Sahih Bukhariصحيح البخاری

All 7,282 hadiths in order · Page 250 of 365

5344Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم میں سے جو وفات پاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں، بماتعملون خبیر تک

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍوَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا سورة البقرة آية 234، قَالَ: كَانَتْ هَذِهِ الْعِدَّةُ تَعْتَدُّ عِنْدَ أَهْلِ زَوْجِهَا وَاجِبًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ سورة البقرة آية 240، قَالَ: جَعَلَ اللَّهُ لَهَا تَمَامَ السَّنَةِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَصِيَّةً، إِنْ شَاءَتْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ، وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ سورة البقرة آية 240، فَالْعِدَّةُ كَمَا هِيَ وَاجِبٌ عَلَيْهَا زَعَمَ ذَلِكَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَقَالَعَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240، وَقَالَ عَطَاءٌ: إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهَا وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ: فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ سورة البقرة آية 234، قَالَ عَطَاءٌ: ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ، فَنَسَخَ السُّكْنَى، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَلَا سُكْنَى لَهَا.

مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، کہا ہم سے شبل بن عباد نے، ان سے ابن ابی نجیح نے اور ان سے مجاہد نے آیت کریمہ والذين يتوفون منکم ويذرون أزواجا الخ، یعنی اور جو لوگ تم میں سے وفات پاجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔ کے متعلق کہا کہ یہ عدت جو شوہر کے گھر والوں کے پاس گزاری جاتی تھی، پہلے واجب تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری والذين يتوفون منکم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن في أنفسهن من معروف الخ، یعنی اور جو لوگ تم میں سے وفات پاجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں (ان پر لازم ہے کہ) اپنی بیویوں کے حق میں نفع اٹھانے کی وصیت کر جائیں کہ وہ ایک سال تک (گھر سے) نہ نکالی جائیں لیکن اگر وہ (خود) نکل جائیں تو کوئی گناہ تم پر نہیں۔ اس باب میں جسے وہ (بیویاں) اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں۔ مجاہد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی بیوہ کے لیے سات مہینے بیس دن سال بھر میں سے وصیت قرار دی۔ اگر وہ چاہے تو شوہر کی وصیت کے مطابق وہیں ٹھہری رہے اور اگر چاہے (چار مہینے دس دن کی عدت) پوری کر کے وہاں سے چلی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم تک یعنی انہیں نکالا نہ جائے۔ البتہ اگر وہ خود چلی جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ کا یہی منشا ہے۔ پس عدت تو جیسی کہ پہلے تھی، اب بھی اس پر واجب ہے۔ ابن ابی نجیح نے اسے مجاہد سے بیان کیا اور عطاء نے بیان کیا کہ ابن عباس (رض) نے کہا کہ اس پہلی آیت نے بیوہ کو خاوند کے گھر میں عدت گزارنے کے حکم کو منسوخ کردیا، اس لیے اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے اور (اسی طرح اس آیت نے) اللہ تعالیٰ کے ارشاد غير إخراج یعنی انہیں نکالا نہ جائے۔ (کو بھی منسوخ کردیا ہے) ۔ عطاء نے کہا کہ اگر وہ چاہے تو اپنے (شوہر کے) گھر والوں کے یہاں ہی عدت گزارے اور وصیت کے مطابق قیام کرے اور اگر چاہے وہاں سے چلی آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فلا جناح عليكم فيما فعلن الخ، یعنی پس تم پر اس کا کوئی گناہ نہیں، جو وہ اپنی مرضی کے مطابق کریں۔ عطاء نے کہا کہ اس کے بعد میراث کا حکم نازل ہوا اور اس نے مکان کے حکم کو منسوخ کردیا۔ پس وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے اور اس کے لیے (شوہر کی طرف سے) مکان کا انتظام نہیں ہوگا۔

Narrated Mujahid (RA) : (regarding the Verse): If any of you dies and leaves wives behind, That was the period of the Iddah which the widow was obliged to spend in the house of the late husband. Then Allah revealed: And those of you who die and leave wives should bequeath for their wives a years maintenance and residence without turning them out, but if they leave, there is no blame on you for what they do of themselves, provided it is honorable (i.e. lawful marriage) (2.240) Mujahid said: Allah has ordered that a widow has the right to stay for seven months and twenty days with her husbands relatives through her husbands will and testament so that she will complete the period of one year (of Iddah). But the widow has the right to stay that extra period or go out of her husbands house as is indicated by the statement of Allah: But if they leave there is no blame on you,... (2.240) Ibn Abbas (RA) said: The above Verse has cancelled the order of spending the period of the Iddah at her late husbands house, and so she could spend her period of the Iddah wherever she likes. And Allah says: Without turning them out. Ata said: If she would, she could spend her period of the Iddah at her husbands house, and live there according to her (husbands) will and testament, and if she would, she could go out (of her husbands house) as Allah says: There is no blame on you for what they do of themselves. (2.240) Ata added: Then the Verses of inheritance were revealed and the order of residence (for the widow) was cancelled, and she could spend her period of the Iddah wherever she would like, and she was no longer entitled to be accommodated by her husbands family.

