58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 58:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم رسول سے تخلیہ میں بات کرو تو بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دو۔ 29 یہ تمہارے لیے بہتر اور پاکیزہ تر ہے۔ البتہ اگر تم صدقہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اللہ غفورورحیم ہے

سورة الْمُجَادِلَة 29 حضرت عبداللہ بن عباس اس حکم کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ باتیں (یعنی تخلیہ کی درخواست کر کے) پوچھنے لگے تھے حتیٰ کہ انہوں نے حضور کو تنگ کردیا۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اپنے نبی پر سے یہ بوجھ ہلکا کر دے (ابن جریر)۔ زید بن اسلم کہتے ہیں کہ نبی ﷺ سے جو شخص بھی علیٰحدگی میں بات کرنے کی درخواست کرتا، آپ اسے رد نہ فرماتے تھے۔ جس کا جی چاہتا آ کر عرض کرتا کہ میں ذرا الگ بات کرنا چاہتا ہوں، اور آپ اسے موقع دے دیتے، یہاں تک کہ بہت سے لوگ ایسے معاملات میں بھی آپ کو تکلیف دینے لگے جن میں الگ بات کرنے کی کوئی حاجت نہ ہوتی۔ زمانہ وہ تھا جس میں سارا عرب مدینہ کے خلاف برسر جنگ تھا۔ بعض اوقات کسی شخص کی اس طرح کی سرگوشی کے بعد شیطان لوگوں کے کان میں یہ پھونک دیتا تھا کہ یہ فلاں قبیلے کے حملہ آور ہونے کی خبر لایا تھا اور اس سے مدینہ میں افواہوں کا بازار گرم ہوجاتا تھا۔ دوسری طرف لوگوں کی اس حرکت کی وجہ سے منافقین کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا تھا کہ محمد ﷺ تو کانوں کے کچے ہیں، ہر ایک کی سن لیتے ہیں۔ ان وجوہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ پابندی لگا دی کہ جو آپ سے خلوت میں بات کرنا چاہے وہ پہلے صدقہ دے (احکام القرآن الابن العربی)۔ قتادہ کہتے ہیں کہ دوسروں پر اپنی بڑائی جتانے کے لیے بھی بعض لوگ حضور سے خلوت میں بات کرتے تھے۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب یہ حکم آیا تو حضور نے مجھ سے پوچھا کتنا صدقہ مقرر کیا جائے ؟ کیا ایک دینار ؟ میں نے عرض کیا یہ لوگوں کی مقدرت سے زیادہ ہے۔ آپ نے فرمایا نصف دینار ؟ میں نے عرض کیا لوگ اس کی مقدرت بھی نہیں رکھتے۔ فرمایا پھر کتنا ؟ میں نے عرض کیا بس ایک جَو برابر سونا۔ فرمایا انک لزھید، یعنی تم نے تو بڑی کم مقدار کا مشورہ دیا (ابن جریر، ترمذی، مسند ابو یعلیٰ)۔ ایک دوسری روایت میں حضرت علی فرماتے ہیں قرآن کی یہ ایک ایسی آیت ہے جس پر میرے سوا کسی نے عمل نہیں کیا۔ اس حکم کے آتے ہی میں نے صدقہ پیش کیا اور ایک مسئلہ آپ سے پوچھ لیا۔ (ابن جریر، حاکم، ابنالمنذر، عبد بن حمید)۔
Ayah 58:13

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم ڈرگئے اس بات سےکہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہونگے؟ اچھا، اگر تم ایسا نہ کرو۔۔۔۔ اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کر دیا۔۔۔۔ تو نماز قائم کرتے رہو، زکوٰة دیتے رہو اور اللہ اور اُس کے رسُول کی اطاعت کرتے رہو۔ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ 30

سورة الْمُجَادِلَة 30 یہ دوسرا حکم اوپر کے حکم کے تھوڑی مدت بعد ہی نازل ہوگیا اور اس نے صدقہ کے وجوب کو منسوخ کردیا۔ اس امر میں اختلاف ہے کہ صدقہ کا یہ حکم کتنی دیر رہا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ایک دن سے بھی کم مدت تک باقی رہا پھر منسوخ کردیا گیا۔ مقاتل بن حیّان کہتے ہیں دس دن تک رہا۔ یہ زیادہ سے زیادہ اس حکم کے بقا کی مدت ہے جو کسی روایت میں بیان ہوئی ہے۔
Ayahs 58:14–15

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہوں نے دوست بنایا ہے ایک ایسے گروہ کو جواللہ کا مغضوب ہے؟ 31 وہ نہ تمہارے ہیں نہ اُن کے، 32 اور وہ جان بُوجھ کر جُھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔ 33

