Ayah 53:30سورة النَّجْم 27
یعنی یہ لوگ دنیا اور اس کے فوائد سے آ گے نہ کچھ جانتے ہیں نہ سوچ سکتے ہیں، اس لیے ان پر محنت صرف کرنا لا حاصل ہے۔
Ayah 53:31سورة النَّجْم 28
بالفاظ دیگر کسی آدمی کے گمراہ یا بر سر ہدایت ہونے کا فیصلہ نہ اس دنیا میں ہونا ہے نہ اس کا فیصلہ دنیا کے لوگوں کی رائے پر چھوڑا گیا ہے۔ اس کا فیصلہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہی زمین و آسمان کا مالک ہے، اور اسی کو یہ معلوم ہے کہ دنیا کے لوگ جن مختلف راہوں پر چل رہے ہیں ان میں سے ہدایت کی راہ کون سی ہے اور ضلالت کی راہ کون سی۔ لہٰذا تم اس بات کی کوئی پروا نہ کرو کہ یہ مشرکین عرب اور یہ کفار مکہ تم کو بہکا اور بھٹکا ہوا آدمی قرار دے رہے ہیں اور اپنی جاہلیت ہی کو حق اور ہدایت سمجھ رہے ہیں۔ یہ اگر اپنے اسی زعم باطل میں مگن رہنا چاہتے ہیں تو انہیں مگن رہنے دو۔ ان سے بحث و تکرار میں وقت ضائع کرنے اور سر کھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
سورة النَّجْم 29
یہاں سے پھر وہی سلسلہ کلام شروع ہوجاتا ہے جو اوپر سے چلا آ رہا تھا۔ گویا جملہ معترضہ کو چھوڑ کر سلسلہ عبارت یوں ہے " اسے اس کے حال پر چھوڑ دو تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے "۔
Ayahs 53:32–33سورة النَّجْم 30
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، النساء، حاشیہ 53۔
سورة النَّجْم 31
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، الانعام، حاشیہ 130 جلد دوم، النحل حاشیہ 89۔
سورة النَّجْم 32
اصل الفاظ ہیں اِلَّا اللَّمَمَ۔ عربی زبان میں لَمَم کا لفظ کسی چیز کی تھوڑی سی مقدار، یا اس کے خفیف سے اثر، یا اس کے محض قرب، یا اس کے ذرا سی دیر رہنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں اَلَمَّ بَالْمَکَانِ ، وہ شخص فلاں جگہ تھوڑی دیر ہی ٹھہرا، یا تھوڑی دیر کے لیے ہی وہاں گیا۔ اَلَمَّ بالطَّعَامِ ، اس نے تھوڑا سا کھانا کھایا۔ بِہ لَمَمٌم اس کا دماغ ذرا سا کھسکا ہوا ہے، یا اس میں کچھ جنون کی لٹک ہے۔ یہ لفظ اس معنی میں بولتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک فعل کا ارتکاب تو نہیں کیا مگر ارتکاب کے قریب تک پہنچ گیا۔ فَرّاء کا قول ہے کہ میں نے عربوں کو اس طرح کے فقرے بولتے سنا ہے ضربہ مالمم القتل، فلاں شخص نے اسے اتنا مارا کہ بس مار ڈالنے کی کسر رہ گئی۔ اور اَلَمّ یفعل، قریب تھا کہ فلاں شخص یہ فعل کر گزرتا۔ شاعر کہتا ہے اَلَمت فحیّت ثم قامت فودعت، " وہ بس ذرا کی ذرا آئی سلام کیا، اٹھی اور رخصت ہوگئی "۔
ان استعمالات کی بنا پر اہل تفسیر میں بعض نے لمم سے مراد چھوٹے گناہ لیے ہیں۔ بعض نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ آدمی عملاً کسی بڑے گناہ کے قریب تک پہنچ جائے مگر اس کا ارتکاب نہ کرے۔ بعض اسے کچھ دیر کے لیے گناہ میں مبتلا ہونے اور پھر اس سے باز آجانے کے معنی میں لیتے ہیں۔ اور بعض کے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی گناہ کا خیال، یا اس کی خواہش، یا اس کا ارادہ تو کرے مگر عملاً کوئی اقدام نہ کرے۔ اس سلسلے میں صحابہ وتابعین کے اقوال حسب ذیل ہیں
زید بن اسلم اور ابن زید کہتے ہیں، اور حضرت عبداللہ بن عباس کا بھی ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ معاصی ہیں جن کا ارتکاب اسلام سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں لوگ کرچکے تھے، پھر اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔
ابن عباس کا دوسرا قول یہ ہے، اور یہی حضرت ابوہریرہ، حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاض، مجاہد، حسن بصری اور ابوصالح کا قول بھی ہے کہ اس سے مراد آدمی کا کسی بڑے گناہ یا کسی فحش فعل میں کچھ دیر کے لیے، یا احیاناً مبتلا ہوجانا اور پھر اسے چھوڑ دینا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود اور مسروق اور شعبی فرماتے ہیں اور حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی معتبر روایات میں یہ قول منقول ہوا ہے کہ اس سے مراد آدمی کا کسی بڑے گناہ کے قریب تک پہنچ جانا اور اس کے ابتدائی مدارج تک طے کر گزرنا مگر آخری مرحلے پر پہنچ کر رک جانا ہے۔ مثلاً کوئی شخص چوری کے لیے جائے، مگر چرانے سے باز رہے۔ یا اجنبیہ سے اختلاط کرے، مگر زنا کا اقدام نہ کرے۔
حضرت عبداللہ بن زبیر، عِکرمہ، قتادہ اور ضحاک کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جن کے لیے دنیا میں بھی کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی ہے اور آخرت میں بھی جن پر عذاب دینے کی کوئی وعید نہیں فرمائی گئی ہے۔
سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہے گناہ کا خیال دل میں آنا مگر عملاً اس کا ارتکاب نہ کرنا۔
