27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

پھر (درباریوں سے) کہا : اس کے تخت کا حلیہ 39 تبدیل کردو۔ ہم یہ دیکھیں گے کہ آیا وہ صحیح بات تک پہنچتی ہے یا ان لوگوں سے ہے جو راہ راست پر نہیں آسکتے

39 یہاں نکروا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ نکر میں جو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں (1) اجنبیت اور (2) ناگواری، اور تنکیر کی ضد تعریف ہے۔ تعریف کے معنی کسی کو پہچان لینا اور تنکیر کے معنی کسی کو نہ پہچاننا اور اجنبیت محسوس کرنا۔ گویا نکرو کا معنی اس تحت میں ایسی تبدیلی لانا ہے جس سے وہ پوری طرح پہچانا نہ جاسکے اور اس سے حضرت سلیمان بلقیس کی عقل کا امتحان لینا چاہتے تھے کہ اس کی عقل کہاں تک کام کرتی ہے پھر اس سے وہ یہ نتیجہ بھی اخذ کرنا چاہتے تھے کہ آیا وہ اتنی عقلمند ہے کہ شرک اور توحید میں تمیز کرسکے ؟ چناچہ آپ کے کاریگروں نے اس کے تخت میں اتنی تبدیلی کی ایک جگہ کے جواہر وہاں سے اکھار کر کسی دوسرے جگہ فٹ کردیئے۔
Ayah 27:42

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

پھر جب ملکہ (مطیع ہو کر) آگئی تو سلیمان نے اس سے پوچھا : کیا تمہارا تخت بھی اسی طرح کا ہے ؟ وہ کہنے لگی : یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے۔ اور ہمیں اس سے پہلے ہی حقیقت حال معلوم ہوگئی تھی اور ہم فرمانبردار 40 ہوگئے تھے۔

40 بلقیس جب حضرت سلیمان کے دربار میں پہنچی تو اسے تخت دکھا کر پہلا سوال ہی یہ کیا گیا کہ کیا تمہارے پاس بھی ایسا تخت ہے ؟ وہ بڑی عقلمند عورت تھی اس نے فوراً پہچان لیا کہ یہ تخت اسی کا ہے۔ البتہ اس میں کچھ تبدیلیاں کر لیگئی ہیں۔ لہذا اس نے جواب بی سوال کے مطابق دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو بالکل ویسا ہی لگتا ہے اگر اس سے یہ سوال کیا جاتا کہ کیا یہ تیرا تخت ہے۔ تب وہ یہ جواب دیتی کہ ہاں یہ میرا ہی تخت ہے۔ اس امتحان سے حصرت سلیمان نے اس کے عقلمند ہونے کا اندازہ کرلیا۔ اس سوال کے بعد جو بات سلیمان (علیہ السلام) اسے سمجھانا چاہتے تھے اس کا اس نے خود ہی اظہار کردیا اور کہنے لگی۔ یہ عرش کے یہاں لانے کا کام واقعی معجزانہ ہے جو آپ کی نبوت پر دلیل ہے۔ لیکن ہمیں تو اس سے پہلے ہی آپ کے متعلق بہت کچھ معلومات حاصل ہوچکی ہیں۔ اور آپ کے تابع فرمان بن کر ہی یہاں آئے ہیں۔
Ayah 27:43

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

ملکہ کو (ایمان لانے سے) ان چیزوں نے روک رکھا 41 تھا جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی کیونکہ وہ ایک کافر قوم سے تھی۔

41 اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد سمجھایا جائے۔ جیسا کہ ترجمہ میں بیان ہوا ہے اس لحاظ سے اس کا معنی یہ ہوگا کہ چونکہ اسے ماحول کافرانہ اور مشرکانہ ملا تھا۔ لہذا وہ بھی قوم کی دیکھا دیکھی سورج کی پرستش کرنے لگی تھی۔ ورنہ اگر وہ کچھ بھی عقل سے کام لیتی تو ایسے شرک میں مبتلا نہ ہوتی۔ اور دوسرا مطلب ہے کہ اس جملہ کو حصرت سلیمان (علیہ السلام) کا فعل تسلیم کیا جائے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کو ان تمام چیزوں کی پرستش سے روک دیا جن کی وہ اپنے زمانہ کفر میں پرستش کیا کرتی تھی۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

اس ملکہ سے کہا گیا کہ محل میں چلو جب اس نے دیکھا تو سمجھی یہ پانی کا ایک حوض ہے چناچہ اپنی پنڈلیوں 42 سے کپڑا اٹھالیا۔ سلیمان نے کہا : یہ تو شیشے کا چکنا فرش ہے۔ تب وہ بول اٹھی : اے میرے پروردگار ! میں (سورج کی پوجا کرکے) اپنے آپ 43 پر ظلم کرتی رہی ہوں اور اب میں نے سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین 44 کی اطاعت قبول کرلی

42 یہ بلقیس کی عقل کا دوسرا امتحان تھا۔ حصرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے محل کا صحن کچھ انداز سے بنوایا تھا جس کے اوپر شیشہ جڑا ہوا تھا۔ لیکن جب کوئی شخص محل میں داخل ہوتا تو اس کا زاویہ نگاہ ایسا ہوتا تھا کہ اسے وہ صحن ایک گہرا پانی کا حوض معلوم ہوتا تھا۔ جس میں پانی لہریں مار رہا ہو۔ اور اس کی کیفیت کچھ ایسی تھی جیسے کسی دور سے دیکھنے والے کو ریت کا تودہ یا سراب ٹھاٹھیں مارتا ہوا پانی نظر آتا ہے۔ آپ نے بلقیس سے فرمایا کہ چلو اب محل میں چلیں۔ بلقیس نے جب صحن کا یہ نظارا دیکھا۔ تو اسے پانی کا گہرا حوض سمجھ کر اپنی پنڈلیوں سے اپنے پائنچے اٹھا لئے۔ تب سلیمان (علیہ السلام) نے اسے بتلایا کہ پائنچے اوپر چڑھانے کی ضرورت نہیں۔ یہ پانی کا حوض نہیں بلکہ شیشے کا چکنا فرش ہے۔ گویا وہ اس امتحان میں دھوکا کھا گئی۔ 43 یعنی جس طرح میں نے شیشہ کے صحن کو پانی کا لہریں مارنے والا گہرا حوض سمجھ کر غلطی کھائی ہے۔ اسی طرح میں اور میری قوم سورج کی چمک اور دمک دیکھ کر اسے معبود سمجھنے لگے تو یہ بھی ہماری فاش غلطی اور اپنے آپ پر ظلم تھا۔ 44 بلقیس جو اللہ رب العالمین پر ایمان لائی تو یہ علی وجہ البصرت تھا۔ کئی واقعات پہلے ایسے گزر چکے تھے۔ جن سے اسے یہ یقین ہوتا جارہا تھا کہ سلیمان (علیہ السلام) واقعی حق پر ہیں اور اللہ کے نبی ہیں اور اس کے مذہب کی بنیاد باطل پر ہے۔ سب سے پہلے تو اس نے خط کے مضمون سے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اس قسم کا خط بھیجنے والا کوئی عام فرمانروا نہیں ہوسکتا۔ پھر جس نامہ بر کے ذریعہ اسے یہ خط پہنچا تھا وہ بھی ایک غیر معمولی بات تھی۔ اور تحائف کی واپسی سے بھی اس نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ کوئی دنیا دار فرمانروا نہیں نیز یہ کہ وہ کبھی اس کے مقابلہ کی تاب نہ لاسکے گی۔ پھر تحائف لانے والے وفد نے جو عظیم فرمانروا کے منکسرانہ مزاج اور پاکیزہ سیرت کے حالات بیان کئے تھے تو ان باتوں سے بھی وہ شدید متاثر ہوچکی تھی۔ پھر جب وہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچی تو جس تخت کو وہ اپنے پیچھے چھوڑ کر آئی تھی اسے اپنے سامنے پڑا دیکھ کر وہ حضرت سلیمان کی نبوت کی دل سے قائل ہوچکی تھی۔ اب محل میں داخلہ کے وقت جس چیز نے اسے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ چیز تھی کہ اتنا بڑا فرمانروا جس کے پاس اس سے کئی گناہ زیادہ مال و دولت اور عیش و عشرت کے سامان موجود ہیں وہ اس قدر اللہ کا شکر گزار اور منکسرالمزاج اور متواضع بھی ہوسکتا ہے۔ ان سب باتوں نے مل کر اسے مجبور کردیا کہ وہ حضرت سلیمان کے سامنے اب برملا اپنے ایمان لانے کا اعلان کردے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے محل میں بلقیس کے داخل ہونے اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کے بارے میں بھی عقل پرستوں نے بہت سے نامعقول تاویلات پیش فرمائیں ہیں۔ مثلاً یہ کہ بلقیس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا نہیں اٹھایا بلکہ اس شیش محل کی دیواروں پر جو کپڑے پڑے ہوئے تھے اس نے وہ اٹھائے تھے اور لحہ کے معنی گہرا پانی ہی نہیں بلکہ پانی جیسی چمک دمک اور آب و تاب بھی ہے جو اس شیش محل میں پائی جاتی تھی۔ ان نامعقول تاویلات کے تفصیلی تجزیہ کا یہ موقعہ نہیں مختصراً ایک دو باتیں عرض کروں گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : فلما راقد حسبتژ لجہ و کشف عن سا قیہا بلقیس نے اس محل کو دیکھا تو اسے گہرا پانی خیال کیا اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا لیا ( گویا محل کے لئے صمیر مذکر استعمال ہوئی ہے۔ اور دیوار کا لفظ اگرچہ یہاں موجود نہیں تاہم اگر وہ بالفرض تسلیم کر بھی لیا جائے تو وہ بھی مذکر استعمال ہوتا ہے (18: 82) لیکن جس کی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھایا گیا اس کے لئے مونث کا ضمیر استعمال ہوا ہے۔ علاوہ ازیں محل کی یا کسی بھی کمرے کی چار دیواریں ہوتی ہیں دو نہیں ہوتی جبکہ یہاں تثنیہ کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ تیسرے یہ کہ ساق کا لفظ پنڈلی یا درخت کے تنہ کے لئے تو آتا ہے دیوار یا ہراس چیز کے نچلے حصہ کے لئے نہیں آتا جو ساری کی ساری ایک جیسی ہو۔ اور یہ معلوم ہی نہ ہوسکے کہ ساق کہا سے شروع ہوتی ہے۔
Ayah 27:45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (یہ پیغام دے کر) بھیجا کہ : اللہ کی عبادت کرو۔ تو اسی وقت وہ دو فریق 45 (مومن اور کافر) بن کر جھگڑنے لگے۔

