Ayah 60:10سورة الْمُمْتَحِنَة 14
اس حکم کا پس منظر یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد اول اول تو مسلمان مرد مکہ سے بھاگ بھاگ کر مدینہ آتے رہے اور انہیں معاہدے کی شرائط کے مطابق واپس کیا جاتا رہا۔ پھر مسلمان عورتوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور سب سے پہلے ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ہجرت کر کے مدینے پہنچیں۔ کفار نے معاہدے کا حوالہ دے کر ان کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا اور ام کلثوم کے دو بھائی ولید بن عقبہ اور عمارہ بن عقبہ انہیں واپس لے جانے کے لیے مدینے پہنچ گئے۔ اس وقت یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر وہ مسلمان ہوں اور یہ اطمینان کرلیا جائے کہ واقعی وہ ایمان ہی کی خاطر ہجرت کر کے آئی ہیں، کوئی اور چیز انہیں نہیں لائی ہے، تو انہیں واپس نہ کیا جائے۔
اس مقام پر احادیث کی روایت بالمعنیٰ سے ایک بڑی پیچیدگی پیدا ہوگئی ہے جسے حل کرنا ضروری ہے۔ صلح حدیبیہ کی شرائط کے متعلق احادیث میں جو روایتیں ہمیں ملتی ہیں وہ اکثر و بیشتر بالمعنیٰ روایات ہیں۔ زیر بحث شرط کے متعلق ان میں سے کسی روایت کے الفاظ یہ ہیں من جاء منکم لم نردہ علیکم ومن جاء کم منا رددتموہ علینا۔ " تم میں سے جو شخص ہمارے پاس آئے گا اسے ہم واپس نہ کریں گے اور ہم میں سے جو تمہارے پاس جائے گا اسے تم واپس کرو گے "۔ کسی میں یہ الفاظ ہیں، من اتٰی رسول اللہ من اصحابہ بغیر اذن ولیہ ردہ علیہ۔ " رسول اللہ کے پاس ان کے اصحاب میں سے جو شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر آئے گا اسے وہ واپس کردیں گے "۔ اور کسی میں ہے من اتٰی محمداً من قریش بغیر اذن ولیہ ردہ علیہم۔ " قریش میں سے جو شخص محمد کے پاس اپنے ولی کی اجازت کے بغیر جائے گا اسے وہ قریش کو واپس کردیں گے "۔ ان روایات کا طرز بیان خود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ ان میں معاہدے کی اس شرط کو ان الفاظ میں نقل نہیں کیا گیا ہے جو اصل معاہدے میں لکھے گئے تھے، بلکہ راویوں نے ان کا مفہوم خود اپنے الفاظ میں بیان کردیا ہے۔ لیکن چونکہ بکثرت روایات اسی نوعیت کی ہیں اس لیے عام طور پر مفسرین و محدثین نے اس سے یہی سمجھا کہ معاہدہ عام تھا جس میں عورت مرد سب داخل تھے اور عورتوں کو بھی اس کی رو سے واپس ہونا چاہیے تھا۔ اس کے بعد جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا یہ حکم آیا کہ مومن عورتیں واپس نہ جائیں تو ان حضرات نے اس کی یہ تاویل کی کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مومن عورتوں کی حد تک معاہدہ توڑ دینے کا فیصلہ فرما دیا۔ مگر یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے جس کو اس آسانی کے ساتھ قبول کرلیا جائے۔ اگر معاہدہ فی الواقع بلا تخصیص مرد و زن سب کے لیے عام تھا تو آخر یہ کیسے جائز ہوسکتا تھا کہ ایک فریق اس میں یک طرفہ ترمیم کر دے یا اس کے کسی جز کو بطور خود بدل ڈالے ؟ اور بالفرض ایسا کیا بھی گیا تھا تو یہ کیسی عجیب بات ہے کہ قریش کے لوگوں نے اس پر کوئی احتجاج نہیں کیا۔ قریش والے تو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی ایک ایک بات پر گرفت کرنے کے لیے خار کھائے بیٹھے تھے۔ انہیں اگر یہ بات ہاتھ آجاتی کہ آپ شرائط معاہدہ کی صریح خلاف ورزی کر گزرے ہیں تو وہ زمین و آسمان سر پر اٹھا لیتے۔ لیکن ہمیں کسی روایت میں اس کا شائبہ تک نہیں ملتا کہ انہوں نے قرآن کے اس فیصلے پر ذرہ برابر بھی چون و چرا کی ہو۔ یہ ایسا سوال تھا جس پر غور کیا جاتا تو معاہدے کے اصل الفاظ کی جستجو کر کے اس پیچیدگی کا حل تلاش کیا جاتا، مگر بہت سے لوگوں نے تو اس کی طرف توجہ نہ کی، اور بعض حضرات (مثلاً قاضی ابوبکر ابن عربی) نے توجہ کی بھی تو انہوں نے قریش کے اعتراض نہ کرنے کی یہ توجیہ تک کرنے میں تامل نہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ اس معاملہ میں قریش کی زبان بند کردی تھی۔ تعجب ہے کہ اس توجیہ پر ان حضرات کا ذہن کیسے مطمئن ہوا۔
اصل بات یہ ہے کہ معاہدہ صلح کی یہ شرط مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ کفار قریش کی طرف سے تھی، اور ان کی جانب سے ان کے نمائندے سہیل بن عمرو نے جو الفاظ معاہدے میں لکھوائے تھے وہ یہ تھے علیٰ ان لا یاتیک منا رجل و ان کان علی دینک الا رددتہ الینا۔ " اور یہ کہ تمہارے پاس ہم میں سے کوئی مرد بھی آئے، اگرچہ وہ تمہارے دین ہی پر ہو، تم اسے ہماری طرف واپس کرو گے "۔ معاہدے کے یہ الفاظ بخاری، کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد و المصالحہ میں قوی سند کے ساتھ نقل ہوئے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ سہیل نے رجل کا لفظ شخص کے معنی میں استعمال کیا ہو، لیکن یہ اس کی ذہنی مراد ہوگی۔ معاہدے میں جو لفظ لکھا گیا تھا وہ رجل ہی تھا جو عربی زبان میں مرد کے لیے بولا جاتا ہے۔ اسی بنا پر جب ام کلثوم بنت عقبہ کی واپسی کا مطالبہ لے کر ان کے بھائی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو (امام زہری کی روایت کے مطابق) رسول اللہ ﷺ نے ان کو واپس کرنے سے یہ کہہ کر انکار فرمایا کہ کان الشرط فی الرجال دون النساء۔ " شرط مردوں کے بارے میں تھی نہ کہ عورتوں کے بارے میں "۔ (احکام القرآن، ابن عربی۔ تفسیر کبیر، امام رازی)۔ اس وقت تک خود قریش کے لوگ بھی اس غلط فہمی میں تھے کہ معاہدے کا اطلاق ہر طرح کے مہاجرین پر ہوتا ہے، خواہ وہ مرد ہوں یا عورت۔ مگر جب حضور نے ان کو معاہدے کے ان الفاظ کی طرف توجہ دلائی تو وہ دم بخود رہ گئے اور انہیں ناچار اس فیصلے کو ماننا پڑا۔
