10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 10:71

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

انہیں نوح کا قصہ سنائیے۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم ! اگر تمہیں میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی آیات سے نصیحت کرنا ناگوار گزرتا ہے تو میں نے اللہ پر بھروسہ کرلیا ہے۔ تم یوں کرو کہ اپنے شریکوں کو ساتھ ملا کر ایک فیصلہ پر متفق ہوجاؤ جس کا کوئی پہلو تم سے پوشیدہ نہ رہے پھر جو کچھ میرے ساتھ 84 کرنا ہو کر گزرو اور مجھے بالکل مہلت نہ دو

84 اولیاء اللہ کی شان میں گستاخی سیدنا نوح کا اپنی قوم کو چیلنج :۔ مشرکوں کے پاس اپنے مذہب کی صداقت میں سب سے مؤثر جواب یہ ہوتا ہے کہ اگر تم لوگوں نے ان کے معبودوں یا اولیاء اللہ کی شان میں کوئی گستاخی کی بات کی یا ان کی توہین کی تو وہ تم پر فلاں فلاں مصیبت ڈھا دیں گے اور تباہ و برباد کرکے رکھ دیں گے ایسے عقائد کے وہ خود بھی معتقد ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں اور ان کا یہ عقیدہ سیدنا نوح سے لے کر آج تک بدستور چلا آرہا ہے آپ آج بھی اولیائے کرام کا کوئی تذکرہ اٹھا کر دیکھ لیجیے آپ کو اس میں ایسی تہدید اور دھمکیاں مل جائیں گی کہ فلاں بزرگ کی فلاں شخص نے یوں توہین کی اس کا ستیاناس ہوگیا وغیرہ وغیرہ اور ایسے واقعات عموماً من گھڑت ہوتے ہیں جو ان پیروں کے حواری ان کی اولیائی کی دھاک بٹھانے کے لیے گھڑتے اور پھر شائع کردیتے ہیں یہی بات جب نوح کو بھی کہی گئی تو انہوں نے اپنی قوم کے مشرکوں کو کھرا کھرا جواب دے دیا اور فرمایا : تم خود بھی اور تمہارے یہ معبود بھی سب مل کر میرا جو کچھ بگاڑ سکتے ہو بگاڑ لو اور مجھے مہلت بھی نہ دو کیونکہ میں اپنے اللہ پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اللہ پر پوری طرح بھروسہ رکھنے والا اللہ کے سوا کسی اور سے نہیں ڈرتا اور اگر بالفرض تسلیم اسے کوئی تکلیف پہنچتی بھی ہے تو وہ تکلیف پہلے ہی اللہ کی مشیئت میں ہوتی ہے اس کا کسی معبود کی خدائی یا کسی بزرگ کی اولیائی سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
Ayah 10:72

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

پھر اگر تم (میری نصیحت سے) اعراض کرتے ہو تو میں تم سے کوئی مزدوری تو نہیں 85 مانگتا (جو بند ہوجائے گی) میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبردار بن کر رہوں

85 اسلامی خدمات اور تبلیغ کی اجرت لینا جائز ہے :۔ یعنی اگر تم لوگوں کو میری نصیحت کی باتیں اچھی نہ لگیں تو بھی میں اس کام سے باز نہیں آنے کا بلکہ تمہیں سمجھاتا ہی رہوں گا کیونکہ مجھے اللہ کا یہی حکم ہے میں اس کی طرف سے مامور ہوں اور اسی کے ذمہ میرا اجر ہے میں نہ تمہارا تنخواہ دار ہوں اور نہ تم سے کچھ طمع رکھتا ہوں کہ اگر تمہیں یہ باتیں پسند نہ آئیں تو تم میری تنخواہ روک دو گے یا مجھے کچھ نہ دو گے۔ میں تم سے ایسی کوئی حرص نہیں رکھتا۔ میں تو صرف اللہ کے حکم کا پابند اور اسی کا فرمانبردار ہوں۔ سیدنا نوح کے علاوہ باقی انبیاء کا بھی یہی شیوہ رہا ہے وہ یہ ہے کہ انبیاء کو عموماً اس وقت مبعوث کیا جاتا ہے جب کسی قوم کے حالات بگڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ کفر و شرک اور ظلم وعدوان عام ہوتا ہے ان حالات میں مخالفین اگر انبیاء کی بات ہی سن لیں تو بڑی بات ہے اور اجر تو اس کے ذمہ ہوتا ہے جس نے انھیں اس کام پر لگایا ہوا ہے اس سے یہ معلوم ہوا کہ اگر اسلامی حکومت یا مسلمانوں کا کوئی ادارہ کسی کو تبلیغ کے کام پر مامور کرے تو اس حکومت یا ادارہ سے تنخواہ یا اجرت لینا جائز ہے خواہ یہ تبلیغ کا کام اندرون ملک ہو یا بیرون ملک ؟ دارالاسلام میں ہو یا دارالحرب میں۔ اگر تبلیغ کرنے والا اس تنخواہ کا محتاج نہیں تو بھی اسے لے لینا چاہیے اور آگے صدقہ کردینا چاہیے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے بھی یہی بات ثابت ہے۔ (بخاری، کتاب الاحکام، باب رزق الحاکم مسلم۔ کتاب الزکوۃ۔ باب اباحۃ الاخذ لمن اعطی من غیر مسئلۃ)
Ayah 10:73

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

مگر انہوں نے نوح کو جھٹلا 86 دیا تو ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ کشتی میں سوار تھے، بچا لیا اور انھیں ان کا جانشین بنادیا 87 اور ان لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا، تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیا انجام ہوا ؟

86 اس موقعہ پر نوح (علیہ السلام) کے واقعات کو ذکر کرنے کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو تسلی دینا چاہتے ہیں کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلا رہی ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ سابقہ پیغمبر بھی ایسے ہی حالات سے دو چار ہوئے تھے اور انہوں نے صبر اور برداشت کا کمال مظاہرہ کیا تھا لہذا آپ کو صبر اور برداشت سے کام لینا چاہیے اور دوسرا مقصد جھٹلانے والوں کو متنبہ کرنا ہے کہ جن لوگوں نے ہمارے انبیاء کو جھٹلایا تھا ان کے انجام پر غور کرلو اور خوب سمجھ لو اگر تم اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی ایسا ہی انجام ہونے والا ہے۔ 87 طوفان نوح کی کیفیت :۔ یعنی جھٹلانے والوں پر اللہ کا عذاب اس صورت میں آیا کہ نیچے زمین سے پانی کے چشمے جاری ہونے لگے اور اوپر سے موسلا دھار بارش ہونے لگی اور یہ عمل مفسرین کے قول کے مطابق چھ ماہ تک جاری رہا اور پانی سطح زمین سے اتنا بلند ہوا کہ پہاڑ تک اس میں غرق ہوگئے۔ مجرمین بھلا کیسے بچ سکتے تھے۔ بچے صرف وہی چند لوگ جو ایمان لائے تھے اور نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار تھے چھ ماہ بعد بارشیں بھی ختم ہوگئیں اور زمین بھی پانی کو جذب کرنے لگی کچھ ہواؤں نے پانی کو خشک کیا کشتی تو جودی پہاڑ پر ٹک گئی تھی چالیس دن بعد جب زمین کی سطح خشک ہوگئی تو یہی مومن جو کشتی میں سوار تھے زمین پر اتر آئے اور کافروں کی زمینوں پر قابض ہوئے اور آئندہ نسل انہی سے چلی۔
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ہم نے کئی رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا جو واضح دلائل لے کر ان کے پاس 88 آئے مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس بات کو پہلے جھٹلا چکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ ایسے ہی ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں

88 مہر لگانے کا مفہوم :۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کے بعد ہود، صالح، ابراہیم، لوط اور شعیب کو ہم نے ان کی قوموں کی طرف واضح نشانات دے کر بھیجا تھا۔ ان سب رسولوں سے وہی معاملہ پیش آیا جو سیدنا نوح (علیہ السلام) کو پیش آیا۔ یعنی جب ان لوگوں نے پہلی بار انکار کردیا تو بس پھر اسی پر ڈٹ گئے اور رسولوں کے ہزار بارسمجھانے کے باوجود بھی ان سے یہ نہ ہوسکا کہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرلیں جب لوگ اس حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے دل اس قابل ہی نہیں رہے کہ وہ آئندہ ہدایت قبول کرسکیں اور مہر لگنے کی نسبت اللہ کی طرف محض اس حیثیت سے ہوتی ہے کہ اسباب کے مسبب یا نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ انسان اسباب کے اختیار کرنے میں پوری طرح مختار ہوتا ہے اور اسی وجہ سے اس کی سزا و جزا اس کے اسباب اختیار کرنے پر ہی مترتب ہوتی ہے گویا مہر لگنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سزا ہے جو انھیں انکار و مخالفت کے جرم کی پاداش میں ملتی ہے۔
Ayahs 10:75–76

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ہم نے اپنے معجزے دے کر موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو وہ اکڑ گئے 89 اور وہ تھے ہی مجرم لوگ

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آگیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

89 سیدنا موسیٰ کے فرعون سے مطالبات اور اس کا جواب :۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا قصہ پہلے سورة اعراف (آیت نمبر 103 تا 171) میں پوری تفصیل سے گذر چکا ہے لہذا ان حواشی کو بھی مدنظر رکھا جائے جو پہلے پیش کیے جاچکے ہیں جب یہ دونوں پیغمبر، فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں پہنچے تو انھیں دو باتوں کی دعوت دی۔ ایک یہ کہ صرف ایک ہی سچے معبود پر ایمان لاؤ اور اسی کی عبادت کرو اور دوسرے یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کرکے میرے ہمراہ روانہ کردو۔ ظاہر ہے کہ فرعون جیسے جابر اور خود خدائی کا دعویٰ کرنے والے حکمران کو یہ دعوت کسی طرح بھی راس نہ آسکتی تھی لہذا اس نے فوراً یہ مطالبہ پیش کردیا کہ تم فی الواقع اللہ کے پیغمبر ہو تو اپنی نبوت کی تصدیق کے طور پر کوئی نشانی پیش کرو۔ اس پر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر پھینک دیا جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوفناک اژدھا کی شکل اختیار کر گیا اور دوڑنے لگا جس سے فرعون اور اس کے سب درباری ڈر کر موسیٰ کی طرف ملتجیانہ نظروں سے دیکھنے لگے۔ آپ نے اس اژدہا کو پکڑ لیا اور وہ پھر سے عصا بن گیا پھر سیدنا موسیٰ نے دوسری نشانی بھی دکھلائی۔ اپنا داہنا ہاتھ اپنی بغل میں رکھا پھر نکالا تو وہ چمک رہا تھا اور اس سے سفید رنگ کی روشنی پھوٹ رہی تھی۔ آپ نے پھر اسے اپنی بغل میں رکھا تو وہ اپنی اصل حالت پر آگیا۔ یہ دونوں نشانیاں اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی بےمثال جرأت دیکھ کر فرعون اور اس کے درباری دل میں ڈر گئے۔ انھیں یہ یقین ہوگیا کہ موسیٰ اور اس کا بھائی دونوں اللہ کے سچے پیامبر ہیں اور وہ ان خطرات کو بھی بھانپ رہے تھے جو ان کو پیش آنے والے تھے لیکن وہ اپنی صورت حال کو رعایا سے چھپانا بھی چاہتے تھے۔ لہذا ان معجزات کو جادو قرار دے دیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر۔ اور اس سے ان کا مقصد صرف اپنی رعایا کو الو بنانا تھا اور انھیں یہ تاثر دینا تھا کہ جس طرح دوسرے جادوگر شعبدہ بازیاں دکھلاتے ہیں اسی طرح کے یہ بھی شعبدے ہیں لہذا ان سے ڈرنے یا گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔
Ayah 10:77

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے ان سے کہا : جب تمہارے پاس حق آگیا ہے تو تم اسے جادو کہنے لگے ہو ؟ کیا یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادوگر کبھی کامیاب 90 نہیں ہوتے۔

90 سیدنا موسیٰ کا جواب جادوگر اور نبی کا فرق :۔ فرعون اور اس کے درباریوں کے اس جواب پر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ جس انداز میں میں تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں کیا جادوگروں کے بھی ایسے رنگ ڈھنگ ہوتے ہیں ؟ جو اگر تمہارے پاس آنا چاہیں تو پہلے واسطہ تلاش کرتے اور داخلے کی اجازت چاہتے ہیں پھر اگر وہ اس مرحلہ میں کامیاب ہو کر تم لوگوں تک پہنچ جائیں تو نہایت ذلت سے سر عجزو نیاز جھکائے تمہیں دعائیں دیتے اور آداب بجا لاتے ہیں۔ پھر شعبدہ دکھلانے کی اجازت چاہتے ہیں۔ پھر اس دھندہ سے فارغ ہوں تو پھر سلام کرتے اور انعام و اکرام کا مطالبہ کرتے ہیں اگر تم چاہو تو انھیں کچھ دو یا جھڑک کر کسی بھی مرحلہ پر نکال دو یا اندر آنے کی اجازت ہی نہ دو اور ان کی ساری زندگی اسی ذلت اور اسی دھندے میں گذر جاتی ہے اور ان کی ہوس ختم نہیں ہوتی تو کیا تمہیں ایک جادوگر میں اور مجھ میں کچھ بھی فرق نظر نہیں آتا ؟ (مزید وضاحت کے لیے دیکھیے جادو اور معجزہ کا فرق سورة اعراف، آیت نمبر 120) نیز ایک رسول اور جادوگر میں فرق کے لیے دیکھیے اسی سورة یونس کی آیت نمبر 2)
Ayahs 10:78–79

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگے : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اس طریقہ سے پھیر دو جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے اور ملک میں تم دونوں کی بڑائی قائم ہوجائے ؟ ہم تو تمہاری بات 91 ماننے والے نہیں

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون کہنے لگا کہ ہر ماہر جادوگر کو میرے پاس حاضر کرو

91 فرعون اور درباریوں کے اس جواب سے بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ خوب جانتے تھے کہ سیدنا موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) جادوگر نہیں ہیں۔ جادوگر کو تو معاشرہ کی ایک حقیر سی مخلوق سمجھا جاتا ہے۔ اس کی بھلا بڑائی قائم ہوسکتی ہے ؟ اور اگر وہ حقیقت کا اعتراف کرلیتے تو اپنے تمام مناصب سے دستبردار ہونا پڑتا تھا۔ لہذا انہوں نے وہی جواب دیا جو دلیل سے عاجز اور ضدی لوگ دیا کرتے ہیں کہ تم تو ہمیں اپنے آباؤ و اجداد کے دین سے برگشتہ کرنے آئے ہو مگر ہم تمہارے جھانسے میں کبھی نہیں آئیں گے۔
Ayah 10:80

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

پھر جب سب 92 جادوگر آگئے تو انھیں موسیٰ نے کہا : جو کچھ تم نے پھینکنا ہے پھینکو

92 فرعون نے یہ سب کچھ جان لینے کے بعد جادوگر کیوں بلائے اور مقابلہ کا ڈھونگ کیوں رچایا ؟ اور اپنی اس تدبیر میں وہ کیسے ناکام ہوا اس کی تفصیل پہلے سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔
Ayahs 10:81–82

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

جب وہ پھینک چکے تو موسیٰ نے کہا : جو کچھ تم لائے ہو وہ جادو ہے۔ اللہ ابھی اسے مٹا ڈالے گا۔ اللہ فسادیوں 93 کے کام کو سنوارا نہیں کرتا

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اللہ اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کر دکھائے گا اگرچہ یہ بات مجرموں کو ناگوار ہو

