Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 167 of 265

3338Sunan Abu Dawood

قول میں جھکتا ہوا تولنا اور مزدوری لے کر مال تولنا

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ لِشُعْبَةَ: خَالَفَكَ سُفْيَانَ، قَالَ: دَمَغْتَنِي، وَبَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، قَالَ: كُلُّ مَنْ خَالَفَ سُفْيَانَ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ سُفْيَانَ.

ابورزمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شعبہ سے کہا: سفیان نے روایت میں آپ کی مخالفت کی ہے، آپ نے کہا: تم نے تو میرا دماغ چاٹ لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن معین کی یہ بات پہنچی ہے کہ جس شخص نے بھی سفیان کی مخالفت کی تو لائق اعتماد بات سفیان کی بات ہوگی ١ ؎۔

Narrated Ibn Abi Rizmah (RA) : I heard my father say: A man said to Shubah: Sufyan opposed you (i. e. narrated a tradition which differs from your version). He replied: You racked my mind. I have been told that Yahya bin Main said: If anyone opposes Sufyan, the version of Sufyan will be acceptable.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صحابی کا نام سوید بن قیس (جیسا کہ سفیان نے کہا ہے) زیادہ قابل اعتماد ہے بنسبت ابو صفوان بن عمیرۃ کے، لیکن اصحاب التراجم کا فیصلہ ہے کہ دونوں نام ایک ہی آدمی کے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (صحیح )
3339Sunan Abu Dawood

قول میں جھکتا ہوا تولنا اور مزدوری لے کر مال تولنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: كَانَ سُفْيَانُ أَحْفَظَ مِنِّي.

شعبہ کہتے ہیں سفیان کا حافظہ مجھ سے زیادہ قوی تھا۔

Shubah said: The memory of Sufyan was stronger than mine.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٨٠٨) (صحیح )
3340Sunan Abu Dawood

ناپ میں مدینہ والوں کا ناپ معتبر ہے اور تول میں مکہ والوں کا تول

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَزْنُ وَزْنُ أَهْلِ مَكَّةَ، وَالْمِكْيَالُ مِكْيَالُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ الْفِرْيَابِيُّ، وَأَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، وَافَقَهُمَا فِي الْمَتْنِ، وقَالَ أَبُو أَحْمَدَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَكَانَ ابْنِ عُمَرَ، وَرَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ، قَالَ: وَزْنُ الْمَدِينَةِ، وَمِكْيَالُ مَكَّةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَاخْتُلِفَ فِي الْمَتْنِ فِي حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي هَذَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تول میں مکے والوں کی تول معتبر ہے اور ناپ میں مدینہ والوں کی ناپ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: فریابی اور ابواحمد نے سفیان سے اسی طرح روایت کی ہے اور انہوں نے متن میں ان دونوں کی موافقت کی ہے اور ابواحمد نے ابن عمر ؓ کی جگہ عن ابن عباس کہا ہے اور اسے ولید بن مسلم نے حنظلہ سے روایت کیا ہے کہ وزن (باٹ) مدینہ کا اور پیمانہ مکہ کا معتبر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک بن دینار کی حدیث جسے انہوں نے عطاء سے عطاء نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ متن میں اختلاف واقع ہے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: (The standard) weight is the weight of the people of Makkah, and the (standard) measure is the measure of the people of Madina. Abu Dawud said: Al-Firyabi and Abu Ahmad have also transmitted from Sufyan in a similar way, and he (Ibn Dukain) agreed with them on the text. The version of Abu Ahmad has: from Ibn Abbas instead of Ibn Umar. It has also been transmitted by al-Walid bin Muslim from Hanzalah. This version has: the weight of Madina and the measure of Makkah. Abu Dawud said: There is a variation in the text of the version of this tradition narrated by Malik bin Dinar from Ata from the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٤٤ (٢٥٢١)، البیوع ٥٤ (٤٥٩٨)، (تحفة الأشراف: ٧١٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٤٥) (صحیح )
3341Sunan Abu Dawood

قرض کی مذمت اور اس کی ادائیگی کی تاکید

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ: هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ: هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ؟ فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ ؟ أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكُمْ إِلَّا خَيْرًا، إِنَّ صَاحِبَكُمْ مَأْسُورٌ بِدَيْنِهِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَدَّى عَنْهُ، حَتَّى مَا بَقِيَ أَحَدٌ يَطْلُبُهُ بِشَيْءٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمْعَانُ بْنُ مُشَنِّجٍ.

