روزمرہ کی سنتیں

7 adhkar

  1. 1

    صبح کو جاگنے اور کام میں لگنے کی سنتیں

    سنت۱:۔ جب صبح کو جاگو تو تین دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہو اور کلمہ شریف پڑھو اور یہ دعا پڑھو:-r-nاَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ رَدَّ عَلَیَّ رُوْحِیْ وَلَمْ یُمْسِکْھَا فِیْ مَنَامِیْ-r-nسنت۲:۔برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھوں کو خوب تین دفعہ دھو لو۔-r-nسنت۳:۔اگر فرصت ہو تو صبح کی نماز کے بعد سورج ایک بانس بلند ہونے تک بیٹھا رہے اور خدا تعالیٰ کا ذکر کرتا رہے۔ پھر دو یا چار رکعت نماز نفل پڑھ کر اُٹھے انشاء اللہ تعالیٰ ایک حج اور ایک عمرہ کا ثواب پائے گا۔-r-nسنت۴:۔اور پھر کسی حلال روزی کے شغل میں لگ جائے اور تمام دن وقت پر نمازیں ادا کرتا رہے تو یہ پورا دن عبادت میں لکھا جائے گا۔-r-nسنت۵:۔جس شخص کو اللہ تعالیٰ فرصت دے اس کو چاہئے کہ دوپہر کو تھوڑی دیر لیٹ جائے۔ یہ ضروری نہیں کہ سووے بلکہ لیٹ جانا کافی ہے اگرچہ نیند نہ آوے۔

  2. 2

    رات کی سنتیں

    سنّت اطفال:۔ جب شام ہوجاوے اس وقت سے بچوں کو روک لو۔ یعنی گھر سے باہر نہ نکلنے دو۔ اس لئے کہ حدیث شریف میں ہے کہ رات کے وقت شیطان کا لشکر پھیلتا ہے۔-r-nسنت مکان:۔ جب رات کو عشاء کے بعد گھر میں آؤ تو گھر کا دروازہ زنجیر یا ٹٹی سے بند کرلو۔-r-nسنت گفتگو:۔ عشاء کے بعد طرح طرح کے قصّے کہانی مت کہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ صبح کی نماز قضا ہوجائے۔ بلکہ سو جانا چاہئے۔ البتہ اگر کوئی شخص بعد عشاء نصیحت کی باتیں سنائے یا نیک لوگوں یعنی انبیاء ،اولیاء کا ذکر سنائے یا کوئی پیشہ والا شخص اپنا کام کرے تو کوئی حرج نہیں۔-r-nسنتِ چراغ:۔ جب رات کو سونے لگو تو چراغ ، لالٹین یا بجلی بند کردو۔ کیونکہ اس میں بڑا اندیشہ ہے۔ دیکھو اس طرح سنت کا ثواب بھی ہوگا اور حفاظت بھی رہے گی۔ اسی طرح چولہے میں جو آگ ہو اس کو یاتو بجھا دو یا راکھ وغیرہ سے دبا دو، کھلی نہ چھوڑو۔-r-nفائدہ:۔ حقہ پینا تمام علماء کے نزدیک مکروہ ہے کیونکہ منہ میں بدبو پیدا کرتا ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ اس کا پینا چھوڑ دیا جائے اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے چھوڑ نہیں سکتے تو چاہئے کہ حقہ کو تازہ کرتے رہیں اور پانی تبدیل کرکے دھوتے رہیں کئی بار، تاکہ پانی نجس نہ ہو۔ نجس اور گندے حقے کا پینا حرام ہے۔ دوسری بات یہ ضروری ہے کہ سونے کے وقت حقہ اپنے سے دور رکھیں اور مسواک کریں اور منہ دھو کر سوئیں۔ حقہ پیتے ہوئے نہ سوئیں کیونکہ اس میں جان کا بھی نقصان ہے اور دین کا بھی۔ کیا تم نے ان لوگوں کا حال نہیں سنا جو جل گئے اسی حقہ کے شوق میں۔ اور یاد رکھو کہ یہ بات بہت کام کی ہے اور غفلت کو چھوڑ دو۔-r-nسنتِ برتن:۔ سونے سے پہلے تمام برتنوں کو ڈھانپ دو اور کوئی برتن کھلا نہ رہنے دو۔ کیونکہ اس سے وبا کا اثر ہوتا اور شیطان راہ پاتا ہے۔ اور یاد رکھو کہ اگر چھپانے اور ڈھانپنے کے لئے کچھ بھی نہ ملے تو کوئی لکڑی ہی لے لو اور بسم اللہ کہہ کر برتن پر رکھ دو کیونکہ فرمان واجب اطاعت رسول اللہ ﷺ کے یہی کافی ہے۔-r-nسنتِ بستر:۔ اگر سونے سے پہلے بستر کو کپڑے اور تہہ بند کے کنارے سے جھاڑو تو بہت ثواب پاؤ۔ کیونکہ یہ حدیث کا مضمون اور سنت کا طریقہ ہے۔ (فدا ہو ہمارا جان اور مال سنت کے طریقہ پر)اے اللہ ! ہمیں سنت کے طریقہ پر زندہ رکھ اور سنت کے طریقہ پر موت دے اور ہم کو نیک کاموں کے ساتھ اُٹھا۔-r-nسنتِ خواب:۔ اور جب تم سونے کا ارادہ کرو تو کچھ قرآن پاک کی سورتیں پڑھو۔ مثلاً آیۃ الکرسی اور چاروں قُل اور الحمد شریف اور درود شریف۔ اور تم سے زیادہ نہ ہوسکے تو ایک دو سورت ضرور پڑھو کہ یہ دنیا و آخرت کی نیک بختی کا سبب ہے۔ اور اگر خواب میں کوئی بات نظر آوے تو اَعُوْذُ بِاللّٰهِ پڑھو اور کروٹ بدلو اور اگر کسی کو خواب میں ڈر جانے کا مفصل حال دیکھنا ہو تو ہمارا رسالہ تعبیر صادق یعنی خواب نامہ حدیث شریف ملاحظہ کرے کہ اس میں بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔ اور بہتر ہے کہ پہلے آمَنْتُ بِاللّٰہِ اور کلمہ شریف پڑھے اور باوضو ہو کر سووے۔

