Ayah 7:73سورة الْاَعْرَاف 57
یہ عرب کی قدیم ترین اقوام میں سے دوسری قوم ہے جو عاد کے بعد سب سے زیادہ مشہور و معروف ہے۔ نزول قرآن سے پہلے اس کے قصّے اہل عرب میں زباں زد عام تھے۔ زمانہ جاہلیت کے اشعار اور خطبوں میں بکثرت اس کا ذکر ملتا ہے۔ اسیریا کے کتبات اور یونان، اسکندریہ اور روم کے قدیم مورخین اور جغرافیہ نویس بھی اس کا ذکر کرتے ہیں۔ مسیح ؑ کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے تک اس قوم کے کچھ بقایا موجود تھے، چناچہ رومی مورخین کا بیان ہے کہ یہ لوگ رومن افواج میں بھرتی ہوئے اور نبطیوں کے خلاف لڑے جن سے ان کی دشمنی تھی۔
اس قوم کا مسکن شمالی مغربی عرب کا وہ علاقہ تھا جو آج بھی الحَجِر کے نام سے موسوم ہے۔ موجودہ زمانہ میں مدینہ اور تبوک کے درمیان حجاز ریلوے پر ایک اسٹیشن پڑتا ہے جسے مدائنِ صالح کہتے ہیں۔ یہی ثمود کا صدر مقام تھا اور قدیم زمانہ میں حجر کہلاتا تھا۔ اب تک وہاں ہزاروں ایکڑ کے رقبے میں وہ سنگین عمارتیں موجود ہیں جن کو ثمود کے لوگوں نے پہاڑوں میں تراش تراش کر بنایا تھا اور اس شہر خموشاں کو دیکھ کر اندازہ کیا جاتا ہے کہ کسی وقت اس شہر کی آبادی چار پانچ لاکھ سے کم نہ ہوگی۔ نزول قرآن کے زمانے میں حجاز کے تجارتی قافلے ان آثار قدیمہ کے درمیان سے گزرا کرتے تھے۔ نبی ﷺ غزوہ تبوک کے موقع پر جب ادھر سے گزرے تو آپ نے مسلمانوں کو یہ آثار عبرت دکھائے اور وہ سبق دیا جو آثار قدیمہ سے ہر صاحب بصیرت انسان کو حاصل کرنا چاہیے۔ ایک جگہ آپ نے ایک کنویں کی نشان دہی کر کے بتایا کہ یہی وہ کنواں ہے جس سے حضرت صالح کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور مسلمانوں کو ہدایت کی کہ صرف اسی کنویں سے پانی لینا، باقی کنووں کا پانی نہ پینا۔ ایک پہاڑی درے کو دکھا کر آپ نے بتایا کہ اسی درے سے وہ اونٹنی پانی پینے کے لیے آتی تھی۔ چناچہ وہ مقام آج بھی فَجُّ الناقہ کے نام سے مشہور ہے۔ ان کے کھنڈروں میں جو مسلمان سیر کرتے پھر رہے تھے ان کو آپ نے جمع کیا اور ان کے سامنے ایک خطبہ دیا جس میں ثمود کے انجام پر عبرت دلائی اور فرمایا کہ یہ اس قوم کا علاقہ ہے جس پر خدا کا عذاب نازل ہوا تھا، لہٰذا یہاں سے جلدی گزر جاؤ، یہ سیرگاہ نہیں ہے بلکہ رونے کا مقام ہے۔
سورة الْاَعْرَاف 58
ظاہر عبارت سے محسوس ہوتا ہے کہ پہلے فقرے میں اللہ کی جس کھلی دلیل کا ذکر فرمایا گیا ہے اس سے مراد یہی اونٹنی ہے جسے اس دوسرے فقرے میں ”نشانی“ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سورة شعراء آیات 54 تا 158 میں تصریح ہے کہ ثمود والوں نے خود ایک ایسی نشانی کا حضرت صالح سے مطالبہ کیا تھا جو ان کے مامور من اللہ ہونے پر کھلی دلیل ہو، اور اسی جواب میں حضرت صالح نے اونٹنی کو پیش کیا تھا۔ اس سے یہ بات تو قطعی طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ اونٹنی کا ظہور معجزے کے طور پر ہوا تھا اور یہ اسی نوعیت کے معجزات میں سے تھا جو بعض انبیاء نے اپنی نبوت کے ثبوت میں منکرین کے مطالبہ پر پیش کیے ہیں۔ نیز یہ بات بھی اس اونٹنی کی معجزانہ پیدائش پر دلیل ہے کہ حضرت صالح نے اسے پیش کرکے منکرین کو دھمکی دی کہ بس اب اس اونٹنی کی جان کے ساتھ تمہاری زندگی معلق ہے۔ یہ آزادانہ تمہاری زمینوں میں چرتی پھرے گی۔ ایک دن یہ اکیلی پانی پئیے گی اور دوسرے دن پوری قوم کے جانور پئیں گے۔ اور اگر تم نے اسے پاتھ لگایا تو یکایک تم پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے گا۔ ظاہر ہے کہ اس شان کے ساتھ وہی چیز پیش کی جاسکتی تھی جس کا غیر معمولی ہونا لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہو۔ پھر یہ بات کہ ایک کافی مدّت تک یہ لوگ اس کے آزادانہ چرنے پھرنے کو اور اس بات کو کہ اک دن تنہا وہ پانی پیئے اور دوسرے دن ان سب کے جانور پئیں، بادل ناخواستہ برداشت کرتے رہے اور آخر بڑے مشوروں اور سازشوں کے بعد انہوں نے اسے قتل کیا، درآں حالیکہ حضرت صالح کے پاس کوئی طاقت نہ تھی جس کا انہیں کوئی خوف ہوتا، اس حقیقت پر مزید دلیل ہے کہ وہ لوگ اس اونٹنی سے خوف زدہ تھے اور جانتے تھے کہ اس کے پیچھے ضرور کوئی زور ہے جس کے بل پر وہ ہمارے درمیان دندناتی پھرتی ہے۔ مگر قرآن اس امر کی کوئی تصریح نہیں کرتا کہ یہ اونٹنی کیسی تھی اور کس طرح وجود میں آئی۔ کسی حدیث صحیح میں بھی اس کے معجزے کے طور پر پیدا ہونے کی کیفیت بیان نہیں کی گئی ہے۔ اس لیے ان روایات کو تسلیم کرنا کچھ ضروری نہیں جو مفسرین نے اس کی کیفیت پیدائش کے متعلق نقل کی ہیں۔ لیکن یہ بات کہ وہ کسی نہ کسی طور پر معجزے کی حیثیت رکھتی تھی، قرآن سے ثابت ہے۔
Ayah 7:74سورة الْاَعْرَاف 59
ثمود کی یہ صنعت ویسی ہی تھی جیسی ہندوستان میں ایلورا، ایجنٹہ اور بعض دوسرے مقامات پر پائی جاتی ہے، یعنی وہ پہاڑوں کو تراش کر ان کے اندر بڑی بڑی عالی شان عمارتیں بناتے تھے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ مدائن صالح میں اب تک ان کی کچھ عمارتیں جوں کی توں موجود ہیں اور ان کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس قوم نے انجینیری میں کتنی حیرت انگیز ترقی کی تھی۔
سورة الْاَعْرَاف 60
یعنی عاد کے انجام سے سبق لو۔ جس خدا کی قدرت نے اس مفسد قوم کو برباد کر کے تمہیں اس کی جگہ سر بلند کیا، وہی خدا تمہیں برباد کر کے دوسروں کو تمہارا جانشین بنا سکتا ہے اگر تم بھی عاد کی طرح مفسد بن جاؤ۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ 52)
Ayahs 7:75–77سورة الْاَعْرَاف 61
