22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 22:54

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور علم سے بہرہ مند لوگ جان لیں کہ یہ حق ہے تیرے ربّ کی طرف سے اور وہ اس پر ایمان لے آئیں اور ان کے دل اس کے آگے جُھک جائیں، یقیناً اللہ ایمان لانے والوں کو ہمیشہ سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔ 101

سورة الْحَجّ 101 یعنی شیطان کی ان فتنہ پردازیوں کو اللہ نے لوگوں کی آزمائش، اور کھرے کو کھوٹے سے جدا کرنے کا ایک ذریعہ بنادیا ہے۔ بگڑی ہوئی ذہنیت کے لوگ انہی چیزوں سے غلط نتیجے اخذ کرتے ہیں اور یہ ان کے لیے گمراہی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ صاف ذہن کے لوگوں کو یہی باتیں نبی اور کتاب اللہ کے بر حق ہونے کا یقین دلاتی ہیں اور وہ محسوس کرلیتے ہیں کہ یہ سب شیطان کی شرارتیں ہیں اور یہ چیز انہیں مطمئن کردیتی ہے کہ یہ دعوت یقیناً خیر اور راستی کی دعوت ہے، ورنہ شیطان اس پر اس قدر نہ تلملاتا۔ سلسلہ کلام کو نظر میں رکھ کر دیکھا جائے تو ان آیات کا مطلب صاف سمجھ میں آجاتا ہے۔ نبی ﷺ کی دعوت اس وقت جس مرحلے میں تھی اس کو دیکھ کر تمام ظاہر بیں نگاہیں یہ دھوکا کھا رہی تھیں کہ آپ اپنے مقصد میں ناکام ہوگئے ہیں۔ دیکھنے والے جو کچھ دیکھ رہے تھے وہ تو یہ تھا کہ ایک شخص، جس کی تمنا اور آرزو یہ تھی کہ اس کی قوم اس پر ایمان لائے، وہ تیرہ برس معاذ اللہ سر مارنے کے بعد آخر کار اپنے مٹھی بھر پیروؤں کو لے کر وطن سے نکل جانے پر مجبور ہوگیا ہے۔ اس صورت حال میں جب لوگ آپ کے اس بیان کو دیکھتے تھے کہ میں اللہ کا نبی ہوں اور اس کی تائید میرے ساتھ ہے، اور قرآن کے ان اعلانات کو دیکھتے تھے کہ نبی کو جھٹلا دینے والی قوم پر عذاب آجاتا ہے، تو انہیں آپ کی اور قرآن کی صداقت مشتبہ نظر آنے لگتی تھی، اور آپ کے مخالفین اس پر بڑھ بڑھ کر باتیں بناتے تھے کہ کہاں گئی وہ خدا کی تائید، اور کیا ہوئیں وہ عذاب کی وعیدیں، اب کیوں نہیں آجاتا وہ عذاب جس کے ہم کو ڈراوے دیے جاتے تھے۔ انہی باتوں کا جواب اس سے پہلے کی آیتوں میں دیا گیا تھا اور انہی کے جواب میں یہ آیات بھی ارشاد ہوئی ہیں۔ پہلے کی آیتوں میں جواب کا رخ کفار کی طرف تھا اور ان آیتوں میں اس کا رخ ان لوگوں کی طرف ہے جو کفار کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو رہے تھے۔ پورے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ " کسی قوم کا اپنے پیغمبر کی تکذیب کرنا انسانی تاریخ میں کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، پہلے بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ پھر اس تکذیب کا جو انجام ہوا وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے تباہ شدہ قوموں کے آثار قدیمہ کی صورت میں موجود ہے۔ سبق لینا چاہو تو اس سے لے سکتے ہو۔ رہی یہ بات کہ تکذیب کرتے ہی وہ عذاب کیوں نہ آگیا جس کی وعیدیں قرآن کی بکثرت آیتوں میں کی گئی تھیں، تو آخر یہ کب کہا گیا تھا کہ ہر تکذیب فوراً ہی عذاب لے آتی ہے۔ اور نبی نے یہ کب کہا تھا کہ عذاب لانا اس کا اپنا کام ہے۔ اس کا فیصلہ تو خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہ جلد باز نہیں ہے۔ پہلے بھی وہ عذاب لانے سے پہلے قوموں کو مہلت دیتا رہا ہے اور اب بھی دے رہا ہے۔ مہلت کا یہ زمانہ اگر صدیوں تک بھی دراز ہو تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ سب وعیدیں خالی خولی دھمکیاں ہی تھیں جو پیغمبر کے جھٹلانے والوں پر عذاب آنے کے متعلق کی گئی تھیں۔ پھر یہ بات بھی کوئی نئی نہیں ہے کہ پیغمبر کی آرزوؤں اور تمناؤں کے بر آنے میں رکاوٹیں واقع ہوں، یا اس کی دعوت کے خلاف جھوٹے الزامات اور طرح طرح کے شبہات و اعتراضات کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہو۔ یہ سب کچھ بھی تمام پچھلے پیغمبروں کی دعوتوں کے مقابلے میں ہوچکا ہے۔ مگر آخر کار اللہ تعالیٰ ان شیطانی فتنوں کا استیصال کردیتا ہے۔ رکاوٹوں کے باوجود دعوت حق فروغ پاتی ہے، اور محکم آیات کے ذریعے شبہات کے رخنے بھر دیے جاتے ہیں۔ شیطان اور اس کے چیلے ان تدبیروں سے اللہ کی آیات کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں، مگر اللہ انہی کو انسانوں کے درمیان کھوٹے اور کھرے کی تمیز کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ اس ذریعہ سے کھرے آدمی دعوت حق کی طرف کھچ آتے ہیں اور کھوٹے لوگ چھٹ کر الگ ہوجاتے ہیں "۔ یہ ہے وہ صاف اور سیدھا مفہوم جو سیاق وسباق کی روشنی میں ان آیات سے حاصل ہوا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ ایک روایت نے ان کی تفسیر میں اتنا بڑا گھپلا ڈال دیا کہ نہ صرف ان کے معنی کچھ سے کچھ ہوگئے، بلکہ سارے دین کی بنیاد ہی خطرے میں پڑگئی۔ ہم اس کا ذکر یہاں اس لیے کرتے ہیں کہ قرآن کے طالب علم فہم قرآن میں روایات سے مدد لینے کے صحیح اور غلط طریقوں کا فرق اچھی سمجھ سکیں اور انہیں معلوم ہوجائے کہ روایت پرستی میں ناروا غلو کیا نتائج پیدا کرتا ہے، اور قرآن کی غلط تفسیر کرنے والی روایات پر تنقید کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ قصہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ نبی ﷺ کے دل میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش قرآن میں کوئی ایسی بات نازل ہوجائے جس سے اسلام کے خلاف کفار قریش کی نفرت دور ہو اور وہ کچھ قریب آجائیں۔ یا کم از کم ان کے دین کے خلاف ایسی سخت تنقید نہ ہو جو انہیں بھڑکا دینے والی ہو۔ یہ تمنا آپ کے دل ہی میں تھی کہ ایک روز قریش کی ایک بڑی مجلس میں بیٹھے ہوئے آپ پر سورة نجم نازل ہوئی اور آپ نے اسے پڑھنا شروع کیا۔ جب آپ اَفَرَاَیْتُمْ اللَّاتَ وَ الْعُزّٰی ہ وَمَنَاۃَ الثَّالِثَۃ الْاُخْریٰ ، پر پہنچے تو یکایک آپکی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے تلک الغرانقۃ العلیہ وان شفاعتھن لترجیٰ (یہ بلند مرتبہ دیویاں ہیں، ان کی شفاعت ضرور متوقع ہے)۔ اس کے بعد آگے پھر آپ سورة نجم کی آیات پڑھتے چلے گئے، یہاں تک کہ جب اختتام سورة پر آپ نے سجدہ کیا تو مشرک اور مسلمان سب سجدے میں گر گئے۔ کفار قریش نے کہا کہ اب ہمارا محمد ﷺ سے کیا اختلاف باقی رہ گیا۔ ہم بھی تو یہی کہتے تھے کہ خالق و رازق اللہ ہی ہے، البتہ ہمارے یہ معبود اس کے حضور میں ہمارے شفیع ہیں۔ شام کو جبریل آئے اور انہوں نے کہا یہ آپ نے کیا کیا ؟ یہ دونوں فقرے تو میں نہیں لایا تھا۔ اس پر آپ سخت مغموم ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل کی جو سورة بنی اسرائیل، رکوع 8 میں ہے کہ وَاِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَکَ عَنِ الَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَہ ........... ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ عَلَیْنَا نَصِیْراً ، یہ چیز برابر نبی ﷺ کو رنج و غم میں مبتلا کیے رہی یہاں تک کہ سورة حج کی یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی کہ تم سے پہلے بھی انبیاء کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے۔ ادھر یہ واقعہ کہ قرآن سن کر آنحضرت کے ساتھ قریش کے لوگوں نے بھی سجدہ کیا، مہاجرین حبشہ تک اس رنگ میں پہنچا کہ آنحضرت ﷺ اور کفار مکہ کے درمیان صلح ہوگئی ہے۔ چناچہ بہت سے مہاجرین مکہ واپس آگئے۔ مگر یہاں پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ صلح کی خبر غلط تھی، اسلام اور کفر کی دشمنی جوں کی توں قائم ہے۔ یہ قصہ ابن جریر اور بہت سے مفسرین نے اپنی تفسیروں میں، ابن سعد نے طبقات میں، الواحدی نے اسباب النزول میں، موسیٰ بن عقبہ نے مغازی میں، ابن اسحاق نے سیرت میں اور ابن ابی حاتم، ابن النذر، بَذّار، ابن مردویہ اور طبرانی نے اپنے احادیث کے مجموعوں میں نقل کیا ہے۔ جن سندوں سے یہ نقل ہوا ہے وہ محمد بن قیس، محمد بن کعب قرظی، عروہ بن زبیر، ابوصالح، ابوالعالیہ، سعید بن جبیر، ضحاک، ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث، تَتَدہ، مجاہد، سُدّی، ابن شہاب زہری، اور ابن عباس پر ختم ہوتی ہیں (ابن عباس کے سوا ان میں سے کوئی صحابی نہیں ہے)۔ یہ قصے کی تفصیلات میں چھوٹے چھوٹے اختلافات کو چھوڑ کردو بہت بڑے اختلافات ہیں۔ ایک یہ کہ بتوں کی تعریف میں جو کلمات نبی ﷺ کی طرف منسوب کیے گئے ہیں وہ قریب قریب ہر روایت میں دوسری روایت سے مختلف ہیں۔ ہم نے ان کا استقصاء کرنے کی کوشش کی تو 15 عبارتیں الگ الگ الفاظ میں پائیں۔ دوسرا بڑا اختلاف یہ ہے کہ کسی روایت کی رو سے یہ الفاظ دوران وحی میں شیطان نے آپ پر القا کردیے اور آپ سمجھے کہ یہ بھی جبریل لائے ہیں۔ کسی روایت میں ہے کہ یہ الفاظ اپنی اس خواہش کے زیر اثر سہواً آپ کی زبان سے نکل گئے۔ کسی میں ہے کہ اس وقت آپ کو اونگھ آگئی تھی اور اس حالت میں یہ الفاظ نکلے۔ کسی کا بیان ہے کہ آپ نے یہ قصداً کہے مگر استفہام انکاری کے طور پر کہے۔ کسی کا قول ہے کہ شیطان نے آپ کی آواز ملا کر یہ الفاظ کہہ دیے اور سمجھا یہ گیا کہ آپ نے کہے ہیں۔ اور کسی کے نزدیک کہنے والا مشرکین میں سے کوئی شخص تھا۔ ابن کثیر، بیہقی، قاضی عیاض، ابن خزیمہ، قاضی ابوبکر ابن العزی، امام رازی، قُطبی، بدر الدین عینی، شو کافی، آلوسی وغیرہ حضرات اس قصے کو بالکل غلط قرار دیتے ہیں۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ " جتنی سندوں سے یہ روایت ہوا ہے، سب مرسل اور منقطع ہیں، مجھے کسی صحیح متصل سند سے یہ نہیں ملا۔ " بیہقی کہتے ہیں کہ " از روئے نقل یہ قصہ ثابت نہیں ہے "۔ ابن خزیمہ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ " یہ زنادقہ کا گھڑا ہوا ہے "۔ قاضی عیاض کہتے ہیں کہ " اس کی کمزوری اسی سے ظاہر ہے کہ صحاح ستہ کے مؤلفین میں سے کسی نے بھی اس کو اپنے ہاں نقل نہیں کیا اور نہ یہ کسی صحیح متصل بےعیب سند کے ساتھ ثقہ راویوں سے منقول ہوا ہے "۔ امام رازی، قاضی ابوبکر جصاص جیسے نامور فقیہ اور زمخشری جیسے عقلیت پسند مفسر، اور ابن جریر جیسے امام تفسیر و تاریخ و فقہ اس کو صحیح مانتے ہیں اور اسی کو آیت زیر بحث کی تفسیر قرار دیتے ہیں۔ ابن حجر کا محدثانہ استدلال یہ ہے کہ " سعید بن جبیر کے طریق کے سوا باقی جن طریقوں سے یہ روایت آتی ہے وہ یا تو ضعیف ہیں یا منقطع، مگر طریقوں کی کثرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کی کوئی اصل ہے ضرور۔ علاوہ بریں یہ ایک طریقہ سے متصلاً بسند صحیح بھی نقل ہوا ہے جسے بذار نے نکالا ہے (مراد ہے یوسف بن حماد عن اَمَیّہ بن خالد عن شُعْبہ عن ابی بشر عن سعید بن جبیر عن ابن عباس) اور دو طریقوں سے یہ اگرچہ مرسل ہے مگر اس کے راوی صحیحین کی شرط کے مطابق ہیں۔ یہ دونوں روایتیں طبری نے نقل کی ہیں۔ ایک بطریق یونس بن یزید عن ابن شہاب، دوسری بطریق معمر بن سلیمان و حماد بن سلمہ عن داؤد بن ابی ہند عن ابی العالیہ "۔ جہاں تک موافقین کا تعلق ہے، وہ تو اسے صحیح مان ہی بیٹھے ہیں۔ لیکن مخالفین نے بھی بالعموم اس پر تنقید کا حق ادا نہیں کیا ہے۔ ایک گروہ اسے اس لیے رد کرتا ہے کہ اس کی سند اس کے نزدیک قوی نہیں ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اگر سند قوی ہوتی تو یہ حضرات اس قصے کو مان لیتے۔ دوسرا گروہ اسے اس لیے رد کرتا ہے کہ اس سے تو سارا دین ہی مشتبہ ہوا جاتا ہے اور دین کی ہر بات کے متعلق شک پیدا ہوجاتا ہے کہ نہ معلوم اور کہاں کہاں شیطانی اغوا یا نفسانی آمیزشوں کا دخل ہوگیا ہو۔ حالانکہ اس نوعیت کا استدلال ان لوگوں کو تو مطمئن کرسکتا ہے جو ایمان لانے کے عزم پر قائم ہوں، مگر دوسرے لوگ جو پہلے ہی شکوک میں مبتلا ہیں، یا جو اب تحقیق کر کے فیصلہ کرنا چاہتے ہیں کہ ایمان لائیں یا نہ لائیں، ان کے دل میں تو یہ جذبہ پیدا نہیں ہوسکتا کہ جن جن چیزوں سے یہ دین مشتبہ قرار پاتا ہو انہیں رد کردیں۔ وہ گو کہیں گے کہ جب کم از کم ایک نامور صحابی اور بکثرت تابعین و تبع تابعین، اور متعدد و معتبر راویان حدیث کی روایت سے ایک واقعہ ثابت ہو رہا ہے تو اسے صرف اس بنا پر کیوں رد کردیا جائے کہ ان سے آپ کا دین مشتبہ ہوا جاتا ہے ؟ اس کے بجائے آپ کے دین کو مشتبہ کیوں نہ سمجھا جائے جب کہ یہ واقعہ اسے مشتبہ ثابت کر ہی رہا ہے ؟ اب دیکھنا چاہیے کہ تنقید کا وہ صحیح طریقہ کیا ہے جس سے اگر اس قصے کو پرکھ کر دیکھا جائے تو یہ ناقابل قبول قرار پاتا ہے، چاہے اس کی سند کتنی ہی قوی ہو، یا قوی ہوتی۔ پہلی چیز خود اس کی اندرونی شہادت ہے جو اسے غلط ثابت کرتی ہے۔ قصے میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہجرت حبشہ واقع ہوچکی تھی، اور اس واقعے کی خبر پا کر مہاجرین حبشہ میں سے ایک گروہ مکہ واپس آگیا۔ اب ذرا تاریخوں کا فرق ملاحظہ کیجیے ۔۔۔۔ ہجرت حبشہ معتبر تاریخی روایتوں کی رو سے رجب 5 نبوی میں واقع ہوئی، اور مہاجرین حبشہ کا ایک گروہ مصالحت کی غلط خبر سن کر تین مہینے بعد (یعنی اسی سال تقریباً شوال کے مہینے میں) مکہ واپس آگیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ واقعہ لا محالہ 5 نبوی کا ہے۔ ۔۔۔۔ سورة بنی اسرائیل جس کی ایک آیت کے متعلق بیان کیا جارہا ہے کہ وہ نبی ﷺ کے اس فعل پر بطور عتاب نازل ہوئی تھی، معراج کے بعد اتری ہے، اور معراج کا زمانہ معتبر ترین روایات کی رو سے 11 یا 12 نبوی کا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس فعل پر پانچ چھ سال جب گزر چکے تب اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا، ۔۔۔۔ اور زیر بحث آیت، جیسا کہ اس کا سیاق وسباق صاف بتارہا ہے 1 ہجری میں نازل ہوئی ہے۔ یعنی عتاب پر بھی جب مزید دو ڈھائی سال گزر لیے تب اعلان کیا گیا کہ یہ آمیزش تو القائے شیطانی سے ہوگئی تھی، اللہ نے اسے منسوخ کردیا ہے۔ کیا کوئی صاحب عقل آدمی باور کرسکتا ہے کہ آمیزش کا فعل آج ہو، عتاب چھ سال بعد، اور آمیزش کی تنسیخ کا اعلان 9 سال بعد ؟ پھر اس قصے میں بیان کیا گیا کہ یہ آمیزش سورة نجم میں ہوئی تھی اور اس طرح ہوئی کہ ابتدا سے آپ اصل سورة کے الفاظ پڑھتے چلے آ رہے تھے، یکایک مَنَاۃَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْریٰ پر پہنچ کر آپ نے بطور خود یا شیطانی اغوا سے یہ فقرہ ملایا، اور آگے پھر سورة نجم کی اصل آیات پڑھتے چلے گئے۔ اس کے متعلق کہا جارہا ہے کہ کفار مکہ اسے سن کر خوش ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ اب ہمارا اور محمد ﷺ کا اختلاف ختم ہوگیا۔ مگر سورة نجم کے سلسلہ کلام میں اس الحاقی فقرے کو شامل کر کے تو دیکھیے " پھر تم نے کچھ غور بھی کیا ان لات اور عزیٰ پر اور تیسری ایک اور (دیوی) مناۃ پر ؟ یہ بلند پایہ دیویاں ہیں، ان کی شفاعت ضرور متوقع ہے۔ کیا تمہارے لیے تو ہوں بیٹے اور اس (یعنی اللہ) کے لیے ہوں بیٹیاں ؟ یہ تو بڑی بےانصافی کی تقسیم ہے۔ دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ لوگ محض گمان اور من مانے خیالات کی پیروی کر رہے ہیں، حالانکہ ان کے رب کی طرف سے صحیح رہنمائی آگئی ہے "۔ دیکھیے، اس عبارت میں خط کشیدہ فقرے نے کیسا صریح تضاد پیدا کردیا ہے۔ ایک سانس میں کہا جاتا ہے کہ واقعی تمہاری یہ دیویاں بلند مرتبہ رکھتی ہیں، ان کی شفاعت ضرور متوقع ہے۔ دوسرے ہی سانس میں پلٹ کر ان پر چوٹ کی جاتی ہے کہ بےوقوفو، یہ تم نے خدا کے لیے بیٹیاں کیسی تجویز کر رکھی ہیں ؟ اچھی دھاندلی ہے کہ تمہیں تو ملیں بیٹے اور خدا کے حصے میں آئیں بیٹیاں۔ یہ سب تمہاری من گھڑت ہے جسے خدا کی طرف سے کوئی سند اعتبار حاصل نہیں ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے اس سوال کو جانے دیجیے کہ یہ صریح بےتکی باتیں کسی مرد عاقل کی زبان سے نکل بھی سکتی ہیں یا نہیں۔ مان لیجیے کہ شیطان نے غلبہ پا کر یہ الفاظ زبان سے نکلوا دیے۔ مگر کیا قریش کا وہ سارا مجمع جو اسے سن رہا تھا، بالکل ہی پاگل ہوگیا تھا کہ بعد کے فقروں میں ان تعریفی کلمات کی کھلی کھلی تردید سن کر بھی وہ یہی سمجھتا رہا کہ ہماری دیویوں کی واقعی تعریف کی گئی ہے ؟ سورة نجم کے آخر تک کا پورا مضمون اس ایک تعریفی فقرے کے بالکل خلاف ہے۔ کس طرح باور کیا جا سلتا ہے کہ قریش کے لوگ اسے آخر تک سننے کے بعد یہ پکار اٹھے ہونگے کہ چلو آج ہمارا اور محمد ﷺ کا اختلاف ختم ہوگیا ؟ یہ تو ہے اس قصے کی اندرونی شہادت جو اس کے سراسر لغو اور مہمل ہونے کی گواہی دے رہی ہے۔ اس کے بعد دوسری چیز دیکھنے کی یہ ہے کہ اس میں تین آیتوں کی جو شان نزول بیان کی جا رہی ہے آیا قرآن کی ترتیب بھی اس کو قبول کرتی ہے ؟ قصے میں بیان یہ کیا جا رہا ہے کہ آمیزش سورة نجم میں کی گئی تھی، جو 5 نبوی میں نازل ہوئی۔ اس آمیزش پر سورة بنی اسرائیل والی آیت میں عتاب فرمایا گیا، اور پھر اس کی تنسیخ اور واقعہ کی توجیہ سورة حج کی زیر بحث آیت میں کی گئی۔ اب لامحالہ دو صورتوں میں سے کوئی ایک ہی سورت پیش آئی ہوگی۔ یا تو عتاب اور تنسیخ والی آیتوں کی اس زمانے میں نازل ہوئی ہوں جبکہ آمیزش کا واقعہ پیش آیا، یا پھر عتاب والی آیت سورة بنی اسرائیل کے ساتھ اور تنسیخ والی آیت سورة حج کے ساتھ نازل ہوئی ہو۔ اگر پہلی صورت ہے تو یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ دونوں آیتوں سورة نجم ہی میں نہ شامل کی گئیں بلکہ عتاب والی آیت والی آیت کو چھ سال تک یوں ہی ڈالے رکھا گیا اور سورة بنی اسرائیل جب نازل ہوئی تب کہیں اس میں لا کر چپکا دیا گیا۔ پھر تنسیخ والی آیت مزید دو ڈھائی برس تک پڑی رہی اور سورة حج کے نزول تک اسے کہیں نہ چسپاں کیا گیا۔ کیا قرآن کی ترتیب اسی طرح ہوئی ہے کہ ایک موقع کی نازل شدہ آیتیں الگ الگ بکھری پڑی رہتی تھیں اور برسوں کے بعد کسی کو کسی سورت میں اور کسی کو کسی دوسری سورت میں ٹانک دیا جاتا تھا ؟ لیکن اگر دوسری صورت ہے کہ عتاب والی آیت واقعہ کے 6 سال بعد اور تنسیخ والی آیت آٹھ نو سال بعد نازل ہوئی، تو علاوہ اس بےت کے پن کے جس کا ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سورة بنی اسرائیل اور سورة حج میں ان کے نزول کا موقع کیا ہے۔ یہاں پہنچ کر نقد صحیح کا تیسرا قاعدہ ہمارے سامنے آتا ہے، یعنی یہ کہ کسی آیت کی جو تفسیر بیان کی جا رہی ہو اسے دیکھا جائے کہ آیا قرآن کا سیاق وسباق بھی اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔ سورة بنی اسرائیل کا آٹھواں رکوع پڑھ کر دیکھیے، اور اس سے پہلے اور بعد کے مضمون پر بھی نگاہ ڈال لیجیے اس سلسلہ کلام میں آخر کیا موقع اس بات کا نظر آتا ہے کہ چھ سال پہلے کے ایک واقعہ پر نبی کو ڈانٹ بتائی جائے (قطع نظر اس سے کہ آیت اِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَکَ میں نبی پر کوئی ڈانٹ ہے بھی یا نہیں، اور آیت کے الفاظ کفار کے فتنے میں نبی کے مبتلا ہوجانے کی تردید کر رہے یا تصدیق)۔ اسی طرح سورة حج آپ کے سامنے موجود ہے۔ آیت زیر بحث سے پہلے کا مضمون بھی پڑھیے اور بعد کا بھی دیکھیے۔ کیا کوئی معقول وجہ آپ کی سمجھ میں آتی ہے کہ اس سیاق وسباق میں یکایک یہ مضمون کیسے آگیا کہ " اے نبی، 9 سال پہلے قرآن میں آمیزش کر بیٹھنے کی جو حرکت تم سے ہوگئی تھی اس پر گھبراؤ نہیں، پہلے انبیاء سے بھی شیطان یہ حرکتیں کراتا رہا ہے، اور جب کبھی انبیاء اس طرح کا فعل کر جاتے ہیں تو اللہ اس کو منسوخ کر کے اپنی آیات کو پھر پختہ کردیتا ہے۔ " ہم اس سے پہلے بھی بار ہا کہہ چکے ہیں، اور یہاں پھر اس کا اعادہ کرتے ہیں کہ کوئی روایت، خواہ اس کی سند آفتاب سے بھی زیادہ روشن ہو، ایسی صورت میں قابل قبول نہیں ہو سکتی جبکہ اس کا متن اس کے غلط ہونے کی کھلی کھلی شہادت دے رہا ہو اور قرآن کے الفاظ، سیاق وسباق، ترتیب، ہر چیز اسے قبول کرنے سے انکار کر رہی ہو۔ یہ دلائل تو ایک مشکک اور بےلاگ محقق کو بھی مطمئن کردیں گے کہ یہ قصہ قطعی غلط ہے۔ رہا مومن، تو وہ سے ہرگز نہیں مان سکتا جب کہ وہ علانیہ یہ دیکھ رہا ہے کہ یہ روایت قرآن کی ایک نہیں بیسیوں آیتوں سے ٹکراتی ہے۔ ایک مسلمان کے لیے یہ مان لینا بہت آسان ہے کہ خود اس روایت کے راویوں کو شیطان نے بہکا دیا، بہ نسبت اس کے کہ وہ یہ مان لے کہ رسول اللہ ﷺ کبھی اپنی خواہش نفس سے قرآن میں ایک لفظ بھی ملا سکتے تھے، یا حضور ﷺ کے دل میں کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی یہ خیال آسکتا تھا کہ توحید کے ساتھ شرک کی کچھ آمیزش کر کے کفار کو راضی کیا جائے، یا آپ اللہ تعالیٰ کے فرامین کے بارے میں کبھی یہ آرزو کرسکتے تھے کہ کاش اللہ میاں ایسی کوئی بات نہ فرما بیٹھیں جس سے کفار ناراض ہوجائیں، یا یہ کہ آپ اسی غلط فہمی میں رہیں کہ یہ بھی جبریل ہی لائے ہیں۔ ان میں سے ایک ایک بات قرآن کی کھلی کھلی تصریحات کے خلاف ہے اور ان ثابت شدہ عقائد کے خلاف ہے جو ہم قرآن اور محمد ﷺ کے بارے میں رکھتے ہیں۔ خدا کی پناہ اس روایت پرستی سے جو محض سند کا اتصال یا راویوں کی ثقاہت یا طرق روایت کی کثرت دیکھ کر کسی مسلمان کو خدا کی کتاب اور اس کے رسول کے بارے میں ایسی سخت باتیں بھی تسلیم کرنے پر آمادہ کر دے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس شک کو بھی دور کردیا جائے جو راویان حدیث کی اتنی بڑی تعداد کو اس قصے کی روایت میں مبتلا ہوتے دیکھ کر دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔ ایک شخص سوال کرسکتا ہے کہ اگر اس قصے کی کوئی اصلیت نہیں ہے۔ تو نبی ﷺ اور قرآن پر اتنا بڑا بہتان حدیث کے اتنے راویوں کے ذریعہ سے، جن میں بعض بڑے نامور ثقہ بزرگ ہیں، اشاعت کیسے پا گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے اسباب کا سراغ ہم کو خود حدیث ہی کے ذخیرے میں مل جاتا ہے۔ بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی اور مسند احمد میں اصل واقعہ اس طرح آیا ہے کہ نبی ﷺ نے سورة نجم کی تلاوت فرمائی، اور خاتمے پر جب آپ نے سجدہ کیا تو تمام حاضرین، مسلم اور مشرک سب، سجدے میں گر گئے۔ واقعہ بس اتنا ہی تھا۔ اور یہ کوئی تعجب کی بات نہ تھی۔ اول تو قرآن کا زور کلام اور انتہائی پر تاثیر انداز بیان، پھر نبی ﷺ کی زبان سے اس کا ایک ملہمانہ شان کے ساتھ ادا ہونا، اس کو سن کر اگر پورے مجمع پر ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہوگئی ہو اور آپ کے ساتھ سارا مجمع سجدے میں گرگیا ہو تو کچھ بعید نہیں ہے۔ یہ تو وہ چیز تھی جس پر قریش کے لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ شخص جادوگر ہے۔ البتہ معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں قریش کے لوگ اپنے اس وقتی تأثر پر کچھ پشیمان سے ہوئے ہوں گے اور ان میں سے کسی نے یا بعض لوگوں نے اپنے اس فعل کی یہ توجیہ کی ہوگی کہ صاحب، ہمارے کانوں نے تو محمد ﷺ کی زبان سے اپنے معبودوں کی تعریف میں کچھ کلمات سنے تھے اس لیے ہم بھی ان کے ساتھ سجدے میں گر گئے۔ دوسری طرف یہی واقعہ مہاجرین حبشہ تک اس شکل میں پہنچا کہ نبی ﷺ اور قریش کے درمیان صلح ہوگئی ہے، کیونکہ دیکھنے والے نے آپ کو اور مشرکین و مومنین سب کو ایک ساتھ سجدہ کرتے دیکھا تھا۔ یہ افواہ ایسی گرم ہوئی کہ مہاجرین میں سے تقریباً 33 آدمی مکہ میں واپس آگئے۔ ایک صدی کے اندر یہ تینوں باتیں، یعنی قریش کا سجدہ اس سجدے کی یہ توجیہ، اور مہاجرین حبشہ کی واپسی، مل جل کر ایک قصے کی شکل اختیار کر گئیں اور بعض ثقہ لوگ تک اس کی روایت میں مبتلا ہوگئے۔ انسان آخر انسان ہے۔ بڑے سے بڑے نیک اور ذی فہم آدمی سے بھی بسا اوقات لغزش ہوجاتی ہے اور اس کی لغزش عام لوگوں کی لغزش سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ عقیدت میں بےجا غلو رکھنے ولے ان بزرگوں کی صحیح باتوں کے ساتھ ان کی غلط باتوں کو بھی آنکھیں بند کر کے ہضم کر جاتے ہیں۔ اور بد طینت لوگ چھانٹ چھانٹ کر ان کی غلطیاں جمع کرتے ہیں اور انہیں اس بات کے لیے دلیل بناتے ہیں کہ سب کچھ جو ان کے ذریعے سے ہمیں پہنچا ہے، نذر آتش کردینے کے لائق ہے۔
Ayahs 22:55–58