  3. 3

    کھانے اور پینے کی سنتیں

    سنّت یَد:۔ یعنی کھانے سے پہلے ہاتھ کا دھونا بہت ثواب کا سبب ہے اور سنت ہے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونا مستحب و مسنون ہے۔-r-nسنت دسترخوان:۔ سنت ہے کہ کوئی دسترخوان کپڑے یا چمڑے کا بچھا کر کھائے اور اگر چمڑے کا دستر خوان ہو تو بہت ہی عمدہ اور مسنون ہے۔-r-nسنت بسم اللہ :۔ یہ بہت بڑی اور ضروری سنت ہے۔ اگر بسم اللہ کہہ کر نہ کھایا تو شیطان شریک ہوجاتا ہے اور کھانا بے برکت ہوجاتا ہے۔ اگر شروع میں بسم اللہ کہنا یاد نہ رہے تو جس وقت یاد آجائے تو اسی وقت کہے تاکہ کھانے میں برکت ہو۔-r-nسنت شریک:۔ اگر کئی آدمی ساتھ کھانے والے ہوں تو لازمی ہے کہ ہر ایک شخص اپنے آگے سے کھائے۔ اور اگر کھانے کی کئی قسم کی چیزیں ملی ہوئی ہیں تو جائز ہے کہ جس طرف سے چاہے کھاوے۔ اور جو شخص تنہا کھاتا ہے تو اس کے لئے بھی یہی سنت ہے کہ بیچ میں سے نہ کھاوے اس لئے کہ بیچ میں برکت نازل ہوتی ہے۔-r-nسنت جلوس:۔ بیٹھنے کی سنت یہ ہے کہ دونوں گھٹنے کھڑے کر کے بیٹھے ۔ یعنی اُکڑو بیٹھ کر کھانا کھاوے۔ یا ایک پاؤں بچھائے رکھے اور ایک کو کھڑا رکھے اور کھانے کیلئے مربع بیٹھنا یعنی چوک مار کر بھی بلا ضرورت نہ کھانا چاہئے (کذا فی الاربعین)-r-nسنت ہاتھ:۔ کھانے پینے کیلئے داہنا ہاتھ لگانا چاہئے۔ اور اگر دوسرے ہاتھ سے کھانے کی عادت پڑ گئی ہو تو اس کو چھوڑ دے اور داہنے ہاتھ سے کھانا شروع کر دے اور کھانے کے بعد چاہئے کہ جو کچھ دانا گرا ہو اس کو اُٹھاکر کھا لے اور اپنی انگلیاں چاٹ لے کہ اس میں بہت بڑا ثواب ہے۔-r-nسنت لقمہ:۔ اگر کسی کے پاس سے اس کا لقمہ گر گیا ہو تو اس کو اٹھا کر کھا لے اور اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔-r-nسنت سرکہ:۔ جس گھر میں سرکہ ہو وہ سالن کا محتاج نہیں، سرکہ کا کھانا سنت ہے۔-r-nسنت غلہ:۔ سنت ہے کہ گندم میں کسی قدر جَو ملا کر کھائے مثلاً پانچ سیر گندم میں آدھ سیر یا پاؤ سیر جَو شامل کر لے تاکہ سنت کا ثواب حاصل ہو۔-r-nسنتِ گوشت:۔ گوشت کھانا سنت ہے۔ ہمارے نبی جی ﷺ نے فرمایا ہے کہ گوشت دنیا وآخرت کے کھانوں کا سردار ہے۔-r-nسنت برتن:۔ چاہئے کہ برتن کو صاف کر لے اور چاٹ لے ۔ اگر اس سنت کو ادا کرے گا تو بے حد ثواب پائے گا۔ اور پیالہ اور برتن اس شخص کے لئے مغفرت کی دعا کرے گا۔-r-nسنت شکر:۔ اور چاہئے کہ کھانے کے بعد اوّل اپنے مولا کا شکر ادا کرے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا ھٰذَا-r-nسنتِ شربت:۔ پینے کی سنت یہ ہے کہ دائیں ہاتھ میں لے کر پئے۔ اور ایک سانس میں پیتا ہوا نہ چلا جاوے۔ بلکہ چاہئے کہ تین سانس میں دم لے کر پئے اور شکر بجا لائے۔-r-nطریقہ:۔ اور چاہئے کہ کھانے میں عیب نہ نکالے اور بُرا نہ کہے۔ اگر پسند نہ آوے تو اس کو چھوڑ دے، کیونکہ حضورانور ﷺ کی یہی عادت تھی۔