اگرچہ مارا ایک شخص نے تھا، جیسا کہ سورة قمر اور سورة شمس میں ارشاد ہوا ہے، لیکن چونکہ پوری قوم اس مجرم کی پشت پر تھی اور وہ دراصل اس جرم میں قوم کی مرضی کا آلہ کار تھا اس لیے الزام پوری قوم پر عائد کیا گیا ہے۔ ہر وہ گناہ جو قوم کی خواہش کے مطابق کیا جائے، یا جس کے ارتکاب کو قوم کی رضا اور پسندیدگی حاصل ہو، ایک قومی گناہ ہے، خواہ اس کا ارتکاب کرنے والا ایک فرد واحد ہو۔ صرف یہی نہیں، بلکہ قرآن کہتا ہے کہ جو گناہ قوم کے درمیان علی الاعلان کیا جائے اور قوم اسے گوارا کرے وہ بھی قومی گناہ ہے۔
Ayah 7:78سورة الْاَعْرَاف 62
اس آفت کو یہاں ”رجفہ“ (اضطراب انگیز، ہلا مارنے والی) کہا گیا ہے اور دوسرے مقامات پر اسی کے لیے صَیْحَةَ (چیخ) ، ”صاعقہ“ (کڑاکا) اور ”طاغیہ“ (سخت زور کی آواز) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔
Ayahs 7:79–80سورة الْاَعْرَاف 63
یہ قوم اس علاقہ میں رہتی تھی جسے آج کل شرق اردن (Trans Jordan) کہا جاتا ہے اور عراق و فلسطین کے درمیان واقع ہے۔ بائیبل میں اس قوم کے صدر مقام کا نام ”سدوم“ بتایا گیا ہے جو یا تو بحیرہ مردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا یا اب بحیرہ مردار میں غرق ہوچکا ہے۔ تَلمود میں لکھا ہے کہ سدوم کے علاوہ ان کے چار بڑے بڑے شہر اور بھی تھے اور ان شہروں کے درمیان کا علاقہ ایسا گلزار بنا ہوا تھا کہ میلوں تک بس ایک باغ ہی باغ تھا جس کے جمال کو دیکھ کر انسان پر مستی طاری ہونے لگتی تھی۔ مگر آج اس قوم کا نام و نشان دنیا سے بالکل ناپید ہوچکا ہے اور یہ بھی متعین نہیں ہے کہ اس کی بستیاں ٹھیک کس مقام پر واقع تھیں۔ اب صرف بحیرہ مردار ہی اس کی ایک یادگار باقی رہ گیا ہے جسے آج تک بحر لوط کہا جاتا ہے۔
حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے۔ اپنے چچا کے ساتھ عراق سے نکلے اور کچھ مدت تک شام و فلسطین و مصر میں گشت لگا کر دعوت تبلیغ کا تجربہ حاصل کرتے رہے۔ پھر مستقل پیغمبری کے منصب پر سرفراز ہو کر اس بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح پر مامور ہوئے۔ اہل سدوم کو ان کی قوم اس لحاظ سے کہا گیا ہے کہ شاید ان کا رشتہ داری کا تعلق اس قوم سے ہوگا۔
یہودیوں کی تحریف کردہ بائیبل میں حضرت لوط کی سیرت پر جہاں اور بہت سے سیاہ دھبے لگائے گئے ہیں وہاں ایک دھبہ یہ بھی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم ؑ سے لڑ کر سدوم کے علاقے میں چلے گئے تھے (پیدائش، باب 13۔ آیت 1۔ 12)۔ مگر قرآن اس غلط بیانی کی تردید کرتا ہے۔ اس کا بیان یہ ہے کہ اللہ نے انہیں رسول بنا کر اس قوم کی طرف بھیجا تھا۔
Ayah 7:81سورة الْاَعْرَاف 64
دوسرے مقامات پر اس قوم کے بعض اور اخلاقی جرائم کا بھی ذکر آیا ہے، مگر یہاں اس کے سب سے بڑے جرم کے بیان پر اکتفا کیا گیا ہے جس کی وجہ سے خدا کا عذاب اس پر نازل ہوا۔
یہ قابل نفرت فعل جس کی بدولت اس قوم نے شہرت دوام حاصل کی ہے، اس کے ارتکاب سے تو بدکردار انسان کبھی باز نہیں آئے، لیکن یہ فخر صرف یونان کو حاصل ہے کہ اس کے فلاسفہ نے اس گھناؤنے جرم کو اخلاقی خوبی کے مرتبے تک اٹھانے کی کوشش کی اور اس کے بعد جو کسر باقی رہ گئی تھی اسے جدید مغربی تہذیب نے پورا کیا کہ علانیہ اس کے حق میں زبردست پروپیگنڈا کیا گیا، یہاں تک کہ بعض ملکوں کی مجالس قانون ساز نے اسے باقاعدہ جائز ٹھیرا دیا۔ حالانکہ یہ بالکل ایک صریح حقیقت ہے کہ مباشرتِ ہم جنس قطعی طور پر وضع فطرت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام ذی حیات انواع میں نر و مادہ کا فرق محض تناسل اور بقائے نوع کے لیے رکھا ہے اور نوع انسانی کے اندر اس کی مزید غرض یہ بھی ہے کہ دونوں صنفوں کے افراد مل کر ایک خاندان وجود میں لائیں اور اس سے تمدن کی بنیاد پڑے۔ اسی مقصد کے لیے مرد اور عورت کی دو الگ صنفیں بنائی گئی ہیں، ان میں ایک دوسرے کے لیے صنفی کشش پیدا کی گئی ہے، ان کی جسمانی ساخت اور نفسیاتی ترکیب ایک دوسرے کے جواب میں مقاصد زوجیت کے لیے عین مناسب بنائی گئی ہے اور ان کے جذب و انجذاب میں وہ لذت رکھی گئی ہے جو فطرت کے منشاء کو پورا کرنے کے لیے بیک وقت داعی و محرک بھی ہے اور اس خدمت کا صلہ بھی۔ مگر جو شخص فطرت کی اس اسکیم کے خلاف عمل کر کے اپنے ہم جنس سے شہوانی لذت حاصل کرتا ہے وہ ایک ہی وقت میں متعدد جرائم کا مرتکب ہوتا ہے۔ اوّلاً وہ اپنی اور اپنے معمول کی طبعی ساخت اور نفسیاتی ترکیب سے جنگ کرتا ہے اور اس میں خلل عظیم بر پا کردیتا ہے جس سے دونوں کے جسم نفس اور اخلاق پر نہایت برے اثرات مترتب ہوتے ہیں۔ 2 ثانیاً وہ فطرت کے ساتھ غداری و خیانت کا ارتکاب کرتا ہے، کیونکہ فطرت نے جس لذت کو نوع اور تمدن کی خدمت کا صلہ بنایا تھا اور جس کے حصول کو فرائض اور ذمہ داریوں اور حقوق کے ساتھ وابستہ کیا تھا وہ اسے کسی خدمت کی بجا آوری اور کسی فرض اور حق کی ادائیگی اور کسی ذمہ داری کے التزام کے بغیر چرا لیتا ہے۔ 3 ثالثاً وہ انسانی اجتماع کے ساتھ کھلی بددیانتی کرتا ہے کہ جماعت کے قائم کیے ہوئے تمدنی اداروں سے فائدہ تو اٹھا لیتا ہے مگر جب اس کی اپنی باری آتی ہے تو حقوق اور فرائض اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے بجائے اپنی قوتوں کو پوری خود غرضی کے ساتھ ایسے طریقہ پر استعمال کرتا ہے جو اجتماعی تمدن و اخلاق کے لیے صرف غیر مفید ہی نہیں بلکہ ایجاباً مضرت رساں ہے۔ وہ اپنے آپ کو نسل اور خاندان کی خدمت کے لیے نااہل بناتا ہے، اپنے ساتھ کم از کم ایک مرد کو غیر طبعی زنانہ پن میں مبتلا کرتا ہے، اور کم از کم دو عورتوں کے لیے بھی صنفی بےراہ روی اور اخلاقی پستی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
Ayah 7:82سورة الْاَعْرَاف 65