5345Sahih Bukhariصحیح

اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم میں سے جو وفات پاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں، بماتعملون خبیر تک

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْزَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، لَمَّا جَاءَهَا نَعِيُّ أَبِيهَا دَعَتْ بِطِيبٍ، فَمَسَحَتْ ذِرَاعَيْهَا، وَقَالَتْ: مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے بیان کیا، ان سے حمید بن نافع نے بیان، ان سے زینب بنت ام سلمہ (رض) نے بیان کیا اور ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان (رض) نے بیان کیا کہ جب ان کے والد کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے دونوں بازؤں پر لگائی پھر کہا کہ مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جو عورت اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن ہیں۔

Narrated Zainab bint Um Salama (RA) : When Um Habiba bint Abi Sufyan was informed of her fathers death, she asked for perfume and rubbed it over her arms and said, "I am not in need of perfume, but I have heard the Prophet ﷺ saying, "It is not lawful for a lady who believes in Allah and the Last Day to mourn for more than three days except for her husband for whom the (mourning) period is four months and ten days."

5346Sahih Bukhariصحیح

زانیہ کی کمائی اور نکاح فاسد کا بیان اور حسن نے کہا کہ اگر کسی ایسی عورت سے نادانستگی میں نکاح کیا، جس سے نکاح حرام تھا، تو ان دونوں کے درمیان تفریق کرادی جائے اور جو اس نے لے لیا وہ اسی کا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں پھر بعد میں ان کا ایک قول یہ ہے کہ وہ مہر مثل کی مستحق ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابومسعود (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے کتے کی قیمت، کاہن کی کمائی اور زانیہ عورت کے زنا کی کمائی کھانے سے منع فرمایا۔

Narrated Abu Masud (RA) : The Prophet ﷺ prohibited taking the price of a dog, the earnings of a soothsayer and the money earned by prostitution.

5347Sahih Bukhariصحیح

زانیہ کی کمائی اور نکاح فاسد کا بیان اور حسن نے کہا کہ اگر کسی ایسی عورت سے نادانستگی میں نکاح کیا، جس سے نکاح تھا، تو ان دونوں کے درمیان تفریق کرادی جائے اور جو اس نے لے لیا وہ اسی کا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں پھر بعد میں ان کا ایک قول یہ ہے کہ وہ مہر مثل کی مستحق ہے

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَنَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَكَسْبِ الْبَغِيِّ وَلَعَنَ الْمُصَوِّرِينَ.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عون بن ابی جحیفہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم ﷺ نے گودنے والی اور گدوانے والی، سود کھانے والے اور کھلانے والے پر لعنت بھیجی اور آپ نے کتے کی قیمت اور زانیہ کی کمائی کھانے سے منع فرمایا اور تصویر بنانے والوں پر لعنت کی۔

Narrated Abu Juhaifa (RA) : The Prophet ﷺ cursed the lady who practices tattooing and the one who gets herself tattooed, and one who eats (takes) Riba (usury) and the one who gives it. And he prohibited taking the price of a dog, and the money earned by prostitution, and cursed the makers of pictures.

5348Sahih Bukhariصحیح

زانیہ کی کمائی اور نکاح فاسد کا بیان اور حسن نے کہا کہ اگر کسی ایسی عورت سے نادانستگی میں نکاح کیا، جس سے نکاح تھا، تو ان دونوں کے درمیان تفریق کرادی جائے اور جو اس نے لے لیا وہ اسی کا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں پھر بعد میں ان کا ایک قول یہ ہے کہ وہ مہر مثل کی مستحق ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ.

ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں محمد بن جحادہ نے، انہیں ابوحازم نے اور انہیں ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے لونڈیوں کے زنا کی کمائی سے منع فرمایا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ forbade taking the earnings of a slave girl by prostitution.

