3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 3:41

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

عرض کیا مالک! پھر کوئی نشانی میرے لیے مقرر فرما دے۔کہا”41 نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سوا کوئی بات چیت نہ کرو گے(یا نہ کر سکو گے)۔ اِس دوران میں اپنے رب کو بہت یاد کرنا اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہنا“۔42

سورة اٰلِ عِمْرٰن 41 یعنی ایسی علامت بتادے کہ جب ایک پیر فرتوت اور ایک بوڑھی بانجھ کے ہاں لڑکے کی ولادت جیسا عجیب غیر معمولی واقعہ پیش آنے والا ہو تو اس کی اطلاع مجھے پہلے سے ہو۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن 42 اس تقریر کا اصل مقصد عیسائیوں پر ان کے اس عقیدے کی غلطی واضح کرنا ہے کہ وہ مسیح ؑ کو خدا کا بیٹا اور الٰہ سمجھتے ہیں۔ تمہید میں حضرت یحییٰ ؑ کا ذکر اس وجہ سے فرمایا گیا ہے کہ جس طرح مسیح ؑ کی ولادت معجزانہ طور پر ہوئی تھی اسی طرح ان سے چھ ہی مہینہ پہلے اسی خاندان میں حضرت یحییٰ کی پیدائش بھی ایک دوسری طرح کے معجزے سے ہوچکی تھی۔ اس سے اللہ تعالیٰ عیسائیوں کو یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ اگر یحیٰی ؑ کو ان کی اعجازی ولادت نے الٰہ نہیں بنایا تو مسیح ؑ محض اپنی غیر معمولی پیدائش کے بل پر الٰہ کیسے ہو سکتے ہیں۔
Ayahs 3:42–44

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

پھر وہ وقت آیا جب مریمؑ سے فرشتوں نے آکر کہا، "اے مریمؑ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطا کی اور تمام دنیا کی عورتوں پر تجھ کو ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لیے چن لیا

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

اے مریمؑ! اپنے رب کی تابع فرمان بن کر رہ، اس کے آگے سر بسجود ہو، اور جو بندے اس کے حضور جھکنے والے ہیں ان کے ساتھ تو بھی جھک جا"

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

اے محمد ؐ ! یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تم کو وحی کے ذریعہ سے بتا رہے ہیں، ورنہ تم اُس وقت وہاں موجو د نہ تھے جب ہیکل کے خادم یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ مریم کا سر پرست کون ہو اپنے اپنے قلم پھینک رہے تھے،43 اور نہ تم اس وقت حاضر تھے جب اُن کے درمیان جھگڑا برپا تھا

سورة اٰلِ عِمْرٰن 43 یعنی قرعہ اندازی کر رہے تھے۔ اس قرعہ اندازی کی ضرورت اس لیے پیش آئی تھی کہ حضرت مریم ؑ کی والدہ نے ان کو خدا کے کام کے لیے ہیکل کی نذر کردیا تھا۔ اور وہ چونکہ لڑکی تھیں اس لیے یہ ایک نازک مسئلہ بن گیا تھا کہ ہیکل کے مجاوروں میں سے کس کی سرپرستی میں وہ رہیں۔
Ayahs 3:45–47

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے کہا، "اے مریمؑ! اللہ تجھے اپنے ایک فرمان کی خوش خبری دیتا ہے اُس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا، دنیا اور آخرت میں معزز ہوگا، اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی، اور وہ ایک مرد صالح ہوگا"

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

یہ سُن کر مریم بولی”پروردگار!میرے ہا ں بچہ کہاں سے ہوگا، مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا“۔ جواب ملا”ایسا ہی ہوگا،44 اللہ جو چاھتا ہے پیدا کر تا ہے۔ وہ جب کسی کا م کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جا تا ہے“

سورة اٰلِ عِمْرٰن 44 یعنی باوجود اس کے کہ کسی مرد نے تجھے ہاتھ نہیں لگایا، تیرے ہاں بچہ پیدا ہوگا۔ یہی لفظ کَذٰلِکَ (ایسا ہی ہوگا) حضرت زکریا کے جواب میں بھی کہا گیا تھا۔ اس کا جو مفہوم وہاں ہے وہی یہاں بھی ہونا چاہیے۔ نیز بعد کا فقرہ بلکہ پچھلا اور اگلا سارا بیان اسی معنی کی تائید کرتا ہے کہ حضرت مریم ؑ کو صنفی مواصلت کے بغیر بچہ پیدا ہونے کی بشارت دی گئی تھی اور فی الواقع اسی صورت سے حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش ہوئی۔ ورنہ اگر بات یہی تھی کہ حضرت مریم ؑ کے ہاں اسی معروف فطری طریقہ سے بچہ پیدا ہونے والا تھا جس طرح دنیا میں عورتوں کے ہاں ہوا کرتا ہے، اور اگر حضرت عیسیٰ کی پیدائش فی الواقع اسی طرح ہوئی ہوتی تو یہ سارا بیان قطعی مہمل ٹھیرتا ہے جو چوتھے رکوع سے چھٹے رکوع تک چلا جا رہا ہے، اور وہ تمام بیانات بھی بےمعنی قرار پاتے ہیں جو ولادت مسیح ؑ کے باب میں قرآن کے دوسرے مقامات پر ہمیں ملتے ہیں۔ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو الٰہ اور ابن اللہ اسی وجہ سے سمجھا تھا کہ ان کی پیدائش غیر فطری طور پر بغیر باپ کے ہوئی تھی، اور یہودیوں نے حضرت مریم ؑ پر الزام بھی اسی وجہ سے لگایا کہ سب کے سامنے یہ واقعہ پیش آیا تھا کہ ایک لڑکی غیر شادی شدہ تھی اور اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ اگر یہ سرے سے واقعہ ہی نہ تھا تب ان دونوں گروہوں کے خیالات کی تردید میں بس اتنا کہہ دینا بالکل کافی تھا کہ تم لوگ غلط کہتے ہو، وہ لڑکی شادی شدہ تھی، فلاں شخص اس کا شوہر تھا، اور اسی کی نطفے سے عیسیٰ ؑ پیدا ہوئے تھے۔ یہ مختصر سی دو ٹوک بات کہنے کے بجائے آخر اتنی لمبی تمہید اٹھانے اور پیچ در پیچ باتیں کرنے اور صاف صاف مسیح بن فلاں کہنے کے بجائے مسیح بن مریم کہنے کی آخر کیا ضرورت تھی جس سے بات سلجھنے کے بجائے اور الجھ جائے۔ پس جو لوگ قرآن کو کلام اللہ مانتے ہیں اور پھر مسیح ؑ کے متعلق یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی ولادت حسب معمول باپ اور ماں کے اتصال سے ہوئی تھی وہ دراصل ثابت یہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اظہار ما فی الضمیر اور بیان مدعا کی اتنی قدرت بھی نہیں رکھتا جتنی خود یہ حضرات رکھتے ہیں (معاذ اللہ)۔
Ayahs 3:48–49