اس سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ صرف بےحیا اور بدکردار اور بداخلاق ہی نہ تھے بلکہ اخلاقی پستی میں اس حد تک گر گئے تھے کہ انہیں اپنے درمیان چند نیک انسانوں اور نیکی کی طرف بلانے والوں اور بدی پر ٹوکنے والوں کا وجود تک گوارا نہ تھا۔ وہ بدی میں یہاں تک غرق ہوچکے تھے کہ اصلاح کی آواز کو بھی برداشت نہ کرسکتے تھے اور پاکی کے اس تھوڑے سے عنصر کو بھی نکال دینا چاہتے تھے جو ان کی گھناؤنی فضا میں باقی رہ گیا تھا۔ اسی حد کو پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے استیصال کا فیصلہ صادر ہوا۔ کیونکہ جس قوم کی اجتماعی زندگی میں پاکیزگی کا ذرا سا عنصر بھی باقی نہ رہ سکے پھر اسے زمین پر زندہ رکھنے کی کوئی وجہ نہیں رہتی۔ سڑے ہوئے پھلوں کے ٹوکرے میں جب تک چند اچھے پھل موجود ہوں اس وقت تک تو ٹوکرے کو رکھا جاسکتا ہے، مگر جب وہ پھل بھی اس میں سے نکل جائیں تو پھر اس ٹوکرے کا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں رہتا کہ اسے کسی گھوڑے پر الٹ دیا جائے۔
Ayah 7:83سورة الْاَعْرَاف 66
دوسرے مقامات پر تصریح ہے کہ حضرت لوط کی یہ بیوی، جو غالباً اسی قوم کی بیٹی تھی، اپنے کافر رشتہ داروں کی ہمنوا رہی اور آخر وقت تک اس نے ان کا ساتھ نہ چھوڑا۔ اس لیے عذاب سے پہلے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط اور ان کے ایمان دار ساتھیوں کو ہجرت کر جانے کا حکم دیا تو ہدایت فرما دی کہ اس عورت کو ساتھ نہ لیا جائے۔
Ayah 7:84سورة الْاَعْرَاف 67
بارش سے مراد یہاں پانی کی بارش نہیں بلکہ پتھروں کی بارش ہے جیسا کہ دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں بیان ہوا ہے۔ نیز یہ بھی قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ان کی بستیاں الٹ دی گئیں اور انہیں تلپٹ کردیا گیا۔
سورة الْاَعْرَاف 68
یہاں اور دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ عمل قوم لوط ایک بدترین گناہ ہے جس پر ایک قوم اللہ تعالیٰ کے غضب میں گرفتار ہوئی۔ اس کے بعد یہ بات ہمیں نبی ﷺ کی رہنمائی سے معلوم ہوئی کہ یہ ایک ایسا جرم ہے جس سے معاشرے کو پاک رکھنے کی کوشش کرنا حکومت اسلامی کے فرائض میں سے ہے اور یہ کہ اس جرم کے مرتکبین کو سخت سزا دی جانی چاہیے۔ حدیث میں مختلف روایات جو حضور ﷺ سے مروی ہیں ان میں سے کسی میں ہم کو یہ الفاظ ملتے ہیں کہ اقتلوا الفاعل و المفعول بِہٖ (فاعل اور مفعول کو قتل کردو)۔ کسی میں اس حکم پر اتنا اضافہ اور ہے کہ احصنا اولم یحصنا (شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ)۔ اور کسی میں ہے فارجموا الاعلی و الاسفل (اُوپر اور نیچے والا، دونوں سنگسار کیے جائیں)۔ لیکن چونکہ نبی ﷺ کے زمانہ میں ایسا کوئی مقدمہ پیش نہیں ہو اس لیے قطعی طور پر یہ بات متعین نہ ہوسکی کہ اس کی سزا کس طرح دی جائے۔ صحابہ کرام میں سے حضرت علی ؓ کی رائے یہ ہے کہ مجرم تلوار سے قتل کیا جائے اور دفن کرنے کے بجائے اس کی لاش جلائی جائے۔ اسی رائے سے حضرت ابوبکر ؓ نے اتفاق فرمایا ہے۔ حضرت عمر اور حضرت عثمان کی رائے یہ ہے کہ کسی بوسیدہ عمارت کے نیچے کھڑا کر کے وہ عمارت اب پر ڈھا دی جائے۔ ابن عباس کا فتویٰ یہ ہے کہ بستی کی سب سے اونچی عمارت پر سے ان کو سر کے بل پھینک دیا جائے اور اوپر سے پتھر برسائے جائیں۔ فقہاء میں سے امام شافعی کہتے ہیں کہ فاعل و مفعول واجب القتل ہیں خواہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ۔ شعبی، زُہری، مالک اور احمد رحمہم اللہ کہتے ہیں کہ ان کی سزا رجم ہے۔ سعید بن مُسَیَّب، عطاء، حسن بصری، ابراہیم نخعی، سفیان ثوری اور اوزاعی رحمہم اللہ کی رائے میں اس جرم پر وہی سزا دی جائے گی جو زنا کی سزا ہے، یعنی غیر شادی شدہ کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور جلا وطن کردیا جائے گا، اور شادی شدہ کو رجم کیا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ کی رائے میں اس پر کوئی حد مقرر نہیں ہے بلکہ یہ فعل تعزیر کا مستحق ہے، جیسے حالات و ضروریات ہوں ان کے لحاظ سے کوئی عبرت ناک سزا اس پر دی جاسکتی ہے۔ ایک قول امام شافعی سے بھی اسی کی تائید میں منقول ہے۔
معلوم رہے کہ آدمی کے لیے یہ بات قطعی حرام ہے کہ وہ خود اپنی بیوی کے ساتھ عمل قوم لوط کرے۔ ابوداؤد میں نبی ﷺ کا یہ ارشاد مروی ہے کہ ملعون من اتی المرٲتہ فی دبرھا (اللہ اس مرد کی طرف ہرگز نظر رحمت سے نہ دیکھے گا جو عورت سے اس فعل کا ارتکاب کرے)۔ ترمذی میں آپ کا یہ فرمان ہے کہ من اتی حائضا او امرٲة فی دبرھا او کا ھنا فصدّقہ فقد کفر بما انزل علیٰ محمّد ﷺ جس نے حائضہ عورت سے مجامعت کی، یا عورت کے ساتھ عمل قوم لوط کا ارتکاب کیا، یا کاہن کے پاس گیا اور اس کی پیشن گوئیوں کی تصدیق کی اس نے اس تعلیم سے کفر کیا جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے)۔
Ayah 7:85سورة الْاَعْرَاف 69
مدین کا اصل علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا مگر جزیرہ نمائے سینا کے مشرقی ساحل پر بھی اس کا کچھ سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ یہ ایک بڑی تجارت پیشہ قوم تھی۔ قدیم زمانہ میں جو تجارتی شاہراہ بحِر احمر کے کنارے یمن سے مکہ اور ینبوع ہوتی ہوئی شام تک جاتی تھی، اور ایک دوسری تجارتی شاہراہ جو عراق سے مصر کی طرف جاتی تھی، اس کے عین چورا ہے پر اس قوم کی بستیاں واقع تھیں۔ اسی بناء پر عرب کا بچہ بچہ مدین سے واقف تھا اور اس کے مٹ جانے کے بعد بھی عرب میں اس کی شہرت برقرار رہی۔ کیونکہ عربوں کے تجارتی قافلے مصر اور شام کی طرف جاتے ہوئے رات دن اس کے آثار قدیمہ کے درمیان سے گزرتے تھے۔
