باب: آیت کی تفسیر میں ”اور نہ میں تکلف کرنے والوں سے ہوں“۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ، يَقُولَ: لِمَا لَا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ الدُّخَانِ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا قُرَيْشًا إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَبْطَئُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ، فَحَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْجُلُودَ حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ دُخَانًا مِنَ الْجُوعِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ 10 يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ 11 سورة الدخان آية 10-11، قَالَ فَدَعَوْا: رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ 12 أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُبِينٌ 13 ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ 14 إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ 15 سورة الدخان آية 12-15، أَفَيُكْشَفُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ: فَكُشِفَ، ثُمَّ عَادُوا فِي كُفْرِهِمْ، فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ يَوْمَ بَدْرٍ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ سورة الدخان آية 16.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے کہ ہم عبداللہ بن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے کہا : اے لوگو ! جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو تو وہ اسے بیان کرے اگر علم نہ ہو تو کہے کہ اللہ ہی کو زیادہ علم ہے کیونکہ یہ بھی علم ہی ہے کہ جو چیز نہ جانتا ہو اس کے متعلق کہہ دے کہ اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے بھی کہہ دیا تھا قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتکلفين کہ آپ کہہ دیجئیے کہ میں تم سے اس قرآن یا تبلیغ وحی پر کوئی اجرت نہیں چاہتا ہوں اور نہ میں بناوٹ کرنے والا ہوں۔ اور میں دخان (دھوئیں) کے بارے میں بتاؤں گا (جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے) رسول اللہ ﷺ نے قریش کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے تاخیر کی، نبی کریم ﷺ نے ان کے حق میں بددعا کی اللهم أعني عليهم بسبع کسبع يوسف اے اللہ ! ان پر یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کی سی قحط سالی کے ذریعہ میری مدد کر۔ چناچہ قحط پڑا اور اتنا زبردست کہ ہر چیز ختم ہوگئی اور لوگ مردار اور چمڑے کھانے پر مجبور ہوگئے۔ بھوک کی شدت کی وجہ سے یہ حال تھا کہ آسمان کی طرف دھواں ہی دھواں نظر آتا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم کہ پس انتظار کرو اس دن کا جب آسمان کھلا ہوا دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا یہ درد ناک عذاب ہے۔ بیان کیا کہ پھر قریش دعا کرنے لگے ربنا اکشف عنا العذاب إنا مؤمنون * أنى لهم الذکرى وقد جاء هم رسول مبين * ثم تولوا عنه وقالوا معلم مجنون * إنا کاشفو العذاب قليلا إنكم عائدون کہ اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہم سے ہٹا لے تو ہم ایمان لائیں گے لیکن وہ نصیحت سننے والے کہاں ہیں ان کے پاس تو رسول صاف معجزات و دلائل کے ساتھ آچکا اور وہ اس سے منہ موڑ چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ اسے تو سکھایا جا رہا ہے، یہ مجنون ہے، بیشک ہم تھوڑے دنوں کے لیے ان سے عذاب ہٹا لیں گے یقیناً تم پھر کفر ہی کی طرف لوٹ جاؤ گے کیا قیامت میں بھی عذاب ہٹایا جائے گا۔ ابن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ پھر یہ عذاب تو ان سے دور کردیا گیا لیکن جب وہ دوبارہ کفر میں مبتلا ہوگئے تو جنگ بدر میں اللہ نے انہیں پکڑا۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں اسی طرف اشارہ ہے يوم نبطش البطشة الکبرى إنا منتقمون کہ جس دن ہم سخت پکڑ کریں گے، بلاشبہ ہم بدلہ لینے والے ہیں۔
Narrated Masruq (RA) :
We came upon Abdullah bin Masud (RA) and he said "O people! If somebody knows something, he can say it, but if he does not know it, he should say, "Allah knows better, for it is a sign of having knowledge to say about something which one does not know, Allah knows better. Allah said to His Prophet: Say ( O Muhammad ﷺ !) No wage do I ask of You for this (Quran) nor am I one of the pretenders (a person who pretends things which do not exist). (38.86) Now I will tell you about Ad-Dukhan (the smoke), Allahs Apostle ﷺ invited the Quraish to embrace Islam, but they delayed their response. So he said, "O Allah! Help me against them by sending on them seven years of famine similar to the seven years of famine of Joseph." So the famine year overtook them and everything was destroyed till they ate dead animals and skins. People started imagining to see smoke between them and the sky because of severe hunger. Allah said:
Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people. . . This is painful torment. (44.10-11) (So they invoked Allah) "Our Lord! Remove the punishment from us really we are believers." How can there be an (effectual) reminder for them when an Apostle, explaining things clearly, has already come to them? Then they had turned away from him and said: One taught (by a human being), a madman? We shall indeed remove punishment for a while, but truly, you will revert (to disbelief). (44.12-15) Will the punishment be removed on the Day of Resurrection?" Abdullah added, "The punishment was removed from them for a while but they reverted to disbelief, so Allah destroyed them on the Day of Badr. Allah said:
The day We shall seize you with a mighty grasp. We will indeed (then) exact retribution." (44.16)
باب: آیت کی تفسیر ”آپ کہہ دو کہ اے میرے بندو! جو اپنے نفسوں پر زیادتیاں کر چکے ہو، اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو، بیشک اللہ سارے گناہ بخش دے گا، بیشک وہ بہت ہی بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے“۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ يَعْلَى: إِنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ كَانُوا قَدْ قَتَلُوا، وَأَكْثَرُوا، وَزَنَوْا، وَأَكْثَرُوا، فَأَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو إِلَيْهِ لَحَسَنٌ لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً، فَنَزَلَ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ سورة الفرقان آية 68، وَنَزَلَ: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ سورة الزمر آية 53.