یہ حضرات صحابہ وتابعین کی مختلف تفسیریں ہیں جو روایات میں منقول ہوئی ہیں۔ بعد کے مفسرین اور ائمہ و فقہاء کی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ یہ آیت اور سورة نساء کی آیت 31 صاف طور پر گناہوں کو دو بڑی اقسام پر تقسیم کرتی ہیں، ایک کبائر، دوسرے صغائر۔ اور یہ دونوں آیتیں انسان کو امید دلاتی ہیں کہ اگر وہ کبائر اور فواحش سے پرہیز کرے تو اللہ تعالیٰ صغائر سے در گزر فرمائے گا۔ اگرچہ بعض اکابر علماء نے یہ خیال بھی ظاہر کیا ہے کہ کوئی معصیت چھوٹی نہیں ہے بلکہ خدا کی معصیت بجائے خود کبیرہ ہے۔ لیکن جیسا کہ امام غزالی نے فرمایا ہے، کبائر اور صغائر کا فرق ایک ایسی چیز ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ جن ذرائع معلومات سے احکام شریعت کا علم حاصل ہوتا ہے وہ سب اس کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اب رہا یہ سوال کہ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں میں فرق کیا ہے اور کس قسم کے گناہ صغیرہ اور کس قسم کے کبیرہ ہیں، تو اس معاملہ میں جس بات پر ہمارا اطمینان ہے وہ یہ ہے کہ " ہر وہ فعل گناہ کبیرہ ہے جسے کتاب و سنت کی کسی نصّ صریح نے حرام قرار دیا ہو، یا اس کے لیے اللہ اور اس کے رسول نے دنیا میں کوئی سزا مقرر کی ہو، یا اس پر آخرت میں عذاب کی وعید سنائی ہو، یا اس کے مرتکب پر لعنت کی ہو، یا اس کے مرتکبین پر نزول عذاب کی خبر دی ہو "۔ اس نوعیت کے گناہوں کے ماسوا جتنے افعال بھی شریعت کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہیں وہ سب صغائر کی تعریف میں آتے ہیں۔ اسی طرح کبیرہ کی محض خواہش یا اس کا ارادہ بھی کبیرہ نہیں بلکہ صغیرہ ہے۔ حتیٰ کہ کسی بڑے گناہ کے ابتدائی مراحل طے کر جانا بھی اس وقت تک گناہ کبیرہ نہیں ہے جب تک آدمی اس کا ارتکاب نہ کر گزرے۔ البتہ گناہ صغیرہ بھی ایسی حالت میں کبیرہ ہوجاتا ہے جبکہ وہ دین کے استحقاق اور اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں استکبار کے جذبہ سے کیا جائے، اور اس کا مرتکب اس شریعت کو کسی اعتناء کے لائق نہ سمجھے جس نے اسے ایک برائی قرار دیا ہے۔
سورة النَّجْم 33
یعنی صغائر کے مرتکب کا معاف کردیا جانا کچھ اس وجہ سے نہیں ہے کہ صغیرہ گناہ، گناہ نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ تنگ نظری اور خوردہ گیری کا معاملہ نہیں فرماتا۔ بندے اگر نیکی اختیار کریں اور کبائر و فواحش سے اجتناب کرتے رہیں تو وہ ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر گرفت نہ فرمائے گا اور اپنی رحمت بےپایاں کی وجہ سے ان کو ویسے ہی معاف کر دے گا۔
Ayah 53:34سورة النَّجْم 34
اشارہ ہے ولید بن مغیرہ کی طرف جو قریش کے بڑے سرداروں میں سے ایک تھا۔ ابن جریر طبری کی روایت ہے کہ یہ شخص پہلے رسول اللہ ﷺ کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا۔ مگر جب اس کے ایک مشرک دوست کو معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہونے کا ارادہ کر رہا ہے تو اس نے کہا کہ تم دین آبائی کو نہ چھوڑو، اگر تمہیں عذاب آخرت کا خطرہ ہے تو مجھے اتنی رقم دے دو ، میں ذمہ لیتا ہوں کہ تمہارے بدلے وہاں کا عذاب میں بھکت لوں گا۔ ولید نے یہ بات مان لی اور خدا کی راہ پر آتے آتے اس سے پھر گیا، مگر جو رقم اس نے اپنے مشرک دوست کو دینی طے کی تھی وہ بھی بس تھوڑی سی دی اور باقی روک لی۔ اس واقعہ کی طرف اشارہ کرنے سے مقصود کفار مکہ کو یہ بتانا تھا کہ آخرت سے بےفکری اور دین کی حقیقت سے بیخبر ی نے ان کو کیسی جہالتوں اور حماقتوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔
Ayahs 53:35–36سورة النَّجْم 35
یعنی کیا اسے معلوم ہے کہ یہ روش اس کے لیے نافع ہے ؟ کیا وہ جانتا ہے کہ آخرت کے عذاب سے کوئی اس طرح بھی بچ سکتا ہے۔ ؟
Ayah 53:37سورة النَّجْم 36
آ گے ان تعلیمات کا خلاصہ بیان کیا جا رہا ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم کے صحیفوں میں نازل ہوئی تھیں۔ حضرت موسیٰ کے صحیفوں سے مراد توراۃ ہے۔ رہے حضرت ابراہیم کے صحیفے تو وہ آج دنیا میں کہیں موجود نہیں ہیں، اور یہود و نصاریٰ کی کتب مقدسہ میں بھی ان کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا۔ صرف قرآن ہی وہ کتاب ہے جس میں دو مقامات پر صُحُفِ ابراہیم کی تعلیمات کے بعض اجزاء نقل کیے گئے ہیں، ایک یہ مقام، دوسرے سورة الاعلیٰ کی آخری آیات۔
Ayah 53:38سورة النَّجْم 37
اس آیت سے تین بڑے اصول مستنبط ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر شخص خود اپنے فعل کا ذمہ دار ہے۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کے فعل کی ذمہ داری دوسرے پر نہیں ڈالی جاسکتی الا یہ کہ اس فعل کے صدور میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو۔ تیسرے یہ کہ کوئی شخص اگر چاہے بھی تو کسی دوسرے شخص کے فعل کی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لے سکتا، نہ اصل مجرم کو اس بنا پر چھوڑا جاسکتا ہے کہ اس کی جگہ سزا بھگتنے کے لیے کوئی اور آدمی اپنے آپ کو پیش کر رہا ہے۔
