2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم کسی مقررہ مدت کے لیے ادھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔ 401 اور لکھنے والا فریقین کے درمیان عدل و انصاف سے تحریر کرے۔ اور جسے اللہ تعالیٰ نے لکھنے کی قابلیت بخشی ہو اسے لکھنے سے انکار 402 نہ کرنا چاہئے۔ اور تحریر وہ شخص کروائے جس کے ذمہ قرض ہے۔ 403 وہ اللہ سے ڈرتا رہے اور لکھوانے میں کسی چیز کی کمی نہ کرے (کوئی شق چھوڑ نہ جائے) ہاں اگر قرض لینے والا نادان ہو یا ضعیف ہو یا لکھوانے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو پھر اس کا ولی انصاف کے ساتھ املا کروا دے۔ اور اس معاملہ پر اپنے (مسلمان) مردوں میں سے 404 دو گواہ بنا لو۔ اور اگر دو مرد میسر نہ آئیں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بناؤ کہ ان میں سے اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد 405 دلا دے۔ اور گواہ ایسے ہونے چاہئیں جن کی گواہی تمہارے ہاں مقبول ہو۔ اور گواہوں کو جب (گواہ بننے یا) گواہی دینے کے لیے بلایا جائے تو انہیں انکار نہ کرنا 406 چاہیے اور معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا مدت کی تعیین کے ساتھ اسے لکھوا لینے میں کاہلی نہ کرو۔ 407 تمہارا یہی طریق کار اللہ کے ہاں بہت منصفانہ ہے جس سے شہادت ٹھیک طرح قائم ہوسکتی ہے اور تمہارے شک و شبہ میں پڑنے کا امکان بھی کم رہ جاتا ہے۔ ہاں جو تجارتی لین دین تم آپس میں دست بدست کرلیتے ہو، اسے نہ بھی لکھو تو کوئی حرج نہیں۔ اور جب تم سودا بازی کرو تو گواہ بنا لیا کرو۔ 408 نیز کاتب اور گواہ کو ستایا نہ جائے۔409 اور اگر ایسا کرو گے تو گناہ کا کام کرو گے اور اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ ہی تمہیں یہ احکام و ہدایات سکھلاتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا ہے

401 یہ قرآن کی سب سے لمبی آیت ہے جس میں ادھار سے تعلق رکھنے والے معاملات کو ضبط تحریر میں لانے کی ہدایات دی جارہی ہے۔ مثلاً جائیدادوں کے بیع نامے، بیع سلم کی تحریر یا ایسے تجارتی لین دین کی تحریر جس میں پوری رقم یا اس کا کچھ حصہ ابھی قابل ادائیگی ہو۔ تاکہ بعد میں اگر کوئی نزاع پیدا ہو تو یہ تحریر شہادت کا کام دے سکے اور یہ حکم استحباباً ہے واجب نہیں۔ چناچہ اگر فریقین میں باہمی اعتماد اتناد زیادہ ہو کہ باہمی نزاع کی صورت کا امکان ہی نہ ہو یا محض قرض کا معاملہ ہو اور اس طرح موثق تحریر سے کسی فریق کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہو تو محض یادداشت کے لئے کوئی فریق اپنے پاس ہی لکھ لے تو یہ بھی کافی ہوسکتا ہے۔ 402 ہمارے ہاں آج کل ایسی تحریروں کے سند یافتہ ماہرین موجود ہیں جنہیں وثیقہ نویس کہا جاتا ہے۔ وثیقہ نویس تقریباً انہی اصولوں کے تحت سرکاری کاغذات پر ایسے معاہدات لکھ دیتے ہیں اور چونکہ یہ ایک مستقل فن اور پیشہ بن چکا ہے۔ لہذا ان کے انکار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ الا یہ کہ معاملہ میں کوئی قانونی سقم ہو۔ 403 یعنی معاہدہ کی املا اس شخص کو کروانی چاہئے جو مقروض ہو کیونکہ ادائیگی کا بار اس کے سر پر ہے۔ ہاں اگر وہ لکھوانے کی پوری سمجھ نہیں رکھتا تو اس کا ولی (سرپرست) اس کے وکیل کی حیثیت سے اس کی طرف سے لکھوا سکتا ہے۔ یہ ولی اس کا کوئی رشتہ دار بھی ہوسکتا ہے اور غیر رشتہ دار بھی۔ جو سمجھدار ہو اور مقروض کا خیر خواہ ہو یا معروف معنوں میں وکیل بھی ولی کی حیثیت سے املا کروا سکتا ہے۔ 