روزمرہ کی دعائیں

42 adhkar

  1. 1

    بیمارى سے شفا یابى کى دعا

    اَنِّىْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ (۲۱:۸۳)

    ترجمہ: (اے اللہ !) مجھے تکلیف نے آلیا ہے اور آپ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے ہیں۔

    Virtue

    جب انسان کسی سخت بیماری میں مبتلا ہو تو یہ دعا کثرت سے مانگتے رہنا چاہئے۔ اللہ تعالىٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو اسی دعا کی برکت سے شفا عطا فرمائی۔

  2. 2

    گھر والوں اور اولاد کى نیکى اور سعادت مندى کے لئے

    رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (۲۵:۷۴)

    ترجمہ: اے ہمارے پروردگار !ہمیں اپنے شوہروں ،بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما ئیے اور ہمیں متقیوں کا سربراہ بنائیے۔

  3. 3

    سونے کے لئے بستر پر جاتے وقت

    اَللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ اَمُوْتُ وَاَحْيٰي

    ترجمہ: اے اللہ ! میں آپ ہی کے نام پر مروں گا اور (آپ ہی کے نام پر) جیتا ہوں (بخاری)

  4. 4

    نیند سے بیدار ہوتے وقت

    الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي اَحْيَانَا بَعْدَ مَاۤ اَمَاتَنَا وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُ

    ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (ابوداود4/311)

  5. 5

    بیت الخلاء جاتے وقت

    اَللّٰهُمَّ اِنِّيۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَآئِثِ

    ترجمہ:اے اللہ ! میں خبیث شیاطین سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں چاہے وہ نر ہوں یا مادہ (بخاری 1/40)

  6. 6

    بیت الخلاء سے نکلتے ہوئے

    غُفْرَانَكَ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ اَذْهَبَ عَنِّي الْاَذَي وَعَافَانِيْ

    ترجمہ: اے اللہ ! میں آپ سے مغفرت مانگتا ہوں ،تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھ سے گندگی دور کی اور مجھے عافیت عطا فرمائی۔

  7. 7

    وضو کے دوران

    اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ وَوَسِّعْ لِيْ فِيْ دَارِيْ وَبَارِكْ لِيْ فِيْ رِزْقِيْ

    ترجمہ: اے اللہ ! میرے گناہ کو معاف فرما دیجئے ، میرے گھر میں وسعت عطا فرمائیے اور میرے رزق میں برکت عطا فرمائیے۔ (عمل الیوم واللیلۃ للنسائی 1/172)

  8. 8

    وضو کے بعد

    اَشْهَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَہٗ لَاشَرِيْكَ لَهٗ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ ہٗ وَرَسُولُهٗ-r-n-r-nاَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ، وَاجْعَلْنِيْ مِنَ المُتَطَهِّرِيْنَ

    ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں (مسلم1/209)-r-n-r-nترجمہ: اے اللہ ! مجھے بہت توبہ کرنے والوں میں اور بہت پاک رہنے والوں میں شامل کر لیجئے (ترمذی1/77)

    Virtue

    وضو کے بعد آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر یہ کلمات کہے-r-nفضیلت: وضو کے بعد مندرجہ بالا دعا پڑھنے والے کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔

  9. 9

    غسل سے پہلے

    اَللّٰهُمَّ اِنِّيْۤ اَسْئَلُكَ الْجَنَّةَ وَاَعُوْذُبِكَ مِنَ النَّارِ

    ترجمہ: یا اللہ ! میں آپ سے جنت مانگتا ہوں اور دوزخ سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں (عمل الیوم واللیلۃ ،ابن السنی ص85)

  10. 10

    مسجد مىں داخل ہوتے وقت

    بِسْمِ اللّٰهِ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰي رَسُوْلِ اللّٰهِ اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِيْۤ اَبْوَابَ رَحْمَتِكَ

    ترجمہ: اللہ کے نام سے اور رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ وسلام ہو، اے اللہ ! میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیجئے۔

  11. 11

    مسجد سے باہر نکلتے وقت

    بِسْمِ اللّٰهِ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰي رَسُوْلِ اللّٰهِ اَللّٰهُمَّ اِنِّيْۤ اَسْئَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ

    ترجمہ: اللہ کے نام سے اور رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ وسلام ہو۔ اے اللہ ! میں آپ سے آپ کا فضل مانگتا ہوں۔