93 فیصلہ کن معرکہ حق و باطل میں حق کو یقینا تائید الٰہی حاصل ہوتی ہے :۔ جب جادوگر اپنی شعبدہ بازیاں دکھلا چکے اور ان کی پھینکی ہوئی رسیاں اور لاٹھیاں لوگوں کو سانپوں کی طرح حرکت کرتی اور بل کھاتی دکھائی دینے لگیں اور تماشا دیکھنے والے سب لوگ ان سے ڈر بھی گئے اور متاثر بھی ہوگئے تو اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ جو کچھ تم نے پیش کیا ہے یہ فی الواقع جادو ہے اور جو میں پیش کررہا ہوں وہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ معجزہ ہے جو تمہاری ان تمام شعبدہ بازیوں کا خاتمہ کر دے گا۔ وجہ یہ ہے کہ یہ بات اللہ کی عادت اور حکمت کے خلاف ہے کہ کسی جگہ حق و باطل کا معرکہ درپیش ہو۔ مصلح کے مقابلہ میں مفسد کھڑے ہوں اور اس سے مقصود اتمام حجت ہو تو اللہ مفسدوں کی بات کو سربلند کرے اور کلمہ حق کو پست و مغلوب کردے بلکہ ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ حق کی مدد کرتا اور سچ کو سب لوگوں کے سامنے سچ کرکے دکھلا دیتا ہے۔
Ayahs 10:83–84

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

چناچہ موسیٰ پر اس کی قوم کے چند نوجوانوں 94 کے سوا کوئی بھی ایمان نہ لایا۔ انھیں یہ خطرہ تھا کہ کہیں فرعون اور اس کے درباری انھیں کسی مصیبت میں نہ ڈال دیں اور فرعون تو ملک میں بڑا غلبہ رکھتا تھا اور وہ حد سے بڑھ 95 جانے والوں میں سے تھا

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اور واقعی اس کے فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسہ کرو

94 ذریت کے معنی نوجوان جرأ تمند نسل :۔ لفظ ذریت کا لغوی معنی اولاد ہے اور یہاں ذریت سے مراد بنی اسرائیل کی نوجوان نسل ہے ان نوجوانوں میں سے بھی چند آدمیوں نے ہمت کرکے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اعلان کردیا ورنہ بڑے بوڑھے لوگ تو فرعون کی چیرہ دستیوں سے اس قدر خائف تھے کہ دل سے ایمان لانے کے باوجود اپنے ایمان کا اظہار کرنے میں اپنی موت سمجھتے تھے۔ طویل مدت کی غلامی، بڑھاپے کی کمزوری اور فرعون کے مظالم نے انھیں اتنا پست ہمت بنادیا تھا کہ وہ اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہوئے بھی ڈرتے تھے۔ جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد بنی اسرائیل کے یہ چند نوجوان ہی اتنے دلیر ثابت ہوئے کہ انہوں نے پیش آنے والے مصائب و مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا تہیہ کرلیا اور اپنے ایمان کا برملا اعلان کردیا۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو کچھ تقویت حاصل ہوگئی اور آپ نے ان نومسلموں کی تربیت شروع کردی اور سمجھایا کہ اب تمہیں نہایت ثابت قدمی اور استقلال کے ساتھ میرا ساتھ دینا ہوگا اور اگر تم اللہ کے فرمانبردار بن کر رہے اور اسی پر بھروسہ کیا تو فرعون تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا۔ موسیٰ کے اس دور کے حالات اور آپ کے حالات کی مماثلت نوجوان صحابہ اور ان کی عمریں :۔ بالکل ایسی صورت حال مکہ میں بھی پیش آئی تھی۔ آپ پر جو لوگ ایمان لائے تھے ان میں اکثر نوجوان طبقہ ہی تھا۔ مثلاً سیدنا علی ؓ ، جعفر طیار ؓ ، زبیر بن عوام ؓ ؓ ، سیدنا طلحہ ؓ ، سعد بن ابی وقاص ؓ ، عبداللہ بن مسعود ؓ وغیرہم، یہ سب قبول اسلام کے وقت بیس سال سے کم عمر کے تھے۔ عبدالرحمن بن عوف ؓ ، بلال بن رباح ؓ اور صہیب ؓ کی عمریں بیس سے تیس سال کے درمیان تھیں۔ لے دے کردو صحابہ کو ہی بڑا کہا جاسکتا ہے ایک سیدنا ابوبکر ؓ ، آپ سے دو سال چھوٹے یعنی 38 سال کے تھے اور سیدنا عمار بن یاسر ؓ آپ کے ہم عمر تھے۔ بالفاظ دیگر ان (وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ 100۔ ) 9 ۔ التوبہ :100) میں سے بوڑھا کوئی بھی نہ تھا۔ ابتدائی مراحل میں حق کا ساتھ دینے اور مشکلات کے سامنے سینہ سپر ہوجانے کے لیے نوجوان خون اور ان کی جرأت ہی کام آتی ہے۔ بوڑھوں کی مصلحت کوشیاں کام نہیں آتیں الاماشاء اللہ۔ 95 یعنی ایسے لوگ جو اپنے مقصد کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز ذریعہ استعمال کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے اور ان کے لیے کوئی قانونی یا اخلاقی حد ایسی نہیں ہوتی جہاں جاکر وہ رک جائیں۔ فرعون ایسا ہی سرکش، متکبر اور جابر و قاہر قسم کا انسان تھا۔
Ayahs 10:85–86

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

وہ کہنے لگے : ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا ہے۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ان ظالموں کا تختہ مشق 96 نہ بنا

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے ہمیں ان کافر لوگوں سے بچا لے

96 کامیابی کے لئے وسائل اور اسباب اختیار کرنا اور دعا کرنا دونوں لازم و ملزوم ہیں :۔ اس آیت میں انبیاء کی دعوت و تبلیغ کے ابتدائی دور کا نقشہ پیش کیا جارہا ہے۔ انبیاء کی دعوت کو ابتداء میں قبول کرنے والے چند نوجوان اور باہمت لوگ ہی ہوتے ہیں جنہیں مخالفین کے شدائد اور ظلم و ستم کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ پھر ان کے بزرگوں کی مصلحت کوشیاں بھی ان کے آڑے آتی ہیں اور ایک کثیر طبقہ تماشا دیکھنے والوں کا بھی موجود ہوتا ہے جو ان حالات میں غیر جانب دار رہتے ہیں وہ صرف اس انتظار میں رہتے ہیں جو فریق بھی غالب ہوگا وہ اس کے ساتھ مل جائیں گے اور اگر ان جوانوں کی جماعت کو کوئی مصیبت پیش آجائے تو ان کے لیے اپنے بزرگ بھی جو دل سے مومن ہوتے ہیں ان کی پیش رفت پر طعنہ زنی کرنے اور کیڑے نکالنے لگتے ہیں گویا یہ دور ہر طرح سے اس مختصر سی مسلمان جماعت کے لیے سخت ابتلا کا دور ہوتا ہے۔ یہی صورتحال موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے ان نوجوانوں کی تھی جو اپنے ایمان پر ثابت قدم رہتے اور اللہ پر بھروسہ کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ سے دعائیں بھی کرتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم پر رحم فرما اور جن مشکلات میں ہم گھرے ہوئے ہیں اس سے نجات کی راہ پیدا فرما دے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کے لیے وسائل و اسباب کو اختیار کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ سے دعا کرتے رہنا دونوں باتیں کامیابی کے لیے لازم و ملزوم ہیں نیز یہ بھی کہ وسائل و اسباب کو اختیار کیے بغیر محض دعاؤں پر انحصار کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ دعا بھی صرف اس صورت میں قبول کرتا اور اپنی رحمت اور مدد نازل فرماتا ہے جب انسان یا کوئی قوم اپنے مقدور بھر اسباب و وسائل کو بھی اختیار کرتی ہے۔
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لئے مصر میں گھر منتخب کرو۔ 97 اور ان گھروں کو قبلہ بنا کر نماز قائم کرو اور اہل ایمان کو خوشخبری دے دو

