Sahih Bukhariصحيح البخاری

All 7,282 hadiths in order · Page 282 of 365

6018Sahih Bukhariصحیح

جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے تو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان، ان سے ابوحصین نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "Anybody who believes in Allah and the Last Day should not harm his neighbor, and anybody who believes in Allah and the Last Day should entertain his guest generously and anybody who believes in Allah and the Last Day should talk what is good or keep quiet. (i.e. abstain from all kinds of evil and dirty talk).

6019Sahih Bukhariصحیح

جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے تو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ، قَالَ: وَمَا جَائِزَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ابوشریح عدوی (رض) نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرما رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی دستور کے موافق ہر طرح سے عزت کرے۔ پوچھا : یا رسول اللہ ! دستور کے موافق کب تک ہے۔ فرمایا ایک دن اور ایک رات اور میزبانی تین دن کی ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بہتر بات کہے یا خاموش رہے۔

Narrated Abu Shuraih Al-Adawi (RA) : My ears heard and my eyes saw the Prophet ﷺ when he spoke, "Anybody who believes in Allah and the Last Day, should serve his neighbor generously, and anybody who believes in Allah and the Last Day should serve his guest generously by giving him his reward." It was asked. "What is his reward, O Allahs Apostle?" He said, "(To be entertained generously) for a day and a night with high quality of food and the guest has the right to be entertained for three days (with ordinary food) and if he stays longer, what he will be provided with will be regarded as Sadaqa (a charitable gift). And anybody who believes in Allah and the Last Day should talk what is good or keep quite (i.e. abstain from all kinds of dirty and evil talks)."

6020Sahih Bukhariصحیح

ہمسایہ کا حق دروازے کے قرب کے لحاظ سے ہے

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عِمْرَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي ؟ قَالَ: إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بابا.

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابوعمران نے خبر دی، کہا کہ میں نے طلحہ سے سنا اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میری پڑوسنیں ہیں (اگر ہدیہ ایک ہو تو) میں ان میں سے کس کے پاس ہدیہ بھیجوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس کا دروازہ تم سے (تمہارے دروازے سے) زیادہ قریب ہو۔

Narrated Aisha (RA) : I said, "O Allahs Apostle ﷺ ! I have two neighbors! To whom shall I send my gifts?" He said, "To the one whose gate in nearer to you."

6021Sahih Bukhariصحیح

ہرنیکی صدقہ ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ.

ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر نیک کام صدقہ ہے۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said, Enjoining, all that is good is a Sadaqa."

6022Sahih Bukhariصحیح

ہرنیکی صدقہ ہے

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌقَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ ؟ قَالَ: فَيَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُقَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَوْ لَمْ يَفْعَلْ ؟ قَالَ: فَيُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَقَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ؟ قَالَ: فَيَأْمُرُ بِالْخَيْرِ أَوْ قَالَ بِالْمَعْرُوفِقَالَ: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ؟ قَالَ: فَيُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ.

ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے سعید بن ابی بردہ بن ابی موسیٰ اشعری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ان کے دادا (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اگر کوئی چیز کسی کو (صدقہ کے لیے) جو میسر نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اس سے خود کو بھی فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی اگر اس میں اس کی طاقت نہ ہو یا کہا کہ نہ کرسکے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر کسی حاجت مند پریشان حال کی مدد کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اگر وہ یہ بھی نہ کرسکے۔ فرمایا کہ پھر بھلائی کی طرف لوگوں کو رغبت دلائے یا امر بالمعروف کا کرنا عرض کیا اور اگر یہ بھی نہ کرسکے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر برائی سے رکا رہے کہ یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔

Narrated Abu Musa Al-Ashari (RA) : The Prophet ﷺ said, "On every Muslim there is enjoined (a compulsory) Sadaqa (alms)." They (the people) said, "If one has nothing? He said, "He should work with his hands so that he may benefit himself and give in charity." They said, "If he cannot work or does not work?" He said, "Then he should help the oppressed unhappy person (by word or action or both)." They said, "If he does not do it?" He said, "Then he should enjoin what is good (or said what is reasonable). They said, "If he does not do that He said, "Then he should refrain from doing evil, for that will be considered for Him as a Sadaqa (charity) . "