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

(فرشتوں نے پھر سلسلئہ کلام میں کہا) "اور اللہ اُسے کتاب اور حکمت کی تعلیم دے گا، تورات اور انجیل کا علم سکھائے گا

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور بنی اسرئیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا“۔(اور جب وہ بحیثیت رسول بنی اسرائیل کے پاس آیا تو اس نے کہا) ”میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی صورت کا ایک مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں، وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔ میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں اور مُردے کو زندہ کرتا ہوں۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا اپنے گھروں میں ذخیرہ کرکے رکھتے ہو۔ اس میں تمہارے لیے کافی نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔45

سورة اٰلِ عِمْرٰن 45 یعنی یہ علامت تم کو اس امر کا اطمینان دلانے کے لیے کافی ہیں کہ میں اس خدا کا بھیجا ہوا ہوں جو کائنات کا خالق اور حاکم ذی اقتدار ہے۔ بشرطیکہ تم حق کو ماننے کے لیے تیار ہو، ہٹ دھرم نہ ہو۔
Ayah 3:50

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور میں اُس تعلیم و ہدایت کی تصدیق کرنے والا بن کر آیا ہوں جو تو رات میں سے اِس وقت میرے زمانہ میں موجود ہے۔46 اور اس لیے آیا ہوں کہ تمہارے لیے بعض اُن چیزوں کو حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں۔47 دیکھو ، میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں ، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

سورة اٰلِ عِمْرٰن 46 یعنی یہ میرے فرستادہ خدا ہونے کا ایک اور ثبوت ہے۔ اگر میں اس کی طرف سے بھیجا ہوا نہ ہوتا بلکہ جھوٹا مدعی ہوتا تو خود ایک مستقل مذہب کی بنا ڈالتا اور اپنے ان کمالات کے زور پر تمہیں سابق دین سے ہٹا کر اپنے ایجاد کردہ دین کی طرف لانے کی کوشش کرتا۔ لیکن میں تو اسی اصل دین کو مانتا ہوں اور اسی تعلیم کو صحیح قرار دے رہا ہوں جو خدا کی طرف سے اس کے پیغمبر مجھ سے پہلے لائے تھے۔ یہ بات کہ مسیح ؑ وہی دین لے کر آئے تھے جو موسیٰ ؑ اور دوسرے انبیا نے پیش کیا تھا، رائج الوقت اناجیل میں بھی واضح طور پر ہمیں ملتی ہے۔ مثلاً متی کی روایت کے مطابق پہاڑی کے وعظ میں مسیح ؑ صاف فرماتے ہیں ”یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں“۔ (5 17) ایک یہودی عالم نے حضرت مسیح ؑ سے پوچھا کہ احکام دین میں اولین حکم کونسا ہے ؟ جواب میں آپ ؑ نے فرمایا ”خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔ بڑا اور پہلا حکم یہی ہے۔ اور دوسرا اس کے مانند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔ انہی دو حکموں پر تمام توریت اور انبیا کے صحیفوں کا مدار ہے“۔ پھر حضرت مسیح ؑ اپنے شاگردوں سے فرماتے ہیں ”فقیہ اور فریسی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں۔ جو کچھ وہ تمہیں بتائیں وہ سب کرو اور مانو مگر ان کے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں۔“ (متی 23 2۔ 3) سورة اٰلِ عِمْرٰن 47 یعنی تمہارے جہلا کے توہمات، تمہارے فقیہوں کی قانونی موشگافیوں، تمہارے رہبانیت پسند لوگوں کے تشددات، اور غیر مسلم قوموں کے غلبہ و تسلط کی بدولت تمہارے ہاں اصل شریعت الہٰی پر جن قیود کا اضافہ ہوگیا ہے، میں ان کو منسوخ کروں گا اور تمہارے لیے وہی چیزیں حلال اور وہی حرام قرار دوں گا جنہیں اللہ نے حلال یا حرام کیا ہے۔
Ayah 3:51

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ، لہٰذا تم اُسی کی بندگی اختیار کرو، یہی سیدھا راستہ ہے“۔48

