Ayah 36:41سورة یٰسٓ 38
بھری ہوئی کشتی سے مراد ہے حضرت نوح ؑ کی کشتی۔ اور نسل انسانی کو اس پر سوار کردینے کا مطلب یہ ہے کہ اس کشتی میں بظاہر تو حضرت نوح ؑ کے چند ساتھی ہی بیٹھے ہوئے تھے مگر درحقیقت قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسان اس پر سوار تھے۔ کیونکہ طوفان نوح ؑ میں ان کے سوا باقی پوری اولاد آدم کو غرق کردیا گیا تھا اور بعد کی انسانی نسل صرف انہی کشتی والوں سے چلی۔
Ayahs 36:42–43سورة یٰسٓ 39
اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ تاریخ میں پہلی کشتی جو بنی وہ حضرت نوح ؑ والی کشتی تھی۔ اس سے پہلے انسان کو دریاؤں اور سمندروں کے عبور کرنے کا کوئی طریقہ معلوم نہ تھا۔ اس طریقے کی تعلیم سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کو دی۔ اور جب ان کی بنائی ہوئی کشتی پر سوار ہو کر اللہ کے کچھ بندے طوفان سے بچ نکلے تو آئندہ ان کی نسل نے بحری سفروں کے لیے کشتیاں بنانے کا سلسلہ شروع کردیا۔
Ayah 36:44سورة یٰسٓ 40
پچھلی نشانیوں کا ذکر دلائل توحید کی حیثیت سے کیا گیا تھا، اور اس نشانی کا ذکر یہ احساس دلانے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ انسان کو فطرت کی طاقتوں پر تصرف کے جو اختیارات بھی حاصل ہیں وہ اللہ کے دیے ہوئے ہیں، اس کے اپنے حاصل کیے ہوئے نہیں ہیں۔ اور ان طاقتوں پر تصرف کے جو طریقے اس نے دریافت کیے ہیں وہ بھی اللہ کی رہنمائی سے اس کے علم میں آئے ہیں، اس کے اپنے معلوم کیے ہوئے نہیں ہیں۔ انسان کا اپنا بل بوتا یہ نہ تھا کہ اپنے زور سے وہ ان عظیم طاقتوں کو مسخر کرتا اور نہ اس میں یہ صلاحیت تھی کہ خود اسرار فطرت کا پتہ چلا لیتا اور ان قوتوں سے کام لینے کے طریقے جان سکتا۔ پھر جن قوتوں پر بھی اللہ نے اس کو اقتدار عطا کیا ہے ان پر اس کا قابو اسی وقت تک چلتا ہے جب تک اللہ کی مرضی یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کے لیے مسخر ہیں۔ ورنہ جب مرضی الٰہی کچھ اور ہوتی ہے تو وہی طاقتیں جو انسان کی خدمت میں لگی ہوتی ہیں، اچانک اس پر پلٹ پڑتی ہیں اور آدمی اپنے آپ کو ان کے سامنے بالکل بےبس پاتا ہے۔ اس حقیقت پر متنبہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بحری سفر کے معاملہ کو محض بطور نمونہ پیش کیا ہے۔ نوع انسانی پوری کی پوری طوفان میں ختم ہوجاتی اگر اللہ تعالیٰ کشتی بنانے کا طریقہ حضرت نوح ؑ کو نہ سجھا دیتا اور ان پر ایمان لانے والے لوگ اس میں سوار نہ ہوجاتے۔ پھر نوع انسانی کے لیے تمام روئے زمین پر پھیلنا اسی وجہ سے ممکن ہوا کہ اللہ سے کشتی سازی کے اصولوں کا علم پاکر لوگ دریاؤں اور سمندروں کو عبور کرنے کے لائق ہوگئے مگر اس ابتدا سے چل کر آج کے عظیم الشان جہازوں کی تعمیر تک انسان نے جتنی کچھ ترقی کی ہے اور جہاز رانی کے فن میں جتنا کچھ بھی کمال حاصل کیا ہے اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ دریا اور سمندر، سب اس کے قابو میں آگئے ہیں اور ان پر اسے مکمل غلبہ حاصل ہوگیا ہے۔ آج بھی خدا کا پانی خدا ہی کے قبضۂ قدرت میں ہے اور جب وہ چاہتا ہے انسان کو اس کے جہازوں سمیت اس میں غرق کردیتا ہے۔
Ayah 36:45سورة یٰسٓ 41
یعنی جو تم سے پہلے کی قومیں دیکھ چکی ہیں۔
Ayah 36:46سورة یٰسٓ 42