404 تحریر کے بعد اس تحریر پر دو ایسے مسلمان مردوں کی گواہی ہونا چاہئے جو معاشرہ میں قابل اعتماد سمجھے جاتے ہوں۔ اور اگر معاملہ ذمیوں کے درمیان ہو تو گواہ ذمی بھی ہوسکتے ہیں۔ اور اگر بوقت تحریر دو مسلمان قابل اعتماد گواہ میسر نہ آئیں تو ایک مرد اور دو عورتیں بھی گواہ بن سکتی ہیں۔ اور اگر ایک بھی مرد میسر نہ آئے تو چار عورتیں گواہ نہیں بن سکتیں۔ اور گواہی کا یہ نصاب صرف مالی معاملات کے لئے ہے۔۔ مثلاً زنا اور قذف کے لئے چار مردوں ہی کی گواہی ضروری ہے۔ چوری اور نکاح و طلاق کے لئے دو مردوں ہی کی گواہی ہوگی۔ افلاس (دیوالیہ) کے لئے اس قبیلے کے تین مردوں کی، رؤیت ہلال کے لئے صرف ایک مسلمان کی اور رضاعت کے ثبوت کے لئے صرف ایک متعلقہ عورت (دایہ) ہی گواہی کے لئے کافی ہوتی ہے۔ 405 اس سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر رکھی گئی ہے اور حدیث کی رو سے یہ عورتوں کے نقصان عقل کی بنا پر ہے۔ اور دوسرے یہ کہ زبانی گواہی کی ضرورت اس وقت پیش آئے گی جب اس معاملہ کی ایسی جزئیات میں نزاع پیدا ہوجائے جنہیں تحریر میں نہ لایا جاسکا ہو اور معاملہ عدالت میں چلا جائے۔ ورنہ تحریر تو کی ہی اس لئے جاتی ہے کہ بعد میں نزاع پیدا نہ ہو۔ اور شہادتیں پہلے سے ہی اس تحریر پر ثبت کی جاتی ہے۔ جب سے اہل مغرب نے مساوات مرد و زن کا نعرہ لگایا ہے اور جمہوری نظام نے عورت کو ہر معاملہ میں مرد کے برابر حقوق عطا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت سے اس آیت کے اس جملہ کو بھی مسلمانوں ہی کی طرف سے تاویل و تضحیک کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ دو عورتوں کی شہادت کو ایک مرد کے برابر کرکے اسلام نے عورتوں کے حقوق کی حق تلفی کی ہے۔ پاکستان میں اپوا کی مغرب زدہ مہذب خواتین نے بڑی دریدہ دہنی سے کام لیا اور اس کے خلاف ان عورتوں نے جلوس نکالے اور بینر لکھوائے گئے کہ اگر عورت کا حق مرد سے نصف ہے تو فرائض بھی نصف ہونے چاہئیں عورتوں پر اڑھائی نمازیں، پندرہ روزے اور نصف حج فرض ہونا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ یہ طبقہ اڑھائی نمازیں تو درکنار ایک نماز بھی پڑھنے کا روادار نہیں۔ وہ خود اسلام سے بیزار ہیں ہی، ایسے پراپیگنڈے سے ایک تو وہ حکومت کو مرعوب کرنا چاہتی ہیں کہ وہ ایسا کوئی قانون نہ بنائے جس سے عورت کی حق تلفی ہوتی ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ دوسری سادہ لوح مسلمان عورتوں کو اسلام سے برگشتہ کرسکیں۔ حالانکہ یہاں حقوق و فرائض کی بحث ہے ہی نہیں۔ آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر ایک عورت بھول جائے تو دوسری عورت اسے یاد دلا دے۔ اس میں نہ عورت کے کسی حق کی حق تلفی ہوتی ہے اور نہ اس کی تحقیر ہوتی ہے۔ بات صرف نسیان کی ہے اور وہ بھی اس جزئیات میں جو تحریر میں آنے سے رہ گئی ہوں۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عورت بھول سکتی ہے تو کیا مرد نہیں بھول سکتا۔ تو اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ اسلامی قانون عام حالات کے مطابق وضع کئے گئے ہیں اور ان کا واضع خود اللہ تعالیٰ ہے۔ جو اپنی مخلوق کی خامیوں اور خوبیوں سے پوری طرح واقف ہے۔ عورت پر حیض، نفاس اور حمل اور وضع حمل کے دوران کچھ ایسے اوقات آتے ہیں جب اس کا دماغی توازن برقرار نہیں رہ سکتا۔ اور حکمائے قدیم و جدید سب عورت کی ایسی حالت کی تائید و توثیق کرتے ہیں۔ ان مغرب زدہ خواتین کا یہ اعتراض بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی یہ کہہ دے کہ مرد اپنی جسمانی ساخت اور قوت کے لحاظ سے عورت سے مضبوط ہوتا ہے۔ لہذا حمل اور وضع حمل کی ذمہ داریاں مرد پر ڈالنا چاہئے تھیں نہ کہ عورت پر جو پہلے ہی مرد سے کمزور ہے۔ اور اس مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ عورت اپنی اصل کے لحاظ سے ایسی عدالتی کاروائیوں سے سبکدوش قرار دی گئی ہے۔ اب یہ اسلام کا اپنا مزاج ہے کہ وہ عورت کو گھر سے باہر کھینچ لانے کو پسند نہیں کرتا۔ جبکہ موجودہ مغربی تہذیب اور نظام جمہوریت اسلام کے اس کلیہ کی عین ضد ہے۔ عورت کی گواہی کو صرف اس صورت میں قبول کیا گیا ہے جب کوئی دوسرا گواہ میسر نہ آسکے اور اگر دوسرا گواہ میسر آجائے تو اسلام عورت کو شہادت کی ہرگز زحمت نہیں دیتا۔ عورت کے اسی نسیان کی بنا پر فوجداری مقدمات میں اس کی شہادت قابل قبول نہیں کیونکہ ایسے مقدمات میں معاملہ کی نوعیت سنگین ہوتی ہے۔ مالی معاملات میں عورت کی گواہی قبول تو ہے لیکن دو عورتوں کو ایک مرد کے برابر رکھا گیا ہے۔ اور عائلی مقدمات میں چونکہ زوجین ملوث ہوتے ہیں اور وہ ان کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ جہاں نسیان کا امکان بہت ہی کم ہوتا ہے۔ لہذا ایسے مقدمات میں میاں بیوی دونوں کی گواہی برابر نوعیت کی ہوگی اور وہ معاملات جو بالخصوص عورتوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ وہاں عورت کی گواہی کو مرد کے برابر ہی نہیں بلکہ معتبر قرار دیا گیا ہے مثلاً مرضعہ اگر رضاعت کے متعلق گواہی دے تو وہ دوسروں سے معتبر سمجھی جائے گی۔ خواہ یہ دوسرے کوئی عورت ہو یا مرد ہو۔ ان تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں نہ عورت کی تحقیر بیان ہوئی ہے اور نہ کسی حق کی حق تلفی کی گئی ہے بلکہ رزاق عالم نے جو بھی قانون عطا فرمایا ہے وہ کسی خاص مصلحت اور اپنی حکمت کاملہ سے ہی عطا فرمایا ہے اور جو مسلمان اللہ کی کسی آیت کی تضحیک کرتا یا مذاق اڑاتا ہے اسے اپنے ایمان کی خیر منانا چاہئے۔ اور ایسے لوگوں کو اسلام سے منسلک رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ دل سے تو وہ پہلے ہی اللہ کے باغی بن چکے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو اسلام کو کافروں سے بھی زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ 406 یعنی جب نزاع کی صورت پیدا ہو کر معاملہ عدالت میں چلا جائے اور انہیں زبانی گواہی دینے کے لئے بلایا جائے تو انہیں انکار نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ یہ بات کتمان شہادت کے ذیل میں آتی ہے جو گناہ کبیرہ ہے۔ 407 اس جملہ میں انسان کی ایک فطری کمزوری کو واضح کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ فریقین خواہ کس قدر قابل اعتماد ہوں اور ان میں نزاع کی توقع بھی نہ ہو اور معاملہ بھی خواہ کوئی چھوٹا سا ہو تاہم بھول چوک اور نسیان کی بنا پر فریقین میں نزاع یا بدظنی پیدا ہوسکتی ہے۔ لہذا باقاعدہ دستاویز نہ سہی فریقین کو یا فریقین میں سے کسی اذیک کو یادداشت کے طور پر ضرور لکھ لینا چاہئے۔ 408 یہ حکم صرف اس صورت میں ہے جبکہ لین دین کا کوئی اہم معاملہ ہو اور لین دین کرنے کے بعد بھی اس میں نزاع کا احتمال موجود ہو۔ 409 اس کی کئی صورتیں ممکن ہیں مثلاً ایک یہ کہ کسی شخص کو کاتب بننے یا گواہ بننے پر مجبور نہ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ کاتب یا گواہ کی گواہی اگر کسی فریق کے خلاف جاتی ہے تو انہیں تکلیف نہ پہنچائے جیسا کہ آج کل مقدمات میں اکثر ایسا ہوتا ہے اور فریق مخالف گواہوں کو یا وثیقہ نویس کو اس قدر دھمکیاں اور تکلیفیں دینا شروع کردیتا ہے کہ وہ گواہی نہ دینے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں یا پھر غلط گواہی دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اور تیسری صورت انہیں نقصان پہنچانے کی یہ ہے کہ انہیں عدالت میں بلایا تو جائے لیکن انہیں آمدورفت اور کھانے پینے کا خرچہ تک نہ دیا جائے۔
