رَبِّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ، رَبِّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ
My Lord, protect me from the greed of my soul, my Lord, protect me from the greed of my soul.
اے اللہ! مجھے میرے نفس کی بخیلی سے بچا لے۔،اے اللہ! مجھے میرے نفس کی بخیلی سے بچا لے
[Akbar Makkah by Al-Faki:415]
[اخبار مکة للفاکھی:415]
Background & narration
Abū Hayyāj (may Allah have mercy on him) said, "I saw a man making ṭawāf around the Ka‘bah, and he was saying: رَبِّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ، رَبِّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ 'O my Lord! Save me from the greed of my soul, O my Lord! Save me from the greed of my soul.' He said nothing more than that. I inquired about him, and it was said: ‘Abdur-Raḥmān bin ‘Awf (may Allah be pleased with him). I went to him and mentioned it to him, and he said, 'Indeed, when I am saved from the greed of my soul, I am saved from theft, betrayal, and other evils.'" Akhbār Makkah lil-Fākihī: 415
ابو ھیاج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھاوہ کہہ رہا تھا : ٠ رَبِّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ، رَبِّ قِنِیْ شُحَّ نَفْسِیْ. اے اللہ! مجھے میرے نفس کی بخیلی سے بچا لے۔،اے اللہ! مجھے میرے نفس کی بخیلی سے بچا لے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا،میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو کہا گیا: عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ، تو میں ان کے پاس آیا اور میں نے ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا:بے شک جب میں اپنے نفس کے شح سے بچا لیا گیا تو چوری ، خیانت وغیرہ سے بچا لیا گیا ۔ ]اخبار مکة للفاکھی:415[