Ayah 25:3344 کفار نے یہ اعتراض متعدد بار کیا اور مختلف مقامات پر قرآن نے اس اعراض کا جواب دیا ہے۔ اس مقام پر قرآن کو بتدریج نازل کرنے کے تین فوائد بتلائے گئے ہیں۔
1۔ نبی کی دعوت پر جو معرکہ حق و باطل بپا ہوتا ہے اور جس طرح باطل ہجوم کرکے حق پر ایک دم ٹوٹ پڑتا ہے تو یہ معرکہ کوئی ایک دو دن کا قصہ نہیں ہوتا بلکہ نبی کی پوری زندگی کو محیط ہوتا ہے۔ اور جب بھی حالات مسلمانوں کے لئے حوصلہ شکن ہوتے ہیں تو انھیں تسلی دینے اور ان کی ڈھارس بندھانے کی ضرورت پیش آتی ہے اور ایک ہی دفعہ حوصلہ افزائی خواہ کتنی ہی کی جائے۔ وہ فائدہ نہیں دے سکتی۔ جو فائدہ ساتھ کے ساتھ اور بارہا حوصلہ افزائی کا ہوتا ہے۔
2۔ قرآن کو حفظ کرنا، اسے سمجھنا اور اس پر عمل پیرا ہو کر اپنی پوری طرز زندگی میں تبدیلی پیدا کرنا اسی صورت میں ممکن تھا کہ قرآن کریم بتدریج نازل ہوتا۔ قرآن کو بتدریج نازل کرنے سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ ہر ایمان لانے والے کو یہ معلوم ہے کہ فلاں آیت یا فلاں سورت کا شان نزول کیا تھا اور کس طرح کے پس منظر میں یہ نازل ہوئی تھی۔ نیز اگر کوئی شخص قرآن کی کسی آیت یا اس کے کسی مفہوم کو غلط معنی پہناتا تو قرآن ساتھ کے ساتھ نازل ہو کر اس مفہوم کی تردید کرکے صحیح تعبیر پیش کردیتا ہے۔ علاوہ ازیں معاشرہ سے برائیوں مثلاً شراب نوشی، لوٹ مار، قتل و غارت، بےحیائی، زنا اور سود کے استیصال کے لئے سب احکام ایک دفعہ نازل کئے جاتے تو ان پر عمل پیرا ہونا بہت مشکل ہوجاتا اور لوگ سرے سے نبی پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے سے دستبردار ہوجاتے۔
3۔ اور تیسرا فائدہ جو اگلی آیت میں مذکور ہے یہ ہے کہ کافر جس قسم کے آپ پر اعتراضات کرتے ہیں یا آپ سے مطالبات کرتے رہتے ہیں۔ ہم ساتھ کے ساتھ ان اعتراضات کے واضح اور مدلل جوابات دیتے جاتے ہیں۔ اب یہ کیا تک ہے کہ اعتراضات تو بعد میں ہوں اور ان کے جوابات پہلے ہی یکبارگی نازل کردیئے جائیں۔ اور اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو یہ لوگ ان جوابات پر کئی طرح کے اعتراضا کرنا شروع کردیتے۔
Ayah 25:3445 یعنی کافروں کے اس قسم کے اعتراضات کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کی عقلیں اوندھی ہوچکی ہیں۔ جو سیدھی سادی باتوں پر غور کرنے کے لئے آمادہ ہی نہیں ہوتیں لہذا ہم قیامت کے دن اوندھے منہ جہنم کی طرف چلا کرلے جائیں گے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : یانبی اللہ ! قیامت کے دن کافر اپنے منہ کے بل حشر کئے جائیں گے ؟ آپ نے فرمایا : جس پروردگار نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل نہیں چلا سکتا ( بخاری۔ کتاب التفسیر (
Ayah 25:3546 یہاں کتاب سے مراد تورات نہیں کیونکہ تورات تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلا کر اس وقت دی گئی تھی۔ جب بنی اسرائیل میدان تبہ میں قیام پذیر تھے۔ بلکہ اس سے مراد وہ منزل من اللہ ہدایات و احکام ہیں۔ جو آپ کو مصر سے خروج سے پہلے دیئے جاتے رہے۔ ایسی ہی منزل من اللہ کو اصطلاحی زبان وحی خفی یا سنت بھی کہتے ہیں اور ایسے احکام پر کتاب اللہ کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ ایسی وحی یا سنت پر عمل کرنا ایسے ہی واجب ہے جیسے وحی جلی یا وحی متلو یا اللہ کی کتاب پر۔
Ayah 25:3647 یہاں آیات سے مراد غالباً وہ وحی تھی جو حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف (علیہم السلام) پر نازل ہوئی تھی کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے تو ان فرعونیوں کو ابھی اپنی طرف نازل شدہ کوئی وحی سنائی ہی نہ تھی۔ یا پھر آیت اللہ سے مراد کائنات میں ہر سو اللہ کی بکھری ہوئی نشانیاں ہیں جن سے غور و فکر کرنے والے اللہ کی معرفت حاصل کرسکتے ہیں۔ اور فرعون ایسی نشانیوں سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے خود ہی خدائی کا دعویدار بن بیٹھا تھا۔
Ayah 25:3748 اس سے معلوم ہوا ہے کہ قوم نوح کی طرف حضرت نوح سے پہلے بھی کچھ رسول آچکے تھے۔ جن کے قرآن میں نام مذکور نہیں ہیں یا اس کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا ہے کہ چونکہ اصول دین میں تمام انبیاء کی تعلیم ایک ہی رہی ہے تو اس لحاظ سے اسے ایک رسول کو جھٹلانے سے از خود باقی سب رسولوں کی تکذیب ہوجاتی ہے۔
49 نشانی اس لحاظ سے کہ ان ظالموں کی روئے زمین پر نسل ہی ختم ہوگئی۔ طوفان نوح کے بعد حضرت آدم کی نسل صرف ان لوگوں سے چلی جو حضرت نوح کے ہمراہ کشتی میں سوار تھے اور بعض کے نزدیک آئندہ نسل حضرت نوح کے تین بیٹوں حام، سام اور یافث سے چلی۔
Ayah 25:3850 قوم عاد وثمود کا ذکر تو قرآن میں بہت سے مقامات پر مذکور ہے مگر اصحاب الرس یا کنویں والوں کا ذکر صرف دو مقامات پر آیا ہے۔ ایک اسی جگہ اور دوسری سورة ق کی آیت نمبر 12 میں۔ ان مقامات پر ان کا ذکر اس قدر مختصر ہے جس سے ان کے حالات پر کچھ روشنی نہیں پڑتی۔ نہ ہی یہ معلوم ہوسکا ہے کہ ان کی طرف کون سا نبی مبعوث ہوا تھا۔ لغوی لحاظ سے رس بڑے کنوئیں کو کہتے ہیں۔ جس میں پانی وافر مقدار میں موجود ہو (ل ص 263) اسی وجہ سے اصحاب الرس کے بارے میں مفسرین میں کئی قسم کے اختلافات ہیں۔ زیادہ مشہور یہی بات ہے اس سے مراد اہل انطاکیہ ہیں۔ ان کی طرف حبیب نجار نبی مبعوث ہوئے تو انہوں نے انھیں جھٹلایا لیکن آپ بدستور انھیں اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے۔ بالاخر ان لوگوں نے آپ کو مار کر کنوئیں میں ڈال دیا۔ اسی وجہ سے یہ اصحاب الرس کے لقب سے مشہور ہوئے پھر اللہ نے اس کنوئیں سمیت اس بستی کو زمین دھنسا دیا۔ واللہ اعلم بالصواب
Ayah 25:3951 یعنی ہر قوم کے متعلق ہمارا طریقہ یہی رہا کہ ان کی طرف نبی بھیجا گیا جس نے اس قوم کو ساتھ اقوام کے انجام سے متنبہ کیا۔ پھر انھیں مختلف انداز سے مثالیں دے دے کر سمجھایا گیا۔ پھر انھیں غور و فکر کے لئے مہلت بھی دی گئی۔ ان سب باتوں کے بعد بھی جب وہ اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے رہے اور ان پر حجت قائم ہوگئی تو پھر ہم نے انھیں اس طرح تباہ کیا کہ ان کا نام و نشان نہ رہنے دیا۔