6023Sahih Bukhariصحیح

اچھی گفتگو کرنے کا بیان اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی ﷺ سے روایت کیا کہ اچھی گفتگو صدقہ ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّارَ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ، ثُمَّ ذَكَرَ النَّارَ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ، قَالَ شُعْبَةُ: أَمَّا مَرَّتَيْنِ فَلَا أَشُكُّ، ثُمَّ قَالَ: اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا کہ مجھے عمرو نے خبر دی، انہیں خیثمہ نے اور ان سے عدی بن حاتم (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے جہنم کا ذکر کیا اور اس سے پناہ مانگی اور چہرے سے اعراض و ناگواری کا اظہار کیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے جہنم کا ذکر کیا اور اس سے پناہ مانگی اور چہرے سے اعراض و ناگواری کا اظہار کیا، شعبہ نے بیان کیا کہ دو مرتبہ نبی کریم ﷺ کے جہنم سے پناہ مانگنے کے سلسلے میں مجھے کوئی شک نہیں ہے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جہنم سے بچو۔ خواہ آدھی کھجور ہی (کسی کو) صدقہ کر کے ہو سکے اور اگر کسی کو یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی بات کر کے ہی۔

Narrated Adi bin Hatim (RA) : The Prophet ﷺ mentioned the (Hell) Fire and sought refuge (with Allah) from it, and turned his face to the other side. He mentioned the (Hell) Fire again and took refuge (with Allah) from it and turned his face to the other side. (Shuba, the sub-narrator, said, "I have no doubt that the Prophet ﷺ repeated it twice.") The Prophet ﷺ then said, "(O people!) Save yourselves from the (Hell) Fire even if with one half of a date fruit (given in charity), and if this is not available, then (save yourselves) by saying a good pleasant friendly word."

6024Sahih Bukhariصحیح

ہر امر میں نرمی برتنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَفَهِمْتُهَا فَقُلْتُ: وَعَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْلًا يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِفَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ! قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ.

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعید نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے عروہ بن زبیر نے کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا السام عليكم. (تمہیں موت آئے) عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ میں اس کا مفہوم سمجھ گئی اور میں نے ان کا جواب دیا کہ وعليكم السام واللعنة. (یعنی تمہیں موت آئے اور لعنت ہو) بیان کیا کہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ٹھہرو، اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی اور ملائمت کو پسند کرتا ہے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اس کا جواب دے دیا تھا کہ وعليكم (اور تمہیں بھی) ۔

Narrated Aisha (RA) : (the wife of the Prophet) A group of Jews entered upon the Prophet ﷺ and said, "As-Samu-Alaikum." (i.e. death be upon you). I understood it and said, "Wa-Alaikum As-Samu wal-lan. (death and the curse of Allah be Upon you)." Allahs Apostle ﷺ said "Be calm, O Aisha! Allah loves that on, should be kind and lenient in all matters." I said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Havent you heard what they (the Jews) have said?" Allahs Apostle ﷺ said "I have (already) said (to them) "And upon you ! "

6025Sahih Bukhariصحیح

ہر امر میں نرمی برتنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَا تُزْرِمُوهُ، ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَيْهِ.

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہا کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کردیا تھا۔ صحابہ کرام ان کی طرف دوڑے لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے پیشاب کو مت روکو۔ پھر آپ نے پانی کا ڈول منگوایا اور وہ پیشاب کی جگہ پر بہا دیا گیا۔

Narrated Anas bin Malik (RA): A bedouin urinated in the mosque and the people ran to (beat) him. Allahs Apostle ﷺ said, "Do not interrupt his urination (i.e. let him finish)." Then the Prophet ﷺ asked for a tumbler of water and poured the water over the place of urine.