سورة اٰلِ عِمْرٰن 48 اس سے معلوم ہوا کہ تمام انبیا (علیہم السلام) کی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کی دعوت کے بھی بنیادی نکات یہی تین تھے ایک یہ کہ اقتدار اعلیٰ ، جس کے مقابلہ میں بندگی کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور جس کی اطاعت پر اخلاق و تمدن کا پورا نظام قائم ہوتا ہے، صرف اللہ کے لیے مختص تسلیم کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس مقتدر اعلیٰ کے نمائندے کی حیثیت سے نبی کے حکم کی اطاعت کی جائے۔ تیسرے یہ کہ انسانی زندگی کو حلت و حرمت اور جواز و عدم جواز کی پابندیوں سے جکڑنے والا قانون و ضابطہ صرف اللہ کا ہو، دوسروں کے عائد کردہ قوانین منسوخ کردیے جائیں۔ پس در حقیقت حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت محمد ﷺ اور دوسرے انبیا کے مشن میں یک سرمو فرق نہیں ہے۔ جن لوگوں نے مختلف پیغمبروں کے مختلف مشن قرار دیے ہیں اور ان کے درمیان مقصد و نوعیت کے اعتبار سے فرق کیا ہے انہوں نے سخت غلطی کی ہے۔ مالک الملک کی طرف سے اس کی رعیت کی طرف جو شخص بھی مامور ہو کر آئے گا اس کے آنے کا مقصد اس کے سوا اور کچھ ہوسکتا ہی نہیں کہ وہ رعایا کو نافرمانی اور خود مختاری سے روکے، اور شرک سے (یعنی اس بات سے کہ وہ اقتدار اعلیٰ میں کسی حیثیت سے دوسروں کو مالک الملک کے ساتھ شریک ٹھیرائیں اور اپنی وفاداریوں اور عبادت گزاریوں کو ان میں منقسم کریں) منع کرے، اور اصل مالک کی خالص بندگی و اطاعت اور پرستاری و وفاداری کی طرف دعوت دے۔ افسوس ہے کہ موجودہ اناجیل میں مسیح ؑ کے مشن کو اس وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا جس طرح اوپر قرآن میں پیش کیا گیا ہے۔ تاہم منتشر طور پر اشارات کی شکل میں وہ تینوں بنیادی نکات ہمیں ان کے اندر ملتے ہیں جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔ مثلاً یہ بات کہ مسیح صرف اللہ کی بندگی کے قائل تھے ان کے اس ارشاد سے صاف ظاہر ہوتی ہے ”تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر“ (متی 4 10) اور صرف یہی نہیں کہ وہ اس کے قائل تھے بلکہ ان کی ساری کوششوں کا مقصود یہ تھا کہ زمین پر خدا کے امر شرعی کی اسی طرح اطاعت ہو جس طرح آسمان پر اس کے امر تکوینی کی اطاعت ہو رہی ہے ”تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو“ (متی 6 10) پھر یہ بات کہ مسیح ؑ اپنے آپ کو نبی اور آسمانی بادشاہت کے نمائندے کی حیثیت سے پیش کرتے تھے، اور اسی حیثیت سے لوگوں کو اپنی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے، ان کے متعدد اقوال سے معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے جب اپنے وطن ناصرہ سے اپنی دعوت کا آغاز کیا تو ان کے اپنے ہی بھائی بند اور اہل شہر ان کی مخالفت کے لیے کھڑے ہوگئے۔ اس پر متی، مرقس اور لوقا تینوں کی متفقہ روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا ”نبی اپنے وطن میں مقبول نہیں ہوتا“۔ اور جب یروشلم میں ان کے قتل کی سازشیں ہونے لگیں اور لوگوں نے ان کو مشورہ دیا کہ آپ کہیں اور چلے جائیں تو انہوں نے جواب دیا ”ممکن نہیں کہ نبی یروشلم سے باہر ہلاک ہو“ (لوقا 13 23)۔ آخری مرتبہ جب وہ یروشلم میں داخل ہو رہے تھے تو ان کے شاگردوں نے بلند آواز سے کہنا شروع کیا ”مبارک ہے وہ بادشاہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے“۔ اس پر یہودی علما ناراض ہوئے اور انہوں نے حضرت مسیح ؑ سے کہا کہ آپ اپنے شاگردوں کو چپ کرائیں۔ اس پر آپ نے فرمایا ”اگر یہ چپ رہیں گے تو پتھر پکار اٹھیں گے“ (لوقا 19 38۔ 40) ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا ”اے محنت اٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو، سب میرے پاس آؤ، میں تم کو آرام دونگا۔ میرا جوا اپنے اوپر اٹھالو۔۔۔۔ میرا جوا ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا“۔ (متی 11 28۔ 30) پھر یہ بات کہ مسیح ؑ انسانی ساخت کے قوانین کے بجائے خدائی قانون کی اطاعت کرانا چاہتے تھے متی اور مرقس کی اس روایت سے صاف طور پر مترشح ہوتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہودی علما نے اعتراض کیا کہ آپ کے شاگرد بزرگوں کی روایات کے خلاف ہاتھ دھوئے بغیر کھانا کیوں کھالیتے ہیں ؟ اس پر حضرت مسیح ؑ نے فرمایا تم ریاکاروں کی حالت وہی ہے جس پر یسعیاہ نبی کی زبان سے یہ طعنہ دیا گیا ہے کہ ”یہ امت زبان سے تو میری تعظیم کرتی ہے مگر ان کے دل مجھ سے دور ہیں، کیونکہ یہ انسانی احکام کی تعلیم دیتے ہیں“۔ تم لوگ خدا کے حکم کو تو باطل کرتے ہو اور اپنے گھڑے ہوئے قوانین کو برقرار رکھتے ہو۔ خدا نے تورات میں حکم دیا تھا کہ ماں باپ کی عزت کرو اور جو کوئی ماں باپ کو برا کہے وہ جان سے مارا جائے۔ مگر تم کہتے ہو کہ جو شخص اپنی ماں یا باپ سے یہ کہہ دے کہ میری جو خدمات تمہارے کام آسکتی تھیں انہیں میں خدا کی نذر کرچکا ہوں، اس کے لیے بالکل جائز ہے کہ پھر ماں باپ کی کوئی خدمت نہ کرے۔ (متی 15 3۔ 9۔ مرقس 7 5۔ 13)
Ayah 3:52

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

جب عیسٰی نے محسوس کیا کہ بنی اسرئیل کفر و انکار پر آمادہ ہیں تو اس نے کہا ”کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہو تا ہے“؟ حواریوں49 نے جواب دیا”ہم اللہ کے مدد گار ہیں ،50 ہم اللہ پر ایمان لائے، گواہ رہو کہ ہم مسلم(اللہ کے آگے سرِ اطاعت جھکادینے والے )ہیں