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے یعلیٰ بن مسلم نے بیان کیا، انہیں سعید بن جبیر نے خبر دی اور انہیں ابن عباس (رض) نے کہ مشرکین میں بعض نے قتل کا گناہ کیا تھا اور کثرت سے کیا تھا۔ اسی طرح زناکاری بھی کثرت سے کرتے رہے تھے۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں اور جس کی طرف دعوت دیتے ہیں (یعنی اسلام) یقیناً اچھی چیز ہے، لیکن ہمیں یہ بتائیے کہ اب تک ہم نے جو گناہ کئے ہیں وہ اسلام لانے سے معاف ہوں گے یا نہیں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا اور کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی بھی جان کو قتل نہیں کرتے جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے، ہاں مگر حق کے ساتھ اور یہ آیت نازل ہوئی قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله آپ کہہ دیں کہ اے میرے بندو ! جو اپنے نفسوں پر زیادتیاں کرچکے ہو، اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو، بیشک اللہ سارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ بیشک اللہ وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
Some pagans who committed murders in great number and committed illegal sexual intercourse excessively, came to Muhammad and said, " O Muhammad ﷺ ! Whatever you say and invite people to, is good: but we wish if you could inform us whether we can make an expiration for our (past evil) deeds." So the Divine Verses came: Those who invoke not with Allah any other god, not kill such life as Allah has forbidden except for just cause, nor commit illegal sexual intercourse. (25.68) And there was also revealed:-- Say: O My slaves who have transgressed against their souls! Despair not of the Mercy of Allah. (39.53)
باب: آیت کی تفسیر ”اور ان لوگوں نے اللہ کی قدر و عظمت نہ پہچانی جیسی کہ اس کی قدر و عظمت پہچاننی چاہئے تھی“۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْأَحْبَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّا نَجِدُ أَنَّ اللَّهَ يَجْعَلُ السَّمَوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَسَائِرَ الْخَلَائِقِ عَلَى إِصْبَعٍ، فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَصْدِيقًا لِقَوْلِ الْحَبْرِ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ سورة الزمر آية 67.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہ علماء یہود میں سے ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا : اے محمد ! ہم تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اس طرح زمین کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر، پھر فرمائے گا کہ میں ہی بادشاہ ہوں۔ نبی کریم ﷺ اس پر ہنس دیئے اور آپ کے سامنے کے دانت دکھائی دینے لگے۔ آپ کا یہ ہنسنا اس یہودی عالم کی تصدیق میں تھا۔ پھر آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی وما قدروا الله حق قدره والأرض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه سبحانه وتعالى عما يشرکون اور ان لوگوں نے اللہ کی عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہیے تھی اور حال یہ کہ ساری زمین اسی کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے، وہ ان لوگوں کے شرک سے بالکل پاک اور بلند تر ہے۔
Narrated Abdullah (RA) :
A (Jewish) Rabbi came to Allahs Apostle ﷺ and he said, " O Muhammad ﷺ ! We learn that Allah will put all the heavens on one finger, and the earths on one finger, and the trees on one finger, and the water and the dust on one finger, and all the other created beings on one finger. Then He will say, I am the King. Thereupon the Prophet ﷺ smiled so that his pre-molar teeth became visible, and that was the confirmation of the Rabbi. Then Allahs Apostle ﷺ recited:
No just estimate have they made of Allah such as due to Him. (39.67)
باب: آیت «والأرض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه» کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ وَيَطْوِي السَّمَوَاتِ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد بن مسافر نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے ابوسلمہ اور ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ قیامت کے دن اللہ ساری زمین کو اپنی مٹھی میں لے گا اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا۔ پھر فرمائے گا أنا الملک، أين ملوک الأرض آج حکومت صرف میری ہے، دنیا کے بادشاہ آج کہاں ہیں ؟
Narrated Abu Hurairah (RA) :
I heard Allahs Apostle ﷺ saying, "Allah will hold the whole earth, and roll all the heavens up in His Right Hand, and then He will say, I am the King; where are the kings of the earth?"
باب: آیت کی تفسیر میں ”اور صور پھونکا جائے گا تو سب بیہوش ہو جائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوا اس کے جس کو اللہ چاہے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو پھر اچانک سب کے سب دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے“۔
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي أَوَّلُ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ بَعْدَ النَّفْخَةِ الْآخِرَةِ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى مُتَعَلِّقٌ بِالْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَكَذَلِكَ كَانَ أَمْ بَعْدَ النَّفْخَةِ.
مجھ سے حسن نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرحیم نے خبر دی، انہیں زکریا بن ابی زائدہ نے، انہیں عامر نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آخری مرتبہ صور پھونکے جانے کے بعد سب سے پہلے اپنا سر اٹھانے والا میں ہوں گا لیکن اس وقت میں موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھوں گا کہ عرش کے ساتھ لپٹے ہوئے ہیں، اب مجھے نہیں معلوم کہ وہ پہلے ہی سے اسی طرح تھے یا دوسرے صور کے بعد (مجھ سے پہلے) اٹھ کر عرش الٰہی کو تھام لیں گے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "I will be the first to raise my head after the second blowing of the trumpet and will see Moses (علیہ السلام) hanging the Throne, and I will not know whether he had been in that state all the time or after the blowing of the trumpet."
باب: آیت کی تفسیر میں ”اور صور پھونکا جائے گا تو سب بیہوش ہو جائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوا اس کے جس کو اللہ چاہے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو پھر اچانک سب کے سب دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے“۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ، قَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَرْبَعُونَ يَوْمًا ؟ قَالَ: أَبَيْتُ، قَالَ: أَرْبَعُونَ سَنَةً، قَالَ: أَبَيْتُ، قَالَ: أَرْبَعُونَ شَهْرًا، قَالَ: أَبَيْتُ، وَيَبْلَى كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْإِنْسَانِ إِلَّا عَجْبَ ذَنَبِهِ فِيهِ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ.