  4. 4

    لباس اور کپڑے کی سنتىں

    سنتِ رنگ:۔ ہمارے حضرت کو سفید کپڑا پسند تھا۔ لیکن آپ سے سیاہ رنگ کا کپڑا پہننا بھی ثابت ہے۔-r-nسنت عمامہ:۔ سیاہ رنگ کا عمامہ یعنی صافہ باندھنا مستحب ہے۔ اور ایک ہاتھ یا اس سے زیادہ مقدار شملہ چھوڑنا مسنون ہے۔-r-nسنت پہننے کی:۔ سنت ہے کہ جوتا پہلے دائیں پاؤں میں پہنے۔-r-nسنت نیا کپڑا:۔ یعنی نئے کپڑے کی سنت یہ ہے کہ اس کو پہن کر دعا پڑھے:-r-nاَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانَا ھٰذَا-r-nسنتِ تہہ بند:۔ یہ ہے کہ لنگی ،تہبند، یا پائجامہ ٹخنے کے اوپر رہے، نیچے ہرگز نہ لٹکائے۔ اللہ تعالیٰ اس فعل سے نہایت سخت غصّہ ہوتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ تہہ بند یا پائجامہ کو ٹخنے سے نیچے لٹکانے والے پر اللہ تعالیٰ رحمت کی نظر نہ کرے گا۔-r-nسنت ٹوپی:۔ سنت ہے کہ عمامہ اور صافہ کے نیچے ٹوپی رکھے۔ جس نے بغیر ٹوپی کے عمامہ باندھا اس نے سنت کے خلاف عمل کیا۔ اور جس نے بغیر ٹوپی کے اس طرح عمامہ باندھا کہ سر کُھلا رہا تو اس کی نماز مکروہ ہوگی۔ اس لئے ان معتبر مسائل کو یاد رکھو کہ دنیا و آخرت میں کام دینے والے ہیں۔-r-nسنت لنگی:۔ کی یہ ہے کہ لنگی اوپر باندھو تہبند کے طریقہ سے تاکہ حضور اکرمﷺ کی سنت ادا ہو اور بے حد ثواب حاصل ہو۔ اور پھر تمہارے اور کافروں کے لباس میں بھی فرق رہے۔-r-nسنت تکیہ:۔ یہ کہ اس میں کسی درخت کی چھال بھری ہو۔ اور اگر کھجور کی چھال بھری جائے تو بہت زیادہ بہتر ہے۔-r-nسنت ضروری:۔ عورتوں کے لئے یہ ہے کہ ایسا کپڑا پہنیں کہ جس کی آستین ہاتھ تک آجائے اور جو عورتیں ایسا کرتہ پہنتی ہیں کہ اس کی آستین آدھے ہاتھ یعنی کہنی تک ہوتی ہے تو وہ سخت گنہگار ہوتی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایسا اور باریک کپڑا نہ پہنیں جس میں سے بدن نظر آئے۔ کیونکہ ایسی عورتیں قیامت کو ایسی حالت میں اُٹھائی جائیں گی کہ ان کے لئے لباس نہ ہوگا۔ ہمارے حضور اکرم ﷺ نے حدیث میں یہی مضمون فرمایا ہے۔ اے مسلمانو! یہ ضروری مسائل اپنے گھر میں سب عورتوں کو سنا دو۔-r-nسنت انگشتری:۔ مرد کے لئے یہ سنت ہے کہ وہ ساڑھے چار ماشہ چاندی سے زیادہ انگوٹھی نہ پہنے اور سونے کی انگوٹھی مرد کے لئے بالکل حرام ہے، ہرگز نہ پہنیں۔ ہم نے بہت سے مردوں کو دیکھا ہے جو بہت زیادہ وزنی انگوٹھی پہنتے ہیں بلکہ دو دو تین تین چار چار انگوٹھیاں پہنتے ہیں، ایسا ہرگز نہیں چاہئے۔ یہ شعار صرف عورتوں کے لئے زیور زینت ہے مرد کو جائز نہیں ہے کہ ساڑھے چار ماشہ چاندی سے زائد انگوٹھی پہنے۔-r-nسنّت بال :۔ جس شخص کے سر پر بال ہوں اس کو چاہئے کہ بالوں کو دھویا کرے اور کنگھا کرتا رہے۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ روزانہ سر میں اور ڈاڑھی میں کنگھا نہ کرے بلکہ ایک دن درمیان میں چھوڑ کر تیسرے دن کیا کرے۔-r-nسنت خضاب:۔ چاہئے کہ جس کی داڑھی کے بال سفید ہوں وہ مہندی اور تیل کے ساتھ خضاب کرے اور بالکل سیاہ خضاب نہ کرے کہ یہ مکروہ ہے۔-r-nسنت مونچھ و داڑھی:۔ مسنون یہ ہے کہ مونچھ نہ بڑھائی جائے اور داڑھی کو بقدر ایک مٹھی اور اس سے ہرگز کم نہ کرے اور داڑھی کا کٹوانا اور منڈوانا سخت حرام ہے ۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو بچائے۔ آمین-r-nسنت مہندی:۔ عورتوں کو مہندی لگانا سنت ہے۔ یہ مضمون بہت پختہ اور صحیح حدیث کا ہے جو ابوداؤد شریف میں مذکور ہے۔-r-nسنت سُرمہ:۔ عورت اور مَرد دونوں کو سُرمہ لگانا مسنون ہے۔ رات کو ہر آنکھ میں تین تین سلائی لگائے ۔ یہ روایت ترمذی شریف میں ہے۔ -r-nسنتِ حجامت:۔ مسنون یہ ہے کہ یا تو تمام سر پر بال رکھے اور یا پھر تمام سر کے بال مونڈائے۔ اور تھوڑے بال ایک طرف کے کٹوانا اور ایک طرف کے باقی رکھنا یہ حرام ہے۔ اے مسلمانو! اس سے ضرور بچنا چاہئے۔