45 اور یہ معاملہ صرف صالح (علیہ السلام) سے ہی مختص نہیں بلکہ ہر نبی کی دعوت پر یہی کچھ ہوتا ہے کہ کچھ انصاف پسند، معاشرتی ناہمواریوں سے بیزار اور مظلوم قسم کے انسان نبی کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں۔ اور چودھری قسم کے کھاتے پیتے اور اثرو رسوخ رکھنے والے لوگ نبی کے دشمن بن جاتے ہین۔ پھر وہ ان کی آپس میں ٹھن جاتی ہے اور حق و باطل کے معرکہ کا آغاز ہوجاتا ہے یہی صورت حال قوم ثمود میں بھی رونما ہوگئی تھی۔
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

(صالح نے) کہا : میری قوم کے لوگو ! تم بھلائی سے پیشتر برائی کو کیوں جلدی طلب کرتے ہو ؟ تم اللہ سے بخشش کیوں 46 نہیں طلب کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

46 مخالفین یا چودھری حضرات چونکہ نبی کی نبوت کے ہی منکر ہوتے ہیں لہذا وہ اس کی ہر بات کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ نبی انھیں بھلے کاموں کی دعوت دیتا ہے اور پہلے سے کئے ہوئے برے کاموں سے توبہ و استغفار کی تلقین کرتا ہے۔ نیز برے کاموں کے انجام بد اور عذاب الٰہی سے ڈراتا ہے۔ تو متکبر لوگ نبی سے یوں کہنے لگتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو اب تک ہم پر وہ عذاب آیا کیوں نہیں۔ جس کی تم رٹ لگا رہے ہو۔ اور جو کرنے کے کام ہوتے ہیں یعنی اللہ سے مغفرت اور رحمت طلبی، ان باتوں کی طرف وہ توجہ ہی نہیں کرتے۔ صالح (علیہ السلام) نے ان کے اسی طرز عمل پر تنقید فرمائی ہے۔
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہم تو تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں 47 ( صالح نے) کہا : تمہاری نحوست تو اللہ کے پاس ہے بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) تم لوگ آزمائش 48 میں پڑے ہوئے ہو

47 اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جب سے تم نے اپنی نبوت کا ڈھونگ رچایا ہے۔ اس وقت سے ہم پر کوئی نہ کوئی افتاد پڑی ہی رہتی ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہم سب ایک ہی قوم تھے۔ تم نے آکر ہم میں پھوٹ ڈال دی۔ اور ہماری زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ یہ سب تمہاری ہی نحوست ہے اور یہی اعتراض کفار مکہ کو رسول اللہ ﷺ پر تھا۔ 48 اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ تم پر جو وقتاً فوقتاً کوئی مصیبت آن پڑتی ہے تو یہ تمہاری تنبیہ کے لئے آتی ہے اور تمہیں سنبھلنے کے لئے کچھ مزید مہلت دی جاتی ہے اور دوسرا یہ کہ قوم کے جو دو فریق بن چکے ہیں تو اسی بات میں تمہاری آزماوش ہو رہی ہے تم حق کا ساتھ دیتے ہو یا باطل کا اور اگر باطل کا ساتھ دیتے ہو تو اس میں کس حد تک سرگرمیاں دکھاتے ہو۔
Ayah 27:48

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور اس شہر میں نو سرغنے 49 تھے جو ملک میں تخریب کاریاں ہی کرتے تھے اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔

49 رھط بمعنی ایک ہی خاندان کے لوگوں کی مختصر سی جماعت جن کی تعداد دس سے کم ہو اور ان میں کوئی عورت نہ ہو۔ نیز اس کے جماعت کے سردار یا سرغنہ کو بھی رھط کہتے ہیں۔ ) مفردات ( اور یہ لفظ عموماً بڑے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اور رھط کی۔۔ کسی عدد کی طرف ہو تو اس سے اشخاص مراد لئے جاتے ہیں۔ ) منجد ( اسی لئے ہم نے رھط کا ترجمہ سرغنہ کیا ہے یعنی کسی اوباش اور بدکردار چھوٹی سی جماعت کا لیڈر۔ قوم ثمود کی معروف بستی کا نام ھجر ہے۔ اور اسے ام القریٰ بھی کہتے ہیں یہ مکہ سے شام جاتے ہوئے راستہ میں پڑتی ہے اسی شہر میں ایسے نو سرغنے تھے یا بدمعاش ٹائپ چوہدری تھے اور ان سب میں سر کردہ قدار تھا یعنی سب سے بڑا بدبخت اور حرامی یہی قدار ہی تھا جس نے اللہ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں۔ اور باقی آٹھ سرغنے اسی قدار کے ممدو معاون ساتھی تھے۔
Ayah 27:49

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

انہوں نے کہا : سب آپس میں اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم رات کو صالح اور اس کے گھر والوں پر شب خون 50 ماریں گے۔ پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہم تو اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود ہی نہ تھے۔ اور یقینا ہم سچے ہیں۔

50 جب ان لوگوں نے ملی بھگت سے قدار کو آگے لگا کر ناقہ ن اللہ کو زخمی کردیا۔ تو حضرت صالح نے ان لوگوں کو تین دن بعد عذاب آنے کا الٹی میٹم دے دیا۔ اس الٹی میٹم کے بعد بھی ان لوگوں نے یہی سمجھا کہ یہ عذاب تو آتا ہے یا نہیں۔ اس سے پہلے ہی ہم کیوں نہ صالح اور اس کے گھر والوں کا قصہ بھی تمام کردیں۔ چناچہ نو بدمعاشوں نے حصرت صالح (علیہ السلام) کو بھی ٹھکانے لگا دینے کی ویسی کی سکیم بناوی، جیسی قریش مکہ نے ہجرت سے پیشتر رسول اللہ ﷺ کا قصہ پاک کردینے کے لئے بنائی تھی۔ البتہ یہ فرق ضرور تھا کہ قریش نے یہ سمجھا کہ اس طرح بلوا کی صورت میں قتل کرنے پر ہم سے دیت کا مطالبہ کیا جائے گا تو وہ ہم آپس میں بانٹ لیں گے۔ لیکن یہ بدمعاش ان سے بھی چار ہاتھ آتے کی بات سوچ رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جب حضرت صالح کے ولی) جیسے رسول اللہ ﷺ کے ولی حضرت ابو طالب تھے ( ہم سے کوئی بات پوچھیں گے تو ہم کہہ دیں گے کہ تو موقع پر موجود ہی نہ تھے۔ ہمیں کیا خبر کہ کون ان کو قتل کر گیا ہے۔ اور دوسرا فرق یہ تھا کہ قریش مکہ نے صرف رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا جبکہ ان بدمعاشوں نے حصرت صالح اور ان کے پورے خاندان کو مار ڈالنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اپنے اس منصوبہ کے معاہدہ پر سب نے ایک دوسرے کے سامنے قسمیں کھائیں کہ ایک تو اس خاندان کو قتل کرکے دم لیں گے اور دوسرے اپنے جرم کا کبھی اعتراف نہ کریں گے۔
Ayahs 27:50–51

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

چناچہ انہوں نے ایک چال چلی اور ہم نے ان کی چال انھیں پر لوٹا دی جس کی انھیں خبر تک 51 نہ ہوئی۔