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبے میں فرمایا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر پوچھا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو پھر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ ﷺ نے پھر پوچھا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو ایک شخص کھڑے ہو کر کہا: میں ہوں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: پہلے دو بار پوچھنے پر تم کو میرا جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا؟ میں تو تمہیں بھلائی ہی کی خاطر پکار رہا تھا تمہارا ساتھی اپنے قرض کے سبب قید ہے ١ ؎۔ سمرہ ؓ کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا کہ اس شخص نے اس کا قرض ادا کردیا یہاں تک کہ کوئی اس سے اپنا قرضہ مانگنے والا نہ بچا۔

Narrated Samurah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ addressed us and said: Is here any one of such and such tribe present? But no one replied. He again asked: Is here any one of such and such tribe present? But no one replied. He again asked: Is here any one of such and such tribe? Then a man stood and said: I am (here), Messenger of Allah. He said: What prevented you from replying the first two times? I wish to tell you something good. Your companion has been detained (from entering Paradise) on account of his debt. Then I saw him that he paid off all his debt on his behalf and there remained no one to demand from him anything. Abu Dawud said: The name of the narrator Saman is Saman bin Mushannaj.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قرض کے ادا نہ کرنے کی وجہ سے وہ جنت میں جا نہیں سکتا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٩٦ (٤٦٨٩)، (تحفة الأشراف: ٤٦٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١١، ١٣، ٢٠) (حسن )
3342Sunan Abu Dawood

قرض کی مذمت اور اس کی ادائیگی کی تاکید

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، يَقُولُ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللَّهِ، أَنْ يَلْقَاهُ بِهَا عَبْدٌ بَعْدَ الْكَبَائِرِ الَّتِي نَهَى اللَّهُ عَنْهَا، أَنْ يَمُوتَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، لَا يَدَعُ لَهُ قَضَاءً.

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک ان کبائر کے بعد جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی مرے اور اس پر قرض ہو اور وہ کوئی ایسی چیز نہ چھوڑے جس سے اس کا قرض ادا ہو ۔

Narrated Abu Musa al-Ashari (RA) : The Prophet ﷺ said: After the grave sins which Allah has prohibited the greatest sin is that a man dies while he has debt due from him and does not leave anything to pay it off, and meets Him with it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩١٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٢) (ضعیف) (اس کے راوی ابوعبد اللہ قرشی لین الحدیث ہیں )
3343Sunan Abu Dawood

قرض کی مذمت اور اس کی ادائیگی کی تاکید

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ، فَقَالَ: أَعَلَيْهِ دَيْنٌ ؟، قَالُوا: نَعَمْ، دِينَارَانِ، قَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا، فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا، فَلِوَرَثَتِهِ،

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے جو اس حال میں مرتا کہ اس پر قرض ہوتا، چناچہ آپ ﷺ کے پاس ایک جنازہ (میت) لایا گیا، آپ نے پوچھا: کیا اس پر قرض ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، اس کے ذمہ دو دینار ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو ١ ؎، تو ابوقتادہ انصاری ؓ نے کہا: میں ان کی ادائیگی کی ذمہ داری لیتا ہوں اللہ کے رسول! تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر جب اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو فتوحات اور اموال غنیمت سے نوازا تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں ہر مومن سے اس کی جان سے زیادہ قریب تر ہوں پس جو کوئی قرض دار مرجائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہوگی اور جو کوئی مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے ورثاء کا ہوگا ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ would not say funeral prayer over a person who died while the debt was due from him. A dead Muslim was brought to him and he asked: Is there any debt due from him? They (the people) said: Yes, two dirhams. He said: Pray yourselves over your companion. Then Abu Qatadah al-Ansari said: I shall pay them, Messenger of Allah. The Messenger of Allah ﷺ then prayed over him. When Allah granted conquests to the Messenger of Allah ﷺ , he said: I am nearer to every believer than himself, so if anyone (dies and) leaves a debt, I shall be responsible for paying it; and if anyone leaves property, it goes to his heirs.