اہل مَدیَن کے متعلق ایک اور ضروری بات، جس کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے، یہ ہے کہ یہ لوگ دراصل حضرت ابراہیم ؑ کے صاحبزادے مدیان کی طرف منسوب ہیں جو ان کی تیسری بیوی قَطُوراء کے بطن سے تھے۔ قدیم زمانہ کے قاعدے کے مطابق جو لوگ کسی بڑے آدمی کے ساتھ وابستہ ہوجاتے تھے وہ رفتہ رفتہ اسی کی آل اولاد میں شمار ہو کر بنی فلاں کہلانے لگتے تھے، اسی قاعدے پر عرب کی آبادی کا بڑا حصہ بنی اسماعیل کہلایا۔ اور اولاد یعقوب کے ہاتھ پر مشرف باسلام ہونے والے لوگ سب کے سب بنی اسرائیل کے جامع نام کے تحت کھپ گئے۔ اسی طرح مدین کے علاقے کی ساری آبادی بھی جو مدیان بن ابراہیم ؑ کے زیر اثر آئی، بنی مدیان کہلائی اور ان کے ملک کا نام ہی مدین یا مدیان مشہور ہوگیا۔۔ اس تاریخی حقیقت کو جان لینے کے بعد یہ گمان کرنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی کہ اس قوم کو دین حق کی آواز پہلی مرتبہ حضرت شعیب کے ذریعہ سے پہنچی تھی۔ درحقیقت بنی اسرائیل کی طرح ابتداء وہ بھی مسلمان ہی تھے اور شعیب ؑ کے ظہور کے وقت ان کی حالت ایک بگڑی ہوئی مسلمان قوم کی سی تھی جیسی ظہور موسیٰ ؑ کے وقت بنی اسرائیل کی حالت تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ کے بعد چھ سات سو برس تک مشرک اور بداخلاق قوموں کے درمیان رہتے رہتے یہ لوگ شرک بھی سیکھ گئے تھے اور بداخلاقیوں میں بھی مبتلا ہوگئے تھے، مگر اس کے باوجود ایمان کا دعویٰ اور اس پر فخر برقرار تھا۔
سورة الْاَعْرَاف 70
اس سے معلوم ہوا کہ اس قوم میں دو بڑی خرابیاں پائی جاتی تھی۔ ایک شرک، دوسرے تجارتی معاملات میں بددیانتی۔ اور انہی دونوں چیزوں کی اصلاح کے لیے حضرت شعیب مبعوث ہوئے تھے۔
سورة الْاَعْرَاف 71
اس فقرے کی جامع تشریح اس سورة اعراف کے حواشی 44، 45 میں گزر چکی ہے۔ یہاں خصوصیت کے ساتھ حضرت شعیب کے اس قول کا ارشاد اس طرح ہے کہ دین حق اور اخلاق صالحہ پر زندگی کا جو نظام انبیائے سابقین کی ہدایت و رہنمائی قائم ہوچکا تھا، اب تم اسے اپنی اعتقادی گمراہیوں اور اخلاقی بدراہیوں سے خراب نہ کرو۔
سورة الْاَعْرَاف 72
اس فقرے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود مدعی ایمان تھے۔ جیسا کہ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں، یہ دراصل بگڑے ہوئے مسلمان تھے اور اعتقادی و اخلاقی فساد میں مبتلا ہونے کے باوجود ان کے اندر نہ صرف ایمان کا دعویٰ باقی تھا بلکہ اس پر انہیں فخر بھی تھا۔ اسی لیے حضرت شعیب نے فرمایا کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارے نزدیک خیر اور بھلائی راستبازی اور دیانت میں ہونی چاہیے اور تمہارے معیار خیر و شر ان دنیا پرستوں سے مختلف ہونا چاہیے جو خدا اور آخرت کو نہیں مانتے۔
Ayahs 7:86–89سورة الْاَعْرَاف 73
یہ فقرہ اسی معنی میں ہے جس میں انشاء اللہ کا لفظ بولا جاتا ہے، اور جس کے متعلق سورة کہف (آیات 23۔ 24) میں ارشاد ہوا ہے کہ کسی چیز کے متعلق دعوے کے ساتھ یہ نہ کہہ دیا کرو کہ میں ایسا کروں گا بلکہ اس طرح کہا کرو کہ اگر اللہ چاہے گا تو ایسا کروں گا۔ اس لیے کہ مومن، جو اللہ تعالیٰ کی سلطانی و بادشاہی کا اور اپنی بندگی و تابعیت کا ٹھیک ٹھیک ادراک رکھتا ہے، کبھی اپنے بل بوتے پر یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں فلاں بات کر کے رہوں گا یا فلاں حرکت ہرگز نہ کروں گا، بلکہ وہ جب کہے گا تو یوں کہے گا کہ میرا ارادہ ایسا کرنے کا یا نہ کرنے کا ہے لیکن میرے اس ارادے کا پورا ہونا میرے مالک کی مشیت پر موقوف ہے، وہ توفیق بخشے گا تو اس میں کامیاب ہوجاؤں گا ورنہ ناکام رہ جاؤں گا۔
Ayah 7:90سورة الْاَعْرَاف 74
اس چھو ٹے سے فقرے پر سے سرسری طور پر نہ گزر جائیے۔ یہ ٹھہر کر بہت سوچنے کا مقام ہے۔ مَدیَنَ کے سردار اور لیڈر دراصل یہ کہہ رہے تھے اور اسی بات کا اپنی قوم کو بھی یقین دلا رہے تھے کہ شعیب جس ایمان داری اور راست بازی کی دعوت دے رہا ہے اور اخلاق و دیانت کے جن مستقل اصولوں کی پابندی کرانا چاہتا ہے، اگر ان کو مان لیا جائے تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔ ہماری تجارت کیسے چل سکتی ہے اگر ہم بالکل ہی سچائی کے پابند ہوجائیں اور کھرے کھرے سودے کرنے لگیں۔ اور ہم جو دنیا کی دو سب سے بڑی تجارتی شاہ راہوں کے چورا ہے پر بستے ہیں، اور مصر اور عراق کی عظیم الشان متمدّن سلطنتوں کی سرحد پر آباد ہیں، اگر ہم قافلوں کو چھیڑنا بند کردیں اور بےضرر اور پُر امن لوگ ہی بن کر رہ جائیں تو جو معاشی اور سیاسی فوائد ہمیں اپنی موجودہ جغرافی پوزیشن سے حاصل ہو رہے ہیں وہ سب ختم ہوجائیں گے اور آس پاس کی قوموں پر ہماری جو دھونس قائم ہے وہ باقی نہ رہے گی۔۔۔۔ یہ بات صرف قوم شعیب کے سرداروں ہی تک محدود نہیں ہے۔ ہر زمانے میں بگڑے ہوئے لوگوں نے حق اور راستی اور دیانت کی روش میں ایسے ہی خطرات محسوس کیے ہیں۔ ہر دور کے مفسدین کا یہی خیال رہا ہے کہ تجارت اور سیاست اور دوسرے دنیوی معاملات جھوٹ اور بےایمانی اور بد اخلاقی کے بغیر نہیں چل سکتے۔ ہر جگہ دعوت حق کے مقابلہ میں جو زبردست عذرات پیش کیے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی رہا ہے کہ اگر دنیا کی چلتی ہوئی راہوں سے ہٹ کر اس دعوت کی پیروی کی جائے گی تو قوم تباہ ہوجائے گی۔
Ayahs 7:91–92سورة الْاَعْرَاف 75
مدین کی یہ تباہی مدتہائے دراز تک آس پاس کی قوموں میں ضرب المثل رہی ہے۔ چناچہ زبور داؤد میں ایک جگہ آتا ہے کہ اے خدا فلاں فلاں قوموں نے تیرے خلاف عہد باندھ لیا ہے لہٰذا تو ان کے ساتھ وہی کر جو تو نے مدیان کے ساتھ کیا (83۔ 5 تا 9)۔ اور یسعیاہ بنی ایک جگہ بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آشور والوں سے نہ ڈرو، اگرچہ وہ تمہارے لیے مصریوں کی طرح ظالم بنے جا رہے ہیں لیکن کچھ دیر نہ گزرے گی کہ رب الافواج ان پر اپنا کوڑا برسائے گا اور ان کا وہی حشر ہوگا جو مدیان کا ہوا (یسعیاہ 10۔ 21 تا 26)۔
Ayah 7:93سورة الْاَعْرَاف 76