6026Sahih Bukhari(6027)صحیح

ایمان داروں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي جَدِّي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا، ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ أَوْ طَالِبُ حَاجَةٍ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ.

ہم سے محمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ برید بن ابی بردہ نے کہا کہ مجھے میرے دادا ابوبردہ نے خبر دی، ان سے ان کے والد ابوموسیٰ اشعری (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے لیے اس طرح ہے جیسے عمارت کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تھامے رہتا ہے (گرنے نہیں دیتا) پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو قینچی کی طرح کرلیا۔ اور ایسا ہوا کہ نبی کریم ﷺ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک صاحب نے آ کر سوال کیا یا کوئی ضرورت پوری کرانی چاہی۔ نبی کریم ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم خاموش کیوں بیٹھے رہتے ہو بلکہ اس کی سفارش کرو تاکہ تمہیں بھی اجر ملے اور اللہ جو چاہے گا اپنے نبی کی زبان پر جاری کرے گا (تم اپنا ثواب کیوں کھوؤ) ۔

Narrated Abu Musa (RA) : The Prophet ﷺ said, "A believer to another believer is like a building whose different parts enforce each other." The Prophet ﷺ then clasped his hands with the fingers interlaced. (At that time) the Prophet ﷺ was sitting and a man came and begged or asked for something. The Prophet ﷺ faced us and said, "Help and recommend him and you will receive the reward for it, and Allah will bring about what He will through His Prophets tongue."

6028Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کا قول کہ جس شخص نے اچھی سفارش کی تو اس میں سے ایک حصہ اور جس نے بری سفارش کی تو اس کو اس میں سے ایک حصہ ملے گا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محافظ ہے، کفل بمعنی حصہ سے اور ابوموسی نے کہا کہ کفلین کے معنی حبشی زبان میں دہرے اجر کے ہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَتَاهُ السَّائِلُ أَوْ صَاحِبُ الْحَاجَةِ قَالَ: اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ مَا شَاءَ.

ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب کوئی مانگنے والا یا ضرورت مند آتا تو آپ ﷺ فرماتے کہ لوگو ! تم سفارش کرو تاکہ تمہیں بھی ثواب ملے اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہے گا فیصلہ کرائے گا۔

Narrated Abu Musa (RA) : Whenever a beggar or a person in need came to the Prophet, the Prophet ﷺ would say "Help and recommend him and you will receive the reward for it, and Allah will bring about what he will through His Prophets tongue

6029Sahih Bukhariصحیح

نبی ﷺ کو نہ تو فحش گوئی کی عادت تھی اور نہ قصداً فحش گوئی کرتے تھے

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، سَمِعْتُ مَسْرُوقًا ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَىعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حِينَ قَدِمَ مَعَ مُعَاوِيَةَ إِلَى الْكُوفَةِ، فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَخْيَرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ خُلُقًا.

ہم سے حفص بن عمر بن حارث ابوعمرو حوش نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، انہوں نے ابو وائل شقیق بن سلمہ سے سنا، انہوں نے مسروق سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عمر (رض) نے کہا (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق بن سلمہ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ جب معاویہ (رض) کے ساتھ عبداللہ بن عمرو بن عاص کوفہ تشریف لائے تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا اور بتلایا کہ نبی کریم ﷺ بدگو نہ تھے اور نہ آپ بدزبان تھے اور انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ آدمی ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔

Narrated Masruq (RA) : Abdullah bin Amr mentioned Allahs Apostle ﷺ saying that he was neither a Fahish nor a Mutafahish. Abdullah bin Amr added, Allahs Apostle ﷺ said, The best among you are those who have the best manners and character.

6030Sahih Bukhariصحیح

نبی ﷺ کو نہ تو فحش گوئی کی عادت تھی اور نہ قصداً فحش گوئی کرتے تھے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ يَهُودَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: عَلَيْكُمْ وَلَعَنَكُمُ اللَّهُ وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، قَالَ: مَهْلًا يَا عَائِشَةُ عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ وَالْفُحْشَقَالَتْ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ! قَالَ: أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ، رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ، وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِيَّ.