5349Sahih Bukhariصحیح

اس عورت کے مہر کا بیان، جس سے صحبت کی جاچکی ہے اور دخول کب متحقق ہوتا ہے یا دخول یا مسیس سے پہلے اس کو طلاق دے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: فَرَّقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ، وَقَالَ: اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟ فَأَبَيَا، فَقَالَ: اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟ فَأَبَيَا، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، قَالَ أَيُّوبُ: فَقَالَ لِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: فِي الْحَدِيثِ شَيْءٌ لَا أَرَاكَ تُحَدِّثُهُ، قَالَ: قَالَ الرَّجُلُ: مَالِي ؟ قَالَ: لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا، فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهُوَ أَبْعَدُ مِنْكَ.

ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے اور ان سے سعید بن کبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر (رض) سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی ہو تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے قبیلہ بنی عجلان کے میاں بیوی میں جدائی کرا دی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا وہ رجوع کرے گا ؟ لیکن دونوں نے انکار کیا، آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے اسے جو تم میں سے ایک جھوٹا ہے وہ توبہ کرتا ہے یا نہیں ؟ لیکن دونوں نے پھر توبہ سے انکار کیا۔ پس نبی کریم ﷺ نے ان میں جدائی کرا دی۔ ایوب نے بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن دینار نے کہا کہ یہاں حدیث میں ایک چیز اور ہے میں نے تمہیں اسے بیان کرتے نہیں دیکھا۔ وہ یہ ہے کہ (تہمت لگانے والے) شوہر نے کہا تھا کہ میرا مال (مہر) دلوا دیجئیے۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ وہ تمہارا مال ہی نہیں رہا، اگر تم سچے بھی ہو تو تم اس سے خلوت کرچکے ہوا اور اگر جھوٹے ہو تب تو تم کو بطریق اولیٰ کچھ نہ ملنا چاہیئے۔

Narrated Said bin Jubair (RA) : I said to Ibn Umar (RA), "If a man accuses his wife of illegal sexual intercourse (what is the judgment)?" He said, "Allahs Prophet ﷺ separated the couple of Bani Ajlan (when the husband accused his wife for an illegal sexual intercourse). The Prophet ﷺ said, Allah knows that one of you two IS a liar; so will one of you repent? But they refused. He then again said, Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent? But they refused, whereupon he separated them by divorce." Aiyub (a sub-narrator) said: Amr bin Dinar said to me, "In the narration there is something which I do not see you mentioning, i.e. the husband said, "What about my money (Mahr)? The Prophet ﷺ said, "You are not entitled to take back money, for if you told the truth you have already entered upon her (and consummated your marriage with her) and if you are a liar then you are less entitled to take it back.

5350Sahih Bukhariصحیح

اس عورت کے متعہ کا بیان، جس کا مہر مقرر نہیں ہوا، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم پر کوئی حرج نہیں، اگر تم عورتوں کو طلاق دے دو، اس حال میں کہ تم نے ان سے صحبت نہیں کی ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ طلاق دی ہوئی عورتوں کے لئے قاعدہ کے مطابق فائدہ اٹھانا ہے متقیوں پر حق ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے شاید کہ تم سمجھو اور آپ ﷺ نے لعان میں متعہ کا ذکر نہیں کیا، جب کہ اس کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمُتَلاَعِنَيْنِ: حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لاَ سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا. قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي. قَالَ: لاَ مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا، فَهْوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا، فَذَاكَ أَبْعَدُ وَأَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عمر (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے لعان کرنے والے میاں بیوی سے فرمایا کہ تمہارا حساب اللہ کے یہاں ہوگا۔ تم میں سے ایک تو یقیناً جھوٹا ہے۔ تمہارے یعنی (شوہر کے) لیے اسے (بیوی کو) حاصل کرنے کا اب کوئی راستہ نہیں ہے۔ شوہر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرا مال ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اب وہ تمہارا مال نہیں رہا۔ اگر تم نے اس کے متعلق سچ کہا تھا تو وہ اس کے بدلہ میں ہے کہ تم نے اس کی شرمگاہ اپنے لیے حلال کی تھی اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی تب تو اور زیادہ تجھ کو کچھ نہ ملنا چاہیئے۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said to those who were involved in a case of Lian, "Your accounts are with Allah. One of you two is a liar. You (husband) have right on her (wife)." The husband said, "My money, O Allahs Apostle! ﷺ " The Prophet ﷺ said, "You are not entitled to take back any money. If you have told the truth, the Mahr that you paid, was for having sexual relations with her lawfully; and if you are a liar, then you are less entitled to get it back."