Ayah 25:4052 اس سے مراد لوط (علیہ السلام) کی بستی یا سدوم کا علاقہ ہے۔ ان کفار مکہ کے جو تجارتی قافلے شام کی طرف جاتے اور واپس آتے ہیں تو یہ علاقہ ان کے راستہ میں پڑتا ہے اس علاقہ کی ویرانی اور خستہ حالی یہ کئی بار بچشم خود دیکھ چکے ہیں مگر یہ لوگ اس علاقہ کو محض ایک تماشائی کی حیثیت سے دیکھ کر آگے چلے جاتے ہیں۔ اس سے کچھ بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور ان کی یہ کیفیت محض اس لئے کہ یہ لوگ اللہ کے حضور پیش ہونے اور اپنے اعمال کی سزا پانے کا یقین ہی نہیں رکھتے۔ اور یہی وہ فرق ہے جو ایک آخرت کے منکر پر یقین رکھنے والے میں ہوتا ہے۔ آخرت کا منکر ایسے مقامات کو محض ایک تماشائی کی حیثیت سے دیکھتا ہے جبکہ آخرت پر یقین رکھنے والا ایسے مقامات سے عبرت اور کئی سبق حاصل کرتا ہے۔
Ayah 25:4153 یہ کفار مکہ ہدایت حاصل کرسکتے ہیں جبکہ ان کا محبوب مشغلہ ہی یہ ہے کہ وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو ایک دوسرے کو کہتے ہیں۔ اجی یہ ہی وہ صاحب جو اپنے آپ کو اللہ کا رسول ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ کیا یہی شخص اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری مخلوق میں سے رسالت کے لئے پسند آیا تھا ؟ اس کی حیثیت کو دیکھو اور اس کے بلند بانگ دعویٰ دیکھو۔ کیا ہم ہم اتنے ہی عقل کے اندھے ہیں کہ اس کے اس دعویٰ کو درست تسلیم کرلیں ؟
Ayah 25:4254 البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جو کلام یہ پیش کرتا ہے اس میں جادو کا اثر ہوتا ہے۔ جو بڑے بڑوں کے قدم پھسلا سکتا ہے اور سننے والوں کو اپنا گرویدہ بنا سکتا ہے۔ اور اگر ہم لوگ پوری مستقل مزاجی اور ثابت قدمی سے اپنے باپ دادا کے دین پر جمے نہ رہتے تو اس نے تو کب سے ہمیں اپنے معبودوں سے برگشتہ کردیا ہوتا۔
اب دیکھئے اس نبی کی دعوت سے کچھ اس طرح بوکھلائے ہوئے تھے کہ خود ہی اپنی باتوں کی تردید بھی کرتے جاتے تھے۔ ایک طرف تو وہ یہ استہزاء کرتے تھے کہ آخر اس نبی میں کیا خوبی ہے کہ اللہ نے اسے ہی اپنی رسالت اور نبوت کے لئے منتخب کیا ہے ؟ پھر ساتھ ہی یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ التبہ اس نبی میں یہ خوبی ضرور ہے کہ اس کا پیش کردہ کلام اس قدر پر تاثیر اور زور دار ہے۔ جس کا اثر ہر ایک کے دل کی گہرائیوں تک جا پہنچتا ہے وہ تو ہم ہی تھے جو اپنے دین پر ایسے پکے اور ثابت قدمی سے جمے رہے اور اس کے کلام کا اثر قبول نہیں کیا۔ ورنہ یہ سب کو اپنے دام۔۔ میں پھنسا چکا ہوتا۔
قریش کی ان دو متضاد باتوں سے ضمناً چند باتیں معلوم ہوتی ہیں : ایک یہ کہ رسالت کے لئے جو خوبیاں درکار ہوتی ہیں وہ سب آپ کی ذات میں موجود تھیں۔ آپ اللہ کا کلام جس انداز میں پیش کرتے تھے اور اس کا نمونہ اپنی ذات سے پیش کرتے تھے وہ عام لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے بہت کافی تھا۔ دوسرے یہ کہ کفار دلائل کے میدان میں مات کھاچکے تھے۔ اب ان کا انکار محض ضد، ہٹ دھرمی اور تقلید آباء کی بنا پر تھا۔
Ayah 25:4355 یعنی جو شخص اللہ کے بجائے اپنی خواہش نفس کا بندہ یا غلام بن جائے اور اللہ کے احکام کے بجائے اپنی خواہش نفس کی بات ماننے کو ترجیح دے تو ایسے شخص کے راہ راست پر آنے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں، نہ ہی آپ ایسے ہوا پرستوں کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھا سکتے ہیں۔ قرآن کے اندر بیان ہے جو بات فوراً ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے خواہش نفس کی اتباع بھی شرک کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔ اور خواہش نفس کی اتباع ایک ایسا عام مرض ہے جس میں کافر و مشرک تو درکنار، مومن و مسلم اور عوام و خواص سب ہی تقریباً متبلا ہوتے ہیں۔ مثلاً عام لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ شریعت کے احکام میں سے آسان اور ان کے من پسند ہوں ان پر تو عمل کرلیتے ہیں اور جو مشکل ہوں تو طبیعت کو گراں معلوم ہوتے ہوں انھیں چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے لوگ حقیقتاً شریعت کے متبع نہیں ہوتے بلکہ اپنی خواہشات کے متبع ہوتے ہیں اور خواص یا علماء کی اتباع ہوائے نفس یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات کی تاویل کرلیتے جو ان کی۔۔ طبع ہو اور انھیں پسند ہو، بعض غلط استنباط کرکے اور غلط فتوے دے کر دنیا کا مال بٹورتے ہیں۔ پھر جو اور زیادہ ذہین طبع ہوتے ہیں وہ عوام میں کوئی بدعی عقیدہ رائج کرکے عوام کی توجہ کا مرکز بننا چاہتے ہیں اور نئے فرقہ کی بنیاد رکھ دیتے ہیں جس کی تہہ میں حب مال و باہ میں سے کوئی نہ کوئی جذبہ کار فرما ہوتا ہے اور کافر جو انبیاء کی مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ قرآن کا بھی مفہوم یہ ہوتا ہے کہ انھیں جو مقام معاشرہ میں حاصل ہے وہ ان سے چھن نہ جائے۔ اور مشرکوں کی اتباع خواہش کا تو پوچھنا ہی کیا۔ آج ایک پتھر اچھا معلوم بنا تو اسے پوجنے لگے کل دوسرا اس سے خوبصورت پتھر مل گیا تو پہلے کو چھوڑ کر اس کے آگے سر جھکا دیا۔ یا کسی شخص نے کسی ولی کے مزاد سے متلعق کوئی کرامت یا حاجت روائی کا قصہ بیان کردیا تو اس کے مزاد پر نذریں نیازیں دینا شروع کردیں۔ پھر کسی اس سے بڑے بزرگ کے مزار کے حالات سے متاثر ہوئے تو اپنی ساری نیاز مندیاں ادھر منتقل کردیں۔ غرضیکہ جس طرح انسانوں کی بیشمار اقسام ہیں۔ اسی طرح وہ ان کی خواہش نفس اور اتباع کی بھی بیشمار اقسام ہیں اور رسول بھلا ان ہر طرح کے لوگوں کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری کیسے اٹھا سکتے ہیں ؟
Ayah 25:4456 ایسے انسانوں کی مویشیوں سے بدتر ہونے کی دو وجوہ ہیں ایک یہ کہ ہر مویشی اپنے پالنے والے کو خوب پہچانتا ہے اور اس کا وفادار اور فرمانبردار ہوتا ہے۔ اور اپنے مالک کے سامنے گردن جھکا دیتا ہے۔ اور اگر انھیں کھلا چھوڑ دیا جائے تو اپنے مالک کے گھر واپس آتے ہیں۔ لیکن حضرت انسان کا یہ حال ہے کہ وہ بات تسلیم کرنے کے باوجود کہ اس کا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے۔ اپنی نیاز مندیوں اور نذروں نیازوں میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک بنالیتا ہے۔ اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی آنکھوں اور کانوں سے اتنا ہی کام نہ لینا چاہئے۔ جتنا جانور لیتے ہیں۔ مثلاً بھیڑ بکریوں کا ریوڑ اپنے ہانکنے والے کو دیکھتا ہے اور اس کی آواز سنتا ہے۔ بھیڑ بکریاں بس اس کے اشارے پر چلتی ہیں انھیں یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ ہانکنے والے انھیں چرانے کے لئے لے جارہا ہے یا ذبح کرنے کے لئے۔ کیونکہ اللہ نے انھیں اتنی عقل نہیں دی کہ وہ قرائن سے آنے والے حال کا کچھ اندازہ کرسکیں لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایسی عقل وتمیز عطا کی ہے کہ وہ چرواہے اور قصائی میں امتیاز کرسکے لیکن اس کے باوجود جو شخص اپنے بھلے اور برے میں تمیزنہ کرسکے یا اسے یہ بھی معلوم نہ ہوسکے کون سے سیدھی راہ کی طرف بلا رہا ہے اور کون گمراہی کی تاریکیوں میں کھیل رہا ہے ؟ اس کا دوست کون ہوسکتا ہے اور دشمن کون ؟ تو ایسے انسان واقعی جانوروں سے بدتر ہوتے ہیں۔