آیات سے مراد کتاب اللہ کی آیات بھی ہیں جن کے ذریعہ سے انسان کو نصیحت کی جاتی ہے، اور وہ آیات بھی مراد ہیں جو آثار کائنات اور خود انسان کے وجود اور اس کی تاریخ میں موجود ہیں جو انسان کو عبرت دلاتی ہیں، بشرطیکہ وہ عبرت حاصل کرنے کے لیے تیار ہو۔
Ayah 36:47سورة یٰسٓ 43
اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ کفر نے صرف ان کی عقل ہی اندھی نہیں کی ہے بلکہ ان کی اخلاقی حس کو بھی مردہ کردیا ہے۔ وہ نہ خدا کے بارے میں صحیح تفکر سے کام لیتے ہیں، نہ خلق کے ساتھ صحیح طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ ان کے پاس ہر نصیحت کا الٹا جواب ہے۔ ہر گمراہی اور بد اخلاقی کے لیے ایک اوندھا فلسفہ ہے۔ ہر بھلائی سے فرار کے لیے ایک گھڑا گھڑایا بہانا موجود ہے۔
Ayahs 36:48–49سورة یٰسٓ 44
توحید کے بعد دوسرا مسئلہ جس پر نبی ﷺ اور کفار کے درمیان نزاع برپا تھی وہ آخرت کا مسئلہ تھا۔ اس کے متعلق عقلی دلائل تو آگے چل کر خاتمہ کلام پر دیے گئے ہیں۔ مگر دلائل دینے سے پہلے یہاں اس مسئلے کو لے کر عالم آخرت کا ایک عبرتناک نقشہ ان کے سامنے کھینچا گیا ہے تاکہ انہیں یہ معلوم ہو کہ جس چیز کا وہ انکار کر رہے ہیں وہ ان کے انکار سے ٹلنے والی نہیں ہے بلکہ لا محالہ ایک روز ان حالات سے انہیں دوچار ہونا ہے۔
سورة یٰسٓ 45
اس سوال کا مطلب یہ نہ تھا کہ وہ لوگ فی الواقع قیامت کے آنے کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے، اور اگر مثلاً ان کو یہ بتادیا جاتا کہ وہ فلاں سنہ میں فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو پیش آئے گی تو ان کا شک رفع ہوجاتا اور وہ اسے مان لیتے۔ دراصل اس طرح کے سوالات وہ محض کج بحثی کے لیے چیلنج کے انداز میں کرتے تھے اور ان کا مدعا یہ کہنا تھا کہ کوئی قیامت ویامت نہیں آنی ہے، تم خواہ مخواہ ہمیں اس کے ڈراوے دیتے ہو۔ اسی بنا پر ان کے جواب میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ قیامت فلاں روز آئے گی، بلکہ انہیں یہ بتایا گیا کہ وہ آئے گی اور اس شان سے آئے گی۔
Ayah 36:50سورة یٰسٓ 46
یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ قیامت آہستہ آہستہ آ رہی ہے اور لوگ دیکھ رہے ہیں کہ وہ آ رہی ہے۔ بلکہ وہ اس طرح آئے گی کہ لوگ پورے اطمینان کے ساتھ اپنی دنیا کے کاروبار چلا رہے ہیں اور ان کے حاشیہ خیال میں بھی یہ تصور موجود نہیں ہے کہ دنیا کے خاتمہ کی گھڑی آپہنچی ہے۔ اس حالت میں اچانک ایک زور کا کڑاکا ہوگا اور جو جہاں تھا وہیں دھرا کا دھرا رہ جائے گا۔ حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت ابوہریرہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ لوگ راستوں پر چل رہے ہوں گے، بازاروں میں خریدو فروخت کر رہے ہوں گے، اپنی مجلسوں میں بیٹھے گفتگوئیں کر رہے ہوں گے۔ ایسے میں یکایک صور پھونکا جائے گا۔ کوئی کپڑا خرید رہا تھا تو ہاتھ سے کپڑا رکھنے کی نوبت نہ آئے گی کہ ختم ہوجائے گا۔ کوئی اپنے جانوروں کو پانی پلانے کے لیے حوض بھرے گا اور ابھی پلانے نہ پائے گا کہ قیامت برپا ہوجائے گی۔ کوئی کھانا کھانے بیٹھے گا اور لقمہ اٹھا کر منہ تک لے جانے کی بھی اسے مہلت نہ ملے گی۔
Ayah 36:51سورة یٰسٓ 47