5351Sahih Bukhariصحیح

بال بچوں پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان اور لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں، آپ کہہ دیجئے کہ ضرورت سے زائد مال، اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے شاید کہ تم دنیا اور آخرت میں غور وفکر اور حسن نے کہا کہ عفو سے مراد ضرورت سے زائد مال ہے

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَقُلْتُ عَنِ النَّبِيِّ، فَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَنْفَقَ الْمُسْلِمُ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا کہا میں نے عبداللہ بن یزید انصاری سے سنا اور انہوں نے ابومسعود انصاری (رض) سے (عبداللہ بن یزید انصاری نے بیان کیا کہ) میں نے ان سے پوچھا کیا تم اس حدیث کو نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، نبی کریم ﷺ سے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب مسلمان اپنے گھر میں اپنے جورو بال بچوں پر اللہ کا حکم ادا کرنے کی نیت سے خرچ کرے تو اس میں بھی اس کو صدقے کا ثواب ملتا ہے۔

Narrated Abu Masud Al-Ansari (RA) : The Prophet ﷺ said, "When a Muslim spends something on his family intending to receive Allahs reward it is regarded as Sadaqa for him."

5352Sahih Bukhariصحیح

بال بچوں پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان اور لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں، آپ کہہ دیجئے کہ ضرورت سے زائد مال، اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے شاید کہ تم دنیا اور آخرت میں غور وفکر اور حسن نے کہا کہ عفو سے مراد ضرورت سے زائدمال ہے

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ اللَّهُ: أَنْفِقْ يَا ابْنَ آدَمَ أُنْفِقْ عَلَيْكَ.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم ! تو خرچ کر تو میں تجھ کو دیئے جاؤں گا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "Allah said, O son of Adam! Spend, and I shall spend on you."

5353Sahih Bukhariصحیح

بال بچوں پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان اور لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں، آپ کہہ دیجئے کہ ضرورت سے زائد مال، اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے شاید کہ تم دنیا اور آخرت میں غور وفکر اور حسن نے کہا کہ عفو سے مراد ضرورت سے زائدمال ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوِ الْقَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ.

ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے، ان سے ابوالغیث (سالم) نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بیواؤں اور مسکینوں کے کام آنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے، یا رات بھر عبادت اور دن کو روزے رکھنے والے کے برابر ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "The one who looks after a widow or a poor person is like a Mujahid (warrior) who fights for Allahs Cause, or like him who performs prayers all the night and fasts all the day."

5354Sahih Bukhariصحیح

بال بچوں پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان اور لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں، آپ کہہ دیجئے کہ ضرورت سے زائد مال، اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے شاید کہ تم دنیا اور آخرت میں غور وفکر اور حسن نے کہا کہ عفو سے مراد ضرورت سے زائدمال ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: لِي مَالٌ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَالشَّطْرِ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَالثُّلُثِ، قَالَ: الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ فِي أَيْدِيهِمْ وَمَهْمَا أَنْفَقْتَ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ وَلَعَلَّ اللَّهَ يَرْفَعُكَ يَنْتَفِعُ بِكَ نَاسٌ وَيُضَرُّ بِكَ آخَرُونَ.

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں سعید بن ابراہیم نے، ان سے عامر بن سعد (رض) نے، انہوں نے سعد (رض) سے کہ نبی کریم ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لایے۔ میں اس وقت مکہ مکرمہ میں بیمار تھا۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے کہا کہ میرے پاس مال ہے۔ کیا میں اپنے تمام مال کی وصیت کر دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا پھر آدھے کی کر دوں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں ! میں نے کہا، پھر تہائی کی کر دوں (فرمایا) تہائی کی کر دو اور تہائی بھی بہت ہے۔ اگر تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج و تنگ دست چھوڑو کہ لوگوں کے سامنے وہ ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جب بھی خرچ کرو گے تو وہ تمہاری طرف سے صدقہ ہوگا۔ یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھنے کے لیے اٹھاؤ گے اور امید ہے کہ ابھی اللہ تمہیں زندہ رکھے گا، تم سے بہت سے لوگوں کو نفع پہنچے گا اور بہت سے دوسرے (کفار) نقصان اٹھائیں گے۔

Narrated Sad (RA) : The Prophet ﷺ visited me at Makkah while I was ill. I said (to him), "I have property; May I bequeath all my property in Allahs Cause?" He said, "No." I said, "Half of it?" He said, "No." I said, "One third of it?" He said, "One-third (is alright), yet it is still too much, for youd better leave your inheritors wealthy than leave them poor, begging of others. Whatever you spend will be considered a Sadaqa for you, even the mouthful of food you put in the mouth of your wife. Anyhow Allah may let you recover, so that some people may benefit by you and others be harmed by you."