Ayah 25:4557 سایوں کا سورج سے گہرا تعلق ہے۔ طبعی اصول یہ ہے کہ روشنی کی شعاعیں یا کرنیں ہمیشہ صراط مستقیم میں سفر کرتی ہیں۔ اس لحاظ سے جہاں بھی روشنی ہوگی چیزوں کا سایہ ہوگا۔ اب اگر کسی چیز کا سایہ روشن چیز روشن چیز سے کم درجہ پر واقع ہوگا تو سایہ لمبا ہوگا اور زاویہ بڑھتا جائے گا تو سایہ چھوٹا ہوتا جائے گا۔ حتیٰ کہ اگر یہ سایہ 90 درجہ پر پہنچ جائے تو ہر چیز کا سایہ اس کے قدموں پر پڑے گا اور بہت چھوٹا رہ جائے گا۔ حتیٰ کہ یہ غائب بھی ہوسکتا ہے۔ اب چونکہ روشنی کا مستقل منبع اور بااعتماد اور منظم منبع یہی سورج ہی ہے۔ لہذا سایوں کے مستقبل منبع کا ذکر کیا اور یہ ذکر اس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ ہر قسم کی نباتات اور تمام جاندار اشیاء کی تربیت اور نشوونما پر اثر انداز ہونے کی چیز سورج کی روشنی یا دھوپ اور سایہ ہی ہوتا ہے اب اگر کسی چیز پر ہمیشہ دھوپ پڑتی رہے یا کوئی چیز ہمیشہ سایہ میں رہے تو اس کی تربیت اور نشوونما کبھی درست طور پر نہ ہوسکے گی۔ دھوپ اور سایہ دونوں ہی اللہ کی نعمتیں ہیں اور دونوں سے ہر چیز کی زندگی کا گہرا تعلق ہے۔ اگر ہمیشہ سایہ ہی رہتا تو زندگی کی یہ بہاریں کبھی قائم نہ رہ سکیں۔
Ayah 25:4658 یعنی اللہ تعالیٰ سایوں کو پھیلاؤ سے سمیٹتا ہے تو بھی آہستہ آہستہ بتدریج سمیٹتا ہے اور سایوں کا پورا سمٹ جانا عین نصف النہار کے وقت ہوتا ہے یا سر پر ہوتا ہے جبکہ زاویہ قائم بن جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد سائے آہستہ آہستہ اور بتدریج بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس تدریج میں بہت سے فوائد مضمر ہیں اور دنیا میں جو بھی تغیر واقع ہوتا ہے اس میں تدریح کا قانون کام کرتا ہے۔ اگر یہ تدریج کا قانون نہ ہوتا تو بھی ہر جاندار کے لئے زندگی دو بھر ہوجاتی مثلاً سورج طلوع ہوتے اتنی شدید گرمی ہوتی جیسے دوپہر کو ہوتی ہے اور یہ گرمی سورج غروب ہونے تک بدستور اتنی ہی تیزی سے رہتی پھر غروب ہونے پر یک لخت سردی ہوجاتی تو یہ چیز بھی ہر جاندار کے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتی تھی۔
Ayah 25:4759 اللہ تعالیٰ کا ایک انعام یہ ہے کہ اس نے رات کو تاریک اور ہر چیز کو ڈھانپنے والا بنادیا۔ تاکہ دن بھر کے تھکے ماندے لوگ رات کو آرام کرسکیں۔ اور آرام کے لئے رات کی تاریکی اور خاموش ماحول بہت ساز گار ہوتا ہے رات کو نیند بھی اللہ کی ایک خاص نعمت ہے اور اس نعمت کی قدر اس شخص سے پوچھئے جسے رات کو نیند نہ آتی ہو۔ پر اس نیند میں بھی اللہ تعالیٰ کی کئی نشانیاں ہیں۔ دن بھر کام کرنے سے اور۔۔ جسم کے کچھ خلیے حرارت سے جل جاتے ہیں۔ جب انسان سوتا ہے تو ان جلے ہوئے خلیوں کی جگہ نئے خلیے پیدا ہوجاتے ہیں اور جب یہ عمل پورا ہوچکتا ہے تو انسان کو جاگ آجاتی ہے اور وہ تازہ دم ہو کر دوسرے دن کام کرنے کے قابل ہوجاتا ہے انسان جس قدر زیادہ تھکا ہوا ہوگا۔ اتنی ہی اسے گہری نیند آئے گی اور تادیر آئے گی۔ تاکہ اس کے جلے ہوئے خلیوں کی تلافی۔۔ ہوسکے۔ بعض دفعہ انسان گہری نیند کی علامت کے طور پر خراٹے بھی لیتا ہے یہ اللہ کی ایک اور نشانی ہے اور بعض دفعہ خواب بھی دیکھتا ہے۔ اب اگر خواب کی حقیقت پر غور کرنا شروع کیا جائے تو انسان اللہ تعالیٰ کے اس محیرالعقول کرشمے کی پہنائیوں میں گم ہو کر رہ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے وجود میں کیا کچھ عجائبات سمو دیئے ہیں۔ اس آیت سے سرسری طور پر جو بات ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے اللہ نے کام کاج کے لئے دن اور آرام کے لئے رات بنا لی ہے۔ اب اگر انسان اس کا الٹ کرے گا یعنی رات کو کام اور دن کو آرام کرے گا تو اس کے نتائج انسان کے حق میں بہتر نہیں ہوسکتے اور اس کی صحت تادیر قائم نہ رہ سکے گی۔
Ayah 25:4860 ریاح کا لفظ ریح کی جمع ہے۔ جس کا معنی محض ہوا ہے خواہ وہ چل رہی ہو یا ساکن ہو اور اگر وہ حرکت میں ہو یعنی چل رہی ہو تو عربی زبان میں ہر سمت سے چلنے والی ہوا کے لئے الگ الگ لغت ہے۔ جو ہوا شمال سے جنوب کی طرف چل رہی ہو اس ہوا کو بھی شمال ہی کہتے ہیں اور یہ عموماً بارش ہوتی ہے اور جو جنوب سے شمال کو چلے اسے جنوب کہتے ہیں اور یہ عموماً بادلوں کو اڑا لے جانے والا ہوتی ہے جو مشرق سے مغرب کو عموماً صبح کے وقت چلتی ہے اسے صبا کہتے ہیں اور یہ دل کو فرحت بخشنے والی ہوتی ہے اور جو مغرب سے مشرق کو چلے اسے دبور کہتے ہیں۔ اسے منحوس خیال کیا جاتا ہے۔ عاد کی قوم اسی ہوا سے ہلاک ہوئی تھی۔
اگرچہ ریاح ریح کی جمع ہے لیکن قرآن نے ریح اور ریاح کی الگ الگ مفہوم میں استعمال کیا ہے۔ ریح کا لفظ عموماً عذاب دینے والی ہوا کے لئے استعمال ہوا ہے ( مثالوں کے لئے دیکھئے 13: 117، 14: 18، 312: 9، 54: 19 وغیرہ ( اور ارسال الریح کا لفظ عموماً رحمت کی ہواؤں کے لئے آتا ہے۔ جیسے اس مقام پر بھی ہوا ہے ( نیز دیکھئے 7: 57، 15: 22، 30: 46، 13: 48 وغیرہ ( اور باران رحمت لانے والی ہواؤں کے لئے جمع کا صیغہ غالباً اس لئے استعمال ہوا ہے کہ اس میں آبی بخارات بھی شامل ہوتے ہیں۔ سورج کی یا آگ کی حرارت سے پانی کی سطح پر سے جو آبی بخارات اٹھتے ہیں ان کا خاصا صرف یہ ہے کہ وہ سیدھا اوپر کو اٹھتے ہیں اوپر اٹھ کر کوئی خاص سمت اختیار کرنا آبی بخارات کا خاصہ نہیں ہے۔ اب ان کو ہوائیں ہی کسی خاص سمت میں جس طرح اللہ کو منظور ہوتا ہے، اڑا لاتی ہیں۔ اور جس مقام پر اللہ تعالیٰ کو بارش برسانا منظور ہوتا ہے وہاں پہلے ہی ایسی پانی سے سے لدھی ہواؤں کے ٹھنڈے جھونکے آنا شروع ہوجاتے ہیں جو ایک طرف تو بارش کی آمد کی خوشخبری بتاتے ہیں دوسری طرف دلوں کو عجیب طرح کا سرور بخشتے ہیں۔
