Ayah 52:40سورة الطُّوْر 31
سوال کا اصل روئے سخن کفار کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر رسول تم سے کوئی غرض رکھتا اور اپنی کسی ذاتی منفعت کے لیے یہ ساری دوڑ دھوپ کر رہا ہوتا تو اس سے تمہارے بھاگنے کی کم از کم ایک معقول وجہ ہوتی۔ مگر تم خود جانتے ہو کہ وہ اپنی اس دعوت میں بالکل بےغرض ہے اور محض تمہاری بھلائی کے لیے اپنی جان کھپا رہا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ تم ٹھنڈے دل سے اس کی بات سننے تک کے روادار نہیں ہو ؟ اس سوال میں ایک لطیف تعریض بھی ہے۔ ساری دنیا کے بناوٹی پیشوا اور مذہبی آستانوں کے مجاوروں کی طرح عرب میں بھی مشرکین کے پیشوا اور پنڈت اور پروہت کھلا کھلا مذہبی کاروبار چلا رہے تھے۔ اس پر یہ سوال ان کے سامنے رکھ دیا گیا کہ ایک طرف یہ مذہب کے تاجر ہیں جو علانیہ تم سے نذریں، نیازیں، اور ہر مذہبی خدمت کی اجرتیں وصول کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایک شخص کامل بےغرضی کے ساتھ، بلکہ اپنے تجارتی کاروبار کو برباد کر کے تمہیں نہایت معقول دلائل سے دین کا سیدھا راستہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اب یہ صریح بےعقلی نہیں تو اور کیا ہے کہ تم اس سے بھاگتے اور ان کی طرف دوڑتے ہو۔
Ayah 52:41سورة الطُّوْر 32
یعنی رسول تمہارے سامنے جو حقائق پیش کر رہا ہے ان کو جھٹلانے کے لیے آخر تمہارے پاس وہ کون سا علم ہے جسے تم اس دعوے کے ساتھ پیش کرسکو کہ پردۂ ظاہر کے پیچھے چھپی ہوئی حقیقتوں کو تم براہ راست جانتے ہو ؟ کیا واقعی تمہیں یہ علم ہے کہ خدا ایک نہیں ہے بلکہ وہ سب بھی خدائی صفات و اختیارات رکھتے ہیں جنہیں تم نے معبود بنا رکھا ہے ؟ کیا واقعی تم نے فرشتوں کو دیکھا ہے کہ وہ لڑکیاں ہیں اور نعوذ باللہ، خدا کے ہاں پیدا ہوئی ہیں ؟ کیا واقعی تم یہ جانتے ہو کہ کوئی وحی نہ محمد ﷺ کے پاس آئی ہے نہ خدا کی طرف سے کسی بندے کے پاس آسکتی ہے ؟ کیا واقعی تمہیں اس بات کا علم ہے کہ کوئی قیامت برپا نہیں ہونی ہے اور مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہوگی اور کوئی عالم آخرت قائم نہ ہوگا جس میں انسان کا محاسبہ ہو اور اسے جزا و سزا دی جائے ؟ اگر اس طرح کے کسی علم کا تمہیں دعویٰ غیب کے پیچھے جھانک کر تم نے یہ دیکھ لیا ہے کہ حقیقت وہ نہیں جو رسول بیان کر رہا ہے ؟ اس مقام پر ایک شخص یہ شبہ ظاہر کرسکتا ہے کہ اس کے جواب میں اگر وہ لوگ ہٹ دھرمی کی بنا پر وہ لکھ بھی دیتے تو جس معاشرے میں یہ چیلنج برسر عام پیش کیا گیا تھا اس کے عام لوگ اندھے تو نہ تھے۔ ہر شخص جان لیتا کہ یہ لکھا سراسر ہٹ دھرمی کے ساتھ دیا گیا ہے اور در حقیقت رسول کے بیانات کو جھٹلانے کی بنیاد یہ ہرگز نہیں ہے کہ کسی کو ان کے خلاف واقعہ ہونے کا علم حاصل ہے۔
Ayah 52:42سورة الطُّوْر 33
اشارہ ہے ان تدبیروں کی طرف جو کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کو زک دینے اور آپ کو ہلاک کرنے کے لیے آپس میں بیٹھ بیٹھ کر سوچا کرتے تھے۔
سورة الطُّوْر 34
یہ قرآن کی صریح پیشن گوئیوں میں سے ایک ہے۔ مکی دور کے ابتدائی زمانے میں، جب مٹھی بھر بےسرو سامان مسلمانوں کے سوا بظاہر کوئی طاقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ تھی، اور پوری قوم آپ کے خلاف برسر پیکار تھی، اسلام اور کفر کا مقابلہ ہر دیکھنے والے کو انتہائی نامساوی مقابلہ نظر آ رہا تھا۔ کوئی شخص بھی اس وقت یہ اندازہ نہ کرسکتا تھا کہ چند سال کے بعد یہاں کفر کی بساط بالکل الٹ جانے والی ہے۔ بلکہ ظاہر میں نگاہ تو یہ دیکھ رہی تھی کہ قریش اور سارے عرب کی مخالفت آخر کار اس دعوت کا خاتمہ کر کے چھوڑے گی۔ مگر اس حالت میں پوری تحدی کے ساتھ کفار سے یہ صاف صاف کہہ دیا گیا کہ اس دعوت کو نیچا دکھانے کے لیے جو تدبیریں بھی تم کرنا چاہو کر کے سیکھ لو۔ وہ سب الٹی تمہارے ہی خلاف پڑیں گی اور تم اسے شکست دینے میں ہرگز کامیاب نہ ہو سکو گے۔