97 دین کی سربلندی کے لئے جماعتی نظم ونسق اور جماعتی نظم ونسق کے لئے مساجد اور اقامت الصلوٰۃ دونوں ضروری ہیں :۔ طاغوتی اور لادینی حکومتوں میں بھی ان کی رعایا کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق مراسم و عبادات بجا لانے کی اجازت ہوا کرتی ہے اور ایسی عبادت کو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک ذاتی معاملہ کی حد تک محدود رکھا جاتا ہے ایسی آزادی سے حکومتوں کو کچھ نقصان بھی نہیں ہوتا اور اگر وہ اتنی آزادی بھی نہ دیں تو حکومتیں چل بھی نہیں سکتیں حکومتوں کو اعتراض صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ مذہبی لوگ سیاست میں دخل دینے لگیں اور انبیاء کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسی حکومتوں سے ٹکر لینے کے لیے مسلمانوں میں جماعتی نظام پیدا کرتے ہیں اور اس تنظیم کا اولین مرکز مسجد ہوتی ہے فرعون کے زمانہ میں بھی سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے نوجوان اور کمزور ہمت بوڑھے لوگ اپنے گھروں میں نماز ادا کرتے تھے جب ان لوگوں نے کافروں سے نجات کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پیغمبروں کی طرف وحی کی کہ اگر اللہ کی مدد چاہتے ہو تو جماعتی نظم و نسق قائم کرو، چند گھروں کو مسجد کے طور پر منتخب کرلو اور نماز باجماعت کا اہتمام کرو یہی مساجد تمہاری عبادت، تمہاری معاشرت، تمہاری معیشت اور تمہاری سیاست کے بھی مرکز ہوں گے اس طرح جب تم ایک دوسرے کے معاون و رفیق بن جاؤ گے اور خود کو ایک جماعتی نظم میں منسلک کرلو گے تو یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ ضرور تمہاری مدد کرے گا اور تمہاری دعاؤں کو ضرور قبول فرمائے گا اور اسی صورت میں تم کامیاب ہوسکو گے۔
Ayah 10:88

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ نے اللہ سے دعا کی : پروردگار ! تو نے اس دنیا کی زندگی میں فرعون اور اس کے درباریوں کو ٹھاٹھ باٹھ اور اموال دے رکھے ہیں کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے گمراہ کرتے رہیں۔ پروردگار ! ان کے اموال کو غارت کردے 98 اور ان کے دلوں کو ایسا سخت بنا دے کہ جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں، ایمان نہ لائیں

98 جماعتی نظم ونسق کے ساتھ ساتھ دشمن کی طاقت کو کمزور بنانے کے لئے وسائل سوچنا اور اس کے لئے دعا بھی ضروری ہے :۔ کسی دشمن سے مقابلہ کے لیے دو گونہ اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے ایک یہ کہ اپنی جماعت کو مربوط منظم اور طاقتور بنایا جائے دوسرے یہ کہ جہاں تک ممکن ہو دشمن کی جماعت کو کمزور بنایا جائے اب موسیٰ (علیہ السلام) کی مٹھی بھر جماعت کے مقابلہ میں فرعون جیسا جابر اور خود سر بادشاہ تھا جو مال و دولت اور شان و شوکت کی فراوانی کے علاوہ جملہ اسباب و وسائل پر قابض بھی تھا اور انہی وجوہات کی بنا پر وہ سیدنا موسیٰ کی دعوت کے کام میں سدراہ بنا ہوا تھا کیونکہ وہ خوب جانتا تھا کہ اگر موسیٰ کی دعوت کو فروغ حاصل ہوگیا تو اس کا اقتدار خطرہ میں پڑجائے گا لہذا وہ اس دعوت کو روکنے میں اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہا تھا اور ظاہر ہے کہ جو شخص دعوت حق کی مخالفت میں اس حد تک جا پہنچے اس کے خود ایمان لانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہذا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی مقدور بھر کوششوں کے ساتھ ساتھ اللہ سے یہ دعا بھی کی کہ چونکہ دعوت حق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ فرعون اور اس کے درباریوں کا شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ اور مال و دولت کی فراوانی ہے اور یہی چیزیں ایک دنیا دار کی نظر میں زندگی کی کامیابی کا منتہائے مقصود ہیں لہذا اے ہمارے پروردگار ! ان لوگوں کے مال و دولت اور وسائل کو تباہ و برباد کر دے تاکہ یہ لوگ کم از کم دوسرے لوگوں کی راہ تو نہ روکیں، ان کے اپنے دل تو اس قابل ہی نہیں رہے کہ وہ ایمان لے آئیں الا یہ کہ کوئی سخت عذاب اپنے آپ پر نازل ہوتا دیکھ لیں۔
Ayah 10:89

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم دونوں کی دعا قبول ہوچکی تم ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کی پیروی نہ کرو 99 جو علم نہیں رکھتے

99 کامیابی کے لئے صبرو استقلال کی اہمیت :۔ پیغمبروں کی دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے انھیں اور مسلمانوں کی جماعت کو صبر، استقلال اور ثابت قدمی کی تلقین فرمائی اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو لوگ زندگی کی کامیابی کا منتہائے مقصود صرف دنیا کے مال و دولت اور شان و شوکت ہی کو سمجھ بیٹھے ہیں ان کی طرف مطلقاً التفات نہ کرو کیونکہ ان کا یہ نظریہ محض جہالت پر مبنی ہے اور اللہ تعالیٰ جلد ہی تمہیں ان لوگوں سے نجات دے دے گا۔
Ayah 10:90

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو (جب) سمندر سے پار گزار دیا تو فرعون اور اس کے لشکروں نے از راہ ظلم و سرکشی ان کا تعاقب کیا۔ حتیٰ کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بولا : میں اس بات پر ایمان 100 لاتا ہوں کہ الٰہ صرف وہی ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں اس کا فرمانبردار ہوتا ہوں

100 جن حالات میں موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر نکلے تھے اور جس طرح بعد میں فرعون اور اس کے لشکر نے ان کا تعاقب کیا تھا نیز دریا کے پھٹنے، بنی اسرائیل کے بخیر و عافیت پار اتر جانے اور فرعون اور اس کے لشکر کے اس دریا میں غرق ہونے کی تفصیل پہلے سورة اعراف آیت نمبر 136 میں گذر چکی ہے۔ یہاں صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ فرعون کو جب موت سامنے نظر آگئی تو کہنے لگا کہ فی الواقع رب میں نہیں تھا بلکہ حقیقی معبود وہی ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں میں بھی اب اس پر ایمان لاتا ہوں اور اس کا فرمانبردار بن کر رہوں گا فرعون کا یہ اقرار دراصل اقتدار سے اپنی دستبرداری کا اعلان تھا بشرطیکہ اسے موت سے نجات مل جائے اور یہ وہی بات ہے جس کا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں ذکر کیا تھا کہ ان کے دل اس قدر سخت ہوچکے ہیں کہ جب تک کوئی سخت عذاب نہ دیکھ لیں ایمان لانے پر تیار نہ ہوں گے۔
Ayah 10:91

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

( فرمایا) اب (تو ایمان لاتا ہے) جبکہ 101 اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا

101 فرعون کا غرقابی کے وقت ایمان لانا :۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے اس اقرار کے جواب میں فرمایا کہ جیسا اقرار تم اب کر رہے ہو ویسا اقرار پہلے بھی کئی دفعہ کرچکے ہو پھر بعد میں عہد شکنی کرکے بغاوت ہی کرتے رہے ہو لہذا تمہارا اب کا یہ اقرار قطعاً ناقابل اعتبار ہے اگر تمہیں اب بھی ہم نجات دے دیں تو پھر بھی تم وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے ہو اور اس مطلب پر دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب فرعون نے یہ کلمات کہے تھے تو جبریل نے مجھے کہا کہ : کاش اے محمد ! آپ دیکھتے میں نے اس وقت دریا سے کیچڑ لے کر فرعون کے منہ میں ٹھونس دیا کہ مبادا اب بھی کہیں اللہ کی رحمت اسے نہ آلے (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اب تمہارے اس اقرار کا کچھ فائدہ نہیں کیونکہ یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ تمہاری موت آچکی اور امتحان اور توبہ کا وقت گذر چکا ہے لہذا اب ایسا اقرار بےکار ہے اس مطلب پر بھی بیشمار آیات و احادیث شاہد ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تین امور کا معین وقت کسی کو بھی نہیں بتلایا، ایک یہ کہ کسی قوم پر عذاب کب آئے گا، دوسرے یہ کہ کسی کی موت کا وقت کب ہے ؟ اور تیسرے یہ کہ قیامت کب آئے گی کیونکہ ان امور کا معین وقت بتلا دیا جائے تو دنیا کے دارالامتحان ہونے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے اور فرعون کے معاملہ میں تو دو باتیں اکٹھی ہوگئی تھیں۔ ایک عذاب دوسرے موت۔ لہذا اس وقت اس کا ایمان کیسے قبول ہوسکتا تھا ؟
Ayah 10:92