Notes · وضاحت
١ ؎: اتنا سخت رویہ آپ ﷺ نے اس لئے اپنایا تاکہ لوگوں کے حقوق ضائع نہ ہونے پائیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٦٧ (١٩٦٤)، (تحفة الأشراف: ٣١٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٦) (صحیح )
3344Sunan Abu Dawood

قرض کی مذمت اور اس کی ادائیگی کی تاکید

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ،عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، رَفَعَهُ، قَالَ عُثْمَانُ، وحَدَّثَنَاوَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، قَالَ: اشْتَرَى مِنْ عِيرٍ تَبِيعًا، وَلَيْسَ عِنْدَهُ ثَمَنُهُ، فَأُرْبِحَ فِيهِ، فَبَاعَهُ، فَتَصَدَّقَ بِالرِّبْحِ عَلَى أَرَامِلِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَقَالَ: لَا أَشْتَرِي بَعْدَهَا شَيْئًا إِلَّا وَعِنْدِي ثَمَنُهُ.

عکرمہ سے روایت ہے انہوں نے اسے مرفوع کیا ہے اور عثمان کی سند یوں ہے: حدثنا وكيع، عن شريك، عن سماک، عن عکرمة، ۔ عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم اور متن اسی کے ہم مثل ہے اس میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے ایک قافلہ سے ایک تبیع ١ ؎ خریدا، اور آپ ﷺ کے پاس اس کی قیمت نہیں تھی، تو آپ کو اس میں نفع دیا گیا، آپ ﷺ نے اسے بیچ دیا اور جو نفع ہوا اسے بنو عبدالمطلب کی بیواؤں کو صدقہ کردیا اور فرمایا: آئندہ جب تک چیز کی قیمت اپنے پاس نہ ہوگی کوئی چیز نہ خریدوں گا ۔

A similar tradition has also been transmitted by Ibn Abbas though a different chain of narrators. This version says: He (the Prophet) purchased a calf from a caravan, but he had no money with him. He then sold it with some profit and gave the profit in charity to the poor and widows of Banu Abd al-Muttalib. He then said: I shall not buy anything after this but only when I have money with me.

Notes · وضاحت
١ ؎: تبیع خادم کو کہتے ہیں اور گائے کے اس بچے کو بھی جو پہلے سال میں ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦١١٣، ١٩١١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٥، ٣٢٣) (ضعیف) (اس کے راوی شریک حافظہ کے کمزور ہیں، نیز عکرمہ سے سماک کی روایت میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے )
3345Sunan Abu Dawood

قرض ادا کرنے میں تاخیر کی مذمت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ، فَلْيَتْبَعْ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے (چاہے وہ قرض ہو یا کسی کا کوئی حق) اور اگر تم میں سے کوئی مالدار شخص کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرے ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Delay in payment (of debt) by a rich man is injunctive, but when one of you is referred to a wealthy man, he should accept the reference.

Notes · وضاحت
١ ؎: اپنے ذمہ کا قرض دوسرے کے ذمہ کردینا یہی حوالہ ہے، مثلاً زید عمرو کا مقروض ہے پھر زید عمرو کا مقابلہ بکر سے یہ کہہ کر کرا دے کہ اب میرے ذمہ کے قرض کی ادائیگی بکر کے سر ہے اور بکر اسے تسلیم بھی کرلے تو عمرو کو یہ حوالگی قبول کرنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحوالة ١ (٢٢٨٨)، ٢ (٢٢٨٩)، والاستقراض ١٢(٢٤٠٠)، صحیح مسلم/المساقاة ٧ (١٥٦٤)، سنن النسائی/البیوع ٩٩ (٤٦٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٩٣، ١٣٨٠٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ٦٨ (١٣٠٨)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ٨ (٢٤٠٣)، موطا امام مالک/البیوع ٤٠ (٨٤)، مسند احمد (٢/٢٤٥، ٢٥٤، ٢٦٠، ٣١٥، ٣٧٧، ٣٨٠، ٤٦٣، ٤٦٤، ٤٦٥)، سنن الدارمی/البیوع ٤٨ (٢٦٢٨) (صحیح )
3346Sunan Abu Dawood

اچھی طرح ادائیگی کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ، فَقُلْتُ: لَمْ أَجِدْ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطِهِ إِيَّاهُ، فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً.

ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چھوٹا اونٹ بطور قرض لیا پھر آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ ویسا ہی اونٹ آدمی کو لوٹا دوں، میں نے (آ کر) عرض کیا: مجھے کوئی ایسا اونٹ نہیں ملا سبھی اچھے، بڑے اور چھ برس کے ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے اسی کو دے دو، لوگوں میں اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی اچھی کریں ۔

Narrated Abu Rafi (RA) : The Messenger of Allah ﷺ borrowed a young camel, and when the camels of the sadaqah (alms) came to him, he ordered me to pay the man his young camel. I said: I find only an excellent camel in its seventh year. So the Prophet ﷺ said: Give it to him, for the best person is he who discharges his debt in the best manner.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ٤٣ (١٦٠٠)، سنن الترمذی/البیوع ٧٥ (١٣١٨)، سنن النسائی/البیوع ٦٢ (٤٦٢١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٢ (٢٢٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ٤٣ (٨٩)، مسند احمد (٦/٣٩٠)، سنن الدارمی/البیوع ٣١ (٢٦٠٧) (صحیح )
3347Sunan Abu Dawood

اچھی طرح ادائیگی کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، فَقَضَانِي وَزَادَنِي.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میرا کچھ قرض نبی اکرم ﷺ پر تھا، تو آپ نے مجھے ادا کیا اور زیادہ کر کے دیا ١ ؎۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ owed me a debt and gave me something extra when he paid it.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر قرضدار اپنی خوشی سے بغیر کسی شرط کے زیادہ دے تو اس کے لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٥٩ (٤٤٣)، والوکالة ٨ (٢٣٠٩)، والاستقراض ٧ (٢٣٩٤)، والھبة ٣٢ (٣٦٠٣)، صحیح مسلم/المسافرین ١١ (٧١٥)، سنن النسائی/البیوع ٥١ (٤٥٩٤)، (تحفة الأشراف: ٢٥٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٩، ٣٠٢، ٣١٩، ٣٦٣) (صحیح )
3348Sunan Abu Dawood

بیع صرف کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الذَّهَبُ بِالْذَهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ.

عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سونا چاندی کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، گیہوں گیہوں کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور کھجور کھجور کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور جو جو کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو (نقدا نقد ہونے کی صورت میں ان چیزوں میں سود نہیں ہے لیکن شرط یہ بھی ہے کہ برابر بھی ہوں) ١ ؎۔

Narrated Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Gold for gold is interest unless both hand over on the spot ; wheat for wheat is interest unless both hand over on the spot ; dates for dates is interest unless both hand over on the spot ; barley for barley is interest unless both hand over on the spot.

Notes · وضاحت
١ ؎: سونا چاندی کو سونا چاندی کے بدلے میں نقدا بیچنا یہی بیع صرف ہے، اس میں نقدا نقد ہونا ضروری ہے، ادھار درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥٤ (٢١٣٤)، ٧٤ (٢١٧٠)، ٧٦ (٢١٧٤)، صحیح مسلم/البیوع ٣٧ (١٥٨٦)، سنن الترمذی/البیوع ٢٤ (١٢٤٣)، سنن النسائی/البیوع ٣٩ (٤٥٦٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٠ (٢٢٦٠، ٢٢٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٣٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ١٧ (٣٨)، مسند احمد (١/٢٤، ٢٥، ٤٥)، سنن الدارمی/البیوع ٤١ (٢٦٢٠) (صحیح )
3349Sunan Abu Dawood