Ayah 53:39سورة النَّجْم 38
اس ارشاد سے بھی تین اہم اصول نکلتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر شخص جو کچھ بھی پائے گا اپنے عمل کا پھل پائے گا۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کے عمل کا پھل دوسرا نہیں پاسکتا الا یہ کہ اس عمل میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو۔ تیسرے یہ کہ کوئی شخص سعی و عمل کے بغیر کچھ نہیں پاسکتا۔
ان تین اصولوں کو بعض لوگ دنیا کے معاشی معاملات پر غلط طریقے سے منطبق کر کے ان سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی محنت کی کمائی (earned Income) کے سوا کسی چیز کا جائز مالک نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ بات قرآن مجید ہی کے دیے ہوئے متعدد قوانین اور احکام سے ٹکراتی ہے۔ مثلاً قانون وراثت، جس کی رو سے ایک شخص کے ترکے میں سے بہت سے افراد حصہ پاتے ہیں اور اس کے جائز وارث قرار پاتے ہیں درآں حال یہ کہ یہ میراث ان کی اپنی محنت کی کمائی نہیں ہوتی، بلکہ ایک شیر خوار بچے کے متعلق تو کسی کھینچ تان سے بھی یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ باپ کے چھوڑے ہوئے مال میں اس کی محنت کا بھی کوئی حصہ تھا۔ اسی طرح احکام زکوٰۃ و صدقات، جن کی رو سے ایک آدمی کا مال دوسروں کو محض ان کے شرعی و اخلاقی استحقاق کی بنا پر ملتا ہے اور وہ اس کے جائز مالک ہوتے ہیں، حالانکہ اس مال کے پیدا کرنے میں ان کی محنت کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس لیے قرآن کی کسی ایک آیت کو لے کر اس سے ایسے نتائج نکالنا جو خود قرآن ہی کی دوسری تعلیمات سے متصادم ہوتے ہوں، قرآن کے منشا کے بالکل خلاف ہے۔
بعض دوسرے لوگ ان اصولوں کو آخرت سے متعلق مان کر یہ سوالات اٹھاتے ہیں کہ آیا ان اصولوں کی رو سے ایک شخص کا عمل دوسرے شخص کے لیے کسی صورت میں بھی نافع ہوسکتا ہے ؟ اور کیا ایک شخص اگر دوسرے شخص کے لیے یا اس کے بدلے کوئی عمل کرے تو وہ اس کی طرف سے قبول کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیا یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص اپنے عمل کے اجر کو دوسرے کی طرف منتقل کرسکے ؟ ان سوالات کا جواب اگر نفی میں ہو تو ایصال ثواب اور حج بدل وغیرہ سب ناجائز ہوجاتے ہیں، بلکہ دوسرے کے حق میں دعائے استغفار بھی بےمعنی ہوجاتی ہے، کیونکہ یہ دعا بھی اس شخص کا اپنا عمل نہیں ہے جس کے حق میں دعا کی جائے۔ مگر یہ انتہائی نقطہ نظر معتزلہ کے سوا اہل اسلام میں سے کسی نے اختیار نہیں کیا ہے۔ صرف وہ اس آیت کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ ایک شخص کی سعی دوسرے کے لیے کسی حال میں بھی نافع نہیں ہو سکتی۔ بخلاف اس کے اہل سنت ایک شخص کے لیے دوسرے کی دعا کے نافع ہونے کو تو بالاتفاق مانتے ہیں کیونکہ وہ قرآن سے ثابت ہے، البتہ ایصال ثواب اور نیابۃً دوسرے کی طرف سے کسی نیک کام کے نافع ہونے میں ان کے درمیان اصولاً نہیں بلکہ صرف تفصیلات میں اختلاف ہے۔
(1)۔ ایصال ثواب یہ ہے کہ ایک شخص کوئی نیک عمل کر کے اللہ سے دعا کرے کہ اس کا اجر وثواب کسی دوسرے شخص کو عطا فرما دیا جائے۔ اس مسئلے میں امام مالک اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ خالص بدنی عبادات، مثلاً نماز، روزہ اور تلاوت قرآن وغیرہ کا ثواب دوسرے کو نہیں پہنچ سکتا، البتہ مالی عبادات، مثلاً صدقہ، یا مالی و بدنی مرکب عبادات، مثلاً حج کا ثواب دوسرے کو پہنچ سکتا ہے، کیونکہ اصل یہ ہے کہ ایک شخص کا عمل دوسرے کے لیے نافع نہ ہو، مگر چونکہ احادیث صحیحہ کی رو سے صدقہ کا ثواب پہنچایا جاسکتا ہے اور حج بدل بھی کیا جاسکتا ہے، اس لیے ہم اسی نوعیت کی عبادات تک ایصال ثواب کی صحت تسلیم کرتے ہیں۔ بخلاف اس کے حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ انسان اپنے ہر نیک عمل کا ثواب دوسرے کو ہبہ کرسکتا ہے خواہ وہ نماز ہو یا روزہ یا تلاوت قرآن یا ذکر یا صدقہ یا حج وعمرہ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آدمی جس طرح مزدوری کر کے مالک سے یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی اجرت میرے بجائے فلاں شخص کو دے دی جائے، اسی طرح وہ کوئی نیک عمل کر کے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کرسکتا ہے کہ اس کا اجر میری طرف سے فلاں شخص کو عطا کردیا جائے۔ اس میں بعض اقسام کی نیکیوں کو مستثنیٰ کرنے اور بعض دوسری اقسام کی نیکیوں تک اسے محدود رکھنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ یہی بات بکثرت احادیث سے بھی ثابت ہے
بخاری، مسلم، مسند احمد، ابن ماجہ، طبرانی (فی الاوسط) مستدرک اور ابن ابی شیبہ میں حضرت عائشہ، حضرت ابوہریرہ حضرت جابر بن عبد اللہ، حضرت ابو رافع، حضرت ابو طلحہ انصاری، اور حذیفہ بن اسید الغفاری کی متفقہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو مینڈھے لے کر ایک اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربان کیا اور دوسرا اپنی امت کی طرف سے۔