صور کے متعلق تفصیلی کلام کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، ص 122۔ پہلے اور دوسرے صور کے درمیان کتنا زمانہ ہوگا، اس کے متعلق کوئی معلومات ہمیں حاصل نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ زمانہ سینکڑوں اور ہزاروں برس طویل ہو۔ حدیث میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اسرافیل صور پر منہ رکھے عرش کی طرف دیکھ رہے ہیں اور منتظر ہیں کہ کب پھونک مارنے کا حکم ہوتا ہے۔ یہ صور تین مرتبہ پھونکا جائے گا۔ پہلا نفخۃ الفَزَع، جو زمین و آسمان کی ساری مخلوق کو سہما دے گا۔ دوسرا نفخۃ الصَّعق جسے سنتے ہی سب ہلاک ہو کر گر جائیں گے۔ پھر جب اللہ واحد صمد کے سوا کوئی ذرا سی سلوٹ تک نہ رہے گی۔ پھر اللہ اپنی خلق کو بس ایک جھڑکی دے گا جسے سنتے ہی ہر شخص جس جگہ مر کر گرا تھا اسی جگہ وہ اس بدلی ہوئی زمین پر اٹھ کھڑا ہوگا، اور یہی نفخۃ القیام لرب العالمین ہے۔ اسی مضمون کی تائید قرآن مجید کے بھی متعدد اشارات سے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، ص 492۔ 493۔ جلد سوم، ص 124۔ 125۔
Ayahs 36:52–53سورة یٰسٓ 48
یعنی اس وقت انہیں یہ احساس نہ ہوگا کہ وہ مر چکے تھے اور اب ایک مدت دراز کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گئے ہیں، بلکہ وہ اس خیال میں ہوں گے کہ ہم سوئے پڑے تھے، اب یکایک کسی خوفناک حادثہ کی وجہ سے ہم جاگ اٹھے ہیں اور بھاگے جا رہے ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، ص 123۔ 199۔ 200۔)
سورة یٰسٓ 49
یہاں اس امر کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ جواب دینے والا کون ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ دیر بعد خود انہی لوگوں کی سمجھ میں معاملہ کی اصل حقیقت آجائے اور وہ آپ ہی اپنے دلوں میں کہیں کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ تو وہی چیز ہے جس کی خبر خدا کے رسول ہمیں دیتے تھے اور ہم اسے جھٹلایا کرتے تھے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اہل ایمان ان کی غلط فہمی رفع کریں اور ان کو بتائیں کہ یہ خواب سے بیداری نہیں بلکہ موت کے بعد دوسری زندگی ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جواب قیامت کا پورا ماحول ان کو دے رہا ہو، یا فرشتے ان کو حقیقت حال سے مطلع کریں۔
Ayah 36:54سورة یٰسٓ 50
یہ وہ خطاب ہے جو اللہ تعالیٰ کفار و مشرکین اور فساق و مجرمین سے اس وقت فرمائے گا جب وہ اس کے سامنے حاضر کیے جائیں گے۔
Ayahs 36:55–58سورة یٰسٓ 51
اس کلام کو سمجھنے کے لیے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ صالح اہل ایمان میدان حشر میں روک کر نہیں رکھے جائیں گے بلکہ ابتدا ہی میں ان کو بلا حساب، یا ہلکی حساب فہمی کے بعد جنت میں بھیج دیا جائے گا، کیونکہ ان کا ریکارڈ صاف ہوگا۔ انہیں دوران عدالت انتظار کی تکلیف دینے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ میدان حشر میں جواب دہی کرنے والے مجرموں کو بتائے گا کہ دیکھو، جن صالح لوگوں کو تم دنیا میں بیوقوف سمجھ کر ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہ اپنی عقلمندی کی بدولت آج جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں، اور تم جو اپنے آپ کو بڑا زیرک و فرزانہ سمجھ رہے تھے، یہاں کھڑے اپنے جرائم کی جواب دہی کر رہے ہو۔
Ayahs 36:59–60سورة یٰسٓ 52
اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ مومنین صالحین سے الگ ہوجاؤ، کیونکہ دنیا میں چاہے تم ان کی قوم اور ان کے کنبے اور برادری کے لوگ رہے ہو، مگر یہاں اب تمہارا ان کا کوئی رشتہ باقی نہیں ہے۔ اور دوسرا مفہوم یہ کہ تم آپس میں الگ الگ ہوجاؤ۔ اب تمہارا کوئی جتھا قائم نہیں رہ سکتا۔ تمہاری سب پارٹیاں توڑ دی گئیں۔ تمہارے تمام رشتے اور تعلقات کاٹ دیے گئے۔ تم میں سے ایک ایک شخص کو اب تنہا اپنی ذاتی حیثیت میں اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہوگی۔
Ayah 36:61سورة یٰسٓ 53
یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے " عبادت " کو اطاعت کے معنی میں استعمال فرمایا ہے۔ ہم اس سے پہلے تفہیم القرآن میں متعدد مقامات پر اس مضمون کی تشریح کرچکے ہیں) ملاحظہ ہو جلد اول، صفحات 134۔ 398۔ 577۔ 578۔ 586۔ جلد دوم، صفحات 189۔ 482۔ 483۔ جلد سوم، صفحات 31۔ 69۔ 656۔ جلد چہارم، سورة سبا، حاشیہ 63) اس سلسلہ میں وہ نفیس بحث بھی قابل ملاحظہ ہے جو اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے امام رازی نے اپنی تفسیر کبیر میں فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں لَا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰن کے معنی ہیں لا تطیعوہ (اس کی اطاعت نہ کرو)۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کو محض سجدہ کرنا ہی ممنوع نہیں ہے بلکہ اس کی اطاعت کرنا اور اس کے حکم کی تابعداری کرنا بھی ممنوع ہے۔ لہٰذا طاعت عبادت ہے "۔ اس کے بعد امام صاحب یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر عبادت بمعنی طاعت ہے تو کیا آیت اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ میں ہم کو رسول اور امراء کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ؟ پھر اس سوال کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ " ان کی اطاعت جبکہ اللہ کے حکم سے ہو تو وہ اللہ ہی کی عبادت اور اسی کی اطاعت ہوگی۔ کیا دیکھتے نہیں ہو کہ ملائکہ نے اللہ کے حکم سے آدم کو سجدہ کیا اور یہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ تھی۔ امراء کی طاعت ان کی عبادت صرف اس صورت میں ہوگی جبکہ ایسے معاملات میں ان کی اطاعت کی جائے جن میں اللہ نے ان کی اطاعت کا اذن نہیں دیا ہے "۔ پھر فرماتے ہیں " اگر کوئی شخص تمہارے سامنے آئے اور تمہیں کسی چیز کا حکم دے تو دیکھو کہ اس کا یہ حکم اللہ کے حکم کے موافق ہے یا نہیں۔ موافق نہ ہو تو شیطان اس شخص کے ساتھ ہے، اگر اس حالت میں تم نے اس کی اطاعت کی تو تم نے اس کی اور اس کے شیطان کی عبادت کی۔ اسی طرح اگر تمہارا نفس تمہیں کسی کام کے کرنے پر اکسائے تو دیکھو کہ شرع کی رو سے وہ کام کرنے کی اجازت ہے یا نہیں۔ اجازت نہ ہو تو تمہارا نفس خود شیطان ہے یا شیطان اس کے ساتھ ہے۔ اگر تم نے اس کی پیروی کی تو تم اس کی عبادت کے مرتکب ہوئے "۔ آگے چل کر وہ پھر فرماتے ہیں " مگر شیطان کی عبادت کے مراتب مختلف ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک کام کرتا ہے اور اس کے اعضاء کے ساتھ اس کی زبان بھی اس کی موافقت کرتی ہے اور دل بھی اس میں شریک ہوتا ہے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اعضاء وجوارح سے تو آدمی ایک کام کرتا ہے مگر دل اور زبان اس کام میں شریک نہیں ہوتے۔ بعض لوگ ایک گناہ کا ارتکاب اس حال میں کرتے ہیں کہ دل ان کا اس پر راضی نہیں ہوتا اور زبان ان کی اللہ سے مغفرت کر رہی ہوتی ہے اور وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہم یہ برا کام کر رہے ہیں۔ یہ محض ظاہری اعضاء سے شیطان کی عبادت ہے۔ کچھ اور لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ٹھنڈے دل سے جرم کرتے ہیں اور زبان سے بھی اپنے اس فعل پر خوشی و اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔۔ یہ ظاہر و باطن دونوں میں شیطان کے عابد ہیں۔ " (تفسیر کبیر۔ ج 7۔ ص 103۔ 104)