5355Sahih Bukhariصحیح

اہل وعیال کو خرچ دینا واجب ہے

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ. تَقُولُ الْمَرْأَةُ: إِمَّا أَنْ تُطْعِمَنِي وَإِمَّا أَنْ تُطَلِّقَنِي، وَيَقُولُ الْعَبْدُ: أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي، وَيَقُولُ الِابْنُ: أَطْعِمْنِي إِلَى مَنْ تَدَعُنِي، فَقَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا، هَذَا مِنْ كِيسِ أَبِي هُرَيْرَةَ.

ہم سے عمرو بن حفص نے بیان کیا۔ کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جسے دے کردینے والا مالدار ہی رہے اور ہر حال میں اوپر کا ہاتھ (دینے والے کا) نیچے کے (لینے والے کے) ہاتھ سے بہتر ہے اور (خرچ کی) ابتداء ان سے کرو جو تمہاری نگہبانی میں ہیں۔ عورت کو اس مطالبہ کا حق ہے کہ مجھے کھانا دے ورنہ طلاق دے۔ غلام کو اس مطالبہ کا حق ہے کہ مجھے کھانا دو اور مجھ سے کام لو۔ بیٹا کہہ سکتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ یا کسی اور پر چھوڑ دو ۔ لوگوں نے کہا : اے ابوہریرہ ! کیا (یہ آخری ٹکڑا بھی) کہ جورو کہتی ہے آخر تک۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ یہ ابوہریرہ کی خود اپنی سمجھ ہے۔

: Narrated Abu Hurairah (RA) : "The Prophet ﷺ said, The best alms is that which is given when one is rich, and a giving hand is better than a taking one, and you should start first to support your dependents. A wife says, You should either provide me with food or divorce me. A slave says, Give me food and enjoy my service." A son says, "Give me food; to whom do you leave me?" The people said, "O Abu Hurairah (RA) ! Did you hear that from Allahs Apostle ﷺ ?" He said, "No, it is from my own self."

5356Sahih Bukhariصحیح

اہل وعیال کو خرچ دینا واجب ہے

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ.

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد بن مسافر نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بہترین خیرات وہ ہے جسے دینے پر آدمی مالدار ہی رہے اور ابتداء ان سے کرو جو تمہاری نگرانی میں ہیں جن کے کھلانے پہنانے کے تم ذمہ دار ہو۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "The best alms is that which you give when you are rich, and you should start first to support your dependants."

5357Sahih Bukhariصحیح

اپنے اہل وعیال کے لئے مرد کا ایک سال کا خرچ جمع کرنا اور اہل وعیال کا خرچ کس طرح ہے؟

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: قَالَ لِي مَعْمَرٌ: قَالَ لِي الثَّوْرِيُّ: هَلْ سَمِعْتَ فِي الرَّجُلِ يَجْمَعُ لِأَهْلِهِ قُوتَ سَنَتِهِمْ أَوْ بَعْضِ السَّنَةِ ؟ قَالَ مَعْمَرٌ: فَلَمْ يَحْضُرْنِي، ثُمَّ ذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبِيعُ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَيَحْبِسُ لِأَهْلِهِ قُوتَ سَنَتِهِمْ.

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی، ان سے ابن عیینہ نے کہا کہ مجھ سے معمر نے بیان کیا کہ ان سے ثوری نے پوچھا کہ تم نے ایسے شخص کے بارے میں بھی سنا ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کا یا سال سے کم کا خرچ جمع کرلے۔ معمر نے بیان کیا کہ اس وقت مجھے یاد نہیں آیا پھر بعد میں یاد آیا کہ اس بارے میں ایک حدیث ابن شہاب نے ہم سے بیان کی تھی، ان سے مالک بن اوس نے اور ان سے ابن عمر (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ بنی نضیر کے باغ کی کھجوریں بیچ کر اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کی روزی جمع کردیا کرتے تھے۔

Narrated Umar (RA) : The Prophet ﷺ used to sell the dates of the garden of Bani An-Nadir and store for his family so much food as would cover their needs for a whole year.

5358Sahih Bukhariصحیح

باب

وَقَالَ يُونُسُ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، نَهَى اللَّهُ أَنْ تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَذَلِكَ أَنْ تَقُولَ الْوَالِدَةُ لَسْتُ مُرْضِعَتَهُ وَهِيَ أَمْثَلُ لَهُ غِذَاءً وَأَشْفَقُ عَلَيْهِ وَأَرْفَقُ بِهِ مِنْ غَيْرِهَا، فَلَيْسَ لَهَا أَنْ تَأْبَى بَعْدَ أَنْ يُعْطِيَهَا مِنْ نَفْسِهِ مَا جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَيْسَ لِلْمَوْلُودِ لَهُ أَنْ يُضَارَّ بِوَلَدِهِ وَالِدَتَهُ، فَيَمْنَعَهَا أَنْ تُرْضِعَهُ ضِرَارًا لَهَا إِلَى غَيْرِهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَسْتَرْضِعَا عَنْ طِيبِ نَفْسِ الْوَالِدِ وَالْوَالِدَةِ، فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا بَعْدَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فِصَالُهُ فِطَامُهُ.

