65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 65:4

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمہیں معلوم ہو کہ) ان کی عدّت تین مہینے ہے۔ 12 اور یہی حکم اُن کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو۔ 13 اور حاملہ عورتوں کی عدّت کی حد یہ ہے کہ اُن کا وضعِ حمل ہو جائے۔ 14 جو شخص اللہ سے ڈرے اُس کے معاملہ میں وہ سہولت پیدا کردیتاہے

سورة الطَّلَاق 12 یہ ان عورتوں کا حکم ہے جن کو حیض آنا قطعی بند ہوچکا ہو اور کبر سنی کی وجہ سے وہ سن ایاس میں داخل ہوچکی ہوں۔ ان کی عدت اس روز سے شمار ہوگی جس روز انہیں طلاق دی گئی ہو۔ اور تین مہینوں سے مراد تین قمری مہینے ہیں اگر قمری مہینے کے آغاز میں طلاق دی گئی ہو تو بالاتفاق رویت ہلال کے لحاظ سے عدت شمار ہوگی، اور اگر مہینے کے بیچ میں کسی وقت طلاق دی گئی ہو تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک 30 دن کا مہینہ قرار دے کر 3 مہینے پورے کرنے ہوں گے (بدائع الصنائع)۔ رہیں وہ عورتیں جن کے حیض میں کسی نوع کی بےقاعدگی ہو، ان کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافات ہیں۔ حضرت سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا جس عورت کو طلاق دی گئی ہو، پھر ایک دو مرتبہ حیض آنے کے بعد اس کا حیض بند ہوگیا ہو، وہ 9 مہینے انتظار کرے۔ اگر حمل ظاہر ہوجائے تو ٹھیک ہے، ورنہ 9 مہینے گزرنے کے بعد وہ مزید تین مہینے عدت گزارے، پھر وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کے لیے حلال ہوگی۔ ابن عباس، قتادہ اور عکرمہ کہتے ہیں کہ جس عورت کو سال بھر حیض نہ آیا ہو اسکی عدت تین مہینے ہے۔ طاؤس کہتے ہیں کہ جس عورت کو سال میں ایک مرتبہ حیض آئے اس کی عدت تین حیض ہے۔ یہی رائے حضرت عثمان حضرت علی، اور حضرت زیدبن ثابت سے مروی ہے۔ امام مالک کی روایت ہے کہ ایک صاحب حبان نامی تھے جنہوں نے اپنی بیوی کو ایسے زمانے میں طلاق دی جبکہ وہ بچے کو دودھ پلا رہی تھیں اور اس پر ایک سال گزر گیا مگر انہیں حیض نہ آیا۔ پھر وہ صاحب انتقال کر گئے۔ مطلقہ بیوی نے وراثت کا دعویٰ کردیا۔ حضرت عثمان کے سامنے مقدمہ پیش ہوا۔ انہوں نے حضرت علی اور حضرت زید بن ثابت سے مشورہ طلب کیا۔ دونوں بزرگوں کے مشورے سے حضرت عثمان نے فیصلہ فرمایا کہ عورت وارث ہے۔ دلیل یہ تھی کہ نہ وہ ان عورتوں میں سے ہے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں اور نہ ان لڑکیوں میں سے ہے جن کو ابھی حیض نہیں آیا، لہٰذا وہ شوہر کے مرنے تک اپنے اس حیض پر تھی جو اسے پہلے آیا تھا اور اس کی عدت باقی تھی۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ جس عورت کا حیض بند ہوگیا ہو، مگر اس کا بند ہونا سن ایام کی وجہ سے نہ ہو کہ آئندہ اس کے جاری ہونے کی امید نہ رہے، اس کی عدت یا تو حیض ہی سے ہوگی اگر وہ آئندہ جاری ہو، یا پھر اس عمر کے لحاظ سے ہوگی جس میں عورتوں کو حیض آنا بند ہوجاتا ہے اور اس عمر کو پہنچنے کے بعد وہ تین مہینے عدت گزار کر نکاح سے آزاد ہوگی۔ یہی قول امام شافعی، امام ثوری اور امام لیث کا ہے۔ اور یہی مذہب حضرت علی، حضرت عثمان اور حضرت زید بن ثابت کا ہے۔ امام مالک نے حضرت عمر اور حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کو اختیار کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ عورت پہلے 9 مہینے گزارے گی۔ اگر اس دوران میں حیض جاری نہ ہو تو پھر وہ تین مہینے اس عورت کی سی عدت گزارے گی جو حیض سے مایوس ہوچکی ہو۔ ابن القاسم نے امام مالک کے مسلک کی توضیح یہ کی ہے کہ 9 مہینے اس روز سے شمار ہوں گے جب آخری مرتبہ اس کا حیض ختم ہوا تھا نہ کہ اس روز سے جب اسے طلاق دی گئی۔ (یہ تمام تفصیلات احکام القرآن للجصاص اور بدائع الصنائع للکاسانی سے ماخوذ ہیں)۔ امام احمد بن حنبل کا مذہب یہ ہے کہ اگر کوئی عورت جس کی عدت حیض کے اعتبار سے شروع ہوئی تھی، عدت کے دوران میں آئسہ ہوجائے تو اسے حیض والی عورتوں کے بجائے آئسہ عورتوں والی عدت گزارنی ہوگی۔ اور اگر اس کو حیض آنا بند ہوجائے اور معلوم نہ ہو سکے کہ وہ کیوں بند ہوگیا ہے تو پہلے وہ حمل کے شبہ میں 9 مہینے گزارے گی اور پھر اسے تین مہینے عدت کے پورے کرنے ہوں گے۔ اور اگر یہ معلوم ہو کہ حیض کیوں بند ہوا ہے، مثلاً کوئی بیماری ہو یا دودھ پلا رہی ہو یا ایسا ہی کوئی اور سبب ہو تو وہ اس وقت تک عدت میں رہے گی جب تک یا تو حیض آنا شروع نہ ہوجائے اور عدت حیضوں کے لحاظ سے شمار ہو سکے، یا پھر وہ آئسہ ہوجائے اور آئسہ عورتوں کی سی عدت گزار سکے (الانصاف)۔ سورة الطَّلَاق 13 حیض خواہ کم سنی کی وجہ سے نہ آیا ہو، یا اس وجہ سے کہ بعض عورتوں کو بہت دیر میں حیض آنا شروع ہوتا ہے، اور شاذ و نادر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی عورت کو عمر بھر نہیں آتا، بہر حال تمام صورتوں میں ایسی عورت کی عدت وہی ہے جو آئسہ عورت کی عدت ہے، یعنی طلاق کے وقت سے تین مہینے۔ اس جگہ یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ قرآن کی تصریح کے مطابق عدت کا سوال اس عورت کے معاملہ میں پیدا ہوتا ہے جس سے شوہر خلوت کرچکا ہو، کیونکہ خلوت سے پہلے طلاق کی صورت میں سرے سے کوئی عدت ہے ہی نہیں (الاحزاب، 49)۔ اس لیے ایسی لڑکیوں کی عدت بیان کرنا جنہیں حیض آنا شروع نہ ہوا ہو، صریحاً اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس عمر میں نہ صرف لڑکی کا نکاح کردینا جائز ہے بلکہ شوہر کا اس کے ساتھ خلوت کرنا بھی جائز ہے۔ اب یہ بات ظاہر ہے کہ جس چیز کو قرآن نے جائز قرار دیا ہو اسے ممنوع قرار دینے کا کسی مسلمان کو حق نہیں پہنچتا۔ جس لڑکی کو ایسی حالت میں طلاق دی گئی ہو کہ اسے ابھی حیض آنا شروع نہ ہوا ہو، اور پھر عدت کے دوران میں اس کو حیض آجائے، تو وہ پھر اسی حیض سے عدت شروع کرے گی اور اس کی عدت حائضہ عورتوں جیسی ہوگی۔ سورة الطَّلَاق 14 اس امر پر تمام اہل علم کا اجماع ہے کہ مطلقہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے۔ لیکن اس امر میں اختلاف واقع ہوگیا ہے کہ آیا یہی حکم اس عورت کا بھی ہے جس کا شوہر زمانہ حمل میں وفات پا گیا ہو ؟ یہ اختلاف اس وجہ سے ہوا ہے کہ سورة بقرہ آیت 234 میں اس عورت کی عدت 4 مہینے دس دن بیان کی گئی ہے جس کا شوہر وفات پا جائے، اور وہاں اس امر کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ حکم آیا تمام بیوہ عورتوں کے لیے عام ہے یا ان عورتوں کے لیے خاص ہے جو حاملہ نہ ہوں۔ حضرت علی اور حضرت عبد اللہ بن عباس ان دونوں آیتوں کو ملا کر یہ استنباط کرتے ہیں کہ حاملہ مطلقہ کی حد تو وضع حمل تک ہی ہے، مگر بیوہ حاملہ کی عدت آخر الَاَجلَین ہے، یعنی مطلقہ کی عدت اور حاملہ کی عدت میں سے جو زیادہ طویل ہو وہی اس کی عدت ہے۔ مثلاً اگر اس کا بچہ 4 مہینے دس دن سے پہلے پیدا ہوجائے تو اسے چار مہینے دس سن پورے ہونے تک عدت گزارنی ہوگی۔ اور اگر اس کا وضع حمل اس وقت تک نہ ہو تو پھر اس کی عدت اس وقت پوری ہوگی جب وضع حمل ہوجائے۔ یہی مذہب امامیہ کا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ سورة طلاق کی یہ آیت سورة بقرہ کی آیت کے بعد نازل ہوئی ہے، اس لیے بعد کے حکم نے پہلی آیت کے حکم کو غیر حاملہ بیوہ کے لیے خاص کردیا ہے اور ہر حاملہ کی عدت وضع حمل تک مقرر کردی ہے، خواہ وہ مطلقہ ہو یا بیوہ۔ اس مسلک کی رو سے عورت کا وضع حمل چاہے شوہر کی وفات کے فوراً بعد ہوجائے یا 4 مہینے دس دن سے زیادہ طول کھینچے، بہر حال بچہ پیدا ہوتے ہیں وہ عدت سے باہر ہوجائے گی۔ اس مسلک کی تائید حضرت ابی بن کعب کی یہ روایت کرتی ہے وہ فرماتے ہیں، جب سورة طلاق کی یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا یہ مطلقہ اور بیوہ دونوں کے لیے ہے ؟ حضور ﷺ نے جواب دیا ہاں۔ دوسری روایت میں حضور ﷺ نے مزید تصریح فرمائی اجل کل حامل ان تضع مافی بطنہا، " ہر حاملہ عورت کی عدت کی مدت اس کے وضع حمل تک ہے " (ابن جریر۔ ابن ابی حاتم۔ ابن حجر کہتے ہیں کہ اگرچہ اس کی سند میں کلام کی گنجائش ہے، لیکن چونکہ یہ متعدد سندوں سے نقل ہوئی ہے اس لیے ماننا پڑتا ہے کہ اس کی کوئی اصل ضرور ہے)۔ اس سے بھی زیادہ بڑھ کر اس کی مضبوط تائید سبیعہ اسلمیہ کے واقعہ سے ہوتی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں پیش آیا تھا۔ وہ بحالت حمل بیوہ ہوئی تھیں اور شوہر کی وفات کے چند روز بعد (بعض روایات میں 20 دن، بعض میں 23 دن، بعض میں 25 دن، بعض میں 40 دن اور بعض میں 35 دن بیان ہوئے ہیں) ان کا وضع حمل ہوگیا تھا۔ حضور ﷺ سے ان کے معاملہ میں فتویٰ پوچھا گیا تو آپ نے ان کو نکاح کی اجازت دے دی۔ اس واقعہ کو بخاری و مسلم نے کئی طریقوں سے حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے۔ اسی واقعہ کو بخاری، مسلم، امام احمد، ابو داؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے مختلف سندوں کے ساتھ حضرت مسور بن مخرمہ سے بھی روایت کیا ہے۔ مسلم نے خود سبیعہ اسلمیہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ میں حضرت سعد بن خولہ کی بیوی تھی۔ حجۃ الوداع کے زمانے میں میرے شوہر کا انتقال ہوگیا جبکہ میں حاملہ تھی۔ وفات کے چند روز بعد میرے ہاں بچہ پیدا ہوگیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ تم چار مہینے دس دن سے پہلے نکاح نہیں کرسکتیں۔ میں نے جا کر رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فتویٰ دیا کہ تم وضع حمل ہوتے ہی حلال ہوچکی ہو، اب چاہے تو دوسرا نکاح کرسکتی ہو۔ اس روایت کو بخاری نے بھی مختصراً نقل کیا ہے۔ صحابہ کی کثیر تعداد سے یہی مسلک منقول ہے۔ امام مالک، امام شافعی، عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ اور ابن المنذر نے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر سے حاملہ بیوہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا اس کی عدت وضع حمل گی ہے۔ اس پر انصار میں سے ایک صاحب بولے کہ حضرت عمر نے تو یہاں تک کہا تھا کہ اگر شوہر ابھی دفن بھی نہ ہوا ہوا بلکہ اس کی لاش اس کے بستر پر ہی ہو اور اس کی بیوی کے ہاں بچہ ہوجائے تو وہ دوسرے نکاح کے لیے حلال ہوجائے گی۔ یہی رائے حضرت ابوہریرہ، حضرت ابو مسعود بدری اور حضرت عائشہ کی ہے، اور اسی کو ائمہ اربعہ اور دوسرے اکابر فقہاء نے اختیار کیا ہے۔ شافعیہ کہتے ہیں کہ اگر حاملہ کے پیٹ میں ایک سے زیادہ بچے ہوں تو آخری بچے کی ولادت پر عدت ختم ہوگی۔ بچہ خواہ مردہ ہی پیدا ہو، اس کی ولادت سے عدت ختم ہوجائے گی۔ اسقاط حمل کی صورت میں اگر دائیاں اپنے فن کی رو سے یہ کہیں کہ یہ محض خون کا لوتھڑا نہ تھا بلکہ اس میں آدمی کی صورت پائی جاتی تھی، یا یہ رسولی نہ تھی بلکہ آدمی کی اصل تھی تو ان کا قول قبول کیا جائے گا اور عدت ختم ہوجائے گی (مغنی المحتاج)۔ حنابلہ اور حنفیہ کا مسلک بھی اس کے قریب قریب ہے، مگر اسقاط کے معاملہ میں ان کا مذہب یہ ہے کہ جب تک انسانی بناوٹ ظاہر نہ پائی جائے، محض دائیوں کے اس بیان پر کہ یہ آدمی ہی کی اصل ہے، اعتماد نہیں کیا جائے گا اور اس سے عدت ختم نہ ہوگی (بدائع الصنائع۔ الانصاف)۔ لیکن موجودہ زمانے میں طبی تحقیقات کے ذریعہ سے یہ معلوم کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی کہ جو چیز ساقط ہوئی ہے وہ واقعی انسانی حمل کی نوعیت رکھتے تھی یا کسی رسولی یا جمے ہوئے خون کی قسم سے تھی، اس لیے اب جہاں ڈاکٹروں سے رائے حاصل کرنا ممکن ہو وہاں یہ فیصلہ بآسانی کیا جاسکتا ہے کہ جس چیز کو اسقاط حمل کہا جاتا ہے وہ واقعی اسقاط تھا یا نہیں اور اس سے عدت ختم ہوئی یا نہیں۔ البتہ جہاں ایسی طبی تحقیق ممکن نہ ہو وہاں حنابلہ اور حنفیہ کا مسلک ہی زیادہ مبنی بر احتیاط ہے اور جاہل دائیوں پر اعتماد کرنا مناسب نہیں ہے۔
Ayah 65:5