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے ابوصالح سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دونوں صوروں کے پھونکے جانے کا درمیانی عرصہ چالیس ہے۔ ابوہریرہ (رض) کے شاگردوں نے پوچھا : کیا چالیس دن مراد ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں پھر انہوں نے پوچھا : چالیس سال ؟ اس پر بھی انہوں نے انکار کیا۔ پھر انہوں نے پوچھا : چالیس مہینے ؟ اس کے متعلق بھی انہوں نے کہا کہ مجھ کو خبر نہیں اور ہر چیز فنا ہوجائے گی، سوا ریڑھ کی ہڈی کے کہ اسی سے ساری مخلوق دوبارہ بنائی جائے گی۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "Between the two blowing of the trumpet there will be forty." The people said, "O Abu Hurairah (RA) ! Forty days?" I refused to reply. They said, "Forty years?" I refused to reply and added: Everything of the human body will decay except the coccyx bone (of the tail) and from that bone Allah will reconstruct the whole body.
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَخْبِرْنِي بِأَشَدِّ مَا صَنَعَ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ، فَأَخَذَ بِمَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوَى ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ، فَخَنَقَهُ بِهِ خَنْقًا شَدِيدًا، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ، فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ، وَدَفَعَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن ابراہیم تیمی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، آپ نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ سخت معاملہ مشرکین نے کیا کیا تھا ؟ عبداللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کعبہ کے قریب نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اس نے آپ کا شانہ مبارک پکڑ کر آپ کی گردن میں اپنا کپڑا لپیٹ دیا اور اس کپڑے سے آپ کا گلا بڑی سختی کے ساتھ گھونٹنے لگا۔ اتنے میں ابوبکر صدیق (رض) بھی آگئے اور انہوں نے اس بدبخت کا مونڈھا پکڑ کر اسے نبی کریم ﷺ سے جدا کیا اور کہا کہ کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کردینا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کے پاس سے اپنی سچائی کے لیے روشن دلائل بھی ساتھ لایا ہے۔
Narrated Urwa bin Az-Zubair (RA) :
I asked Abdullah bin Amr (RA) bin Al-As to inform me of the worst thing the pagans had done to Allahs Apostle. He said: "While Allahs Apostle ﷺ was praying in the courtyard of the Ka’bah, Uqba bin Abi Muait came and seized Allahs Apostle ﷺ by the shoulder and twisted his garment round his neck and throttled him severely. Abu Bakr (RA) came and seized Uqbas shoulder and threw him away from Allahs Apostle ﷺ and said, "Would you kill a man because he says: My Lord is Allah, and has come to you with clear Signs from your Lord?" (40.28)
باب: آیت کی تفسیر ”اور تم اس بات سے اپنے کو چھپا ہی نہیں سکتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری جلدیں گواہی دیں گی، بلکہ تمہیں تو یہ خیال تھا کہ اللہ کو بہت سی ان چیزوں کی خبر ہی نہیں ہے جنہیں تم کرتے رہے“۔
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلا أَبْصَارُكُمْ سورة فصلت آية 22 الْآيَةَ، قَالَ: كَانَ رَجُلَانِ مِنْ قُرَيْشٍ وَخَتَنٌ لَهُمَا مِنْ ثَقِيفَ أَوْ رَجُلَانِ مِنْ ثَقِيفَ وَخَتَنٌ لَهُمَا مِنْ قُرَيْشٍ فِي بَيْتٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَتُرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ حَدِيثَنَا، قَالَ بَعْضُهُمْ: يَسْمَعُ بَعْضَهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَئِنْ كَانَ يَسْمَعُ بَعْضَهُ لَقَدْ يَسْمَعُ كُلَّهُ، فَأُنْزِلَتْ: وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلا أَبْصَارُكُمْ سورة فصلت آية 22 الْآيَةَ.
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے روح بن قاسم نے، ان سے مجاہد نے، ان سے ابومعمر نے اور ان سے ابن مسعود (رض) نے آیت وما کنتم تستترون أن يشهد، عليكم سمعکم اور تم اس بات سے اپنے کو چھپا نہیں سکتے تھے کہ تمہارے کان گواہی دیں گے۔ الخ کے متعلق کہا کہ قریش کے دو آدمی اور بیوی کی طرف سے ان کے قبیلہ ثقیب کا کوئی رشتہ دار یا ثقیف کے دو افراد تھے اور بیوی کی طرف قریش کا کوئی رشتہ دار، یہ خانہ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے بعض نے کہا کہ کیا تمہارا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری باتیں سنتا ہوگا ایک نے کہا کہ بعض باتیں سنتا ہے۔ دوسرے نے کہا کہ اگر بعض باتیں سن سکتا ہے تو سب سنتا ہوگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی وما کنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعکم ولا أبصارکم اور تم اس بات سے اپنے کو چھپا ہی نہیں سکتے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں گواہی دیں گی۔ آخر آیت وذلکم ظنکم تک۔
Narrated Ibn Masud (RA) :
(regarding) the Verse: And you have not been screening against yourself lest your ears, and your eyes and your skins should testify against you.. (41.22) While two persons from Quraish and their brother-in-law from Thaqif (or two persons from Thaqif and their brother-in-law from Quraish) were in a house, they said to each other, "Do you think that Allah hears our talks?" Some said, "He hears a portion thereof" Others said, "If He can hear a portion of it, He can hear all of it." Then the following Verse was revealed:
And you have not been screening against yourself lest your ears, and your eyes and your skins should testify against you... (41.22)
تفسیر سورت حم السجدہ! طاؤس نے ابن عباس سے نقل کیا کہ ائتیا طوعا بمعنی اعطیا یعنی تم دونوں قالتا اتینا طائعین میں اتینا سے مراد اعطینا یعنی ہم نے دیا ہے اور منہال نے سعید سے نقل کیا انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے ابن عباس سے کہا میں قرآن میں ایسی باتیں پاتا ہوں جو مجھ کو ایک دوسرے کے خلاف معلوم ہوتی ہیں اس دن ان کے درمیان رشتے ناطے نہیں ہوں گے اور نہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے اور ایک دوسرے پر متوجہ ہو کر آپس میں سوال کریں گے اور وہ اللہ سے کوئی بات نہ چھپائیں گے اور اے ہمارے رب ہم مشرک نہ تھے (ان آیات میں اختلاف ظاہر ہے) اور آیت ام السماء بناھا الخ میں آسمان کی پیدائش کو زمین کی پیدائش سے قبل بیان کیا پھر اللہ نے ائنکم لتکفرون بالذی الخ میں زمین کی پیدائش کو آسمان کی پیدائش کے بعد بتایا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا وکان اللہ غفورا رحیما عزیزا حکیما سمیعا بصیرا (یعنی اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان تھا زبردست حکمت والا تھا سننے والا دیکھنے والا تھا) گویا پہلے (ان صفات سے متصف) تھا جو گزر چکا اب نہیں ہے تو انہوں نے کہا کہ فلا انساب بینھم کا تعلق نفحہ اولیٰ سے ہے تو جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں بے ہوش ہوجائیں گے بجز ان کے جن کو اللہ چاہے تو اس وقت ان کے درمیان نہ تو رشتے ناطے ہوں گے اور نہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے پھر دوسری بار پھونکے جانے پر ان میں سے بعض بعض سے سوال کریں گے اور اللہ تعالیٰ کا قول ما کنا مشرکین اور لا یکتمون اللہ الخ کی صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اخلاص والوں کے گناہ بخش دے گا اور مشرکین کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے تو ان کے منہ پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ وغیرہ بولیں گے اس وقت معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپائی نہیں جا سکتی اور زمین کو دو دن میں پیدا کیا پھر آسمان کو پیدا کیا پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور ان کو دو دنوں میں برابر کیا پھر زمین کو بچھایا اور زمین کا بچھانا یہ ہے کہ اس سے پانی اور چرنے کی جگہ نکالی پہاڑ اور ٹیلے وغیرہ اور جو کچھ آسمان اور زمین کے درمیان ہے دوسرے دو دنوں میں پیدا کی اللہ تعالیٰ کے قول دحاھا کا یہی مطلب ہے اور اللہ تعالیٰ کے قول کہ زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا اس کی صورت یہ ہے کہ زمین کو اور اس کے اندر کی تمام چیزوں کو چار دنوں میں پیدا کیا اور آسمان دو دنوں میں پیدا کئے گئے یعنی پہلے زمین کی تخلیق ہوئی اس کے بعد آسمان کی پھر زمین کی آبادی ہوئی لہذا آسمان کی تخلیق زمین کی تخلیق کے بعد اور زمین کی آبادی سے پہلے ہوئی باقی رہا کان اللہ غفورا رحیما تو اللہ تعالیٰ نے اپنا نام ہی یہ رکھا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے اللہ تعالیٰ جس چیز کر بھی ارادہ کرتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے اس لئے قرآن میں تمہیں اختلاف نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ سارا کلام اللہ کی طرف سے ہے اور مجاہد نے کہا ممنون بمعنی محسوب (شمار کیا ہوا) ہے اقوتھا یعنی اس کی روزی ہے فی کل سماء امرھا یعنی وہ کام جس کا اللہ کی طرف سے حکما دیا گیا ہے نحسات نامبارک منحوس قیضنا لھم قرناء تتنزل علیھم الملائکۃ ہم نے ان کا ہم نشین مقرر کردیا ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں یعنی موت کے وقت اھتزت سر سبز ہوئی ربت بلند ہوئی دوسروں نے کہا کہ من اکمامھا سے یہ مراد ہے کہ جس وقت اپنے غلاف سے نکلتا ہے لیقولن ھذالی سے یہ مراد ہے کہ وہ کہیں گے کہ یہ میرے عمل کا بدلہ ہے اور میں اس کا سزا وار ہوں سواء للسائلین یعنی پوچھنے والوں کے لئے اس کا پورا اندازہ مقرر کیا فہدینا ہم سے مراد ہے کہ ہم نے اس کو بھلائی اور برائی کا راستہ بتا دیا جیسا کہ اللہ کا قول ھدیناہ النجدین اور ھدیناہ السبیل اور ہدایت کے معنی منزل مقصود کی طرف راہنمائی کے بھی ہیں اللہ کے قول اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ میں یہی مراد ہے یوزعون روکے جائیں گے من اکمامھا کم کی جمع ہے کلی کے اوپر کے چھلکے کو کہتے ہیں ولی حیمم قریبی دوست من محیص بھاگنے کی جگہ) حاص (بھاگا) سے مشتق ہے مریہ اور مریہ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی شک و شبہ اور مجاہد نے کہا اعملوا ماشئتم (جو چاہو کرو) وعید ہے اور ابن عباس نے کہا کہ التی ھی احسن سے مراد ہے غصہ کے وقت صبر کرنا اور برائی کے وقت معاف کرنا جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ ان کو محفوظ رکھے گا اور ان کے دشمن ان کے لئے نرم ہوجائیں گے گویا وہ قریبی دوست ہیں اور تم اس سے پردہ نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے کان تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھال گواہی دے گی بلکہ تم گمان کرتے تھے کہ اللہ تمہارے بہت کاموں کو نہیں جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 4817۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بِنَحْوِهِ.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے منصور نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے، ان سے ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے پہلی حدیث کی طرح بیان کیا۔
Narrated Abdullah bin Masud (RA) :
(As above, Hadith No. 341).