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

آج تو ہم تیری لاش کو بچا لیں گے تاکہ تو بعد میں 102 آنے والوں کے لئے نشان عبرت بنے، اگرچہ اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت ہی برتتے ہیں

102 فرعون کی لاش کی حفاظت کا مطلب :۔ یعنی تیری لاش نہ تو سمندر میں ڈوب کر معدوم ہوجائے گی اور نہ مچھلیوں کی خوراک بنے گی، چونکہ فرعون کے ڈوب کر مرجانے کے بعد ایک لہر اٹھی جس نے اس کی لاش کو سمندر کے کنارے ایک اونچے ٹیلے پر پھینک دیا تاکہ باقی لوگ فرعون کا لاشہ دیکھ کر عبرت حاصل کریں کہ جو بادشاہ اتنا طاقتور اور زور آور تھا اور خود خدائی کا دعویدار تھا بالآخر اس کا انجام کیا ہوا ؟ مگر انسانوں کی اکثریت ایسی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایسی نشانیاں دیکھنے اور ان کا اعتراف کرنے کے باوجود عبرت حاصل نہیں کرتے اور نہ ہی اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ لاش مدتوں اسی حالت میں پڑی رہی اور گلنے سڑنے سے بچی رہی اور بعد میں آنے والی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنی رہی۔ جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ لاش آج تک محفوظ ہے جس پر سمندر کے پانی کے نمک کی تہہ جمی ہوئی ہے۔ جو اسے بوسیدہ ہونے اور گلنے سڑنے سے بچانے کا ایک سبب بن گئی ہے اور یہ لاش قاہرہ کے عجائب خانہ میں آج تک محفوظ ہے۔ واللہ اعلم۔ تاہم الفاظ قرآنی کی صحت اس کے ثبوت پر موقوف نہیں کہ اس کی لاش تاقیامت محفوظ ہی رہے۔ عاشورہ کا روزہ :۔ فرعون کی غرقابی کا واقعہ 10 محرم کو پیش آیا تھا اسی لیے یہود فرعون سے نجات کی خوشی کے طور پر روزہ رکھتے تھے چناچہ آپ نے بھی مسلمانوں کو اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا اور یہود کی مخالفت کے لیے ساتھ 9 محرم یا 11 محرم کا روزہ رکھنے کا حکم دیا پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو اس دن کے روزہ کی حیثیت نفلی روزہ کی سی رہ گئی۔
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کے لئے یقینا عمدہ جگہ دی اور کھانے کو پاکیزہ چیزیں دیں۔ پھر انہوں نے باہم اس وقت اختلاف کیا جبکہ ان کے پاس 103 علم آچکا تھا۔ یقینا آپ کا پروردگار ان میں قیامت کے دن ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے

103 بنی اسرائیل کا شام کے علاقہ پر قبضہ اور تفرقہ بازی : یعنی ملک مصر میں بھی ان کو غلبہ دیا اور شام میں بھی اور یہ دونوں سرسبز اور شاداب ملک ہیں جہاں ہر طرح کے پھل اور غلے بکثرت پیدا ہوتے ہیں پھر ان مادی نعمتوں کے علاوہ انھیں تورات بھی عطا کی۔ جس میں ان کی زندگی کے ہر شعبہ کے لیے مکمل ہدایات موجود تھیں لیکن بعد میں یہی لوگ کئی فرقوں میں بٹ گئے تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ تورات ان کی صحیح رہنمائی کرنے کے لیے ناکافی تھی بلکہ اس کی وجہ نئے نئے فلسفیانہ مباحث پیدا کرنا، پھر آپس میں اختلاف کرنا، پھر فرقے بنانا اور اپنی اپنی چودھراہٹ کی خاطر ان کی آبیاری کرنا تھی۔ علماء و مشائخ کے حب جاہ نے ان فرقوں میں اتنا تعصب پیدا کردیا تھا کہ ان میں اتحاد کی صورت باقی نہ رہ گئی تھی حالانکہ اگر وہ اللہ کی کتاب کی طرف رجوع کرتے تو وہ پھر سے متحد ہوسکتے تھے۔ تفرقہ بازی کی وجہ اور اس کا علاج :۔ آج مسلمان بھی اسی فرقہ بازی کی لعنت کا شکار ہیں جس کا شکار یہود اور نصاریٰ ہوچکے تھے اور آج تک شکار ہیں۔ مسلمانوں کے فرقے بھی اسی ہٹ دھرمی اور ضد کا شکار ہیں اور ہر فرقہ اپنے اپنے حال میں مست اور مگن ہے۔ ان فرقوں کے قائدین کے حب مال اور جاہ کی خواہش اور ان کے مناصب سے ان کی دستبرداری ان فرقوں کے متحد ہونے میں آج بھی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ آج بھی اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت موجود ہے۔ اگر اس کی طرف رجوع کیا جائے تو اتحاد کی صورت آج بھی ممکن ہے بلکہ اتحاد کی ممکنہ صورت یہی ہوسکتی ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف رجوع کیا جائے اور اماموں، علماء اور مشائخ کے اقوال کو کتاب و سنت کے مقابلہ میں درخور اعتناء نہ سمجھا جائے۔
Ayahs 10:94–95

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

پھر اگر آپ کو اس کتاب کے بارے میں کچھ شک ہو جو ہم نے آپ کی طرف نازل 104 کی ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لیجئے جو آپ سے پہلے کتاب (تورات) پڑھتے ہیں۔ یقینا آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے حق آچکا ہے، لہذا آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ ہی ان لوگوں سے ہونا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلا دیا ورنہ نقصان اٹھاؤ گے

104 شک کا علاج اہل علم سے تحقیق کرنا ہے :۔ بظاہر یہ خطاب رسول اللہ کی طرف ہے لیکن اس سے مراد دوسرے لوگ ہیں اور یہ خطاب محض تاکید مزید کی بنا پر ہے وجہ یہ ہے کہ ہر نبی منزل من اللہ وحی پر سب سے پہلے خود ایمان لاتا ہے پھر دوسروں کو دعوت دیتا ہے اور شک اور ایمان دو بالکل متضاد چیزیں ہیں۔ آپ بھلا اس بات میں کیسے شک کرسکتے تھے جس کی تمام دنیا کو دعوت دے رہے تھے اور سننے والوں کے دلوں میں بھی پہاڑ سے زیادہ مضبوط یقین پیدا کردیتے تھے اب اگر اللہ کی نازل کردہ وحی میں کسی شخص کو شک پیدا ہو کہ آیا یہ واقعی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے یا نہیں تو اس کا علاج یہ نہیں کہ وہ شک میں ہی پڑا رہے بلکہ یہ ہے کہ جن لوگوں پر سابقہ آسمانی کتابیں نازل ہوئی ہیں اور وہ ان کتابوں کو پڑھتے بھی ہیں۔ یعنی یہود و نصاریٰ ان سے پوچھ کر اپنا شک دور کرسکتا ہے۔ اگرچہ یہود و نصاریٰ کی اکثریت ایسی تھی جو آپ پر ایمان نہیں لائے تھے تاہم ان میں کچھ انصاف پسند لوگ بھی موجود تھے جن میں سے کچھ ایمان لے آئے اور بعض نے بعض دوسری وجوہ کی بنا پر قبول نہیں کیا تھا پھر چونکہ اصولی لحاظ سے سب آسمانی کتابوں کی تعلیم ملتی جلتی ہے لہذا اہل کتاب میں سے بھی منصف لوگ یہ شہادت دے دیتے تھے کہ فی الواقع یہ آسمانی کتاب ہے۔ اور آپ کے اور صحابہ کے شک نہ کرنے کا عملی ثبوت یہ ہے کہ آپ نے یا صحابہ نے کبھی اہل کتاب سے یہ بات نہ پوچھی۔
Ayahs 10:96–97