مسلم، بخاری، مسند احمد، ابوداؤد اور نسائی میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہوگیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کو موقع ملتا تو وہ ضرور صدقہ کرنے کے لیے کہتیں۔ اب اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کے لیے اجر ہے ؟ فرمایا ہاں۔
مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت ہے کہ ان کے دادا عاص بن وائل نے زمانہ جاہلیت میں سو اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی۔ ان کے چچا ہشام بن العاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ ذبح کردیے۔ حضرت عمرو بن العاص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میں کیا کروں۔ حضور نے فرمایا اگر تمہارے باپ نے توحید کا اقرار کرلیا تھا تو تم ان کی طرف سے روزہ رکھو یا صدقہ کرو، وہ ان کے لیے نافع ہوگا۔
مسند احمد، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت حسن بصری کی روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کروں ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اسی مضمون کی متعدد دوسری روایات بھی حضرت عائشہ، حضرت ابوہریرہ اور حضرت بن عباس سے بخاری، مسلم مسند احمد، نسائی ترمذی، ابوداؤد او ابن ماجہ وغیرہ میں موجود ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ نے میت کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت دی ہے اور اسے میت کے لیے نافع بتایا ہے۔
دار قطنی میں ہے کہ ایک شخص نے حضور سے عرض کیا میں اپنے والدین کی خدمت ان کی زندگی میں تو کرتا ہوں، ان کے مرنے کے بعد کیسے کروں ؟ فرمایا " یہ بھی ان کی خدمت ہی ہے کہ ان کے مرنے کے بعد تو اپنی نماز کے ساتھ ان کے لیے بھی نماز پڑھے اور اپنے روزوں کے ساتھ ان کے لیے بھی روزے رکھ "۔ ایک دوسری روایت دار قطنی میں حضرت علی سے مروی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نے فرمایا جس شخص کا قبرستان پر گزر ہو اور وہ گیارہ مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھ کر اس کا اجر مرنے والوں کو بخش دے تو جتنے مردے ہیں اتنا ہی اجر عطا کردیا جائے گا۔
یہ کثیر روایات جو ایک دوسری کی تائید کر رہی ہیں، اس امر کی تصریح کرتی ہیں کہ ایصال ثواب نہ صرف ممکن ہے، بلکہ ہر طرح کی عبادت اور نیکیوں کے ثواب کا ایصال ہوسکتا ہے اور اس میں کسی خاص نوعیت کے اعمال کی تخصیص نہیں ہے۔ مگر اس سلسلے میں چار باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہییں
ایک یہ کہ ایصال اسی عمل کے ثواب کا ہوسکتا ہے جو خالصۃً اللہ کے لیے اور قواعد شریعت کے مطابق کیا گیا ہو، ورنہ ظاہر ہے کہ غیر اللہ کے لیے یا شریعت کے خلاف جو عمل کیا جائے اس پر خود عمل کرنے والے ہی کو کسی قسم کا ثواب نہیں مل سکتا، کجا کہ وہ کسی دوسرے کی طرف منتقل ہو سکے۔
دوسری بات یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں صالحین کی حیثیت سے مہمان ہیں ان کو تو ثواب کا ہدیہ یقیناً پہنچے گا مگر جو وہاں مجرم کی حیثیت سے حوالات میں بند ہیں انہیں کوئی ثواب پہنچنا متوقع نہیں ہے۔ اللہ کے مہمانوں کو ہدیہ تو پہنچ سکتا ہے، مگر امید نہیں کہ اللہ کے مجرم کو تحفہ پہنچ سکے۔ اس کے لیے اگر کوئی شخص کسی غلط فہمی کی بنا پر ایصال ثواب کرے گا تو اس کا ثواب ضائع نہ ہوگا بلکہ مجرم کو پہنچنے کے بجائے اصل عامل ہی کی طرف پلٹ آئے گا۔ جیسے منی آرڈر اگر مرسل الیہ کو نہ پہنچے تو مرسل کو واپس مل جاتا ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ ایصال ثواب تو ممکن ہے مگر ایصال عذاب ممکن نہیں ہے۔ یعنی یہ تو ہوسکتا ہے کہ آدمی نیکی کر کے کسی دوسرے کے لیے اجر بخش دے اور وہ اس کو پہنچ جائے، مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ آدمی گناہ کر کے اس کا عذاب کسی کو بخشے اور وہ اسے پہنچ جائے۔
اور چوتھی بات یہ ہے کہ نیک عمل کے دو فائدے ہیں۔ ایک اس کے وہ نتائج جو عمل کرنے والے کی اپنی روح اور اس کے اخلاق پر مترتب ہوتے ہیں اور جن کی بنا پر وہ اللہ کے ہاں بھی جزا کا مستحق ہوتا ہے۔ دوسرے اس کا وہ اجر جو اللہ تعالیٰ بطور انعام اسے دیتا ہے۔ ایصال ثواب کا تعلق پہلی چیز سے نہیں ہے بلکہ صرف دوسری چیز سے ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص ورزش کر کے کشتی کے فن میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے جو طاقت اور مہارت اس میں پیدا ہوتی ہے وہ بہرحال اس کی ذات ہی کے لیے مخصوص ہے۔ دوسرے کی طرف وہ منتقل نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح اگر وہ کسی دربار کا ملازم ہے اور پہلوان کی حیثیت سے اس کے لیے ایک تنخواہ مقرر ہے تو وہ بھی اسی کو ملے گی، کسی اور کو نہ دے دی جائے گی۔ البتہ جو انعامات اس کی کارکردگی پر خوش ہو کر اس کا سرپرست اسے دے اس کے حق میں وہ درخواست کرسکتا ہے کہ وہ اس کے استاد، یا ماں باپ، یا دوسرے محسنوں کو اس کی طرف سے دے دیے جائیں۔ ایسا ہی معاملہ اعمال حسنہ کا ہے کہ ان کے روحانی فوائد قابل انتقال نہیں ہیں، اور ان کی جزا بھی کسی کو منتقل نہیں ہو سکتی، مگر ان کے اجر وثواب کے متعلق وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرسکتا ہے کہ وہ اس کے کسی عزیز قریب یا اس کے کسی محسن کو عطا کردیا جائے۔ اسی لیے اس کو ایصال جزا نہیں بلکہ ایصال ثواب کہا جاتا ہے۔