بیع صرف کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ،عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْفِضَّةِ، وَالْفِضَّةُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، وَأَمَّا نَسِيئَةً فَلَا، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، وَأَمَّا نَسِيئَةً فَلَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَهِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، بِإِسْنَادِهِ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے برابر برابر بیچو، ڈلی ہو یا سکہ، اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر برابر بیچو ڈلی ہو یا سکہ، اور گیہوں گیہوں کے بدلے برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جو جو کے بدلے میں برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، اسی طرح کھجور کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، نمک نمک کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود دیا، سود لیا، سونے کو چاندی سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ادھار درست نہیں، اور گیہوں کو جو سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ادھار بیچنا صحیح نہیں ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ اور ہشام دستوائی نے قتادہ سے انہوں نے مسلم بن یسار سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔

Narrated Ubadah ibn as-Samit: The Messenger of Allah ﷺ said: Gold is to be paid for with gold, raw and coined, silver with silver, raw and coined (in equal weight), wheat with wheat in equal measure, barley with barley in equal measure, dates with dates in equal measure, salt by salt with equal measure; if anyone gives more or asks more, he has dealt in usury. But there is no harm in selling gold for silver and silver (for gold), in unequal weight, payment being made on the spot. Do not sell them if they are to be paid for later. There is no harm in selling wheat for barley and barley (for wheat) in unequal measure, payment being made on the spot. If the payment is to be made later, then do not sell them. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Saeed bin Abi Arubah, Hisham al-Dastawai and Qatadah from Muslim bin Yasar through his chain.

Notes · وضاحت
١ ؎: مد: شام اور مصر کا ایک پیمانہ ہے، جو پندرہ مکوک کا ہوتا ہے، اور مکوک ڈیڑھ صاع کا ہوتا ہے۔ ٢ ؎: حاصل یہ ہے کہ جب جنس مختلف ہو تو کمی بیشی درست ہے مگر نقدا نقد ہونا ضروری ہے، ادھار درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ١٥ (١٥٨٧)، سنن الترمذی/ البیوع (١٢٤٠)، سنن النسائی/البیوع ٤٢ (٤٥٦٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٨ (٢٢٥٤)، (تحفة الأشراف: ٥٠٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣١٤، ٣٢٠) (صحیح )
3350Sunan Abu Dawood

بیع صرف کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْخَبَرِ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، وَزَادَ، قَالَ: فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ، فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ.

عبادہ بن صامت ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث کچھ کمی و بیشی کے ساتھ روایت کی ہے، اس حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ جب صنف بدل جائے (قسم مختلف ہوجائے) تو جس طرح چاہو بیچو (مثلا سونا چاندی کے بدلہ میں گیہوں جو کے بدلہ میں) جب کہ وہ نقدا نقد ہو۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ubadah bin al-Samit through a different chain of transmitters with some alternation. This version adds: He said: If these classes differ, sell as you wish if payment is made on the spot.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٨٩) (صحیح )
3351Sunan Abu Dawood

تلوار کا قبضہ جو چاندی کا ہو اسے دراہم (روپوں) کے بدلہ میں بیچنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَابْنُ مَنِيعٍ: فِيهَا خَرَزٌ مُعَلَّقَةٌ بِذَهَبٍ ابْتَاعَهَا رَجُلٌ بِتِسْعَةِ دَنَانِيرَ، أَوْ بِسَبْعَةِ دَنَانِيرَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ الْحِجَارَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُمَا، قَالَ: فَرَدَّهُ حَتَّى مُيِّزَ بَيْنَهُمَا، وقَالَ ابْنُ عِيسَى: أَرَدْتُ التِّجَارَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَانَ فِي كِتَابِهِ الْحِجَارَةُ، فَغَيَّرَهُ، فَقَالَ التِّجَارَةُ.

فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں خیبر کے سال نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ہار لایا گیا جس میں سونے اور پتھر کے نگ (جڑے ہوئے) تھے ابوبکر اور ابن منیع کہتے ہیں: اس میں پتھر کے دانے سونے سے آویزاں کئے گئے تھے، ایک شخص نے اسے نو یا سات دینار دے کر خریدا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہیں (یہ خریداری درست نہیں) یہاں تک کہ تم ان دونوں کو الگ الگ کر دو اس شخص نے کہا: میرا ارادہ پتھر کے دانے (نگ) لینے کا تھا (یعنی میں نے پتھر کے دانے کے دام دئیے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، یہ خریداری درست نہیں جب تک کہ تم دونوں کو علیحدہ نہ کر دو یہ سن کر اس نے ہار واپس کردیا، یہاں تک کہ سونا نگوں سے جدا کردیا گیا ١ ؎۔ ابن عیسیٰ نے أردت التجارة کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان کی کتاب میں الحجارة ہی تھا مگر انہوں نے اسے بدل کر التجارة کردیا۔

Narrated Fudalah ibn Ubayd: The Prophet ﷺ was brought a necklace in which there were gold and pearls. (The narrators Abu Bakr and (Ahmad) Ibn Mani said: The pearls were set with gold in it, and a man bought it for nine or seven dinars.) The Prophet ﷺ said: (It must not be sold) till the contents are considered separately. The narrator said: He returned it till the contents were considered separately. The narrator Ibn Asa said: By this I intended trade. Abu Dawud said: The word hijarah (stone) was recorded in his note-book before, but he changed it and narrated tijarah (trade).

Notes · وضاحت
١ ؎: اس بیع سے آپ نے اس لئے منع فرمایا کیونکہ سونے کے عوض جو دینار دئے گئے اس میں سونے کے بالمقابل دینار میں کمی بیشی کا خدشہ تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ١٧ (١٥٩١)، سنن الترمذی/البیوع ٣٢ (١٢٥٥)، سنن النسائی/ البیوع ٤٦ (٤٥٧٧)، (تحفة الأشراف: ١١٠٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٩، ٢١) (صحیح )
3352Sunan Abu Dawood

تلوار کا قبضہ جو چاندی کا ہو اسے دراہم (روپوں) کے بدلہ میں بیچنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا، فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ، فَفَصَّلْتُهَا، فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ.

فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں میں نے خیبر کی لڑائی کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا جو سونے اور نگینے کا تھا میں نے سونا اور نگ الگ کئے تو اس میں مجھے سونا (١٢) دینار سے زیادہ کا ملا، پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: دونوں کو الگ الگ کئے بغیر بیچنا درست نہیں ۔

Narrated Fudalah bin Ubaid: At the battle of Khaibar I bought a necklace in which there were gold and pearls for twelve dinars. I separated them and found that its worth was more than twelve dinars. So I mentioned that to the Prophet ﷺ who said: It must not be sold till the contents are considered separately.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٢٧) (صحیح )
3353Sunan Abu Dawood

تلوار کا قبضہ جو چاندی کا ہو اسے دراہم (روپوں) کے بدلہ میں بیچنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنِ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ، نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْأُوقِيَّةَ مِنَ الذَّهَبِ بِالدِّينَارِ، قَالَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ: بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ.

فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ ہم خیبر کی لڑائی کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ہم یہود سے سونے کا اوقیہ دینار کے بدلے بیچتے خریدتے تھے (قتیبہ کے علاوہ دوسرے راویوں نے دو دینار اور تین دینار بھی کہے ہیں، پھر آگے کی بات میں دونوں راوی ایک ہوگئے ہیں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سونے کو سونے سے نہ بیچو جب تک کہ دونوں طرف وزن برابر نہ ہوں ۔

Narrated Fudalah bin Ubaid: We were with the Messenger of Allah ﷺ at the battle of Khaibar. We were selling to the Jews one uqiyah of gold for one dinar. The narrators other than Qutaibah said: for two or three dinars. Then both the versions agreed. The Messenger of Allah ﷺ said: Do not sell gold except with equal weight.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٣٣٥١)، (تحفة الأشراف: ١١٠٢٧) (صحیح )
3354Sunan Abu Dawood