61 ابی بخارات عموماً سمندر کی سطح پر سورج کی گرمی سے اوپر اٹھتے ہیں سابقہ آیات میں سایوں کا، پھر رات کے پرسکون ہونے اور دن کے وقت کام کاج کرنے کا ذکر تھا اور یہ سب باتیں سورج سے متعلق ہیں اور بارش کا سلسلہ بھی سورج ہی سے متعلق ہے۔ اسی نسبت سے ساتھ ہی اس کا بھی ذکر آگیا۔ اب یہ تو واضح بات ہے کہ سمندر کا پانی کڑوا اور سخت نمکین ہوتا ہے پھر اس میں کئی قسم کے کیمیکل اجزاء بھی طے ہوتے ہیں۔ سمندر کا پانی جسم کے کسی حصے پر لگ جائے تو اسے چننے لگ جاتا ہے۔ اور جب تک سادہ اور صاف پانی سے وہ جگہ دھوئی نہ جائے چین نہیں آتا۔ لیکن حیران کن بات ہے کہ اس کے بخارات سے جو بارش برستی ہے اس میں نہ نمک کی آمیزش ہوتی ہے نہ کسی دوسرے کیمیکل کی۔ حالانکہ ہم خود ابی بخارات کے ذریعہ عرق کشید کرتے ہیں۔ مثلاً سونف کا عرق یا گلاب کا عرق تو اس عرق میں سونف یا گلاب کا ذائقہ، تاثیر حتیٰ کہ خوشبو تک سب کچھ منتقل ہوجاتا ہے۔ مگر سمندر کے آبی بخارات سے برسنے والی بارش ہر قسم کے اثرات سے پاک صاف اور محفوظ ہوتی ہے۔ اور یہ پانی خود ہی پاک صاف نہیں ہوتا بلکہ دوسری اشیاء کو بھی گندگی، غلاظت اور نجاست سے پاک صاف بنا دیتا ہے۔
Ayah 25:4962 اگر سمندر کا پانی اپنی اصلی حالت میں کھیتی کو پلایا جائے تو کھیتی مرجھا کر تباہ ہوجائے۔ اور اگر کوئی جاندار پی لے تو اس کی آنتوں کو کاٹ کے رکھ دے یا کم از کم زخمی کرکے رکھ دے۔ لیکن اسی سمندر کے پانی کے بخارات جب بارش میں منتقل ہوتے ہیں تو کیا نباتات، کیا حیوان اور کیا انسان سب کے لئے یہ پانی حیات بخش ثابت ہوتا ہے۔ کھیتیاں لہلانے لگتی ہیں اور جاندار مخلوق بارش ہونے سے پہلے ہواؤں کی آمد پر ہی مسرور ہو کر جھومنے لگتی ہے۔ نباتات سے ہی جاندار مخلوق کو غذا حاصل ہوتی ہے اور اس کے پینے کے لئے اللہ تعالیٰ صاف ستھرا پانی دیتا ہے۔ جمادات کے علاوہ اس کائنات ارضی پر کوئی مخلوق ایسی نہیں جس کی زندگی کی بقا پانی کے بغیر ممکن ہو۔
Ayahs 25:50–5163 یعنی جنتی بھی اللہ کی نشانیاں اوپر مذکور ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور ان سے سبق حاصل کرنے کے لئے تھوڑی نہیں بلکہ بہت کافی ہیں۔ مگر انسانوں کی اکثریت ایسی ہے جو نہ ان باتوں پر دھیان دیتی ہے اور نہ اللہ کی ان نعمتوں کا شکر بجا لاتی ہے۔ اور بعض انسان تو ایسے غلط عقائد میں مبتلا ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ بارش فلاں ستارہ کے فلاں نچھتر میں داخل ہونے سے ہوتی ہے۔ آپ کے زمانہ میں بھی ایسے عقائد عام تھے اور ہر اچھی اور بری بات کو سیاروں کی گردش سے منسوب کردیا جاتا تھا۔ حدیبیہ کے مقام پر جہاں آپ چودہ سو صحابہ سمیت عمرہ کی عرض سے تشریف لائے۔ ایک رات بارش ہوئی جو عرب جیسے بےآب وگیاہ ملک میں ایک عظیم نعمت متصور ہوتی تھی تو صبح آپ نے اعلان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندوں میں میں سے کچھ لوگ مجھ پر ایمان لائے اور ستاروں کے منکر ہوئے۔ یعنی جس شخص نے یہ کہا کہ یہ بارش اللہ کے فضل اور رحمت سے ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان لایا اور سیاروں کا منکر ہوا اور جس نے کہا کہ یہ بارش فلاں سیارے کے فلاں نچھتر میں داخل ہونے سے ہوئی تو وہ میرا منکر ہوا اور سیاروں پر ایمان لایا ( بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب یستقبل الامام الناس اذاسلم ( 1 lrm
گویا ستاروں کے اثرات کو تسلیم کرنا اور اللہ پر ایمان لانا دو متضاد باتیں ہیں ان میں سے صرف ایک ہی چیز قبول کی جاسکتی ہے جو سیاروں کے اثرات کو تسلیم کرتا ہے وہ مسلمان نہیں اور جو مسلمان ہے وہ ان اثرات کو تسلیم نہیں کرسکتا۔
Ayah 25:5264 یعنی ہم چاہتے تو ہر بستی میں الگ الگ نبی بھیج دیتے اور ہر جگہ ہی حق و باط کے معرکہ بپا ہوتے۔ لیکن ہماری سنت یہی ہے کہ اب ایک ہی آفتاب نبوت بھیج دیا جائے جس کی رسالت سب لوگوں کے لئے یکساں ہو اور تاقیامت ہو۔ جیسا کہ ایک ہی آفتاب ساری دنیا کو منور کر رہا ہے اور تاقیامت کرتا رہے گا۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ نبی جتنا عظیم الشان ہوگا۔ معرکہ حق و باطل بھی اتنا ہی بڑا ہوگا۔ اسی لئے یہ تاکید فرمائی کہ کافروں سے کسی قسم کے سمجھوتہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ بلکہ اپنی پوری قوت کے ساتھ ان کافروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیجئے۔ یہ خطاب اگرچہ بظاہر رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ لیکن اس میں آپ کی پوری امت بھی شامل ہے۔ جہاد کا لغوی معنی کسی مقصد کے حصول کے لئے بھرپور کوشش ہے اور جہاد کبیر میں تاکید مزید بھی پائی جاتی ہے اور وسعت اور پھیلاؤ بھی۔ یعنی ایک تو اس امت کا ہر فرد اپنی اس کوشش میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھے اور اپنے تمام تر ذرائع استعمال کرے۔ اور دوسرے یہ کہ دشمن کا ہر اس محاذ پر مقابلہ کیا جائے۔ جس پر اسلام دشمن طاقتیں کام کر رہی ہوں۔ اور اس میں زبان و قلم کا جہاد بھی شامل ہے، مال کا بھی اور توپ و تفنگ کا بھی۔ غرضیکہ جس محاذ پر بھی دشمن آور ہو اسی محاذ پر اس کا پوری قوت سے مقابلہ کیا جائے۔
Ayah 25:5365 مرج کا لغوی معنی دو چیزوں کو اس طرح ملانا یا ان کا آپس میں اس طرح ملنا ہے کہ ان دونوں کی انفرادی حیثیت اور خواص برقرار رہیں۔ جیسے غصن مریج باہم گتھی ہوئی ٹہنی ( مفرادت امام راغب ( اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ایک نہایت محیرالعقول نشانی بتلائی ہے اور وہ نشانی اتنی عام ہے جو بیشمار لوگوں کے مشاہدہ میں آچکی ہے۔ اور جغرافیہ دان حضرات اور جغرافیہ پڑھنے والے طالب علم اس حقیقت سے خوب واقف ہیں جو سمندروں کے اندر بھی ایسے۔۔ چل رہے ہیں جیسے سطح زمین پر بہہ رہے ہیں۔ کہیں گرم پانی کی روئیں چل رہی ہیں کہیں ٹھنڈے پانی کی، کہیں کھاری پانی کی، کہیں میٹھے پانی کی، اور یہ روئیں اتنی لمبی ہوتی ہیں جو سمندر کے اندر ہی اندر ایک ملک سے دوسرے ملک تک چلی جاتی ہیں۔ پھر کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ اوپر کھاری پانی ہے، نیچے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا دریا بہہ رہا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک طرف کھاری پانی کا دریا بہہ رہا ہے تو اس کے ساتھ متصل میٹھے پانی کا دریا چل رہا ہے اور یہ پانی اپنی اپنی حدود کے اندر رہتے ہیں۔ باہم ملتے نہیں۔ اور ملاح حضرات اپنی واقفیت کی بنا پر سمندر میں سے ٹھنڈا اور میٹھا پانی بھی حاصل کرلیتے ہیں اور میں نے خود دو مقامات چترال اور کراچی میں دیکھا ہے کہ ایک طرف گرم پانی کا چشمہ ابل رہا اور ساتھ ہی متصل دوسری طرف ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا چشمہ ابل رہا ہے حالانکہ سمین کے نیچے پانی کی سطح ایک ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانی کی یہ مثال اسی لئے دی ہے کہ یہ بات عام لوگوں کے مشاہدہ میں آچکی ہے اب سوال یہ ہے کہ پانی یا ہر سیال چیز کی جہاں یہ خاصیت کو سلب کرلیا۔ تاکہ سمندر کے اندر یا سمندر کے کناروں پر بسنے والی مخلوق کو پینے کو ٹھنڈا اور میٹھا پانی مہیا ہوسکے تاکہ وہ اپنی زندگی کو برقرار رکھ سکے۔ کیا اب بھی غافل انسان اپنی چشم بصیرت سے اللہ کی اس نشانی اور عظیم الشان نعمت اور قدرت کو نہ دیکھے گا ؟