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ اللہ کا حکم ہے جواُس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے۔ جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اُس کی بُرائیوں کو اُس سے دُور کر دے گا اور اُس کو بڑا اجر دے گا۔ 15

سورة الطَّلَاق 15 یہ اگرچہ ایک عمومی نصیحت ہے جس کا اطلاق انسانی زندگی کے تمام حالات پر ہوتا ہے، لیکن اس خاص سیاق وسباق میں اسے ارشاد فرمانے کا مقصد مسلمانوں کو خبردار کرنا ہے کہ اوپر جو احکام بیان کیے گئے ہیں، ان سے خواہ تمہارے اوپر کتنی ہی ذمہ داریوں کا بوجھ پڑتا ہو، بہر حال خدا سے ڈرتے ہوئے ان کی پیروی کرو، اللہ تمہارے کام آسان کرے گا، تمہارے گناہ معاف کے گا اور تمہیں بڑا اجر دے گا۔ ظاہر ہے کہ جن مطلقہ عورتوں کی عدت تین مہینے مقرر کی گئی ہے ان کا زمانہ عدت ان عورتوں کی بہ نسبت طویل تر ہوگا جن کی عدت تین حیض مقرر کی گئی ہے۔ اور حاملہ عورت کا زمانہ عدت تو اس سے بھی کئی مہینے زیادہ ہوسکتا ہے۔ اس پورے زمانے میں عورت کی سکونت اور اس کے نفقہ کی ذمہ داری اٹھانا، جبکہ آدمی اسے چھوڑ دینے کا ارادہ کرچکا ہو، لوگوں کو ناقابل برداشت بار محسوس ہوگا۔ لیکن جو بار اللہ سے ڈرتے ہوئے، اللہ کے احکام کی پیروی میں اٹھایا جائے، اللہ کا وعدہ ہے کہ اپنے فضل سے وہ اس کو ہلکا کر دے گا اور اس کی اتنی بھاری جزا دے گا جو دنیا میں اٹھائے ہوئے اس تھوڑے سے بار کی بہ نسبت بہت زیادہ گراں قدر ہوگی۔
Ayahs 65:6–7

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

اُن کو (زمانہ عدّت میں) اُسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو، جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میسّر ہو،اور انہیں تنگ کرنے کے لیے ان کو نہ ستاؤ۔ 16 اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اُس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضع حمل نہ ہوجائے۔ 17 پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچےکو) دُودھ پلائیں تو ان کی اُجرت انہیں دو، اور بھلے طریقےسے (اُجرت کا معاملہ) باہمی گفت وشنید سے طے کر لو۔ 18 لیکن اگر تم نے (اُجرت طے کرنے میں) ایک دُوسرے کو تنگ کیا تو بچے کو کوئی اور عورت دُودھ پلالے گی۔19

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے، اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اُسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے اللہ نے جس کو جتنا کچھ دیا ہے اس سے زیادہ کا وہ اُسے مکلف نہیں کرتا بعید نہیں کہ اللہ تنگ دستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا فرما دے