  12. 12

    اذان کى آواز سن کر

    جب اذان کى آواز سنے تو جو کلمات مؤذن کہتا جائے وہى کلمات خود بھى دُہرائے، البتہ حَىَّ عَلَى الصَّلٰوۃ اور حَىَّ عَلَى الْفَلَاحِ کے جواب میں لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ کہے-r-nاذان کے ختم پر یہ دعا پڑھے:-r-nاَللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّآمَّةِ وَالصَّلاَةِ القَآئِمَةِ آتِ مُحَمَّدَ نِ الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَ نِ الَّذِي وَعَدْتَّهُ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ

    ترجمہ: اے اللہ ! جو اس مکمل دعوت اور کھڑی ہونے والی نماز کا مالک ہے، حضرت محمد(ﷺ) کو مقام وسیلہ عطا فرما اور فضیلت عطا فرما، اور اس مقام محمود پر فائز فرما جس کا آپ نے ان سے وعدہ فرمایا ہے، بے شک آپ وعدہ خلافی نہیں فرماتے (بخاری1/126، اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ کا اضافہ بیہقی نے کیا ہے )

  13. 13

    فرض نماز سے سلام پھیرنے کے بعد

    (۱) بِسْمِ اللّٰهِ الَّذِي لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ، اَللّٰهُمَّ اَذْهِبْ عَنِّي الْهَمَّ وَالْحَزَنَ-r-n-r-n(۲) اَللّٰهُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ-r-n-r-n(۳) لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيْكَ لَهٗ، لَهٗ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، اَللّٰهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا اَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ

    (۱) ترجمہ: اللہ کے نام سے(میں نے نماز پوری کی) جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جو رحمن و رحیم ہے ،اے اللہ ! مجھ سے فکر وتشویش کو دور فرما دیجئے (مجمع الزوائد)-r-n-r-n(۲) ترجمہ: اے اللہ ! آپ (ہمیشہ) سلامت رہنے والے ہیں، اور آپ ہی سے (ہر ایک کو) سلامتی ملتی ہے، اور اے ذوالجلال والاکرام آپ بہت برکت والے ہیں (ترمذی ،ابن ماجہ)-r-n-r-n(۳) ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،و ہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، سلطنت اسی کی ہے ،تعریف اسی کی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ ! جو چیز آپ عطا فرمائیں اسے روکنے والا کوئی نہیں، اور جو چیز آپ روک لیں اسے دینے والا کوئی نہیں، اور کسی با رُتبہ شخص کو اس کا رُتبہ آپ کے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ (بخاری ومسلم)

  14. 14

    گھر مىں داخل ہوتے وقت

    اَللّٰهُمَّ اِنِّيۤ اَسْاَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلَجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ بِسْمِ اللّٰهِ وَلَجْنَا وَبِسْمِ اللّٰهِ خَرَجْنَا وَعَلَى اللّٰهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا

    ترجمہ: اے اللہ ! میں آپ سے داخل ہونے کی بھلائی مانگتا ہوں اور نکلنے کی بھلائی مانگتا ہوں، اللہ کے نام سے ہم داخل ہوئے اور اللہ کے نام ہی سے نکلے اور اللہ ہی پر جو ہمارا پروردگار ہے ہم نے بھروسہ کیا (ابوداود)

  15. 15

    افطار کے وقت

    اَللّٰهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلٰى رِزْقِكَ اَفْطَرْتُ

    ترجمہ: یا اللہ ! میں نے آپ کے لئے روزہ رکھا اور آپ کے رزق پر افطار کیا (مراسیل ابوداود1/124)

  16. 16

    کھانے کے بعد

    اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذيۤ اَطْعَمَنَا وَسَقانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِيْنَ

    ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا(الاذکار للنووی1/236)

  17. 17

    اگر کھانا کسى اور نے کھلایا ہو

    اَللّٰهُمَّ اَطْعِمْ مَنْ اَطْعَمَنِيْ وَاسْقِ مَنْ سَقَانِيْ

    ترجمہ: اے اللہ ! جس نے مجھے کھانا کھلایا ،آپ اس کو (اور) کھلائیے اور جس نے مجھے سیراب کیا، آپ اسے (اور) سیراب کیجئے (مسلم)

  18. 18

    کپڑے بدلتے وقت

    اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي كَسَانِيْ هٰذَا وَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِّنِّي وَلَا قُوَّةٍ