66 یہاں حجرا محجورا کا لفظ مح اور تاً نہیں بلکہ اپنے اصل اور لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
Ayah 25:5467 یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ کرشمہ کیا کم ہے کہ اس نے پانی ایک بوند سے انسان جیسی محیرالعقول میشنری رکھنے والی مخلوق پیدا کردی۔ مزید یہ کہ اس پیدا ہونے والے بچہ کو جو مختلف نوعوں میں تقسیم کردیا۔ کبھی لڑکا پیدا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی۔ اور یہ دونوں انسان ہونے کے اعتبار سے تو یکساں ہیں۔ مگر اپنی جسمانی ساخت اور خصوصیات میں بہت سے امور میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ تاہم اس اختلاف کے باوجود وہ دونوں مل کر ایک ہی مقصد پورا کرتے ہیں اور وہ ہے بقائے نسل انسانی۔ ان دونوں نوع کے ملاپ سے دنیا میں ہزاروں مرد اور عورتیں پیدا ہو رہے ہیں۔ پھر اس اختلاف کی بنا پر رشتہ داریاں بھی دو طرح کی بن جاتی ہیں۔ ایک وہ جن کے ہاں عورتیں بہو بن کر آتی ہیں اور یہ نسبی رشتہ داری ہے۔ جیسے بیٹا، پوتا، پڑوتا وغیرہ اور دوسرے وہ جن کے ہاں ہماری بیٹیاں، پوتایاں وغیرہ بہو بن کر جاتی ہیں یہ سسرال رشتہ داریاں ہیں۔ پھر ان دونوں قسم کی رشتہ داریوں کے باہمی تعلقات سے پورا معاشرہ چڑ جاتا ہے اور ایک ہی جیسا تمدنی وجود میں آجاتا ہے۔
جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو لڑکے اور لڑکی کی جسمانی ساخت میں صرف شرمگاہوں کی فرق ہوتا ہے جس سے ہم یہ تمیز کرتے ہیں کہ پیدا ہونے والا بچہ لڑکا ہے یا لڑکی۔ پھر کچھ اختلاف بلوغت پر نمایاں ہوتے ہیں۔ جیسے لڑکے کو احتلام ہونا اور داڑھی اور مونچھوں کے بالوں کا اگنا اور لڑکیوں کو حیض آنا اور اس کے پستانوں میں ابھار کا پیدا ہونا۔ پھر کچھ امور ایسے ہیں جن کا تعلق استقرار حمل سے ہوتا ہے جیسے عورت کے پستانوں میں دودھ کا اتر آنا۔ کیونکہ جب تک حمل قرار نہ پائے دودھ بنتا ہی نہیں۔ پھر جوانی ڈھلنے پر عورت کا حیض آنا از خود بند ہوجاتا ہے اور مرد میں مادہ منویہ کی پیدائش از خود رک جاتی ہے۔ اور دونوں کے شہوانی جذات افسردہ پڑنے لگ جاتے ہیں اور یہ ایسے لگے بندے قوانین فطرات ہیں جن میں کبھی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ ان امور پر غور کرنے سے بےاختیار یہ بات زبان پر آجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز سے جس قسم کا کام لینا ہوتا ہے اس پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 25:5568 یعنی کاز کا کام یہ ہوتا ہے کہ یہاں کہیں بھی اعلائے کلمہ اللہ کا کام شروع ہو تو وہ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہوجاتا ہے۔ اس کی اخلاقی زبانی، مالی اور جانی ہمدردیاں ہمیشہ ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہیں جو اقامت دین الٰہی کے راستہ میں مزاحم ہو رہے ہوں۔ انھیں کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ ان کی زندگی اور اس کی بقاء کے اسباب تو اللہ تعالیٰ حیرت انگیز طریقوں سے مہیا کر رہا ہے۔ لہذا انھیں اسی اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بن کر رہنا چاہئے۔ الٹا وہ ہر اس عمل اور اس سازش میں شریک ہوجاتا ہے جو اللہ کی نافرمانی پر مشتمل ہو اور ایسی چیزوں کی عبادت گزاری اور فرمانبرداری کرنے لگتا ہے جن کے اختیار میں ان کا اپنا بھی نفع و نقصان نہیں ہوتا۔
Ayah 25:5669 یعنی آپ کا یہ کام نہیں کہ آپ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے مجبور کریں۔ نہ ہی یہ کام ہے کہ ایمان نہ لانے والوں کو کچھ سزا دیں اور ایمان لانے والوں کو مالی امداد بہم پہنچائیں۔ بلکہ آپ کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ سب لوگوں کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کردیں۔ منکرین حق کو ان کے برے انجام سے ڈرائیں اور ایمان لانے والوں کو ان کے اعمال صالحہ کے اجر کی خوشخبری دیں۔ بس آپ کا کام اتنا ہی ہے۔
واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف ایسا خطاب دراصل کافروں کو دعوت دینے کی حد تک ہے۔ ورنہ جو لوگ ایمان لے آئیں تو ان کے لئے نبی کا کام اتنا ہی نہیں کہ آپ انھیں بھی بس ان کے اعمال صالحہ کی خوشخبری دے دیں۔ بلکہ ان کی تعلیم، ان کی تربیت، اور تزکیہ نفس سب کچھ آپ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور قرآن کریم نے اس مضمون کو چار مختلف مقامات پر ذکر کیا ہے اور آپ کی مسلمانوں کے لئے چار ذمہ داریاں ہیں۔ مثلاً یہ کہ آپ ان کو قرآن آیات پڑھ کر سنائیں، ان کا تزکیہ نفس کریں۔ انھیں کتاب کی بھی تعلیم دیں اور حکمت بھی۔ ( مزید تشریح کے لئے دیکھئے 2: 129، 2: 101، 3: 164)
Ayah 25:5770 انبیاء کی دعوت اور کفار کے انکار کے سلسلہ میں انبیاء کی طرف سے جواب کے طور پر یہ جملہ قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے۔ اور اس جواب کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ اگر تمہیں میرا یہ دعوت الی اللہ کا کام پسند نہیں آتا تو میں تم سے کوئی معاوضہ یا تنخواہ تھوڑے لے رہا ہوں جو تم اسے بند کردو گے اور میں اپنا کام چھوڑ دوں گا اور نہ ہی تم سے میرا اس قسم کا مطالبہ ہے۔ لہذا تمہیں یہ کام پسند ہو یا نہ ہو یا میں اپنا کام کئے ہی جاؤں گا اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ میں بالکل بےلوث اور بےغرض ہو کر تمہاری بھلائی کی خاطر تمہیں سیدھے راستے کی طرف دعوت دے رہا ہوں اور میں تم سے لیتا بھی کچھ نہیں بلکہ الٹا تم سے مذاق اور استہزاء سنتا اور تکلیفیں اٹھا رہا ہوں پھر بھی تمہیں اتنا خیال تک نہیں آتا کہ کم از کم اس کی بات پر بھی کچھ غور و فکر تو کرلیں۔ اس آیت کا اگلا حصہ اسی پہلو یا اسی مطلب کی تائید کر رہا ہے۔ یعنی اگر اللہ نے چاہا اور تم میں سے کوئی ایک شخص بھی ہدایت کی راہ پر آگیا تو میں سمجھوں گا کہ میری محنت کا صلہ یا معاوضہ مجھے مل گیا۔