سورة الطَّلَاق 16 اس امر میں تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ مطلّقہ کو اگر رجعی طلاق دی گئی ہو تو شوہر پر اس کی سکونت اور اس کے نفقہ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اور اس امر پر بہی اتفاق ہے کہ اگر عورت حاملہ ہو، تو خو اہ اسے رجعی طلاق دی گئی ہو یا قطعی طور پرا لگ کردینے والی بہر حال اس کے وضع حمل تک اس کی سکونت اور اس کے نفقہ کا ذمہ دار شو ہر ہوگا۔ اس کے بعد اختلاف اس امر میں ہوا ہے کہ آیا غیر حاملہ مطلّقہ مبتُوتہ (یعنی جسے قطعی طور پرا لگ کردینے والی طلاق دی گئی ہو) سکونت اور نفقہ دونوں کی حق دار ہے ؟ یا صرف سکونت کا حق رکہتی ہے ؟ یا دونوں میں سے کسی کی بھی حق دار نہیں ہے ؟ ایک گروہ کہتا ہے کہ وہ سکونت اور نفقہ دونوں کی حق دار ہے۔ یہ رائے حضرت عمر، حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت علی بن حسین (امام زین العابد ین) ، قاضی شریح اور ابراہیم نخعی کی ہے۔ اسی کو حنفیہ نے اختیار کیا ہے، اور امام سفیان ثوری اور حسن بن صالح کا بھی یہی مذہب ہے۔ اس کی تائید دار قطنی کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا المطلقۃ ثلاثا لھا السکنٰی والنفقۃ، " جس عورت کو تین طلاقیں دی جاچکی ہوں اس کے لیے زمانہ عدت میں سکونت اور نفقہ کا حق ہے "۔ اس کی مزید تائید ان روایات سے ہوتی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ فاطمہ بنت قیس کی حدیث کو حضرت عمر نے یہ کہہ کر رد کردیا تھا کہ ایک عورت کے قول پر اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کو ترک نہیں کرسکتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کے علم میں لازماً رسول اللہ ﷺ کی یہ سنت ہوگی کہ ایسی عورت کے لیے نفقہ اور سکونت کا حق ہے۔ بلکہ ابراہیم نخعی کی ایک روایت میں تو یہ تصریح ہے کہ حضرت عمر نے فاطمہ بنت قیس کی حدیث کو رد کرتے ہوئے فرمایا تھا سمعت رسول اللہ ﷺ یقول لھا السکنٰی و النفقۃ، " میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ایسی عورت کے لیے سکونت کا حق بھی ہے اور نفقہ کا بھی " امام ابوبکر جصاص احکام القرآن میں اس مسئلے پر مفصل بحث کرتے ہوئے اس مسلک کے حق میں پہلی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مطلقاً فرمایا ہے فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ ، " ان کو ان کی عدت کے لیے طلاق دو " اس فرمان الہٰی کا اطلاق اس شخص پر بھی تو ہوتا ہے جو دو طلاق پہلے دے کر رجوع کرچکا ہو اور اب اسے صرف ایک ہی طلاق دینے کا حق باقی ہو۔ دوسری دلیل ان کی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طلاق دینے کا جب یہ طریقہ بتایا کہ " آدمی یا تو ایسے طہر میں طلاق دے جس میں مباشرت نہ کی گئی ہو یا ایسی حالت میں طلاق دے جبکہ عورت کا حاملہ ہونا ظاہر ہوچکا ہو " تو اس میں آپ نے پہلی، دوسری، یا آخری طلاق کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ " ان کو اسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو " ہر قسم کی طلاق سے متعلق مانا جائے گا۔ تیسری دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ حاملہ مطلقہ خواہ رجعیہ ہو یا مبتوتہ، اس کی سکونت اور اس کا نفقہ شوہر پر واجب ہے۔ اور غیر حاملہ رجعیہ کے لیے بھی یہ دونوں حقوق واجب ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ سکونت اور نفقہ کا وجوب دراصل حمل کی بنا پر نہیں ہے بلکہ اس بنا پر ہے کہ یہ دونوں قسم کی عورتیں شرعاً شوہر کے گھر میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اب اگر یہی حکم مبتوتہ غیر حاملہ کے بارے میں بھی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کی سکونت اور اس کا نفقہ مرد کے ذمہ نہ ہو۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ مطلقہ مبتوتہ کے لیے سکونت کا حق تو ہے مگر نفقہ کا حق نہیں ہے۔ یہ مسلک سعید بن المسیب، سلیمان بن یسار، عطاء، شعبی، اوزاعی، لیث اور ابو عبید رحمہم اللہ کا ہے، اور امام شافعی اور امام مالک نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ لیکن مغنی المحتاج میں امام شافعی کا مسلک اس سے مختلف بیان ہوا ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ تیسرا گروہ کہتا ہے کہ مطلقہ مبتوتہ کے لیے نہ سکونت کا حق ہے نہ نفقہ کا۔ یہ مسلک حسن بصری، حماد، ابن ابی لیلیٰ ، عمرو بن دینار، طاؤس، اسحاق بن راہویہ، اور ابو ثور کا ہے۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس کا بھی یہی مسلک نقل کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل اور امامیہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور مغنی المحتاج میں شافعیہ کا مسلک بھی یہ بیان کیا گیا ہے کہ تجب سکنٰی لمعتدۃِ طلاقٍ او حاملٍ ولا بائن………… والحائل البائن لا نفقۃ لھا ولا کسوۃ۔ " طلاق کی بنا پر جو عورت عدت گزار رہی ہو اس کے لیے سکونت کا حق واجب ہے خواہ وہ حاملہ ہو یا نہ ہو، مگر بائنہ کے لیے واجب نہیں ہے ………… اور غیر حاملہ بائنہ کے لیے نہ نفقہ ہے اور نہ کپڑا "۔ اس مسلک کا استدلال ایک تو قرآن مجید کی اس آیت سے ہے کہ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللہُ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْراً ، تم نہیں جانتے، شاید اس کے بعد اللہ موافقت کی کوئی صورت پیدا کر دے "۔ اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ بات مطلقہ رجعیہ کے حق ہی میں درست ہو سکتی ہے نہ کہ مبتوتہ کے حق میں۔ اس لیے مطلقہ کو گھر میں رکھنے کا حکم بھی رجعیہ ہی کے لیے خاص ہے۔ دوسرا استدلال فاطمہ بنت قیس کی حدیث سے ہے جسے کتب حدیث میں بکثرت صحیح سندوں کے ساتھ روایت کیا گیا ہے۔ یہ فاطمہ بن قیس الفہریہ اولین مہاجرات میں سے تھیں، بڑی عاقلہ سمجھی جاتی تھیں، اور حضرت عمر کی شہادت کے موقع پر اصحاب شوریٰ کا اجتماع انہی کے ہاں ہوا تھا۔ یہ پہلے ابو عمرو بن حفص المحیرۃ المخزُومی کے نکاح میں تھیں، پھر ان کے شوہر نے ان کو تین طلاقیں دے کر الگ کردیا، اور بعد میں رسول اللہ ﷺ نے ان کا نکاح حضرت اسامہ بن زید سے کیا۔ ان کا قصہ یہ ہے کہ ان کو شوہر ابو عمرو پہلے ان کو دو طلاق دے چکے تھے۔ پھر جب حضرت علی کے ساتھ وہ یمن بھیجے گئے تو انہوں نے وہاں سے باقی ماندہ تیسری طلاق بھی ان کو بھیج دی۔ بعض روایات میں یہ ہے کہ ابو عمرو ہی نے اپنے رشتہ داروں کو پیغام بھیجا تھا کہ عدت کے زمانے میں ان کو گھر میں رکھیں اور ان کا خرچ برداشت کریں۔ اور بعض میں یہ ہے کہ انہوں نے خود نفقہ و سکونت کے حق کا مطالبہ کیا تھا۔ بہر حال جو صورت بھی ہو، شوہر کے رشتہ داروں نے ان کا حق ماننے سے انکار کردیا۔ اس پر یہ دعویٰ لے کر نبی ﷺ کے پاس پہنچیں، اور حضور ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ نہ تمہارے لیے نفقہ ہے نہ سکونت۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا انما النفقہ والسکنٰی للمرأۃ علیٰ زوجھا ما کانت لۂ علیھا رجعۃ، فاذالم یکن لہ علیہا رجعۃ فلا نفقۃ ولا سکنٰی۔ " عورت کا نفقہ اور اس کی سکونت تو شوہر پر اس صورت میں واجب ہے جب کہ شوہر کو اس پر رجوع کا حق ہو۔ مگر جب رجوع کا حق نہ ہو تو نہ نفقہ ہے نہ سکونت " (مسند احمد)۔ طبرانی اور نسائی نے بھی قریب قریب یہی روایت نقل کی ہے اور اس کے آخری الفاظ یہ ہیں فاذا کانت لا تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ فلا نفقۃ ولا سکنٰی۔ " لیکن جب وہ اس کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو جب تک اس کے سوا کسی اور مرد سے نکاح نہ کرے تو پھر اس کے لیے نہ نفقہ ہے نہ سکونت "۔ یہ حکم بیان کرنے کے بعد حضور ﷺ نے ان کو پہلے ام شریک کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا اور بعد میں فرمایا کہ تم ابن ام مکتوم کے ہاں رہو۔ لیکن اس حدیث کو جن لوگوں نے قبول نہیں کیا ہے ان کے دلائل یہ ہیں اولاً ، ان کو شوہر کے رشتہ داروں کا گھر چھوڑنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ وہ بہت تیز زبان تھیں اور شوہر کے رشتہ دار ان کی بد مزاجی سے تنگ تھے۔ سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ " ان خاتون نے اپنی حدیث بیان کر کے لوگوں کو فتنے میں ڈال دیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ زبان دراز تھیں، اس لیے ان کو ابن ام مکتوم کے ہاں رکھا گیا " (ابو داؤد)۔ دوسری روایت میں سعید بن المسیب کا یہ قول منقول ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر کے رشتہ داروں سے زبان درازی کی تھی اس لیے انہیں اس گھر سے منتقل ہونے کا حکم دیا گیا تھا (جصاص)۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں " ان کا گھر سے نکلنا در اصل بد مزاجی کی وجہ سے تھا " (ابو داؤد)۔ ثانیاً ، ان کی روایت کو حضرت عمر نے اس زمانے میں رد کردیا تھا جب بکثرت صحابہ موجود تھے اور اس معاملہ کی پوری تحقیقات ہو سکتی تھی۔ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر کو فاطمہ کی یہ حدیث پہنچی تو انہوں نے فرمایا لسنا بتارکی اٰیۃ فی کتاب اللہ و قول رسول اللہ ﷺ لقول امرأۃ لعلھا اوھمت سمعت رسول اللہ ﷺ یقول لھا السکنٰی و النفقۃ۔ " ہم کتاب اللہ کی ایک آیت اور رسول اللہ ﷺ کے قول کو ایک عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے جسے شاید کچھ وہم ہوا ہے۔ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ مبتوتہ کے لیے سکونت کا حق بھی ہے اور نفقہ کا بھی " (جصاص)۔ ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں اسود بن یزید کے پاس کوفہ کی مسجد میں بیٹھا تھا۔ وہاں شعبی نے فاطمہ بنت قیس کی حدیث کا ذکر کیا۔ اس پر حضرت اسود نے شعبی کو کنکریاں کھینچ ماریں اور کہا کہ حضرت عمر کے زمانے میں جب فاطمہ کی یہ روایت پیش کی گئی تھی تو انہوں نے کہا تھا " ہم اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کو ایک عورت کے قول کی وجہ سے رد نہیں کرسکتے، معلوم نہیں اس نے یاد رکھا یا بھول گئی۔ اس کے لیے نفقہ اور سکونت ہے، اللہ کا حکم ہے لَا تُخرِجُوْھُنَّ مِنْ بُیُوْتِھِنَّ " یہ روایت باختلاف الفاظ مسلم، ابو داؤد، ترمذی اور نسائی میں منقول ہوئی ہے۔ ثالثاً ، مروان کے زمانہ حکومت میں جن مطلقہ مبتوتہ کے متعلق ایک نزاع چل پڑی تھی، حضرت عائشہ نے فاطمہ بنت قیس کی روایت پر سخت اعتراضات کیے تھے۔ قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کیا آپ کو فاطمہ کا قصہ معلوم نہیں ہے ؟ انہوں نے جواب دیا " فاطمہ کی حدیث کا ذکر نہ کرو تو اچھا ہے " (بخاری) بخاری نے دوسری روایت جو نقل کی ہے اس میں حضرت عائشہ کے الفاظ یہ ہیں " فاطمہ کو کیا ہوگیا ہے، وہ خدا سے ڈرتی نہیں ؟ " تیسری روایت میں حضرت عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے فرمایا " فاطمہ کے لیے یہ حدیث بیان کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے "۔ حضرت عروہ ایک اور روایت میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے فاطمہ پر سخت ناراضی کا اظہار فرمایا اور کہا " وہ دراصل ایک خالی مکان میں تھیں جہاں کوئی مونس نہ تھا اس لیے ان کی سلامتی کی خاطر حضور ﷺ نے ان کو گھر بدل دینے کی ہدایت فرمائی تھی "۔ رابعاً ، ان خاتون کا نکاح بعد میں اسامہ بن زید سے ہوا تھا، اور محمد بن اسامہ کہتے ہیں کہ جب کبھی فاطمہ اس حدیث کا ذکر کرتیں میرے والد، جو چیز بھی ان کے ہاتھ لگتی اٹھا کر ان پر دے مارتے تھے (جصاص)۔ ظاہر ہے کہ حضرت اسامہ کے علم میں سنت اس کے خلاف نہ ہوتی تو وہ اس حدیث کی روایت پر اتنی ناراضی کا اظہار نہیں کرسکتے تھے۔ سورة الطَّلَاق 17 یہ امر متفق علیہ ہے کہ مطلقہ، خواہ رجعیہ ہو یا مبتوتہ، اگر حاملہ ہو تو وضع حمل تک اس کی سکونت اور اس کے نفقہ کا ذمہ دار شوہر ہے۔ البتہ اختلاف اس صورت میں ہے جبکہ حاملہ کا شوہر مرگیا ہو، قطع نظر اس سے کہ وہ طلاق دینے کے بعد مرا ہو، یا اس نے کوئی طلاق نہ دی ہو اور عورت زمانہ حمل میں بیوہ ہوگئی ہو۔ اس معاملہ میں فقہاء کے مسالک یہ ہیں 1)۔ حضرت علی اور حضرت عبد اللہ بن مسعود کا قول ہے کہ شوہر کے مجموعی ترکہ میں اس کا نفقہ واجب ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر، قاضی شریح، ابو العالیہ، شعبی اور ابراہیم نخعی سے بھی یہی قول منقول ہے، اور حضرت عبد اللہ بن عباس کا بھی ایک قول اسی کی تائید میں ہے (آلوسی۔ جصاص)۔ 2)۔ ابن جریر نے حضرت عبد اللہ بن عباس کا دوسرا قول یہ نقل کیا ہے کہ اس پر اس کے پیٹ کے بچہ کے حصے میں سے خرچ کیا جائے اگر میت نے کوئی میراث چھوڑی ہو۔ اور اگر میراث نہ چھوڑی ہو تو میت کے وارثوں کو اس پر خرچ کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ (البقرہ، آیت 233)۔ 3)۔ حضرت جابر بن عبد اللہ، حضرت عبداللہ بن الزبیر، حضرت حسن نصری، حضرت سعید بن المُسَیَّب اور حضرت عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ متوفیٰ شوہر کے مال میں اس کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی ایک تیسرا قول یہی منقول ہوا ہے (جصاص)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شوہر کے ترکہ میں سے اس کو جو میراث کا حصہ ملا ہو اس سے وہ اپنا خرچ پورا کرسکتی ہے، لیکن شوہر کے مجموعی ترکے پر اس کا نفقہ عائد نہیں ہوتا جس کا بار تمام وارثوں پر پڑے۔ 4)۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ اس کا نفقہ متوفی شوہر کے مال میں اسی طرح واجب ہے جس طرح اس کے مال میں کسی کا قرض واجب ہوتا ہے (جصاص)۔ یعنی مجموعی ترکہ میں سے جس طرح قرض ادا کیا جاتا ہے اسی طرح اس کا نفقہ بھی ادا کیا جائے۔ 5)۔ امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد اور امام زفر کہتے ہیں کہ میت کے مال میں اس کے لیے نہ سکونت کا حق ہے نہ نفقہ کا۔ کیونکہ موت کے بعد میت کی کوئی ملکیت ہی نہیں ہے۔ اس کے بعد تو وہ وارثوں کا مال ہے۔ ان کے مال میں حاملہ بیوہ کا نفقہ کیسے واجب ہوسکتا ہے (ہدایہ، جصاص)۔ یہی مسلک امام احمد بن حنبل کا ہے (الانصاف)۔ 6)۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ اس کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے، البتہ اسے سکونت کا حق ہے (مُغنی المحتاج)۔ ان کا اسدلال حضرت ابو سعید خدری کی بہن فریعہ بنت مالک کے اس واقعہ سے ہے کہ ان کے شوہر جب قتل کردیے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ شوہر کے گھر ہی میں عدت گزاریں (ابو داؤد، نسائی، ترمذی)۔ مزید برآں ان کا استدلال دارقطنی کی اس روایت سے ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا للحامل المتوفی عنھا زوجھا نفقۃ۔ " بیوہ حاملہ کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے "۔ یہی مسلک امام مالک کا بھی ہے (حاشیۃ الد سوقی)۔ سورة الطَّلَاق 18 اس ارشاد سے کئی اہم باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ عورت اپنے دودھ کی مالک ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ وہ اس کی اجرت لینے کی مجاز نہیں ہو سکتی تھی۔ دوسرے یہ کہ جب وہ وضع حمل ہوتے ہی اپنے سابق شوہر کے نکاح سے باہر ہوگئی تو بچے کو دودھ پلائے گی اور اس پر اجرت لینے کی حق دار ہوگی۔ تیسرے یہ کہ باپ بھی قانوناً مجبور نہیں ہے کہ بچے کی ماں ہی سے اس کو دودھ پلوائے۔ چوتھے یہ کہ بچے کا نفقہ باپ پر عائد ہوتا ہے۔ پانچویں یہ کہ بچے کو دودھ پلانے کی اولین حق دار ماں ہے اور دوسری عورت سے رضاعت کا کام اسی صورت میں لیا جاسکتا ہے جبکہ ماں خود اس پر راضی نہ ہو، یا اس کی اجرت مانگے جس کا ادا کرنا باپ کی مقدرت میں نہ ہو۔ اسی سے چھٹا قاعدہ یہ نکلتا ہے کہ اگر دوسری عورت کو بھی وہی اجرت دینی پڑے جو بچے کی ماں مانگتی ہو تو ماں کا حق اولیٰ ہے۔ فقہاء کی آراء اس مسئلے میں یہ ہیں ضحاک کہتے ہیں کہ " بچے کی ماں اسے دودھ پلانے کی زیادہ حق دار ہے۔ مگر اسے اختیار ہے کہ چاہے دودھ پلائے یا نہ پلائے۔ البتہ اگر بچہ دوسری عورت کی چھاتی قبول نہ کرے تو ماں کو اسے دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے گا "۔ اسی سے ملتی جلتی رائے قتادہ اور ابراہیم نخعی اور سفیان ثوری کی ہے۔ ابراہیم نخعی یہ بھی کہتے ہیں کہ " اگر دوسرے عورت رضاعت کے لیے نہ مل رہی ہو تب بھی ماں کو اسے دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے گا ’‘ (ابن جریر)۔ ہدایہ میں ہے، " اگر ماں باپ کی علیٰحدگی کے وقت چھوٹا بچہ دودھ پیتا ہو تو ماں پر یہ فرض نہیں ہے کہ وہی اسے دودھ پلائے۔ البتہ اگر دوسری عورت نہ ملتی ہو تو وہ رضاعت پر مجبور کی جائے گی۔ اور اگر باپ یہ کہے کہ میں بچے کی ماں کو اجرت دے کر اس سے دودھ پلوانے کے بجائے دوسری عورت سے اجرت پر یہ کام لوں گا، اور ماں دوسری عورت ہی کے برابر اجرت مانگ رہی ہو، یا بلا اجرت ہی اس خدمت کے لیے راضی ہو، تو اس صورت میں ماں کا حق مقدم رکھا جائے گا۔ اور اگر بچے کی ماں زیادہ اجرت مانگ رہی ہو تو باپ کو اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا "۔ سورة الطَّلَاق 19 اس میں ماں اور باپ دونوں کے لیے عتاب کا ایک پہلو ہے۔ انداز بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پچھلی تلخیوں کی بنا پر، جن کے باعث بالآخر طلاق تک نوبت پہنچی تھی، دونوں بھلے طریقہ سے آپس میں بچے کی رضاعت کا معاملہ طے نہ کریں تو یہ اللہ کو پسند نہیں ہے۔ عورت کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تو زیادہ اجرت مانگ کر مرد کو تنگ کرنے کی کوشش کرے گی تو بچے کی پرورش کچھ تیرے ہی اوپر موقوف نہیں ہے، کوئی دوسری عورت اسے دودھ پلالے گی۔ اور مرد کو بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر تو ماں کی مامتا سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اسے تنگ کرنا چاہے گا تو یہ بھلے آدمیوں کا سا کام نہ ہوگا۔ قریب قریب یہی مضمون سورة بقرہ، آیت 233 میں زیادہ تفصیل کے ساتھ ارشاد ہوا ہے۔
Ayahs 65:8–10