    ترجمہ: تعریف اللہ کی ہے جس نے مجھے یہ پہنایا اور میری کسی قوت اور طاقت کے بغیر مجھے عطا فرمایا (حصن المسلم)

  19. 19

    جب کسى دشمن کا خوف ہو

    اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُكَ فِيْ نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُبِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ

    ترجمہ: اے اﷲ! ہم تجھی کو ان کے مقابل کرتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں (ابن السنی 89)

  20. 20

    جب کوئى کام مشکل معلوم ہو

    اَللّٰهُمَّ لَا سَهْلَ اِلَّا مَا جَعَلْتَه سَهْلًا وَّاَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزَنَ سَهْلًا اِذَا شِئْتَ

    ترجمہ: اے اﷲ! کوئی چیز آسان نہیں مگر جس کو تو آسان بنائے اور تو مشکل کو بھی آسان کردیتا ہے جب چاہے (حصنِ حصین)

  21. 21

    نیا کپڑا پہنتے وقت

    اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ اَنْتَ كَسَوْتَنِيْهِ اَسْاَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ وَاَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ

    ترجمہ: اے اللہ ! آپ ہی کی تعریف ہے جیسے کہ آپ نے مجھے یہ لباس پہنایا، میں آپ سے اس کپڑے کی بھلائی مانگتا ہوں اور اس کام کی بھلائی مانگتا ہوں جس کے لئے یہ بنایا گیا، اور میں ا س کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اور جس کام کے لئے بنایا گیا اس کی بُرائی سے پناہ مانگتا ہوں (حصن المسلم)

  22. 22

    جب بازار مىں داخل ہو

    لَاۤ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيْكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِيْ وَيُمِيْتُ وَهُوَ حَيٌّ لَّا يَمُوْتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ

    ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں، سلطنت اسی کی ہے وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے، اور وہ خود زندہ ہے جسے موت نہیں آئے گی، اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے (حصن المسلم)

  23. 23

    جب کسى سوارى پر سوار ہو

    سُبۡحٰنَ الَّذِىۡ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقۡرِنِيۡنَۙ‏ (۱۳) وَاِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ (۱۴)-r-nسورۃ زخرف

    ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس نے یہ سواری ہمارے لئے مسخر کر دی، اور ہم اس کو قابو میں لانے والے نہ تھے، اور ہم اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

  24. 24

    سفر کى دعا

    اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْاَلُكَ فِي سَفَرِنَا هٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰى وَمِنَ العَمَلِ مَا تَرْضٰى اَللّٰهُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالخَلِيْفَةُ فِي الْاَهْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَّعْثَاءِ السَّفَرِ وكَآبَةِ المَنْظَرِ وَسُوءِ المُنْقَلَبِ في المَالِ والاَهْلِ وَالْوَلَدِ اَللّٰهُمَّ هَوِّن عَلَيْنا سَفَرَنَا هٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهٗ

    ترجمہ: اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ ! آپ ہی ہمارے سفر میں ہمارے ساتھ ہیں، اور آپ ہی ہمارے پیچھے ہمارے گھر والوں اور مال و اولادکے محافظ ہیں۔ اے اللہ ! ہم آپ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور تقوىٰ کی توفیق مانگتے ہیں، اور ایسے عمل کی جس سے آپ راضی ہوں۔ اے اللہ ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں سفر کی مشقت سے اور غم میں ڈالنے والے منظر سے، اور بُری حالت میں گھر والوں اور مال واولاد کے پاس واپس لوٹنے سے۔ اے اللہ ! ہمارے لئے اس سفر کو آسان کر دیجئے اور اس کی دوری کو ہمارے لئے لپیٹ دیجئے۔

  25. 25

    جب کسى نئى بستى مىں داخل ہو

    اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْئَلُكَ خَيْرَ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ اَهْلِهَا وَخَيْرَ مَافِيْهَا وَاَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ اَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيْهَا

    ترجمہ: اے اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اس بستی کی، اس کے رہنے والوں کی اور جو کچھ اس بستی میں ہے اس کی بھلائی نصیب ہو، اور میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس کی ، اس کے رہنے والوں کی اور جو کچھ اس بستی میں ہے اس کی بُرائی سے۔

  26. 26

    بیمار کےلئے نبى ﷺ کى دعا

    اَذْهِبِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ اَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَآءَ اِلَّا شِفَآؤُكَ شِفَآءٌ لَّا يُغَادِرُ سَقَمًا

    ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ (کا یہ طریقہ تھا) جب ہم میں سے کوئی بیمار ہوتا آپ ﷺ اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ (دعا) فرماتے ۔-r-n-r-nترجمہ: اے لوگوں کے پروردگار! بیماری دور کر دے اور شفا دے تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیرے سوا کسی کی شفاء ایسی نہیں جو بیماری کو دور کر دے۔ (بخاری ومسلم)

  27. 27

    نکاح کى مبارکباد

    بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِيْ خَيْرٍ

    ترجمہ: اللہ تعالىٰ تمہارے لئے یہ نکاح مبارک فرمائے اور تم پر برکتین نازل فرمائے اور تم دونوں کو خیر وخوبی کے ساتھ اکٹھا رکھے (حاکم)

  28. 28

    جماع کے وقت

    بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَارَزَقْتَنَا

    ترجمہ: اللہ کے نام سے ، یا اللہ ! ہم کو شیطان سے دور رکھ، اور شیطان کو اس چیز سے(یعنی اولاد) سے دور رکھ جو آپ ہمیں عطا فرمائیں ۔(مسلم)

  29. 29

    انزال کے وقت

    اَللّٰهُمَّ لَاتَجْعَلْ لِلشَّيْطَانِ فِيْمَا رَزَقْتَنِيْ نَصِيْبًا

    ترجمہ: یا اللہ ! جو کچھ (اولاد) آپ مجھے عطا فرمائیں اس میں شیطان کا کوئی حصہ نہ لگائیے (فتح الباری)

  30. 30

    مہینے کا پہلا چاند دیکھ کر

    اَللّٰهُمَّ اَهْلِلْهُ عَلَيْنَا بِاليُمْنِ وَالْاِيْمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْاِسْلَامِ رَبِّيْ وَرَبُّكَ اللّٰهُ

    ترجمہ: یا اللہ ! اس چاند کو ہم پر برکت ایمان ،سلامتی اور اسلام کے ساتھ طلوع فرمائیے (اے چاند) میرا اور تیرا دونوں کا پروردگار اللہ ہے (ترمذی5/504)

  31. 31

    جب غصہ آئے

    اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ-r-n-r-nاَللّٰهُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ، اِغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ، وَاَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِيْ، وَاَجِرْنِيْ مِنْ مُّضِلَّاتِ الْفِتَنِ

    ترجمہ: یا اللہ ! اے محمد(ﷺ) کے پروردگار، میرا گناہ معاف کر دیجئے، میرے دل کا غیظ دور کر دیجئے اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے پناہ دیجئے۔

  32. 32

    جامع دعا

    اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَاسَاَلَکَ مِنْہُ نَبِیُّکَ مُحَمَّدٌ (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْہُ نَبِیُّکَ مُحَمَّدٌ (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) وَاَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَیْکَ الْبَلَاغُ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ

    Virtue

    حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ حضور! دعائیں تو آپ نے بہت سی بتادی ہیں اور ساری یاد رہتی نہیں، کوئی ایسی دعا بتادیجئے جو سب دعاؤں کو شامل ہوجائے۔ اس پر حضور ﷺ نے یہ دعا تعلیم فرمائی

  33. 33

    استخارے کى دعا

    اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْتَخِيْرُكَ بِعِلْمِكَ وَاَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَاَسْاَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ العَظِيْمِ فَاِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَآ اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَآ اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الغُيُوْبِ اَللّٰهُمَّ اِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ هٰذَا الاَمْرَ خَيْرٌ لِّيْ فِيْ دِيْنِي وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَةِ اَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيْهِ وَاِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ هٰذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِّيْ فِيْ دِيْنِيْ وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَةِ اَمْرِيْ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِيْ عَنْهُ وَاقْدُرْ لِيَ الخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ اَرْضِنِيْ بِہِ