Ayah 25:5871 یعنی میں اس ہستی پر توکل کرتا ہوں جو ہمیشہ سے زندہ اور قائم و دائم ہے اور قائم دائم اور زندہ ہی رہے گی۔ تمہارے معبودوں کی طرح مخلوق نہیں، نہ وہ اس قدر محتاج ہے کہ اسے اپنی ذات کو قائم رکھنے کے لئے بھی اپنے عقیدت مندوں کی احتیاج ہو اور جو اپنے بھی نفع و نقصان کی مالک نہیں وہ تمہارا کیا بگاڑ یا سنوار سکتی ہے۔ مجھے ایسی ہستی کی عبادت کا حکم ہے اور وہ تمہارے جیسے منکروں کی کرتوتوں سے پوری طرح واقف ہے اور ان کرتوتوں پر تمہیں سزادینے پر قادر بھی ہے۔
Ayah 25:5972 استوی علی العرش کی تفسیر کے لئے سورة طٰہ کی آیت نمبر 5 کا حاشیہ نمبر 3، سورة اعراف کی آیت نمبر 54 کا حاشیہ نمبر 54۔
73 استوی علی العرش کے فعل کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اور بعص مقامات پر رحمن کی طرف جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رحمن بھی اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے اور اللہ کی باقی صفات بھی، جن کا سابقہ آیات میں ذکر ہوا ہے۔ رحمن کی طرف منسوب کی جاسکتی ہیں۔
74 یہاں خبیر سے مراد ایسا عالم ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی کائنات میں بکھری ہوئی آیات میں غور و فکر کرکے اللہ تعالیٰ کی معرفت کا علم حاصل کیا ہو۔ ایسے ہی خبیر کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر لفظ عالم سے تعبیر فرمایا ہے جہاں ایسی۔۔ آیات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۗؤُا ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ 28) 35 ۔ فاطر :28) ( یعنی اللہ کے بندوں میں سے اللہ صرف عالم لوگ ہی ڈرتے ہیں تاہم اس سے نقلی علوم وحی کو جاننے والے حضرات بھی مراد لئے جاسکتے ہیں اور بعض انبیاء کو بھی تو اللہ تعالیٰ نے ملکوت السموات والارض کا مشاہدہ بھی کرایا تھا۔ اس لحاظ سے رسول اللہ ﷺ سب سے بڑے عالم اور خبیر ہوئے اس کے بعد دوسرے انبیائ۔ پھر ان کے بعد اس صف میں وہ عالم دین بھی شامل ہوجاتے ہیں جو اپنے علم میں راسخ ہوں۔ خواہ وہ تورات کے عالم ہوں یا کسی اور الہامی کتاب کے۔
Ayah 25:6075 قریش مکہ کے سامنے جب رحمن کا ذکر کیا جاتا تو از راہ۔۔ کہا کرے کہ رحمن کیا ہوتا ہے ؟ یہاں ذوی العقول کے لہئے ما کا لفظ اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ قریش رحمن سے ناواقف محض تھے بلکہ یہ تھی رحمن کا لفظ ان کے ہاں مروج نہ تھا۔ اور انھیں اس لفظ سے چڑ سی ہوگئی تھی جیسا کہ پہلے سورة رعد کی آیت نمبر 30 کے حاشیہ 39 میں گزر چکا ہے اور جب انھیں رحمن کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تو یکدم بھڑک اٹھتے تھے اور ان کی حرکت محض ضد اور تعصب کی وجہ سے ہوتی تھی۔ ورنہ اگر انھیں فی الواقعہ رحمن کا علم نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان پر گرفت کرنے کے بجائے انھیں نرمی سے سمجھا اور بتلاسکتے تھے۔
76 اس آیت کی اختتام پر سجدہ تلاوت شروع ہے۔ قاری کے لئے بھی اور سامع کے لئے بھی تاکہ اللہ کی اطاعت گزاروں اور قریش مکہ جیسے اسلام دشمنوں کے درمیان فرق معلوم ہوسکے۔
Ayah 25:6177 آسمان میں بارہ برجوں کی وضاحت کے لئے سورة حجر کی آیت نمبر 16 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔
78 ان کے وقت سورج روشنی کا سب سے بڑا قدرتی منبع ہے اور رات کے وقت چاند۔ پھر ان دونوں کی روشنی میں بڑا فرق ہے۔ سورج کی روشنی میں تپش اور حرارت ہے اور وہ سرخی مائل ہوتی ہے اور اس کی شعاعیں انسان کی آنکھ کے سامنے والے پردہ پر پڑیں تو سخت کوفت ہوتی ہے۔ جبکہ چاند کی روشنی میں ایک سرور بخش ٹھنڈک ہوتی ہے اور انسان کا جی چاہتا ہے کہ اس کی طرف دیکھتا رہے۔ حتیٰ کہ چاند کی چاندنی کا تصور ہی ہر شخص کی خوشی کا باعث ہے پھر ان دونوں سیاروں سے ہمیں صرف روشنی ہی حاصل نہیں ہوتی بلکہ اور بھی بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں فصلوں کے پکنے کا انحطاط سورج ہی سے تعلق ہے۔ دھوپ سے کئی قسم کے جو نقصان دہ جراثیم اور کیڑے مکوڑے مرجاتے ہیں۔ ہر جاندار کی زندگی اور صحت کے لئے بھی دھوپ کی ایک معین مقدار نہایت ضروری ہے چاند جب زائد النور ہوتا ہے تو اس دوران پھلوں میں تیزی سے رس پیدا ہوتا ہے۔ غرضیکہ ان سیاروں سے انسان کو گونا گوں فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
Ayah 25:6279 خلفہ کے معنی ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے۔ رات کے پیچھے دن آتا ہے۔ اور دن کے پیچھے رات۔ اور یہ بار بار ایک دوسرے کے پیچھے آتے رہتے ہیں۔ موجودہ نظریہ ہیئت کے مطابق دن رات سورج کے سامنے زمین کی محوری یک روزہ گردش کی بنا پر پیدا ہوتے ہیں۔ زمین کا محیط پچیس ہزار میل ہے اور زمین اپنی محوری گردش پورے چوبیس گھنٹہ میں پوری کرتی ہے۔ بالفاظ دیگر ہم نے زمین کی محوری گردش کی مدت کو چوبیس گھنٹہ میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اور دن اور رات کی اوقات میں کمی بیشی زمین کی سورج کے گرد سالانہ گردش کی وجہ سے ہوتی ہے اس نظریہ کی رو سے اللہ کی قدرت کے یہ کرشمے اور بھی محیرالعقول بن جاتے ہیں۔ جس نے اتنے بڑے بڑے عظیم الجثہ کروں کو بجلی کی تیز رفتاری سے اس طرح محو گردش بنا رکھا ہے کہ ان کے نتائج میں کبھی ایک سیکنڈ کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔ نہ ہی ان کروں کا آپس میں کہیں تصادم ہوتا ہے۔
Ayah 25:6380 سابقہ آیات میں رحمن اور رحمن کی نشاندہی کا ذکر چلا رہا تھا تو یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی نسبت اپنی طرف کرنے کے بجائے رحمن کی طرف منسوب کرکے واضح کردیا کہ رحمن بھی اللہ تعالیٰ ہی کا ذاتی نام ہے۔ ویسے تو جتنی بھی اللہ کی مخلوق ہے سب ہی رحمن کے بندے ہیں۔ لیکن یہاں اس سے مراد اللہ کے وہ بندے ہیں۔ جو اللہ کو محبوب ہیں۔ اگلی آیات میں ایسے ہی اللہ کے بندوں کی کچھ صفات مذکور ہیں۔ ان آیات میں دراصل رحمن کے بندوں اور شیطان کے بندوں کی طرز زندگی اور ان کے اعمال و افعال کا تقابل پیش کیا جارہا ہے۔ پہلے شیطان کے بندوں کا ذکر چل رہا تھا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی صفات بیان کرکے بہت سی باتوں کو انسان کے فہم پر چھوڑ دیا ہے۔