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

سو دیکھو ان کی چال کا انجام کیا ہوا۔ ہم نے ان سرغنوں اور ان کی قوم سب کو تباہ کردیا۔

51 جب یہ لوگ اس منصوبہ پر قسمیں کھا رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حصرت صالح (علیہ السلام) کو وحی کردی کہ وہ اپنے خاندان اور ایمان والوں کو لے کر فوراً اس بستی سے ہجرت کر جائیں۔ چناچہ آپ 120 افراد کو اپنے ہمراہ لے کر فلسطین کی طرف چلے گوے اور رملہ کے قریب آگئے۔ آپ کے اس بستی سے نکلنے کی دیر تھی کہ اس شہر بلکہ قوم ثمود کے پورے علاقہ میں شدید زلزلہ کا عذاب آیا اور اس سے دل دہلانے والی آوازیں اور چیخیں بھی پیدا ہوتی تھیں۔ زلزلہ اتنا شدید تھا جس نے ان کے پہاڑوں میں بنے ہوئے مکانوں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا اور خود بھی یہ قوم اسی عذاب سے ہلاک ہوگئی۔
Ayahs 27:52–53

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

سو یہ ہیں ان کے خالی پڑے ہوئے گھر، اس ظلم کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے۔ اس واقعہ میں بھی ایک نشان عبرت ہے ان لوگوں کے لئے جو علم 52 رکھتے ہیں۔

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے تھے اور (نافرمانی سے) پرہیز کرتے رہے۔

52 اس جملہ کے کئی ملب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ وہی لوگ عبرت حاصل کرتے ہیں جو ان کھنڈرات کو دیدہ بینا سے دیکھتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ جو اقوام اعلم کے عروج وزوال کے قانون سے واقف ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ قوم نے رسولوں کی تکذیب کی اور انھیں دکھ پہنچایا۔ وہ تباہ و برباد ہو کے رہی۔ تیسرے یہ کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کو طبیعی اسباب کا پابند نہیں سمجھتے بلکہ یہ جانتے ہیں کہ طبیعی اسباب کا خالق وہ خود ہے اور ان میں جب چاہے رد و بدل بھی کرسکتا ہے اور سبب اور مسبب کا تعلق توڑ بھی سکتا ہے۔ ظاہری اور باطنی سب اسباب اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ یوں نہیں کہہ دیتے کہ فلاں عذاب مثلاً زلزلہ تو محض طبیعی اسباب کی بنا پر ایا تھا اس کا لوگوں کے گناہوں سے کیا تعلق ؟
Ayah 27:54

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط (کا واقعہ یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم سمجھ رکھنے 53 کے باوجود بدکاری کے کام کرتے ہو ؟

53 یہاں لفظ تبصرون استعمال ہوا ہے جو دیکھنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور سمجھنے کے معنوں میں بھی۔ اس لحاظ سے ان دو آیات کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ تم خود بھی یہ سمجھتے ہو کہ یہ گندا اور بےحیائی کا کام ہے۔ اور خلاف فطرت ہے۔ حقیر سے حقیر جانور بھی ایسا کام نہیں کرتے تم اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود ایسا کام کرتے ہو۔ دوسرا یہ کہ تم خوب سمجھتے ہو کہ اس کام کے لئے اللہ نے بیویاں پیدا کی ہیں۔ لیکن تم ان سے بےتعلق ہو کر مرعوں سے ہی یہ کام کرتے ہو۔ تیسرے یہ کہ تم اس قدر بےحیا ہوچکے ہو کہ ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے یہ کام کرتے ہو۔
Ayah 27:55

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم شہوت رانی کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو بلکہ تم تو جہالت 54 کے کام کرتے ہو ؟

54 یعنی تم اس لواطت کے انجام سے آگاہ نہیں اس کا انجام یہ ہوگا کہ چند ہی سالوں بعد تمہاری نسل ختم ہوجائے گی نیز تمہاری عورتوں میں فحاشی پھیل جائے گی۔ یا تم اس فعل کے اس انجام سے بیخبر ہو کہ اس کے نتیجہ میں اللہ کا عذاب تم پر نازل ہو۔
Ayahs 27:56–57

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

چناچہ اس کی قوم کو کوئی جواب بن نہ آیا بجز اس کے کہ انہوں نے یہ کہہ دیا : لوط اور اس کے ساتھیوں کو اپنے شہر سے نکال دو یہ بڑے پاکباز 55 بنتے ہیں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

چناچہ ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو بچا لیا۔ بجز اس کی بیوی کے جس کے لئے پیچھے رہ جانا ہم نے مقدر کردیا تھا

55 بجائے اس کے کہ وہ حصرت لوط (علیہ السلام) کی نصیحت پر کچھ اپنی اصلاح کرتے وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے متبین کو از راہ تمسخر پاکبازی کا طعنہ دین۔ پھر انھیں اپنے شہر سے نکال دینے کی دھمکی بھی دینے لگے کہ تم جیسے پاکباز ہم گندے لوگوں میں کیونکر رہ سکتے ہیں۔ لہذا تمہاری عافیت اسی میں ہے کہ یہاں سے چلے جاؤ۔
Ayah 27:58

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

پھر ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش برسائی۔ کیسی بری تھی یہ بارش 56 جو ان لوگوں پر ہوئی جنہیں ( عذاب الٰہی سے) ڈرایا گیا تھا۔

56 لوط (علیہ السلام) کا قصہ اور اس قوم پر عذاب کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے مثلاً سورة اعراف کی آیت نمبر 83، 84، سورة توبہ کی آیت نمبر 70، سورة ہود کی آیت نمبر 83، سورة حجر کی آیت نمبر 73۔ وہاں سے حواشی ملاحظہ کر لئے جائیں۔ اس سورة میں تین انبیاء حضرت سلیمان، حضرت صالح اور حضرت لوط (علیہم السلام) کے حالات کا ژکر ہوا ہے۔ اور ان کے حالات میں اور رسول اللہ ﷺ کے حالات میں کوئی نہ کوئی مشابہت کا پہلو ضرور پایا جاتا ہے۔ مثلاً حصرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ سبا کو یہ چیلنج کیا تھا کہ اگر تم مطیع فرمان بن کر حاضر ہوجاؤ تو بہتر ورنہ ہم ایسے لشکر سے تم پر حملہ کریں گے جس کے مقابلہ کی تم تاب نہ لاسکو گے۔ چناچہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ مشرکین مکہ پر ایسا ہی لشکر لائے تھے۔ جس کے مقابلہ کی ان میں تاب نہ تھی۔ حصرت صالح کو ان کی قوم نے بلوا کی صورت میں شبخون مار کر قتل کرنا چاہا تھا۔ لیکن اللہ نے انھیں نجات دی۔ قریش مکہ نے بھی آپ سے یہی سلوک کرنا چاہا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی اس سازش سے بال بال بچالیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے شہر سے نکال دینے کی دھمکیاں دیں۔ جبکہ قریش مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو عملاً شہر مکہ سے نکل جانے پر مجبور کردیا تھا۔
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے کہ : سب طرح کی تعریف اللہ کو سزاوار 57 ہے اور اس کے ان بندوں پر سلامتی ہو جنہیں اس نے برگزیدہ 58 کیا، کیا اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنہیں یہ اس کا شریک بنا رہے 59 ہیں ؟

57 ویسے تو ہر حال میں اللہ کی تعریف بین کرنا چاہئے اور اس کا شکر بجا لانا چاہئے۔ لیکن اہل عرب اس جملہ کا استعمال عموماً اس وقت کرتے ہیں۔ جب فریق مخالف یا مخاطب پر دلائل کے ساتھ اتمام محبت کردی جائے۔ اور اس کے پاس ان دلائل کا کوئی معسول جواب نہ ہو یا اسے کوئی معقول جواب میسر نہ آئے۔ یہاں بھی تین انبیاء کا ذکر کرنے اور منکرین حق کا ایک ہی جیسا انجام بتلانے کے بعد یہ جملہ اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے۔ 58 برگزیدہ لوگوں سے مراد انبیاء علیہم السلیم ہیں جن کے ساتھ ان کے ان متبعین کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ جن کی اللؤہ تعالیٰ نے مدد فرمائی، انھیں کافروں کے مظالم سے نجات دلائی اور ان پر نازل کردہ عذاب سے انھیں بچا کر ان پر رحمت فرمائی۔ یہ مطلب تو ربط مضمون کے لحاظ سے ہے جملہ کا حکم عام ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندوں پر ہر وقت اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی نازل ہوتی رہتی ہے۔ 59 یعنی اللہ تو وہ ہے جو مجرموں کو سزا دے کر اپنے بندوں کو ان کے مظالم سے بچا لیتا ہے اور ان کی مدد بھی کرتا ہے۔ سوائے مشرکین مکہ یا اب تم خود ہی فیصلہ کرلو کہ ایسی قورتوں والا اللہ بہتر ہے یا تمہارے وہ معبود جو دوسروں کو کوئی فائدہ یا نقصان تو کیا پہنچائیں گے۔ اپنی حفاظت تک کے لئے وہ تمہارے محتاج ہیں۔
Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور آسمان سے تمہارے لئے پانی برسایا جس سے ہم نے پربہار باغات اگائے جن کے درختوں کا اگانا تمہارے بس 60 میں نہ تھا۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ بھی ہے ؟ (جو ان کاموں میں اس کا شریک ہو ؟ ) بلکہ یہ لوگ ہیں ہی ناانصافی 61 کرنے والے