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

جن لوگوں پر آپ کے پروردگار کا حکم (عذاب) ثابت ہوچکا ہے وہ 105 ایمان نہیں لائیں گے

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

خواہ ان کے پاس کوئی بھی معجزہ آجائے تاآنکہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں

105 شک کے مرتکب :۔ شک اور تکذیب کے کئی مراحل ہیں سب سے پہلے شک پیدا ہوتا ہے اگر اس کا ازالہ نہ کیا جائے اور شک ترقی کرکے جدل کی صورت اختیار کرلیتا ہے یعنی ایسا شخص دلیل بازیوں پر اتر آتا ہے اور دوسروں سے جھگڑا شروع کردیتا ہے۔ پھر اس کے بعد تکذیب کا درجہ آتا ہے یعنی ایسا انسان یکسر اللہ کی آیات کا انکار کردیتا ہے پھر جب وہ اس تکذیب میں پختہ ہوجاتا ہے تو پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ کوئی حق بات قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس سے قبول حق کی استعداد ہی چھن جاتی ہے۔ مہر کب لگتی ہے ؟ یہی وہ کیفیت ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر مہر لگنے سے تعبیر فرمایا ہے ایسے لوگوں کو اللہ کی کوئی بھی نشانی یا معجزہ راہ راست کی طرف لانے میں ممد ثابت نہیں ہوسکتا وہ بس اس وقت ہی ایمان لاتے ہیں جب کوئی جان لیوا عذاب دیکھ لیتے ہیں جیسے فرعون جب غرق ہونے لگا تھا تو اس وقت ایمان لایا تھا۔
Ayah 10:98

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

پھر کیا یونس کی قوم کے سوا کوئی ایسی مثال ہے کہ کوئی قوم (عذاب دیکھ کر) ایمان لائے تو اس کا ایمان اسے فائدہ دے ؟ جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوائی کا عذاب دور کردیا 106 اور ایک مدت تک انھیں سامان زیست سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا

106 سیدنایونس کا مرکز تبلیغ نینوا :۔ سیدنا یونس (علیہ السلام) کا ذکر یہاں پہلی دفعہ آیا ہے اور غالباً اسی وجہ سے اس سورة کا نام سورة یونس ہے البتہ آگے تین مقامات پر بھی اجمالی ذکر ہوگا یعنی سورة انبیاء کی آیات 87۔ 88 میں اور سورة الصافات کی آیات 139 تا 148 میں اور سورة قلم کی آیات 48 تا 50 میں، آپ تقریباً آٹھ سو سال قبل مسیح اہل نینوا کی طرف مبعوث ہوئے۔ نینوا اس زمانے میں دریائے دجلہ کے کنارے ایک بہت بڑا اور بارونق شہر تھا اور اس شہر کے کھنڈرات موجودہ شہر موصل (عراق) کے عین مقابل پائے جاتے ہیں یہی شہر اشوریوں (قوم یونس) کا دارالسلطنت تھا اور اس کے کھنڈرات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شہر تقریباً ساٹھ مربع میل میں پھیلا ہوا تھا۔ یونس (علیہ السلام) کا فرار اور عذاب کا ٹل جانا :۔ اشوری لوگ بھی بت پرست تھے سیدنا یونس نے سات سال تک انھیں تبلیغ کی اور اللہ کا پیغام پہنچایا مگر ان پر کچھ بھی اثر نہ ہوا اور اپنے نبی کی تکذیب اور مخالفت پر کمر بستہ رہے ایسے سرکش اور ہٹ دھرم لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ یہی ہے کہ ان پر عذاب نازل کرکے انھیں تباہ و برباد کردے اور ایسے عذاب سے انبیاء اپنی اپنی سرکش قوموں کو ڈراتے بھی رہے ہیں۔ سیدنا یونس (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے مایوس ہو کر اور تنگ آکر انھیں ایک معینہ وقت پر (بعض روایات کے مطابق 3 دن اور بعض روایات کے مطابق چالیس دن بعد) عذاب نازل ہونے کی دھمکی دے دی حالانکہ معین وقت کی قید کے ساتھ عذاب کی دھمکی دینا اللہ تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے۔ اس قوم نے پھر بھی کوئی پرواہ نہ کی اور جب عذاب آنے کے موعودہ وقت میں ایک آدھ دن باقی رہ گیا اور عذاب کے آثار نظر نہ آئے تو سیدنا یونس اللہ کے اذن کے بغیر وہاں سے چل کھڑے ہوئے کہ مبادا عذاب نہ آئے اور ان لوگوں کی نظروں میں جھوٹے ثابت ہوں۔ آپ کا اس طرح بلا حکم الٰہی نکل کھڑے ہونا بھی اگرچہ اللہ کی رضا کے خلاف تھا تاہم آپ کو سچا کرنے کی خاطر معینہ وقت پر عذاب آگیا، سیاہ بادل چھا گئے اور تاریک دھواں اس قوم کے گھروں کی طرف بڑھنے لگا اس وقت لوگوں نے سیدنا یونس کو تلاش کرنا شروع کیا اور جب وہ نہ ملے تو خود اپنے بال بچوں بلکہ حیوانوں سمیت ایک وسیع میدان میں اکٹھے ہوگئے اور اللہ کے حضور اپنے گناہوں کا اعتراف اور آہ وزاری کرنے لگے اور اس گریہ وزاری میں اتنا مبالغہ کیا کہ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی اور ان پر واقع ہونے والے عذاب سے انھیں نجات دے دی۔ اللہ کی سنت جاریہ میں استثناء کی یہ واحد مثال ہے کہ اس قوم پر سے آنے والے عذاب کو روک دیا گیا۔ عذاب کے ٹلنے کی وجوہ :۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس قوم سے یہ امتیازی اور استثنائی سلوک کیوں ہوا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ امتیازی سلوک بھی اللہ کے ایک دوسرے قانون کے مطابق ہوا تھا جو یہ تھا کہ سیدنا یونس امر الٰہی کے بغیر انھیں چھوڑ کر چلے گئے اور ابھی ان پر اتمام حجت کا وقت پورا نہیں ہوا تھا اور اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جس انداز سے ان لوگوں نے اللہ کے حضور آہ ورازی کی اور اپنے گناہوں سے توبہ کی اس طرح پہلے کسی قوم نے نہ کی تھی۔ واللہ اعلم بالصواب
Ayah 10:99

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین میں موجود ہیں سب کے سب ایمان لے آتے، پھر کیا آپ لوگوں کو مجبور کریں گے کہ 107 وہ ایمان لے آئیں۔

107 یعنی رسول اللہ کی یہ تو انتہائی خواہش تھی کہ سب کے سب لوگ ہی ایمان لے آئیں اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا کر بھی سکتا تھا مگر یہ بات اللہ کی مشیئت کے خلاف ہے۔ اللہ کی مشیئت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں علی وجہ البصیرت اور اپنے اختیار و ارادہ کو پوری آزادی کے ساتھ استعمال کرکے لائیں لہذا آپ کی یہ ذمہ داری نہیں کہ کسی کو ایمان لانے پر مجبور کریں اور نہ ہی آپ کو ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے کچھ رنج کرنے یا پریشان ہونے کی ضرورت ہے۔
Ayah 10:100

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

کسی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر ایمان لائے اور اللہ تو ان لوگوں پر گندگی ڈالتا ہے جو عقل 108 سے کام نہیں لیتے

108 اللہ کے اذن کا مفہوم :۔ یعنی اللہ کی توفیق اور منظوری کے بغیر کسی کو ایمان کی نعمت نصیب نہیں ہوتی اور یہ توفیق صرف اس شخص کو نصیب ہوتی ہے جو حق کی تلاش میں اپنی عقل سے کام لے اور اسے حق کی تلاش کی فکر دامن گیر ہو۔ اور وہ ہر طرح کے تعصبات اور خارجی نظریات سے ذہن کو پاک کرکے اللہ کی آیات میں خالی الذہن ہو کر غور و فکر کرے اور جو شخص اس انداز سے حق کا متلاشی ہو تو اللہ تعالیٰ یقیناً اسے حق کی راہ دکھا دیتا ہے اور ایمان لانے کی توفیق بھی بخشتا ہے اور اسی کا نام اللہ کا اذن ہے لیکن جو شخص آبائی تقلید، مذہبی تعصبات اور خارجی نظریات سے بالا تر ہو کر کچھ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہ کرے اسے اللہ، ایمان کی نعمت نصیب نہیں کرتا۔ اس کی قسمت میں جہالت، گمراہی، غلط کاری، غلط بینی اور کفر و شرک کی نجاستوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
Ayah 10:101