چاندی کے بدلہ میں سونا لینا درست نہیں

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل وَاحِدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ وَأُعْطِي هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ، وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، وَأُعْطِي هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں میں بقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا، تو میں (اسے) دینار سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے درہم لیتا تھا اور درہم سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے دینار لیتا تھا، میں اسے اس کے بدلے میں اور اسے اس کے بدلے میں الٹ پلٹ کرلیتا دیتا تھا، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ام المؤمنین حفصہ ؓ کے یہاں تھے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! ذرا سا میری عرض سن لیجئے: میں آپ سے پوچھتا ہوں: میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں تو دینار سے بیچتا ہوں اور اس کے بدلے درہم لیتا ہوں اور درہم سے بیچتا ہوں اور دینار لیتا ہوں، یہ اس کے بدلے لے لیتا ہوں اور یہ اس کے بدلے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اس دن کے بھاؤ سے ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے جب تک تم دونوں جدا نہ ہوجاؤ اور حال یہ ہو کہ تم دونوں کے درمیان کوئی معاملہ باقی رہ گیا ہو ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : I used to sell camels at al-Baqi for dinars and take dirhams for them, and sell for dirhams and take dinars for them. I would take these for these and give these for these. I went to the Messenger of Allah ﷺ who was in the house of Hafsah. I said: Messenger of Allah, take it easy, I shall ask you (a question): I sell camels at al-Baqi. I sell (them) for dinars and take dirhams and I sell for dirhams and take dinars. I take these for these, and give these for these. The Messenger of Allah ﷺ then said: There is no harm in taking them at the current rate so long as you do not separate leaving something to be settled.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تم دونوں میں سے ایک کا دوسرے کے ذمہ کچھ باقی ہو، بلکہ جدا ہونے سے پیشتر معاملہ صاف ہوجانا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٢٤ (١٢٤٢)، سنن النسائی/البیوع ٤٨ (٤٥٨٦)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥١ (٢٢٦٢)، (تحفة الأشراف: ٧٠٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣، ٥٩، ٨٩، ١٠١، ١٣٩)، سنن الدارمی/البیوع ٤٣ (٢٦٢٣) (ضعیف) (اس کے راوی سماک مختلط ہوگئے تھے اور تلقین کو قبول کرلیتے تھے، ان کے ثقہ ساتھیوں نے اس کو ابن عمر ؓ پر ہی موقوف کردیا ہے )
3355Sunan Abu Dawood

چاندی کے بدلہ میں سونا لینا درست نہیں

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ لَمْ يَذْكُرْ بِسِعْرِ يَوْمِهَا.

اس سند سے بھی سماک سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے لیکن پہلی روایت زیادہ مکمل ہے اس میں اس دن کے بھاؤ کا ذکر نہیں ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Simak (b. Harb) with a different chain of narrators and to the same effect. The first version is more perfect. It does not mention the words at the current rate.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٧٠٥٣) (ضعیف )
3356Sunan Abu Dawood

ایک جانور کو دوسرے جانور کے بدلہ میں ادھار بیچنا منع ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً.

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جانور کے بدلے جانور ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Samurah (ibn Jundub): The Prophet ﷺ forbade selling animals for animals when payment was to be made at a later date.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٢١ (١٢٣٧)، سنن النسائی/البیوع ٦٣ (٤٦٢٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٦ (٢٢٧٠)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٢، ٢١، ٢٢)، سنن الدارمی/البیوع ٣٠ (٢٦٠٦) (صحیح) حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء ٢٤١٦ )
3357Sunan Abu Dawood

اسکے جواز کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ،عَنْ عَمْرِو بْنِ حَرِيشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنّ رسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَهُ أَنْ يُجَهِّزَ جَيْشًا، فَنَفِدَتِ الْإِبِلُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ فِي قِلَاصِ الصَّدَقَةِ فَكَانَ يَأْخُذُ الْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک لشکر تیار کرنے کا حکم دیا، تو اونٹ کم پڑگئے تو آپ نے صدقہ کے جوان اونٹ کے بدلے اونٹ (ادھار) لینے کا حکم دیا تو وہ صدقہ کے اونٹ آنے تک کی شرط پر دو اونٹ کے بدلے ایک اونٹ لیتے تھے۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ commanded him to equip an army, but the camels were insufficient. So he commanded him to keep back the young camels of sadaqah, and he was taking a camel to be replaced by two when the camels of sadaqah came.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٨٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧١، ٢١٦) (ضعیف) (اس کے رواة مسلم، ابو سفیان اور عمرو سب مجہول ہیں )