    ترجمہ: یا اللہ ! میں آپ کے علم سے استخارہ کرتا ہوں اور آپ کی قدرت سے طاقت چاہتا ہوں اور آپ کے فضل عظیم کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ آپ قدرت رکھتے ہیں، میں قدرت نہیں رکھتا، آپ علم رکھتے ہیں میں علم نہیں رکھتا، بے شک آپ غیب کی باتوں کو خوب جاننے والے ہیں۔ یا اللہ ! اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ کام میرے لئے بہتر ہے، میرے دین کے اعتبار سے بھی، میری دنیوی زندگی کے اعتبار سے بھی اور میرے انجام کار کے اعتبار سے بھی تو اسے میرے لئے آسان کر دیجئے، اور اس میں مجھے برکت عطا فرمائیے اور اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ کام میرے لئے بُرا ہے، میرے دین کے اعتبار سے یا میری دنیوی زندگی کے اعتبار سے، یا میرے انجام کار کے لحاظ سے تو اسے مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے اور میرے لئے جہاں بھی بہتری ہو اس کو مقدر فرما دیجئے اور اس پر مجھے راضی بھی کر دیجئے (بخاری)-r-nبہتر ہے کہ اہم کاموں کے لئے یہ عمل سات دن تک کیا جائے۔خط کشیدہ الفاظ کی جگہ اپنی حاجت کا نام لے۔-r-nنوٹ:۔ علم الاعداد کے ذریعہ استخارہ کروانے کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ، نہ ہی اس کو شرعاً استخارہ کہنا جائز ہے۔ نیز علم الاعداد کی بھی شریعت میں کوئی اصل نہیں بلکہ شرک کی ایک شکل ہے اس سے احتراز لازم ہے۔

    Virtue

    دو رکعت نفل نماز ادا کریں اس کے بعد یہ دعا کریں

  34. 34

    استخارہ کى مختصر دعا

    اَللّٰهُمَّ خِرْ لِي وَاخْتَرْ لِي

    ترجمہ: اے اللہ ! میرے لئے خیر پسند فرما اور میرے کام میں برکت پیدا فرما (ترمذی بسند ضعیف)

    Virtue

    نبی ﷺ جب کسی کام کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے

  35. 35

    ہر مجلس کے آخر مىں

    سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَ

    ترجمہ: یا اللہ میں آپ کی پاکی بیان کرتا ہوں اور آپ کی حمد کرتا ہوں ، آپ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں آپ سے مغفرت مانگتا ہوں اور آپ کے حضور توبہ کرتا ہوں (ابن السنی )

  36. 36

    جب آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھے تو یہ دعا مانگے

    اَللّٰهُمَّ اَنْتَ حَسَّنْتَ خَلْقِيْ فَحَسِّنْ خُلُقِيْ

    اے اللہ ! تو نے ہی میری صورت اتنی اچھی بنائی ہے پس تو ہی میرے اخلاق بھی اچھے بنا دے (حصن)

  37. 37

    عورت نکاح کر کے لائے یا خادم لائے تو پڑھے

    اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْاَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ

    ترجمہ: اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی اور اس کی فطرت کی خیر وبرکت کا سوال کرتا ہوں اور اس کے اور اس کی فطرت کے شر سے تیری پناہ لیتا ہوں ۔-r-nاور جب اونٹ خریدے تو اس کے کوہان کی بلندی کو پکڑ کر اسی طرح کہے یعنی مذکورہ بالا دعا پڑھے۔ ایک اور روایت میں عورت اور غلام کے بارہ میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ پھر عورت یا غلام کی پیشانی کے بال پکڑ کر خیر و برکت کی دعا کرے ۔ (مشکوٰۃ 2/755)

    Virtue

    فائدہ: عبداللہ بن عمرو نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے یا کوئی غلام خریدے تو وہ یہ دعا پڑھے

  38. 38

    حقوق والدین ادا کرنے کى دعا

    اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَلَهُ الْكِبْرِيَآءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ لِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰت وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَ لَهُ الْعَظْمَةُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ هُوَ الْمَلِكُ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبُّ الْاَرْضِ وَ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ وَ لَهُ النُّوْرُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ

    Virtue

    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ایک مرتبہ یوں کہے پھر کہے کہ یا اللہ ! اس کا ثواب میرے والدین کو عطا فرما ،تو اس نے والدین کے تمام حقوق ادا کر دئیے (عمدۃ القاری 3/118)

  39. 39

    اسّى سال کى عبادت کا اجر

    اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدِ نِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ وَعَلیٰ اٰلِہٖ وَسَلِّمْ تَسْلِیْماً

    Virtue

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث میں یہ نقل کیا گیاہے کہ: جو شخص جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے اَسّی مرتبہ یہ درود شریف پڑھے اُس کے اَسّی سال کے گناہ مُعاف ہوں گے، اور اَسّی سال کی عبادت کا ثواب اُس کے لیے لکھا جائے گا (فضائل درود شریف)