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے اور انہیں عائشہ (رض) نے کہ کچھ یہودی رسول اللہ ﷺ کے یہاں آئے اور کہا السام عليكم. (تم پر موت آئے) اس پر عائشہ (رض) نے کہا عليكم، ولعنکم الله، وغضب الله عليكم. کہ تم پر بھی موت آئے اور اللہ کی تم پر لعنت ہو اور اس کا غضب تم پر نازل ہو۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا، (ٹھہرو) عائشہ ! تمہیں نرم خوئی اختیار کرنے چاہیے سختی اور بد زبانی سے بچنا چاہیئے۔ عائشہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے ان کی بات نہیں سنی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم نے انہیں میرا جواب نہیں سنا، میں نے ان کی بات انہیں پر لوٹا دی اور ان کے حق میں میری بددعا قبول ہوجائے گی۔ لیکن میرے حق میں ان کی بددعا قبول ہی نہ ہوگی۔

Narrated Abdullah bin Mulaika (RA) : Aisha (RA) said that the Jews came to the Prophet ﷺ and said, "As-Samu Alaikum" (death be on you). Aisha (RA) said (to them), "(Death) be on you, and may Allah curse you and shower His wrath upon you!" The Prophet ﷺ said, "Be calm, O Aisha ! You should be kind and lenient, and beware of harshness and Fuhsh (i.e. bad words)." She said (to the Prophet), "Havent you heard what they (Jews) have said?" He said, "Havent you heard what I have said (to them)? I said the same to them, and my invocation against them will be accepted while theirs against me will be rejected (by Allah). "

6031Sahih Bukhariصحیح

نبی ﷺ کو نہ تو فحش گوئی کی عادت تھی اور نہ قصداً فحش گوئی کرتے تھے

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو يَحْيَى هُوَ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبابا وَلَا فَحَّاشًا وَلَا لَعَّانًا، كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمَعْتِبَةِ: مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ.

ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی انہوں نے کہا ہم کو ابویحییٰ فلیح بن سلیمان نے خبر دی، انہیں ہلال بن اسامہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نہ گالی دیتے تھے نہ بدگو تھے نہ بدخو تھے اور نہ لعنت ملامت کرتے تھے۔ اگر ہم میں سے کسی پر ناراض ہوتے اتنا فرماتے اسے کیا ہوگیا ہے، اس کی پیشانی میں خاک لگے۔

Narrated Anas bin Malik (RA): The Prophet ﷺ was not one who would abuse (others) or say obscene words, or curse (others), and if he wanted to admonish anyone of us, he used to say: "What is wrong with him, his forehead be dusted!"

6032Sahih Bukhariصحیح

نبی ﷺ کو نہ تو فحش گوئی کی عادت تھی اور نہ قصداً فحش گوئی کرتے تھے

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهُ قَالَ: بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ وَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ، فَلَمَّا جَلَسَ تَطَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ وَانْبَسَطَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا انْطَلَقَ الرَّجُلُ، قَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حِينَ رَأَيْتَ الرَّجُلَ قُلْتَ لَهُ: كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ تَطَلَّقْتَ فِي وَجْهِهِ وَانْبَسَطْتَ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ: مَتَى عَهِدْتِنِي فَحَّاشًا، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ.

ہم سے عمرو بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سواء نے بیان کیا، کہا ہم سے روح ابن قاسم نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ نبی کریم ﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ برا ہے فلاں قبیلہ کا بھائی۔ یا (آپ ﷺ نے فرمایا) کہ برا ہے فلاں قبیلہ کا بیٹا۔ پھر جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آ بیٹھا تو آپ اس کے ساتھ بہت خوش خلقی کے ساتھ پیش آئے۔ وہ شخص جب چلا گیا تو عائشہ (رض) نے آپ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! جب آپ نے اسے دیکھا تھا تو اس کے متعلق یہ کلمات فرمائے تھے، جب آپ اس سے ملے تو بہت ہی خندہ پیشانی سے ملے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے عائشہ ! تم نے مجھے بدگو کب پایا۔ اللہ کے یہاں قیامت کے دن وہ لوگ بدترین ہوں گے جن کے شر کے ڈر سے لوگ اس سے ملنا چھوڑ دیں۔