سورة اٰلِ عِمْرٰن 49 ”حواری“ کا لفظ قریب قریب وہی معنی رکھتا ہے جو ہمارے ہاں ”انصار“ کا مفہوم ہے۔ بائیبل میں بالعموم حواریوں کے بجائے ”شاگردوں“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور بعض مقامات پر انہیں رسول بھی کہا گیا ہے۔ مگر رسول اس معنی میں کہ مسیح ؑ ان کو تبلیغ کے لیے بھیجتے تھے، نہ اس معنی میں کہ خدا نے ان کو رسول مقرر کیا تھا۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن 50 دین اسلام کی اقامت میں حصہ لینے کو قرآن مجید میں اکثر مقامات پر ”اللہ کی مدد کرنے“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ ایک تشریح طلب مضمون ہے۔ زندگی کے جس دائرے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی عطا کی ہے، اس میں وہ انسان کو کفر یا ایمان، بغاوت یا اطاعت میں سے کسی ایک راہ کے اختیار کرنے پر اپنی خدائی طاقت سے مجبور نہیں کرتا۔ اس کے بجائے وہ دلیل اور نصیحت سے انسان کو اس بات کا قائل کرنا چاہتا ہے کہ انکار و نافرمانی اور بغاوت کی آزادی رکھنے کے باوجود اس کے لیے حق یہی ہے اور اس کی فلاح و نجات کا راستہ بھی یہی ہے کہ اپنے خالق کی بندگی و اطاعت اختیار کرے۔ اس طرح فہمائش اور نصیحت سے بندوں کو راہ راست پر لانے کی تدبیر کرنا، یہ دراصل اللہ کا کام ہے۔ اور جو بندے اس کام میں اللہ کا ساتھ دیں ان کو اللہ اپنا رفیق و مددگار قرار دیتا ہے۔ اور یہ وہ بلند سے بلند مقام ہے جس پر کسی بندے کی پہنچ ہو سکتی ہے۔ نماز، روزہ اور تمام اقسام کی عبادات میں تو انسان محض بندہ و غلام ہوتا ہے۔ مگر تبلیغ دین اور اقامت دین کی جدوجہد میں بندے کو خدا کی رفاقت و مددگاری کا شرف حاصل ہوتا ہے جو اس دنیا میں روحانی ارتقا کا سب سے اونچا مرتبہ ہے۔
Ayahs 3:53–55

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

مالک! جو فرمان تو نے نازل کیا ہے ہم نے اسے مان لیا اور رسول کی پیروی قبول کی، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے"

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

پھر بنی اسرائیل (مسیح کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنے لگے جواب میں اللہ نے بھی اپنی خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

(وہ اللہ کی خفیہ تدبیر ہی تھی) جب اس نے کہا کہ ”اے عیسٰی !اب میں تجھے واپس لے لوں گا 51 اور تجھ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور جنھوں نے تیرا انکار کیا ہے ان سے (یعنی ان کی معیت سے اور ان کے گندے ماحول میں ان کے ساتھ رہنے سے)تجھے پاک کر دوں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک ان لوگوں پر بالا دست رکھوں گا جنھوں نے تیرا انکار کیاہے۔ 52 پھر تم سب کو آخر کار میرے پاس آنا ہے، اس وقت میں ان باتوں کا فیصلہ کر دوں گا جن میں تمہارے درمیان اختلاف ہوا ہے

سورة اٰلِ عِمْرٰن 51 اصل میں لفظ”مُتَوَفِّیْکَ“ استعمال ہوا ہے۔ تَوَفِّی کے اصل معنی لینے اور وُصُول کرنے کے ہیں ”رُوح قبض کرنا“ اس لفظ کا مجازی استعمال ہے نہ کہ اصل لغوی معنی۔ یہاں یہ لفظ انگریزی لفظ(To recall) کے معنی میں مستعمل ہوا ہے ، یعنی کسی عہدہ دار کو اس کے منصب سے واپس بُلانا۔ چونکہ بنی اسرائیل صدیوں سے مسلسل نافرمانیاں کر رہے تھے ، بار بار کی تنبیہوں اور فہمائشوں کے باوجود ان کی قومی روش بگڑتی ہی چلی جا رہی تھی، پے در پے کئی انبیا کو قتل کر چکے تھے اور ہر اس بندہٴ صالح کے خون کے پیاسے ہو جاتے تھے جو نیکی اور راستی کی طرف انہیں دعوت دیتا تھا، جیسے دو جلیل القدر پیغمبروں کو بیک وقت مبعوث کیا جن کے ساتھ مامور مِنَ اللہ ہونے کی ایسی کھُلی کھُلی نشانیاں تھیں کہ ان سے انکار صرف وہی لوگ کر سکتے تھے جو حق و صداقت سے انتہا درجہ کا عناد رکھتے ہوں اور حق کے مقابلہ میں جن کی جسارت و بے باکی حد کو پہنچ چکی ہو۔ مگر بنی اسرائیل نے اس آخری موقع کو بھی ہاتھ سے کھو دیا اور صرف اتنا ہی نہ کیا کہ ان دونوں پیغمبروں کی دعوت رد کر دی، بلکہ ان کے ایک رئیس نے علی الاعلان حضرت یحییٰ ؑ جیسے بلند پایہ انسان کا سر ایک رقّاصہ کی فرمائش پر قلم کرا دیا، اور ان کے علما و فقہا نے سازش کر کے حضرت عیسیٰ ؑ کو رُومی سلطنت سے سزائے موت دلوانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کی فہمائش پر مزید وقت صرف کرنا بالکل فضول تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو واپس بُلا لیا اور قیامت تک کے لیے بنی اسرائیل پر ذلت کی زندگی کا فیصلہ لکھ دیا۔ یہاں یہ بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن کی یہ پُوری تقریر دراصل عیسائیوں کے عقیدہ ٴ اُلوہیّت ِ مسیح کی تردید و اصلاح کے لیے ہے۔ اور عیسائیوں میں اس عقیدہ کے پیدا ہونے کے اہم ترین اسباب تین تھے (1) حضرت مسیح کی اعجاز ی ولادت۔ (2) ان کے صریح محسُوس ہونے والے معجزات۔ (3) اُن کا آسمان کی طرف اُٹھایا جانا جس کا ذکر صاف الفاظ میں ان کی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔ قرآن نے پہلی بات کی تصدیق کی اور فرمایا کہ مسیح کا بے باپ پیدا ہونا محض اللہ کی قدرت کا کرشمہ تھا۔ اللہ جس کو جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ یہ غیر معمُولی طریقِ پیدائش ہرگز اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ مسیح خدا تھا یا خدائی میں کچھ بھی حصّہ رکھتا تھا۔ دُوسری بات کی بھی قرآن نے تصدیق کی اور خود مسیح کے معجزات ایک ایک کر کے گنائے، مگر بتا دیا کہ یہ سارے کام اُس نے اللہ کے اذن سے کیے تھے، با ختیار خود کچھ بھی نہیں کیا ، اس لیے ان میں سے بھی کوئی بات ایسی نہیں ہے جس سے تم یہ نتیجہ نکالنے میں کچھ بھی حق بجانب ہو کہ مسیح کا خدائی میں کوئی حصّہ تھا۔ اب تیسری بات کے متعلق اگر عیسائیوں کی روایت سرے سے بالکل ہی غلط ہوتی تب تو ان کے عقیدہ ٴ اُلوہیّتِ مسیح کی تردید کے لیے ضروری تھا کہ صاف صاف کہہ دیا جاتا کہ تم الٰہ اور ابن اللہ بنا رہے ہو وہ مر کر مٹی میں مل چکا ہے ، مزید اطمینان چاہتے ہو تو فلاں مقام پر جا کر اس کی قبر دیکھ لو۔ لیکن ایسا کرنے کے بجائے قرآن صرف یہی نہیں کہ ان کی موت کی تصریح نہیں کرتا، اور صرف یہی نہیں کہ ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جو زندہ اُٹھائے جانے کے مفہوم کا کم از کم احتمال تو رکھتے ہی ہیں، بلکہ عیسائیوں کو اُلٹا یہ اور بتا دیتا ہے کہ مسیح سرے سے صلیب پر چڑھائے ہی نہیں گئے، یعنی وہ جس نے آخر وقت میں ”ایلی ایلی لما شبقتانی“ کہا تھا اور وہ جس کی صلیب پر چڑھی ہوئی حالت کی تصویر تم لیے پھرتے ہو وہ مسیح نہ تھا، مسیح کو تو اس سے پہلے ہی خدا نے اُٹھا لیا تھا۔ اس کے بعد جو لوگ قرآن کی آیات سے مسیح کی وفات کا مفہوم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں وہ دراصل یہ ثابت کرتے ہیں کہ اللہ میاں کو صاف سلجھی ہوئی عبارت میں اپنا مطلب ظاہر کرنے تک کا سلیقہ نہیں ہے۔ اعاذ نا اللہ مِن ذٰلِک۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن 52 انکار کرنے والوں سے مراد یہودی ہیں جن کو حضرت عیسیٰ ؑ نے ایمان لانے کی دعوت دی اور انہوں نے اُسے رد کر دیا۔ بخلاف ان کے پیروی کرنے والوں سے مراد اگر صحیح پیروی کرنے والے ہوں تو وہ صرف مسلمان ہیں ، اور اگر اس سے مراد فی الجملہ آنجناب کے ماننے والے ہوں تو ان میں عیسائی اور مسلمان دونوں شامل ہیں۔
Ayahs 3:56–59