60 اس آیت اور اس سے آگے تین چار آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدت کاملہ اور رحمت اور ربوبیت عامہ اور توحید پر چند ایسے دلائل کے انبار لگا دیا ہے جن میں سے اکثر دلائل کے مشرکین مکہ بھی معترف تھے۔ مثلاً سب سے پہلی دلیل تو یہی ہے کہ آسمانوں کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور زمین کا بھی۔ آسمان سے مینہ برستا ہے جسے زمین جذب کرتی ہے۔ تو اس کی قوت روئیدگی اپنا کام کرنا شروع کردیتی ہے۔ اس سے فصلیں، غلے، پھل دار درخت، پھول اور مویشیوں کے گھاس اور چارہ اگتا ہے۔ اس طرح روئے زمین پر جتنی بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق بس رہی ہے سب کی غذا کا سامان فراہم ہوجاتا ہے۔ کروڑوں اور اربوں کی تعداد میں صرف انسان ہیں جو صرف ایک نوع ہے۔ جبکہ جاندار اشیاء کی انواع کی تعداد لاکھوں تک جاپہنچتی ہے کچھ پانی کی مخلوق ہے۔ کچھ خشکی کی اور کچھ ہوائی مخلوق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کی روزی کا ایسا جامع اور مکمل انتطام فرما دیا ہے کہ سب جانداروں کو روزی مہیا ہو رہی ہے۔ اب بتلائیے کہ اس پورے نظام ربوبیت عامہ میں کوئی فرشتہ، کوئی نبی، کوئی ولی، کوئی بزرگ یا کوئی دوسرا معبود شریک ہے کہ اللہ کے علاوہ اس کی بھی عبادت کی جائے۔ عبادت تو انہتائی عاجزی اور تذلل کا نام ہے اور اسی کو سزاوار ہے۔ جو انتہائی درجہ میں کامل اور بااختیار ہو، ، کسی ناقض، عاجز یا محتاج مخلوق کی یہ مقام کیسے دیا جاسکتا ہے۔ 61 عدل کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا معنی برابر ہوتا بھی اور برابر کا بدلہ بھی۔ پھر یہ لفظ لغت ذوی الاضداد سے ہے۔ یعنی اس کا معنی انصاف کرنا بھی ہے اور بےانصافی کرنا بھی۔ اس لحاظ سے اس جملہ کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ایک تو ترجمہ سے ہی واضح ہے کہ جب ربوبیت عامہ کا پورے کا پورا نظام صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہو تو عبادت میں دوسروں کو اس میں شامل کرلینا کس قدر بےانصافی اور ظلم کی بات ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس اعتراف حقیقت کے باوجود یہ لوگ اپنے معبودوں کو اللہ کے برابر کا درجہ دیتے ہیں۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ راہ راست سے بڑھ جاتے ہیں یعنی اعتراف حقیقت کے باوجود اس کا نتیجہ غلط نکال رہے ہیں۔
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے کو زمین جائے قرار 62 بنایا اور اس کے اندر نہریں 63 بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے (تاکہ ہچکو لے نہ کھائے) اور دو سمندروں کے درمیان ایک پردہ 64 (حد فاصل) بنادیا ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے ؟ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔

62 اس ایک جملہ کے اندر اللہ تعالیٰ کی کئی قدرتیں سمٹ کر آگئی ہیں ہیں۔ یہ بات تو ہزار ہا ہزار سال پہلے انسان کے علم میں آچکی تھی کہ ہمارا یہ عظیم الجثہ کرہ زمین گول ہے اور فضائے بسیط میں معلق ہے۔ زمین کا اکثر حصہ سمندر ہے۔ اور زمین کے گول ہونے کے باوجو ود پانی اس سے گر نہیں جاتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کرہ سماوی کی طرح ہماری زمین میں بھی کشش ثقل موجود ہے۔ جس کی وجہ سے اشیاء زمین پر از خود گر تو سکتی ہیں مگر خود بخود کسی طاقت کے استعمال کے بغیر اوپر نہیں اٹھ سکتیں ماسوائے گیسوں اور ابخرات آبی کے کہ ان کا کرہ ہی زمین سے اوپر ہے۔ اگر کوئی گیس جو عام ہوا سے ہلکی ہوگی زمین سے بھی نکلے گا تو از خود اوپر اٹھ جائے گی۔ یہ عجائبات ہی کیا کم تھے اب مزید علم ہیئت کی تحقیقات نے ان عجائبات میں بےپناہ اضافہ کردیا ہے۔ مثلاً ایک یہ کہ ہماری زمین سورج کے سامنے رہتے ہوئے اپنے محور کے گرد تقریباً ایک ہزارمیل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔ اور اس کا چکر ایک دن رات یا 24 گھنٹوں میں پورا ہوتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ ہماری زمین سورج سے 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور ہے اور اس کے گرد بھی ایک سال میں ایک گردش پوری کرتی ہے تو یا سورج کے گرد اس کی گردش کی رفتار چھیاسٹھ ہسار چھ سو میل فی گھنٹہ ہے۔ ان دون قسم کی گردشوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس قدر جکڑ رکھا ہے کہ ہم مسحوس تک نہیں کرسکتے اور آرام سے اس پر چلتے پھرتے اور زندگی بسر کرتے ہیں۔ زمین کے جائے قرار ہونے کا ایک مفہوم یہ ہوا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے کہ ہماری زمین پہلی ان گردشوں کی وجہ سے ( ہچکولے کھاتی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مختلف اطراف میں پہاڑ ایسی مناسبت سے رکھ دیئے کہ ہچکولے کھانا بند ہوگئی اور انسان اور دوسری تمام اشیاء کے لئے قرار بن گئی۔ اس کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ اگر زمین ہمیشہ سورج کے سامنے رہتی تو زمین کے نصف حصہ پر تو ہمیشہ دن ہی چڑھا رہتا اور باقی نصف پر ہمیشہ رات ہی رہتی۔ اس طرح پوری کی پوری زمین نباتات اور سب جانداروں کے لئے بالکل ناکارہ ثابت ہوتی۔ اس لئے کہ نباتات اور جانداروں کی زندگی اور نشوونما کے لئے جیسے دن کی ضرورت ہے ویسے ہی رات کی بھی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر رات اور دن کا نظام قائم فرما کر اسے تمام مخلوق کے لئے جائے قرار بنادیا اور اس کا چوتھا پہلو یہ ہے کہ زمین سے سورج کا فاصلہ اگر موجودہ فاصلہ سے کم ہوتا تو تمام مخلوق گرمی کی شدت اور تپش سے مرجھا جاتی اور بالاخر ختم یا تباہ ہوجاتی اور اگر یہ فاصلہ زیادہ ہوتا تو اتنی زیادہ سردی ہوتی کہ تمام تر مخلوق سردی سے ٹھٹھر جاتی اور بالاخر تباہ یا ہلاک ہوجاتی۔ اس طرح بھی یہ زمین مخلوق کے لئے جائے قرار نہ بن سکتی تھی۔ اس کا پانچواں پہلو یہ ہے کہ ہماری زمین سورج کے گرد 66 ڈگری درجے کا زاویہ بنتے ہوئے گھوم رہی ہے۔ جس سے ایک تو دن اور رات کے اوقات میں بتدریج تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ کبھی دن بڑے ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور راتیں بتدریج چھوٹی ہوتی جاتی ہیں۔ اور کبھی اس کے برعکس معاملہ شروع ہوجاتا ہے پھر اس بنا پر موسموں میں تبدیلی آتی ہے کبھی موجسم گرما ہوتا ہے، کبھی سرما، کبھی بہار، کبھی خزاں اور کبھی برسات اور ان موسموں کا مختلف قسم کی اجناس، غلے اور پھل دار درختوں کے پیدا ہونے، ان کی نشوونما اور فصلوں اور پھلوں کے پکنے سے گہرا تعلق ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ یہ نظام قائم نہ فرماتے تو پھر اس زمین پر بسنے والوں کے لئے خوراک کا مسئلہ نہایت پریشان کن صورت اختیار کرسکتا تھا۔ اس صورت میں یہ زمین ہمارے لئے جائے قرار نہیں بن سکتی تھی اور اس کا چھٹا پہلو یہ ہے کہ ہماری زمین سے اوپر پانچ چھ سو میل کی بلندی تک کثیف ہوا کا کرہ بنا کر زمین کو آفات سماوی یا فضاوی سے محفوظ بنادیا گیا ہے۔ موجودہ تحقیق کے مطابق تقریباً دو کروڑ شہاب ثاقب روزانہ 30 میل فی سیکنڈ کی برق رفتاری سے ہماری زمین کا رخ کرتے ہوئے گرتے ہیں۔ جب وہ اس کرہ ہوائی میں پہنچتے ہیں تو انھیں آگ لگ جاتی ہے اور وہیں ختم ہوجاتے ہیں۔ پھر بعض اوقات کوئی بڑی زیادہ جسامت والا شہاب زمین پر گر بھی پڑتا ہے اور زمین کے گرد گہرا گڑھا ڈال دیتا ہے لیکن ایسا کبی کبھار ہوتا ہے جیسا اللہ کو منظور ہوتا ہے۔ عام حالات میں ہم ان سے محفوظ رہتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ زمین کے گرد کرہ ہوائی کا یہ نطام نہ فرماتے تو زمین کبھی محفوظ جائے قرار نہیں بن سکتی تھی۔ غرض اس مسئلہ کے اتنے زیادہ پہلو ہیں کہ جتنا بھی ان میں غور کیا جائے مزید پہلو سامنے آتے جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا اس نظام کائنات میں اللہ کے علاوہ کسی اور معبود کا بھی کچھ دخل ہے خواہ یہ دخل کتنا ہی معمول ہو ؟ اور اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر دوسروں کو اللہ کی عبادت میں کیسے شریک بنایا جاسکتا ہے ؟۔ 63 نہروں سے مراد تمام ندی، نالے اور دریا وغیرہ ہیں انھیں ایک تو بارش سے پانی مہیا ہوتا ہے بارش کا کچھ پانی زمین اپنے اندر جذب کرلیتی ہے باقی زائد پانی ندی نالوں کی طرف رخ کرلیتا ہے۔ اور ان کا سب سے بڑا منبع پہاڑ اور پہاڑوں کے درمیان چشمے ہیں سردیوں میں پہاڑوں پر برف جم جاتی ہے جو گرمیوں میں پگھل کر پہلے ندی نالوں کی اور پھر دریاؤں کی صورت اختیار کرلیتی ہے یا یہ پانی پہلے سے بنے ہوئے ندی نالوں کا رخ اختیار کرلیتا ہے۔ انھیں کے ذریعہ ان علاقوں میں سیرابی ہوتی ہے۔ جہاں بارش کم ہوتی ہے یا وقت پر نہیں ہوتی۔ اور نہروں کا بالخصوص ذکر اس لئے فرمایا کہ تمام نباتات اور جانداروں کی زندگی اور نشوونما کا دارومدار پانی پر ہے۔ ہوا کے بعد پانی میں ایسی اہم چیز ہے جس کے بغیر کوئی چیز اپنی زندگی باقی نہیں رکھ سکتی۔ 64 اس کی تشریح کے لئے سورة فرقان کی آیت نمبر 53 کی حاشیہ نمبر 66 ملاحظہ فرمائیے۔
Ayah 27:62