Narrated Aisha (RA) : A man asked permission to enter upon the Prophet. When the Prophet ﷺ saw him, he said, "What an evil brother of his tribe! And what an evil son of his tribe!" When that man sat down, the Prophet ﷺ behaved with him in a nice and polite manner and was completely at ease with him. When that person had left, Aisha said (to the Prophet). "O Allahs Apostle ﷺ ! When you saw that man, you said so-and-so about him, then you showed him a kind and polite behavior, and you enjoyed his company?" Allahs Apostle ﷺ said, "O Aisha! Have you ever seen me speaking a bad and dirty language? (Remember that) the worst people in Allahs sight on the Day of Resurrection will be those whom the people leave (undisturbed) to be away from their evil (deeds)."

6033Sahih Bukhariصحیح

حسن خلق اور سخاوت کا بیان اور یہ کہ بخل مکروہ ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں معمول سے زیادہ سخی ہوجاتے، حضرت ابوذر کا بیان ہے کہ جب ان کو نبی ﷺ کے مبعوث ہونے کی خبر ملی تو اپنے بھائی سے کہا کہ اس وادی میں جاؤ اور آپ کی باتیں سنو، جب وہ لوٹا تو اس نے بیان کیا کہ میں نے آپ کو اچھے اخلاق کا حکم دیتے ہوئے دیکھا

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَ النَّاسَ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ يَقُولُ: لَنْ تُرَاعُوا لَنْ تُرَاعُواوَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ، فِي عُنُقِهِ سَيْفٌ، فَقَالَ: لَقَدْ وَجَدْتُهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ.

ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ خوبصورت، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ والے (شہر کے باہر شور سن کر) گھبرا گئے۔ (کہ شاید دشمن نے حملہ کیا ہے) سب لوگ اس شور کی طرف بڑھے۔ لیکن نبی کریم ﷺ آواز کی طرف بڑھنے والوں میں سب سے آگے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ڈر کی بات نہیں، کوئی ڈر کی بات نہیں۔ نبی کریم ﷺ اس وقت ابوطلحہ کے (مندوب نامی) گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے، اس پر کوئی زین نہیں تھی اور گلے میں تلوار لٹک رہی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے اس گھوڑے کو سمندر پایا یا فرمایا کہ یہ تیز دوڑنے میں سمندر کی طرح تھا۔

Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ was the best among the people (both in shape and character) and was the most generous of them, and was the bravest of them. Once, during the night, the people of Madinah got afraid (of a sound). So the people went towards that sound, but the Prophet ﷺ having gone to that sound before them, met them while he was saying, "Dont be afraid, dont be afraid." (At that time) he was riding a horse belonging to Abu Talha and it was naked without a saddle, and he was carrying a sword slung at his neck. The Prophet ﷺ said, "I found it (the horse) like a sea, or, it is the sea indeed."

6034Sahih Bukhariصحیح

حسن خلق اور سخاوت کا بیان اور یہ کہ بخل مکروہ ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں معمول سے زیادہ سخی ہوجاتے، حضرت ابوذر کا بیان ہے کہ جب ان کو نبی ﷺ کے مبعوث ہونے کی خبر ملی تو اپنے بھائی سے کہا کہ اس وادی میں جاؤ اور آپ کی باتیں سنو، جب وہ لوٹا تو اس نے بیان کیا کہ میں نے آپ کو اچھے اخلاق کا حکم دیتے ہوئے دیکھا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قَطُّ فَقَالَ: لَا.

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، ان سے ابن منکدر نے بیان کیا، انہوں نے جابر (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی نے کوئی چیز مانگی ہو اور آپ نے اس کے دینے سے انکار کیا ہو۔

Narrated Jabir (RA) : Never was the Prophet ﷺ asked for a thing to be given for which his answer was no.