Ayahs 36:62–64سورة یٰسٓ 54
یعنی اگر تم عقل سے محروم رکھے گئے ہوتے اور پھر اپنے رب کو چھوڑ کر اپنے دشمن کی بندگی کرتے تو تمہارے لیے عذر کی کوئی گنجائش تھی۔ لیکن تمہارے پاس تو خدا کی دی ہوئی عقل موجود تھی جس سے تم اپنے دنیا کے سارے کام چلا رہے تھے۔ اور تمہیں خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے متنبہ بھی کردیا تھا۔ اس پر بھی جب تم اپنے دشمن کے فریب میں آئے اور وہ تمہیں گمراہ کرنے میں کامیاب ہوگیا تو اپنی اس حماقت کی ذمہ داری سے تم کسی طرح بری نہیں ہو سکتے۔
Ayahs 36:65–66سورة یٰسٓ 55
یہ حکم ان ہیکڑ مجرموں کے معاملہ میں دیا جائے گا جو اپنے جرائم کا اقبال کرنے سے انکار کریں گے، گواہیوں کو بھی جھٹلا دیں گے، اور نامۂ اعمال کی صحت بھی تسلیم نہ کریں گے۔ تب اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اچھا، اپنی بکواس بند کرو اور دیکھو کہ تمہارے اپنے اعضائے بدن تمہارے کرتوتوں کی کیا روداد سناتے ہیں۔ اس سلسلہ میں یہاں صرف ہاتھوں اور پاؤں کی شہادت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ مگر دوسرے مقامات پر بتایا گیا ہے کہ ان کی آنکھیں، ان کے کان، ان کی زبانیں اور ان کے جسم کی کھالیں بھی پوری داستان سنا دیں گی کہ وہ ان سے کیا کام لیتے رہے ہیں۔ یَوْمَ تَشْھَدُ عَلَیْھِمْ اَلْسِنَتُھُمْ وَاَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (النور۔ آیت 24)۔ حَتّٰی اِذَا مَا جَآؤُھَا شَھِدَ عَلَیْھِمْ سَمْعُھُمْ وَ اَبْصَارُھُمْ وَجُلُوْدُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (حٓم السجدہ۔ آیت 20)۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان کے منہ بند کردیں گے، اور دوسری طرف سورة نور کی آیت میں فرماتا ہے کہ ان کی زبانیں گواہی دیں گی، ان دونوں باتوں میں تطابق کیسے ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ منہ بند کردینے سے مراد ان کا اختیار کلام سلب کرلینا ہے، یعنی اس کے بعد وہ اپنی زبان سے اپنی مرضی کے مطابق بات نہ کرسکیں گے۔ اور زبانوں کی شہادت سے مراد یہ ہے کہ ان کی زبانیں خود یہ داستان سنانا شروع کردیں گی کہ ہم سے ان ظالموں نے کیا کام لیا تھا، کیسے کیسے کفر بکے تھے، کیا کیا جھوٹ بولے تھے، کیا کیا فتنے برپا کیے تھے، اور کس کس موقع پر انہوں نے ہمارے ذریعہ سے کیا باتیں کی تھیں۔
Ayah 36:67سورة یٰسٓ 56
قیامت کا نقشہ کھینچنے کے بعد اب انہیں بتایا جا رہا ہے کہ یہ قیامت تو خیر تمہیں دور کی چیز نظر آتی ہے، مگر ذرا ہوش میں آ کر دیکھو کہ خود اس دنیا میں، جس کی زندگی پر تم پھولے ہوئے ہو، تم کس طرح اللہ کے دست قدرت میں بےبس ہو۔ یہ آنکھیں جن کی بینائی کے طفیل تم اپنی دنیا کے سارے کام چلا رہے ہو، اللہ کے ایک اشارے سے اندھی ہو سکتی ہیں۔ یہ ٹانگیں جن کے بل پر تم یہ ساری دوڑ دھوپ دکھا رہے ہو، اللہ کے ایک حکم سے ان پر اچانک فالج گر سکتا ہے۔ جب تک اللہ کی دی ہوئی یہ طاقتیں کام کرتی رہتی ہیں، تم اپنی خودی کے زعم میں مدہوش رہتے ہو، مگر جب ان میں سے کوئی ایک طاقت بھی جواب دے جاتی ہے تو تمہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ تمہاری بساط کتنی ہے۔