باب: آیت کی تفسیر ”قرابتداری کی محبت کے سوا میں تم سے اور کچھ نہیں چاہتا“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ: إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى سورة الشورى آية 23، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: عَجِلْتَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ، فَقَالَ: إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا کہ میں نے طاؤس سے سنا کہ ابن عباس (رض) سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد إلا المودة في القربى سوا رشتہ داری کی محبت کے متعلق پوچھا گیا تو سعید بن جبیر نے فرمایا کہ آل محمد ﷺ کی قرابتداری مراد ہے۔ ابن عباس (رض) نے اس پر کہا کہ تم نے جلد بازی کی۔ قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں جس میں نبی کریم ﷺ کی قرابت داری نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم سے صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم اس قرابت داری کی وجہ سے صلہ رحمی کا معاملہ کرو جو میرے اور تمہارے درمیان میں موجود ہے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
That he was asked (regarding):
"Except to be kind to me for my Kinship with you. (42.23) Said bin Zubair (who was present then) said, "It means here (to show what is due for) the relatives of Muhammad." On that Ibn Abbas (RA) said: you have hurried in giving the answer! There was no branch of the tribe of Quraish but the Prophet ﷺ had relatives therein. The Prophet ﷺ said, "I do not want anything from (you) except to be Kind to me for my Kinship with you."
باب: آیت کی تفسیر ”جہنمی کہیں گے اے داروغہ جہنم! تمہارا رب ہمیں موت دیدے، وہ کہے گا تم اسی حال میں پڑے رہو“۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ: وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ سورة الزخرف آية 77، وَقَالَ قَتَادَةُ: مَثَلًا لِلْآخِرِينَ عِظَةً لِمَنْ بَعْدَهُمْ، وَقَالَ غَيْرُهُ: مُقْرِنِينَ: ضَابِطِينَ، يُقَالُ فُلَانٌ مُقْرِنٌ لِفُلَانٍ ضَابِطٌ لَهُ وَالْأَكْوَابُ الْأَبَارِيقُ الَّتِي لَا خَرَاطِيمَ لَهَا، أَوَّلُ الْعَابِدِينَ: أَيْ مَا كَانَ فَأَنَا أَوَّلُ الْآنِفِينَ وَهُمَا لُغَتَانِ رَجُلٌ عَابِدٌ وَعَبِدٌ وَقَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ، وَيُقَالُ أَوَّلُ الْعَابِدِينَ الْجَاحِدِينَ مِنْ عَبِدَ يَعْبَدُ، وَقَالَ قَتَادَةُ: فِي أُمِّ الْكِتَابِ جُمْلَةِ الْكِتَابِ أَصْلِ الْكِتَابِ.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے عطاء نے، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر یہ آیت پڑھتے سنا ونادوا يا مالک ليقض علينا ربك اور یہ لوگ پکاریں گے کہ اے مالک ! تمہارا پروردگار ہمارا کام ہی تمام کر دے۔ اور قتادہ نے کہا مثلا للآخرين یعنی پچھلوں کے لیے نصیحت۔ دوسرے نے کہا مقرنين کا معنی قابو میں رکھنے والے۔ عرب لوگ کہتے ہیں فلانا فلانے کا مقرن ہے یعنی اس پر اختیار رکھتا ہے (اس کو قابو میں لایا ہے) ۔ أکواب وہ کوزے جن میں ٹونٹی نہ ہو بلکہ منہ کھلا ہوا ہو جہاں سے آدمی چاہے پئے۔ ان کان للرحمن ولد کا معنی یہ ہے کہ اس کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ (اس صورت میں ان نافيه ہے) عابدين سے آنفين مراد ہے۔ یعنی سب سے پہلے میں اس سے عار کرتا ہوں۔ اس میں دو لغت ہیں عابد وعبد اور عبداللہ بن مسعود (رض) نے اس کو وقال الرسول يا رب پڑھا ہے۔ أول العابدين کے معنی سب سے پہلا انکار کرنے والا یعنی اگر خدا کی اولاد ثابت کرتے ہو تو میں اس کا سب سے پہلا انکاری ہوں۔ اس صورت میں عابدين باب عبد يعبد. سے آئے گا اور قتادہ نے کہا في أم الکتاب کا معنی یہ ہے کہ مجموعی کتاب اور اصل کتاب (یعنی لوح محفوظ میں) ۔
Narrated Yala (RA) :
I heard the Prophet ﷺ reciting when on the pulpit: They will cry, "O Malik (Keeper of Hell) Let your Lord make an end of us. (43.77)
باب: آیت کی تفسیر ”پس آپ انتظار کریں اس دن کا جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو“۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: مَضَى خَمْسٌ الدُّخَانُ، وَالرُّومُ، وَالْقَمَرُ، وَالْبَطْشَةُ، وَاللِّزَامُ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہ (قیامت کی) پانچ علامتیں گزر چکی ہیں الدخان دھواں، الروم غلبہ روم، القمر چاند کا ٹکڑے ہونا،والبطشة پکڑ اور واللزام ہلاکت اور قید۔
Narrated Abdullah (RA) :
Five things have passed, i.e. the smoke, the defeat of the Romans, the splitting of the moon, Al-Batsha (the defeat of the infidels in the battle of Badr) and Al-Lizam (the punishment)
باب: آیت کی تفسیر یعنی ”ان سب لوگوں پر چھا جائے گا، یہ ایک عذاب درد ناک ہو گا“۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّمَا كَانَ هَذَا لِأَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَوْا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ، فَأَصَابَهُمْ قَحْطٌ، وَجَهْدٌ حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ، فَيَرَى مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجَهْدِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ 10 يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ 11 سورة الدخان آية 10-11، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَسْقِ اللَّهَ لِمُضَرَ، فَإِنَّهَا قَدْ هَلَكَتْ، قَالَ لِمُضَرَ: إِنَّكَ لَجَرِيءٌ، فَاسْتَسْقَى لَهُمْ، فَسُقُوا، فَنَزَلَتْ: إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15، فَلَمَّا أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ عَادُوا إِلَى حَالِهِمْ حِينَ أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ سورة الدخان آية 16، قَالَ: يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ.