اللہ کے بندوں کی پہلی صفت یہ بیان فرمائی کہ ان کی چال میں انکساری ہوتی ہے تکبر کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ انسان کی چال ایسی چیز ہے جو اس کے زمین کی پوری پوری عکاسی کردیتی ہے۔ ایک شریف النفس اور سیم الفیع انسان کی چال اور قسم کی ہوتی ہے۔ کسی ظالم و جابر کی اور قسم کی، اوباش اور غنڈوں کی اور قسم، اور متکبر اور شیخی باز لوگوں کی اور قسم کی۔ گویا ہر انسان کے چال ڈھال سے پہلی نظر میں ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ انسان کون سے طبقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں چال کی صفت میں ھونا کا لفظ استعمال فرمایا ھونا نہیں فرمایا۔ ھونا کا مطلب ایسی چال ہے جس میں تواضع، سبک اور وقار پایا جائے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کی چال ایسی ہی ہوتی تھی۔ قدم چھوٹے مگر تیز گام اور چال میں وقار ہوتا تھا اور ھونا کا مطلب ایسی چال ہے جس میں کمزوری، کم ہمتی اور ذلت کا پہلو محسوس ہوتا ہے جسے کسی بیمار اور بڑے بوڑھے کی چال یا کسی ایسے ریا کار کی چال جو لوگوں میں اپنی انکساری کا سکہ بٹھلانا چاہتا ہو۔ جیسے متکربانہ چال ممنوع ہے ویسے ہی اس طرح کی چال بھی ممنوع ہے۔ ( نیز دیکھئے سورة بن اسرائیل کی آیت نمبر 37 کا حاشیہ (
81 جاہلی سے مراد بےعلم یا کم علم یا نادان نہیں بلکہ کج بحث قسم کے لوگ ہیں۔ جن کا بحث میں مقصود کچھ سبق حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ مخاطب کو نیچا دکھانا یا اس کا مذاق اڑانا ہوتا ہے۔ اللہ کے بندوں کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسی فضول اور بےہودہ باتوں میں پڑ کر اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔ نہ ہی وہ ایسے لوگوں کی بدتمیزی یا بیہودگی کو برداشت کرتے ہیں۔ مگر اگر کسی ایسے شخص سے سابقہ پڑ بھی جائے تو سلام کہہ کر اس سے کنی کترا جاتے ہیں۔ وہ گالی کا جواب گالی سے یا اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والوں سے کنارہ کش رہتے ہیں اور نہ ایسے لوگ کے نزدیک بھی بھٹکتے !
Ayahs 25:64–6582 اللہ کے بندوں کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ راتوں کو بھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں رہتے۔ بلکہ انھیں رات کو عبادت میں زیادہ مزا آتا ہے۔ اس لئے کہ ایک تو رات کی عبادت میں ریا کا شائبہ نہیں ہوتا۔ دوسرے رات کی تنہائیوں میں بندہ جس طرح اللہ کی طرف متوجہ ہوسکتا ہے اور مناجات کرسکتا ہے دن کو نہیں کرسکتا۔ اسی لئے احادیث میں رات کی عبادت اور بالخصوص نماز تہجد کی بہت فضیلت مذکور ہے۔ نیز حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات قسم کے آدمیوں کو اپنے سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ان سات آدمیوں میں سے ایک وہ شخص ہوگا جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں ( بخاری۔ کتاب الزکوۃ۔ باب الصدقہ ن بالیمین )
Ayah 25:6683 یعنی راتوں کی عبادت یا ان کے دوسرے نیک اعمال انھیں اس غلط فلمی میں مبتلا نہیں کردیتے کہ اب وہ یقینی طور پر جنت کے مستحق ہوگئے ہیں۔ نہ ہی ان میں ان اعمال کی بجا آوری پر پندار نفس یا غرور پیدا ہوتا ہے۔ جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے :
غرور زہد نے سیکھلا دیا ہے واعظ کو “ کہ بندگان خدا ہر زبان دراز کرے ” بلکہ وہ اللہ سے یہ دعا بھی کرتے رہتے ہیں کہ اگر ان اعمال کی بجاآوری میں کچھ تقصیر ہوگئی ہے تو معاف فرما دے۔ ان اعمال کو جیسے بھی وہ ہیں قبول فرما لے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچائے رکھنا گویا اللہ کے بندوں کی چوتھی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہیں کر بیٹھتے بلکہ ان کا اصل اعتماد اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔
Ayah 25:6784 اسراف کا اطلاق ضرورت کے کاموں سے زیادہ خرچ کرنے پر ہوتا ہے۔ مثلاً اپنے سامان خوردو نوش یا کپڑوں پر یا مکان پر یا شادی بیاہ پر بھی بےدریغ خرچ کردینا یا اپنی ہمت اور مقدور سے زیادہ خرچ کردینا۔ ایسی فضول خرچیوں سے اسلام نے سختی سے روک دیا ہے۔ پھر اسراف کی ایک قسم ایسی ہے جسے تبذیر کہتے ہیں۔ جس کا معنی یہ ہے کہ ناجائز کاموں یا ناجائز ضرورتوں پر خرچ کرنا۔ جیسے شراب نوشی، قمار بازی، بیاہ شادی کے موقعہ پر آتش بازی اور راگ رنگ وغیرہ ایسے کاموں میں ایک پیسہ بھی خرچ کرنا حرام ہے۔ چہ جائیکہ ایسے کاموں پر بھی بےدریخ اور بےتحاشا خرچ کردیا جائے۔
اور اسراف کی ضد بخل ہے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ مقدور ہوتے ہوئے بھی ضرورت کے کاموں میں بھی پیسہ ضرورت سے کم خرچ کرنا اور پیسہ کو جوڑ کر رکھنا۔ جیسے اپنی ذات پر اور اپنے بال بچوں کی گزاران کے سلسلہ میں بھی بخل کر جانا۔ خوراک میں پوشاک میں، طرز بودوباش میں، اعز و اقرباء کو تحفے تحائف دینے لینے ہر جگہ بخل سے کام لینا اور بالخصوص جب اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرنا پڑے تو اسے یوں محسوس ہو کہ پیسہ کے ساتھ اس کی اتنی جان بھی نکلی جارہی ہے۔
اسراف اور بخل کے درمیان کی صفت کا نام اقتصاء یا قصد ہے اور اسی صفت کو اسلام نے پسند کیا ہے۔ اقتصاء یہ ہے کہ انسان اپنی جائز ضرورتوں پر خرچ اور اتنا ہی خرچ کرے جتنا ضرور ہو نہ کم نہ زیادہ۔ حتیٰ کہ اگر اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہو تو بھی یہی بات مدنظر رکھنی چاہئے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ وہی بہتر ہے جس کے بعد انسان خود محتاج نہ ہوجائے۔ ( بخاری۔ کتاب النفقات۔ باب وجوب النفقہ علی الدہل و العیال (
اور اعتدال کی روش اختیار کرنے کے بعد اگر کسی کے پاس مال بچ رہتا ہے تو اسے اپنے اقرباء اور دوسرے حاجت مندوں کی ضرورتوں پر خرچ کرنا چاہئے۔
