اَللّٰهُمَّ عَافِهِ / اَللّٰهُمَّ اشْفِهِ
Allāhumma ‘Āfihi / Allāhummashfihī.
O Allah, grant him well-being or O Allah, cure him.
اے الله! اس کو عافیت دے یا اے الله! اس کو شفا دے * مریض کی لیے دعائیہ کلمات
Musnad Aḥmad, Vol: 637, 2 Ṣaḥīḥ
مسند احمد، ج: 637, 2 صحیح
Background & narration
‘Alī (r.a) narrated, I was sick and the Messenger of Allah (s.a.w) came to visit me, as he entered he heard me saying ‘O Allah (s.w.t)! If my death is near then grant me comfort, and if my death is far then make me stand (i.e. make me healthy) and if my test is certain then grant me patience.’ Thereupon the Messenger of Allah (s.a.w) asked me, ‘What are you saying?’ So I repeated what I was saying, then the Messenger of Allah (s.a.w) nudged me with his foot and said, O Allah, grant him well-being or O Allah, cure him (The transmitter was not sure). ‘Alī (r.a) said, ‘After that I never suffered that illness again.’ [Musnad Aḥmad, Vol: 637, 2] Ṣaḥīḥ
مریض کی لیے دعائیه کلمات: حضرت علی رضی الله عنه سے روایت ہے که میں بیمار ہوا تو رسول الله صلی الله علیه وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں کہہ رہا تھا یا الله اگر میری موت قریب آئی ہے تو مجھے راحت دے اور اگر موت دور ہے تو مجھے اٹھا کھڑا کردے (تندرست کر دے) اور اگر میرا امتحان منظور ہے تو صبر دے۔ آپ صلی الله علیه نے فرمایا تم کیا کہہ رہے تھے؟ تو جو میں کہہ رہا تھا دہرا دیا۔ تو آپ صلی الله علیہ نے اپنے پاؤں سے مجھ کو مارا اور کہا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے پھر دہرا دیا تو آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: اَللّٰھُمَّ عَافهِ/ اَللّٰھُمَّ اشْفِهِ۔ اے الله! اس کو عافیت دے یا اے الله! اس کو شفا دے۔ (راوی کو شبه ہوا) ۔ حضرت علی رضی الله عنه نے فرمایا: پھر اس کے بعد مجھے یه مرض لاحق نه ہوا۔ (مسند احمد، ج: 637, 2) صحیح