  40. 40

    دعاء حضرت انس رضی اللہ عنہ ۔قتل و دیگر حوادث و آفات ، ظالم سے محفوظ رہنے کا مسنون عمل

    بِسْمِ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی دِیْنِیْ وَنَفْسِیْ بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی اَھْلِیْ وَمَالِیْ بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ اَعْطَانِیْہِ رَبِّیْ بِسْمِ اللّٰہِ خَیْرِ الْاَسْمَاءِ بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْاَرْضِ وَالسَّمَآءِ بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ دَآءٌ بِسْمِ اللّٰہِ افْتَتَحْتُ وَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ وَ اللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ تَبَارَکَ اللّٰہُ رَبُّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ وَرَبُّ الْاَرْضِیْنَ وَمَا بَیْنَھُمَا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ عَزَّ جَارُکَ وَجَلَّ ثَنَاؤُکَ وَلَآ اِلٰہَ غَیْرُکَ اِجْعَلْنِی فِیْ جِوَارِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ ذِیْ شَرٍّ وَمِنْ شَرِّ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ اِنَّ وَلِیِّ ےََ اللّٰہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ

    شروع اللہ کے نام سے اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے ،محمد اللہ کے رسول ہیں، نہیں ہے قوت مگر اللہ کی امداد سے، اللہ کے نام کی برکت میرے دین اور جان پر، اللہ کے نام کی برکت میرے گھر والوں پر اور میرے مال پر۔ اللہ کے نام کی برکت ہر اس چیز پر جو میرے رب نے مجھے عطا کی ہے۔ اللہ کے نام سے جو سب ناموں سے بہتر ہے ،اللہ کے نام سے جو زمین وآسمان کارب ہے ، اللہ کے نام سے جس کے نام کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں پہنچا سکتی، اللہ کے نام کے ساتھ میں نے شروع کیا اور اللہ میں نے بھروسہ کیا، نہیں ہے قوت مگر اللہ کی امداد سے ، نہیں ہے قوت مگر اللہ کی امداد سے ، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے ،اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، وہ حلیم وکریم ہے ، اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ، وہ عالیشان و بزرگ ہے ،برکت والا ہے اللہ جو ساتوں آسمانوں کا رب ہے اور عرش عظیم کا مالک ہے اور تمام زمینوں اورز مین وآسمان کے درمیان کی چیزوں کا رب ہے اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو ساری کائنات کا پالنے والا ہے ،تیری پناہ لینے والاغالب ہوا اور تیری تعریف بڑی ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں، مجھ کو اپنی پناہ میں لے لے ہر شریر کے شر سےاور شیطان مردود کے شر سے ، میرا محافظ اللہ ہے جس نے کتاب نازل کی اور وہ نیک لوگوں کی حفاظت کرتا ہے پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو کہہ دیجئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے ،اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ،اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے

    Virtue

    ملا علی متقىؒ نے کنز العمال میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک دن حضرت انسؓ حجاج بن یوسف کے پاس تشریف فرما تھے کہ ایک بات پر حضرت انسؓ نے حجّاج کو صاف صاف سنا دی جس پر حجاج کا غصہ بھڑک اٹھا اور کہنے لگا کہ اگر تم رسول اﷲ کے خادم نہ ہوتے تو میں تمہاری خوب خبر لیتا۔ حضرت انسؓ نے فرمایا کہ تو میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، مَیں نے ایسے کلمات کی پناہ لی ہے کہ جن کی برکت سے مجھے کسی بادشاہ کی پکڑ کا خوف ہے نہ کسی شیطان کے شر کا اندیشہ ہے۔ اس پر حجاج کا غصہ ٹھنڈا پڑ گیا اور کہنے لگا اے ابو حمزہ( حضرت انسؓ کی کنیت ہے) وہ کلمات مجھے بھی سکھا دیجئے۔ فرمایا کہ خدا کی قسم! تم اس قابل نہیں ہو۔-r-nپھر جب حضرت انسؓ کے وصال کا وقت آیا تو آپ نے اپنے خادمِ خاص ابّان کو یہ کلمات سکھائے(جو حضرت انسؓ نے نبی پاکﷺ سے سنے تھے) اور فرمایا کہ صبح و شام ان کو پڑھا کرو۔ (کنز العمال۲/ 2۶7)

