2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 2:120

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

یہودی اور عیسائی تم سے ہر گز راضی نہ ہو نگے ، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ 121 صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ ورنہ اگر اس علم کے بعد جو تمہارے پس آچکا ہے، تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی ، تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے

سورة الْبَقَرَة 121 مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی ناراضی کا سبب یہ تو ہے نہیں کہ وہ سچے طالب حق ہیں اور تم نے ان کے سامنے حق کو واضح کرنے میں کچھ کمی کی ہے۔ وہ تو اس لیے تم سے ناراض ہیں کہ تم نے اللہ کی آیات اور اس کے دین کے ساتھ وہ منافقانہ اور بازی گرانہ طرز عمل کیوں اختیار نہ کیا، خدا پرستی کے پردے میں وہ خود پرستی کیوں نہ کی، دین کے اصول و احکام کو اپنے تخیلات یا اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے میں اس دیدہ دلیری سے کیوں نہ کام لیا، وہ ریاکاری اور گندم نمائی و جو فروشی کیوں نہ کی، جو خود ان کا اپنا شیوہ ہے۔ لہٰذا انہیں راضی کرنے کی فکر چھوڑ دو ، کیونکہ جب تک تم ان کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرلو، دین کے ساتھ وہی معاملہ نہ کرنے لگو، جو خود یہ کرتے ہیں، اور عقائد و اعمال کی انہیں گمراہیوں میں مبتلا نہ ہوجاؤ، جن میں یہ مبتلا ہیں، اس وقت تک ان کا تم سے راضی ہونا محال ہے۔
Ayah 2:121

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اُسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنےکا حق ہے۔ وہ اس پر سچّے دل سے ایمان لاتے ہیں۔122 اور جو اس کے ساتھ کفر کا رویہّ اختیار کریں، وہی اصل میں نقصان اُٹھانے والے ہیں

سورة الْبَقَرَة 122 یہ اہل کتاب کے صالح عنصر کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ دیانت اور راستی کے ساتھ خدا کی کتاب کو پڑھتے ہیں۔ اس لیے جو کچھ کتاب اللہ کی رو سے حق ہے، اسے حق مان لیتے ہیں۔
Ayahs 2:122–123

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

123اے بنی اسرائیل !یاد کرو میری وہ نعمت، جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا، اور یہ کہ میں نے تمہیں دنیا کی تمام قوموں پر فضیلت دی تھی

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور ڈرو اُس دن سے، جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا، نہ کسی سے فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ کوئی سفارش ہی آدمی کو فائدہ دے گی، اور نہ مجرموں کو کہیں سے کوئی مدد پہنچ سکے گی