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے کہ : ذرا دیکھو تو آسمان اور زمین میں کچھ (نشانیاں) ہیں۔ مگر جو لوگ ایمان لانا ہی نہ چاہیں، یہ نشانیاں اور تنبی ہیں ان کے کس کام 109 آسکتی ہیں ؟

109 ضد اور تعصب کی موجودگی میں اللہ کی کوئی نشانی فائدہ نہیں دیتی :۔ جو لوگ اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر کرتے ہیں ان کے لیے تو کائنات کی ایک ایک چیز میں اللہ کی معرفت کے دلائل مل سکتے ہیں حتیٰ کہ درختوں کے پتے، پھولوں کی مہک اور ان کے مختلف رنگ اور شکلیں بھی اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر بیشمار دلائل پیش کر رہی ہیں اور جو لوگ غور و فکر کے بجائے ہٹ دھرمی ضد اور تعصب سے کام لیتے ہیں ان کے لیے حسی معجزے بھی بیکار ثابت ہوتے ہیں وہ انھیں بھی دیکھ کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو محض جادو کی کرشمہ سازیاں ہیں ان کے لیے نہ کوئی نصیحت کارگر ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت کا خوف انھیں ایمان لانے پر آمادہ کرسکتا ہے۔
Ayah 10:102

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان پر ویسے ہی (برے) دن آئیں۔ جیسے ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں پر آچکے ہیں ؟ آپ ان سے کہئے : اچھا تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے 110 ساتھ انتظار کرتا ہوں

110 ایسے لوگ اس وقت تک ایمان لانے پر آمادہ نہیں ہوتے جب تک کہ وہ عذاب کی شکل میں اپنی موت کو اپنے سامنے دیکھ نہ لیں۔ سابقہ اقوام کے انجام سے عبرت حاصل کرنا ان کے لیے خارج از بحث ہوتا ہے کیونکہ وہ ایسے انجام کی بھی مادی توجیہات تلاش کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں لہذا ایسے لوگوں کو سمجھانا بھی بےسود ہی ثابت ہوتا ہے ایسے لوگوں کو یہی جواب مناسب ہوتا ہے کہ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی انتظار کرتا ہوں تاآنکہ اللہ تعالیٰ خود ہی ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کی کوئی ایسی صورت پیدا کر دے جس سے ہر ایک کو یہ معلوم ہوجائے کہ دونوں فریقوں میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون ؟ اور ایسا فیصلہ عموماً منکرین حق پر عذاب الٰہی کی صورت میں ہی ہوا کرتا ہے۔
Ayah 10:103

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر ہم رسولوں اور ایمان لانے والوں کو بچا لیتے ہیں۔ یہی ہمارا طریقہ ہے کہ مومنوں کو بچا لینا 111 ہمارے ذمہ ہوتا ہے

111 رسول پر ایمان لانے والوں کو عذاب سے بچانا اللہ کی ذمہ داری ہے :۔ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہ دستور رہا ہے کہ جب کسی مجرم قوم پر اپنے رسول کی تکذیب کی وجہ سے عذاب نازل کرتا ہے تو وہ وحی کے ذریعہ اس عذاب کی آمد سے رسول کو مطلع کردیتا ہے اور اس عذاب سے بچاؤ کی صورت بھی سمجھا دیتا ہے۔ اس طرح رسول اور اس پر ایمان لانے والے تو اس عذاب سے بچ جاتے ہیں اور مجرمین اس عذاب سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اس آیت میں دراصل اہل مکہ کو انتباہ ہے جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی مخالفت میں، اسلام کی راہ روکنے اور مسلمانوں کو اذیتیں پہنچانے میں اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے تھے اور انھیں بتلانا یہ مقصود تھا کہ تمہارا بھی وہی حشر ہونے والا ہے جو سابقہ مجرموں کا ہوچکا ہے اور ان کمزور اور ستم رسیدہ مسلمانوں کو تمہاری چیرہ دستیوں سے بچانا اور انھیں تم پر غالب کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
Ayah 10:104

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے : لوگو ! اگر میرے دین کے بارے میں تمہیں شک ہے تو میں ان کی عبادت نہ کروں گا۔ جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر کر رہے ہو۔ میں تو اسی اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں 112 وفات دیتا ہے اور مجھے یہی حکم ہوا کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوجاؤں

112 موت سے متعلق تین حقائق :۔ موت کے متعلق چند ایسے اٹل حقائق ہیں جن کا کوئی بھی انسان انکار نہیں کرسکتا خواہ وہ مومن ہو یا مشرک ہو یا دہریہ اور نیچری ہو۔ ایک یہ کہ ہر ذی روح کو موت آکے رہے گی کوئی انسان موت کی گرفت سے آج تک نہ بچ سکا ہے اور نہ بچ سکتا ہے دوسری یہ کہ جب موت کا وقت آجائے تو اسے ٹالا نہیں جاسکتا۔ اور تیسری یہ کہ موت ہر ذی روح کے لیے ناگوار ہوتی ہے اور کوئی بھی مرنا پسند نہیں کرتا۔ الا یہ کہ مومنوں کو موت کے وقت آئندہ کے بہتر انجام کی خوشخبری دی جاتی ہے یا انھیں جنت میں ان کا مقام دکھلا دیا جاتا ہے جس کی بنا پر وہ موت کو برضاء ورغبت قبول کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں جیسا کہ سیدۃ عائشہ ؓ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے اور ان تینوں حیثیتوں کو مشرکین مکہ بھی تسلیم کرتے تھے بالخصوص اس حقیقت کو کہ موت کو ان کے معبود ٹال نہیں سکتے نیز یہ کہ موت اور زندگی کا رشتہ سرتا سر خالص اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ معبودان باطلہ کی اقسام اور ان کی بےبسی :۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ جن چیزوں کو معبود یا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جاتا رہا ہے۔ ان کی تین ہی قسمیں ہوسکتی ہیں ایک توہماتی ارواح جیسے جن، فرشتے مختلف سیاروں یا بزرگوں کی ارواح، ایسی چیزوں کو معبود یا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے کی بنیاد محض انتہائی توہمات ہیں۔ دوسرے بےجان معبود جیسے بت مجسمے اور شجر و حجر وغیرہ اور تیسرے پیر و مشائخ وغیرہ۔ ان میں سے بےجان تو محض توہماتی چیزیں ہیں رہے پیرو مشائخ جنہیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جاتا ہے۔ ان کے متعلق بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہوں نے اپنے آپ کو موت جیسی ناگوار چیز کی گرفت سے بچا لیا تھا یا اس کے وقت کو مؤخر کرنے میں وہ کامیاب ہوگئے تھے ؟ اور اگر وہ اپنی بھی مصیبت دور نہیں کرسکے تو دوسروں کی کیسے دور کرسکتے ہیں ؟ زندگی اور موت پر اللہ کے سوا کسی معبود کا اختیار نہیں چلتا :۔ اسی حوالہ سے مشرکوں کو انتباہ کیا جارہا ہے اور پیغمبر کی زبان سے یہ کہلوایا جارہا ہے کہ آپ انھیں کہیے کہ میں صرف اسی ہستی کی پرستش کرتا ہوں جس کے قبضہ قدرت میں تمہاری جانیں ہیں تمہاری جانوں پر تمہارے تمام معبودوں میں سے کسی کا بھی تصرف نہیں چلتا تو پھر میں آخر اسی اکیلے معبود کی کیوں نہ پرستش کروں جو میری اور تمہاری سب کی جانوں پر پورا پورا تصرف رکھتا ہے ہم سب کی زندگی اور موت کی باگ ڈور خالصتاً اسی کے ہاتھ میں ہے اور کان کھول کر سن لو کہ جن معبودوں کی تم پرستش کرتے ہو میں ایسے بےبس اور لاچار معبودوں کی کبھی پرستش کا خیال تک بھی دل میں نہیں لاسکتا۔
Ayah 10:105