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کی ہے انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں سخت سزا دوں گا اور وہ کوئی مددگار نہ پائیں گے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور جنہوں نے ایمان اور نیک عملی کا رویہ اختیار کیا ہے انہیں اُن کے اجر پورے پورے دے دیے جائیں گے اور خوب جان لے کہ ظالموں سے اللہ ہرگز محبت نہیں کرتا"

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

یہ آیات اور حکمت سے لبریز تذکرے ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک عیسٰی کی مثال آدم کی سی ہے کہ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ ہوجا اور وہ ہوگیا۔53

سورة اٰلِ عِمْرٰن 53 یعنی اگر محض اعجازی پیدائش ہی کسی کو خدا یا خدا کا بیٹا بنانے کے لیے کافی دلیل ہو تب تو پھر تمہیں آدم کے متعلق بدرجہ اولیٰ ایسا عقیدہ تجویز کرنا چاہیے تھا، کیونکہ مسیح تو صرف بےباپ ہی کے پیدا ہوئے تھے، مگر آدم ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے۔
Ayah 3:60

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

یہ اصل حقیقت ہے جو تمہارے رب کی طرف سے بتائی جا رہی ہے اور تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو جو اس میں شک کرتے ہیں۔54

سورة اٰلِ عِمْرٰن 54 یہاں تک کی تقریر میں جو بنیادی نکات عیسائیوں کے سامنے پیش کیے گئے ہیں ان کا خلاصہ علی الترتیب حسب ذیل ہے پہلا امر جو ان کے ذہن نشین کرنے کی کوشش کی گئی ہے یہ ہے کہ مسیح کی الوہیت کا اعتقاد تمہارے اندر جن وجوہ سے پیدا ہوا ہے، ان میں سے کوئی وجہ بھی ایسے اعتقاد کے لیے صحیح نہیں ہے۔ ایک انسان تھا جس کو اللہ نے اپنی مصلحتوں کے تحت مناسب سمجھا کہ غیر معمولی صورت سے پیدا کرے اور اسے ایسے معجزے عطاکرے جو نبوت کی صریح علامت ہوں، اور منکرین حق کو اسے صلیب پر نہ چڑھانے دے بلکہ اس کو اپنے پاس اٹھالے۔ مالک کو اختیار ہے، اپنے جس بندے کو جس طرح چاہے استعمال کرے۔ محض اس غیر معمولی برتاؤ کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ وہ خود مالک تھا، یا مالک کا بیٹا تھا، یا ملکیت میں اس کا شریک تھا۔ دوسری اہم بات جو ان کو سمجھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ مسیح جس چیز کی طرف دعوت دینے آئے تھے وہ وہی چیز ہے جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دے رہے ہیں۔ دونوں کے مشن میں یک سرمو فرق نہیں ہے۔ تیسرا بنیادی نکتہ اس تقریر کا یہ ہے کہ مسیح کے بعد ان کے حواریوں کا مذہب بھی یہی اسلام تھا جو قرآن پیش کر رہا ہے۔ بعد کی عیسائیت نہ اس تعلیم پر قائم رہی جو مسیح ؑ نے دی تھی اور نہ اس مذہب کی پیرو رہی جس کا اتباع مسیح کے حواری کرتے تھے۔
Ayah 3:61

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 3:61 in the Quran reader

یہ علم آجانے کے بعد اب جو کوئی اس معاملہ میں تم سے جھگڑا کرے تو اے محمد ؐ!اس سے کہو کہ”آؤ ہم اور تم خود بھی آجا ئیں اور اپنے اپنے بال بچوں کو بھی لے آئیں اور خدا سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت ہو“۔55

