA) : The Prophet ﷺ forbade the throwing of stones (with the thumb and the index or middle finger), and said "It neither hunts a game nor kills (or hurts) an enemy, but it gouges out an eye or breaks a tooth."

6221Sahih Bukhariصحیح

چھینکنے والے کا الحمد للہ کہنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: هَذَا حَمِدَ اللَّهَ، وَهَذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ.

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس دو اصحاب چھینکے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک کا جواب یرحمک اللہ (اللہ تم پر رحم کرے) سے دیا اور دوسرے کا نہیں۔ نبی کریم ﷺ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ اس نے الحمدللہ کہا تھا (اس لیے اس کا جواب دیا) اور دوسرے نے الحمدللہ نہیں کہا تھا۔ چھینکنے والے کو الحمدللہ ضرور کہنا چاہیے اور سننے والوں کو یرحمک اللہ۔

Narrated Anas bin Malik (RA): Two men sneezed before the Prophet. The Prophet ﷺ said to one of them, "May Allah bestow His Mercy on you," but he did not say that to the other. On being asked (why), the Prophet ﷺ said, "That one praised Allah (at the time of sneezing), while the other did not praise Allah."

6222Sahih Bukhariصحیح

چھینکنے والا الحمدللہ کہے تو اس کا جواب دینا

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنِالْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ: أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجِنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَرَدِّ السَّلَامِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ. وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ: عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ قَالَ حَلْقَةِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالسُّنْدُسِ، وَالْمَيَاثِرِ.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اشعث بن سلیم نے کہ میں نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے سنا اور ان سے براء (رض) نے بیان کیا کہ ہمیں نبی کریم ﷺ نے سات باتوں کا حکم دیا تھا اور سات کاموں سے روکا تھا، ہمیں نبی کریم ﷺ نے بیمار کی مزاج پرسی کرنے، جنازہ کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کے جواب دینے، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے، سلام کا جواب دینے، مظلوم کی مدد کرنے اور قسم کھا لینے والے کی قسم پوری کرنے میں مدد دینے کا حکم دیا تھا اور نبی کریم ﷺ نے ہمیں سات کاموں سے روکا تھا، سونے کی انگوٹھی سے، یا بیان کیا کہ سونے کے چھلے سے، ریشم اور دیبا اور سندس (دیبا سے باریک ریشمی کپڑا) پہننے سے اور ریشمی زین سے۔

Narrated Al-Bara (RA) : The Prophet ﷺ ordered us to do seven (things) and forbade us from seven (other things): He ordered us to pay a visit to the sick, to follow funeral possessions, to say: May Allah be merciful to you to a sneezer, - if he says: Praise be to Allah, to accept invitation (invitation to a wedding banquet), to return greetings, to help the oppressed, and to help others to fulfill their oaths (provided it was not sinful). And he forbade us from seven (things): to wear golden rings or golden bangles, to wear silk (cloth), Dibaj, Sundus and Mayathir.

6223Sahih Bukhariصحیح

چھینک کے اچھے ہونے اور جمائی کے برے ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَحَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ يُشَمِّتَهُ، وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِذَا قَالَ: هَا ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوہریرہ (رض) نے اور ان سے نبی کریم ﷺ نے (فرمایا کہ) اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے اور الحمدللہ کہے تو ہر مسلمان پر جو اسے سنے، حق ہے کہ اس کا جواب یرحمک اللہ سے دے۔ لیکن جمائی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے اس لیے جہاں تک ہو سکے اسے روکے کیونکہ جب وہ منہ کھول کر ہاہاہا کہتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "Allah likes sneezing and dislikes yawning, so if someone sneezes and then praises Allah, then it is obligatory on every Muslim who heard him, to say: May Allah be merciful to you (Yar-hamuka-l-lah). But as regards yawning, it is from Satan, so one must try ones best to stop it, if one says Ha when yawning, Satan will laugh at him."