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون 65 ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کردیتا ہے اور (کون ہے جو) تمہیں زمین کے جانشین 66 بناتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے ؟ تم لوگ تھوڑا ہی غور کرتے ہو۔

65 یہ سوال اس لئے کیا گیا کہ مشر کیا مکہ کو خوب معلوم تھا کہ جب کسی کی جان پر بن جاتی ہے تو اس وقت کے معبود کسی کام نہیں آسکتے۔ لہذا وہ ایسے آڑے وقتوں میں صرف اکیلے اللہ کو مدد اور نجات کے لئے پکارتے تھے۔ ) تشریح کے لئے دیکھئے سورة انعام کی آیت نمبر 41 کا حاشیہ ( اور ان سے سوال یہ کیا جارہا ہے کہ جب تمہیں اپنے بچاؤ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اور اس وقت نجات کے لئے اللہ ہی کو پکارتے ہو پھر وہ تمہاری اس مصیبت کو دور بھی کردیتا ہے اس وقت نہ کوئی پتھر کا بت اس کو رفع کرسکتا ہے نہ کوئی دوسرا معبود۔ تو پھر اللہ کی عبادت میں تم انھیں اس کا شریک یا ہمسر کیوں بناتے ہو ؟ 66 اس جملہ دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ایک پشت یا نسل کے بعد۔ دوسری پشت یا نسل پہلی کی جانشین بن جاتی ہے تم اپنے اباؤ اجداد کے جانشین بنے اور تمہاری اولادیں تمہاری جانشین بنیں گی۔ اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا آیا ہے اور چلتا جائے گا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تمہیں زمین تصرف و اقتدار بخشتا ہے۔ اور تمہارے بعد یہ اقتدار کسی دوسرے کی طرف منتقل ہوجائے گا اور یہ سلسلہ ایسے ہی چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔
Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا کون ہے ؟ جو تمہیں خشکی اور سمندر کی تاریکیوں 67 میں راہ دکھاتا ہے اور اپنی رحمت سے پیشتر ہواؤں کو بشارت کے طور پر 68 بھیجتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے ؟ اللہ اس شرک سے بہت بلند ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں

67 رات کی تاریکیوں میں راہ معلوم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے چاند اور ستارے بنا دیئے۔ جن کی گردش کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے ضا اطے مقرر فرما دیئے ہیں کہ وہ سیارے ان کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔ اور اس قدرتی نظام کو انسان کو یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ وہ ان سے یہ بھی معلوم کرسکتا ہے کہ رات کا کتنا حصہ گزر چکا ہے اور یہ بھی اس وقت وہ کون سی سمت میں سفر کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں اسے ان سیاروں کی روشنی سے راستے نظر بھی آنے لگتے ہیں۔ اور آج کل جو قطب نما کا آلہ ایماد ہوا تو یہ بھی سیاروں ہی کا مرہون منت ہے۔ اگر یہ ستارے اللہ تعالیٰ پیدا نہ کرتا، یا ان کے نظام گردش میں باقاعدگی نہ ہوتی یا یہ بےنور ہوتے تو انسان رات کی تاریکیوں میں سفر کر ہی نہ سکتا تھا۔ خواہ یہ سفر خشکی کا ہوتا یا سمندر کا اور سمندر کا سفر تو اس کے لئے موت کا باعث بن سکتا تھا۔ یہ سارا نظام تو اللہ نے بنایا جس میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ لیکن اللہ کی عبادت کے وقف تو تم اسے بھول جاتے ہو۔ یا دوسروں کو بھی اس کا ہمسر قرار دے کر انھیں بھی مستحق عبادت سمجھنے لگتے ہو۔ 68 اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة الفرقان کی آیت نمبر 48 کا حاشیہ نمبر 60
Ayah 27:64

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون ہے ؟ جو خلقت کی ابتدا کرتا ہے پھر اس کا اعادہ 69 کرے گا ؟ اور کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین 70 سے رزق دیتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے ؟ آپ ان سے کہئے کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی کوئی دلیل لاؤ۔