معاہدے کی اس شرط کے لحاظ سے مسلمانوں کو حق تھا کہ جو عورت بھی مکہ چھوڑ کر مدینے آتی، خواہ وہ کسی غرض سے آتی، اسے واپس دینے سے انکار کردیتے۔ لیکن اسلام کی صرف مومن عورتوں کی حفاظت سے دلچسپی تھی، ہر طرح کی بھاگنے والی عورتوں کے لیے مدینہ طیبہ کو پناہ گاہ بنانا مقصود نہ تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جو عورتیں ہجرت کر کے آئیں اور اپنے مومن ہونے کا اظہار کریں، ان سے پوچھ گچھ کر کے اطمینان کرلو کہ وہ واقعی ایمان لے کر آئی ہیں، اور جب اس کا اطمینان ہوجائے تو انکو واپس نہ کرو۔ چناچہ اس ارشاد الٰہی پر عمل درآمد کرنے کے لیے جو قاعدہ بنایا گیا وہ یہ تھا کہ جو عورتیں ہجرت کر کے آتی تھیں ان سے پوچھا جاتا تھا کہ کیا وہ اللہ کی توحید اور محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان رکھتی ہیں اور صرف اللہ اور اس کے رسول کی خاطر نکل کر آئی ہیں ؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ وہ شوہر سے بگڑ کر گھر سے نکل کھڑی ہوئی ہوں ؟ یا ہمارے ہاں کے کسی مرد کی محبت ان کو لے آئی ہو ؟ یا کوئی اور دنیوی غرض ان کے اس فعل کی محرک ہوئی ہو ؟ ان سوالات کا اطمینان بخش جواب جو عورتیں دے دیتی تھیں صرف ان کو روک لیا جاتا تھا، باقی سب کو واپس کردیا جاتا تھا (ابن جریر بحوالہ ابن عباس، قتادہ، مجاہد، عکرمہ، ابن زید)۔
اس آیت میں قانون شہادت کا بھی ایک اصولی ضابطہ بیان کردیا گیا ہے اور اس کی مزید توضیح اس طریق کار سے ہوگئی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اس پر عمل درآمد کے لیے مقرر فرمایا تھا۔ آیت میں تین باتیں فرمائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ ہجرت کرنے والی جو عورتیں اپنے آپ کو مومن ہونے کی حیثیت سے پیش کریں ان کے ایمان کی جانچ کرو۔ دوسرے یہ کہ ان کے ایمان کی حقیقت کو تو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، تمہارے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ وہ حقیقت میں ایمان لائی ہیں۔ تیسرے یہ کہ جانچ پڑتال سے جب تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ مومن ہیں تو انہیں واپس نہ کرو۔ پھر اس حکم کے مطابق ان عورتوں کے ایمان کی جانچ کرنے کے لیے جو طریقہ حضور نے مقرر فرمایا وہ یہ تھا کہ ان عورتوں کے حلفیہ بیان پر اعتماد کیا جائے اور ضروری جرح کر کے یہ اطمینان کرلیا جائے کہ ان کی ہجرت کا محرک ایمان کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ اس سے اول تو یہ قاعدہ معلوم ہوا کہ معاملات کا فیصلہ کرنے کے لیے عدالت کو حقیقت کا علم حاصل ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ صرف وہ علم کافی ہے جو شہادتوں سے حاصل ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ہم ایک شخص کے حلفیہ بیان پر اعتماد کریں گے۔ تاوقتیکہ کوئی صریح قرینہ اس کے کاذب ہونے پر دلالت نہ کر رہا ہو۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ آدمی اپنے عقیدے اور ایمان کے متعلق خود جو خبر دے رہا ہو ہم اسے قبول کریں گے اور اس بات کی کھوج میں نہ پڑیں گے کہ فی الواقع اس کا وہی عقیدہ ہے جو وہ بیان کر رہا ہے، الا یہ کہ کوئی صریح علامت ہمارے سامنے ایسی ظاہر ہوجائے جو اس کی تردید کر رہی ہو۔ اور چوتھی بات یہ کہ ایک شخص کے جن ذاتی حالات کو دوسرا کوئی نہیں جان سکتا ان میں اسی کے بیان پر بھروسہ کیا جائے گا، مثلاً طلاق اور عدت کے معاملات میں عورت کے حیض اور طہر کے متعلق اس کا اپنا بیان ہی معتبر ہوگا، خواہ وہ جھوٹ بولے یا سچ۔ انہی قواعد کے مطابق علم حدیث میں بھی ان روایات کو قبول کیا جائے گا جن کے راویوں کا ظاہر حال ان کے راستباز ہونے کی شہادت دے رہا ہو، الا یہ کہ کچھ دوسرے قرائن ایسے موجود ہوں جو کسی روایت کے قبول میں مانع ہوں۔
سورة الْمُمْتَحِنَة 15
مطلب یہ ہے کہ ان کے کافر شوہروں کو ان کے جو مہر واپس کیے جائیں گے وہی ان عورتوں کے مہر شمار نہ ہوں گے، بلکہ جو مسلمان بھی ان میں سے کسی عورت سے نکاح کرنا چاہے وہ اس کا مہر ادا کرے اور اس سے نکاح کرلے۔
سورة الْمُمْتَحِنَة 16
ان آیات میں چار بڑے اہم حکم بیان کیے گئے ہیں جن کا تعلق اسلام کے عائلی قانون سے بھی ہے اور بین الا قوامی قانون سے بھی
اول یہ کہ جو عورت مسلمان ہوجائے وہ اپنے کافر شوہر کے لیے حلال نہیں رہتی اور نہ کافر شوہر اس کے لیے حلال رہتا ہے۔
دوسرے یہ کہ جو منکوحہ عورت مسلمان ہو کر دار الکفر سے دار الاسلام میں ہجرت کر آئے اس کا نکاح آپ سے آپ ٹوٹ جاتا ہے اور جو مسلمان بھی چاہے اس کا مہر دے کر اس سے نکاح کرسکتا ہے۔
تیسرے یہ کہ جو مرد مسلمان ہوجائے اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اس کی بیوی اگر کافر رہے تو وہ اسے اپنے نکاح میں روکے رکھے۔
چوتھے یہ کہ اگر دار الکفر اور دار الاسلام کے درمیان صلح کے تعلقات موجود ہوں تو اسلامی حکومت کو دار الکفر کی حکومت سے یہ معاملہ طے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ کفار کی جو منکوحہ عورتیں مسلمان ہو کر دار الاسلام میں ہجرت کر آئی ہوں ان کے مہر مسلمانوں کی طرف سے واپس دے دیے جائیں، اور مسلمانوں کی منکوحہ کافر عورتیں جو دار الکفر میں رہ گئی ہوں ان کے مہر کفار کی طرف سے واپس مل جائیں۔
ان احکام کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ آغاز اسلام میں بکثرت مرد ایسے تھے جنہوں نے اسلام قبول کرلیا مگر ان کی بیویاں مسلمان نہ ہوئیں۔ اور بہت سی عورتیں ایسی تھیں جو مسلمان ہوگئیں مگر ان کے شوہروں نے اسلام قبول نہ کیا۔ خود رسول اللہ ﷺ کی ایک صاحبزادی حضرت زینب کے شوہر ابو العاص غیر مسلم تھے اور کئی سال تک غیر مسلم رہے۔ ابتدائی دور میں ایسا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ مسلمان عورت کے لیے اس کا کافر شوہر اور مسلمان مرد کے لیے اس کی مشرک بیوی حلال نہیں ہے۔ اس لیے ان کے درمیان ازدواجی رشتے برقرار رہے۔ ہجرت کے بعد بھی کئی سال تک یہ صورت حال رہی کہ بہت سی عورتیں مسلمان ہو کر ہجرت کر آئیں اور ان کے کافر شوہر دار الکفر میں رہے۔ اور بہت سے مسلمان مرد ہجرت کر کے آگئے اور ان کی کافر بیویاں دار الکفر میں رہ گئیں۔ مگر اس کے باوجود ان کے درمیان رشتہ ازدواج قائم رہا۔ اس سے خاص طور پر عورتوں کے لیے بڑی پیچیدگی پیدا ہو رہی تھی، کیونکہ مرد تو دوسرے نکاح بھی کرسکتے تھے، مگر عورتوں کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ جب تک سابق شوہروں سے ان کا نکاح فسخ نہ ہوجائے وہ کسی اور شخص سے نکاح کرسکیں۔ صلح حدیبیہ کے بعد جب یہ آیات نازل ہوئیں تو انہوں نے مسلمانوں اور کفار و مشرکین کے درمیان سابق کے ازدواجی رشتوں کو ختم کردیا اور آئندہ کے لیے ان کے بارے میں ایک قطعی اور واضح قانون بنادیا۔ فقہائے اسلام نے اس قانون کو چار بڑے بڑے عنوانات کے تحت مرتب کیا ہے