سورة اٰلِ عِمْرٰن 55 فیصلہ کی یہ صورت پیش کرنے سے دراصل یہ ثابت کرنا مقصود تھا کہ وفد نجران جان بوجھ کر ہٹ دھرمی کر رہا ہے۔ اوپر کی تقریر میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں ان میں سے کسی کا جواب بھی ان لوگوں کے پاس نہ تھا۔ مسیحیت کے مختلف عقائد میں سے کسی کے حق میں بھی وہ خود اپنی کتب مقدسہ کی ایسی سند نہ پاتے تھے جس کی بنا پر کامل یقین کے ساتھ یہ دعویٰ کرسکتے کہ ان کا عقیدہ امر واقعہ کے عین مطابق ہے اور حقیقت اس کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔ پھر نبی ﷺ کی سیرت، آپ کی تعلیم اور آپ کے کارناموں کو دیکھ کر اکثر اہل وفد اپنے دلوں میں آپ کی نبوت کے قائل بھی ہوگئے تھے یا کم از کم اپنے انکار میں متزلزل ہوچکے تھے۔ اس لیے جب ان سے کہا گیا کہ اچھا اگر تمہیں اپنے عقیدے کی صداقت کا پورا یقین ہے تو آؤ ہمارے مقابلہ میں دعا کرو کہ جو جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت ہو، تو ان میں سے کوئی اس مقابلہ کے لیے تیار نہ ہوا۔ اس طرح یہ بات تمام عرب کے سامنے کھل گئی کہ نجرانی مسیحیت کے پیشوا اور پادری، جن کے تقدس کا سکہ دور دور تک رواں ہے، دراصل ایسے عقائد کا اتباع کر رہے ہیں جن کی صداقت پر خود انہیں کامل اعتماد نہیں ہے۔
Ayahs 3:62–64

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:62 in the Quran reader

یہ بالکل صحیح واقعات ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خداوند نہیں ہے، اور وہ اللہ ہی کی ہستی ہے جس کی طاقت سب سے بالا اور جس کی حکمت نظام عالم میں کار فرما ہے

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 3:63 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ (اِس شرط پر مقابلہ میں آنے سے) منہ موڑیں تو (اُن کا مفسد ہونا صاف کھل جائے گا) اور اللہ تو مفسدوں کے حال سے واقف ہی ہے

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:64 in the Quran reader

کہو، 56”اے اہل کتاب! آؤ ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔57 یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنا لے“۔۔۔۔ اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو۔ ہم تو مسلم (صرف خدا کی بندگی و اطاعت کرنے والے )ہیں

سورة اٰلِ عِمْرٰن 56 یہاں سے ایک تیسری تقریر شروع ہوتی ہے جس کے مضمون پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ بدر اور جنگ احد کے درمیانی دور کی ہے۔ لیکن ان تینوں تقریروں کے درمیان مطالب کی ایسی قریبی مناسبت پائی جاتی ہے کہ شروع سورت سے لے کر یہاں تک کسی جگہ ربط کلام ٹوٹتا نظر نہیں آتا۔ اسی بنا پر بعض مفسرین کو شبہہ ہوا ہے کہ یہ بعد کی آیات بھی وفد نجران والی تقریر ہی کے سلسلہ کی ہیں۔ مگر یہاں سے جو تقریر شروع ہو رہی ہے اس کا اندازہ صاف بتارہا ہے کہ اس کے مخاطب یہودی ہیں۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن 57 یعنی ایک ایسے عقیدے پر ہم سے اتفاق کرلو جس پر ہم بھی ایمان لائے ہیں اور جس کے صحیح ہونے سے تم بھی انکار نہیں کرسکتے۔ تمہارے اپنے انبیا سے یہی عقیدہ منقول ہے۔ تمہاری اپنی کتب مقدسہ میں اس کی تعلیم موجود ہے۔
Ayahs 3:65–66

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

اے اہل کتاب! تم ابراہیمؑ کے بارے میں ہم سے کیوں جھگڑا کرتے ہو؟ تورات اور انجیل تو ابراہیمؑ کے بعد ہی نازل ہوئی ہیں پھر کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

تم58 لوگ جن چیزوں کا علم رکھتے ہو ان میں تو خوب بحثیں کر چکے، اب ان معاملات میں کیوں بحث کرےچلے ہو جن کا تمہارے پاس کچھ بھی علم نہیں۔ اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے

سورة اٰلِ عِمْرٰن 58 یعنی تمہاری یہ یہودیت اور یہ نصرانیت بہرحال تورات اور انجیل کے نزول کے بعد پیدا ہوئی ہیں، اور ابراہیم ؑ جس مذہب پر تھے وہ بہرحال یہودیت یا نصرانیت تو نہ تھا۔ پھر اگر حضرت ابراہیم ؑ راہ راست پر تھے اور نجات یافتہ تھے تو لامحالہ اس سے لازم آتا ہے کہ آدمی کا راہ راست پر ہونا اور نجات پانا یہودیت و نصرانیت کی پیروی پر موقوف نہیں ہے۔ (ملاحظہ ہو سورة بقرہ 135 و 141)
Ayah 3:67

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

ابراہیم نہ یہودی تھا نہ عیسائی ، بلکہ وہ تو ایک مسلم ِ یکسُو تھا59 اور وہ ہر گز مشرکوں میں سے نہ تھا

سورة اٰلِ عِمْرٰن 59 اصل میں لفظ حنیف استعمال ہوا ہے جس سے مراد ایسا شخص ہے جو ہر طرف سے رخ پھیر کر ایک خاص راستہ پر چلے۔ اسی مفہوم کو ہم نے ”مسلم یک سو“ سے ادا کیا ہے۔
Ayahs 3:68–70

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

ابراہیمؑ سے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق اگر کسی کو پہنچتا ہے تو اُن لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے اس کی پیروی کی اور اب یہ نبی اور اس کے ماننے والے اِس نسبت کے زیادہ حق دار ہیں اللہ صرف اُنہی کا حامی و مددگار ہے جو ایمان رکھتے ہوں

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

(اے ایمان لانے والو) اہل کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹا دے، حالانکہ در حقیقت وہ اپنے سوا کسی کو گمرا ہی میں نہیں ڈال رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 3:70 in the Quran reader