یہ جتنے قصے یہاں بیان کیے گئے ہیں ان سب میں ”سرِّ دلبراں در حدیث دیگراں“ کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ ہر قصہ اس معاملہ پر پورا پورا چسپاں ہوتا ہے جو اس وقت محمد ﷺ اور آپ کی قوم کے درمیان پیش آ رہا تھا۔ ہر قصہ میں ایک فریق بنی ہے جس کی تعلیم، جس کی دعوت، جس کی نصیحت و خیر خواہی، اور جس کی ساری باتیں بعینہ وہی ہیں جو محمد ﷺ کی تھیں۔ ور دوسرا فریق حق سے منہ موڑنے والی قوم ہے جس کی اعتقادی گمراہیاں، جس کی اخلاقی خرابیاں، جس کی جاہلانہ ہٹ دھرمیاں، جس کے سرداروں کا استکبار، جس کے منکروں کا اپنی ضلالت پر اصرار، غرض سب کچھ وہی ہے جو قریش میں پایا جاتا تھا۔ پھر ہر قصے میں منکر قوم کا جو انجام پیش کیا گیا ہے اس سے دراصل قریش کو عبرت دلائی گئی ہے کہ اگر تم نے خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبر کی بات نہ مانی اور اصلاح حال کا جو موقع تمہیں دیا جا رہا ہے اسے اندھی ضد میں مبتلا ہو کر کھو دیا تو آخر کار تمہیں بھی اسی تباہی و بربادی سے دوچار ہونا پڑے گا جو ہمیشہ سے گمراہی و فساد پر اصرار کرنے والی قوموں کے حصہ میں آتی رہی ہے۔
Ayahs 7:94–95سورة الْاَعْرَاف 77
ایک ایک نبی اور ایک ایک قوم کا معاملہ الگ الگ بیان کرنے کے بعد اب وہ جامع ضابطہ بیان کیا جا رہا ہے جو ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کے موقع پر اختیار فرمایا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جب کسی قوم میں کوئی نبی بھیجا گیا تو پہلے اس قوم کے خارجی ماحول کو قبول دعوت کے لیے نہایت سازگار بنایا گیا۔ یعنی اس کو مصائب اور آفات میں مبتلا کیا گیا۔ قحط، وبا، تجارتی خسارے، جنگی شکست اور اسی طرح کی تکلیفیں اس پر ڈالی گئیں۔ تاکہ اس کا دل نرم پڑے، اس کی شیخی اور تکبّر سے اکڑی ہوئی گردن ڈھیلی ہو، اس کا غرور طاقت اور نشہ دولت ٹوٹ جائے، اپنے ذرائع و وسائل اور اپنی قوتوں اور قابلیتوں پر اس کا اعتماد شکست ہوجائے، اسے محسوس ہو کہ اوپر کوئی اور طاقت بھی ہے جس کے ہاتھ میں اس کی قسمت کی باگیں ہیں، اور اس طرح اس کے کان نصیحت کے لیے کھل جائیں اور وہ اپنے خدا کے سامنے عاجزی کے ساتھ جھک جانے پر آمادہ ہوجائے۔ پھر جب اس سازگار ماحول میں بھی اس کا دل قبول حق کی طرف مائل نہیں ہوتا تو اس کو خوش حالی کے فتنہ میں مبتلا کردیا جاتا ہے اور یہاں سے اس کی بربادی کی تمہید شروع ہوجاتی ہے۔ جب وہ نعمتوں سے مالا مال ہونے لگتی ہے تو اپنے برے دن بھول جاتی ہے اور اس کے کج فہم رہنما اس کے ذہن میں تاریخ کا یہ احمقانہ تصوّر بٹھاتے ہیں کے حالات کا اتار چڑھاؤ اور قسمت کا بناؤ اور بگاڑ کسی حکیم کے انتظام میں اخلاقی بنیادوں پر نہیں ہو رہا ہے بلکہ ایک اندھی طبیعت بالکل غیر اخلاقی اسباب سے کبھی اچھے اور کبھی برے دن لاتی ہی رہتی ہے، لہٰذا مصائب اور آفات کے نزول سے کوئی اخلاقی سبق لینا اور کسی ناصح کی نصیحت قبول کر کے خدا کے آگے زاری و تضرُّع کرنے لگنا بجز ایک طرح کی نفسی کمزوری کے اور کچھ نہیں ہے۔ یہی وہ احمقانہ ذہنیت ہے جس کا نقشہ نبی ﷺ نے اس حدیث میں کھینچا ہے لایزال البلا بالمؤمن حتٰی یخرج نقیاً من ذنوبہٖ ، والمنافقُ مَثَلہ کمثلِ الحِمار لا یدری فیمَ رَبَطہ اھلہ ولا فیمَ ارسلوہ۔ یعنی ”مصیبت مومن کی تو اصلاح کرتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ جب وہ اس بھٹی سے نکلتا ہے تو ساری کھوٹ سے صاف ہو کر نکلتا ہے، لیکن منافق کی حالت بالکل گدھے کی سی ہوتی ہے جو کچھ نہیں سمجھتا کہ اس کے مالک نے کیوں اسے باندھا تھا اور کیوں اسے چھوڑ دیا۔“ پس جب کسی قوم کا حال یہ ہوتا ہے کہ نہ مصائب سے اس کا دل خدا کے آگے جھکتا ہے، نہ نعمتوں پر وہ شکرگزار ہوتی ہے، اور نہ کسی حال میں اصلاح کرتی ہے تو پھر اس کی بربادی اس طرح اس کے سر پر منڈلانے لگتی ہے جیسے پورے دن کی حاملہ عورت کہ کچھ نہیں کہا جاسکتا کب اس کا وضع حمل ہوجائے۔
یہاں یہ بات اور جان لینی چاہیے کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے جس ضابطہ کا ذکر فرمایا ہے ٹھیک یہی ضابطہ نبی ﷺ کی بعثت کے موقع پر بھی برتا گیا اور شامت زدہ قوموں کے جس طرز عمل کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، ٹھیک وہی طرز عمل سورة اعراف کے نزول کے زمانہ میں قریش والوں سے ظاہر ہو رہا تھا۔ حدیث میں عبداللہ بن مسعود ؓ عبداللہ بن عباس ؓ دونوں کی متفقہ روایت ہے کہ نبی ﷺ کی بعثت کے بعد جب قریش کے لوگوں نے آپ کی دعوت کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنا شروع کیا تو حضور ﷺ نے دعا کی کہ خدایا، یوسف کے زمانہ میں جیسا ہفت سالہ قحط پڑا تھا ویسے ہی قحط سے ان لوگوں کے مقابلہ میں میری مدد کر۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سخت قحط میں مبتلا کردیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ لوگ مردار کھانے لگے، چمڑے اور ہڈیاں اور اون تک کھا گئے۔ آخر کار مکہ کے لوگوں نے، جن میں ابو سفیان پیش پیش تھا، حضور ﷺ سے درخواست کی کہ ہمارے لیے خدا سے دعا کیجیے۔ مگر جب آپ کی دعا سے اللہ نے وہ برا وقت ٹال دیا ور بھلے دن آئے تو ان لوگوں کی گردنیں پہلے سے زیادہ اکڑ گئیں، اور جن کے دل تھوڑے بہت پسیج گئے تھے ان کو بھی اشرار قوم نے یہ کہہ کہہ کر ایمان سے روکنا شروع کردیا کہ میاں، یہ تو زمانے کا اتار چڑھاؤ ہے۔ پہلے بھی آخر قحط آتے ہی رہے ہیں، کوئی نئی بات تو نہیں ہے کہ اس مرتبہ ایک لمبا قحط پڑگیا، لہٰذا ان چیزوں سے دھوکا کھا کر محمد ﷺ کے پھندے میں نہ پھنس جانا۔ یہ تقریریں اس زمانے میں ہو رہی تھیں جب یہ سورة اعراف نازل ہوئی ہے۔ اس لیے قرآن مجید کی یہ آیات ٹھیک اپنے موقع پر چسپاں ہوئی ہیں اور اسی پس منظر کو نگاہ میں رکھنے سے ان کی معنویت پوری طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو یونس، آیت 21۔ النحل 112۔ المومنون 5۔ 76۔ الدخان 9۔ 16)۔
Ayahs 7:96–99سورة الْاَعْرَاف 78