(2)۔ ایک شخص کی سعی کے کسی اور شخص کے لیے نافع ہونے کی دوسری شکل یہ ہے کہ آدمی یا تو دوسرے کی خواہش اور ایماء کی بنا پر اس کے لیے کوئی نیک عمل کرے، یا اس کی خواہش اور ایماء کے بغیر اس کی طرف سے کوئی ایسا عمل کرے جو دراصل واجب تو اس کے ذمہ تھا مگر وہ خود اسے ادا نہ کرسکا۔ اس کے بارے میں فقہاء حنفیہ کہتے ہیں کہ عبادات کی تین قسمیں ہیں۔ ایک خالص بدنی، جیسے نماز۔ دوسری خالص مالی، جیسے زکوٰۃ۔ اور تیسری مالی و بدنی مرکب، جیسے حج۔ ان میں سے پہلی قسم میں نیابت نہیں چل سکتی، مثلاً ایک شخص کی طرف سے دوسرا شخص نیابۃً نماز نہیں پڑھ سکتا۔ دوسری قسم میں نیابت ہو سکتی ہے، مثلاً بیوی کے زیورات کی زکوٰۃ شوہر دے سکتا ہے۔ تیسری قسم میں نیابت صرف اس حالت میں ہو سکتی ہے جبکہ اصل شخص جس کی طرف سے کوئی فعل کیا جا رہا ہے، اپنا فریضہ خود ادا کرنے سے عارضی طور پر نہیں بلکہ مستقل طور پر عاجز ہو، مثلاً حج بدل ایسے شخص کی طرف سے ہوسکتا ہے جو خود حج کے لیے جانے پر قادر نہ ہو اور نہ یہ امید ہو کہ وہ کبھی اس کے قابل ہو سکے گا۔ مالکہ اور شافیہ بھی اس کے قائل ہیں۔ البتہ امام مالک حج بدل کے لیے یہ شرط لگاتے ہیں کہ اگر باپ نے وصیت کی ہو کہ اس کا بیٹا اس کے بعد اس کی طرف سے حج کرے تو وہ حج بدل کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔ مگر احادیث اس معاملہ میں بالکل صاف ہیں کہ باپ کا ایما یا وصیت ہو یا نہ ہو، بیٹا اس کی طرف سے حج بدل کرسکتا ہے۔
ابن عباس کی روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میرے باپ کو فریضہ حج کا حکم ایسی حالت میں پہنچا ہے کہ وہ بہت بوڑھا ہوچکا ہے، اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ نہیں سکتا۔ آپ نے فرمایا فحُجّی عنہ، " تو اس کی طرف سے تو حج کرلے " (بخاری، مسلم، احمد، ترمذی، نسائی،)۔ قریب قریب اسی مضمون کی روایت حضرت علی نے بھی بیان کی ہے (احمد، ترمذی)۔
حضرت عبداللہ بن زبیر قبیلہ خثعم ہی کے ایک مرد کا ذکر کرتے ہیں کہ اس نے بھی اپنے بوڑھے باپ کے متعلق یہی سوال کیا تھا۔ حضور نے پوچھا کیا تو اس کا سب سے بڑا لڑکا ہے ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا ارایت لو کان علیٰ ابیک دین فقضیتہ عنہ اکان یجزی ذٰلک عنہ ؟ " تیرا کیا خیال ہے، اگر تیرے باپ پر قرض ہو اور تو اس کو ادا کر دے تو وہ اس کی طرف سے ادا ہوجائے گا ؟ " اس نے عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا فَاحْجُجْ عنہ۔ " بس اسی طرح تو اس کی طرف سے حج بھی کرلے "۔ (احمد۔ نسائی)۔
ابن عباس کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے آ کر عرض کیا کہ میری ماں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی مگر وہ اس سے پہلے ہی مر گئی، اب کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا " تیری ماں پر اگر قرض ہوتا تو کیا تو اس کو ادا نہ کرسکتی تھی ؟ اسی طرح تم لوگ اللہ کا حق بھی ادا کرو، اور اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کے ساتھ کیے ہوئے عہد پورے کیے جائیں " (بخاری۔ نسائی)۔ بخاری اور مسند احمد میں ایک دوسری روایت یہ ہے کہ ایک مرد نے آ کر اپنی بہن کے بارے میں وہی سوال کیا جو اوپر مذکور ہوا ہے اور حضور نے اس کو بھی یہی جواب دیا۔
ان روایات سے مالی و بدنی مرکب عبادات میں نیابت کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ رہیں خالص بدنی عبادات تو بعض احادیث ایسی ہیں جن سے اس نوعیت کی عبادات میں بھی نیابت کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً ابن عباس کی یہ روایت کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے حضور سے پوچھا " میری ماں نے روزے کی نذر مانی تھی اور وہ پوری کیے بغیر مر گئی، کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھ سکتی ہوں ؟ " حضور نے فرمایا " اس کی طرف سے روزہ رکھ لے " (بخاری، مسلم، احمد، نسائی۔ ابوداؤد)۔ اور حضرت بریدہ کی یہ روایت کہ ایک عورت نے اپنی ماں کے متعلق پوچھا کہ اس کے ذمہ ایک مہینے (یا دوسری روایت کے مطابق دو مہینے) کے روزے تھے، کیا میں یہ روزے ادا کر دوں ؟ آپ نے اس کو بھی اس کی اجازت دے دی (مسلم، احمد، ترمذی، ابوداؤد)۔ اور حضرت عائشہ کی روایت کہ حضور نے فرمایا من مات وعلیہ صیام صام عنہ ولیہ، " جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ کچھ روزے ہوں تو اس کی طرف سے اسکا ولی وہ روزے رکھ لے " (بخاری، مسلم، احمد۔ بزار کی روایت میں حضور کے الفاظ یہ ہیں کہ فلیصم عنہ ولیہ ان شاء۔ یعنی اس کا ولی اگر چاہے تو اس کی طرف سے یہ روزے رکھ لے)۔ انہی احادیث کی بنا پر اصحاب الحدیث اور امام اوزاعی اور ظاہریہ اس کے قائل ہیں کہ بدنی عبادات میں بھی نیابت جائز ہے۔ مگر امام ابو حنیفہ، امام مالک، اور امام شافعی اور امام زید بن علی کا فتویٰ یہ ہے کہ میت کی طرف سے روزہ نہیں رکھا جاسکتا ہے جبکہ مرنے والے نے اس کی نذر مانی ہو اور وہ اسے پورا نہ کرسکا ہو۔ مانعین کا استدلال یہ ہے کہ جن احادیث سے اس کے جواز کا ثبوت ملتا ہے ان کے راویوں نے خود اس کے خلاف فتویٰ دیا ہے۔ ابن عباس کا فتویٰ نسائی نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے کہ لا یصل احد عن احدٍ ولا یصم احد عن احد، " کوئی شخص کسی کی طرف سے نماز پڑھے اور نہ روزہ رکھے "۔ اور حضرت عائشہ کا فتویٰ عبدالرزاق کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ لا تصوموا عن موتٰکم و اطعموا عنہم، " اپنے مردوں کی طرف سے روزہ نہ رکھو بلکہ کھانا کھلاؤ "۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے بھی عبدالرزاق نے یہی بات نقل کی ہے کہ میت کی طرف سے روزہ نہ رکھا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداءً بدنی عبادات میں نیابت کی اجازت تھی، مگر آخری حکم یہی قرار پایا کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ ورنہ کس طرح ممکن تھا کہ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ احادیث نقل کی ہیں وہ خود ان کے خلاف فتویٰ دیتے۔
اس سلسلے میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ نیابۃً کسی فریضہ کی ادائیگی صرف ان ہی لوگوں کے حق میں مفید ہو سکتی ہے جو خود ادائے فرض کے خواہش مند ہوں اور معذوری کی وجہ سے قاصر رہ گئے ہوں۔ لیکن اگر کوئی شخص استطاعت کے باوجود قصداً حج سے مجتنب رہا اور اس کے دل میں اس فرض کا احساس تک نہ تھا، اس کے لیے خواہ کتنے ہی حج بدل کیے جائیں، وہ اس کے حق میں مفید نہیں ہو سکتے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص نے کسی کا قرض جان بوجھ کر مار کھایا اور مرتے دم تک اس کا کوئی ارادہ قرض ادا کرنے کا نہ تھا۔ اس کی طرف سے خواہ بعد میں پائی پائی ادا کردی جائے، اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ قرض مارنے والا ہی شمار ہوگا۔ دوسرے کے ادا کرنے سے سبکدوش صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جو اپنی زندگی میں ادائے قرض کا خواہش مند ہو اور کسی مجبوری کی وجہ سے ادا نہ کرسکا ہو۔
Ayahs 53:40–42سورة النَّجْم 39
یعنی آخرت میں لوگوں کے اعمال کی جانچ پڑتال ہوگی اور یہ دیکھا جائے گا کہ کون کیا کر کے آیا ہے۔ یہ فقرہ چونکہ پہلے فقرے کے معاً بعد ارشاد ہوا ہے اس لیے اس سے خود بخود یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ پہلے فقرے کا تعلق آخرت کی جزا و سزا ہی سے ہے اور ان لوگوں کی بات صحیح نہیں ہے جو اسے اس دنیا کے لیے ایک معاشی اصول بنا کر پیش کرتے ہیں۔ قرآن مجید کی کسی آیت کا ایسا مطلب لینا صحیح نہیں ہوسکتا جو سیاق وسباق کے بھی خلاف ہو، اور قرآن کی دوسری تصریحات سے بھی متصادم ہو۔
Ayahs 53:43–45سورة النَّجْم 40
یعنی خوشی اور غم، دونوں کے اسباب اسی کی طرف سے ہیں۔ اچھی اور بری قسمت کا سر رشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ کسی کو اگر راحت و مسرت نصیب ہوئی ہے تو اسی کے دینے سے ہوئی ہے۔ اور کسی کو مصائب و آلام سے سابقہ پیش آیا ہے تو اسی کی مشیت سے پیش آیا ہے۔ کوئی دوسری ہستی اس کائنات میں ایسی نہیں ہے جو قسمتوں کے بنانے اور بگاڑنے میں کسی قسم کا دخل رکھتی ہو۔
Ayah 53:46سورة النَّجْم 41
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الروم، حواشی 27 تا 30۔ جلد چہارم، الشوریٰ ، حاشیہ 77۔
Ayah 53:47سورة النَّجْم 42
اوپر کی دونوں آیتوں کے ساتھ ملا کر اس آیت کو دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ترتیب کلام سے خود بخود حیات بعد الموت کی دلیل بھی برآمد ہو رہی ہے۔ جو خدا موت دینے اور زندگی بخشنے پر قدرت رکھتا ہے۔ اور جو خدا نطفے کی حقیر سی بوند سے انسان جیسی مخلوق پیدا کرتا ہے، بلکہ ایک ہی مادہ تخلیق و طریق پیدائش عورت اور مرد کی دو الگ صنفیں پیدا کر دکھاتا ہے، اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ دشوار نہیں ہے۔
Ayah 53:48سورة النَّجْم 43