اے اہل کتاب! کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کر رہے ہو؟60

سورة اٰلِ عِمْرٰن 60 دوسرا ترجمہ اس فقرہ کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”تم خود گواہی دیتے ہو“۔ دونوں صورتوں میں نفس معنی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ دراصل نبی ﷺ کی پاکیزہ زندگی، اور صحابہ کرام کی زندگیوں پر آپ کی تعلیم و تربیت کے حیرت انگیز اثرات، اور وہ بلند پایہ مضامین جو قرآن میں ارشاد ہو رہے تھے، یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کی ایسی روشن آیات تھیں کہ جو شخص انبیا کے احوال اور کتب آسمانی کے طرز سے واقف ہو اس کے لیے ان آیات کو دیکھ کر آنحضرت کی نبوت میں شک کرنا بہت ہی مشکل تھا۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ بہت سے اہل کتاب (خصوصاً ان کے اہل علم) یہ جان چکے تھے کہ حضور وہی نبی ہیں جن کی آمد کا وعدہ انبیا سے سابقین نے کیا تھا، حتٰی کہ کبھی کبھی حق کی زبردست طاقت سے مجبور ہو کر ان کی زبانیں آپ کی صداقت اور آپ کی پیش کردہ تعلیم کے برحق ہونے کا اعتراف تک کر گزرتی تھیں۔ اسی وجہ سے قرآن باربار ان کو الزام دیتا ہے کہ اللہ کی جن آیات کو تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہو، جن کی حقانیت پر تم خود گواہی دیتے ہو ان کو تم قصداً اپنے نفس کی شرارت سے جھٹلا رہے ہو۔
Ayahs 3:71–72

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 3:71 in the Quran reader

اے اہل کتاب! کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو؟

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ Open ayah 3:72 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہےکہ اس کےنبی کے ماننے والوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر صحیح ایمان لاؤ اور شام کو اس سے انکار کردو، شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پھر جائیں۔61

سورة اٰلِ عِمْرٰن 61 یہ ان چالوں میں سے ایک چال تھی جو اطراف مدینہ کے رہنے والے یہودیوں کے لیڈر اور مذہبی پیشوا اسلام کی دعوت کو کمزور کرنے کے لیے چلتے رہتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو بد دل کرنے اور نبی ﷺ سے عامہ خلائق کو بدگمان کرنے کے لیے خفیہ طور پر آدمیوں کو تیار کر کے بھیجنا شروع کیا تاکہ پہلے علانیہ اسلام قبول کریں، پھر مرتد ہوجائیں، پھر جگہ جگہ لوگوں میں یہ مشہور کرتے پھریں کہ ہم نے اسلام میں اور مسلمانوں میں اور ان کے پیغمبر میں یہ اور یہ خرابیاں دیکھی ہیں تب ہی تو ہم ان سے الگ ہوگئے۔
Ayah 3:73

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

نیز یہ لوگ آپس میں کہتے ہیں کہ اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات نہ مانو۔ اے نبی! ان سے کہہ دو کہ”اصل میں ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے اور یہ اُسی کی دین ہے کہ کسی کو وہی کچھ دے دیا جائے جو کبھی تم کو دیا گیا تھا، یا یہ کہ دوسروں کو تمہارے رب کے حضور پیش کرنے کے لیے تمہارے خلاف قوی حجّت مل جائے“۔ اے نبیؐ ! ان سے کہو کہ ”فضل و شرف اللہ کے اختیار میں ہے ، جسے چاہے عطا فرمائے۔ وہ وسیع النظر ہے62 اور سب کچھ جانتا ہے،63

سورة اٰلِ عِمْرٰن 62 اصل میں لفظ ”واسع“ استعمال ہوا ہے جو بالعموم قرآن میں تین مواقع پر آیا کرتا ہے۔ ایک وہ موقع جہاں انسانوں کے کسی گروہ کی تنگ خیالی و تنگ نظری کا ذکر آتا ہے اور اسے اس حقیقت پر متنبہ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے کہ اللہ تمہاری طرح تنگ نظر نہیں ہے۔ دوسرا وہ موقع جہاں کسی کے بخل اور تنگ دلی اور کم حوصلگی پر ملامت کرتے ہوئے یہ بتانا ہوتا ہے کہ اللہ فراخ دست ہے، تمہاری طرح بخیل نہیں ہے۔ تیسرا وہ موقع جہاں لوگ اپنے تخیل کی تنگی کے سبب سے اللہ کی طرف کسی قسم کی محدودیت منسوب کرتے ہیں اور انہیں یہ بتانا ہوتا ہے کہ اللہ غیر محدود ہے۔ (ملاحظہ ہو سورة بقرہ، 116)
Ayah 3:74

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے مخصوص کر لیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے"

سورة اٰلِ عِمْرٰن 63 یعنی اللہ کو معلوم ہے کہ کون فضل و شرف کا مستحق ہے۔
Ayah 3:75

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:75 in the Quran reader

اہل کتاب میں کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیربھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کردے گا، اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملہ میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا اِلّا یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہو جاؤ۔ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتےہیں ”اُمّیوں (غیر یہودی لوگوں) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے“۔64 اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی ہے، آخر کیوں ان سے باز پرس نہ ہو گی؟

سورة اٰلِ عِمْرٰن 64 یہ محض یہودی عوام ہی کا جاہلانہ خیال نہ تھا، بلکہ ان کے ہاں کی مذہبی تعلیم بھی یہی کچھ تھی، اور ان کے بڑے بڑے مذہبی پیشواؤں کے فقہی احکام ایسے ہی تھے۔ بائیبل قرض اور سود کے احکام میں اسرائیلی اور غیر اسرائیلی کے درمیان صاف تفریق کرتی ہے (استثناء 15 3۔ 23 20)۔ تلمود میں کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیلی کا بیل کسی غیر اسرائیلی کے بیل کو زخمی کر دے تو اس پر کوئی تاوان نہیں، مگر غیر اسرائیلی کا بیل اگر اسرائیلی کے بیل کو زخمی کرے تو اس پر تاوان ہے۔ اگر کسی شخص کو کسی جگہ کوئی گری پڑی چیز ملے تو اسے دیکھنا چاہیے کہ گرد و پیش آبادی کن لوگوں کی ہے۔ اگر اسرائیلیوں کی ہو تو اسے اعلان کرنا چاہیے، غیر اسرائیلیوں کی ہو تو اسے بلا اعلان وہ چیز رکھ لینی چاہیے۔ ربی اشماعیل کہتا ہے کہ اگر امی اور اسرائیلی کا مقدمہ قاضی کے پاس آئے تو قاضی اگر اسرائیلی قانون کے مطابق اپنے مذہبی بھائی کو جتوا سکتا ہو تو اس کے مطابق جتوائے اور کہے کہ یہ ہمارا قانون ہے۔ اور اگر امیوں کے قانون کے تحت جتوا سکتا ہو تو اس کے تحت جتوائے اور کہے کہ یہ تمہارا قانون ہے۔ اور اگر دونوں قانون ساتھ نہ دیتے ہوں تو پھر جس حیلے سے بھی وہ اسرائیلی کو کامیاب کرسکتا ہو کرے۔ ربی شموایل کہتا ہے کہ غیر اسرائیلی کی ہر غلطی سے فائدہ اٹھانا چاہیے (تالمودِک مِسّلینی، پال آئزک ہر شون، لندن 1880 ء، صفحات 37۔ 210۔ 221)۔
Ayahs 3:76–77

