11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 11:120–121

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

اور ہم رسولوں کے حالات کی ایک ایک خبر آپ سے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ اس کے ذریعہ 132 آپ کے دل کو مضبوط کردیں اور ان خبروں کے ذریعہ آپ تک حق بات پہنچی اور ایمان لانے والوں کے لئے نصیحت اور یاددہانی بھی ہوگئی

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ Open ayah 11:121 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان نہیں لائے آپ ان سے کہئے کہ تم اپنے طریقہ پر عمل کرتے جاؤ۔ ہم بھی عمل کر رہے ہیں

132 انبیاء کے بار بار تذکرہ کے تین فائدے :۔ انبیاء کے حالات بار بار بیان کرنے کے اللہ تعالیٰ نے تین فائدے بتلائے ہیں۔ ایک یہ کہ جن مشکلات سے آپ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ دو چار ہیں ایسے ہی حالات سے تمام سابقہ انبیاء اور ان پر ایمان لانے والوں کو بھی دوچار ہونا پڑا تھا۔ آخر اللہ نے مخالفین کا سر توڑ دیا اور انبیاء اور مومنوں کو بچا لیا اور کامیاب کیا لہذا آپ صبر سے کام لیں اور اپنے عزم کو مضبوط رکھیں۔ دوسرے یہ کہ آپ اور آپ کے پیروکاروں تک سابقہ انبیاء کے صحیح صحیح حالات پہنچ جائیں جن کی آپ کو پہلے سے خبر نہیں تھی۔ تیسرے یہ کہ ان لوگوں کے حالات میں آپ سب کے لیے بہت سے اسباق موجود ہیں یعنی اللہ کے نافرمانوں کا بالآخر کیا انجام ہوتا ہے اور فرماں برداروں کا کیا ؟
Ayahs 11:122–123

وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 11:122 in the Quran reader

اور تم بھی انتظار کرو، ہم بھی انتظار 133 کرتے ہیں

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 11:123 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ پوشیدہ ہے اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور معاملات سب کے سب اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔ لہذا آپ اسی کی عبادت کیجئے اور اسی پر بھروسہ کیجئے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو آپ کا پروردگار اس سے بیخبر نہیں

133 لہذا آپ پورے عزم و استقلال کے ساتھ وحی الٰہی کی پیروی کرتے جائیے اور اپنے سرکش اور ہٹ دھرم مخالفوں سے صاف کہہ دیجئے کہ تم اپنے طریقہ پر کام کرتے جاؤ ہم اپنے ہی طریقہ پر عمل پیرا رہیں گے اور اللہ ہمارے اعمال کو بھی دیکھ رہا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی اور جو فریق جیسے انجام کا اہل ہوگا۔ اللہ ویسے ہی انجام سے دوچار کرے گا کیونکہ تمام تر مخلوقات اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق سزا و جزا دینے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ باطل دوئی پرست ہے حق لاشریک ہے شرکت میانہ حق باطل نہ قبول کر