اصل میں لفظ اَقْنیٰ استعمال ہوا ہے جس کے مختلف معنی اہل لغت اور مفسرین نے بیان کیے ہیں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے اس کے معنی اَرْضیٰ (راضی کردیا) بتائے ہیں۔ عکرمہ نے ابن عباس سے اس کے معنی قَنَّعَ (مطمئن کردیا) نقل کیے ہیں۔ امام رازی کہتے ہیں کہ آدمی کی حاجت سے زیادہ جو کچھ بھی اس کو دیا جائے وہ اقناء ہے۔ ابو عبیدہ اور دوسرے متعدد اہل لغت کا قول ہے کہ اَقْنیٰ قُنْیَۃٌ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں باقی اور محفوظ رہنے والا مال، جیسے مکان، اراضی، باغات، مواشی وغیرہ۔ ان سب سے الگ مفہوم ابن زید بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اَقْنیٰ یہاں اَفْقَرَ (فقیر کردیا) کے معنی میں ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس نے جس کو چاہا غنی کیا اور جسے چاہا فقیر کردیا۔
Ayah 53:49سورة النَّجْم 44
شِعْرٰی آسمان کا روشن ترین تارا ہے جسے مِرْزم الجوزاء، الکلب الاکبر، الکلب الجبار، الشعری العبور وغیرہ ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ انگریزی میں اس کو Sirius اور Dog Star اور Canis Majoris کہتے ہیں۔ یہ سورج سے 23 گنا زیادہ روشن ہے، مگر زمین سے اس کا فاصلہ آٹھ سال نوری سے بھی زیادہ ہے اس لیے یہ سورج سے چھوٹا اور کم روشن نظر آتا ہے۔ اہل مصر اس کی پرستش کرتے تھے، کیونکہ اس کے طلوع کے زمانے میں نیل کا فیضان شروع ہوتا تھا، اس لیے وہ سمجھتے تھے کہ یہ اسی کے طلوع کا فیضان ہے۔ جاہلیت میں اہل عرب کا بھی یہ عقیدہ تھا کہ یہ ستارہ لوگوں کی قسمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی بنا پر یہ عرب کے معبودوں میں شامل تھا، اور خاص طور پر قریش کا ہمسایہ قبیلہ خُزَاعَہ اس کی پرستش کے لیے مشہور تھا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشا کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری قسمتیں شعریٰ نہیں بناتا بلکہ اس کا رب بناتا ہے۔
Ayahs 53:50–53سورة النَّجْم 45
عاد اولیٰ سے مراد ہے قدیم قوم عاد جس کی طرف حضرت ہود ؑ بھیجے گئے تھے۔ یہ قوم جب حضرت ہود کو جھٹلانے کی پاداش میں مبتلائے عذاب ہوئی تو صرف وہ لوگ باقی بچے جو ان پر ایمان لائے تھے۔ ان کی نسل کو تاریخ میں عاد اخریٰ یا عاد ثانیہ کہتے ہیں۔
Ayah 53:54سورة النَّجْم 46
اَوندھی گرنے والی بستیوں سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ اور " چھا دیا ان پر جو کچھ چھا دیا " سے مراد غالباً بحر مردار کا پانی ہے جو ان کی بستیوں کے زمین میں دھنس جانے کے بعد ان پر پھیل گیا تھا اور آج تک وہ اس علاقے پر چھایا ہوا ہے۔
Ayah 53:55سورة النَّجْم 47
بعض مفسرین کے نزدیک یہ فقرہ بھی صحف ابراہیم اور صحف موسیٰ کی عبادت کا ایک حصہ ہے۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ فَغَشّٰھَا مَا غَشّٰی پر وہ عبارت ختم ہوگئی، یہاں سے دوسرا مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے پہلا قول ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ بعد کی یہ عبارت کہ " یہ ایک تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے "، اس امر کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ اس سے پہلے کی تمام عبارت پچھلی تنبیہات میں سے ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں ارشاد ہوئی تھیں۔
سورة النَّجْم 48
اصل میں لفظ تَتَمَاریٰ استعمال ہوا ہے جس کے معنی شک کرنے کے بھی ہیں اور جھگڑنے کے بھی خطاب ہر سامع سے ہے۔ جو شخص بھی اس کلام کو سن رہا ہو اس کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو جھٹلانے اور ان کے بارے میں پیغمبروں سے جھگڑا کرنے کا جو انجام انسانی تاریخ میں ہوچکا ہے، کیا اس کے بعد بھی تو اسی حماقت کا ارتکاب کرے گا ؟ پچھلی قوموں نے یہی تو شک کیا تھا کہ جن نعمتوں سے ہم اس دنیا میں مستفید ہو رہے ہیں یہ خدائے واحد کی نعمتیں ہیں، یا کوئی اور بھی ان کے مہیا کرنے میں شریک ہے، یا یہ کسی کی فراہم کی ہوئی نہیں ہیں بلکہ آپ سے آپ فراہم ہوگئی ہیں۔ اسی شک کی بنا پر انہوں نے انبیاء (علیہم السلام) سے جھگڑا کیا تھا۔ انبیاء ان سے کہتے تھے کہ یہ ساری نعمتیں تمہیں خدا نے، اور اکیلے ایک ہی خدا نے عطا کی ہیں، اس لیے اسی کا تمہیں شکر گزار ہونا چاہیے اور اسی کی تم کو بندگی بجا لانی چاہیے۔ مگر وہ لوگ اس کو نہیں مانتے تھے اور اسی بات پر انبیاء سے جھگڑتے تھے۔ اب کیا تجھے تاریخ میں یہ نظر نہیں آتا کہ یہ قومیں اپنے اس شک اور اس جھگڑے کا کیا انجام دیکھ چکی ہیں ؟ کیا تو بھی وہی شک اور وہی جھگڑا کرے گا جو دوسروں کے لیے تباہ کن ثابت ہوچکا ہے ؟
اس سلسلے میں یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ عاد اور ثمود اور قوم نوح کے لوگ حضرت ابراہیم سے پہلے گزر چکے تھے اور قوم لوط خود حضرت ابراہیم کے زمانے میں مبتلائے عذاب ہوئی تھی۔ اس لیے اس عبارت کے صحف ابراہیم کا ایک حصہ ہونے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
Ayah 53:56سورة النَّجْم 49