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

انکار کرنے والے تو اس کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ یا تو اُن پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے، یا ایک منحوس دن 102 کا عذاب نازل ہوجائے

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اُس روز بادشاہی اللہ کی ہو گی، اور وہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا جو ایمان رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے وہ نعمت بھری جنتوں میں جائیں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا ہو گا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا اُن کے لیے رسوا کن عذاب ہوگا

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی، پھر قتل کر دیے گئے یا مر گئے، اللہ ان کو اچھّا رزق دے گا اور یقیناً اللہ ہی بہترین رازق ہے

سورة الْحَجّ 102 اصل میں لفظ " عَقِیْم " استعمال ہوا ہے جس کا لفظی ترجمہ " بانجھ " ہے۔ دن کو بانجھ کہنے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایسا منحوس دن ہو جس میں کوئی تدبیر کارگر نہ ہو، ہر کوشش الٹی پڑے، اور ہر امید مایوسی میں تبدیل ہوجائے۔ دوسرے یہ کہ وہ ایسا دن ہو جس کے بعد رات دیکھنی نصیب نہ ہو۔ دونوں صورتوں میں مراد ہے وہ دن جس میں کسی قوم کی بربادی کا فیصلہ ہوجائے۔ مثلاً جس روز قوم نوح پر طوفان آیا، وہ اس کے لیے " بانجھ " دن تھا۔ اسی طرح عاد، ثمود، قوم، لوط، اہل مَدْیَن، اور دوسری سب تباہ شدہ قوموں کے حق میں عذاب الہٰی کے نزول کا دن بانجھ ہی ثابت ہو۔ کیونکہ اس " امروز " کا کوئی چارہ گری ان کے لیے ممکن نہ ہوئی جس سے وہ اپنی قسمت کی بگڑی بنا سکتے۔
Ayah 22:59

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ اُنہیں ایسی جگہ پہنچائے گا جس سے وہ خوش ہوجائیں گے۔ بے شک اللہ علیم اور حلیم ہے۔ 103

سورة الْحَجّ 103 " علیم " ہے، یعنی وہ جانتا ہے کہ کس نے فی الحقیقت اسی کی راہ میں گھر بار چھوڑا ہے اور وہ کس انعام کا مستحق ہے۔ " حلیم " ہے یعنی ایسے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی لغزشوں اور کمزوریوں کی وجہ سے ان کی بڑی بڑی خدمات اور قربانیوں پر پانی پھیر دینے والا نہیں ہے۔ وہ ان سے درگزر فرمائے گا اور ان کے قصور معاف کر دے گا۔
Ayah 22:60

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ تو ہے اُن کا حال، اور جو کوئی بدلہ لے ، ویسا ہی جیسا اُس کے ساتھ کیا گیا، اور پھر اس پر زیادتی بھی کی گئی ہو، تو اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا۔ 104 اللہ معاف کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے۔ 105

سورة الْحَجّ 104 پہلے ان مظلوموں کا ذکر تھا جو ظلم کے مقابلے میں کوئی جوابی کارروائی نہ کرسکے ہوں، اور یہاں ان کا ذکر ہے جو ظالموں کے مقابلے میں قوت استعمال کریں۔ امام شافعی ؒ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ قصاص اسی شکل میں لیا جائے گا جس شکل میں ظلم کیا گیا ہو۔ مثلاً کسی شخص نے اگر آدمی کو ڈبو کر مارا ہے تو اسے بھی ڈبو کر مارا جائے گا، اور کسی نے جلا کر مارا ہے تو اسے بھی جلا کر مارا جائے گا۔ لیکن حنفیہ اس بات کے قائل ہیں کہ قاتل نے قتل خواہ کسی طریقے سے کیا ہو، اس سے قصاص ایک ہی معروف طریقے پر لیا جائے گا۔ سورة الْحَجّ 105 اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور غالباً دونوں ہی مراد ہیں۔ ایک یہ کہ ظلم کے مقابلے میں جو کشت و خون کیا جائے وہ اللہ کے ہاں معاف ہے، اگرچہ کشت و خون بجائے خود اچھی چیز نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ جس کے تم بندے ہو، عفو و درگزر کرنے والا ہے، اس لیے تم کو بھی، جہاں تک بھی تمہارے بس میں ہو، عفو و درگزر سے کام لینا چاہیے۔ اہل ایمان کے اخلاق کا زیور یہی ہے کہ وہ حلیم، عالی ظرف اور متحمل ہوں۔ بدلہ لینے کا حق انہیں ضرور حاصل ہے، مگر بالکل منتقمانہ ذہنیت اپنے اوپر طاری کرلینا ان کے لیے موزوں نہیں ہے۔
Ayah 22:61

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

106یہ اس لیے کہ رات سے دن اور دن سے رات نکالنے والا اللہ ہی ہے 107 اور وہ سمیع و بصیر ہے۔ 108

سورة الْحَجّ 106 اس پیرا گراف کا تعلق اوپر کے پورے پیراگراف سے ہے نہ کہ صرف قریب کے آخری فقرے سے۔ یعنی کفر و ظلم کی روش اختیار کرنے والوں پر عذاب نازل کرنا، مومن و صالح بندوں کو انعام دینا، مظلوم اہل حق کی داد رسی کرنا، اور طاقت سے ظلم کا مقابلہ کرنے والے اہل حق کی نصرت فرمانا، یہ سب کس وجہ سے ہے ؟ اس لیے کہ اللہ کی صفات یہ اور یہ ہیں۔ سورة الْحَجّ 107 یعنی تمام نظام کائنات پر وہی حاکم ہے اور گردش لیل و نہار اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس ظاہری معنی کے ساتھ اس فقرے میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جو خدا رات کی تاریکی میں سے دن کی روشنی نکال لاتا ہے اور چمکتے ہوئے دن پر رات کی ظلمت طاری کردیتا ہے، وہی خدا اس پر بھی قادر ہے کہ آج جن کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر ہے ان کے زوال و غروب کا منظر بھی دنیا کو جلدی ہی دکھاوے، اور کفر و جہالت کی جو تاریکی اس وقت حق و صداقت کی فجر کا راستہ روک رہی ہے وہ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے حکم سے چھٹ جائے اور وہ دن نکل آئے جس میں راستی اور علم و معرفت کے نور سے دنیا روشن ہوجائے۔ سورة الْحَجّ 108 یعنی وہ دیکھنے اور سننے والا خد ہے، اندھا بہرا نہیں ہے۔
Ayah 22:62

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ اِس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور سب باطل ہیں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں 109 اور اللہ ہی بالادست اور بزرگ ہے

سورة الْحَجّ 109 یعنی حقیقی اختیارات کا مالک اور واقعی رب وہی ہے، اس لیے اس کی بندگی کرنے والے خائب و خاسر نہیں رہ سکتے۔ اور دوسرے تمام معبود سراسر بےحقیقت ہیں، ان کو جن صفات اور اختیارات کا مالک سمجھ لیا گیا ہے ان کی سرے سے کوئی اصلیت نہیں ہے، اس لیے خدا سے منہ موڑ کر ان کے اعتماد پر جینے والے کبھی فلاح و کامرانی سے ہم کنار نہیں ہو سکتے۔
Ayah 22:63

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور اس کی بدولت زمین سرسبز ہو جاتی ہے؟ 110 حقیقت یہ ہے کہ وہ لطیف و خبیر ہے۔ 111

سورة الْحَجّ 110 یہاں پھر ظاہر مفہوم کے پیچھے ایک لطیف اشارہ چھپا ہوا ہے۔ ظاہر مفہوم تو محض اللہ کی قدرت کا بیان ہے۔ مگر لطیف اشارہ اس میں یہ ہے کہ جس طرح خدا کی برسائی ہوئی بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی تم دیکھتے ہو کہ سوکھی پڑی ہوئی زمین یکایک لہلہا اٹھتی ہے، اسی طرح یہ وحی کا باران رحمت جو آج ہو رہا ہے، عنقریب تم کو یہ منظر دکھانے والا ہے کہ یہی عرب کا بنجر ریگستان علم اور اخلاق اور تہذیب صالح کا وہ گلزار بن جائے گا جو چشم فلک نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ سورة الْحَجّ 111 " لطیف " ہے، یعنی غیر محسوس طریقوں سے اپنے ارادے پورے کرنے والا ہے۔ اسکی تدبیریں ایسی ہوتی ہیں کہ لوگ ان کے آغاز میں کبھی ان کے انجام کا تصور تک نہیں کرسکتے۔ لاکھوں بچے دنیا میں پیدا ہوتے ہیں، کون جان سکتا ہے کہ ان میں سے کون ابراہیم ہے جو تین چوتھائی دنیا کا روحانی پیشوا ہوگا اور کون چنگیز ہے جو ایشیا اور یورپ کو تہ وبالا کر ڈالے گا۔ خورد بین جب ایجاد ہوئی تھی اس وقت کون تصور کرسکتا تھا کہ ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم تک نوبت پہنچائے گی، کو لمبس جب سفر کو نکل رہا تھا تو کسے معلوم تھا کہ یہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی بنیاد ڈالی جا رہی ہے۔ غرض خدا کے منصوبے ایسے ایسے دقیق اور ناقابل ادراک طریقوں سے پورے ہوتے ہیں کہ جب تک وہ تکمیل کو نہ پہنچ جائیں کسی کو پتا نہیں چلتا کہ یہ کس چیز کے لیے کام ہو رہا ہے۔ " خبیر ‘’ ہے، یعنی وہ اپنی دنیا کے حالات، مصالح اور ضروریات سے باخبر ہے، اور جانتا ہے کہ اپنی خدائی کا کام کس طرح کرے۔
Ayah 22:64