6224Sahih Bukhariصحیح

جب کوئی چھینکے تو اسے کس طرح جواب دیا جائے۔

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَإِذَا قَالَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَلْيَقُلْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن دینار نے خبر دی، وہ ابوصالح سے اور وہ ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی چھینکے تو الحمد الله کہے اور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی (راوی کو شبہ تھا) يرحمک الله کہے۔ جب ساتھی يرحمک الله کہے تو اس کے جواب میں چھینکنے والا يهديكم الله ويصلح بالکم۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, " If anyone of you sneezes, he should say Al-Hamdulillah (Praise be to Allah), and his (Muslim) brother or companion should say to him, Yar-hamuka-l-lah (May Allah bestow his Mercy on you). When the latter says Yar-hamuka-llah", the former should say, Yahdikumul-lah wa Yuslih balakum (May Allah give you guidance and improve your condition)."

6225Sahih Bukhariصحیح

چھینکنے والے کا جواب نہ دیا جائے اگر وہ الحمد للہ نہ کہے۔

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، شَمَّتَّ هَذَا وَلَمْ تُشَمِّتْنِي، قَالَ: إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَلَمْ تَحْمَدِ اللَّهَ.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں دو آدمیوں نے چھینکا۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے ان میں سے ایک کی چھینک پر یرحمک اللہ کہا اور دوسرے کی چھینک پر نہیں کہا۔ اس پر دوسرا شخص بولا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے ان کی چھینک پر یرحمک اللہ فرمایا۔ لیکن میری چھینک پر نہیں فرمایا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے الحمدللہ کہا تھا اور تم نے نہیں کہا تھا۔

Narrated Anas (RA) : Two men sneezed before the Prophet ﷺ and he said Tashmit to one of them, while he did not say Tashmit to the other. So that man said, "O Allahs Apostle ﷺ ! You said Tashmit to that fellow but you did not say Tashmit to me. "The Prophet ﷺ said, "That man praised Allah, but you did not praise Allah."

6226Sahih Bukhariصحیح

جب جمائی آئے تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لینے کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا عَطِسَ أَحَدُكُمْ وَحَمِدَ اللَّهَ كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا تَثَاؤَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَثَاءَبَ ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ.

ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے کیونکہ وہ بعض دفعہ صحت کی علامت ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے تو وہ الحمدللہ کہے لیکن جمائی لینا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اپنی قوت و طاقت کے مطابق اسے روکے۔ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "Allah loves sneezing but dislikes yawning; so if anyone of you sneezes and then praises Allah, every Muslim who hears him (praising Allah) has to say Tashmit to him. But as regards yawning, it is from Satan, so if one of you yawns, he should try his best to stop it, for when anyone of you yawns, Satan laughs at him."

6227Sahih Bukhariصحیح

سلام کی ابتداء کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ، طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ جُلُوسٌ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ، فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ. فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ. فَقَالُوا السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ، فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدُ حَتَّى الآنَ.

ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا، ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی۔ جب انہیں پیدا کرچکا تو فرمایا کہ جاؤ اور ان فرشتوں کو جو بیٹھے ہوئے ہیں، سلام کرو اور سنو کہ تمہارے سلام کا کیا جواب دیتے ہیں، کیونکہ یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔ آدم (علیہ السلام) نے کہا : السلام علیکم ! فرشتوں نے جواب دیا، السلام علیک ورحمۃ اللہ، انہوں نے آدم کے سلام پر ورحمۃ اللہ بڑھا دیا۔ پس جو شخص بھی جنت میں جائے گا آدم (علیہ السلام) کی صورت کے مطابق ہو کر جائے گا۔ اس کے بعد سے پھر خلقت کا قد و قامت کم ہوتا گیا، اب تک ایسا ہی ہوتا رہا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "Allah created Adam in his complete shape and form (directly), sixty cubits (about 3O meters) in height. When He created him, He said (to him), "Go and greet that group of angels sitting there, and listen what they will say in reply to you, for that will be your greeting and the greeting of your offspring." Adam (went and) said, As-Salamu alaikum (Peace be upon you). They replied, AsSalamu-Alaika wa Rahmatullah (Peace and Allahs Mercy be on you) So they increased Wa Rahmatullah The Prophet ﷺ added So whoever will enter Paradise, will be of the shape and form of Adam. Since then the creation of Adams (offspring) (i.e. stature of human beings is being diminished continuously) to the present time."