6035Sahih Bukhariصحیح

حسن خلق اور سخاوت کا بیان اور یہ کہ بخل مکروہ ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں معمول سے زیادہ سخی ہوجاتے، حضرت ابوذر کا بیان ہے کہ جب ان کو نبی ﷺ کے مبعوث ہونے کی خبر ملی تو اپنے بھائی سے کہا کہ اس وادی میں جاؤ اور آپ کی باتیں سنو، جب وہ لوٹا تو اس نے بیان کیا کہ میں نے آپ کو اچھے اخلاق کا حکم دیتے ہوئے دیکھا

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يُحَدِّثُنَا، إِذْ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَإِنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا.

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے شفیق نے بیان کیا، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن عمرو کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ ہم سے باتیں کر رہے تھے اسی دوران انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نہ بدگو تھے نہ بد زبانی کرتے تھے (کہ منہ سے گالیاں نکالیں) بلکہ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔

Narrated Masruq (RA) : We were sitting with Abdullah bin Amr (RA) who was narrating to us (Hadith): He said, "Allahs Apostle ﷺ was neither a Fahish nor a Mutafahhish, and he used to say, The best among you are the best in character (having good manners)."

6036Sahih Bukhariصحیح

حسن خلق اور سخاوت کا بیان اور یہ کہ بخل مکروہ ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں معمول سے زیادہ سخی ہوجاتے، حضرت ابوذر کا بیان ہے کہ جب ان کو نبی ﷺ کے مبعوث ہونے کی خبر ملی تو اپنے بھائی سے کہا کہ اس وادی میں جاؤ اور آپ کی باتیں سنو، جب وہ لوٹا تو اس نے بیان کیا کہ میں نے آپ کو اچھے اخلاق کا حکم دیتے ہوئے دیکھا

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ، فَقَالَ سَهْلٌ لِلْقَوْمِ: أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ، فَقَالَ الْقَوْمُ: هِيَ الشَّمْلَةُ، فَقَالَ سَهْلٌ: هِيَ شَمْلَةٌ مَنْسُوجَةٌ فِيهَا حَاشِيَتُهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكْسُوكَ هَذِهِ، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا فَلَبِسَهَا، فَرَآهَا عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحْسَنَ هَذِهِ فَاكْسُنِيهَا، فَقَالَ: نَعَمْ، فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَامَهُ أَصْحَابُهُ، قَالُوا: مَا أَحْسَنْتَ حِينَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا، وَقَدْ عَرَفْتَ أَنَّهُ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا فَيَمْنَعَهُ، فَقَالَ: رَجَوْتُ بَرَكَتَهَا حِينَ لَبِسَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلِّي أُكَفَّنُ فِيهَا.

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان (محمد بن مطرف) نے بیان کیا کہ کہا مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد (رض) نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بردہ لے کر آئیں پھر سہل نے موجود لوگوں سے کہا تمہیں معلوم ہے، کہ بردہ کیا چیز ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ بردہ شملہ کو کہتے ہیں۔ سہل (رض) نے کہا کہ ہاں لنگی جس میں حاشیہ بنا ہوا ہوتا ہے تو اس خاتون نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں یہ لنگی آپ کے پہننے کے لیے لائی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لنگی ان سے قبول کرلی۔ اس وقت آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی پھر آپ نے پہن لیا۔ صحابہ میں سے ایک صحابی عبدالرحمٰن بن عوف (رض) نے نبی کریم ﷺ کے بدن پر وہ لنگی دیکھی تو عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ بڑی عمدہ لنگی ہے، آپ مجھے اس کو عنایت فرما دیجئیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ لے لو، جب نبی کریم ﷺ وہاں سے اٹھ کر تشریف لے گئے تو اندر جا کر وہ لنگی بدل کر تہہ کر کے عبدالرحمٰن کو بھیج دی تو لوگوں نے ان صاحب کو ملامت سے کہا کہ تم نے نبی کریم ﷺ سے لنگی مانگ کر اچھا نہیں کیا، تم نے دیکھ لیا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے اسے اس طرح قبول کیا تھا گویا آپ کو اس کی ضرورت تھی۔ اس کے باوجود تم نے لنگی نبی کریم ﷺ سے مانگی، حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم ﷺ سے جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی ہے تو آپ انکار نہیں کرتے۔ اس صحابی نے عرض کیا کہ میں تو صرف اس کی برکت کا امیدوار ہوں کہ نبی کریم ﷺ اسے پہن چکے تھے میری غرض یہ تھی کہ میں اس لنگی میں کفن دیا جاؤں گا۔