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے، بڑے ہی برے کرتوت ہیں جو وہ کر رہے ہیں

سورة الْمُجَادِلَة 31 اشارہ ہے مدینے کے یہودیوں کی طرف جنہیں منافقین نے دوست بنا رکھا تھا۔ سورة الْمُجَادِلَة 32 یعنی مخلصانہ تعلق ان کا نہ اہل ایمان سے ہے نہ یہود سے۔ دونوں کے ساتھ انہوں نے محض اپنی اغراض کے لیے رشتہ جوڑ رکھا ہے۔ سورة الْمُجَادِلَة 33 یعنی اس بات پر کہ وہ ایمان لائے ہیں اور محمد ﷺ کو اپنا ہادی و پیشوا مانتے ہیں اور اسلام و اہل اسلام کے وفادار ہیں۔
Ayahs 58:16–17

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

اُنہوں نے اپنی قسموں کر ڈھال بنا رکھا ہے جس کی آڑ میں وہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں، 34 اِس پر ان کے لیے ذلّت کا عذاب ہے

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

اللہ سے بچانے کے لیے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے نہ ان کی اولاد وہ دوزخ کے یار ہیں، اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے

سورة الْمُجَادِلَة 34 مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ اپنے ایمان اور اپنی وفاداری کی قسمیں کھا کر مسلمانوں کی گرفت سے بچے رہتے ہیں، اور دوسری طرف اسلام اور اہل اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ہر طرح کے شبہات اور وسوسے لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں تاکہ لوگ یہ سمجھ کر اسلام قبول کرنے سے باز رہیں کہ جب گھر کے بھیدی یہ خبریں دے رہے ہیں تو ضرور اندر کچھ دال میں کالا ہوگا۔
Ayahs 58:18–20

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

سی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں 35 اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا۔خوب جان لو، وہ پرلے درجے کے جُھوٹے ہیں

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

شیطان اُن پر مسلط ہو چکا ہے اور ا ُس نے خدا کی یاد اُن کے دل سے بھلا دی ہے وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں خبردار ہو، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

یقیناً ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں

سورة الْمُجَادِلَة 35 یعنی یہ صرف دنیا ہی میں اور صرف انسانوں ہی کے سامنے جھوٹی قسمیں کھانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ آخرت میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے بھی یہ جھوٹی قسمیں کھانے سے باز نہ رہیں گے۔ جھوٹ اور فریب ان کے اندر اتنا گہرا اتر چکا ہے کہ مر کر بھی یہ ان سے نہ چھوٹے گا۔
Ayah 58:21

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسُول غالب ہو کر رہیں گے۔ 36 فی الواقع اللہ زبردست اور زورآور ہے

سورة الْمُجَادِلَة 36 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الصافات، حاشیہ 93۔
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اُس کے رسُول کی مخالفت کی ہے، خواہ وہ اُن کے باپ ہوں ، یا اُن کے بیٹے، یا اُن کے بھائی یا اُن کے اہلِ خاندان۔ 37 یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک رُوح عطا کر کے ان کو قوّت بخشی ہے۔ وہ ان کو ایسی جنّتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار رہو، اللہ کی پارٹی والےہی فلاح پانے والے ہیں