اصل میں لفظ مکر استعمال ہوا ہے جس کے معنی عربی زبان میں خفیہ تدبیر کے ہیں، یعنی کسی شخص کے خلاف ایسی چال چلنا کہ جب تک اس پر فیصلہ کن ضرب نہ پڑجائے اس وقت تک اسے خبر نہ ہو کہ اس کی شامت آنے والی ہے، بلکہ ظاہر حالات کو دیکھتے ہوئے وہ یہی سمجھتا رہے کہ سب اچھا ہے۔
Ayah 7:100سورة الْاَعْرَاف 79
یعنی ایک گرنے والی قوم کی جگہ جو دوسری قوم اٹھتی ہے اس کے لیے اپنی پیش رو قوم کے زوال میں کافی رہنمائی موجود ہوتی ہے۔ وہ اگر عقل سے کام لے تو سمجھ سکتی ہے کہ کچھ مدّت پہلے جو لوگ اسی جگہ داد عیش دے رہے تھے اور جن کی عظمت کا جھنڈا یہاں لہرا رہا تھا انہیں فکر وعمل کی کن غلطیوں نے برباد کیا، اور یہ بھی محسوس کرسکتی ہے کہ جس بالا تر اقتدار نے کر انہیں ان کی غلطیوں پر پکڑا تھا اور ان سے یہ جگہ خالی کرالی تھی، وہ آج کہیں چلا نہیں گیا ہے، نہ اس سے کسی نے یہ مقدرت چھین لی ہے کہ اس جگہ کے موجودہ ساکنین اگر وہی غلطیاں کریں جو سابق ساکنین کر رہے تھے تو وہ ان سے بھی اسی طرح جگہ خالی نہ کرا سکے گا جس طرح اس نے ان سے خالی کرائی تھی۔
سورة الْاَعْرَاف 80
یعنی جب وہ تاریخ سے اور عبرتناک آثار کے مشاہدے سے سبق نہیں لیتے اور اپنے آپ کو خود بھلاوے میں ڈالتے ہیں تو پھر خدا کی طرف سے بھی انہیں سوچنے سمجھنے اور کسی ناصح کی بات سننے کی توفیق نہیں ملتی۔ خدا کا قانون فطرت یہی ہے کہ جو اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے اس کی بینائی تک آفتاب روشن کی کوئی کرن نہیں پہنچ سکتی اور جو خود نہیں سننا چاہتا اسے پھر کوئی کچھ نہیں سنا سکتا۔
Ayah 7:101سورة الْاَعْرَاف 81
پچھلی آیت میں جو ارشاد ہوا تھا کہ ”ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ کچھ نہیں سنتے“ ، اس کی تشریح اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خود فرمادی ہے۔ اس تشریح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دلوں پر مہر لگانے سے مراد ذہن انسانی کا اس نفسیاتی قانون کی زد میں آجانا ہے جس کی رو سے ایک دفعہ جاہلی تعصبات یا نفسانی اغراض کی بنا پر حق سے منہ موڑ لینے کے بعد پھر انسان اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے الجھاؤ میں الجھتا ہی چلا جاتا ہے اور کسی دلیل، کسی مشاہدے اور کسی تجر بے سے اس کے دل کے دروازے قبول حق کے لیے نہیں کھلتے۔
Ayah 7:102سورة الْاَعْرَاف 82
”کوئی پاس عہد نہ پایا“ یعنی کسی قسم کے عہد کا پاس بھی نہ پایا، نہ اس فطری عہد کا پاس جس میں پیدائشی طور پر ہر انسان خدا کا بندہ اور پروردہ ہونے کی حیثیّت سے بندھا ہوا ہے، نہ اس اجتماعی عہد کا پاس جس میں ہر فرد بشر انسانی برادری کا ایک رکن ہونے کی حیثیّت سے بندھا ہوا ہے، اور نہ اس ذاتی عہد کا پاس جو آدمی اپنی مصیبت اور پریشانی کے لمحوں میں یا کسی جذبہ خیر کے موقع پر خدا سے بطور خود باندھا کرتا ہے۔ انہی تینوں عہدوں کے توڑنے کو یہاں فسق قرار دیا گیا ہے۔
Ayah 7:103سورة الْاَعْرَاف 83
اوپر جو قصے بیان ہوئے ان سے مقصود یہ ذہن نشین کرانا تھا کہ جو قوم خدا کا پیغام پانے کے بعد اسے رد کردیتی ہے اسے پھر ہلاک کیے بغیر نہیں چھوڑا جاتا۔ اس کے بعد اب موسیٰ و فرعون اور بنی اسرائیل کا قصہ کئی رکوعوں تک مسلسل چلتا ہے جس میں اس مضمون کے علاوہ چند اور اہم سبق بھی کفار قریش، یہود اور ایمان لانے والے گروہ کردیے گئے ہیں۔
کفار قریش کو اس قصے کے پیرائے میں یہ سمجھا نے کی کوشش کی گئی ہے کہ دعوت حق کے ابتدائی مرحلوں میں حق اور باطل کی قوتوں کا جو تناسب بظاہر نظر آتا ہے، اس سے دھوکا نہ کھانا چاہیے۔ حق کی تو پوری تاریخ ہی اس بات پر گواہ ہے کہ وہ ایک فی قوم بلکہ ایک فی دنیا کی اقلیت سے شروع ہوتا ہے اور بغیر کسی سروسامان کے اس باطل کے خلاف لڑائی چھیڑ دیتا ہے جس کی پشت پر بڑی بڑی قوموں اور سلطنتوں کی طاقت ہوتی ہے، پھر بھی آخر کار وہی غالب آکر رہتا ہے۔ نیز اس قصے میں ان کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ داعی حق کے مقابلہ میں جو چالیں چلی جاتی ہیں اور جن تدبیروں سے اس کی دعوت کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ کس طرح الٹی پڑتی ہیں۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ منکریں حق کی ہلاکت کا آخری فیصلہ کرنے سے پہلے ان کو کتنی کتنی طویل مدّت تک سنبھلنے اور درست ہونے کے مواقع دیتا چلا جاتا ہے اور جب کسی تنبیہ کسی سبق آموز واقعے اور کسی روشن نشانی سے بھی وہ اثر نہیں لیتے تو پھر وہ انہیں کیسی عبرتناک سزا دیتا ہے۔
جو لوگ نبی ﷺ پر ایمان لے آئے تھے ان کو اس قصے میں دوہرا سبق دیا گیا ہے۔ پہلا سبق اس بات کا کہ اپنی قلت و کمزوری کو اور مخالفین حق کی کثرت و شوکت کو دیکھ کر ان کی ہمت نہ ٹوٹے اور اللہ کی مدد آنے میں دیر ہوتے دیکھ کر وہ دل شکستہ نہ ہوں۔ دوسرا سبق اس بات کا کہ ایمان لانے کے بعد جو گروہ یہودیوں کی سی روش اختیار کرتا ہے وہ پھر یہودیوں ہی کی طرح خدا کی لعنت میں گرفتار بھی ہوتا ہے۔
بنی اسرائیل کے سامنے ان کی عبرتناک تاریخ پیش کرکے انہیں باطل پرستی کے برے نتائج پر متنبہ کیا گیا ہے اور اس پیغمبر پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے جو پچھلے پیغمبروں کے لائے ہوئے دین کو تمام آمیزشوں سے پاک کر کے پھر اس کی اصلی صورت میں پیش کر رہا ہے۔
سورة الْاَعْرَاف 84
نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا، یعنی ان کو نہ مانا اور انہیں جادو گری قرار دے کر ٹالنے کی کوشش کی۔ جس طرح کسی ایسے شعر کو جو شعریت کا مکمل نمونہ ہو تک بندی سے تعبیر کرنا اور اس کا مذاق اڑانا نہ صرف اس شعر کے ساتھ بلکہ نفس شاعری اور ذوق شعری کے ساتھ بھی ظلم ہے، اسی طرح وہ نشانیاں جو خود اپنے من جانب اللہ ہونے پر صریح گواہی دے رہی ہوں اور جن کے متعلق کوئی صاحب عقل آدمی یہ گمان تک نہ کرسکتا ہو کہ سحر کے زور سے بھی ایسی نشانیاں ظاہر ہو سکتی ہیں، بلکہ جن کے متعلق خود فن سحر کے ماہرین نے شہادت دے دی ہو کہ وہ ان کے فن کی دسترس سے بالا تر ہیں، ان کو سحر قرار دینا نہ صرف ان نشانیوں کے ساتھ بلکہ عقل سلیم اور صداقت کے ساتھ بھی ظلم عظیم ہے۔