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان والوالدات يرضعن أولادهن حولين کاملين لمن أراد أن يتم الرضاعة اور مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلائیں پورے دو سال (یہ مدت) اس کے لیے ہے جو دودھ کی مدت پوری کرنا چاہے۔ سے ارشاد بما تعملون بصير تک۔ اور سورة الاحقاف میں فرمایا وحمله وفصاله ثلاثون شهرا اور اس کا حمل اور اس کا دودھ چھوڑنا تیس مہینوں میں ہوتا ہے۔ اور سورة الطلاق میں فرمایا وإن تعاسرتم فسترضع له أخرى * لينفق ذو سعة من سعته ومن قدر عليه رزقه کہ اور اگر تم میاں بیوی آپس میں ضد کرو گے تو بچے کو دودھ کوئی دوسری عورت پلائے گی۔ وسعت والے کو خرچ دودھ پلانے کے لیے اپنی وسعت کے مطابق کرنا چاہیے اور جس کی آمدنی کم ہو اسے چاہیے کہ اسے اللہ نے جتنا دیا ہو اس میں خرچ کرے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد بعد عسر يسرا تک اور یونس نے زہری سے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کیا ہے کہ ماں اس کے بچہ کی وجہ سے باپ کو تکلیف پہنچائے اور اس کی صورت یہ ہے مثلاً کہ ماں کہہ دے کہ میں اسے دودھ نہیں پلاؤں گی حالانکہ اس کی غذا بچے کے زیادہ موافق ہے۔ وہ بچہ پر زیادہ مہربان ہوتی ہے اور دوسرے کے مقابلہ میں بچہ کے ساتھ وہ زیادہ لطف و نرمی کرسکتی ہے۔ اس لیے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ بچہ کو دودھ پلانے سے اس وقت بھی انکار کر دے جبکہ بچہ کا والد اسے (نان نفقہ میں) اپنی طرف سے وہ سب کچھ دینے کو تیار ہو جو اللہ نے اس پر فرض کیا ہے۔ اسی طرح فرمایا کہ باپ اپنے بچہ کی وجہ سے ماں کو نقصان نہ پہنچائے۔ اس کی صورت یہ ہے مثلاً باپ ماں کو دودھ پلانے سے روکے اور خواہ مخواہ کسی دوسری عورت کو دودھ پلانے کے لیے مقرر کرے۔ البتہ اگر ماں اور باپ اپنی خوشی سے کسی دوسری عورت کو دودھ پلانے کے لیے مقرر کریں تو دونوں پر کچھ گناہ نہ ہوگا اور اگر وہ والد اور والدہ دونوں اپنی رضا مندی اور مشورہ سے بچہ کا دودھ چھڑانا چاہیں تو پھر ان پر کچھ گناہ نہ ہوگا (گو ابھی مدت رخصت باقی ہو) فصال کے معنی دودھ چھڑانا۔