سورة الْمُجَادِلَة 37 اس آیت میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ ایک بات اصولی ہے، اور دوسری امر واقعی کا بیان۔ اصولی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ دین حق پر ایمان اور اعدائے دین کی محبت، دو بالکل متضاد چیزیں ہیں جن کا ایک جگہ اجتماع کسی طرح قابل تصور نہیں ہے۔ یہ بات قطعی ناممکن ہے کہ ایمان اور دشمنان خدا و رسول کی محبت ایک دل میں جمع ہوجائیں، بالکل اسی طرح جیسے ایک آدمی کے دل میں اپنی ذات کی محبت اور اپنے دشمن کی محبت بیک وقت جمع نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا اگر تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ ایمان کا دعویٰ بھی کرتا ہے اور ساتھ ساتھ اس نے ایسے لوگوں سے محبت کا رشتہ بھی جوڑ رکھا ہے جو اسلام کے مخالف ہیں تو یہ غلط فہمی تمہیں ہرگز لاحق نہ ہونی چاہیے کہ شاید وہ اپنی اس روش کے باوجود ایمان کے دعوے میں سچا ہو۔ اسی طرح جن لوگوں نے اسلام اور مخالفین اسلام سے بیک وقت رشتہ جوڑ رکھا ہے وہ خود بھی اپنی پوزیشن پر اچھی طرح غور کرلیں کہ وہ فی الواقع کیا ہیں، مومن ہیں یا منافق ؟ اور فی الواقع کیا ہونا چاہتے ہیں، مومن بن کر رہنا چاہتے ہیں یا منافق ؟ اگر ان کے اندر کچھ بھی راستبازی موجود ہے، اور وہ کچھ بھی یہ احساس اپنے اندر رکھتے ہیں کہ اخلاقی حیثیت سے منافقت انسان کے لیے ذلیل ترین رویہ ہے، تو انہیں بیک وقت دو کشتیوں میں سوار ہونے کی کوشش چھوڑ دینی چاہیے۔ ایمان تو ان سے دو ٹوک فیصلہ چاہتا ہے۔ مومن رہنا چاہتے ہیں تو ہر اس رشتے اور تعلق کو قربان کردیں جو اسلام کے ساتھ ان کے تعلق سے متصادم ہوتا ہو۔ اسلام کے رشتے سے کسی اور رشتے کو عزیز تر رکھتے ہیں تو بہتر ہے کہ ایمان کا جھوٹا دعویٰ چھوڑ دیں۔ یہ تو ہے اصولی بات۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہاں صرف اصول بیان کرنے پر اکتفا نہیں فرمایا ہے بلکہ اس امر واقعی کو بھی مدعیان ایمان کے سامنے نمونے کے طور پر پیش فرما دیا ہے کہ جو لوگ سچے مومن تھے انہوں نے فی الواقع سب کی آنکھوں کے سامنے تمام ان رشتوں کو کاٹ پھینکا جو اللہ کے دین کے ساتھ ان کے تعلق میں حائل ہوئے۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو بدر و احد کے معرکوں میں سارا عرب دیکھ چکا تھا۔ مکہ سے جو صحابہ کرام ہجرت کر کے آئے تھے وہ صرف خدا اور اس کے دین کی خاطر خود اپنے قبیلے اور اپنے قریب ترین رشتہ داروں سے لڑ گئے تھے۔ حضرت ابو عبیدہ نے اپنے باپ عبداللہ بن جراح کو قتل کیا۔ حضرت مصعب بن عمیر نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا۔ حضرت عمر نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا۔ حضرت ابوبکر اپنے بیٹے عبدالرحمان سے لڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔ حضرت علی، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ بن الحارث نے عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا جو ان کے قریبی رشتہ دار تھے۔ حضرت عمر نے اسیران جنگ بدر کے معاملہ میں رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ان سب کو قتل کردیا جائے اور ہم میں سے ہر ایک اپنے رشتہ دار کو قتل کرے۔ اسی جنگ بدر میں حضرت مصعب بن عمیر کے سگے بھائی ابو عزیز بن عمیر کو ایک انصاری پکڑ کر باندھ رہا تھا۔ حضرت مصعب نے دیکھا تو پکار کر کہا " ذرا مضبوط باندھنا، اس کی ماں بڑی مالدار ہے، اس کی رہائی کے لیے وہ تمہیں بہت سا فدیہ دے گی ’‘۔ ابوعزیز نے کہا " تم بھائی ہو کر یہ بات کہہ رہے ہو ؟ " حضرت مصعب نے جواب دیا " اس وقت تم میرے بھائی نہیں ہو بلکہ یہ انصاری میرا بھائی ہے جو تمہیں گرفتار کر رہا ہے "۔ اسی جنگ بدر میں خود نبی ﷺ کے داماد ابو العاص گرفتار ہو کر آئے اور ان کے ساتھ رسول کی دامادی کی بنا پر قطعاً کوئی امتیازی سلوک نہ کیا گیا جو دوسرے قیدیوں سے کچھ بھی مختلف ہوتا۔ اس طرح عالم واقعہ میں دنیا کو یہ دکھایا جا چکا تھا کہ مخلص مسلمان کیسے ہوتے ہیں اور اللہ اور اس کے دین کے ساتھ ان کا تعلق کیسا ہوا کرتا ہے۔ دیلَمی نے حضرت معاذ کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا نقل کی ہے کہ اللھم لا تجعل لفاجر (وفی روایۃٍ لفاسق) عَلَیَّ یداً ولا نعمۃ فیودہ قلبی فانی وجدت فیما اوحیت الیّ لا تَجِدُ قَوْماً یُّؤْمِنُوْنَ باللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ۔ " خدایا، کسی فاجر (اور ایک روایت میں فاسق) کا میرے اوپر کوئی احسان نہ ہونے دے کہ میرے دل میں اس کے لیے کوئی محبت پیدا ہو۔ کیونکہ تیری نازل کردہ وحی میں یہ بات بھی میں نے پائی ہے کہ اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھنے والوں کو تم اللہ اور رسول کے مخالفوں سے محبت کرتے نہ پاؤ گے۔ "