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

اُسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ بے شک وہی غنی و حمید ہے۔ 112

سورة الْحَجّ 112 وہی " غنی " ہے، یعنی صرف اسی کی ذات ایسی ہے جو کسی کی محتاج نہیں۔ اور وہی " حمید " ہے، یعنی تعریف اور حمد اسی کے لیے ہے اور وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے، خواہ کوئی حمد کرے یا نہ کرے۔
Ayah 22:65

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اُس نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخّر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے ، اور اُسی نے کشتی کو قاعدے کا پابند بنایا ہے کہ وہ اُس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے، اور وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے ہے کہ اُس کے اِذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں گِر سکتا؟ 113 واقعہ یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے حق میں بڑا شفیق اور رحیم ہے

سورة الْحَجّ 113 آسمان سے مراد یہاں پورا عالم بالا ہے جس کی ہر چیز اپنی اپنی جگہ تھمی ہوئی ہے۔
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی ہے ، وہی تم کو موت دیتا ہے اور وہی پھر تم کو زندہ کرے گا۔ سچ یہ ہے کہ انسان بڑا ہی منکرِ حق ہے۔ 114

سورة الْحَجّ 114 یعنی یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی اس حقیقت کا انکار کیے جاتا ہے جسے انبیاء (علیہم السلام) نے پیش کیا ہے۔
Ayahs 22:67–69

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہر اُمّت 115 کے لیے ہم نے ایک طریقِ عبادت 116 مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے، پس اے محمدؐ ، وہ اِس معاملے میں تم سے جھگڑا نہ کریں۔ 117 تم اپنے ربّ کی طرف دعوت دو، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو۔ 118

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر وہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ "جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ کو خوب معلوم ہے

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

اللہ قیامت کے روز تمہارے درمیان ان سب باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو"

سورة الْحَجّ 115 یعنی ہر نبی کی امت۔ سورة الْحَجّ 116 یہاں مَنْسَک کا لفظ قربانی کے معنی میں نہیں بلکہ پورے نظام عبادت کے معنی میں ہے۔ اس سے پہلے اسی لفظ کا ترجمہ " قربانی کا قاعدہ " کیا گیا تھا، کیونکہ وہاں بعد کا فقرہ " تاکہ لوگ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں " اس کے وسیع معنی میں سے صرف قربانی مراد ہونے کے تصریح کر رہا تھا۔ لیکن یہاں اسے محض " قربانی " کے معنی میں لینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ بلکہ عبادت کو بھی اگر " پرستش " کے بجائے " بندگی " کے وسیع تر مفہوم میں لیا جائے تو مدعا سے قریب تر ہوگا۔ اس طرح منسک (طریق بندگی) کے وہی معنی ہوجائیں گے جو شریعت اور منہاج کے معنی ہیں، اور یہ اسی مضمون کا اعادہ ہوگا جو سورة مائدہ میں فرمایا گیا ہے کہ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْھَاجاً ، " ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی " (آیت 48) سورة الْحَجّ 117 یعنی جس طرح پہلے انبیاء اپنے اپنے دور کی امتوں کے لیے ایک " منسک " لائے تھے، اسی طرح اس دور کی امت کے لیے تم ایک منسک لائے ہو۔ اب کسی کو تم سے نزاع کرنے کا حق حاصل نہیں ہے، کیونکہ اس دور کے لیے یہی منسک حق ہے۔ سورة جاثیہ میں اس مضمون کو یوں بیان فرمایا گیا ہے ثَمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْھا وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ (آیت 18) " پھر (انبیاء بنی اسرائیل کے بعد) اے محمد ہم نے تم کو دین کے معاملے میں ایک شریعت (طریقے) پر قائم کیا، پس تم اسی کی پیروی کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے "۔ (مفصل تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الشوریٰ ، حاشیہ 20) سورة الْحَجّ 118 یہ فقرہ اس مطلب کو پوری طرح واضح کر رہا ہے جو پچھلے فقرے کی تفسیر میں ابھی ہم بیان کر آئے ہیں۔
Ayah 22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے؟ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے۔ اللہ کے لیے یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ 119

سورة الْحَجّ 119 سلسلہ کلام سے اس پیرا گراف کا تعلق سمجھنے کے لیے اس سورے کی آیات 55 تا 57 نگاہ میں رہنی چاہیں۔
Ayah 22:71

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

ہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کر رہے ہیں جن کے لیے نہ تو اُس نے کوئی سَنَد نازل کی ہے اور نہ یہ خود اُن کے بارے میں کوئی علم رکھتے ہیں۔ 120 اِن ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے۔ 121

سورة الْحَجّ 120 یعنی نہ تو خدا کی کسی کتاب میں یہ کہا گیا ہے کہ ہم نے فلاں فلاں کو اپنے ساتھ خدائی میں شریک کیا ہے لہٰذا ہمارے ساتھ تم ان کی بھی عبادت کیا کرو، اور نہ ان کو کسی علمی ذریعہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ لوگ واقعی الوہیت میں حصہ دار ہیں اور اس بنا پر ان کو عبادت کا حق پہنچتا ہے۔ اب یہ جو طرح طرح کے معبود گھڑے گئے ہیں، اور ان کی صفات اور اختیارات کے متعلق قسم قسم کے عقائد تصنیف کرلیے گئے ہیں، اور ان کے آستانوں پر جبہ سائیاں ہو رہی ہیں، دعائیں مانگی جا رہی ہیں، چڑھاوے چڑھ رہے ہیں، نیازیں دی جا رہی ہیں، طواف کیے جا رہے اور اعتکاف ہو رہے ہیں، یہ سب جاہلانہ گمان کی پیروی کے سوا آخر اور کیا ہے۔ سورة الْحَجّ 121 یعنی یہ احمق لوگ سمجھ رہے ہیں کہ یہ معبود دنیا اور آخرت میں ان کے مددگار ہیں، حالانکہ حقیقت میں ان کا کوئی بھی مددگار نہیں ہے۔ نہ یہ معبود، کیونکہ ان کے پاس مدد کی کوئی طاقت نہیں، اور نہ اللہ، کیونکہ اس سے یہ بغاوت اختیار کرچکے ہیں۔ لہٰذا اپنی اس حماقت سے یہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کر رہے ہیں۔
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب اِن کو ہماری صاف صاف آیات سُنائی جاتیں ہیں تو تم دیکھتے ہو کہ منکرینِ حق کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں، اور ایسا محسوس ہوتا ہے ، کہ ابھی وہ اُن لوگوں پر ٹُوٹ پڑیں گے جو انھیں ہماری آیات سُناتے ہیں۔اِن سے کہو”میں بتاوٴں تمہیں کہ اِس سے بد تر چیز کیا ہے؟ 122 آگ، اللہ نے اسی کا وعدہ ان لوگوں کے حق میں کر رکھا ہے، جو قبولِ حق سے انکار کریں، اور بہت ہی بُرا ٹھکانہ ہے۔“

سورة الْحَجّ 122 یعنی کلام الہٰی کی آیات سن کر جو غصے کی جلن تم کو لاحق ہوتی ہے اس سے شدید تر چیز، یا یہ کہ ان آیات کو سنانے والوں کے ساتھ جو زیادہ سے زیادہ برائی تم کرسکتے ہو اس سے زیادہ بد تر چیز، جس سے تمہیں سابقہ پیش آنے والا ہے۔
Ayahs 22:73–74

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

لوگو، ایک مثال دی جاتی ہے، غور سے سُنو۔ جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے۔ بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھُڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ 123

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزت والا تو اللہ ہی ہے

سورة الْحَجّ 123 یعنی مدد چاہنے والا تو اس لیے کسی بالا تر طاقت کی طرف استمداد کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے کہ وہ کمزور ہے۔ مگر اس غرض کے لیے یہ جن کے آگے ہاتھ پھیلا رہے ہیں ان کی کمزوری کا حال یہ ہے کہ وہ ایک مکھی سے بھی عہدہ برا نہیں ہوسکتے۔ اب غور کرو کہ ان لوگوں کی کمزوری کا کیا حال ہوگا جو خود بھی کمزور ہوں اور ان کی امیدوں کے سہارے بھی کمزور۔
Ayah 22:75