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے کو کوئی کاتب نہ مل سکے تو رہن با قبضہ 410 (پر معاملہ کرلو) اور اگر کوئی شخص دوسرے پر اعتماد کرے (اور رہن کا مطالبہ نہ کرے) تو جس پر اعتماد کیا گیا ہے اسے قرض خواہ کی امانت 411 ادا کرنا چاہئے۔ اور اپنے پروردگار سے ڈرنا چاہیے۔ اور شہادت کو ہرگز نہ چھپاؤ۔ جو شخص شہادت کو چھپاتا ہے بلاشبہ اس کا دل گنہ گار ہے 412 اور جو کام بھی تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے

410 رہن کے مطالبہ کی چار ممکنہ صورتیں ہیں مثلاً سفر ہو یا حضر ہو اور کاتب نہ مل رہا ہو، دو تو یہ ہوئیں اور دو یہ ہیں کہ سفر یا حضر دونوں جگہ کاتب مل سکتا ہے مگر قرض دینے والا محض تحریر پر اعتماد نہیں کرتا اور اپنے قرضہ کی واپسی کی ضمانت کے طور پر رہن کا بھی مطالبہ کرتا ہے اور یہ کہ رہن خواہ تحریر کے ساتھ ہو یا تحریر کے بغیر صرف رہن ہو۔ جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی (ابوشحم) سے ادھار اناج خریدا (تیس صاع جو، اپنی خانگی ضرورت کے لئے) اور آپ نے اپنی زرہ بطور رہن اس کے پاس رکھی تھی (بخاری۔ کتاب الرہن، باب فی الرہن فی الحضر) اور یہ رہن حضر میں تھا اور بلا تحریر تھا۔ چناچہ ان چاروں صورتوں میں رہن جائز ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو ان میں سے صرف ایک صورت کا ذکر فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام اپنے پیروؤں کو فیاضی کی تعلیم دینا چاہتا ہے اور یہ بات بلند اخلاق سے فروتر ہے کہ ایک آدمی مال رکھتا ہو اور وہ دوسرے ضرورت مند کی کوئی چیز رہن رکھے بغیر اسے قرض نہ دے۔ رہن سے متعلق درج ذیل مسائل سمجھ لیجئے : 1۔ مرہونہ چیز کے نفع و نقصان کا ذمہ دار راہن (اصل مالک) ہی ہوتا ہے اور مرتہن (جس کے پاس رہن رکھی گئی ہو) کے پاس وہ چیز بطور امانت ہوتی ہے مثلاً زید نے بکر کے پاس گائے رہن رکھی تھی۔ وہ گائے مرگئی یا چوری ہوگئی تو یہ نقصان زید کا ہوگا بکر کا نہیں۔ اسی طرح اگر گائے نے بچہ جنا تو گائے اور بچہ دونوں زید کے ہوں گے بکر کے نہ ہوں گے۔ چناچہ سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : گرو رکھنا کسی مرہونہ چیز کو اس کے اصل مالک سے نہیں روک سکتا۔ اس کا فائدہ بھی اسی کے لئے ہے اور اس کا نقصان بھی اسی پر ہے (مشکوٰۃ۔ کتاب البیوع۔ باب المسلم والرہن۔ فصل ثانی) 2۔ چونکہ مرہونہ چیز مرتہن کے پاس بطور امانت ہوتی ہے۔ اس لئے وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ مثلاً مکان ہے تو اس میں رہ نہیں سکتا نہ کرایہ پردے سکتا ہے، زمین ہے تو اس میں کاشت نہیں کرسکتا وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ یہ سود ہوگا۔ الا یہ کہ وہ ایسا فائدہ راہن کے حوالہ کردے یا اصل قرضہ کی رقم سے وضع کرتا جائے۔ 3۔ مگر جن چیزوں پر مرتہن کو کچھ خرچ بھی کرنا پڑے تو ان سے فائدہ اٹھانے کا بھی حقدار ہوگا۔ مثلاً مرہونہ چیز گائے ہے تو اسے چارہ وغیرہ ڈالنے کے عوض اس کا دودھ بھی استعمال کرسکتا ہے۔ چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : مرہونہ جانور کی پیٹھ سواری کے لئے شیردار مرہونہ جانور کا دودھ پینے کے لئے اس کے اخراجات کے عوض جائز ہے۔ اور جو شخص سواری کرتا یا دودھ پیتا ہے تو اسی کے ذمہ اس کا خرچہ ہے (بخاری : کتاب الرہن۔ باب الرہن مرکوب و محلوب) 411 یعنی قرض خواہ کا قرضہ یا جو چیز اس نے لی ہو۔ 412 رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا : سن لو ! بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ایسا ہے کہ جب وہ درست ہو تو سارا جسم ہی درست ہوتا ہے اور وہ بگڑ جائے تو سارا جسم ہی بگڑ جاتا ہے۔ یاد رکھو ! وہ ٹکڑا (انسان کا) دل ہے (بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب فضل من استبرء لدینہ) اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جب انسان کوئی گناہ کا کام کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے پھر اگر انسان توبہ کرلے تو وہ نقطہ دھل جاتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے بلکہ مزید گناہ کئے جائے تو وہ نقطہ بڑھتا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کے سارے دل کو گھیر لیتا ہے اور اسے سیاہ کردیتا ہے۔ (مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب رفع الامانۃ والایمان من بعض الذنوب۔۔ ) گویا پہلے گناہ دل پر اثر انداز ہوتے ہیں اور نیت میں فتور آتا ہے پھر وہ گناہ کا کام صادر ہوتا ہے۔ پھر ایک ایسا وقت آتا ہے جب انسان کا دل پوری طرح سیاہ ہوجاتا ہے اس وقت انسان کا دل اس کی سوچ اور فکر پر اثرانداز ہوتا ہے پھر وہ جو بات بھی سوچے گا غلط اور معصیت کی بات ہی سوچے گا۔ دل کی ایسی حالت کو اللہ تعالیٰ نے آثم قلبہ سے تعبیر کیا ہے اور شہادت کو چھپانے والے ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں۔
Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے 413 سب اللہ ہی کا ہے۔ اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خواہ تم اسے چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

413 اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا ذکر ہوا ہے۔ (i) ملک، یعنی وہ ہر چیز کا مالک ہے، (ii) علم، یعنی اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ دلوں کے راز تک جانتا ہے، (iii) قدرت، یعنی اسے سزا دینے اور معاف کردینے کے کلی اختیارات حاصل ہیں اور یہی تین صفات ذرا تفصیل کے ساتھ آیت الکرسی میں بیان کی گئی ہیں جس سے مقصود یہ ہے کہ عبادات اور معاملات سے متعلق جو بیشمار احکام دیئے گئے ہیں۔ مسلمان کو اس کی تعمیل میں نہ حیلوں بہانوں سے کام لینا چاہئے اور نہ سینہ زوری اور ظلم و زیادتی سے۔ بلکہ اللہ سے ڈر کر اس کی مرضی کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔ کیونکہ کسی بھی ظاہری یا پوشیدہ امر میں انسان اس کی نافرمانی کرکے نجات نہیں پاسکتا۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس نے ہمیں غمزدہ بنادیا ہم نے خیال کیا کہ اگر کسی کے دل میں گناہ کا خیال بھی آئے تو اس کا بھی حساب ہوگا کہ پھر معلوم نہیں کہ اس کی معافی ہو یا نہ ہو، اور یہ بات انسان کے اختیار سے باہر ہے۔ چناچہ صحابہ کرام ؓ نے آپ سے شکایت کی تو آپ نے فرمایا : کہو ! ہم نے (اللہ کا ارشاد) سنا اور ہم اطاعت کرتے ہیں۔ صحابہ کرام ؓ نے ایسا ہی کہا تو پھر ( اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ كُلٌّ اٰمَنَ باللّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۣلَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۣ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ڭ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ 285۔ ) 2 ۔ البقرة :285) سے لے کر اگلی دو آیات نازل ہوئیں اور (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ۭ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۭرَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ ۚ وَاعْفُ عَنَّا ۪ وَاغْفِرْ لَنَا ۪ وَارْحَمْنَا ۪ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْــصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ) نے اس آیت نے اس حکم کو منسوخ کردیا۔ (ترمذی۔ کتاب التفسیر۔۔ ) یعنی دل میں پیدا ہونے والے خیالات پر گرفت معاف کردی گئی
Ayah 2:285

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

رسول پر جو کچھ اس کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا، اس پر وہ خود بھی ایمان لایا اور سب مومن بھی ایمان لائے۔ یہ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں 414 (اور کہتے ہیں کہ) ہم اللہ کے رسولوں میں سے کسی میں بھی تفریق نہیں کرتے۔ 415 نیز وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے احکام سنے اور ان کی اطاعت قبول کی۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم تیری مغفرت چاہتے ہیں اور ہمیں تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔

414 یہ سب ایمان بالغیب کے اجزاء ہیں۔ جن پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس سورة کی ابتداء میں اجمالاً بیان ہوئے تھے یہاں قدرے تفصیل ہے۔ ایمان بالغیب کے کل چھ اجزاء ہیں۔ جن میں چار یہاں مذکور ہیں۔ یعنی اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور جو یہاں مذکور نہیں ہوئے بلکہ دوسرے مقامات پر مذکور ہیں وہ ہیں روز آخرت پر ایمان اور اس بات پر ایمان کہ ہر طرح کی بھلائی اور برائی اللہ ہی طرف سے ہوتی ہے۔ اور یہ سب اشیاء ایسی ہیں جن کا ادراک حواس خمسہ سے ناممکن ہے اور وہ انسان کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ ان میں سے کتابیں اور رسول انسانوں کو نظر تو آتے ہیں۔ لیکن اس یقین کا انسان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں کہ فلاں کتاب فی الواقعہ اللہ کی طرف نازل شدہ ہے اور فلاں رسول واقعی اللہ کا رسول ہے۔ یہ یقین اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب پہلے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر ایمان لایا جائے۔ اللہ کی طرف سے جب فرشتہ اللہ کا پیغام لے کر رسول پر نازل ہوتا ہے۔ تو سب سے پہلے رسول اپنی رسالت پر اور اللہ کی طرف سے ملے ہوئے احکام پر ایمان لاتا اور ان احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے اور عمل پیرا ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کو دوسرے مقامات پر ( وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ 163۔ ) 6 ۔ الانعام :163) اور ( وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ 143۔ ) 7 ۔ الاعراف :143) کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے پھر اس کے بعد رسول دوسرے لوگوں کو اپنی رسالت پر ایمان لانے اور منزل من اللہ احکام کو بجا لانے کی دعوت دیتا ہے۔ پھر جو لوگ بھی رسول پر ایمان لاتے ہیں۔ ان کے لئے اپنے سے پہلے کے رسولوں اور پہلی نازل شدہ کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ ایمان اجمالی ہوتا ہے تفصیلی نہیں ہوتا۔ کیونکہ نیا رسول آتا ہی اس وقت ہے جب سابقہ رسول کی کتاب میں تحریف و تاویل کرکے اس کا حلیہ بگاڑ دیا جاتا ہے اور اس کی تعلیم کو مسخ کردیا جاتا یا کچھ کا کچھ بنادیا جاتا ہے۔ گویا اب محمد رسول اللہ ﷺ پر تفصیلی ایمان لانا ضروری ہے۔ اور آپ پر تفصیلی ایمان کا مطلب آپ پر منزل من اللہ اللشریعت کے ایک ایک جزء کو واجب الاتباع سمجھنا اور اس کے مطابق عمل پیرا ہونا اور اپنی زندگی کو اس سانچہ میں ڈھالنا ہے اور سابقہ کتابوں پر اجمالی ایمان کا مطلب ہے کہ ان کتابوں میں جو باتیں شریعت اسلامیہ کے مطابق ہیں انہیں منزل من اللہ سمجھا جائے۔ اور جو مخالف ہیں انہیں لوگوں کا اضافہ یا تحریف سمجھا جائے اور جو باتیں نہ مطابق ہوں اور نہ مخالف، ان کی نہ تصدیق کی جائے اور نہ تکذیب۔ 415 رسولوں میں فرق کرنے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ کسی کو تو اللہ کا رسول مانا جائے اور کسی کو نہ مانا جائے۔ جیسے یہود نہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو رسول مانتے تھے اور نہ نبی اکرم کو اور عیسائی محمد ﷺ کو اللہ کا نبی نہیں سمجھتے تھے۔ جبکہ مسلمان ان سب کو اللہ کے نبی اور رسول مانتے ہیں۔ ان کے نبی یا رسول ہونے میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ بلحاظ نبوت سب انبیاء کا درجہ برابر اور وہ سب ایک سطح پر ہوتے ہیں اور باقی تمام مخلوقات سے افضل ہوتے ہیں۔ ایسی ہی صورت کو ختم کرنے کے لئے آپ نے فرمایا : کہ کسی کو ایسا کہنا درست نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ : جو شخص یوں کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اس نے جھوٹ بولا (بخاری۔ کتاب التفسیر، تفسیر آیت (اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰي نُوْحٍ وَّالنَّـبِيّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ 163؀ۚ ) 4 ۔ النسآء :163) پھر جس طرح تمام انسان، انسان ہونے کے لحاظ سے ایک سطح پر ہوتے ہیں لیکن ان میں کچھ اچھے اور کچھ برے، کوئی عادل، کوئی ظالم، کوئی مشرک، کوئی موحد غرضیکہ ان کی بیشمار اقسام بن جاتی ہیں۔ اسی طرح تمام مسلمان، مسلمان ہونے کے لحاظ سے یا بالفاظ دیگر قانونی لحاظ سے تو ایک سطح پر ہوتے ہیں لیکن ان کے اعمال صالحہ اور غیر صالحہ کی بنا پر ان کی کئی اقسام بن جاتی ہیں، بعینہ اسی طرح تمام انبیاء اگرچہ نبوت کے لحاظ سے ایک سطح پر ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں۔ مگر فضائل کے لحاظ سے ان میں بھی فرق ہوتا ہے اور یہ فرق قرآن کریم کی اس آیت ( تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۘ مِنْھُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ 253؁ۧ) 2 ۔ البقرة :253) سے ثابت ہے، اور بیشمار احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سب انبیاء سے افضل ہیں۔
Ayah 2:286

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 2:286 in the Quran reader

اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ 416 اگر کوئی شخص اچھا کام کرے گا تو اسے اس کا اجر ملے گا 417 اور اگر برا کام کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر ہے (ایمان والو ! اللہ سے یوں دعا کرو) اے ہمارے پروردگار ! اگر ہم سے بھول چوک 418 ہوجائے تو اس پر گرفت نہ کرنا ! اے ہمارے پروردگار ! ہم پر اتنا بھاری بوجھ نہ ڈال جتنا تو نے ہم سے پہلے لوگوں 419 پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے پروردگار ! جس بوجھ کو اٹھانے کی ہمیں طاقت نہیں وہ ہم سے نہ اٹھوائیو۔ ہم سے درگزر فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مولیٰ ہے لہذا کافروں کے مقابلے 420 میں ہماری مدد فرما۔ 421