Ayah 7:104سورة الْاَعْرَاف 85
لفظ فرعون کے معنی ہیں ”سورج دیوتا کی اولاد۔“ قدیم اہل مصر سورج کو، جو ان کا مہا دیو یا ربِّ اعلیٰ تھا، رغ کہتے تھے اور فرعون اسی کی طرف منسوب تھا۔ اہل مصر کے اعتقاد کی رو سے کسی فرماں روا کی حاکمیت کے لیے اس کے سوا کوئی بنیاد نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ رغ کا جسمانی مظہر اور اس کا ارضی نمائندہ ہو، اسی لیے ہر شاہی خاندان جو مصر میں برسر اقتدار آتا تھا، اپنے آپ کو سورج بنسی بنا کر پیش کرتا، اور ہر فرماں روا جو تخت نشین ہوتا، ”فرعون“ کا لقب اختیار کر کے باشندگان ملک کو یقین دلاتا کہ تمہارا ربِّ اعلیٰ یا مہادیو میں ہوں۔
یہاں یہ بات اور جان لینی چاہیے کہ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ کے قصّے کے سلسلہ میں دو فرعونوں کا ذکر آتا ہے۔ ایک وہ جس کے زمانہ میں آپ پیدا ہوئے اور جس کے گھر میں آپ نے پرورش پائی۔ دوسرا وہ جس کے پاس آپ اسلام کی دعوت اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ لے کر پہنچے اور بالآخر غرق ہوا۔ موجودہ زمانہ کے محققین کا عام میلان اس طرف ہے کہ پہلا فرعون رعمسیس دوم تھا جس کا زمانہ حکومت سن 1292 ء سے سن 1225 ء قبل مسیح تک رہا۔ اور دوسرا فرعون جس کا یہاں ان آیات میں ذکر ہو رہا ہے، منفتہ یا منفتاح تھا جو اپنے باپ رعمسیس دوم کی زندگی ہی میں شریک حکومت ہوچکا تھا اور اس کے مرنے کے بعد سلطنت کا مالک ہوا۔ یہ قیاس بظاہر اس لحاظ سے مشتبہ معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی تاریخ کے حساب سے حضرت موسیٰ ؑ کی تاریخ وفات 1272 قبل مسیح ہے۔ لیکن بہر حال یہ تاریخی قیاسات ہی ہیں اور مصری، اسرائیلی اور عیسوی جنتریوں کے تطابق سے بالکل صحیح تاریخوں کا حساب لگانا مشکل ہے۔
Ayah 7:105سورة الْاَعْرَاف 86
حضرت موسیٰ ؑ دو چیزوں کی دعوت لے کر فرعون کے پاس بھیجے گئے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اللہ کی بندگی (اسلام) قبول کرے، دوسرے یہ کہ بنی اسرائیل کی قوم کو جو پہلے سے مسلمان تھی اپنے پنجہ ظلم سے رہا کر دے۔ قرآن میں ان دونوں دعوتوں کا کہیں یکجا ذکر کیا گیا ہے اور کہیں موقع و محل کے لحاظ سے صرف ایک ہی کے بیان پر اکتفا کیا گیا ہے۔
Ayahs 7:106–108سورة الْاَعْرَاف 87
یہ دو نشانیاں حضرت موسیٰ ؑ کو اس امر کے ثبوت میں دی گئی تھیں کہ وہ اس خدا کے نمائندے ہیں جو کائنات کا خالق اور فرماں روا ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہم اشارہ کرچکے ہیں، پیغمبروں نے جب کبھی اپنے آپ کو فرستادہ رب العالمٰین کی حیثیت سے پیش کیا تو لوگوں نے ان سے یہی مطالبہ کیا کہ اگر تم واقعی رب العالمٰین کے نمائندے ہو تو تمہارے ہاتھوں سے کوئی ایسا واقعہ ظہور میں آنا چاہیے جو قوانین فطرت کی عام روش سے ہٹا ہوا ہو اور جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہو کہ رب العالمٰین نے تمہاری صداقت ثابت کرنے کے لیے اپنی براہ راست مداخلت سے یہ واقعہ نشانی کے طور پر صادر کیا ہے۔ اسی مطالبہ کے جواب میں انبیاء نے وہ نشانیاں دکھائی ہیں جس کو قرآن کی اصطلاح میں ”آیات“ اور متکلمین کی اصطلاح میں ”معجزات“ کہا جاتا ہے۔ ایسے نشانات یا معجزات کو جو لوگ قوانین فطرت کے تحت صادر ہونے والے عام واققعات قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں وہ درحقیقت کتاب اللہ کو ماننے اور نہ ماننے کے درمیان ایک ایسا موقف اختیار کرتے ہیں جو کسی طرح معقول نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس لیے کہ قرآن جس جگہ صریح طور پر خارق عادت واقعہ کا ذکر کر رہا ہو وہاں سیاق وسباق کے بالکل خلاف ایک عادی واقع بنانے کی جدوجہد محض ایک بھونڈی سخن سازی ہے جس کی ضرورت صرف ان لوگوں کو پیش آتی ہے جو ایک طرف تو کسی ایسی کتاب پر ایمان نہیں لانا چاہتے جو خارق عادت واقعات کا ذکر کرتی ہو اور دوسری طرف آبائی مذہب کے پیدائشی معتقد ہونے کی وجہ سے اس کتاب کا انکار بھی نہیں کرنا چاہتے جو فی الواقع خارق عادت واقعات کا ذکر کرتی ہے۔
معجزات کے باب میں اصل فیصلہ کن سوال صرف یہ ہے کہ آیا اللہ تعالیٰ نظام کائنات کو ایک قانون پر چلا دینے کے بعد معطل ہوچکا ہے اور اب اس چلتے ہوئے نظام میں کبھی کسی موقع پر مداخلت نہیں کرسکتا ؟ یا وہ بالفعل اپنی سلطنت کو زمام تدبیر و انتظام اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے اور ہر آن اس کے احکام اس سلطنت میں نافذ ہوتے ہیں اور اس کو ہر وقت اختیار حاصل ہے کہ اشیا کی شکلوں اور واقعات کی عادی رفتار میں جزئی طور پر یا کلّی طور پر جیسا چاہے اور جب چاہے تغیر کر دے ؟ جو لوگ اس سوال کے جواب میں پہلی بات کے قائل ہیں ان کے لیے معجزات کو تسلیم کرنا غیرممکن ہے، کیونکہ معجزہ نہ ان کے تصّور خدا سے میل کھاتا ہے اور نہ تصور کائنات سے۔ لیکن ایسے لوگوں کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ قرآن کی تفسیر و تشریح کرنے کی بجائے اس کا صاف صاف انکار کردیں کیونکہ قرآن نے تو اپنا زور بیان ہی خدا کے مقدم الذکر تصور کا ابطال اور موخر الذکر تصور کا اثبات کرنے پر صرف کیا ہے۔ بخلاف اس کے جو شخص قرآن کے دلائل سے مطمئن ہو کر دوسرے تصور کو قبول کرلے اس کے لیے معجزے کو سمجھنا اور تسلیم کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا۔ ظاہر ہے کہ جب آپ کا عقیدہ ہی یہ ہوگا کہ اژد ہے جس طرح پیدا ہوا کرتے ہیں اسی طرح وہ پیدا ہوسکتے ہیں، اس کے سوا کسی دوسرے ڈھنگ پر کوئی اژدہا پیدا کردینا خدا کی قدرت سے باہر ہے تو آپ مجبور ہیں ایسے بیان کو قطعی طور پر جھٹلا دیں جو آپ کو خبر دے رہا ہو کہ ایک لاٹھی اژد ہے میں تبدیل ہوئی اور پھر اژد ہے سے لاٹھی بن گئی۔ لیکن اس کے برعکس اگر آپ کا عقیدہ یہ ہو کہ بےجان مادے میں خدا کے حکم سے زندگی پیدا ہوتی ہے اور خدا جس مادے کو جیسی چاہے زندگی عطا کرسکتا ہے، اس کے لیے خدا کے حکم سے لاٹھی کا اژدہا بننا اتنا ہی غیر عجیب واقعہ ہے جتنا اسی خدا کے حکم سے انڈے کے اندر بھرے ہوئے چند بےجان مادوں کا اژدہا بن جانا غیر عجیب ہے۔ مجرد یہ فرق کہ ایک واقعہ ہمیشہ پیش آتا رہتا ہے اور دوسرا واقعہ صرف تین مرتبہ پیش آیا، ایک کو غیر عجیب اور دوسرے کو عجیب بنا دینے کے لیے کافی نہیں ہے۔