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ یہ (قحط) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ ﷺ کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ ﷺ نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چناچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا دھواں پیدا ہو جو لوگوں پر چھا جائے، یہ ایک درد ناک عذاب ہوگا۔ بیان کیا کہ پھر ایک صاحب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ! قبیلہ مضر کے لیے بارش کی دعا کیجئے کہ وہ برباد ہوچکے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مضر کے حق میں دعا کرنے کے لیے کہتے ہو، تم بڑے جری ہو۔ آخر نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی اور بارش ہوئی۔ اس پر آیت إنكم عائدون نازل ہوئی (یعنی اگرچہ تم نے ایمان کا وعدہ کیا ہے لیکن تم کفر کی طرف پھر لوٹ جاؤ گے) چناچہ جب پھر ان میں خوشحالی ہوئی تو شرک کی طرف لوٹ گئے (اور اپنے ایمان کے وعدے کو بھلا دیا) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی يوم نبطش البطشة الکبرى إنا منتقمون جس روز ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے (اس روز) ہم پورا بدلہ لے لیں گے۔ بیان کیا اس آیت سے مراد بدر کی لڑائی ہے۔
Narrated Abdullah (RA) :
It (i.e., the imagined smoke) was because, when the Quraish refused to obey the Prophet, he asked Allah to afflict them with years of famine similar to those of (Prophet) Joseph. So they were stricken with famine and fatigue, so much so that they ate even bones. A man would look towards the sky and imagine seeing something like smoke between him and the sky because of extreme fatigue. So Allah revealed:--
Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people; this is a painfull of torment. (44.10-11)
Then someone ( Abu Sufyan (RA) ) came to Allahs Apostle ﷺ and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Invoke Allah to send rain for the tribes of Mudar for they are on the verge of destruction." On that the Prophet ﷺ said (astonishingly) "Shall I invoke Allah) for the tribes of Mudar? Verily, you are a brave man!" But the Prophet ﷺ prayed for rain and it rained for them. Then the Verse was revealed.
But truly you will return (to disbelief). (44.15) (When the famine was over and) they restored prosperity and welfare, they reverted to their ways (of heathenism) whereupon Allah revealed:
On the Day when We shall seize you with a Mighty Grasp. We will indeed (then) exact retribution. (44.16) The narrator said, "That was the day of the Battle of Badr."
باب: آیت «ربنا اكشف عنا العذاب إنا مؤمنون» کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ تَقُولَ لِمَا لَا تَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ إِنَّ اللَّهَ، قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86، إِنَّ قُرَيْشًا لَمَّا غَلَبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْع يُوسُفَ، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ أَكَلُوا فِيهَا الْعِظَامَ، وَالْمَيْتَةَ مِنَ الْجَهْدِ حَتَّى جَعَلَ أَحَدُهُمْ يَرَى مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجُوعِ، قَالُوا: رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ سورة الدخان آية 12، فَقِيلَ لَهُ: إِنْ كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَادُوا فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمْ فَعَادُوا فَانْتَقَمَ اللَّهُ مِنْهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ إِلَى قَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ إِنَّا مُنْتَقِمُونَ سورة الدخان آية 10 - 16.
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی علم ہی ہے کہ تمہیں اگر کوئی بات معلوم نہیں ہے تو اس کے متعلق یوں کہہ دو کہ اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ آپ اپنی قوم سے کہہ دیں کہ میں تم سے کسی اجرت کا طالب نہیں ہوں اور نہ میں بناوٹی باتیں کرتا ہوں جب قریش آپ ﷺ کو تکلیف پہنچانے اور آپ کے ساتھ معاندانہ روش میں برابر بڑھتے ہی رہے تو آپ ﷺ نے ان کے لیے بددعا کی کہ اے اللہ ! ان کے خلاف میری مدد ایسے قحط کے ذریعہ کر جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چناچہ قحط پڑا اور بھوک کی شدت کا یہ حال ہوا کہ لوگ ہڈیاں اور مردار کھانے لگ گئے۔ لوگ آسمان کی طرف دیکھتے تھے لیکن فاقہ کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا۔ آخر انہوں نے کہا کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم سے اس عذاب کو دور کر، ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سے کہہ دیا تھا کہ اگر ہم نے یہ عذاب دور کردیا تو پھر بھی تم اپنی پہلی حالت پر لوٹ آؤ گے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے حق میں دعا کی اور یہ عذاب ان سے ہٹ گیا لیکن وہ پھر بھی کفر و شرک پر ہی جمے رہے، اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ نے بدر کی لڑائی میں لیا۔ یہی واقعہ آیت يوم تأتي السماء بدخان مبين آخر تک میں بیان ہوا ہے۔
Narrated Abdullah (RA) :
It is a sign of having knowledge that, when you do not know something, you say: Allah knows better. Allah said to his Prophet:
Say: No wage do I ask of you for this (Quran), nor am I one of the pretenders (a person who pretends things which do not exist) (38.86) When the Quraish troubled and stood against the Prophet ﷺ he said, "O Allah! Help me against them by afflicting them with seven years of famine like the seven years of Joseph." So they were stricken with a year of famine during which they ate bones and dead animals because of too much suffering, and one of them would see something like smoke between him and the sky because of hunger. Then they said: Our Lord! Remove the torment from us, really we are believers. (44.12) And then it was said to the Prophet ﷺ (by Allah), "If we remove it from them. they will revert to their ways (of heathenism)." So the Prophet ﷺ invoked his Lord, who removed the punishment from them, but later they reverted (to heathenism), whereupon Allah punished them on the day of the Battle of Badr, and that is what Allahs Statement indicates:
Then watch for the day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible...we will indeed (then) exact retribution. (44.10).
باب: آیت کی تفسیر ”ان کو کب اس سے نصیحت ہوتی ہے حالانکہ ان کے پاس پیغمبر کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ آ چکا ہے“۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَىعَبْدِ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَعَا قُرَيْشًا كَذَّبُوهُ، وَاسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ، فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ يَعْنِي كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى كَانُوا يَأْكُلُونَ الْمَيْتَةَ، فَكَانَ يَقُومُ أَحَدُهُمْ، فَكَانَ يَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ مِثْلَ الدُّخَانِ مِنَ الْجَهْدِ وَالْجُوعِ، ثُمَّ قَرَأَ: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ حَتَّى بَلَغَ إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 10 - 15، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَفَيُكْشَفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: وَالْبَطْشَةُ الْكُبْرَى يَوْمَ بَدْرٍ.
سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے فرمایا کہ جب نبی کریم ﷺ نے قریش کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے آپ ﷺ کو جھٹلایا اور آپ کے ساتھ سرکشی کی۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے بددعا کی کہ اے اللہ ! میری ان کے خلاف یوسف (علیہ السلام) جیسے قحط کے ذریعہ مدد فرما۔ چناچہ قحط پڑا اور ہر چیز ختم ہوگئی۔ لوگ مردار کھانے لگے۔ کوئی شخص کھڑا ہو کر آسمان کی طرف دیکھتا تو بھوک اور فاقہ کی وجہ سے آسمان اور اس کے درمیان دھواں ہی دھواں نظر آتا۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت شروع کی فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف سے نظر آنے والا ایک دھواں پیدا ہو جو لوگوں پر چھا جائے، یہ ایک درد ناک عذاب ہوگا۔ بیشک ہم چندے اس عذاب کو ہٹا لیں گے اور تم بھی اپنی پہلی حالت پر لوٹ آؤ گے۔ عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا کہ کیا قیامت کے عذاب سے بھی وہ بچ سکیں گے ؟ فرمایا کہ سخت پکڑ بدر کی لڑائی میں ہوئی تھی۔
Narrated Masruq (RA) :
I came upon Abdullah and he said, "When Allahs Apostle ﷺ invited Quraish (to Islam), they disbelieved him and stood against him. So he (the Prophet) said, "O Allah! Help me against them by afflicting them with seven years of famine similar to the seven years of Joseph. So they were stricken with a year of drought that destroyed everything, and they started eating dead animals, and if one of them got up he would see something like smoke between him and the sky from the severe fatigue and hunger." Abdullah then recited:--
Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people. This is a painful torment... (till he reached) ........ We shall indeed remove the punishment for a while, but truly you will revert (to heathenism): (44.10-15) Abdullah added: "Will the punishment be removed from them on the Day of Resurrection?" He added," The severe grasp" was the Day of the Battle of Badr."
باب: آیت «ثم تولوا عنه وقالوا معلم مجنون» کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَعَبْدُ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى قُرَيْشًا اسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ، فَأَخَذَتْهُمُ السَّنَةُ حَتَّى حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ وَالْجُلُودَ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ، وَجَعَلَ يَخْرُجُ مِنَ الْأَرْضِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ، فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ: فَقَالَ: أَيْ مُحَمَّدُ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَكْشِفَ عَنْهُمْ، فَدَعَا، ثُمَّ قَالَ: تَعُودُونَ بَعْدَ هَذَا فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ، ثُمَّ قَرَأَ: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ إِلَى عَائِدُونَ سورة الدخان آية 10 - 15 أَنَكْشِفُ عَذَابَ الْآخِرَةِ فَقَدْ مَضَى الدُّخَانُ، وَالْبَطْشَةُ، وَاللِّزَامُ، وَقَالَ أَحَدُهُمْ: الْقَمَرُ، وَقَالَ الْآخَرُ: وَالرُّومُ.
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سلیمان اور منصور نے، انہیں ابوالضحیٰ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو مبعوث کیا اور آپ ﷺ نے فرمایا قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتکلفين کہ کہہ دو کہ میں تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں اور نہ میں بناوٹی باتیں کرنے والوں میں سے ہوں۔ پھر جب آپ نے دیکھا کہ قریش عناد سے باز نہیں آتے تو آپ ﷺ نے ان کے لیے بددعا کی کہ اے اللہ ! ان کے خلاف میری مدد ایسے قحط سے کر جیسا یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں پڑا تھا۔ (پھر) قحط پڑا اور پر چیز ختم ہوگئی۔ لوگ ہڈیاں اور چمڑے کھانے پر مجبور ہوگئے (سلیمان اور منصور) راویان حدیث میں سے ایک نے بیان کیا کہ وہ چمڑے اور مردار کھانے پر مجبور ہوگئے اور زمین سے دھواں سا نکلنے لگا۔ آخر ابوسفیان آئے اور کہا کہ اے محمد ﷺ ! آپ کی قوم ہلاک ہوچکی، اللہ سے دعا کیجئے کہ ان سے قحط کو دور کر دے۔ نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی اور قحط ختم ہوگیا۔ لیکن اس کے بعد وہ پھر کفر کی طرف لوٹ گئے۔ منصور کی روایت میں ہے کہ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين تو آپ اس روز کا انتظار کریں جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو۔ عائدون تک۔ کیا آخرت کا عذاب بھی ان سے دور ہو سکے گا ؟ دھواں اور سخت پکڑ اور ہلاکت گزر چکے۔ بعض نے چاند اور بعض نے غلبہ روم کا بھی ذکر کیا ہے کہ یہ بھی گزر چکا ہے۔
Narrated Abdullah (RA) :
Allah sent (the Prophet) Muhammad and said:--
Say, No wage do I ask of you for this (Quran) nor am I one of the pretenders (i.e. a person who pretends things which do not exist). (38.68) When Allahs Apostle ﷺ saw Quraish standing against him, he said, "O Allah! Help me against them by afflicting them with seven years of famine similar to the seven years (of famine) of Joseph. So they were afflicted with a year of drought that destroyed everything, and they ate bones and hides. (One of them said), "And they ate hides and dead animals, and (it seemed to them that) something like smoke was coming out of the earth. So Abu Sufyan (RA) came to the Prophet ﷺ and said, " O Muhammad ﷺ ! Your people are on the verge of destruction! Please invoke Allah to relieve them." So the Prophet ﷺ invoked Allah for them (and the famine disappeared). He said to them. "You will revert (to heathenism) after that." Abdullah then recited:
Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible.......but truly you will revert (to disbelief). He added, "Will the punishment be removed from them in the Hereafter? The smoke and the grasp and the Al-Lizam have all passed." One of the sub-narrater said, "The splitting of the moon." And another said, "The defeat of the Romans (has passed)."