Ayah 25:6885 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان تین بڑے بڑے گناہوں کا ذکر فرمایا۔ جن میں اس دور کا عرب معاشرہ بری طرح مبتلا تھا۔ ہر قبیلے کا الگ الگ بت ہوتا تھا۔ پھر ایک بڑا بٹ کئی قبائل کا مشترکہ بھی ہوتا تھا۔ بیت اللہ شریف کے متولیوں نے اللہ کے اس گھر کو جس کی بنیادی ہی توحید پر رکھی گئی تھی تین سو ساٹھ بتوں سے بھر دیا تھا۔ پورے عرب میں لوٹ مار اور قتل و غارت ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ پھر اگر کسی قبیلہ کا کوئی دشمن قتل ہوجاتا تو سمجھ لو کہ سالہا سال تک کے لئے ان دونوں قبائل میں جنگ ٹھن گئی۔ ایسی لڑائیوں نے گھرانوں کے گھرانوں اجاڑ دیئے تھے۔ شراب نوشی اور زنا ان لوگوں کی گھٹی میں پڑا ہوا تھا۔ زنا کو وہ کوئی معیوب فعل نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کے ادبا و شعراء میلوں میں اپنے زنا کے واقعات اور اپنی محبوبہ کا ذکر بڑے فخر سے کرتے تھے۔ حد یہ ہے کہ صفا اور مروہ پہاڑیوں پر دو بت رکھے گئے تھے جن کا نام اساف اور نائلہ تھا یہ دونوں دراصل ایک زانی مرد اور زانی عورت تھے جنہوں نے حرم کعبہ میں زنا کیا تھا۔ ان کے متعلق مشہور یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اس جرم میں پتھر بنادیا تھا۔ بعد کے لوگوں نے انہی پتھروں کو صفا اور مروہ پر رکھ کر ان کی پوجا شروع کردی۔ اسی بات سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ زنا ان کے ہاں گناہوں میں شمار بھی ہوتا تھا یا نہیں۔ پھر قتل ناحق کی ایک صورت ان کے ہاں رائج تھی اور وہ تھی لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا۔ ( جس پر پہلے تفصیل سے لکھا جاچکا ہے ( اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی صفات بیان کرتے ہو وے فرمایا کہ وہ ان شدید جرائم سے بچے رہتے ہیں جن میں عرب کا معاشرہ بری طرح پھنسا ہوا ہے۔
Ayah 25:6986 یعنی جو لوگ ایسے جرائم میں مبتلا ہیں۔ ایک تو انھیں ان کی سزا مل کے رہے گی۔ دوسرے ان کے عذاب میں کبھی وقفہ نہیں آئے گا۔ اور تیسرے یہ کہ ان کے عذاب میں دم بدم اضافہ ہی کیا جاتا رہے گا۔ پھر اس جہنم سے نکلنے کی بھی کوئی صورت اس کے لئے ممکن نہ ہوگی۔
Ayah 25:7087 یعنی ایسے شدید جرم کرنے والے کافروں میں سے بھی جو شخص ایمان لائے گا۔ اللہ اس کے سابقہ گناہوں کو کلیتاً معاف فرما دے گا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
1۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا : یارسول اللہ ! ہم نے جو گناہ جاہلیت کے زمانہ میں کئے ہیں کیا ہم سے ان کا مواخذہ ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : جو شخص اسلام لایا پھر نیک عمل کرتا رہا اس سے جاہلیت کے گناہوں کا مواخذہ نہیں ہوگا ( بخاری۔ کتاب استتابہ المرقدین )
2۔ حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں مکہ ایک شخص ( دوران چہارم ( رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ وہ اپنا چہرہ لوہے کے ہتھیاروں سے چھپائے ہوئے تھا۔ کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں پہلے کافروں سے لڑائی کرو یا اسلام لاؤں ؟ آپ نے فرمایا : پہلے اسلام لاؤ، پھر لڑائی کرو تو وہ مسلمان ہوگیا پھر لڑنے لگا حتیٰ کہ شہید ہوگیا۔ آپ نے فرمایا : دیکھو اس نے عمل تو تھوڑا کیا مگر ثواب بہت زیادہ پایا ( بخاری۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب عمل صالح قبل انقال (
3۔ حضرت حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : یارسول اللہ ! میں نے جاہلیت کے زمانہ میں جو اچھے کام کئے تھے مثلاً قرابت داروں سے حسن سلوک، غلام کو آزاد کرنا یا صدقہ و خیرات دینا۔ کیا مجھے ان کا اجر ملے گا ؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں۔ تم جو اسلام لائے ہو تو سابقہ نیکیوں کو برقرار رکھتے ہوئے اسلام لائے ہو ( بخاری۔ کتاب البیوع۔ باب شراء المملوک من الحربی۔۔ (
ان احادیث سے نتیجہ نکلا کہ اسلام لانے کے دو بڑے فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ سابقہ سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اسلام لانے والا گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہوجاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس کے سابقہ نیک اعمال کا اسے اجر بھی ملے گا جبکہ بحالت کفر مرنے پر اسے نیک اعمال کا اسے اجر نہیں ملے سکتا تھا۔
ایک تو یہ صورت ہوئی دوسری صورت یہ ہے کہ اسلام لانے والے کے اعمال نامہ میں فی الواقعہ اس کی برائیوں کی جگہ نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔ تیسری صورت یہ ہے کہ جو شخص اعمال صالحہ کا خوگر ہوجائے اس سے برائیوں کی عادت چھوٹ جاتی ہے اور سابقہ برائیاں معاف کردی جاتی ہے۔ اسی طرح جس معاشرہ میں نیکیاں رواج پاجائیں۔ برائیاں از خود مٹتی چلی جاتی ہیں۔
Ayah 25:7188 سابقہ آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو کفر سے توبہ کرتے اور دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ان مسلمانوں کا ذکر ہے جن سے گناہ سرزد ہوجائیں اور وہ توبہ کرتے ہیں۔ توبہ کی قبولیت کی شرائط یہ ہیں کہ وہ فی الواقعہ اپنے کئے پر نادم ہو۔ پھر اللہ سے استغفار کرے۔ توبہ استغفار کے بعد اپنی اصلاح کرے اور کم از کم اس سے وہ گناہ سرزد نہ ہو جس سے اس نے توبہ کی تھی۔ اب وہ توبہ استغفار کے بعد جس قدر اپنی اصلاح کرتا اور اعمال صالحہ بجا لاتا رہے گا اسی قدر وہ اللہ کے حضور مقرب بنتا جائے گا۔
Ayah 25:7289 اس کا ایک ترجمہ تو وہی ہے جو ترجمہ سے واضح ہے البتہ یہ وضاحت باقی رہ جاتی ہے کہ زور کا معنی محض جھوٹ نہیں بلکہ ہر باطل اور لغو کام بھی زور میں شامل ہے۔ اسی طرح شہادۃ الزور سے مراد محض جھوٹی شہادت نہیں۔ جبکہ گول مول سی شہادت دینا، شہادت کا کچھ حصہ چھپا جانا اور بیان نہ کرنا یا ایسی ہیراپھیری کرنا کہ غیر اہم بات نہایت اہم اور اہم بات نہایت معمول معلوم ہونے لگے یہ ایسی سب باتیں شہادۃ الزور میں داخل ہیں۔ اور ایسی شہادت کا مقصد کسی نہ کسی فریق کی ناجائز حمایت اور طرفداری ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں فریق ثانی کی از خود حق تلفی ہوجاتی ہے۔ ایسی شہادت کو رسول اللہ ﷺ نے بڑے بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے۔ ( بخاری۔ کتاب الشہادت۔ باب ماقبل فی شہادۃ الزور (
اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جہاں کوئی لغو اور بےہودہ قسم کا کام ہو رہا ہو۔ اللہ کے بندے وہاں حاضر ہو کر تماشائی نہیں بنتے اور ان کی طبیعت قطعاً یہ گوارا نہیں کرتی کہ وہ ایسی مجالس میں شریک ہوں جیسا کہ اس آیت کے اگلے حصہ سے یہی مفہوم متبادر ہوتا ہے۔ جہاں ایسے بےہودہ قسم کے کھیل تماشے یا مجالس منعقد ہوں گے وہاں وہ نہ رکنا گوارا کرتے ہیں نہ انھیں دیکھنا پسند کرتے ہیں بلکہ شریفانہ طور پر وہاں سے آگے گزر جاتے ہیں۔