69 آغاز خلق اور اعادہ خلق کا مسئلہ بھی اپنے اندر اللہ کی ہزارہا قدرتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اور انسان جتنا اس معاملہ میں غور کرتا ہے اس کی حیرانگی میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔ اس مسئلہ میں سب سے پہلا سوال یہ پیش آتا ہے کہ روح کیا چیز ہے جس پر زندگی کا مدار ہے۔ اور یہ سوال آج بھی ایسا پیچیدہ اور لاینمحل ہے جیسا کہ حضرت آدم کے وقت تھا۔ انسان نے یہ تو دریافت کرلیا کہ مثلاً انسان فلاں فلاں عناصر کا مرکب ہے اور انسان کے جسم میں ان عناصر کی مقدار اتنی اور اتنی ہوتی ہے۔ مگر انہی عناصر کو اسی مقدار کے مطابق ترکیب دے کر ایک زندہ انسان بن کھڑا کرنا انسان کی بساط سے باہر ہے۔ اور یہ مسئلہ غالباً تاقیامت لاینمحل ہی رہے گا۔ پھر یہ صرف ایک انسان کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام جاندار اشیاء کا مسئلہ ہے۔ جس میں نباتات بھی شامل ہے۔ نباتات بھی جانداروں کی طرح بڑھتی ہے۔ پھلتی پھولتی ہے حتیٰ کہ احساس و شعور بھی رکھتی ہے۔ اس وقت تک روئے زمین پر نباتات کی تقریباً دو لاکھ انواع اور جاندار اشیاء کی تقریباً دس لاکھ انواع انسان کے علم میں آچکی ہیں۔ جو اپنی ساخت، عناصر اور تکیب کے لحاظ سے بالکل ایک دوسرے سے الگ ہیں اور جب سے انسان نے ان انواع کو جاننا شروع کیا اس وقت سے لے کر آج تک انسان کے علم میں یہ بات نہیں آسکی۔ کہ نباتات یا حیوانات کی کوئی نوع ارتقاء کی منزل طے کرکے اپنے سے کسی اعلیٰ جنس میں تبدیل ہوگئی ہو۔ بلکہ جس حال میں انسان نے اسے پہلے دن دیکھا تھا اسی حال میں بھی یہ آج بھی پائی جاتی ہے۔ جس سے ڈارون کے نظریہ کا از خود ابکال ہوجاتا ہے اگرچہ ڈارون کے نظریہ کے باطل ہونے کے اور بھی بیشمار دلائل موجود ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے نباتات کی اور حیوانات کی جس نوع کو جس طرح پہلے دن پیدا کیا تھا آج بھی وہ اسی صورت میں پائی جاتی ہے اور انسان کی تخلیق تو ایک بالکل خصوصی نوعیت رکھتی ہے۔ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے۔ (38: 75) اور اعادہ خلق سے صرف یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام انسانوں کو ان کی قبروں سے زندہ کرکے اٹھا کھڑا کرے گا۔ بلکہ اعادہ خلق سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر آن مردہ سے زیادہ اور زندہ سے مردہ پیدا کر رہا ہے۔ اور یہ نظام نباتات اور حیوانات کی تمام تر اقسام میں جاری وساری ہے۔ مثلاً ایک ننھے سے بیج کو لیجئے اس میں اس درخت کی وہ تمام تر خصوصیات سمو دی گئی ہیں جس کا وہ بیج ہے۔ جب اس بیج کو نشوونما کا موقع ملے گا تو اس میں وہ تمام تر خصوصیات مثلاً اس کا رنگ، اس کا مزا، اس کی بو، اس کا قد و قامت، اس کا پھل اسی درخت جیسا ہوگا جس کا وہ بیج تھا۔ اسی طرح کسی جاندار یا انسان کے نطفہ میں اس انسان کی شکل و صورت ہی منتقل نہیں ہوتی بلکہ اس کی عادات و خصائل تک منتقل ہوجاتی ہیں۔ رہا انسان کا اور جسم اور اس کے اندر پیچیدہ مشینری، اس کا عصبی، عضلاتی، لحمی اور ہڈیوں کی پیدائش کا نظام یہ سب چیزیں اس انسان کے نطفہ میں ایک خوردبینی۔۔ کی شکل میں منتقل ہوجاتی ہیں۔ اور جب اسے نشوونما کا موقعہ میسر آتا ہے تو یہ سب چیزیں عملی طور پر وجود میں آجاتی ہیں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ ایک جاندار کے جرثومہ میں کسی دوسرے جرثومہ کے خواہش منتقل ہوجائیں۔ یا مثلاً کسی عورت کے رحم میں اونٹ کا جرثومہ چلا جائے تو اس کے ہاں اونٹ کا بچہ پیدا ہوجائے اللہ کا اعادہ خلق کا نظام آغاز خلق سے بھی زیادہ پیچیدہ اور حیران کن ہے۔ اب غور فرمائیے کہ اس آغاز خلق اور اعادہ خلق کے نظام میں اللہ کے علاوہ کسی فرشتے، کسی نبی، کسی ولی، کسی جن، کسی پیروفقیر، یا کسی سیارے یا بت کا عمل دخل ہے ؟ اگر نہیں تو پھر عبادت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں ؟ 70 تمام نباتات اور حیوانات کی ضروریات زندگی اگرچہ زمین ہی سے وابستہ ہیں۔ تاہم ان کی خوراک، پیدائش میں بہت سے دوسرے عوامل بھی کام کرتے ہیں۔ سب سے بڑا عامل تو زمین کی قوت روئیدگی ہے۔ مٹی کی تاریکی میں ہی بیج کی نشوونما شروع ہونے لگتی ہے۔ دوسرا عامل سورج ہے۔ جس کی گرمی سے سطح سمندر سے آبی بخارات اٹھتے ہیں۔ تیسری عامل ہوائیں ہیں جو ان آبی بخارات کی سمت موڑتی ہیں۔ چوتھا عامل پہاڑوں کی بلندی یا کسی بلند طبقہ کی ٹھنڈک ہے جو پھر سے ان آبی بخارات کو پانی کے قطروں کی شکل میں تبدیل کردیتا ہے۔ پھر اسی پانی کے ساتھ زمین کی قوت روئیدگی ملتی ہے۔ تب جاکر نباتات اگتی ہے اور انسان اور حیوانات کو رزق میسر آتا ہے۔ غور فرمائیے کہ ان سمدنروں، اس سورج، ان ہواؤں، ان پہاڑوں اور اس زمین کی پیدائش میں اللہ کے سوا کسی دوسرا ہستی کا کچھ عمل دخل ہے ؟ اب اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بارش فلاں سیارے کے فلاں نچھتر میں داخل ہونے پر یا اس سیارے کی روح کے مجسمے یا بت کی قربانی یا نذرانہ دینے سے ہوتی ہے تو اسے کوئی تجرباتی مشاہداتی یا نقلی دلیل پیش کرنا چاہئے۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تو اللہ رزاقیت میں دوسرے کیسے شامل ہوسکتے ہیں۔ اور لوگوں کے داتا کیسے بن سکتے ہیں ؟
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے کہ : اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ 71 چیزوں کو کوئی بھی نہیں جانتا۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ کب انھیں اٹھایا 72 جائے گا

71 غیب سے مراد ایک تو ایسی چیزیں ہیں جو کسی خاص انسان کے علم یا مشاہدہ میں نہ آئی ہوں۔ پھر جب وہ اس کے علم میں آجائیں گی تو اس کے لئے غیب نہ رہیں گی۔ مثلاً سڑک پر ایک بس اور کار کا حادثہ ہوگیا جس میں چار آدمی مرگئے۔ پھر جب اسے اس کا علم ہوجائے گا یا وہ خود مشاہدہ کرلے گا تو یہ واقعہ اس کے لئے غیب نہ رہا۔ ایسی خبریں ماضی کی بھی ہوسکتی ہیں۔ حال کی بھی جو کسی کو معلوم ہوتی ہیں اور کسی کے لئے غیب کا درجہ رکھتی ہیں۔ البتہ مستقبل کی خبریں سب کے لئے غیب ہوتی ہیں۔ دوسری قسم یہ ہے کہ جتنے علوم انسان دریافت کرچکا ہے یا جس حد تک دریافت کرچکا ہے۔ وہ سب انسان کے لئے علم الشہادۃ ہیں اور جن علوم تک انسان کی رسائی ہو ہی نہیں ہوسکتی یا نہیں ہوسکی۔ وہ اس کے لئے علم غیب ہیں۔ تیسری قسم ان اشیاء کا علم ہے جن تک انسان کی رسائی نہ پہلے کبھی ہوئی اور نہ آئندہ کبھی ہوسکے گی اور کتاب و سنت کی تصریح کے مطابق یہ پانچ چیزیں ہیں۔ (1) کل کیا کچھ ہونے والا ہے اور فلاں شخص کل کیا کچھ کرے گا، (2) موت کب آئے اور کہاں آئے گی۔ (3) رحم مادر میں تغیرات کیونکر واقع ہوتے ہیں۔ (4) نفع رساں بارش کب ہوگی اور (5) قیامت کب آئے گی۔ (31: 34) ان چیزوں کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے۔ ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ غیب کا علم صرف اللہ کو ہے۔ البتہ اس علم میں سے جتنا وہ انسانی ہدایت کے لئے ضروری سمجھتا ہے اس سے اپنے انبیاء کو مطلع کردیتا ہے۔ جیسے قیامت، بعث بعد الموت، جنت و دوزخ اور روز قیامت کے احوال اور ی سے ہی ماضی کے حالات جیسے شرعی اصطلاح میں تذکیر۔۔ اللہ کہتے ہیں۔ انبیاء و اقوام کے حالات اور بعض مستقبل کے متعلق پیشین گوئیاں اور بشارات۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انبیاو کی زبان سے بار بار یہ اعلان کروایا کہ اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ ایک مقام پر فرمایا : اے نبی کہہ دو کہ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو میں بہت بھلائیاں اکٹھی کرلیتا اور مجھے کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچتی (7: 188 ( اور انبیا پر چونکہ بموجب تصریح احادیث صحیحہ ابتلا کا دور آتا ہے تو جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء بھی اتنا ہی غیب کا علم جانتے ہیں۔ جتنا اللہ انھیں بتلا دیتا ہے۔ علم غیب کو اللہ تعالیٰ کا سے مخصوص رکھا اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور اس کی وجہ ہے کہ الوہیت اور علم غیب ماننے میں ایک گہرا تعلق ہے۔ قدیم زمانے سے لے کر آج تک انسان نے جس ہستی میں الوہیت کے کسی شائبہ کا گمان کیا ہے اس کے متعلق یہ ضرور خیال کیا ہے ہے کہ اس پر سب کچھ روشن ہے اور کوئی چیز اس پر پوشیدہ نہیں رہتی۔ آپ نے اکثر اولیاء اللہ کے تذکروں میں پڑھا یا سنا ہوگا کہ پیر اپنے مریدوں کے حالات سے آگاہ ہوتا ہے۔ پھر ایسے بیشمار واقعات بھی ان تذکروں میں پائے جاتے ہیں۔ ایسے سب قصے اس لئے گھڑے جاتے ہیں کہ ان پیروں میں الوہیت کی صفات کو تسلیم کیا جائے اگرچہ زبان سے ان کا اقرار نہ کیا جائے۔ گویا کسی کے متعلق ایسا عقیدہ رکھنا ہی شرک کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ کوئی بزرگ یا پیر خواہ زندہ ہو یا فوت ہوچکا ہو کسی کی فریاد تو اسی صورت میں سن سکتا ہے اور اس کی حاجت روائی اور مشکل کشائی اسی صورت میں کرسکتا ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنے مریدوں کے احوال سے آگاہ ہو پھر اس کے بعد امور کائنات میں کچھ تصرف بھی رکھتا ہو۔ پھر جس طرح اللہ تعالیٰ کی بعض دوسری صفات مثلاً خلاقیت اور رزاقیت ناقابل تقسیم و تجزیہ ہیں۔ اس طرح علم غیب بھی ناقابل تقسیم و تجزیہ ہیں۔ یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں بزرگ اپنے تمام مریدوں کے حالات سے یا اپنے علاقہ یا شہر کے حالات سے پوری طرح باخبر ہے اور ان کے غیب کے حالات بھی جانتا ہے۔ یا فلاں ہستی اس علاقہ کی زمین کے مدفوں خزانوں کو جانتی ہے، ایسی تمام باتیں شرک میں داخل ہیں۔ 72 آیت کے اس جملہ سے یہ معلوم ہوا کہ اس آیت میں صرف ان ہستیوں کے علم غیب جاننے کی تردید مقصود ہے۔ جن پر بعث بعدالموت کا مرحلہ پشی آنے والا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس سے مراد نہ بت ہوسکتے ہیں نہ حجر و شجر نہ شمس و قمر اور نہ فرشتے۔ ان سے مراد صرف وہی بزرگ ہوسکتے ہیں جن میں کسی نہ کسشی رنگ الوہیت کی کوئی صفت اور بالخصوص علم الغیب تسلیم کیا جاتا ہے۔
Ayahs 27:66–68