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

نیز یہ کہ آپ یکسو ہو کر اسی دین (اسلام) کی طرف اپنا رخ قائم رکھئے اور مشرکوں 113 سے نہ ہونا

113 ہدایت کے حصول کے لئے تین ہدایات :۔ اس آیت اور اس سے اگلی دو آیات میں بھی خطاب بظاہر رسول اللہ کو ہے جبکہ یہ ارشادات عام لوگوں اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے ہیں اس لیے کہ نبی کی دعوت کا تو آغاز ہی شرک کی تردید سے ہوتا ہے اور اس کی نبوت سے پہلے کی زندگی بھی شرک سے مبرا ہوتی ہے اور قرآن کریم میں یہ انداز تاکید مزید کے لیے اختیار کیا گیا ہے اور ارشاد یہ ہو رہا ہے کہ دین اسلام کا جو راستہ اللہ تعالیٰ نے بتلایا اور دکھلایا ہے بالکل ناک کی سیدھ اسی پر چلتے جائیے دائیں بائیں یا آگے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ کی سیدھی راہ کے علاوہ ادھر ادھر جتنے راستے ہیں سب شیطانی راہیں ہیں۔ دوسری ہدایت یہ ہے کہ اس راہ پر ہر قسم کے قبائلی تعصبات جاہلانہ اور مشرکانہ رسم و رواج، مذہبی تعصبات اور خارجی یا سابقہ نظریات کو بالکل چھوڑ چھاڑ کر اور یکسو ہو کر چلنا ہوگا اور تیسری ہدایت یہ ہے کہ بالخصوص مشرکانہ عقائد اور رسم و رواج، ان کے عادات و خصائل اور کردار سب سے پاک صاف رہ کر اللہ کی راہ کو اختیار کرنا ہوگا۔
Ayah 10:106

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا کسی کو مت پکاریں جو نہ آپ کو کچھ فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان اگر آپ ایسا کریں گے تو تب یقینا ظالموں 114 سے ہوجائیں گے

114 مشرک کی عام فہم تعریف کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا :۔ انسان جب بھی کسی ہستی یا معبود کو پکارتا ہے تو اس سے اس کی اغراض دو ہی قسم کی ہوسکتی ہیں یا تو کسی ایسے کام کے لیے پکارے گا جس سے اسے کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہو جیسے اولاد یا رزق کی طلب یا کسی ایسے کام کے لیے پکارے گا جس سے اس کی کوئی مصیبت یا تکلیف دور ہوسکتی ہو۔ اصطلاح عام میں ان دونوں اغراض کو جلب منفعت اور دفع مضرت اور آسان تر الفاظ میں حاجت روائی اور مشکل کشائی کہا جاتا ہے اور ان دونوں طرح کے اغراض کے لیے اللہ کے سوا کسی کو پکارنا ہی اس کی عبادت ہوتی ہے اور اس مضمون پر کتاب و سنت میں بیشمار دلائل موجود ہیں۔ اور یہی بات سب سے بڑا شرک یا ظلم عظیم ہوتا ہے۔
Ayah 10:107

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ آپ کو کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور آپ سے کوئی بھلائی کرنا چاہے تو کوئی اسے ٹالنے والا 115 نہیں، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس (فضل) سے نوازتا ہے اور وہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے

115 عام فہم دلائل سے شرک کی تردید :۔ اس آیت میں حاجت روائی اور مشکل کشائی کی حقیقت یوں واضح کی گئی ہے کہ یہ دونوں باتیں خالصتاً اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ ئقدرت میں ہیں یعنی اگر کوئی تکلیف تمہارے مقدر میں لکھی ہوئی ہے تو کوئی جن یا فرشتہ یا نبی اور بزرگ پیر فقیر یا کوئی اور آستانہ مافوق الفطرت اسباب کے ذریعہ اس کو دور نہیں کرسکتا۔ ما فوق الفطرت اور فطری اسباب کے نتائج اللہ کے اختیار میں ہیں :۔ اسی طرح اللہ اگر کسی پر کوئی بھلائی کرنا چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت مافوق الفطرت اسباب سے اسے روک نہیں سکتی یہاں تک تو معبودان باطل کے تصرف کی تردید کا تعلق ہے اور فطری اسباب کے تحت بھی حاجت روائی اور مشکل کشائی بظاہر نظر آ تو رہی ہوتی ہے مگر اس کی تکمیل اسی صورت میں ہوتی ہے جب کہ اللہ کی طرف سے اذن بھی ہو اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک مریض ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے جو نہایت احتیاط کے ساتھ اس کا علاج کرتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی شفا اسی صورت میں ہوگی جب اللہ کو منظور ہوگا ورنہ نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر ایک کسان پوری احتیاط سے اچھی قسم کا بیج بوتا اور اپنی فصل کی پوری طرح آبیاری اور نگہداشت کرتا ہے مگر پکی ہوئی فصل کا اسے ملنا یا نہ مل سکنا یا تھوڑی ملنا یا زیادہ ملنا یہ سب کچھ اللہ کے اذن پر موقوف ہے توحید کو سمجھنے میں یہ عقیدہ اس قدر ہمہ گیر ہے کہ اس سے ہر قسم کے شرک کی جڑ کٹ جاتی ہے۔
Ayah 10:108

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے : لوگو ! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق آچکا، اب جو راہ راست 116 اختیار کرتا ہے تو یہ راست روی اس کے اپنے ہی لئے مفید ہے۔ اور اگر کوئی گمراہ ہوتا ہے تو اس کی گمراہی کا وبال بھی اسی پر ہے اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں

116 ہدایت کے تین اصول ہدایت قبول کرنے کے فوائد :۔ گویا مندرجہ بالا تین آیات میں مجملاً ہدایت کا مفہوم بیان کردیا گیا ہے جو درج ذیل اصولوں پر مشتمل ہے ہر طرح کے شرک سے مکمل اجتناب، خالصتاً اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھنا اور اسے نفع و نقصان کا مالک سمجھنا اور منزل من اللہ شریعت پر ادھر ادھر دیکھے بغیر پوری یکسوئی کے ساتھ گامزن ہوجانا اور ایسی ہدایت اختیار کرنے والے کو دنیا میں تو یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ کے لیے اسے مکمل رہنمائی حاصل ہوجاتی ہے اور اسے بیرونی نظریات اور فلسفوں کی ضرورت نہیں رہتی اور زندگی ذمہ دارانہ اور پرسکون طور پر گزرتی ہے اور آخرت میں یقیناً فلاح نصیب ہوگی اور جو شخص ایسی ہدایت کو اختیار نہیں کرتا وہ ساری زندگی ادھر ادھر لڑھکتا ہی رہتا ہے اسے دنیا تو اتنی مل ہی جاتی ہے جتنی اس کے نصیب میں ہوتی ہے مگر سکون نہیں مل سکتا اور آخرت میں اس کی تباہی و بربادی یقینی ہے اور اس تباہی کا ذمہ دار وہ خود ہوتا ہے۔
Ayah 10:109

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

آپ کی طرف جو وحی کی جاتی ہے اس کی اتباع کیجئے اور صبر کیجئے تاآنکہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کردے 117 اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

117 یہ سورة مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی تھی جبکہ مسلمانوں پر کفار کے شدائد و مظالم کی انتہا ہوچکی تھی اور بعض جرأت مند صحابہ کی خواہش کے باوجود ابھی تک مسلمانوں کو جہاد کرنے کی بھی اجازت نہیں ملی تھی لہذا اس سورة کے اختتام پر ایک دفعہ پھر آپ کو اور مسلمانوں کو ابھی سب کچھ صبر کے ساتھ برداشت کرنے اور وحی کی اتباع کرنے کی تلقین کی جارہی ہے اور ساتھ ہی انھیں اچھے دنوں کی آمد کی خوشخبری بھی دی جارہی ہے۔