Narrated Abu Hazim (RA) : Sahl bin Sad said that a woman brought a Burda (sheet) to the Prophet. Sahl asked the people, "Do you know what is a Burda?" The people replied, "It is a Shamla, a sheet with a fringe." That woman said, "O Allahs Apostle ﷺ ! I have brought it so that you may wear it." So the Prophet ﷺ took it because he was in need of it and wore it. A man among his companions, seeing him wearing it, said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Please give it to me to wear." The Prophet ﷺ said, "Yes." (and gave him that sheet). When the Prophet ﷺ left, the man was blamed by his companions who said, "It was not nice on your part to ask the Prophet ﷺ for it while you know that he took it because he was in need of it, and you also know that he (the Prophet) never turns down anybodys request that he might be asked for." That man said, "I just wanted to have its blessings as the Prophet ﷺ had put it on, so l hoped that I might be shrouded in it."

6037Sahih Bukhariصحیح

حسن خلق اور سخاوت کا بیان اور یہ کہ بخل مکروہ ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں معمول سے زیادہ سخی ہوجاتے، حضرت ابوذر کا بیان ہے کہ جب ان کو نبی ﷺ کے مبعوث ہونے کی خبر ملی تو اپنے بھائی سے کہا کہ اس وادی میں جاؤ اور آپ کی باتیں سنو، جب وہ لوٹا تو اس نے بیان کیا کہ میں نے آپ کو اچھے اخلاق کا حکم دیتے ہوئے دیکھا

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ الْعَمَلُ وَيُلْقَى الشُّحُّ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُقَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ: الْقَتْلُ الْقَتْلُ.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمانہ جلدی جلدی گزرے گا اور دین کا علم دنیا میں کم ہوجائے گا اور دلوں میں بخیلی سما جائے گی اور لڑائی بڑھ جائے گی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا هرج کیا ہوتا ہے ؟ فرمایا قتل خون ریزی۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "Time will pass rapidly, good deeds will decrease, and miserliness will be thrown (in the hearts of the people), and the Harj (will increase)." They asked, "What is the Harj?" He replied, "(It is) killing (murdering), (it is) murdering (killing).

6038Sahih Bukhariصحیح

حسن خلق اور سخاوت کا بیان اور یہ کہ بخل مکروہ ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں معمول سے زیادہ سخی ہوجاتے، حضرت ابوذر کا بیان ہے کہ جب ان کو نبی ﷺ کے مبعوث ہونے کی خبر ملی تو اپنے بھائی سے کہا کہ اس وادی میں جاؤ اور آپ کی باتیں سنو، جب وہ لوٹا تو اس نے بیان کیا کہ میں نے آپ کو اچھے اخلاق کا حکم دیتے ہوئے دیکھا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، سَمِعَ سَلَّامَ بْنَ مِسْكِينٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ وَلَا لِمَ صَنَعْتَ وَلَا أَلَّا صَنَعْتَ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے سلام بن مسکین سے سنا، کہا کہ میں نے ثابت سے سنا، کہا کہ ہم سے انس (رض) نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال تک خدمت کی لیکن آپ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ کبھی یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا۔

Narrated Anas (RA) : I served the Prophet ﷺ for ten years, and he never said to me, "Uf" (a minor harsh word denoting impatience) and never blamed me by saying, "Why did you do so or why didnt you do so?"