Narrated Malik bin Aus bin Al-Hadathan: Once I set out to visit `Umar (bin Al-Khattab). (While I was sitting there with him his gate-keeper, Yarfa, came and said, Uthman `AbdurRahman (bin `Auf), Az-Zubair and Sa`d (bin Abi Waqqas) are seeking permission (to meet you). `Umar said, Yes. So he admitted them and they entered, greeted, and sat down. After a short while Yarfa came again and said to `Umar 'Shall I admit `Ali and `Abbas? `Umar said, Yes. He admitted them and when they entered, they greeted and sat down. `Abbas said, O Chief of the Believers! Judge between me and this (`Ali). The group, `Uthman and his companions Sa`d, 'O Chief of the Believers! Judge between them and relieve one from the other. `Umar said. Wait! I beseech you by Allah, by Whose permission both the Heaven and the Earth stand fast ! Do you know that Allah's Apostle said. 'We (Apostles) do not bequeath anything to our heirs, but whatever we leave is to be given in charity.' And by that Allah's Apostles meant himself? The group said, He did say so. `Umar then turned towards 'All and `Abbas and said. I beseech you both by Allah, do you know that Allah's Apostle said that? They said, 'Yes `Umar said, Now, let me talk to you about this matter. Allah favored His Apostle with something of this property (war booty) which He did not give to anybody else. And Allah said:-- 'And what Allah has bestowed on His Apostle (as Fai Booty) from them for which you made no expedition with either cavalry or camelry . . . Allah is Able to do all things.' (59.6) So this property was especially granted to Allah's Apostle. But by Allah he neither withheld it from you, nor did he keep it for himself and deprive you of it, but he gave it all to you and distributed it among you till only this remained out of it. And out of this property Allah's Apostle used to provide his family with their yearly needs, and whatever remained, he would spend where Allah's Property (the revenues of Zakat) used to be spent. Allah's Apostle kept on acting like this throughout his lifetime. Now I beseech you by Allah, do you know that? They said, Yes. Then `Umar said to `Ali and `Abbas, I beseech you by Allah, do you both know that? They said, Yes. `Umar added, When Allah had taken His Apostle unto Him, Abu Bakr said, 'I am the successor of Allah's Apostle. So he took charge of that property and did with it the same what Allah's Apostle used to do, and both of you knew all about it then. Then `Umar turned towards `Ali and `Abbas and said, You both claim that Abu- Bakr was so-and-so! But Allah knows that he was honest, sincere, pious and right (in that matter). Then Allah caused Abu Bakr to die, and I said, 'I am the successor of Allah's Apostle and Abu Bakr.' So I kept this property in my possession for the first two years of my rule, and I used to do the same with it as Allah's Apostle and Abu Bakr used to do. Later both of you (`Ali and `Abbas) came to me with the same claim and the same problem. (O `Abbas!) You came to me demanding your share from (the inheritance of) the son of your brother, and he (`Ali) came to me demanding his wives share from (the inheritance of) her father. So I said to you, 'If you wish I will hand over this property to you, on condition that you both promise me before Allah that you will manage it in the same way as Allah's Apostle and Abu Bakr did, and as I have done since the beginning of my rule; otherwise you should not speak to me about it.' So you both said, 'Hand over this property to us on this condition.' And on this condition I handed it over to you. I beseech you by Allah, did I hand it over to them on that condition? The group said, Yes. `Umar then faced `Ali and `Abbas and said, I beseech you both by Allah, did I hand it over to you both on that condition? They both said, Yes. `Umar added, Do you want me now to give a decision other than that? By Him with Whose permission (order) both the Heaven and the Earth stand fast, I will never give any decision other than that till the Hour is established! But if you are unable to manage it (that property), then return it to me and I will be sufficient for it on your behalf .

5359Sahih Bukhariصحیح

کسی عورت کا شوہر غائب ہوجائے اس عورت کے اور بچے کے خرچ کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ، فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا بِالْمَعْرُوفِ.

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے خبر دی اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ ہند بنت عتبہ (رض) حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ابوسفیان (ان کے شوہر) بہت بخیل ہیں، تو کیا میرے لیے اس میں کوئی گناہ ہے اگر میں ان کے مال میں سے (اس کے پیٹھ پیچھے) اپنے بچوں کو کھلاؤں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں، لیکن دستور کے مطابق ہونا چاہیے۔

Narrated Aisha (RA) : Hind bint Utba came and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Abu Sufyan (RA) is a miser so is it sinful of me to feed our children from his property?" Allahs Apostle ﷺ said, "No except if you take for your needs what is just and reasonable. "

5360Sahih Bukhariصحیح

کسی عورت کا شوہر غائب ہوجائے اس عورت کے اور بچے کے خرچ کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِهِ.

ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر بن راشد نے، ان سے ہمام بن عیینہ نے، کہا کہ میں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر عورت اپنے شوہر کی کمائی میں سے، اس کے حکم کے بغیر (دستور کے مطابق) اللہ کے راستہ میں خرچ کر دے تو اسے بھی آدھا ثواب ملتا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "If the wife gives of her husbands property (something in charity) without his permission, he will get half the reward."