ایک وہ حالت جس میں زوجین دار الاسلام میں ہوں اور ان میں سے ایک مسلمان ہوجائے اور دوسرا کافر رہے۔
دوسرے وہ حالت جس میں زوجین دار الکفر میں ہوں اور ان میں سے ایک مسلمان ہوجائے اور دوسرا کافر رہے۔
تیسرے وہ حالت جس میں زوجین میں سے کوئی ایک مسلمان ہو کر دار الاسلام میں ہجرت کر کے آجائے اور دوسرا دار الکفر میں کافر رہے۔
چوتھے وہ حالت جس میں مسلم زوجین میں سے کوئی ایک مرتد ہوجائے۔
ذیل میں ہم ان چاروں حالتوں کے متعلق فقہاء کے مسالک الگ الگ بیان کرتے ہیں
پہلی صورت میں اگر اسلام شوہر نے قبول کیا ہو اور اس کی بیوی عیسائی یا یہودی ہو اور وہ اپنے دین پر قائم رہے تو دونوں کے درمیان نکاح باقی رہے گا، کیونکہ مسلمان مرد کے لیے اہل کتاب بیوی جائز ہے۔ یہ امر تمام فقہاء کے درمیان متفق علیہ ہے۔
اور اگر اسلام قبول کرنے والے مرد کی بیوی غیر اہل کتاب میں سے ہو اور وہ اپنے دین پر قائم رہے، تو حنفیہ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ عورت کے سامنے اسلام پیش کیا جائے گا، قبول کرلے تو نکاح باقی رہے گا، نہ قبول کرے تو ان کے درمیان تفریق کردی جائے گی۔ اس صورت میں اگر زوجین کے درمیان خلوت ہوچکی ہو تو عورت مہر کی مستحق ہوگی، اور خلوت نہ ہوئی ہو تو اس کو مہر پانے کا حق نہ ہوگا، کیونکہ فرقت اس کے انکار کی وجہ سے واقع ہوئی ہے (المبسوط، ہدایہ، فتح القدیر)۔ امام شافعی اور احمد کہتے ہیں کہ اگر زوجین کے درمیان خلوت نہ ہوئی ہو تو مرد کے اسلام قبول کرتے ہی عورت اس کے نکاح سے باہر ہوجائے گی، اور اگر خلوت ہوچکی ہو تو عورت تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اس کے نکاح میں رہے گی، اس دوران میں وہ خود اپنی مرضی سے اسلام قبول کرلے تو نکاح باقی رہے گا، ورنہ تیسری بار ایام سے فارغ ہوتے ہی آپ سے آپ فسخ ہوجائے گا۔ امام شافعی یہ بھی فرماتے ہیں کہ ذمیوں کو ان کے مذہب سے تعرض نہ کرنے کی جو ضمانت ہماری طرف سے دی گئی ہے اس کی بنا پر یہ درست نہیں ہے کہ عورت کے سامنے اسلام پیش کیا جائے۔ لیکن در حقیقت یہ ایک کمزور بات ہے، کیونکہ ایک ذمی عورت کے مذہب سے تعرض تو اس صورت میں ہوگا جبکہ اس کو اسلام قبول کرنے پر مجور کیا جائے۔ اس سے صرف یہ کہنا کوئی بےجا تعرض نہیں ہے کہ تو اسلام قبول کرلے تو اپنے شوہر کے ساتھ رہ سکے گی ورنہ تجھے اس سے الگ کردیا جائے گا۔ حضرت علی کے زمانے میں اس کی نظیر پیش بھی آ چکی ہے۔ عراق کے ایک مجوسی زمیندار نے اسلام قبول کیا اور اس کی بیوی کافر رہی۔ حضرت علی نے اس کے سامنے اسلام پیش فرمایا۔ اور جب اس نے انکار کیا تب آپ نے دونوں کے درمیان تفریق کرا دی (المبسوط)۔ امام مالک کہتے ہیں کہ اگر خلوت نہ ہوچکی ہو تو مرد کے اسلام لاتے ہی اس کی کافر بیوی اس سے فوراً جدا ہوجائے گی اور اگر خلوت ہوچکی ہو تو عورت کے سامنے اسلام پیش کیا جائے گا اور اس کے انکار کی صورت میں جدائی واقع ہوجائے گی (المغنی لابن قدامہ)۔
اور اگر اسلام عورت نے قبول کیا ہو اور مرد کافر رہے، خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہو یا غیر اہل کتاب میں سے، تو حنفیہ کہتے ہیں کہ دونوں میں خلوت ہوچکی ہو یا نہ ہوئی ہو، ہر صورت میں شوہر کے سامنے اسلام پیش کیا جائے گا، قبول کرلے تو عورت اس کے نکاح میں رہے گی، انکار کر دے تو قاضی دونوں میں تفریق کرا دے گا۔ اس دوران میں جب تک مرد اسلام سے انکار نہ کرے، عورت اس کی بیوی تو رہے گی مگر اس کو مقاربت کا حق نہ ہوگا۔ شوہر کے انکار کی صورت میں تفریق طلاق بائن کے حکم میں ہوگی۔ اگر اس سے پہلے خلوت نہ ہوئی ہو تو عورت نصف مہر پانے کی حق دار ہوگی، اور خلوت ہوچکی ہو تو عورت پورا مہر بھی پائے گی اور عدت کا نفقہ بھی (المبسوط۔ ہدایہ۔ فتح القدیر)۔ امام شافعی کے نزدیک خلوت نہ ہونے کی صورت میں عورت کے اسلام قبول کرتے ہی نکاح فسخ ہوجائے گا، اور خلوت ہونے کی صورت میں عدت ختم ہونے تک عورت اس مرد کے نکاح میں رہے گی۔ اس مدت کے اندر وہ اسلام قبول کرلے تو نکاح باقی رہے گا ورنہ عدت گزرتے ہی جدائی واقع ہوجائے گی۔ لیکن مرد کے معاملہ میں بھی امام شافعی نے وہی رائے ظاہر کی ہے جو عورت کے معاملہ میں اوپر منقول ہوئی کہ اس کے سامنے اسلام پیش کرنا جائز نہیں ہے، اور یہ مسلک بہت کمزور ہے۔ حضرت عمر کے زمانے میں متعدد واقعات ایسے پیش آئے ہیں کہ عورت نے اسلام قبول کرلیا اور مرد سے اسلام لانے کے لیے کہا گیا اور جب اس نے انکار کردیا تو دونوں کے درمیان تفریق کرا دی گئی۔ مثلاً بنی تغلب کے ایک عیسائی کی بیوی کا معاملہ ان کے سامنے پیش ہوا۔ انہوں نے مرد سے کہا یا تو تو اسلام قبول کرلے ورنہ میں تم دونوں کے درمیان تفریق کر دوں گا۔ اس نے انکار کیا اور آپ نے تفریق کی ڈگری دے دی۔ بہز المَلِک کی ایک نو مسلم زمیندارنی کا مقدمہ ان کے پاس بھیجا گیا۔ اس کے معاملہ میں بھی انہوں نے حکم دیا کہ اس کے شوہر کے سامنے اسلام پیش کیا جائے، اگر وہ قبول کرلے تو بہتر، ورنہ دونوں میں تفریق کرا دی جائے۔ یہ واقعات صحابہ کرام کے سامنے پیش آئے تھے اور کسی کا اختلاف منقول نہیں ہے (احکام القرآن للجصاص۔ المبسوط۔ فتح القدیر) امام مالک کی رائے اس معاملے میں یہ ہے کہ اگر خلوت سے پہلے عورت مسلمان ہوجائے تو شوہر کے سامنے اسلام پیش کیا جائے، وہ قبول کرلے تو بہتر ورنہ فوراً تفریق کرا دی جائے۔ اور اگر خلوت ہوچکی ہو اور اس کے بعد عورت اسلام لائی ہو تو زمانہ عدت ختم ہونے تک انتظار کیا جائے، اس مدت میں شوہر اسلام قبول کرلے تو نکاح باقی رہے گا، ورنہ عدت گزرتے ہی فرقت واقع ہوجائے گی۔ امام احمد کا ایک قول امام شافعی کی تائید میں ہے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ زوجین کے درمیان اختلاف دین واقع ہوجانا بہرحال فوری تفریق کا موجب ہے خواہ خلوت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو (المغنی)۔