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ آخرت کے بارے میں ان کے علم نے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں، بلکہ یہ اس کی نسبت شک میں ہیں بلکہ یہ اس سے اندھے ہوچکے 73 ہیں۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور کافر یہ پوچھتے ہیں کہ : جب ہم اور ہمارے آباء و اجداد مٹی بن جائیں گے تو کیا پھر (قبروں سے) نکالے جائیں گے ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

یہ بات تو ہمیں اور اس سے پیشتر ہمارے آباء و اجداد کو بھی کہی جاتی رہی ہے۔ یہ تو بس پہلے لوگوں کے افسانے ہیں۔

73 یعنی کوئی انسان خواہ کتنے ہی عقل کے گھوڑے دوڑائے یہ معلوم نہیں کرسکتا کہ قیامت کب قائم ہوگی۔ نہ ہی روز آخرت کی حقیقت معلوم کرسکتا ہے۔ سوائے اس کے کہ وہ وحی الٰہی پر ایمان لے آئے۔ اس صورت میں اسے آخرت اور اس کے احوال کے متعلق تو یقین حاصل ہوجاتا ہے۔ مگر قیامت کے وقت کا علم پھر بھی حاصل نہیں ہوسکتا۔ اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ پیغمبر کی دعوت نے انھیں اس شک میں مبتلا ضرور کردیا ہے اور وہ روز آخرت سے انکار کے باوجود یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ممکن ہے کہ پیغمبر سچ ہی کہہ رہا ہو۔ اس کے باوجود ان لوگوں نے اسی بات کو ترجیح دی کہ اس معاملہ غورو فکر کرنا چھوڑ دیا جائے اور ان دلائل و شواہد سے بالکل آنکھیں بند کرلیں۔ جن میں غور و تامل کرنے سے ان کا شک رفع ہوسکتا ہے۔
Ayah 27:69

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے کہ : ذرا زمین میں چل پھر کر تو دیکھو کہ مجرموں 74 کا انجام کیسا ہوا تھا۔

74 ان دو آیات میں کافروں کا قول یہ نقل کیا گیا ہے کہ مر کر مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا وعدہ تو ہمارے آباء و اجداد کو بھی دیا گیا تھا پہلے لوگ بھی ایسی باتیں کرتے رہے اور آج بھی ایسی ہی باتیں ہو رہی ہیں حالانکہ جو مرگیا ان میں کوئی شخص بھی آج تک زندہ ہو کر نہیں آیا۔ یہ تو بس ایک افسانوی سی بات ہے جس میں حیقیقت کچھ نہیں۔ اور کافروں کے اس قول کا جواب یہ دیا جارہا ہے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر تو دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیا ہوا تھا ؟ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے اس قول اور اس کے جواب میں کوئی ربط نہیں۔ حالانکہ اس قول اور اس کے جواب میں گہرا ربط ہے اور ایک بہت بڑی حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو قومیں بھی اللہ کے عذاب سے تباہ ہوئیں سب کی سب قیامت اور بعث بعد الموت کی منکر تھیں۔ اور جو شخص یا جو قوم بھی آخرت کے دن اور اللہ کے حضور اپنے اعمال کی باز پرس کی منکر ہوتی ہے۔ اس کی زندگی کبھی راہ راست پر نہیں رہ سکتی۔ اور وہ دنیا میں شتر بےمہار کی طرح زندگی گزارتا ہے کہ جس کام میں اس نے اپنا فائدہ دیکھا اسی کو اپنا لیا۔ خواہ اس سے دوسروں کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو رہا ہو۔ ایسے ہی لوگ فساد فی الارض کے مرتکب ہو کر مجرمانہ زندگی بسر کرنے کے عادی ہوجاتے ہیں اور ایسے مجرموں کو تباہ کردینا ہی اللہ کی سنت جاریہ ہے تاکہ باقی لوگ ایسے لوگ کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ دوسرا سبق ان واقعات سے یہ ملتا ہے کہ تاریخ انسانی میں یہ کوئی ایک ہی واقعہ نہیں۔ بلکہ بیشمار تاریخی شواہد سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ رسولوں کا انکار اور آخرت کا انکار کرنے والے مجرموں کا انجام ان کی تباہی اور ہلاکت کی صورت میں ہوا۔ جس سے از خود ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے جو یہ ہے کہ کوئی ایسی مقتدر ہستی موجود ہے جو مجرموں کو ایک مقررہ حد سے آگے نکلنے سے روک دیتی ہے اور انھیں تباہ کردیتی ہے۔ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں کہ جس شخص کا جو جی چاہے کرتا پھرے اور اس پر گرفت کرنے والا کوئی نہ ہو۔ پھر جب یہ تجربہ حاصل ہوگیا کہ مجرمین کو ان کے کئے کی سزا مل کے رہتی ہے۔ تو اسی قانون مکافات کا تقاضا یہ ہے کہ جن مجرموں کو اس دنیا میں سزا نہیں ملی یا ان کے جرم سے بہت کم سزا ملی ہے ان سے باز پرس اور ان کی سزا کے لئے ایک دوسرا عالم قائم ہو۔ جس میں تمام مجرموں کو ان کے جرائم کی پوری پوری سزا دی جائے۔ مجرموں کو عذاب سے تباہ کردینا عدل سے سب تقاضے پورے نہیں کرتا۔ اس سے تو صرف یہ ہوتا ہے کہ مجرموں کو زائد جرائم کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ ان کے جرائم کی سزا کے لئے تو یہ دنیا کی زندگی بہت ناکافی ہے۔ اسی طرح جن مظلوموں نے ان مجرموں کے مظالم برداشت کئے تھے۔ ان کی ہلاکت سے ان کو کیا ملا ؟ آخر ان لوگوں نے راہ حق میں جو مظالم و مصائب برداشت کئے ہیں۔ اس کا اجر بھی تو انھیں ملنا چاہئے۔ ان باتوں پر غور کرنے سے واضح طور ہر معلوم ہوجتا ہے کہ عدل و اصناف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے آخرت کا قیام انتہائی ضروری ہے۔
Ayahs 27:70–71

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

(اے نبی ! ) آپ ان کے حال پر غمزدہ نہ ہوں اور نہ ہی ان کی چالوں 75 سے دل میں تنگی محسوس کریں۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

کافر یہ کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ (عذاب) کب پورا ہوگا۔

75 یعنی جو کافر آپ پر ایمان لانے کے بجائے آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے ہیں اور اسلام کے خلاف سازشوں کا جال بچھانے میں مصروف ہیں ان کی ایسی سرگرمیوں سے آپ پریشان اور غمزدہ نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کسی چال کو کامیاب نہ ہونے دے گا۔
Ayah 27:72

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے کہ : کیا عجب ہے کہ جس (عذاب) کے جلد آنے کا تم مطالبہ کر رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے قریب 76 ہی آلگا ہو۔