5361Sahih Bukhariصحیح

عورت کا اپنے شوہر کے گھر میں کام کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهِمَا السَّلَام أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهِ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى وَبَلَغَهَا أَنَّهُ جَاءَهُ رَقِيقٌ فَلَمْ تُصَادِفْهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ، قَالَ: فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا، فَذَهَبْنَا نَقُومُ، فَقَالَ: عَلَى مَكَانِكُمَا، فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى بَطْنِي، فَقَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا أَوْ أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا ؟ فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، کہا کہ مجھ سے حکم نے بیان کیا، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے، ان سے علی (رض) نے بیان کیا کہ فاطمہ (رض) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں یہ شکایت کرنے کے لیے حاضر ہوئیں کہ چکی پیسنے کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں کتنی تکلیف ہے۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ غلام آئے ہیں لیکن نبی کریم ﷺ سے ان کی ملاقات نہ ہوسکی۔ اس لیے عائشہ (رض) سے اس کا ذکر کیا۔ جب آپ ﷺ تشریف لائے تو عائشہ (رض) نے آپ سے اس کا تذکرہ کیا۔ علی (رض) نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ ہمارے یہاں تشریف لائے (رات کے وقت) ہم اس وقت اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے ہم نے اٹھنا چاہا آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم دونوں جس طرح تھے اسی طرح رہو۔ پھر نبی کریم ﷺ میرے اور فاطمہ کے درمیان بیٹھ گئے۔ میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے پیٹ پر محسوس کی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا، تم دونوں نے جو چیز مجھ سے مانگی ہے، کیا میں تمہیں اس سے بہتر ایک بات نہ بتادوں ؟ جب تم (رات کے وقت) اپنے بستر پر لیٹ جاؤ تو 33 مرتبہ سبحان الله ، 33 مرتبہ الحمد الله اور 34 مرتبہ الله اکبر پڑھ لیا کرو یہ تمہارے لیے لونڈی غلام سے بہتر ہے۔

Narrated Ali (RA) : Fatima went to the Prophet ﷺ complaining about the bad effect of the stone hand-mill on her hand. She heard that the Prophet ﷺ had received a few slave girls. But (when she came there) she did not find him, so she mentioned her problem to Aisha (RA). When the Prophet ﷺ came, Aisha (RA) informed him about that. Ali added, "So the Prophet ﷺ came to us when we had gone to bed. We wanted to get up (on his arrival) but he said, Stay where you are." Then he came and sat between me and her and I felt the coldness of his feet on my abdomen. He said, "Shall I direct you to something better than what you have requested? When you go to bed say Subhan Allah thirty-three times, Alhamdulillah thirty three times, and Allahu Akbar thirty four times, for that is better for you than a servant."

5362Sahih Bukhariصحیح

عورت کے لئے خادم رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ مُجَاهِدًا، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَىيُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْهُ ؟ تُسَبِّحِينَ اللَّهَ عِنْدَ مَنَامِكِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدِينَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرِينَ اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ: إِحْدَاهُنَّ أَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ، فَمَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ قِيلَ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ، قَالَ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ.

ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن ابی یزید نے بیان کیا، انہوں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن ابی لیلیٰ سے سنا، ان سے علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے تھے کہ فاطمہ (رض) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تھیں اور آپ سے ایک خادم مانگا تھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتادوں جو تمہارے لیے اس سے بہتر ہو۔ سوتے وقت تینتیس (33) مرتبہ سبحان الله ، تینتیس (33) مرتبہ الحمد الله اور چونتیس (34) مرتبہ الله اکبر پڑھ لیا کرو۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ ان میں سے ایک کلمہ چونتیس بار کہہ لے۔ علی (رض) نے کہا کہ پھر میں نے ان کلموں کو کبھی نہیں چھوڑا۔ ان سے پوچھا گیا جنگ صفین کی راتوں میں بھی نہیں ؟ کہا کہ صفین کی راتوں میں بھی نہیں۔

Narrated Ali Ibn Abi Talib (RA) : Fatima came to the Prophet ﷺ asking for a servant. He said, "May I inform you of something better than that? When you go to bed, recite "Subhan Allah thirty three times, Alhamdulillah thirty three times, and Allahu Akbar thirty four times. All added, I have never failed to recite it ever since." Somebody asked, "Even on the night of the battle of Siffin?" He said, "No, even on the night of the battle of Siffin."

5363Sahih Bukhariصحیح

مرد کا اپنے اہل وعیال کی خدمت کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، سَأَلْتُ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي الْبَيْتِ ؟ قَالَتْ: كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ، فَإِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ خَرَجَ.

ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود بن یزید نے کہ میں نے عائشہ (رض) سے پوچھا کہ گھر میں نبی کریم ﷺ کیا کیا کرتے تھے ؟ ام المؤمنین (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ گھر کے کام کیا کرتے تھے، پھر آپ جب اذان کی آواز سنتے تو باہر چلے جاتے تھے۔

Narrated Al-Aswad bin Yazid (RA) : I asked Aisha (RA) "What did the Prophet ﷺ use to do at home?" She said, "He used to work for his family, and when he heard the Adhan (call for the prayer), he would go out."