(2) دار الکفر میں اگر عورت مسلمان ہوجائے اور مرد کافر رہے، یا مرد مسلمان ہوجائے اور اس کی بیوی (جو عیسائی یا یہودی نہ ہو بلکہ کسی غیر کتابی مذہب کی ہو) اپنے مذہب پر قائم رہے، تو حنفیہ کے نزدیک خواہ ان کے درمیان خلوت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو، تفریق واقع نہ ہوگی جب تک عورت کو تین مرتبہ ایام ماہواری نہ آجائیں، یا اس کے غیر حائضہ ہونے کو صورت میں تین مہینے نہ گزر جائیں۔ اس دوران میں اگر دوسرا فریق بھی مسلمان ہوجائے تو نکاح باقی رہے گا، ورنہ یہ مدت گزرتے ہی فرقت واقع ہوجائے گی۔ امام شافعی اس معاملہ میں بھی خلوت اور عدم خلوت کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ ان کی رائے یہ ہے کہ اگر خلوت نہ ہوئی ہو تو زوجین کے درمیان دین کا اختلاف واقع ہوتے ہی فرقت ہوجائے گی، اگر خلوت ہوجانے کے بعد دین کا اختلاف رونما ہوا ہو تو عدت کی مدت ختم ہونے تک ان کا نکاح باقی رہے گا۔ اس دوران میں اگر دوسرا فریق اسلام قبول نہ کرے تو عدت ختم ہونے کے ساتھ ہی نکاح بھی ختم ہوجائے گا (المبسوط، فتح القدیر، احکام القرآن للجصاص)۔
(3)۔ جس صورت میں زوجین کے درمیان اختلاف دین کے ساتھ اختلاف دار بھی واقع ہوجائے، یعنی ان میں سے کوئی ایک دار الکفر میں کافر رہے اور دوسرا دار الاسلام کی طرف ہجرت کر جائے، اس کے متعلق حنفیہ کہتے ہیں کہ دونوں کے درمیان نکاح کا تعلق آپ سے آپ ختم ہوجائے گا۔ اگر ہجرت کرنے والی عورت ہو تو اسے فوراً دوسرا نکاح کرلینے کا حق حاصل ہے، اس پر کوئی عدت نہیں ہے، البتہ مقاربت کے لیے اس کے شوہر کو استبراء رحم کی خاطر ایک مرتبہ ایام ماہواری آجانے تک انتظار کرنا ہوگا، اور اگر وہ حاملہ ہو تب بھی نکاح ہوسکتا ہے مگر مقاربت کے لیے وضع حمل تک انتظار کرنا ہوگا۔ امام ابو یوسف اور امام محمد نے اس مسئلے میں امام ابوحنیفہ سے صرف اتنا اختلاف کیا ہے کہ ان کے نزدیک عورت پر عدت لازم ہے، اور اگر وہ حاملہ ہو تو وضع حمل سے پہلے اس کا نکاح نہیں ہوسکتا (المبسوط۔ ہدایہ۔ احکام القرآن للجصاص)۔ امام شافعی، امام احمد اور امام مالک کہتے ہیں کہ اختلاف دار کا اس معاملہ میں کوئی دخل نہیں ہے، بلکہ اصل چیز صرف اختلاف دین ہے۔ یہ اختلاف اگر زوجین میں واقع ہوجائے تو احکام وہی ہیں جو دار الاسلام میں زوجین کے درمیان یہ اختلاف واقع ہونے کے احکام ہیں (المغنی)۔ امام شافعی اپنی مذکورہ بالا رائے کے ساتھ ساتھ ہجرت کر کے آنے والی مسلمان عورت کے معاملہ میں یہ رائے بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اگر وہ اپنے کافر شوہر سے لڑ کر اس کے حق زوجیت کو ساقط کرنے کے ارادے سے آئی ہو تو اختلاف دار کی بنا پر نہیں بلکہ اس کے اس قصد کی بنا پر فوراً فرقت واقع ہوجائے گی (المبسوط و ہدایہ)۔
لیکن قرآن مجید کی زیر بحث آیت پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں صحیح ترین رائے وہی ہے جو امام ابوحنیفہ نے ظاہر فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ہجرت کر کے آنے والی مومن عورتوں ہی کے بارے میں نازل فرمائی ہے، اور انہی کے حق میں یہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے ان کافر شوہروں کے لیے حلال نہیں رہیں جنہیں وہ دار الکفر میں چھوڑ آئی ہیں، اور دار الاسلام کے مسلمانوں کو اجازت دی ہے کہ وہ ان کے مہر ادا کر کے ان سے نکاح کرلیں۔ دوسری طرف مہاجر مسلمانوں سے خطاب کر کے یہ فرمایا ہے کہ اپنی ان کافر بیویوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رکھو جو دار الکفر میں رہ گئی ہیں اور کفار سے اپنے وہ مہر واپس مانگ لو جو تم نے ان عورتوں کو دیے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ صرف اختلاف دین ہی کے احکام نہیں ہیں بلکہ ان احکام کو جس چیز نے یہ خاص شکل دے دی ہے وہ اختلاف دار ہے۔ اگر ہجرت کی بنا پر مسلمان عورتوں کے نکاح ان کے کافر شوہروں سے ٹوٹ نہ گئے ہوتے تو مسلمانوں کو ان سے نکاح کرلینے کی اجازت کیسے دی جاسکتی تھی، اور وہ بھی اس طرح کہ اس اجازت میں عدت کی طرف کوئی اشارہ تک نہیں ہے۔ اسی طرح اگر لَا تُمْسِکُوْا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ کا حکم آجانے کے بعد بھی مسلمان مہاجرین کی کافر بیویاں ان کے نکاح میں باقی رہ گئی ہوتیں تو ساتھ ساتھ یہ حکم بھی دیا جاتا کہ انہیں طلاق دے دو۔ مگر یہاں اس کی طرف بھی کوئی اشارہ نہیں۔ بلاشبہ یہ صحیح ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد حضرت عمر اور حضرت طلحہ اور بعض دوسرے مہاجرین نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی تھی۔ مگر یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ ان کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا، اور ان بیویوں کے ساتھ تعلق زوجیت کا انقطاع ان کے طلاق دینے پر موقوف تھا، اور اگر وہ طلاق نہ دیتے تو وہ بیویاں ان کے نکاح میں باقی رہ جاتیں۔
اس کے جواب میں عہد نبوی کے تین واقعات کی نظیریں پیش کی جاتی ہیں جن کو اس امر کا ثبوت قرار دیا جاتا ہے کہ ان آیات کے نزول کے بعد بھی نبی ﷺ نے اختلاف دار کے باوجود مومن اور کافر زوجین کے درمیان نکاح کا تعلق برقرار رکھا۔ پہلا واقعہ یہ ہے کہ فتح مکہ سے ذرا پہلے ابوسفیان مرالظَّہْران (موجودہ وادی فاطمہ) کے مقام پر لشکر اسلام میں آئے اور یہاں انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور ان کی بیوی ہند مکہ میں کافر رہیں۔ پھر فتح مکہ کے بعد ہند نے اسلام قبول کیا اور نبی ﷺ نے تجدید نکاح کے بغیر ہی ان کو سابق نکاح پر برقرار رکھا۔ دوسرا واقعہ یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد عکرمہ بن ابی جہل اور حکیم بن حزام مکہ سے فرار ہوگئے اور ان کے پیچھے دونوں کی بیویاں مسلمان ہوگئیں۔ پھر انہوں نے حضور ﷺ سے اپنے شوہروں کے لیے امان لے لی اور جا کر ان کو لے آئیں۔ دونوں اصحاب نے حاضر ہو کر اسلام قبول کرلیا اور نبی ﷺ نے ان کے بھی سابق نکاحوں کو بر قرار رکھا۔ تیسرا واقعہ حضور ﷺ کی اپنی صاحبزادی حضرت زینب کا ہے جو ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے آئیں تھیں اور ان کے شوہر ابو العاص بحالت کفر مکہ ہی میں مقیم رہ گئے تھے۔ ان کے متعلق مسند احمد، ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ابن عباس کی روایت یہ ہے کہ وہ 8 ھ میں مدینہ آ کر مسلمان ہوئے اور حضور ﷺ نے تجدید نکاح کے بغیر سابق نکاح ہی پر صاحبزادی کو ان کی زوجیت میں رہنے دیا۔ لیکن ان میں سے پہلے دو واقعے تو درحقیقت اختلاف دار کی تعریف ہی میں نہیں آتے، کیونکہ اختلاف دار اس چیز کا نام نہیں ہے ایک شخص عارضی طور پر ایک دار سے دوسرے دار کی طرف چلا گیا یا فرار ہوگیا، بلکہ یہ اختلاف صرف اس صورت میں واقع ہوتا ہے جب کوئی آدمی ایک دار سے منتقل ہو کر دوسرے دار میں آباد ہوجائے اور اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان موجودہ زمانے کی اصلاح کے مطابق " قومیت " (Nationality) کا فرق واقع ہوجائے۔ رہا سیدہ زینب ؓ کا معاملہ تو اس کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت ابن عباس کی ہے جس کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے، اور دوسری روایت حضرت عبداللہ بن عمر بن عاص کی ہے جس کو امام احمد، ترمذی، اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے۔ اس دوسری روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی ﷺ نے صاحبزادی کو جدید نکاح اور جدید مہر کے ساتھ پھر ابو العاص ہی کی زوجیت میں دے دیا۔ اس اختلاف روایت کی صورت میں اول تو یہ نظیر ان حضرات کے لیے قطعی دلیل نہیں رہتی جو اختلاف دار کی قانونی تاثیر کا انکار کرتے ہیں۔ دوسرے، اگر وہ ابن عباس ہی کی روایت کے صحیح ہونے پر اصرار کریں تو یہ ان کے مسلک کے خلاف پڑتی ہے۔ کیونکہ ان کے مسلک کی رو سے تو جن میاں بیوی کے درمیان اختلاف دین واقع ہوگیا ہو اور وہ باہم خلوت کرچکے ہوں ان کا نکاح عورت کو صرف تین ایام ماہواری آنے تک باقی رہتا ہے، اس دوران میں دوسرا فریق اسلام قبول کرلے تو زوجیت قائم رہتی ہے، ورنہ تیسری بار ایام آتے ہی نکاح آپ سے آپ فسخ ہوجاتا ہے۔ لیکن حضرت زینب کے جس واقعہ سے وہ استدلال کرتے ہیں اس میں زوجین کے درمیان اختلاف دین واقع ہوئے کئی سال گزر چکے تھے، حضرت زینب کی ہجرت کے چھ سال بعد ابو العاص ایمان لائے تھے، اور ان کے ایمان لانے سے کم از کم دو سال پہلے قرآن میں وہ حکم نازل ہوچکا تھا جس کی رو سے مسلمان عورت مشرکین پر حرام کردی گئی تھی۔
(4)۔ چوتھا مسئلہ ارتداد کا ہے۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ زوجین ایک ساتھ مرتد ہوجائیں، اور دوسری صورت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک مرتد ہو اور دوسرا مسلمان رہے۔
اگر زوجین ایک ساتھ مرتد ہوجائیں تو شافعیہ اور حنابلہ کہتے ہیں کہ خلوت سے پہلے ایسا ہو تو فوراً ، اور خلوت کے بعد ہو تو عدت کی مدت ختم ہوتے ہی دونوں کا وہ نکاح ختم ہوجائے گا جو حالت اسلام میں ہوا تھا۔ اس کے برعکس حنفیہ کہتے ہیں کہ اگرچہ قیاس یہی کہتا ہے کہ ان کا نکاح فسخ ہوجائے، لیکن حضرت ابوبکر کے زمانہ میں جو فتنہ ارتداد برپا ہوا تھا اس میں ہزارہا آدمی مرتد ہوئے، پھر مسلمان ہوگئے، اور صحابہ کرام نے کسی کو بھی تجدید نکاح کا حکم نہیں دیا، اس لیے ہم صحابہ کے متفقہ فیصلے کو قبول کرتے ہوئے خلاف قیاس یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ زوجین کے ایک ساتھ مرتد ہونے کی صورت میں ان کے نکاح نہیں ٹوٹتے (المبسوط، ہدایہ، فتح القدیر، الفقہ علی المذاہب الاربعہ)۔
اگر شوہر مرتد ہوجائے اور عورت مسلمان رہے تو حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک فوراً نکاح ٹوٹ جائے گا، خواہ ان کے درمیان پہلے خلوت ہوچکی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ لیکن شافعیہ اور حنابلہ اس میں خلوت سے پہلے اور خلوت کے بعد کی حالت کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ اگر خلوت سے پہلے ایسا ہوا ہو تو فوراً نکاح ہوجائے گا، اور خلوت کے بعد ہوا ہو تو زمانہ عدت تک باقی رہے گا، اس دوران میں وہ شخص مسلمان ہوجائے تو زوجیت بر قرار رہے گی، ورنہ عدت ختم ہوتے ہی اس کے ارتداد کے وقت سے نکاح فسخ شدہ شمار کیا جائے گا، یعنی عورت کو پھر کوئی نئی عدت گزارنی نہ ہوگی۔ چاروں فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ خلوت سے پہلے یہ معاملہ پیش آیا ہو تو عورت کو نصف مہر، اور خلوت کے بعد پیش آیا تو پورا مہر پانے کا حق ہوگا۔
اور اگر عورت مرتد ہوگئی ہو تو حنفیہ کا قدیم فتویٰ یہ تھا کہ اس صورت میں بھی نکاح فوراً فسخ ہوجائے گا، لیکن بعد کے دور میں علمائے بلخ و سمرقند نے یہ فتویٰ دیا کہ عورت کے مرتد ہونے سے فوراً فرقت واقع نہیں ہوتی، اور اس سے ان کا مقصد اس امر کی روک تھام کرنا تھا کہ شوہروں سے پیچھا چھڑانے کے لیے عورتیں کہیں ارتداد کا راستہ اختیار نہ کرنے لگیں۔ مالکیہ کا فتویٰ بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر قرائن یہ بتا رہے ہوں کہ عورت نے محض شوہر سے علیحدگی حاصل کرنے کے لیے بطور حیلہ ارتداد اختیار کیا ہے تو فرقت واقع نہ ہوگی۔ شافعیہ اور حنابلہ کہتے ہیں کہ عورت کے ارتداد کی صورت میں بھی قانون وہی ہے جو مرد کے ارتداد کی صورت میں ہے، یعنی خلوت سے پہلے مرتد ہو تو فوراً نکاح فسخ ہوجائے گا، اور خلوت کے بعد ہو تو زمانہ عدت گزرنے تک نکاح باقی رہے گا، اس دوران میں وہ مسلمان ہوجائے تو زوجیت کا رشتہ برقرار رہے گا۔ ورنہ عدت گزرتے ہی نکاح وقت ارتداد سے فسخ شمار ہوگا۔ مہر کے بارے میں یہ امر متفق علیہ ہے کہ خلوت سے پہلے اگر عورت مرتد ہوئی ہے تو اسے کوئی مہر نہ ملے گا، اور اگر خلوت کے بعد اس نے ارتداد اختیار کیا ہو تو وہ پورا مہر پائے گی (المبسوط۔ ہدایہ۔ فتح القدیر۔ المغنی۔ الفقہ علی المذاہب الاربعہ)۔
Ayah 60:11سورة الْمُمْتَحِنَة 17
اس معاملہ کی دو صورتیں تھیں اور اس آیت کا انطباق دونوں سورتوں پر ہوتا ہے ایک صورت یہ تھی کہ جن کفار سے مسلمانوں کے معاہدانہ تعلقات تھے ان سے مسلمانوں نے یہ معاملہ طے کرنا چاہا کہ جو عورتیں ہجرت کر کے ہماری طرف آگئی ہیں ان کے مہر ہم واپس کردیں گے، اور ہمارے آدمیوں کی جو کافر بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کے مہر تم واپس کردو۔ لیکن انہوں نے اس بات کو قبول نہ کیا۔ چناچہ امام زہری بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے مسلمان ان عورتوں کے مہر واپس دینے کے لیے تیار ہوگئے جو مشرکین کے پاس مکہ میں رہ گئی تھیں، مگر مشرکوں نے ان عورتوں کے مہر واپس دینے سے انکار کردیا جو مسلمانوں کے پاس ہجرت کر کے آگئی تھیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ مہاجر عورتوں کے جو مہر تمہیں مشرکین کو واپس کرنے ہیں وہ ان کو بھیجنے کے بجائے مدینے ہی میں جمع کرلیے جائیں اور جن لوگوں کو مشرکین سے اپنے دیے ہوئے مہر واپس لینے ہیں ان میں سے ہر ایک کو اتنی رقم دے دی جائے جو اسے کفار سے وصول ہونی چاہیے تھی۔