Ayah 36:68سورة یٰسٓ 57
ساخت الٹ دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑھاپے میں آدمی کی حالت بچوں جیسی کردیتا ہے۔ اسی طرح وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوتا ہے۔ اسی طرح دوسرے اسے اٹھاتے بٹھاتے اور سہارا دے کر چلاتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے اس کو کھلاتے پلاتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنے کپڑوں میں اور اپنے بستر پر رفع حاجت کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح وہ ناسمجھی کی باتیں کرتا ہے جس پر لوگ ہنستے ہیں۔ غرض جس کمزوری کی حالت سے اس نے دنیا میں اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا اختتام زندگی پر وہ اسی حالت کو پہنچ جاتا ہے۔
Ayah 36:69سورة یٰسٓ 58
یہ اس بات کا جواب ہے کہ کفار توحید و آخرت اور زندگی بعد موت اور جنت و دوزخ کے متعلق نبی ﷺ کی باتوں کو محض شاعری قرار دے کر اپنے نزدیک بےوزن ٹھہرانے کی کوشش کرتے تھے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، ص 546 تا 549)
Ayah 36:70سورة یٰسٓ 59
زندہ سے مراد سوچنے اور سمجھنے والا انسان ہے جس کی حالت پتھر کی سی نہ ہو کہ آپ اس کے سامنے خواہ کتنی ہی معقولیت کے ساتھ حق اور باطل کا فرق بیان کریں اور کتنی ہی درد مندی کے ساتھ اس کو نصیحت کریں، وہ نہ کچھ سنے، نہ سمجھے اور نہ اپنی جگہ سے سرکے۔
Ayahs 36:71–72سورة یٰسٓ 60
" ہاتھوں " کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ معاذاللہ وہ ذات پاک جسم رکھتی ہے اور انسانوں کی طرح ہاتھوں سے کام کرتی ہے۔ بلکہ اس سے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے خود بنایا ہے، ان کی تخلیق میں کسی دوسرے کا ذرہ برابر دخل نہیں ہے۔
Ayahs 36:73–74سورة یٰسٓ 61
نعمت کو منعم کے سوا کسی اور کا عطیہ سمجھنا، اس پر کسی اور کا احسان مند ہونا، اور منعم کے سوا کسی اور سے نعمت پانے کی امید رکھنا یا نعمت طلب کرنا، یہ سب کفران نعمت ہے۔ اسی طرح یہ بھی کفران نعمت ہے کہ آدمی منعم کی دی ہوئی نعمت کو اس کی رضا کے خلاف استعمال کرے۔ لہٰذا ایک مشرک اور کافر اور منافق اور فاسق انسان محض زبان سے شکر کے الفاظ ادا کر کے خدا کا شاکر بندہ قرار نہیں پاسکتا۔ کفار مکہ اس بات کے منکر نہ تھے کہ ان جانوروں کو خدا نے پیدا کیا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا تھا کہ ان کے پیدا کرنے میں دوسرے معبودوں کا کوئی دخل ہے۔ مگر یہ سب کچھ ماننے کے باوجود جب وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں پر اپنے معبودوں کے شکریے بجا لاتے اور ان کے آگے نذریں اور نیازیں پیش کرتے اور ان سے مزید نعمتوں کی دعائیں مانگتے اور ان کے لیے قربانیاں کرتے تھے تو خدا کے لیے ان کا زبانی شکر بالکل بےمعنی ہوجاتا تھا۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ ان کو کافر نعمت اور احسان فراموش قرار دے رہا ہے۔
Ayah 36:75سورة یٰسٓ 62