416 اس جملہ میں اللہ تعالیٰ اپنے قانون سزا و جزا کا کلیہ بیان فرما دیا۔ یعنی جو کام کسی انسان سے استطاعت سے بڑھ کر ہیں ان پر انسان سے باز پرس نہیں ہوگی، باز پرس تو صرف اسی بات پر ہوگی جو انسان کے اختیار اور استطاعت میں ہو اور جہاں انسان مجبور ہوجائے وہاں گرفت نہ ہوگی۔ مگر اس اختیار، استطاعت اور مقدرت کا فیصلہ انسان کو نہایت نیک نیتی سے کرنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو دلوں کے راز تک جانتا ہے۔ 417 اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون جزا و سزا کا دوسرا کلیہ بیان فرمایا جو یہ ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جو اس نے خود کمایا ہو اور وہ ضرور اسے ملے گا اور جو کوئی برا کام کیا ہو تو اس کی سزا بھی اسے ہی ملے گی اور ضرور ملے گی نہ یہاں آباؤ اجداد کی نیکی کام آسکتی ہے اور نہ اس کا نسب، یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی۔ البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ کسی شخص نے کسی نیک کام کی بنیاد رکھ دی ہو جس کے اثرات اس کی موت کے بعد بھی جاری رہیں۔ تو اس میں نیکی کے کام میں اس کو بھی برابر کا حصہ ملتا رہے گا۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی برے کام کی بنیاد رکھی ہو۔ اور اس کی موت کے بعد بھی اس کے اثرات جاری رہیں تو وہ اس برائی کے گناہ میں بھی برابر کا حصہ دار ہوگا اور یہ اصول قرآن کریم اور بہت سے احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ بہرحال یہ ممکن نہیں کہ جس بھلائی یا برائی میں انسان کی نیت اور سعی و عمل کو کچھ دخل نہ ہو، اس کی جزا و سزا یا اس میں سے کچھ حصہ اسے مل سکے۔ 418 اللہ تعالیٰ نے دعا کا یہ جملہ خود ہی مسلمانوں کو سکھلا کر نہ صرف ان کے سابقہ خلجان کو ختم کردیا بلکہ مزید تسلی و تشفی کا سامان بھی مہیا فرما دیا۔ ان کا خلجان یہ تھا کہ دل میں پیدا ہونے والے خیالات جو ہمارے اپنے اختیار میں نہیں ہوتے ان پر مواخذہ نہ ہو اور اس آیت کی رو سے ظاہری اعمال جو بھول چوک سے صادر ہوں ان سے بھی معافی کی درخواست سکھلائی گئی اور جب دعا قبول کرنے والا ہی یہ دعا سکھلا رہا ہو تو اس کی قبولیت میں کیا شک ہوسکتا ہے۔ چناچہ آپ نے فرمایا کہ میری امت سے خطاو نسیان کو معاف کردیا گیا ہے۔ 419 یہاں بوجھ سے مراد سخت قسم کے شرعی احکام ہیں۔ جیسے بچھڑے کی پرستش کرنے والوں کی توبہ صرف قتل سے قابل قبول ہونا، یہود میں صرف قصاص تھا، دیت یا معافی کی صورت نہ تھی۔ ان پر زکوٰۃ چوتھا حصہ تھی اور کپڑے پر اگر پیشاب لگ جاتا تو اسے کاٹ دینا پڑتا تھا، نیز غنیمت کے اموال ان پر حرام تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے سخت احکام میں تخفیف فرما دی۔ 420 یہ آیات اس دور میں نازل ہوئیں جب کافروں سے شدید محاذ آرائی تھی اور بہت سے نازک موقعوں پر رسول اللہ ﷺ نے ایسی دعائیں مانگی ہیں۔ بالخصوص غزوہ بدر اور غزوہ خندق کے موقعہ پر آپ نے جو دعائیں فرمائیں ان کا ذکر کثرت سے صحیحہ احادیث میں مذکور ہے۔ 421 اس دعا کے اختتام پر بعض صحابہ ؓ سے آمین کہنا ثابت ہے اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان آیتوں کے بعد آمین کہنے کی ترغیب دی۔ (ابن کثیر) نیز آپ نے فرمایا : کہ جو شخص رات کو (سوتے وقت) سورة بقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے تو وہ اس کو کفایت کرتی ہیں (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب شہود الملائکۃ بدرا) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت و استعانت اس کے شامل حال رہتی ہے۔