دوسری صورت یہ تھی کہ جن کفار سے مسلمانوں کے معاہدانہ تعلقات نہ تھے ان کے علاقوں سے بھی متعدد آدمی اسلام قبول کر کے دار الاسلام میں آگئے تھے اور ان کی کافر بیویاں وہاں رہ گئی تھیں۔ اسی طرح بعض عورتیں بھی مسلمان ہو کر ہجرت کر آئی تھیں اور ان کے کافر شوہر وہاں رہ گئے تھے۔ ان کے بارے میں یہ فیصلہ کردیا گیا کہ دار الاسلام ہی میں ادلے کا بدلہ چکا دیا جائے۔ جب کفار سے کوئی مہر واپس نہیں ملنا ہے تو انہیں بھی کوئی مہر واپس نہ کیا جائے۔ اس کے بجائے جو عورت ادھر آگئی ہے اس کے بدلے کا مہر اس شخص کو ادا کردیا جائے جس کی بیوی ادھر رہ گئی ہے۔
لیکن اگر اس طرح حساب برابر نہ ہو سکے، اور جن مسلمانوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کے وصول طلب مہر ہجرت کر کے آنے والی مسلمان عورتوں کے مہروں سے زیادہ ہوں، تو حکم دیا گیا کہ اس مال غنیمت سے باقی رقمیں ادا کردی جائیں جو کفار سے لڑائی میں مسلمانوں کے ہاتھ آگئے ہوں ابن عباس کی روایت ہے جس شخص کے حصے کا مہر وصول طلب رہ جاتا تھا، نبی ﷺ یہ حکم دیتے تھے کہ اس کے نقصان کی تلافی مال غنیمت سے کردی جائے (ابن جریر)۔ اسی مسلک کو عطاء، مجاہد، زہری، مسروق، ابراہیم نخعی، قتادہ، مقاتِل اور ضحاک نے اختیار کیا ہے۔ یہ سب حضرات کہتے ہیں کہ جن لوگوں کے مہر کفار کی طرف رہ گئے ہوں ان کا بدلہ کفار سے ہاتھ آئے ہوئے مجموعی مال غنیمت میں سے ادا کیا جائے، یعنی تقسیم غنائم سے پہلے ان لوگوں کے فوت شدہ مہر ان کو دے دیے جائیں اور اس کے بعد تقسیم ہو جس میں وہ لوگ بھی دوسرے سب مجاہدین کے ساتھ برابر کا حصہ پائیں۔ بعض فقہاء یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف اموال غنیمت ہی نہیں، اموال فَے میں سے بھی ایسے لوگوں کے نقصان کی تلافی کی جاسکتی ہے۔ لیکن اہل علم کے ایک بڑے گروہ نے اس مسلک کو قبول نہیں کیا ہے۔
Ayah 60:12سورة الْمُمْتَحِنَة 18
جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں، یہ آیت فتح مکہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی۔ اس کے بعد جب مکہ فتح ہوا تو قریش کے لوگ جوق در جوق حضور ﷺ سے بیعت کرنے کے لیے حاضر ہونے لگے۔ آپ نے مردوں سے کوہ صفا پر خود بیعت لی اور حضرت عمر کو اپنی طرف سے مامور فرمایا کہ وہ عورتوں سے بیعت لیں اور ان باتوں کا اقرار کرائیں جو اس آیت میں بیان ہوئی ہیں (ابن جریر بروایت ابن عباس۔ ابن ابی حاتم بروایت قتادہ)۔ پھر مدینہ واپس تشریف لے جا کر آپ نے ایک مکان میں انصار کی خواتین کو جمع کرنے کا حکم دیا اور حضرت عمر کو ان سے بیعت لینے کے لیے بھیجا (ابن جریر، ابن مردویہ، بزار، ابن حبان، بروایت ام عطیہ انصاریہ)۔ عید کے روز بھی مردوں کے درمیان خطبہ دینے کے بعد آپ عورتوں کے مجمع کی طرف تشریف لے گئے اور وہاں اپنے خطبہ کے دوران میں آپ نے یہ آیت تلاوت کر کے ان باتوں کا عہد لیا جو اس آیت میں مذکور ہوئی ہیں (بخاری، بروایت ابن عباس)۔ ، ان مواقع کے علاوہ بھی مختلف اوقات میں عورتیں فرداً فرداً بھی اور اجتماعی طور پر بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کرتی رہیں جن کا ذکر متعدد احادیث میں آیا ہے۔
سورة الْمُمْتَحِنَة 19
مکہ معظمہ میں جب عورتوں سے بیعت لی جا رہی تھی اس وقت حضرت ابو سفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ نے اس حکم کی تشریح دریافت کرتے ہوئے حضور ﷺ سے عرض کیا، یا رسول اللہ، ابوسفیان ذرا بخیل آدمی ہیں کیا میرے اوپر اس میں کوئی گناہ ہے کہ میں اپنی اور اپنے بچوں کی ضروریات کے لیے ان سے پوچھے بغیر ان کے مال میں سے کچھ لے لیا کروں ؟ آپ نے فرمایا نہیں، مگر بس معروف کی حد تک۔ یعنی بس اتنا مال لے لو جو فی الواقع جائز ضروریات کے لیے کافی ہو (احکام القرآن، ابن عربی)۔
سورة الْمُمْتَحِنَة 20
اس میں اسقاط حمل بھی شامل ہے، خواہ وہ جائز حمل کا اسقاط ہو یا ناجائز حمل کا۔
سورة الْمُمْتَحِنَة 21
اس سے دو قسم کے بہتان مراد ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی عورت دوسری عورتوں پر غیر مردوں سے آشنائی کی تہمتیں لگائے اور اس طرح کے قصے لوگوں میں پھیلائے، کیونکہ عورتوں میں خاص طور پر ان باتوں کے چرچے کرنے کی بیماری پائی جاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ ایک عورت بچہ تو کسی کا جنے اور شوہر کو یقین دلائے کہ تیرا ہی ہے۔ ابوداؤد میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ انہوں نے حضور کو یہ فرماتے سنا ہے کہ " جو عورت کسی خاندان میں کوئی ایسا بچہ گھسا لائے جو اس خاندان کا نہیں ہے اس کا اللہ سے کوئی واسطہ نہیں، اور اللہ اسے کبھی جنت میں داخل نہ کرے گا "۔
سورة الْمُمْتَحِنَة 22
اس مختصر سے فقرے میں دو بڑے اہم قانونی نکات بیان کیے گئے ہیں
پہلا نکتہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کی اطاعت پر بھی اطاعت فی المعروف کی قید لگائی گئی ہے، حالانکہ حضور ﷺ کے بارے میں اس امر کے کسی ادنیٰ شبہ کی گنجائش بھی نہ تھی کہ آپ کبھی منکر کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔ اس سے خود بخود یہ بات واضح ہوگئی کہ دنیا میں کسی مخلوق کی اطاعت قانون خداوندی کے حدود سے باہر جا کر نہیں کی جاسکتی، کیونکہ جب خدا کے رسول تک کی اطاعت معروف کی شرط سے مشروط ہے تو پھر کسی دوسرے کا یہ مقام کہاں ہوسکتا ہے کہ اسے غیر مشروط اطاعت کا حق پہنچے اور اس کے کسی ایسے حکم یا قانون یا ضابطے اور رسم کی پیروی کی جائے جو قانون خداوندی کے خلاف ہو۔ اس قاعدے کو رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے لا طاعۃ فی معصیۃ اللہ، انما الطاعۃ فی المعروف۔ " اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے، اطاعت صرف معروف میں ہے " (مسلم، ابوداؤد، نسائی)۔ یہی مضمون اکابر اہل علم نے اس آیت سے مستبط کیا ہے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم فرماتے ہیں
" اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ تمہاری نافرمانی نہ کریں، بلکہ فرمایا یہ ہے کہ وہ معروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں پھر جب اللہ تعالیٰ نے نبی تک کی اطاعت کو اس شرط سے مشروط کیا ہے تو کسی اور شخص کے لیے یہ کیسے سزاوار ہوسکتا ہے کہ معروف کے سوا کسی معاملہ میں اس کی اطاعت کی جائے " (ابن جریر)۔