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:76 in the Quran reader

جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور برائی سے بچ کر رہے گا وہ اللہ کا محبوب بنے گا، کیونکہ پرہیز گار لوگ اللہ کو پسند ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:77 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، تو ان کے لیے آخرت میں کوئی حصّہ نہیں، اللہ قیامت کے روز نہ ان سے بات کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا،65 بلکہ ان کےلیے تو سخت درد ناک سزا ہے

سورة اٰلِ عِمْرٰن 65 سبب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے ایسے سخت اخلاقی جرائم کرنے کے بعد بھی اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے روز بس یہی اللہ کے مقرب بندے ہوں گے، انہی کی طرف نظر عنایت ہوگی، اور جو تھوڑا بہت گناہوں کا میل دنیا میں ان کو لگ گیا ہے وہ بھی بزرگوں کے صدقے میں ان پر سے دھو ڈالا جائے گا، حالانکہ دراصل وہاں ان کے ساتھ بالکل برعکس معاملہ ہوگا۔
Ayah 3:78

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:78 in the Quran reader

ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے اس طرح زبان کا اُلٹ پھیر کرتے ہیں کہ تم سمجھو جو کچھ وہ پڑھ رہے ہیں وہ کتاب ہی کی عبارت ہے، حالانکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہوتی،66 وہ کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا، وہ جا ن بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں

سورة اٰلِ عِمْرٰن 66 “ اس کا مطلب اگرچہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کتاب الٰہی کے معانی میں تحریف کرتے ہیں، یا الفاظ کا الٹ پھیر کر کے کچھ سے کچھ مطلب نکالتے ہیں، لیکن اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ کتاب کو پڑھتے ہوئے کسی خاص لفظ یا فقرے کو، جو ان کے مفاد یا ان کے خود ساختہ عقائد و نظریات کے خلاف پڑتا ہو، زبان کی گردش سے کچھ کا کچھ بنا دیتے ہیں۔ اس کی نظیریں قرآن کو ماننے والے اہل کتاب میں بھی مفقود نہیں ہیں۔ مثلاً بعض لوگ جو نبی کی بشریت کے منکر ہیں آیت قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ میں اِنَّمَا کو اِنَّ مَا پڑھتے ہیں اور اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں کہ ”اے نبی ! کہہ دو کہ تحقیق نہیں ہوں میں بشر تم جیسا“۔
Ayah 3:79

مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 3:79 in the Quran reader

کسی انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ تو اس کو کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرما ئے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کے بجائے تم میرے بندے بن جاؤ۔ وہ تو یہی کہے گاکہ سچّےربّانی بنو67 جیسا کہ اس کتاب کی تعلیم کا تقا ضا ہے جسے تم پڑھتے اور پڑھا تےہو

سورة اٰلِ عِمْرٰن 67 یہودیوں کے ہاں جو علماء مذہبی عہدہ دار ہوتے تھے اور جن کا کام مذہبی امور میں لوگوں کی رہنمائی کرنا اور عبادات کے قیام اور احکام دین کا اجراء کرنا ہوتا تھا، ان کے لیے لفظ رَبَّانِی استعمال کیا جاتا تھا جیسا کہ خود قرآن میں ارشاد ہوا ہے لَوْ لَا یَنْھٰھُمُ الرَّبَّانِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِھِمُ الْاِثْمَ وَ اَکْلِھِمُ السُّحْت (ان کے ربّانی اور ان کے علماء ان کو گناہ کی باتیں کرنے اور حرام کے مال کھانے سے کیوں نہ روکتے تھے)۔ اسی طرح عیسائیوں کے ہاں لفظ (Divine) بھی ”ربّانی“ کا ہی ہم معنی ہے۔
Ayah 3:80

وَ لَا یَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا١ؕ اَیَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 3:80 in the Quran reader

وہ تم سے ہرگز یہ نہ کہے گا کہ فرشتوں کو یا پیغمبروں کواپنا رب بنا لو، کیا یہ ممکن ہے کہ ایک نبی تمہیں کفر کا حکم دے جب کہ تم مسلم ہو؟68

سورة اٰلِ عِمْرٰن 68 یہ ان تمام غلط باتوں کی ایک جامع تردید ہے جو دنیا کی مختلف قوموں نے خدا کی طرف سے آئے ہوئے پیغمبروں کی طرف منسوب کر کے اپنی مذہبی کتابوں میں شامل کردی ہیں اور جن کی رو سے کوئی پیغمبر یا فرشتہ کسی نہ کسی طرح خدا اور معبود قرار پاتا ہے۔ ان آیات میں یہ قاعدہ کلیہ بتایا گیا ہے کہ ایسی کوئی تعلیم جو اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی و پرستش سکھاتی ہو اور کسی بندے کو بندگی کی حد سے بڑھا کر خدائی کے مقام تک لے جاتی ہو، ہرگز کسی پیغمبر کی دی ہوئی تعلیم نہیں ہو سکتی۔ جہاں کسی مذہبی کتاب میں یہ چیز نظر آئے، سمجھ لو کہ یہ گمراہ کن لوگوں کی تحریفات کا نتیجہ ہے۔