  5. 5

    شادی اور نکاح کی سنتیں

    سنت نکاح:۔ نکاح کی سنت یہ ہے کہ سادگی کے طریقہ سے ہو اور اس میں زیادہ تکلف اور بہت زیادہ سامان نہیں ہونا چاہئے۔-r-nسنت یوم:۔ نکاح کیلئے مسنون دن جمعہ کا ہے جو برکت اور بھلائی کا سبب ہے۔-r-nسنت مکان:۔ اور مسجد میں نکاح کرنا مسنون ہے۔-r-nسنتِ اعلان:۔ یعنی سنت ہے کہ نکاح کو مشہور کیا جائے، اور دف بجایا جائے یعنی ایسا باجا جو ایک طرف سے کھلا ہوا ہو جس کو دف اور ڈھبڑا کہتے ہیں۔-r-nسنّت خُرما:۔ نکاح کے بعد چھوارا یا کھجور کا لُٹانا اور تقسیم کرنا سنت ہے۔-r-nسنت شب:۔ یہ ہے کہ جب پہلی رات کو اپنی بی بی کے پاس جائے تو اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر یہ دعا پڑھے:-r-nاَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ خَیْرَھَا وخَیْرَ مَا فِیْھَا وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا-r-nسنت شوّال:۔مسنون اور محبوب طریقہ یہ ہے کہ نکاح ماہ شوال میں کیا جائے کہ برکت کا باعث ہے۔-r-nسنت ولیمہ:۔ مسنون ہے کہ جب پہلی رات اپنی زوجہ کے پاس گذارے تو ولیمہ کرے اور اپنے عزیزوں ،رشتہ داروں اور دوستوں و مساکین کو کھلاوے اور یہ ضروری نہیں کہ ولیمہ بہت بڑے سامان سے کیا جائے بلکہ اگر تھوڑا ہی کھانا پکا کر اپنے عزیز رشتہ داروں کو تھوڑا تھوڑا کھلائے تب بھی سنت ادا ہوجائے گی۔ اور سب سے خراب ولیمہ وہ ہے جس میں مالدار اور دنیادار لوگ بلائے جائیں اور مسکین غریب اور دیندار نہ بلائے جائیں، بلکہ نکالے جائیں غریب محتاج۔ اے بھائیو! جب ولیمہ کرو تو اس میں سنت کی نیت رکھو اور مسکین غریب اور دیندار کو بلاؤ ۔ اور امیروں میں سے جس کو چاہو بلاؤ لیکن غریبوں کو نہ نکالو۔ اور جو شخص دکھلانے اور ناموری کیلئے ولیمہ کرتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں ایسے شخص کو ولیمہ کا کچھ ثواب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کا ڈر ہے۔-r-nسنت دعوت:۔ دعوت کا قبول کرنا سنت ہے۔ لیکن جو شخص حرام مال کھاتا ہو اور رشوت اور سود یا بدکاری میں مبتلا ہو اس کی دعوت قبول نہ کرنی چاہئے۔ اور اگر ایک ہی وقت میں دو آدمی دعوت کریں تو اُس شخص کی دعوت قبول کرو جس کا مکان اور دروازہ تم سے قریب تر ہو۔