امام ابوبکر جصاص لکھتے ہیں
" اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا نبی کبھی معروف کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا، پھر بھی اس نے اپنے نبی کی نافرمانی سے منع کرتے ہوئے معروف کی شرط لگا دی تاکہ کوئی شخص کبھی اس امر کی گنجائش نہ نکال سکے کہ ایسی حالت میں بھی سلاطین کی اطاعت کی جائے جبکہ ان کا حکم اللہ کی اطاعت میں نہ ہو۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ من اطاع مخلوقاً فی معصیۃ الخالق سلَّط اللہ علیہ ذٰلک المخلوق، یعنی جو شخص خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت کرے، اللہ تعالیٰ اس پر اسی مخلوق کو مسلط کردیتا ہے " (احکام القرآن)
علامہ آلوسی فرماتے ہیں
" یہ ارشاد ان جاہلوں کے خیال کی تردید کرتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ اولی الامر کی اطاعت مطلقاً لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو رسول کی اطاعت پر بھی معروف کی قید لگا دی ہے، حالانکہ رسول کبھی معروف کے سوا کوئی حکم نہیں دیتا۔ اس سے مقصود لوگوں کو خبردار کرنا ہے کہ خالق کی معصیت میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے " (روح المعانی)۔
پس در حقیقت یہ ارشاد اسلام میں قانون کی حکمرانی (Ruleof Law) کا سنگ بنیاد ہے۔ اصولی بات یہ ہے کہ ہر کام جو اسلامی قانون کے خلاف ہو، جرم ہے اور کوئی شخص یہ حق نہیں رکھتا کہ ایسے کسی کام کا کسی کو حکم دے۔ جو شخص بھی خلاف قانون حکم دیتا ہے وہ خود مجرم ہے اور جو شخص اس حکم کی تعمیل کرتا ہے وہ بھی مجرم ہے۔ کوئی ماتحت اس عذر کی بنا پر سزا سے نہیں بچ سکتا کہ اس کے افسر بالا نے اسے ایک ایسے فعل کا حکم دیا تھا جو قانون میں جرم ہے۔
دوسری بات جو آئنی حیثیت سے بڑی اہمیت رکھتی ہے یہ ہے کہ اس آیت میں پانچ منفی احکام دینے کے بعد مثبت حکم صرف ایک ہی دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ تمام نیک کاموں میں نبی ﷺ کے احکام کی اطاعت کی جائے گی۔ جہاں تک برائیوں کا تعلق ہے، وہ بڑی بڑی برائیاں گنا دی گئیں جن میں زمانہ جاہلیت کی عورتیں مبتلا تھیں اور ان سے باز رہنے کا عہد لے لیا گیا، مگر جہاں تک بھلائیوں کا تعلق ہے ان کی کوئی فہرست دے کر عہد نہیں لیا گیا کہ تم فلاں فلاں اعمال کرو گی بلکہ صرف یہ عہد لیا گیا کہ جس نیک کام کا حضور حکم دیں گے اس کی پیروی تمہیں کرنی ہوگی۔ اب یہ ظاہر ہے کہ اگر وہ نیک اعمال صرف وہی ہوں جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دیا ہے تو عہد ان الفاظ میں لیا جانا چاہیے تھا کہ " تم اللہ کی نافرمانی نہ کرو گی " یا یہ کہ " تم قرآن کے احکام کی نافرمانی نہ کرو گی "۔ لیکن جب عہد ان الفاظ میں لیا گیا کہ " جس نیک کام کا حکم بھی رسول اللہ ﷺ دیں گے تم اس کی خلاف ورزی نہ کرو گی " تو اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ معاشرے کی اصلاح کے لیے حضور ﷺ کو وسیع ترین اختیارات دیے گئے ہیں اور آپ کے تمام احکام واجب الاطاعت ہیں خواہ وہ قرآن میں موجود ہو یا نہ ہوں۔
اسی آئینی اختیار کی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے بیعت لیتے ہوئے ان بہت سی برائیوں کے چھوڑنے کا عہد لیا جو اس وقت عرب معاشرے کی عورتوں میں پھیلی ہوئی تھیں اور متعدد ایسے احکام دیے جو قرآن میں مذکور نہیں ہیں۔ اس کے لیے حسب ذیل احادیث ملاحظہ ہوں
ابن عباس، ام سلمہ اور ام عطیہ انصاریہ وغیرہ کی روایات ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے بیعت لیتے وقت یہ عہد لیا کہ وہ مرنے والوں پر نوحہ نہ کریں گی۔ یہ روایات بخاری، مسلم، نسائی اور ابن جریر نے نقل کی ہیں۔
ابن عباس کی ایک روایت میں تفصیل ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عمر کو عورتوں سے بیعت لینے کے لیے مامور کیا اور حکم دیا کہ ان کو نوحہ کرنے سے منع کریں، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں عورتیں مرنے والوں پر نوحہ کرتے ہوئے کپڑے پھاڑتی تھیں، منہ نوچتی تھیں، بال کاٹتی تھیں اور سخت واویلا مچاتی تھیں (ابن جریر)۔
زید بن اسلم روایت کرتے ہیں کہ آپ نے بیعت لیتے وقت عورتوں کو اس سے منع کیا کہ وہ مرنے والوں پر نوحہ کرتے ہوئے اپنے منہ نوچیں اور گریبان پھاڑیں اور واویلا کریں اور شعر گا گا کر بین کریں (ابن جریر)۔ اسی کی ہم معنی ایک روایت ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے ایک ایسی خاتون سے نقل کی ہے جو بیعت کرنے والیوں میں شامل تھیں۔
قتادہ اور حسن بصری رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ جو عہد حضور ﷺ نے بیعت لیتے وقت عورتوں سے لیے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ غیر محرم مردوں سے بات نہ کریں گی۔ ابن عباس کی روایت میں اس کی یہ وضاحت ہے کہ غیر مردوں سے تخلیہ میں بات نہ کریں گی۔ قتادہ نے مزید وضاحت یہ کی ہے کہ حضور ﷺ کا یہ ارشاد سن کر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے عرض کیا یا رسول اللہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم گھر پر نہیں ہوتے اور ہمارے ہاں کوئی صاحب ملنے آجاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا میری مراد یہ نہیں ہے۔ یعنی عورت کا کسی آنے والے سے اتنی بات کہہ دینا ممنوع نہیں ہے کہ صاحب خانہ گھر میں موجود نہیں ہیں (یہ روایات ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے نقل کی ہیں)۔
حضرت فاطمہ ؓ کی خالہ امیمہ بنت رقیقہ سے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص نے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے ان سے یہ عہد لیا کہ نوحہ نہ کرنا اور جاہلیت کے سے بناؤ سنگھار کر کے اپنی نمائش نہ کرنا (مسند احمد، ابن جریر)۔
حضور کی ایک خالہ سلمٰی بنت قیس کہتی ہیں کہ میں انصار کی چند عورتوں کے ساتھ بیعت کے لیے حاضر ہوئی تو آپ نے قرآن کی اس آیت کے مطابق ہم سے عہد لیا پھر فرمایا ولا تغششن ازواجکن " اپنے شوہروں سے دھوکے بازی نہ کرنا " جب ہم واپس ہونے لگیں تو ایک عورت نے مجھ سے کہا کہ جاکر حضور ﷺ سے پوچھو شوہروں سے دھوکے بازی کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ میں نے جاکر پوچھا تو آپ نے فرمایا تاخذ مالہ فتحابی بہ غیرہ " یہ کہ تو اس کا مال لے اور دوسروں پر لٹائے " (مسند احمد)۔