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اللہ (اپنے فرامین کی ترسیل کے لیے)ملائکہ میں سے بھی پیغام رساں منتخب کرتا ہے، اور انسانوں میں سے بھی۔ 124 وہ سمیع اور بصیر ہے

سورة الْحَجّ 124 مطلب یہ ہے کہ مشرکین نے مخلوقات میں سے جن جن ہستیوں کو معبود بنایا ہے ان میں افضل ترین مخلوق یا ملائکہ ہیں یا انبیاء۔ اور ان کی حیثیت بھی اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ وہ اللہ کے احکام پہنچانے کا ذریعہ ہیں جن کو اس نے اس خدمت کے لیے چن لیا ہے۔ محض یہ فضیلت ان کو خدا، یا خدائی میں اللہ کا شریک تو نہیں بنا دیتی۔
Ayah 22:76

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

جو کچھ ان کے سامنے ہے اُسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے اُس سے بھی وہ واقف ہے 125 ، اور سارے معاملات اُسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ 126

سورة الْحَجّ 125 یہ فقرہ قرآن مجید میں بالعموم شفاعت کے مشرکانہ عقیدے کی تردید کے لیے آیا کرتا ہے۔ لہٰذا اس مقام پر پچھلے فقرے کے بعد اسے ارشاد فرمانے کا مطلب یہ ہوا کہ ملائکہ اور انبیاء و صلحاء کو بذات خود حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر نہ سہی، اللہ کے ہاں سفارشی سمجھ کر بھی اگر تم پوجتے ہو تو یہ غلط ہے۔ کیونکہ سب کچھ دیکھنے اور سننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، ہر شخص کے ظاہر اور مخفی حالات وہی جانتا ہے، دنیا کے کھلے اور چھپے مصالح سے بھی وہی واقف ہے، ملائکہ اور انبیاء سمیت کسی مخلوق کو بھی ٹھیک معلوم نہیں ہے کہ کس وقت کیا کرنا مناسب ہے اور کیا مناسب نہیں ہے، لہٰذا اللہ نے اپنی مقرب ترین مخلوق کو بھی یہ حق نہیں دیا ہے کہ وہ اس کے اذن کے بغیر جو سفارش چاہیں کر بیٹھیں اور ان کی سفارش قبول ہوجائے۔ سورة الْحَجّ 126 یعنی تدبیر امر بالکل اس کے اختیار میں ہے۔ کائنات کے کسی چھوٹے یا بڑے معاملے کا مرجع کوئی دوسرا نہیں ہے کہ اس کے پاس تم اپنی درخواستیں لے جاؤ۔ ہر معاملہ اسی کے آگے فیصلے کے لیے پیش ہوتا ہے۔ لہٰذا دست طلب بڑھانا ہے تو اس کی طرف بڑھاؤ۔ ان بےاختیار ہستیوں سے کیا مانگتے ہو جو خود اپنی بھی کوئی حاجت آپ پوری کرلینے پر قادر نہیں ہیں۔
Ayah 22:77

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، رکوع اورسجدہ کرو، اپنے ربّ کی بندگی کرو، اور نیک کام کرو، شاید کہ تم کو فلاح نصیب ہو۔ 127

سورة الْحَجّ 127 یعنی فلاح کی توقع اگر کی جاسکتی ہے تو یہ روش اختیار کرنے سے کی جاسکتی ہے۔ لیکن جو شخص بھی یہ روش اختیار کرے اسے اپنے عمل پر گھمنڈ نہ ہونا چاہیے کہ میں جب ایسا عبادت گزر اور نیکو کار ہوں تو ضرور فلاح پاؤں گا، بلکہ اسے اللہ کے فضل کا امیدوار رہنا چاہیے اور اسی کی رحمت سے توقعات وابستہ کرنی چاہییں۔ وہ فلاح دے تب ہی کوئی شخص فلاح پاسکتا ہے۔ خود فلاح حاصل کرلینا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ " شاید کہ تم کو فلاح نصیب ہو۔ " یہ فقرہ ارشاد فرمانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس طرح فلاح نصیب ہونا مشکوک ہے۔ بلکہ دراصل یہ شاہانہ انداز بیان ہے۔ بادشاہ اگر اپنے کسی ملازم سے یہ کہے کہ فلاں کام کرو، شاید کہ تمہیں فلاں منصب مل جائے، تو ملازم کے گھر شادیانے بج جاتے ہیں کیونکہ یہ اشارۃً ایک وعدہ ہے اور ایک مہربان آقا سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ کسی خدمت پر ایک صلے کی امید وہ خود دلائے اور پھر اپنے وفادار خادم کو مایوس کرے۔ امام شافعی، امام احمد، عبداللہ بن مبارک اور اسحاق بن راھَوَیہ کے نزدیک سورة حج کی یہ آیت بھی آیت سجدہ ہے۔ مگر امام ابو حنیفہ، امام مالک، حسن بصری، سعید بن المسیب، سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی اور سفیان ثوری اس جگہ سجدہ تلاوت کے قائل نہیں ہیں۔ دونوں طرف کے دلائل ہم مختصراً یہاں نقل کردیتے ہیں۔ پہلے گروہ کا اولین استدلال ظاہر آیت سے ہے کہ اس میں سجدے کا حکم ہے۔ دوسری دلیل عقبہ بن عامر کی وہ روایت ہے جسے احمد، ابو داؤد، ترمذی، ابن مردویہ اور بیہقی نے نقل کیا ہے کہ قلت یا رسول اللہ افضلت سورة الحج علیٰ سائر القراٰن بسجدتین ؟ قال نعم فمن لم یسجدھما فلا یقرأھما۔ " میں نے عرض کیا یا رسول اللہ، کیا سورة حج کو سارے قرآن پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں، پس جو ان پر سجدہ نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے "۔ تیسری دلیل ابو داؤد اور ابن ماجہ کی وہ روایت ہے جس میں عمر، علی، عثمان، ابن عمر، ابن عباس، ابو الدرداء، ابو موسیٰ اشعری اور عمار بن یاسر ؓ سے یہ بات منقول ہے کہ سورة حج میں دو سجدے ہیں۔ دوسرے گروہ کا استدلال یہ ہے کہ آیت میں محض سجدے کا حکم نہیں ہے بلکہ رکوع اور سجدے کا ایک ساتھ ہے اور قرآن میں رکوع و سجود ملا کر جب بولا جاتا ہے تو اس سے مراد نماز ہی ہوتی ہے۔ نیز رکوع و سجود کا اجتماع نماز ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ عقبہ بن عامر کی روایت کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ اس کو ابن لہیعہ ابو المصعب بصری سے روایت کرتا ہے اور یہ دونوں ضعیف راوی ہیں۔ خاص کر ابو المصعب تو وہ شخص ہے جو حجاج بن یوسف کے ساتھ کعبے پر منجنیق سے پتھر برسانے والوں میں شامل تھا۔ عمرو بن عاص والی روایت کو بھی وہ پایہ اعتبار سے ساقط قرار دیتے ہیں کیونکہ اس کو سعید العتقی عبداللہ بن منین الکلابی سے روایت کرتا ہے اور دونوں مجہول ہیں، کچھ پتہ نہیں کہ کون تھے اور کس پایہ کے آدمی تھے۔ اقوال صحابہ کے سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے سورة حج میں دو سجدے ہونے کا یہ مطلب صاف بتایا ہے کہ الاولیٰ عزمۃ و الاخرۃ تعلیم، یعنی پہلا سجدہ لازمی ہے، اور دوسرا سجدہ تعلیمی۔
Ayah 22:78

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ 128 اُس نے تمہیں اپنے کام کےلیے چُن لیا ہے 129 اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ 130 قائم ہو جاوٴ اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملّت پر 131۔ اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام ”مسلم“ رکھا تھا اور اس (قرآن)میں بھی (تمہارا یہی نام ہے 132)۔ تاکہ رسولؐ تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ۔ 133 پس نماز قائم کرو ، زکوٰة دو، اور اللہ سے وابستہ ہو جاوٴ۔ 134 وہ ہے تمہارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار

سوْرَةُ الْحَجّ 128 جہاد سے مراد محض " قتال " (جنگ) نہیں ہے، بلکہ یہ لفظ جد و جہد اور کشمکش اور انتہائی سعی و کوشش کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ پھر جہاد اور مجاہد میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ مزاحمت کرنے والی کچھ طاقتیں ہیں جن کے مقابلے میں یہ جد و جہد مطلوب ہے۔ اور اس کے ساتھ فی اللہ کی قید یہ متعین کردیتی ہے کہ مزاحمت کرنے والی طاقتیں وہ ہیں جو اللہ کی بندگی اور اس کی رضا جوئی میں، اور اس کی راہ پر چلنے میں مانع ہیں، اور جد و جہد کا مقصود یہ ہے کہ ان کی مزاحمت کو شکست دے کر آدمی خود بھی اللہ کی ٹھیک ٹھیک بندگی کرے اور دنیا میں بھی اس کا کلمہ بلند اور کفر و الحاد کے کلمے پست کردینے کے لیے جان لڑا دے۔ اس مجاہدے کا اولین ہدف آدمی کا اپنا نفس امارہ ہے جو ہر وقت خدا سے بغاوت کرنے کے لیے زور لگاتا رہتا ہے اور آدمی کو ایمان وطاعت کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب تک اس کو مسخر نہ کرلیا جائے، باہر کسی مجاہدے کا امکان نہیں ہے۔ اسی لیے ایک جنگ سے واپس آنے والے غازیوں سے نبی ﷺ نے فرمایا قد متم خیر مقدم من الجھاد الاصغر الی الجھاد الاکبر۔ " تم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آگئے ہو "۔ عرض کیا گیا وہ بڑا جہاد کیا ہے فرمایا مجاھدۃ العبد ھواہ۔ " آدمی کی خود اپنی خواہش نفس کے خلاف جد و جہد "۔ اس کے بعد جہاد کا وسیع تر میدان پوری دنیا ہے جس میں کام کرنے والی تمام بغاوت کیش اور بغاوت آموز اور بغاوت انگیز طاقتوں کے خلاف دل اور دماغ اور جسم اور مال کی ساری قوتوں کے ساتھ سعی و جہد کرنا وہ حق جہاد ہے جسے ادا کرنے کا یہاں مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سورة الْحَجّ 129 یعنی تمام نوع انسانی میں سے تم لوگ اس خدمت کے لیے منتخب کرلیے گئے ہو جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ اس مضمون کو قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلاً سورة بقرہ میں فرمایا جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطاً (آیت 143)۔ اور سورة آل عمران میں فرمایا کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ للِنَّاسِ (آیت 110)۔ یہاں اس امر پر بھی متنبہ کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت منجملہ ان آیات کے ہے جو صحابہ کرام کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں اور ان لوگوں کی غلطی ثابت کرتی ہیں جو صحابہ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس آیت کے براہ راست مخاطب صحابہ ہی ہیں۔ دوسرے لوگوں کو اس کا خطاب بالتبع پہنچتا ہے۔ سورة الْحَجّ 130 یعنی تمہاری زندگی کو ان تمام بےجا قیود سے آزاد کردیا گیا ہے جو پچھلی امتوں کے فقیہوں اور فریسیوں اور پاپاؤں نے عائد کردی تھیں۔ نہ یہاں فکر و خیال پر وہ پابندیاں ہیں جو علمی ترقی میں مانع ہوں اور نہ عملی زندگی پر وہ پابندیاں ہیں جو تمدن اور معاشرے کی ترقی میں رکاوٹ بنیں۔ ایک سادہ اور سہل عقیدہ و قانون تم کو دیا گیا ہے جس کو لے کر تم جتنا آگے چاہو بڑھ سکتے ہو۔ یہاں جس مضمون کو ثبوتی و ایجابی انداز میں بیان کیا گیا ہے وہی ایک دوسری جگہ سلبی انداز میں ارشاد ہوا ہے کہ یَأمُرُھُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یْحِلَّ لَہُمْ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰئِثَ وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ ، " یہ رسول ان کو جانی پہچانی نیکیوں کا حکم دیتا ہے، اور ان برائیوں سے روکتا ہے جن سے فطرت انسانی انکار کرتی ہے، اور وہ چیزیں حلال کرتا ہے جو پاکیزہ ہیں اور وہ چیزیں حرام کرتا ہے جو گندی ہیں اور ان پر سے وہ بھاری بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ زنجیریں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے " (اعراف۔ آیت 157) سورة الْحَجّ 131 اگرچہ اسلام کو ملت نوح، موسیٰ ، ملت عیسیٰ بھی اسی طرح کہا جاسکتا ہے جس طرح ملت ابراہیم۔ لیکن قرآن مجید میں اس کو بار بار ملت ابراہیم کہہ کر اس کے اتباع کی دعوت تین وجوہ سے دی گئی ہے۔ ایک یہ کہ قرآن کے اولین مخاطب اہل عرب تھے اور وہ حضرت ابراہیم سے جس طرح مانوس تھے کسی اور سے نہ تھے۔ ان کی تاریخ، روایات اور معتقدات میں جس شخصیت کا رسوخ و اثر رچا ہوا تھا وہ حضرت ابراہیم ہی کی شخصیت تھی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ہی وہ شخص تھے جن کی بزرگی پر یہودی، عیسائی، مسلمان، مشرکین عرب، اور شرق اوسط کے صابئ، سب متفق تھے۔ انبیاء میں کوئی دوسرا ایسا نہ تھا اور نہ ہے جس پر سب کا اتفاق ہو۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ان سب ملتوں کی پیدائش سے پہلے گزرے ہیں۔ یہودیت، عیسائیت اور صائبیت کے متعلق تو معلوم ہی ہے کہ سب بعد کی پیداوار ہیں۔ رہے مشرکین عرب، تو وہ بھی یہ مانتے تھے کہ ان کے ہاں بت پرستی کا رواج عمر و بن لُحَیّ سے شروع ہوا جو بنی خزاعہ کا سردار تھا اور مآب (موآب) کے علاقہ سے ہبل نامی بت لے آیا تھا۔ اس کا زمانہ زیادہ سے زیادہ پانچ چھ سو سال قبل مسیح کا ہے۔ لہٰذا یہ ملت بھی حضرت ابراہیم کے صدیوں بعد پیدا ہوئی۔ اس صورت حال میں قرآن جب کہتا ہے کہ ان ملتوں کے بجائے ملت ابراہیم ؑ کو اختیار کرو، تو وہ دراصل اس حقیقت پر متنبہ کرتا ہے کہ اگر حضرت ابراہیم برحق اور برسر ہدایت تھے، اور ان ملتوں میں سے کسی کے پیرو نہ تھے، تو لامحالہ پھر وہی ملت اصل ملت حق ہے نہ کہ یہ بعد کی ملتیں، اور محمد ﷺ کی دعوت اسی ملت کی طرف ہے۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، البقرہ، حواشی 134۔ 135۔ آل عمران، حواشی 58۔ 79۔ جلد دوم، النحل، حاشیہ 120۔ سورة الْحَجّ 132 " تمہارا " کا خطاب مخصوص طور پر صرف انہی اہل یمان کی طرف نہیں ہے جو اس آیت کے نزول کے وقت موجود تھے، یا اس کے بعد اہل ایمان کی صف میں داخل ہوئے، بلکہ اس کے مخاطب تمام وہ لوگ ہیں جو آغاز تاریخ انسانی سے توحید، آخرت، رسالت اور کتب الہٰی کے ماننے والے رہے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ اس ملت حق کے ماننے والے پہلے بھی " نوحی "، " ابراہیمی "، " موسوی "، " مسیحی " وغیرہ نہیں کہلاتے تھے بلکہ انکا نام " مسلم " (اللہ کے تابع فرمان) تھا، اور آج بھی وہ " محمدی " نہیں بلکہ " مسلم " ہیں۔ اس بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں کے لیے یہ سوال معما بن گیا کہ محمد ﷺ کے پیروؤں کا نام قرآن سے پہلے کس کتاب میں مسلم رکھا گیا تھا۔ سورة الْحَجّ 133 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، البقرہ، حاشیہ 144۔ اس سے زیادہ شرح و بسط کے ساتھ اس مضمون پر ہم نے اپنے رسالہ " شہادت حق " میں روشنی ڈالی ہے۔ سورة الْحَجّ 134 یا دوسرے الفاظ میں اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔ ہدایت اور قانون زندگی بھی اسی سے لو، اطاعت بھی اسی کی کرو، خوف بھی اسی کا رکھو، امیدیں بھی اسی سے وابستہ کرو، مدد کے لیے بھی اسی کے آگے ہاتھ پھیلاؤ، اور اپنے توکل و اعتماد کا سہارا بھی اسی کی ذات کو بناؤ۔