  6. 6

    سفر وغیرہ کی سنتیں

    سنت ہمراہی:۔ بہتر اور مسنون یہ ہے کہ دو آدمی سفر میں جاویں، تنہا ایک شخص کو سفر میں جانا بہتر نہیں، لیکن جب کہ ضرورت ہو تو تنہا شخص بھی سفر کرے تو کچھ اندیشہ نہیں، یہ ہمارے فقہاء اور محدثین کا ارشاد ہے، رحمۃ اللہ علیہم اجمعین-r-nسنت دن:۔ مسنون ہے کہ جمعرات کو سفر میں جاوے اور یہ بھی مستحب ہے کہ سفر شنبہ یعنی سنیچر کے دن شروع کرے۔-r-nسنتِ قیام:۔ سفر میں ٹھہرنے کی سنت یہ ہے کہ درمیان راہ میں جس جگہ کہ مسافر چلتے ہیں نہ ٹھہرے بلکہ ایک طرف ہٹ کر ٹھہرے۔-r-nسنت واپسی:۔ ہمارے حضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب سفر میں ضرورت پوری ہوجائے تو پھر نہ ٹھیرے بلکہ واپس چلا آئے، باہر سفر میں بلا ضرورت ٹھیرنا اچھا نہیں ہے۔-r-nسنت مکان:۔ اگر کسی دور سفر میں گیا ہوا تھا اور کافی روز گذرنے کے بعد آیا ہے تو سنت یہ ہے کہ اچانک گھر میں نہ داخل ہو، بلکہ پہلے اپنے آنے کی خبر دے پھر کچھ دیر بعد گھرمیں جاوے۔ اسی طرح اگر زیادہ رات گذرنے پر آیا ہے تو اُسی وقت گھر نہ جاوے بلکہ ٹھہر جائے اور صبح کو خبر ہونے کے بعد گھر میں داخل ہو، لیکن اگر وہ لوگ خبردار ہوں اور تمہارے انتظار میں ہوں تو کچھ مضائقہ نہیں رات کو ہی گھر میں داخل ہوجاؤ، یہ سنت کے وہ زرّیں طریقے ہیں جن پر عمل کرکے دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل کرو۔-r-nسنّت نماز:۔ سنت ہے کہ جب سفر سے واپس لوٹ کر آئے تو گھر میں داخل ہونے سے قبل دو رکعت نماز مسجد میں جا کر پڑھے۔ اور یہ بھی سنت ہے کہ سفر میں کتّے اور زنگور یعنی گھنگرو کو ساتھ نہ رکھے ورنہ شیطان پیچھے لگ لیتا ہے اور سفر بے برکت ہوجاتا ہے۔