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

20 کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اُس کے رسُولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے اُن سے سخت محاسبہ کیا اور اُن کو بُری طرح سزا دی۔

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

انہوں نے اپنے کیے کا مزا چکھ لیا اور اُن کا انجام کار گھاٹا ہی گھاٹا ہے

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

اللہ نے (آخرت میں) ان کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے پس اللہ سے ڈرو اے صاحب عقل لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کر دی ہے

سورة الطَّلَاق 20 اب مسلمانوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اللہ کے رسول اور اس کی کتاب کے ذریعہ سے جو احکام ان کو دیے گئے ہیں ان کی اگر وہ نافرمانی کریں گے تو دنیا اور آخرت میں کس انجام سے دوچار ہونگے، اور اگر اطاعت کی راہ اختیار کریں گے تو کیا جزا پائیں گے۔
Ayah 65:11

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

ایک ایسا رسُول 21 جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سناتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے۔ 22 جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اللہ اُسے ایسی جنّتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ لوگ اُن میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ نے ایسے شخص کے لیے بہترین رزق رکھا ہے

سورة الطَّلَاق 21 مفسرین میں سے بعض نے نصیحت سے مراد قرآن لیا ہے، اور رسول سے مراد محمد ﷺ اور بعض کہتے ہیں کہ نصیحت سے مراد خود رسول اللہ ﷺ ہی ہیں، یعنی آپ کی ذات ہمہ تن نصیحت تھی۔ ہمارے نزدیک یہی دوسری تفسیر زیادہ صحیح ہے، کیونکہ پہلی تفسیر کی رو سے فقرہ یوں بنانا پڑے گا کہ " ہم نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کی ہے اور ایک ایسا رسول بھیجا ہے " قرآن کی عبارت میں اس تبدیلی کی آخر ضرورت کیا ہے جب کہ اس کے بغیر ہی عبارت نہ صرف پوری طرح بامعنی ہے بلکہ زیادہ پر معنی بھی ہے۔ سورة الطَّلَاق 22 یعنی جہالت کی تاریکیوں سے علم کی روشنی میں نکال لائے۔ اس ارشاد کی پوری اہمیت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب انسان طلاق، عدت اور نفقات کے متعلق دنیا کے دوسرے قدیم اور جدید عائلی قوانین کا مطالعہ کرتا ہے۔ اس تقابلی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بار بار کی تبدیلیوں اور نت نئی قانون سازیوں کے باوجود آج تک کسی قوم کو ایسا معقول اور فطری اور معاشرے کے لیے مفید قانون میسر نہیں آسکا ہے جیسا اس کتاب اور اس کے لانے والے رسول ﷺ نے ڈیڑھ ہزار برس پہلے ہم کو دیا تھا اور جس پر کسی نظر ثانی کی ضرورت نہ کبھی پیش آئی نہ پیش آسکتی ہے۔ یہاں اس تقابلی بحث کا موقع نہیں ہے۔ اس کا محض ایک مختصر سا نمونہ ہم نے اپنی کتاب " حقوق الزوجین " کے آخری حصہ میں درج کیا ہے۔ لیکن جو اصحاب علم چاہیں وہ دنیا کے مذہبی اور لادینی قوانین سے قرآن و سنت کے اس قانون کا مقابلہ کر کے خود دیکھ لیں۔
Ayah 65:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی اُنہی کے مانند۔ 23 ان کے درمیان حکم نازل ہوتا رہتا ہے۔ (یہ بات تمہیں اس لیے بتائی جارہی ہے) تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اور یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے

سورة الطَّلَاق 23 " انہی کے مانند " کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جتنے آسمان بنائے اتنی ہی زمینیں بھی بنائیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جیسے متعدد آسمان اس نے بنائے ہیں ویسی ہی متعدد زمینیں بھی بنائی ہیں۔ اور " زمین کی قسم سے " مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہ زمین جس پر انسان رہتے ہیں، اپنی موجودات کے لیے فرش اور گہوارہ بنی ہوئی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کائنات میں اور زمینیں بھی تیار کر رکھی ہیں جو اپنی اپنی آبادیوں کے لیے فرش اور گہوارہ ہیں۔ بلکہ بعض مقامات پر تو قرآن میں یہ اشارہ بھی کردیا گیا ہے کہ جاندار مخلوقات صرف زمین ہی پر نہیں ہیں، عالم بالا میں بھی پائی جاتی ہیں (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم۔ الشوریٰ ، آیت 29، حاشیہ 50)۔ بالفاظ دیگر آسمان میں یہ جو بیشمار تارے اور سیارے نظر آتے ہیں، یہ سب ڈھنڈار پڑے ہوئے نہیں ہیں بلکہ زمین کی طرح ان میں بھی بکثرت ایسے ہیں جن میں دنیائیں آباد ہیں۔ قدیم مفسرین میں سے صرف ابن عباس ایک ایسے مفسر ہیں جنہوں نے اس دور میں اس حقیقت کو بیان کیا تھا جب آدمی اس کا تصور تک کرنے کے لیے تیار نہ تھا کہ کائنات میں اس زمین کے سوا کہیں اور بھی ذی عقل مخلوق بستی ہے۔ آج اس زمانے کے سائنس دانوں تک کو اس کے امر واقعہ ہونے میں شک ہے، کجا کہ 14 سو برس پہلے کے لوگ اسے بآسانی باور کرسکتے۔ اسی لیے ابن عباس ؓ عام لوگوں کے سامنے یہ بات کہتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں اس سے لوگوں کے ایمان متزلزل نہ ہوجائیں۔ چناچہ مجاہد کہتے ہیں کہ ان سے جب اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا " اگر میں اس کی تفسیر تم لوگوں سے بیان کروں تو تم کافر ہوجاؤ گے اور تمہارا کفر یہ ہوگا کہ اسے جھٹلاؤ گے "۔ قریب قریب یہی بات سعید بن جبیر سے بھی منقول ہے کہ ابن عباس نے فرمایا " کیا بھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر میں تمہیں اس کا مطلب بتاؤں تو تم کافر نہ ہوجاؤ گے "۔ (ابن جریر۔ عبد بن حمید)۔ تاہم ابن جریر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے، اور شعب الایمان اور کتاب الاسماء و الصفات میں بیہقی نے ابوالضحٰی کے واسطے سے باختلاف الفاظ ابن عباس کی یہ تفسیر نقل کی ہے کہ فی کلِّ ارضٍ نبیٌّ کنبیِّکم و اٰدمُ کَاٰدَمَ و نوحٌ کنوح و ابراہیم کا براھیم و عیسیٰ کعیسیٰ "۔ ان میں سے ہر زمین میں نبی ہے تمہارے نبی ﷺ جیسا اور آدم ہے تمہارے آدم جیسا اور نوح ہے تمہارے نوح جیسا، اور ابراہیم ہے تمہارے ابراہیم جیسا اور عیسیٰ ہے تمہارے عیسیٰ جیسا "۔ اس روایت کو ابن حجر نے فتح الباری میں اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بھی نقل کیا ہے۔ اور امام ذہبی نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے البتہ میرے علم میں ابوالضحٰی کے سوا کسی نے اسے روایت نہیں کیا ہے، اس لیے یہ بالکل شاذ روایت ہے۔ بعض دوسرے علماء نے اسے کذب اور موضوع قرار دیا ہے اور ملا علی قاری نے اس کو موضوعات کبیر (ص 19) میں موضوع کہتے ہوئے لکا ہے کہ اگر یہ ابن عباس ہی کی روایت ہے تب بھی اسرائیلیات میں سے ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے رد کرنے کی اصل وجہ لوگوں کا اسے بعید از عقل و فہم سمجھنا ہے، ورنہ بجائے خود اس میں کوئی بات بھی خلاف عقل نہیں ہے۔ چناچہ علامہ آلوسی اپنی تفسیر میں اس پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں " اس کو صحیح ماننے میں نہ عقلاً کوئی چیز مانع ہے نہ شرعاً۔ مراد یہ ہے کہ ہر زمین میں ایک مخلوق ہے جو ایک اصل کی طرف اسی طرح راجع ہوتی ہے جس طرح بنی آدم ہماری زمین میں آدم ؑ کی طرف راجع ہوتے ہیں۔ اور ہر زمین میں ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو اپنے ہاں دوسروں کی بہ نسبت اسی طرح ممتاز ہیں جس طرح ہمارے ہاں نوح اور ابراہیم ؑ ممتاز ہیں "۔ آگے چل کر علامہ موصوف کہتے ہیں " ممکن ہے کہ زمینیں سات سے زیادہ ہوں اور اسی طرح آسمان بھی صرف سات ہی نہ ہوں۔ سات کے عدد پر، جو عدد تام ہے، اکتفا کرنا اس بات کو مستلزم نہیں کہ اس سے زائد کی نفی ہو "۔ پھر بعض احادیث میں ایک ایک آسمان کی درمیانی مسافت جو پانچ پانچ سو برس بیان کی گئی ہے اس کے متعلق علامہ موصوف کہتے ہیں ھومن باب التقریب للافْھام، یعنی اس سے مراد ٹھیک ٹھیک مسافت کی پیمائش بیان کرنا نہیں ہے، بلکہ مقصود بات کو اس طرح بیان کرنا ہے کہ وہ لوگوں کی سمجھ سے قریب تر ہو۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حال میں امریکہ کے رانڈ کارپوریشن (Rand Corporation) نے فلکی مشاہدات سے اندازہ لگایا ہے کہ زمین جس کہکشاں (Galaxy) میں واقع ہے صرف اسی کے اندر تقریباً 60 کروڑ ایسے سیارے پائے جاتے ہیں جن کے طبعی حالات ہماری زمین سے بہت کچھ ملتے چلتے ہیں اور امکان ہے کہ ان کے اندر بھی جاندار مخلوق آباد ہو (اکانومسٹ، لندن۔ مورخہ 26 جولائی 1969 ء)۔