یعنی وہ جھوٹے معبود بےچارے خود اپنے بقا اور اپنی حفاظت اور اپنی ضروریات کے لیے ان عبادت گزاروں کے محتاج ہیں۔ ان کے لشکر نہ ہوں تو ان غریبوں کی خدائی ایک دن نہ چلے۔ یہ ان کے حاضر باش غلام بنے ہوئے ہیں۔ یہ ان کی بارگاہیں بنا اور سجا رہے ہیں۔ یہ ان کے لیے پروپیگنڈا کرتے پھرتے ہیں۔ یہ خلق خدا کو ان کا گرویدہ بناتے ہیں۔ یہ ان کی حمایت میں لڑتے اور جھگڑتے ہیں تب کہیں ان کا خدائی چلتی ہے۔ ورنہ ان کا کوئی پوچھنے والا بھی نہ ہو۔ وہ اصلی خدا نہیں ہیں کہ کوئی اس کو مانے یا نہ مانے، وہ اپنے زور پر آپ ساری کائنات کی فرماں روائی کر رہا ہے۔
Ayah 36:76سورة یٰسٓ 63
خطاب ہے نبی ﷺ سے۔ اور کھلی اور چھپی باتوں کا اشارہ اس طرف ہے کہ کفار مکہ کے وہ بڑے بڑے سردار جو آپ کے خلاف جھوٹ کے طوفان اٹھا رہے تھے، وہ اپنے دلوں میں جانتے، اور اپنی نجی محفلوں میں مانتے تھے کہ نبی ﷺ پر جو الزامات وہ لگا رہے ہیں وہ سراسر بےاصل ہیں۔ وہ لوگوں کو آپ کے خلاف بد گمان کرنے کے لیے آپ کو شاعر، کاہن، ساحر، مجون اور نہ معلوم کیا کیا کہتے تھے، مگر خود ان کے ضمیر اس بات کے قائل تھے، اور آپس میں وہ ایک دوسرے کے سامنے اقرار کرتے تھے کہ سب جھوٹی باتیں ہیں جو محض آپ کی دعوت کو نیچا دکھانے کے لیے وہ گھڑ رہے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ان لوگوں کی بیہودہ باتوں پر رنجیدہ نہ ہو۔ سچائی کا مقابلہ جھوٹ سے کرنے والے آخر کار اس دنیا میں بھی ناکام ہوں گے اور آخرت میں بھی اپنا برا انجام دیکھ لیں گے۔
Ayah 36:77سورة یٰسٓ 64
اب کفار کے اس سوال کا استدلالی جواب دیا جا رہا ہے جو آیت 48 میں نقل کیا گیا تھا۔ ان کا یہ سوال کہ " قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی " کچھ اس غرض کے لیے نہ تھا کہ وہ قیامت کے آنے کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے، بلکہ اس بنا پر تھا کہ وہ مرنے کے بعد انسانوں کے دوبارہ اٹھائے جانے کو بعید از امکان، بلکہ بعید از عقل سمجھتے تھے۔ اسی لیے ان کے سوال کے جواب میں امکان آخرت کے دلائل ارشاد ہو رہے ہیں۔
ابن عباس، قتادہ اور سعید بن جبیر کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر کفار مکہ کے سرداروں میں سے ایک شخص قبرستان سے کسی مردے کی ایک بوسیدہ ہڈی لیے ہوئے آگیا اور اس نے نبی ﷺ کے سامنے اسے توڑ کر اور اس کے منتشر اجزا ہوا میں اڑا کر آپ سے کہا، اے محمد ﷺ تم کہتے ہو کہ مردے پھر زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ بتاؤ، ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا ؟ اس کا جواب فوراً ان آیات کی صورت میں دیا گیا۔
سورة یٰسٓ 65
یعنی وہ نطفہ جس میں محض ایک ابتدائی جرثومہ حیات کے سوا کچھ نہ تھا، اس کو ترقی دے کر ہم نے اس حد تک پہنچایا کہ وہ نہ صرف جانوروں کی طرح چلنے پھرنے اور کھانے پینے لگا، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اس میں شعور و تعقُّل اور بحث و استدلال اور تقریر و خطابت کی وہ قابلیتیں پیدا ہوگئیں جو کسی حیوان کو نصیب نہیں ہیں، حتٰی کہ اب وہ اپنے خالق کے بھی منہ آنے لگا ہے۔
Ayahs 36:78–79سورة یٰسٓ 66
یعنی ہمیں مخلوقات کی طرح عاجز سمجھتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ جس طرح انسان کسی مردے کو زندہ نہیں کرسکتا، اسی طرح ہم بھی نہیں کرسکتے۔
سورة یٰسٓ 67
یعنی یہ بات بھول جاتا ہے کہ ہم نے بےجان مادہ سے وہ ابتدائی جرثومہ حیات پیدا کیا جو اس کا ذریعہ تخلیق بنا اور پھر اس جرثومے کو پرورش کر کے اسے یہاں تک بڑھا لائے کہ آج وہ ہمارے سامنے باتیں چھانٹنے کے قابل ہوا ہے۔