ام عطیہ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے بیعت لینے کے بعد ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدین کی جماعت میں حاضر ہوا کریں گی البتہ جمعہ ہم پر فرض نہیں ہے، اور جنازوں کے ساتھ جانے سے ہمیں منع فرما دیا (ابن جریر)۔
جو لوگ حضور کے اس آئینی اختیار کو آپ کی حیثیت رسالت کے بجائے حیثیت امارت سے متعلق قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ چونکہ اپنے وقت کے حکمراں بھی تھے اس لیے اپنی اس حیثیت میں آپ نے جو احکام دیئے وہ صرف آپ کے زمانے تک ہی واجب الاطاعت تھے، وہ بڑی جہالت کی بات کہتے ہیں۔ اوپر کی سطور میں ہم نے حضور ﷺ کے جو احکام نقل کیے ہیں ان پر ایک نگاہ ڈال لیجیے۔ ان میں عورتوں کی اصلاح کے لیے جو ہدایات آپ نے دی ہیں وہ اگر محض حاکم وقت ہونے کی حیثیت سے ہوتیں تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پوری دنیا کے مسلم معاشرے کی عورتوں میں یہ اصلاحات کیسے رائج ہو سکتی تھیں ؟ آخر دنیا کا وہ کونسا حاکم ہے جس کو یہ مرتبہ حاصل ہو کہ ایک مرتبہ اس کی زبان سے ایک حکم صادر ہو اور روئے زمین پر جہاں جہاں بھی مسلمان آباد ہیں وہاں کے مسلم معاشرے میں ہمیشہ کے لیے وہ اصلاح رائج ہوجائے جس کا حکم اس نے دیا ہے ؟ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة حشر، حاشیہ 15)۔
سورة الْمُمْتَحِنَة 23
معتبر اور متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں عورتوں سے بیعت لینے کا طریقہ مردوں کی بیعت سے مختلف تھا۔ مردوں سے بیعت لینے کا طریقہ یہ تھا کہ بیعت کرنے والے آپ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر عہد کرتے تھے۔ لیکن عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے آپ نے کبھی کسی عورت کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں نہیں لیا، بلکہ مختلف دوسرے طریقے اختیار فرمائے۔ اس کے بارے میں جو روایات منقول ہوئی ہیں وہ ہم ذیل میں درج کرتے ہیں
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ " خدا کی قسم بیعت میں حضور کا ہاتھ کبھی کسی عورت کے ہاتھ سے چھوا تک نہیں ہے۔ آپ عورت سے بیعت لیتے ہوئے بس زبان مبارک سے یہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے تجھ سے بیعت لی " (بخاری۔ ابن جریر)۔
امیہ بنت رقیقہ کا بیان ہے کہ میں اور چند عورتیں حضور کی خدمت میں بیعت کے لیے حاضر ہوئیں اور آپ نے قرآن کی اس آیت کے مطابق ہم سے عہد لیا۔ جب ہم نے کہا " ہم معروف میں آپ کی نافرمانی نہ کریں گی " تو آپ نے فرمایا فیما استطعتنَّ ، " جہاں تک تمہارے بس میں ہو اور تمہارے لیے ممکن ہو " ہم نے عرض کیا " اللہ اور اس کا رسول ہمارے لیے خود ہم سے بڑھ کر رحیم ہیں " پھر ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ہاتھ بڑھایئے تاکہ ہم آپ سے بیعت کریں۔ آپ نے فرمایا میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، بس میں تم سے عہد لوں گا۔ چناچہ آپ نے عہد لے لیا۔ ایک اور روایت میں ان کا بیان ہے کہ آپ نے ہم میں سے کسی عورت سے بھی مصافحہ نہیں کیا (مسند احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم)۔
ابوداؤد نے مراسیل میں شعبی کی روایت نقل کی ہے کہ عورتوں سے بیعت لیتے وقت ایک چادر حضور کی طرف بڑھائی گئی آپ نے بس اسے ہاتھ میں لے لیا اور فرمایا میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔ یہ مضمون ابن ابی حاتم نے شعبی سے، عبدالرزاق نے ابراہیم نخعی سے اور سعید بن منصور نے قیس بن ابی حازم سے نقل کیا ہے۔
ابن اسحاق نے مغازی میں ابان بن صالح سے روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ پانی کے ایک برتن میں ہاتھ ڈال دیتے تھے، اور پھر اسی برتن میں عورت بھی اپنا ہاتھ ڈال دیتی تھی۔
بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ عید کا خطبہ دینے کے بعد آپ مردوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے اس مقام پر تشریف لے گئے جہاں عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ نے وہاں اپنی تقریر میں قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی، پھر عورتوں سے پوچھا تم اس کا عہد کرتی ہو ؟ مجمع میں سے ایک عورت نے جواب دیا ہاں یا رسول اللہ۔
ایک روایت میں جسے ابن حبان، ابن جریر اور بزار وغیرہ نے نقل کیا ہے، ام عطیہ انصاریہ کا یہ بیان ملتا ہے کہ " حضور ﷺ نے گھر کے باہر سے ہاتھ بڑھایا اور ہم نے اندر سے ہاتھ بڑھائے "، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا یہ عورتوں نے آپ سے مصافحہ بھی کیا ہو، کیونکہ حضرت ام عطیہ نے مصافحہ کی تصریح نہیں کی ہے۔ غالباً اس موقع پر صورت یہ رہی ہوگی کہ عہد لیتے وقت آپ نے باہر سے ہاتھ بڑھایا ہوگا اور اندر سے عورتوں نے اپنے اپنے ہاتھ آپ کے ہاتھ کی طرف بڑھا دیے ہوں گے بغیر اس کے کہ ان میں سے کسی کا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے مس ہو۔
Ayah 60:13سورة الْمُمْتَحِنَة 24
اصل الفاظ ہیں قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْرِ۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ آخرت کی بھلائی اور اس کے ثواب سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح زندگی بعد موت سے انکار کرنے والے اس بات سے مایوس ہیں کہ ان کے جو عزیز رشتہ دار قبروں میں جا چکے ہیں وہ کبھی پھر زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ یہ معنی حضرت عبداللہ بن عباس، اور حضرات حس بصری، قتادہ اور ضحاک رحمہم اللہ نے بیان کیے ہیں۔ دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ وہ آخرت کی رحمت و مغفرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر ہر خیر سے مایوس ہیں، کیونکہ انہیں اپنے مبتلائے عذاب ہونے کا یقین ہوچکا ہے۔ یہ معنی حضرت عبداللہ بن مسعود، اور حضرات مجاہد، عِکْرِمہ، ابن زید، کلبی، مقاتل اور منصور رحمہم اللہ سے منقول ہیں۔