Ayahs 7:109–110سورة الْاَعْرَاف 88
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک غلام قوم کا ایک بےسرو سامان آدمی یکایک اٹھ کر فرعون جیسے بادشاہ کے دربار میں جا کھڑا ہوتا ہے جو شام سے لیبیا تک اور بحر روم کے سواحل سے حبش تک کے عظیم الشان ملک کا نہ صرف مطلق العنان بادشاہ بلکہ معبود بنا ہوا تھا، تو محض اس کے اس فعل سے کہ اس نے ایک لاٹھی کو اژدہا بنادیا اتنی بڑی سلطنت کو یہ خطرہ کیسے لاحق ہوجاتا ہے کہ یہ اکیلا انسان سلطنت مصر کا تختہ الٹ دے گا اور شاہی خاندان کو حکمراں طبقے سمیت ملک کے اقتدار سے بےدخل کر دے گا ؟ پھر یہ سیاسی انقلاب کا خطرہ آخر پیدا بھی کیوں ہوا جبکہ اس شخص نے صرف نبوت کا دعویٰ اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ ہی پیش کیا تھا اور کسی قسم کی سیاسی گفتگو سرے سے چھیڑی ہی نہ تھی ؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ موسیٰ ؑ کا دعوائے نبوت اپنے اندر خود ہی یہ معنی رکھتا تھا کہ وہ دراصل پورے نظام زندگی کو بحیثیت مجموعی تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ جس میں لا محالہ ملک کا سیاسی نظام بھی شامل ہے۔ کسی شخص کا اپنے کو رب العالمین کے نمائندے کی حیثیت سے پیش کرنا لازمی طور پر اس بات کو متضمن ہے کہ وہ انسانوں سے اپنی کلی اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے، کیونکہ رب العالمین کا نمائندہ کبھی مطیع اور رعیت بن کر رہنے کے لیے نہیں آتا بلکہ مطاع اور راعی بننے ہی کے لیے آیا کرتا ہے اور کسی کافر کے حق حکمرانی کو تسلیم کرلینا اس کی حیثیت رسالت کے قطعاً منافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی زبان سے رسالت کا دعویٰ سنتے ہی فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کے سامنے سیاسی و معاشی اور تمدنی انقلاب کا خطرہ نمودار ہوگیا۔ رہی یہ بات کہ حضرت موسیٰ کے اس دعوے کو مصر کے دربار شاہی میں اتنی ہمت ہی کیوں دی گئی جبکہ ان کے ساتھ ایک بھائی کے سوا کوئی معاون و مددگار اور صرف ایک سانپ بن جانے والی لاٹھی اور ایک چمک والے ہاتھ کے سوا کوئی نشان ماموریت نہ تھا ؟ تو میرے نزدیک اس کے دو بڑے سبب ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت موسیٰ ؑ کی شخصیت سے فرعون اور اس کے درباری خوب واقف تھے۔ ان کی پاکیزہ اور مضبوط سیرت، ان کی غیر معمولی قابلیت، ور قیادت و فرماں روائی کی پیدائشی صلاحیت کا سب کو علم تھا۔ تلمود اور یوسیفوس کی روایات اگر صحیح ہیں تو حضرت موسیٰ ؑ نے ان پیدائشی قابلیتوں کے علاوہ فرعون کے ہاں علوم وفنون اور حکمرانی و سپہ سالاری کی وہ پوری تعلیم و تربیت بھی حاصل کی تھی جو شاہی خاندان کے افراد کو دی جاتی تھیں۔ اور زمانہ شاہزادگی میں حبش کی مہم پر جا کر وہ اپنے آپ کو ایک بہترین جنرل بھی ثابت کرچکے تھے۔ پھر جو تھوڑی بہت کمزوریاں شاہی محلوں میں پرورش پانے اور فروعونی نظام کے اندر امارت کے مناصب پر سرفراز رہنے کی وجہ سے ان میں پائی جاتی تھیں، وہ بھی آٹھ دس سال مدین کے علاقہ میں صحرائی زندگی گزارنے اور بکریاں چرانے کی بدولت دور ہوچکی تھیں اور اب فرعونی دربار کے سامنے ایک ایسا سن رسیدہ و سنجیدہ فقیر کشور گیر نبوت کا دعویٰ لیے ہوئے کھڑا تھا جس کی بات کو بہرحال باد ہوائی سمجھ کر اڑایا نہ جاسکتا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ عصا اور یدبیضاء کی نشانیاں دیکھ کر فرعون اور اس کے درباری سخت مرعوب ہوچکے تھے اور ان کو تقریباً یہ یقین ہوگیا تھا کہ یہ شخص فی الواقع کوئی فوق الفطری طاقت اپنی پشت پر رکھتا ہے۔ ان کا حضرت موسیٰ کو ایک طرف جادوگر بھی کہنا اور پھر دوسری طرف یہ اندیشہ بھی ظاہر کرنا کہ یہ ہم کو اس سر زمین کی فرماں روائی سے بےدخل کرنا چاہتا ہے، ایک صریح تضاد بیان تھا اور اس بوکھلاہٹ کا ثبوت تھا جو ان پر نبوت کے اس اوّلین مظاہرے سے طاری ہوگئی تھی۔ اگر حقیقت میں وہ حضرت موسیٰ ؑ کو جادوگر سمجھتے تو ہرگز ان سے کسی سیاسی انقلاب کا اندیشہ نہ کرتے۔ کیونکہ جادو کے بل بوتے پر کبھی دنیا میں کوئی سیاسی انقلاب نہیں ہوا ہے۔
Ayahs 7:111–112سورة الْاَعْرَاف 89
فرعونی درباریوں کے اس قول سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ذہن میں خدائی نشان اور جادو کے امتیازی فرق کا تصوّر بالکل واضح طور پر موجود تھا۔ وہ جانتے تھے کہ خدائی نشان سے حقیقی تغیر واقع ہوتا ہے اور جادو محض نظر اور نفس کو متاثر کر کے اشیاء میں ایک خاص طرح کا تغیر محسوس کراتا ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے حضرت موسیٰ کے دعوائے رسالت کو رد کرنے کے لیے کہا کہ یہ شخص جادوگر ہے، یعنی عصا حقیقت میں سانپ نہیں بن گیا کہ اسے خدائی نشان مانا جائے، بلکہ صرف ہمیں ایسا اور ان کے ذریعہ سے لاٹھیوں اور رسیوں کو سانپوں میں تبدیل کر کے لوگوں کو دکھا دیا جائے تاکہ عامتہ الناس کے دلوں میں اس پیغمبرانہ معجزے سے جو ہیبت بیٹھ گئی ہے وہ اگر بالکلیہ دور نہ ہو تو کم از کم شک ہی میں تبدیل ہوجائے۔