  41. 41

    نظر بد ختم کرنے کا وظیفہ

    (۱) اَللّٰھُمَّ ذَا السُّلْطَانِ الْعَظِیْمِ ذَا الْمَنِّ الْقَدِیْمِ ذَا الْوَجْہِ الْکَرِیْمِ وَلِیَّ الْکَلِمَاتِ التَّآمَّاتِ وَالدَّعَوَاتِ الْمُسْتَجَابَاتِ عَافِ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ مِنْ اَنْفُسِ الْجِنِّ وَ اَعْیُنِ الْاِنْسِ-r-n-r-n(۲) بِسْمِ اللّٰهِ يُبْرِيْكَ وَمِنْ كُلِّ دَاءٍ يَّشْفِيْكَ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ، وَشَرِّ كُلِّ ذِيْ عَيْنٍ-r-n-r-n(۳) اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَّھَامَّۃٍ وَّمِنْ كُلِّ عَیْنٍ لَّامَّۃٍ

    حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:-r-n(1)اِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ (نظر بد کا اثر حق ہے) (مؤطا امام مالک)-r-n-r-n(2)اِنَّ الْعَيْنَ لَتُدْخِلُ الرَّجُلَ الْقَبْرَ وَالْجَمَلَ الْقِدْرَ-r-nیعنی نظر بد انسان کو قبر میں اور اونٹ کو ہنڈیا میں داخل کردیتی ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:9/۲۲۶)-r-n-r-nحضرت جبرئیل علیہ السلام امین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمزدہ تھے، جبرئیل علیہ السلام نے پوچھا کہ آپ کیوں غمزدہ ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ حسن وحسین کو نظر لگ گئی ہے، جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا کہ نظر واقعی حق ہے، لیکن آپ نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں اللہ کی پناہ میں کیوں نہ دیا؟ آپ نے پوچھا کہ وہ کلمات کونسے ہیں؟ تو جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا وہ کلمات یہ ہیں-r-n(دعا نمبر ۱)-r-nترجمہ: ” اے اللہ ! اے بڑی بادشاہی والے، اے قدیم احسانات والے ، اے بزرگ ہستی والے ، پورے کلموں اور مقبول دعاؤں کے مالک، حسن و حسین کو جنات کی ہواؤں اور انسانوں کی آنکھوں سے عافیت دے (حسن و حسین کی جگہ اپنے مریض کا نام لے) “-r-nآنحضرت ﷺ نے یہ دعا پڑھی تو اسی وقت دونوں بچے اُٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے سامنے کھیلنے کودنے لگے، حضور ﷺ نے فرمایا ’’لوگو! اپنی جانوں ‘ اپنی بیویوں اور اپنی اولاد کو اس دعائے جبریل کے ساتھ اللہ کی پناہ میں دے دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ نہیں‘‘۔-r-n(تفسیر ابن کثیرفی تفسیر قولہ تعالی: وَإِنْ يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ، الآيۃ: سورۃ القلم آیت:51)-r-n(2) -r-n-r-nحضور اقدس ﷺجب بیمار ہوتے تو جبریل علیہ السلام ان کلمات کو پڑھ کر آپ پر دم کیا کرتے تھے۔-r-n(دعا نمبر ۲)-r-nترجمہ: ”اس اللہ کے نام سے (دم کرتاہوں) جو تجھے بَری کرے اور ہر بیماری سے شفا بخشے اور (بچائے ) حسد کرنے والے کے شر سے اور (بچائے) ہر آنکھ والے کے شر سے“۔-r-n-r-n(دعا نمبر ۳)-r-n ترجمہ: ” میں پناہ لیتا ہوں اللہ کے پورے کلمات کی ہر شیطان سے اور ہر زہریلے جانور کی برائی سے اور ہر نظر لگانے والی آنکھ سے۔-r-nحضور نبی اکرمﷺ حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کو یہ دعا پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔

  42. 42

    بیمار یا مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعا پڑھے

    اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ عَافَانِيْ مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهٖ وَفَضَّلَنِيْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيْلًا

    (ترجمہ) تمام تعریفیں اﷲکے لیے ہیں جس نے عافت دی مجھے اس (تکلیف) سے جس میں تجھے مبتلا کیا اور اپنی بہت سے مخلوق میں سے مجھے فضیلت بخشی۔