76 کافروں کا جلد عذاب لانے کا مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ فی الواقعہ یہ چاہتے تھے کہ ان پر عذاب نازل ہو۔ بلکہ اس سے ان کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کے ان وعدوں کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ تو آپ انھیں کہہ دیجئے کہ یہ عین ممکن ہے کہ ایسے عذاب کا کچھ حصہ عنقریب تمہیں اپنی گرفت میں لے لے۔ عذاب کے اس کچھ حصے کا آغاز تو جنگ بدر سے ہی ہوگیا تھا۔ پھر آپ کی زندگی میں ہی اس کچھ حصے کی کئی اقساط سے ان کافروں کو سابتہ پیش آتا رہا۔ اور اس عذاب کا زیادہ حصہ بلکہ اصل عذاب تو انھیں آخرت میں بھگتنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ اس آیت میں عسی کا لفظ ان معنوں میں نہیں کہ شاید تم پر عذاب آجائے نہ آئے بلکہ یہ شاہانہ انداز کلام ہے اور بڑے لوگ جب اس انداز سے خطاب کریں۔ تو وہ بات یقینی ہی سمجھی جاتی ہے اور اگر ایسا کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو تو پھر اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور فعل میں کچھ فرق نہیں۔ ارادہ تو دور کی بات ہے اللہ تعالیٰ تو جو کچھ چاہے وہ بھی ہو کے رہتا ہے۔
Ayah 27:73

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

آپ کا پروردگار تو لوگوں پر بڑا فضل 77 والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

77 یعنی اگر عذاب آنے میں کچھ تاخیر ہو رہی ہے تو وہ اس لئے نہیں کہ یہ لوگ عذاب کے مستحق نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ ابھی انھیں سمجھنے سوچنے کے لئے کچھ اور مہلت دی جائے۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس مہلت دینے پر اس کا شکر ادا کرتے یہ الٹا عذاب کے واقع ہونے کا ہی مذاق اڑانے اور اسے جھٹلانے پر لگے ہیں۔
Ayah 27:74

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور بلاشبہ تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر 78 کرتے ہیں

78 ان کا زبانی مطالبہ تو یہ ہے کہ عذاب جلد کیوں نہیں آجاتا۔ لیکن اس مطالبہ کے جو محرکات ہیں اور جو کچھ یہ اپنے آپ کو اپنے دلوں میں سجھے بیٹھے ہیں۔ ان کا یہ تمہارے سامنے اظہار نہیں کرتے۔ ان کے دلوں کے پوشیدہ کینوں اور ناپاک ارادوں کو اللہ خوب جانتا ہے۔
Ayah 27:75

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور زمین و آسمان کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں جو کتاب مبین (لوح محفوظ) میں لکھی ہوئی 79 نہ ہو۔

79 یعنی ان لوگوں کے ظاہری اعمال سے بھی اللہ واقف ہے اور باطنی خیالات سے بھی، ان کی حالیہ کرتوتوں سے بھی اور جو کچھ یہ آوندہ کے لئے سازشیں تیار کر رہے ہیں ان سب باتوں سے صرف واقف نہیں بلکہ یہ سب کچھ پہلے سے ہی اس کے ریکارڈ میں درج ہے۔ نیز یہ بھی کہ ان لوگوں کو کتنی مہلت دی جائے گی اور کب ان پر عذاب آئے گا۔ جو چیز علم الٰہی میں طے شدہ ہے وہ اپنے وقت پر آکے رہے گی۔
Ayah 27:76

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بلاشبہ یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر وہ باتیں بیان کرتا ہے جن میں وہ 80 اختلاف رکھتے ہیں

80 یہ اختلاف صرف عقائد میں ہی نہیں تھے بلکہ احکام اور ق میں بھی تھے۔ عقائد کے اختلاف یہ تھے کہ مثلاً یہود ہی کا ایک فرقہ آخرت کا منکر بن گیا تھا۔ پھر ان میں کچھ فرقوں کا آخرت کے متعلق تصور ہی غلط تھا جس کا قرآن نے کئی مواقع پر ذکر فرمایا ہے۔ عیسائیوں میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف تھے کچھ انھیں اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے کچھ انھیں اللہ ہی سمجھتے تھے۔ کچھ بیٹے کو باپ کی طرح قدیم سمجھتے تھے اور کچھ اسے مخلوق اور حاوث قرار دیتے تھے۔ کچھ یہ کہتے تھے کہ اللہ نے اپنے سارے اختیارات اپنے بیٹے کو سونپدیئے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ وہ تین میں کا تیسرا ہیں۔ اور احکام میں اختلاف ان کی تحریفات لفظی اور معنی کی بنا پر تھا۔ بہت سی آیتوں کو وہ چھپا جاتے تھے اور بہت سی آیات کی تحریف کرلیتے تھے اور ان کی ایسی حرکات بھی قرآن میں متعدد مقامات پر بالوضاحت مذکور ہیں۔ ان سب اختلافات کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ بہتر فرسوں میں بٹ گئے تھے۔ قرآن نے آکر ان اختلافات کو بیان بھی کیا اور ان میں صحیح راہ بھی متعین فرما دی کہ فلاں مسئلہ میں اصل حقیقت یہ ہے اور فلاں میں حقیقت اتنی ہے۔ یہاں اس آیت کے ذکر کرنے سے مطلب یہ ہے اس وقت جو اختلافات کفار مکہ اور مسلمانوں کے درمیان ہیں ان میں بھی قرآن صحیح راستے کی نشان دہی کر رہا ہے۔
Ayah 27:77

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور یہ مومنوں کے لئے ہدایت 81 اور رحمت ہے۔

81 یعنی یہ قرآن بنی اسرائیل کے اختلافات میں سیدھے راستہ کی نشاندہی کرتا ہے اور جو اس پر ایمان لے آئیں تو ان کو ان گمراہیوں سے بچا لیتا ہے۔ جن میں یہ لوگ اس وقت مبتلا ہیں۔ نیز جب انھیں قرآن کی بدولت زندگی کا سیدھا راستہ مل جائے گا اور وہ اس پر عمل پیرا ہوں گے تو اللہ کی ان پر اس قدر رحمتیں نازل ہوں گی جن کا یہ قریش آج تصور بھی نہیں کرسکتے۔ چناچہ اسی قرآن کی بدولت چند ہی سالوں میں ان ایمانداروں کی ایسی کایا پلٹی کہ وہی بدو جو لوٹ مار اور قتل و غارت میں مشہور تھے۔ وہ دنیا کے پیشوا، تہذیب انسانی کے استاد اور زمین کے ایک بڑے حصے کے فرمانروا بن گئے۔
Ayah 27:78

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

آپ کا پروردگار اپنے حکم سے ان کے درمیان فیصلہ کردے گا اور وہ زبردست 82 اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

82 یعنی جو کفار اس وقت آپ سے بروقت الجھتے رہتے ہیں۔ اور مسلمانوں کو تنگ اور پریشان کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ ان کے درمیان اور مومنوں کے درمیان جلد ہی اپنا فیصلہ نافذ کرنے والا ہے۔ اور اس کے فیصلے کے نفاذ کو کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ کیونکہ وہ سب سے زبردست ہے۔ نیز اس کے فیصلے میں غلطی کا بھی امکان نہیں۔
Ayah 27:79

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

آپ اللہ پر بھروسہ کیجئے۔ یقینا آپ 83 صریح حق پر ہیں۔

83 یعنی قریش کی تکذیب، استہز اور ایذ رسانیاں اور سازشیں فی الواقع پریشان کرنے والی باتیں ہیں۔ آپ ان سے زیادہ تاثر نہ لیں۔ بلکہ ہر وقت اللہ پر بھروسہ کریں۔ آپ یقیناً صحیح راستہ پر جارہے ہیں اور اللہ ہمیشہ حق کا ساتھ دیتا ہے۔ لہذا وہ ضرور اور بروقت آپ کی مدد کرے گا۔
Ayah 27:80

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

نہ تو آپ مردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ ایسے بہروں 84 کو اپنی پکار سناسکتے ہیں جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جارہے ہوں۔

84 اس آیت میں موتیٰ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں۔ یعنی آپ کی نصیحت اور ہدایت نہ تو ان لوگوں کو کچھ فائدہ دے سکتی ہے جن کے دل مرچکے ہیں اور نہ ان کو جن کے دلوں کے کان بہرہ ہوچکے ہیں۔ بالخصوص اس صورت میں وہ بہرے الٹے پاؤں بھاگے جارہے ہوں۔ بہرے کا بھی چہرہ اگر بات کرنے والی کی طرف ہو تو وہ متکلم کے اشاروں سے یا بات کرنے کے انداز سے ہی اس کا کچھ نہ کچھ مفہوم سمجھ سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کا رخ ہی بات کرنے والے سے الٹی طرف ہو، مزید براں وہ بھاگے جارہا ہو۔ تو اس سے کیا توقع ہوسکتی ہے کہ وہ متکلم کی بات کو کچھ نہ کچھ سمجھ سکے گا۔