  7. 7

    سنت کے کاموں کی تفصیل

    سنّت سلام:۔ سلام کرنا نہایت بڑی سنت ہے اور حضور اکرم ﷺ نے اس کی بہت تاکید فرمائی ہے۔ ہر مسلمان شخص کو سلام کرنا چاہئے اگرچہ اس کو پہچانتا نہ ہو کیونکہ سلام کرنا اسلام کا حق ہے۔ اور یہ کسی کے جاننے اور شناسائی پر موقوف نہیں ہے۔-r-nسنت چھینک:۔ جب چھینک آئے تو الحمد ﷲکہنا چاہئے۔-r-nسنت جواب:۔ جب تم سنو کہ کسی نے چھینک کے بعد الحمد ﷲ کہا ہے۔ تو تم جواب میں یرحمک اللہ ضرور کہو اور اس کا بطور خاص خیال رکھو کیونکہ یہ بھی اسلام کا حق ہے۔-r-nسنت اطفال:۔ سنت ہے کہ لڑکوں پر بھی سلام کرے۔ کیونکہ حضور اکرم ﷺ لڑکوں پر گذرے تو سلام کیا آپ نے لڑکوں پر۔یہ حدیث بخاری ومسلم شریف میں موجود ہے۔ -r-nسنت رخصت:۔ یہ ہے کہ جب لوگوں سے رخصت ہو تو بھی سلام کرو اُن پر۔-r-nسنت مصافحہ:۔ اور سنت ہے کہ مسلمان بھائی سے ملتے وقت مصافحہ کرے۔ اور مرد سے مرد مصافحہ کرے اور عورت سے عورت لیکن یہ جائز نہیں کہ عورت مرد سے مصافحہ کرے۔-r-nسنت تعظیم:۔جو کوئی بڑا شخص جس کو دین کی عزت حاصل ہو تمہارے پاس آوے تو بہتر ہے کہ اس کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔ لیکن خود لوگوں کو یہ پسند نہ کرنا چاہئے کہ لوگ اس کے لئے کھڑے ہوں۔-r-nسنت مجلس:۔ جب کسی مجلس میں پہونچو تو جس جگہ موقع مل جائے وہیں بیٹھ جاؤ۔ اور یہ مکروہ ہے کہ دوسروں کو اُٹھا کر تم وہاں بیٹھ جاؤ۔-r-nسنت وسعت:۔ جب کوئی شخص آئے اور جگہ نہ ہو تو لوگوں کو چاہئے کہ ذرا مل کر بیٹھ جائیں اور آنے والے مومن کے لئے وسعت کر دیں۔-r-nسنت اجازت:۔ اور سنت ہے کہ جب کسی کے مکان میں داخل ہو تو اول اجازت لے کر داخل ہو۔-r-nسنت جمائی:۔ جب جمائی یا انگڑائی آئے تو چاہئے کہ منہ کو بند کرے اور منہ کھولے نہیں اور اگر منہ بند نہ کر سکے تو منہ پر ہاتھ رکھ لے۔-r-nسنت نام:۔ سنت ہے کہ اپنی اولاد کا نام عبد اللہ وعبد الرحمن رکھے۔ اس لئے کہ حضرت نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب تر نام عبد اللہ وعبد الرحمن ہیں۔-r-nبیماری وغیرہ کی سنتیں-r-nسنت عیادت:۔ یعنی بیمار پرسی کی سنت یہ ہے کہ بیمار کی مزاج پرسی کو جانا چاہئے۔-r-nسنت واپسی:۔ یہ ہے کہ بیمار کی عیادت کے بعد جلد واپس آجائے بیمار کے پاس سے تاکہ تمہارے بیٹھنے سے وہ رنجیدہ نہ ہو، اور اس کے گھر والوں کے کام میں خلل نہ پڑے۔-r-nسنت تسلّی:۔ بیمار کی ہر طرح سے تشفی کرنی مسنون ہے اس سے کہئے کہ انشاء اللہ تعالیٰ تم اچھے ہوجاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی بڑی قدرت ہے۔ غرض اس سے ڈرانے والی بات نہ کہے۔-r-nہدایت:۔ رات کو بیمار پرسی جائز ہے۔ یہ جو لوگ منحوس سمجھتے ہیں غلط ہے اسی طرح جب بیمار کی خبر سنو اس وقت سے جب چاہے بیمار کی عیادت کر آئے۔ یہ ضروری نہیں کہ تین روز بیمار رہنے کے بعد عیادت کرے بلکہ جب چاہے کر آئے۔-r-nسنت دوائی:۔ بیماری میں علاج اور دوا کرنا مسنون ہے، لیکن نظر رکھے اللہ تعالیٰ پر۔-r-nسنت کلونجی:۔ کلونجی اور شہد سے علاج و دوا کرنا سنت ہے، کیونکہ ہمارے نبی جی ﷺ نے فرمایا ہے کہ ان دونوں چیزوں میں اللہ تعالیٰ نے شفا رکھی ہے، اور ان کی تعریف میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔-r-nسنت فال:۔ سنت یہ ہے کہ جب کسی کا عمدہ نام سنو تو اسے اپنے مدعا کے مناسب اور بہتر سمجھ کر خوش ہوجاؤ، یہی فال ہے۔ بد فال لینا سخت منع ہے مثلاً سفر میں جاتے وقت گیدڑ راستہ سے ہو کر گذر جائے تو لوگ اُس دن کو چھوڑ دیتے ہیں پھر کسی دن سفر کرتے ہیں۔ مثلاً صبح کو بندر کا نام نہیں لیتے اُن کو برائی کا باعث سمجھتے ہیں، یہ سب منع ہے اور بہت بُرا ہے کسی آدمی کو منحوس سمجھنا۔ اور یہ بھی غلطی ہے کہ فلاں مکان کی وجہ سے ہم کو مرض آیا، یا نقصان ہوا۔-r-nسنت موت:۔ سنت یہ ہے کہ میّت کے دفن میں جلدی کی جائے۔-r-nسنت قبر:۔ یہ ہے کہ قبر پر پانی ڈالیں۔ اور قبر بہت اونچی نہ بنائیں اور پختہ قبر نہ بنائیں۔-r-nسنت طعام:۔ سنت ہے کہ میّت کے رشتہ داروں کو کھانا دیا جائے۔ لیکن یہ خیال رہے کہ تمام برادری اور رشتہ داروں کو کھلانا جائز نہیں بلکہ وہی لوگ کھاویں جو کھانے میں میت والوں کے شریک ہیں۔ اور کھانے میں ناموری و دکھلاوا جائز نہیں بلکہ جو کچھ موجود ہو وہی دیا جائے۔ -r-nیہ سنت کی وہ باتیں ہیں جن پر عمل کرنے سے آدمی نجات پاتا ہے اور محبوب ہوتا ہے اللہ کی طرف۔-r-nپس اے مسلمانو! عمل کرو شوق سے اور دعا کرو کہ سنت کا طریقہ نصیب ہو ہم سب کو اور آخرت میں ہم سب حضور اکرم ﷺ کے ساتھ ہوں۔ آمین