Ayah 52:43سورة الطُّوْر 35
یعنی امر واقعہ یہ ہے کہ کن کو انہوں نے اِلٰہ بنا رکھا ہے و حقیقت میں اِلٰہ نہیں ہیں اور شرک سراسر ایک بےاصل چیز ہے۔ اس لیے جو شخص توحید کی دعوت لے کر اٹھا ہے اس کے ساتھ سچائی کی طاقت ہے اور جو لوگ شرک کی حمایت کر رہے ہیں وہ ایک بےحقیقت چیز کے لیے لڑ رہے ہیں۔ اس لڑائی میں شرک آخر کیسے جیت جائے گا ؟
Ayahs 52:44–46سورة الطُّوْر 36
اس ارشاد سے مقصود ایک طرف سرداران قریش کی ہٹ دھرمی کو بےنقاب کرنا، اور دوسری طرف رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی دینا ہے۔ حضور اور صحابہ کرام کے دل میں بار بار یہ خواہش پیدا ہوتی تھی کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی معجزہ ایسا دکھا دیا جائے جس سے ان کو نبوت محمدیہ کی صداقت معلوم ہوجائے۔ اس پر فرمایا گیا ہے کہ یہ خواہ کوئی معجزہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، بہرحال یہ اس کی تاویل کر کے کسی نہ کسی طرح اپنے کفر پر جمے رہنے کا بہانہ ڈھونڈ نکالیں گے، کیونکہ ان کے دل ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ قرآن مجید میں متعدد دوسرے مقامات پر بھی ان کی اس ہٹ دھرمی کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً سورة انعام میں فرمایا " اگر ہم فرشتے بھی ان پر نازل کردیتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اور دنیا بھر کی چیزوں کو ہم ان کی آنکھوں کے سامنے جمع کردیتے تب بھی یہ ماننے والے نہ تھے "۔ (آیت 111)۔ اور سورة حجر میں فرمایا " اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیتے اور یہ دن دہاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے، پھر بھی یہ لوگ یہی کہتے کہ ہماری آنکھیں دھوکا کھا رہی ہیں، بلکہ ہم پر جادو کیا گیا ہے " (آیت۔ 15)۔
Ayah 52:47سورة الطُّوْر 37
یہ اسی مضمون کا اعادہ ہے جو سورة السجدہ، آیت 21 میں گزر چکا ہے کہ " اس بڑے عذاب سے پہلے ہم اسی دنیا میں کسی نہ کسی چھوٹے عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے، شاید کہ یہ اپنی باغیانہ روش سے باز آجائیں "۔ یعنی دنیا میں وقتاً فوقتاً شخصی اور قومی مصیبتیں نازل کر کے ہم انہیں یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ اوپر بالا تر طاقت ان کی قسمتوں کے فیصلے کر رہی ہے اور کوئی اس کے فیصلوں کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ مگر جو لوگ جہالت میں مبتلا ہیں انہوں نے نہ پہلے کبھی ان واقعات سے سبق لیا ہے نہ آئندہ کبھی لیں گے۔ وہ دنیا میں رونما ہونے والے حوادث کے معنی نہیں سمجھتے، اس لیے ان کی ہر وہ تاویل کرتے ہیں جو حقیقت کے فہم سے ان کو اور زیادہ دور لے جانے والی ہو، اور کسی ایسی تاویل کی طرف ان کا ذہن کبھی مائل نہیں ہوتا جس سے اپنی دہریت یا اپنے شرک کی غلطی ان پر واضح ہوجائے۔ یہی بات ہے جو ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے کہ ان المنافق اذا مرض ثم اعفی کان کالبعیر عقلہ اھلہ ثم ارسلوہ فَلَمْ یدر لِمَ عقلوہ ولم یدر لِمَ ارسلوہ۔ (ابو داؤد، کتاب الجنائز) یعنی " منافق جب بیمار پڑتا ہے اور پھر اچھا ہوجاتا ہے تو اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہوتی ہے جسے اس کے مالکوں نے باندھا تو اس کی کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کیوں باندھا ہے اور جب کھول دیا تو وہ کچھ نہ سمجھا کہ کیوں کھول دیا ہے۔ " (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الانبیاء، حاشیہ 45۔ النمل، حاشیہ 66،۔ العنکبوت، حاشیہ 72۔ 73)۔
Ayah 52:48سورة الطُّوْر 38
دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صبر و استقامت کے ساتھ اپنے رب کے حکم کی تعمیل پر ڈٹے رہو۔
سورة الطُّوْر 39
یعنی ہم تمہاری نگہبانی کر رہے ہیں۔ تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ نہیں دیا ہے۔
سورة الطُّوْر 40
اس ارشاد کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں، اور بعید نہیں کہ وہ سب ہی مراد ہوں۔
ایک مفہوم یہ ہے کہ جب بھی تم کسی مجلس سے اٹھو تو اللہ کی حمد و تسبیح کر کے اٹھو۔ نبی ﷺ خود بھی اس پر عمل فرماتے تھے، اور آپ نے مسلمانوں کو بھی یہ ہدایت فرمائی تھی کہ کسی مجلس سے اٹھتے وقت اللہ کی حمد و تسبیح کرلیا کریں، اس سے ان تمام باتوں کا کفارہ ادا ہوجاتا ہے جو اس مجلس میں ہوئی ہوں۔ ابوداؤد، ترمذی نسائی اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ کے واسطے سے حضور کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص کسی مجلس میں بیٹھا ہو اور اس میں خوب قیل و قال ہوئی ہو، وہ اگر اٹھنے سے پہلے یہ الفاظ کہے تو اللہ ان باتوں کو معاف کردیتا ہے جو وہاں ہوں سبحانک اللہم وبحمدک، اشھد ان لا اِلٰہ الا انت، استغفرک واتوب الیک۔ " خداوندا، میں تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔ "
دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ جب تم نیند سے بیدار ہو کر اپنے بستر سے اٹھو تو اپنے رب کی تسبیح کے ساتھ اس کی حمد کرو۔ اس پر بھی نبی ﷺ خود عمل فرماتے تھے اور اپنے اصحاب کو آپ نے یہ تعلیم دی تھی کہ نیند سے جب بیدار ہوں تو یہ الفاظ کہا کریں لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علیٰ کل شیءٍ قدیر۔ سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، ولاحول ولا قوۃ الا باللہ۔ (مسند احمد، بخاری بروایت عبادہ بن الصامت)
تیسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اللہ کی حمد و تسبیح سے اس کا آغاز کرو۔ اسی حکم کی تعمیل میں رسول اللہ ﷺ نے یہ ہدایت فرمائی کہ نماز کی ابتدا تکبیر تحریمہ کے بعد ان الفاظ سے کی جائے سبحانک اللہم وبحمدک و تبارک اسمک و تعالیٰ جدک ولا الٰہ غیرک۔
چوتھا مفہوم اس کا یہ ہے کہ جب تم اللہ کی طرف دعوت دینے کے لیے اٹھو تو اللہ کی حمد و تسبیح سے اس کا آغاز کرو۔ یہ بھی نبی ﷺ کا مستقل معمول تھا کہ آپ ہمیشہ اپنے خطبوں کا آغاز حمد و ثنا سے فرمایا کرتے تھے۔
مفسر ابن جریر نے اس کا ایک اور مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ جب تم دوپہر کو قیلولہ کر کے اٹھو تو نماز پڑھو، اور اس سے مراد نماز ظہر ہے۔
Ayah 52:49سورة الطُّوْر 41
اس سے مراد مغرب و عشا اور تہجد کی نمازیں بھی ہیں، اور تلاوت قرآن بھی، اور اللہ کا ذکر بھی۔
سورة الطُّوْر 42
ستاروں کے پلٹنے سے مراد رات کے آخری حصہ میں ان کا غروب ہونا اور سپیدی صبح کے نمودار ہونے پر ان کی روشنی کا ماند پڑجانا ہے۔ یہ نماز فجر کا وقت ہے۔