سنّت سلام:۔ سلام کرنا نہایت بڑی سنت ہے اور حضور اکرم ﷺ نے اس کی بہت تاکید فرمائی ہے۔ ہر مسلمان شخص کو سلام کرنا چاہئے اگرچہ اس کو پہچانتا نہ ہو کیونکہ سلام کرنا اسلام کا حق ہے۔ اور یہ کسی کے جاننے اور شناسائی پر موقوف نہیں ہے۔-r-nسنت چھینک:۔ جب چھینک آئے تو الحمد ﷲکہنا چاہئے۔-r-nسنت جواب:۔ جب تم سنو کہ کسی نے چھینک کے بعد الحمد ﷲ کہا ہے۔ تو تم جواب میں یرحمک اللہ ضرور کہو اور اس کا بطور خاص خیال رکھو کیونکہ یہ بھی اسلام کا حق ہے۔-r-nسنت اطفال:۔ سنت ہے کہ لڑکوں پر بھی سلام کرے۔ کیونکہ حضور اکرم ﷺ لڑکوں پر گذرے تو سلام کیا آپ نے لڑکوں پر۔یہ حدیث بخاری ومسلم شریف میں موجود ہے۔ -r-nسنت رخصت:۔ یہ ہے کہ جب لوگوں سے رخصت ہو تو بھی سلام کرو اُن پر۔-r-nسنت مصافحہ:۔ اور سنت ہے کہ مسلمان بھائی سے ملتے وقت مصافحہ کرے۔ اور مرد سے مرد مصافحہ کرے اور عورت سے عورت لیکن یہ جائز نہیں کہ عورت مرد سے مصافحہ کرے۔-r-nسنت تعظیم:۔جو کوئی بڑا شخص جس کو دین کی عزت حاصل ہو تمہارے پاس آوے تو بہتر ہے کہ اس کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔ لیکن خود لوگوں کو یہ پسند نہ کرنا چاہئے کہ لوگ اس کے لئے کھڑے ہوں۔-r-nسنت مجلس:۔ جب کسی مجلس میں پہونچو تو جس جگہ موقع مل جائے وہیں بیٹھ جاؤ۔ اور یہ مکروہ ہے کہ دوسروں کو اُٹھا کر تم وہاں بیٹھ جاؤ۔-r-nسنت وسعت:۔ جب کوئی شخص آئے اور جگہ نہ ہو تو لوگوں کو چاہئے کہ ذرا مل کر بیٹھ جائیں اور آنے والے مومن کے لئے وسعت کر دیں۔-r-nسنت اجازت:۔ اور سنت ہے کہ جب کسی کے مکان میں داخل ہو تو اول اجازت لے کر داخل ہو۔-r-nسنت جمائی:۔ جب جمائی یا انگڑائی آئے تو چاہئے کہ منہ کو بند کرے اور منہ کھولے نہیں اور اگر منہ بند نہ کر سکے تو منہ پر ہاتھ رکھ لے۔-r-nسنت نام:۔ سنت ہے کہ اپنی اولاد کا نام عبد اللہ وعبد الرحمن رکھے۔ اس لئے کہ حضرت نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب تر نام عبد اللہ وعبد الرحمن ہیں۔-r-nبیماری وغیرہ کی سنتیں-r-nسنت عیادت:۔ یعنی بیمار پرسی کی سنت یہ ہے کہ بیمار کی مزاج پرسی کو جانا چاہئے۔-r-nسنت واپسی:۔ یہ ہے کہ بیمار کی عیادت کے بعد جلد واپس آجائے بیمار کے پاس سے تاکہ تمہارے بیٹھنے سے وہ رنجیدہ نہ ہو، اور اس کے گھر والوں کے کام میں خلل نہ پڑے۔-r-nسنت تسلّی:۔ بیمار کی ہر طرح سے تشفی کرنی مسنون ہے اس سے کہئے کہ انشاء اللہ تعالیٰ تم اچھے ہوجاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی بڑی قدرت ہے۔ غرض اس سے ڈرانے والی بات نہ کہے۔-r-nہدایت:۔ رات کو بیمار پرسی جائز ہے۔ یہ جو لوگ منحوس سمجھتے ہیں غلط ہے اسی طرح جب بیمار کی خبر سنو اس وقت سے جب چاہے بیمار کی عیادت کر آئے۔ یہ ضروری نہیں کہ تین روز بیمار رہنے کے بعد عیادت کرے بلکہ جب چاہے کر آئے۔-r-nسنت دوائی:۔ بیماری میں علاج اور دوا کرنا مسنون ہے، لیکن نظر رکھے اللہ تعالیٰ پر۔-r-nسنت کلونجی:۔ کلونجی اور شہد سے علاج و دوا کرنا سنت ہے، کیونکہ ہمارے نبی جی ﷺ نے فرمایا ہے کہ ان دونوں چیزوں میں اللہ تعالیٰ نے شفا رکھی ہے، اور ان کی تعریف میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔-r-nسنت فال:۔ سنت یہ ہے کہ جب کسی کا عمدہ نام سنو تو اسے اپنے مدعا کے مناسب اور بہتر سمجھ کر خوش ہوجاؤ، یہی فال ہے۔ بد فال لینا سخت منع ہے مثلاً سفر میں جاتے وقت گیدڑ راستہ سے ہو کر گذر جائے تو لوگ اُس دن کو چھوڑ دیتے ہیں پھر کسی دن سفر کرتے ہیں۔ مثلاً صبح کو بندر کا نام نہیں لیتے اُن کو برائی کا باعث سمجھتے ہیں، یہ سب منع ہے اور بہت بُرا ہے کسی آدمی کو منحوس سمجھنا۔ اور یہ بھی غلطی ہے کہ فلاں مکان کی وجہ سے ہم کو مرض آیا، یا نقصان ہوا۔-r-nسنت موت:۔ سنت یہ ہے کہ میّت کے دفن میں جلدی کی جائے۔-r-nسنت قبر:۔ یہ ہے کہ قبر پر پانی ڈالیں۔ اور قبر بہت اونچی نہ بنائیں اور پختہ قبر نہ بنائیں۔-r-nسنت طعام:۔ سنت ہے کہ میّت کے رشتہ داروں کو کھانا دیا جائے۔ لیکن یہ خیال رہے کہ تمام برادری اور رشتہ داروں کو کھلانا جائز نہیں بلکہ وہی لوگ کھاویں جو کھانے میں میت والوں کے شریک ہیں۔ اور کھانے میں ناموری و دکھلاوا جائز نہیں بلکہ جو کچھ موجود ہو وہی دیا جائے۔ -r-nیہ سنت کی وہ باتیں ہیں جن پر عمل کرنے سے آدمی نجات پاتا ہے اور محبوب ہوتا ہے اللہ کی طرف۔-r-nپس اے مسلمانو! عمل کرو شوق سے اور دعا کرو کہ سنت کا طریقہ نصیب ہو ہم سب کو اور آخرت میں ہم سب حضور اکرم ﷺ کے ساتھ ہوں۔ آمین