اصل الفاظ ہیں ھٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلیٰ۔ اس فقرے کی تفسیر میں مفسرین کے تین اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ نذیر سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس سے مراد قرآن ہے۔ تیسرے یہ کہ اس سے مراد پچھلی ہلاک شدہ قوموں کا انجام ہے جس کا مال اوپر کی آیات میں بیان فرمایا گیا ہے۔ سیاق کلام کے لحاظ سے ہمارے نزدیک یہ تیسری تفسیر قابل ترجیح ہے۔
Ayah 53:57سورة النَّجْم 50
یعنی یہ خیال نہ کرو کہ سوچنے کے لیے ابھی بہت وقت پڑا ہے، کیا جلدی ہے کہ ان باتوں پر ہم فوراً ہی سنجیدگی کے ساتھ غور کریں اور انہیں ماننے کا بلا تاخیر فیصلہ کر ڈالیں۔ نہیں، تم میں سے کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کے لیے زندگی کی کتنی مہلت باقی ہے۔ ہر وقت تم میں سے ہر شخص کی موت بھی آسکتی ہے، اور قیامت بھی اچانک پیش آسکتی ہے۔ اس لیے فیصلے کی گھڑی کو دور نہ سمجھو۔ جس کو بھی اپنی عاقبت کی فکر کرنی ہے وہ ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر سنبھل جائے۔ کیونکہ ہر سانس کے بعد یہ ممکن ہے کہ دوسرا سانس لینے کی نوبت نہ آئے۔
Ayah 53:58سورة النَّجْم 51
یعنی فیصلے کی گھڑی جب آجائے گی تو نہ تم اسے روک سکو گے اور نہ تمہارے معبود ان غیر اللہ میں سے کسی کا یہ بل بوتا ہے کہ وہ اس کو ٹال سکے۔ ٹال سکتا ہے تو اللہ ہی ٹال سکتا ہے، اور وہ اسے ٹالنے والا نہیں ہے۔
Ayah 53:59سورة النَّجْم 52
اصل میں لفظ ھٰذَا الْحَدِیْث استعمال ہوا ہے جس سے مراد وہ ساری تعلیم ہے جو رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے قرآن مجید میں پیش کی جا رہی تھی۔ اور تعجب سے مراد وہ تعجب ہے جس کا اظہار آدمی کسی انوکھی اور ناقابل یقین بات کو سن کر کیا کرتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ یہی کچھ تو ہے جو تم نے سن لی۔ اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم کان کھڑے کرتے ہو اور حیرت سے اس طرح منہ تکتے ہو کہ گویا کوئی بڑی عجیب اور نرالی باتیں تمہیں سنائی جا رہی ہیں ؟
Ayah 53:60سورة النَّجْم 53
یعنی بجائے اس کے کہ تمہیں اپنی جہالت و گمراہی پر رونا آتا، تم لوگ الٹا اس صداقت کا مذاق اڑاتے ہو جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے۔
Ayah 53:61سورة النَّجْم 54
اصل میں لفظ سامِدُوْنَ استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں۔ ابن عباس عکرمہ اور ابو عبیدہ نحوی کا قول ہے کہ یمنی زبان میں سُمُود کے معنی گانے بجانے کے ہیں اور آیت کا اشارہ اس طرف ہے کہ کفار مکہ قرآن کی آواز کو دبانے اور لوگوں کی توجہ دوسری طرف ہٹانے کے لیے زور زور سے گانا شروع کردیتے تھے۔ دوسرے معنی ابن عباس اور مجاہد نے یہ بیان کیے ہیں کہ السّمود البرْطَمَۃ وھی رفع الراس تکبرا، کانوا یمرون علی النبی ﷺ غضا بامبرطمین۔ یعنی سمود تکبر کے طور پر سر نیوڑھانے کو کہتے ہیں، کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے جب گزرتے تو غصے کے ساتھ منہ اوپر اٹھائے ہوئے نکل جاتے تھے۔ راغب اصفہانی نے مفردات میں بھی یہی معنی اختیار کیے ہیں، اور اسی معنی کے لحاظ سے سامدون کا مفہوم قتادہ نے غافِلون اور سعید بن جبیر نے معرضون بیان کیا ہے۔
Ayah 53:62سورة النَّجْم 55
امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور اکثر اہل علم کے نزدیک اس آیت پر سجدہ کرنا لازم ہے۔ امام مالک اگرچہ خود اس کی تلاوت کر کے سجدے کا التزام فرماتے تھے (جیسا کہ قاضی ابوبکر ابن العربی نے احکام القرآن میں نقل کیا ہے) مگر ان کا مسلک یہ تھا کہ یہاں سجدہ کرنا لازم نہیں ہے۔ ان کی اس رائے کی بنا حضرت زید بن ثابت کی یہ روایت ہے کہ " میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے سورة نجم پڑھی اور حضور نے سجدہ نہ کیا " (بخاری، مسلم، احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی،)۔ لیکن یہ حدیث اس آیت پر سجدہ لازم ہونے کی نفی نہیں کرتی، کیونکہ اس بات کا احتمال ہے کہ حضور نے اس وقت کسی وجہ سے سجدہ نہ فرمایا ہو اور بعد میں کرلیا ہو۔ دوسری روایات اس باب میں صریح ہیں کہ اس آیت پر التزاماً سجدہ کیا گیا ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود، ابن عباس اور مطلب بن ابی وداعہ کی متفق علیہ روایات یہ ہیں کہ حضور نے جب پہلی مرتبہ حرم میں یہ سورت تلاوت فرمائی تو آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلم و کافر سب سجدے میں گر گئے (بخاری، احمد، نسائی) ابن عمر کی روایت ہے کہ حضور نے نماز میں سورة نجم پڑھ کر سجدہ کیا اور دیر تک سجدے میں پڑے رہے (بیہقی، ابن مردویہ) سبرۃ الجہنی کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے فجر کی نماز میں سورة نجم پڑھ کر سجدہ کیا اور پھر اٹھ کر سورة زلزال پڑھی اور رکوع کیا (سعید بن منصور)۔ خود امام مالک نے بھی مؤطا، باب ماجاء فی سجود القرآن میں حضرت عمر کا یہ فعل نقل کیا ہے۔