باب: آیت کی تفسیر ”اس دن کو یاد کرو جب کہ ہم بڑی سخت پکڑ پکڑ یں گے، ہم بلا شک اس دن پورا پورا بدلہ لیں گے“۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَمْسٌ قَدْ مَضَيْنَ اللِّزَامُ، وَالرُّومُ، وَالْبَطْشَةُ، وَالْقَمَرُ، وَالدُّخَانُ.
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ پانچ (قرآن مجید کی پیشیں گوئیاں) گزر چکی ہیں۔ اللزام (بدر کی لڑائی کی ہلاکت) ، الروم (غلبہ روم) البطشة (سخت پکڑ) ، القمر (چاند کے ٹکڑے ہونا) اور والدخان دھواں، شدت فاقہ کی وجہ سے۔
Narrated Abdullah (RA) :
Five things have passed: Al-Lizam, the defeat of the Romans, the mighty grasp, the splitting of the moon, and the smoke.
باب: آیت کی تفسیر ”اور ہم کو تو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے“۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِي الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے وہ زمانہ کو گالی دیتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ میں رات اور دن کو ادلتا بدلتا رہتا ہوں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "Allah said, The son of Adam hurts me for he abuses Time though I am Time: in My Hands are all things, and I cause the revolution of day and night.
باب: آیت کی تفسیر ”اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ افسوس ہے تم پر، کیا تم مجھے یہ خبر دیتے ہو کہ میں قبر سے پھر دوبارہ نکالا جاؤں گا، مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں اور وہ دونوں والدین اللہ سے فریاد کر رہے ہیں (اور اس اولاد سے کہہ رہے ہیں) ارے تیری کم بختی تو ایمان لا بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ تو اس پر وہ کہتا کیا ہے کہ یہ بس اگلوں کے ڈھکوسلے ہیں“۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، قَالَ: كَانَ مَرْوَانُ عَلَى الْحِجَازِ اسْتَعْمَلَهُ مُعَاوِيَةُ، فَخَطَبَ، فَجَعَلَ يَذْكُرُ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ لِكَيْ يُبَايَعَ لَهُ بَعْدَ أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ شَيْئًا، فَقَالَ: خُذُوهُ، فَدَخَلَ بَيْتَ عَائِشَةَ، فَلَمْ يَقْدِرُوا، فَقَالَ مَرْوَانُ: إِنَّ هَذَا الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي سورة الأحقاف آية 17، فَقَالَتْ عَائِشَةُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ: مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِينَا شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ عُذْرِي.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے یوسف بن ماہک نے بیان کیا کہ مروان کو معاویہ (رض) نے حجاز کا امیر (گورنر) بنایا تھا۔ اس نے ایک موقع پر خطبہ دیا اور خطبہ میں یزید بن معاویہ کا باربار ذکر کیا، تاکہ اس کے والد (معاویہ رضی اللہ عنہ) کے بعد اس سے لوگ بیعت کریں۔ اس پر عبدالرحمٰن بن ابی بکر (رض) نے اعتراضاً کچھ فرمایا۔ مروان نے کہا اسے پکڑ لو۔ عبدالرحمٰن اپنی بہن عائشہ (رض) کے گھر میں چلے گئے تو وہ لوگ پکڑ نہیں سکے۔ اس پر مروان بولا کہ اسی شخص کے بارے میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی تھی والذي قال لوالديه أف لکما أتعدانني کہ اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تف ہے تم پر کیا تم مجھے خبر دیتے ہو۔ اس پر عائشہ (رض) نے کہا کہ ہمارے (آل ابی بکر کے) بارے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی آیت نازل نہیں کی بلکہ تہمت سے میری برات ضرور نازل کی تھی۔
Narrated Yusuf bin Mahak (RA) :
Marwan had been appointed as the governor of Hijaz by Muawiyah. He delivered a sermon and mentioned Yazid bin Muawiyah so that the people might take the oath of allegiance to him as the successor of his father (Muawiyah). Then Abdur Rahman bin Abu Bakr (RA) told him something whereupon Marwan ordered that he be arrested. But Abdur-Rahman entered Aishas house and they could not arrest him. Marwan said, "It is he (AbdurRahman) about whom Allah revealed this Verse:--
And the one who says to his parents: Fie on you! Do you hold out the promise to me..?"
On that, Aisha (RA) said from behind a screen, "Allah did not reveal anything from the Quran about us except what was connected with the declaration of my innocence (of the slander)."
باب: آیت کی تفسیر ”پھر جب ان لوگوں نے بادل کو اپنی وادیوں کے اوپر آتے دیکھا تو بولے کہ واہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا، نہیں بلکہ یہ تو وہ ہے جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے، یعنی ایک آندھی جس میں درد ناک عذاب ہے“۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ.
ہم سے احمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں عمرو نے خبر دی، ان سے ابوالنضر نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن یسار نے اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو کبھی اس طرح ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کوا نظر آجائے بلکہ آپ تبسم فرمایا کرتے تھے، بیان کیا کہ جب بھی آپ بادل یا ہوا دیکھتے تو (گھبراہٹ اور اللہ کا خوف) آپ کے چہرہ مبارک سے پہچان لیا جاتا۔
Narrated Aisha (RA) :
(the wife of the Prophet), I never saw Allahs Apostle ﷺ laughing loudly enough to enable me to see his uvula, but he used to smile only. And whenever he saw clouds or winds, signs of deep concern would appear on his face. I said, "O Allahs Apostle ﷺ ! When people see clouds they usually feel happy, hoping that it would rain, while I see that when you see clouds, one could notice signs of dissatisfaction on your face." He said, "O Aisha! What is the guarantee for me that there will be no punishment in it, since some people were punished with a wind? Verily, some people saw (received) the punishment, but (while seeing the cloud) they said, This cloud will give us rain. "