سوْرَةُ الْبَقَرَة 123 یہاں سے ایک دوسرا سلسلہ تقریر شروع ہوتا ہے، جسے سمجھنے کے لیے حسب ذیل امور کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے (1) حضرت نوح ؑ کے بعد حضرت ابراہیم ؑ پہلے نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی عالمگیر دعوت پھیلانے کے لیے مقرر کیا تھا۔ انہوں نے پہلے خود عراق سے مصر تک اور شام و فلسطین سے ریگستان عرب کے مختلف گوشوں تک برسوں گشت لگا کر اللہ کی اطاعت و فرماں برداری (یعنی اسلام) کی طرف لوگوں کو دعوت دی۔ پھر اپنے اس مشن کی اشاعت کے لیے مختلف علاقوں میں خلیفہ مقرر کیے۔ شرق اردن میں اپنے بھتیجے حضرت لوط ؑ کو، شام و فلسطین میں اپنے بیٹے اسحاق ؑ کو، اور اندرون عرب میں اپنے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو مامور کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے مکّے میں وہ گھر تعمیر کیا، جس کا نام کعبہ ہے اور اللہ ہی کے حکم سے وہ اس مشن کا مرکز قرار پایا۔ (2) حضرت ابراہیم ؑ کی نسل سے دو بڑی شاخیں نکلیں ایک حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد جو عرب میں رہی۔ قریش اور عرب کے بعض دوسرے قبائل کا تعلق اسی شاخ سے تھا۔ اور جو عرب قبیلے نسلاً حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد نہ تھے وہ بھی چونکہ ان کے پھیلائے ہوئے مذہب سے کم و بیش متاثر تھے، اس لیے وہ اپنا سلسلہ انہی سے جوڑتے تھے۔ دوسرے حضرت اسحاق ؑ کی اولاد، جن میں حضرات یعقوب ؑ ، یوسف ؑ ، موسیٰ ؑ ، دا ؤد ؑ ، سلیمان ؑ ، یحییٰ ؑ ، عیسیٰ ؑ اور بہت سے انبیا (علیہم السلام) پیدا ہوئے اور جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے، حضرت یعقوب ؑ کا نام چونکہ اسرائیل تھا اس لیے یہ نسل بنی اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ ان کی تبلیغ سے جن دوسری قوموں نے ان کا دین قبول کیا، انہوں نے یا تو اپنی انفرادیّت ہی ان کے اندر گم کردی، یا وہ نسلاً تو ان سے الگ رہے، مگر مذہباً ان کے متبع رہے۔ اسی شاخ میں جب پستی و تنزّل کا دور آیا، تو پہلے یہودیّت پیدا ہوئی اور پھر عیسائیت نے جنم لیا۔ (3) حضرت ابراہیم ؑ کا اصل کام دنیا کو اللہ کی اطاعت کی طرف بلانا اور اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کے مطابق انسانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا نظام درست کرنا تھا۔ وہ خود اللہ کے مطیع تھے، اس کے دیے ہوئے علم کی پیروی کرتے تھے، دنیا میں اس علم کو پھیلاتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ سب انسان مالک کائنات کے مطیع ہو کر رہیں۔ یہی خدمت تھی، جس کے لیے وہ دنیا کے امام و پیشوا بنائے گئے تھے۔ ان کے بعد یہ امامت کا منصب ان کی نسل کی اس شاخ کو ملا، جو حضرت اسحاق ؑ اور حضرت یعقوب ؑ سے چلی اور بنی اسرائیل کہلائی۔ اسی میں انبیا پیدا ہوتے رہے، اسی کو راہ راست کا علم دیا گیا، اسی کے سپرد یہ خدمت کی گئی کہ اس راہ راست کی طرف اقوام عالم کی رہنمائی کرے، اور یہی وہ نعمت تھی، جسے اللہ تعالیٰ بار بار اس نسل کے لوگوں کو یاد دلا رہا ہے۔ اس شاخ نے حضرت سلیمان ؑ کے زمانے میں بیت المَقْدِس کو اپنا مرکز قرار دیا۔ اس لیے جب تک یہ شاخ امامت کے منصب پر قائم رہی، بیت المقدس ہی دعوت الی اللہ کا مرکز اور خدا پرستوں کا قبلہ رہا۔ (4) پچھلے دس رکوعوں میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خطاب کر کے ان کی تاریخی فرد قرار داد جرم اور ان کی وہ موجودہ حالت، جو نزول قرآن کے وقت تھی، بےکم وکاست پیش کردی ہے اور ان کو بتادیا ہے کہ تم ہماری اس نعمت کی انتہائی ناقدری کرچکے ہو جو ہم نے تمہیں دی تھی۔ تم نے صرف یہی نہیں کیا کہ منصب امامت کا حق ادا کرنا چھوڑ دیا، بلکہ خود بھی حق اور راستی سے پھرگئے، اور اب ایک نہایت قلیل عنصر صالح کے سوا تمہاری پوری امت میں کوئی صلاحیّت باقی نہیں رہی ہے۔ (5) اس کے بعد اب انہیں بتایا جا رہا ہے کہ امامت ابراہیم ؑ کے نطفے کی میراث نہیں ہے بلکہ یہ اس سچّی اطاعت و فرماں برداری کا پھل ہے، جس میں ہمارے اس بندے نے اپنی ہستی کو گم کردیا تھا، اور اس کے مستحق صرف وہ لوگ ہیں، جو ابراہیم ؑ کے طریقے پر خود چلیں اور دنیا کو اس طریقے پر چلانے کی خدمت انجام دیں۔ چونکہ تم اس طریقے سے ہٹ گئے ہو اور اس خدمت کی اہلیّت پوری طرح کھو چکے ہو، لہٰذا تمہیں امامت کے منصب سے معزول کیا جاتا ہے۔ (6) ساتھ ہی اشاروں اشاروں میں یہ بھی بتادیا جاتا ہے کہ جو غیر اسرائیلی قومیں موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السّلام کے واسطے سے حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ اپنا تعلق جوڑتی ہیں وہ بھی ابراہیمی طریقے سے ہٹی ہوئی ہیں، نیز مشکرین عرب بھی، جو ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) سے اپنے تعلق پر فخر کرتے ہیں، محض نسل و نسب کے فخر کو لیے بیٹھے ہیں۔ ورنہ ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ کے طریقے سے اب ان کو دور کا واسطہ بھی نہیں رہا ہے۔ لہٰذا ان میں سے بھی کوئی امامت کا مستحق نہیں ہے۔ (7) پھر یہ بات ارشاد ہوتی ہے کہ اب ہم نے ابراہیم ؑ کی دوسری شاخ، بنی اسماعیل ؑ میں وہ رسول ﷺ پیدا کیا ہے، جس کے لیے ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ نے دعا کی تھی۔ اس کا طریقہ وہی ہے، جو ابراہیم ؑ ، اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ ، یعقوب ؑ اور دوسرے تمام انبیا کا تھا۔ وہ اور اس کے پیرو تمام ان پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہیں جو دنیا میں خدا کی طرف سے آئے ہیں اور اسی راستہ کی طرف دنیا کو بلاتے ہیں جس کی طرف سارے انبیا دعوت دیتے چلے آئے ہیں۔ لہٰذا اب امامت کے مستحق صرف وہ لوگ ہیں جو اس رسول کی پیروی کریں۔ (8) تبدیل امامت کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی قدرتی طور پر تحویل قبلہ کا اعلان ہونا بھی ضروری تھا۔ جب تک بنی اسرائیل کی امامت کا دور تھا، بیت المقدس مرکز دعوت رہا اور وہی قبلہء اہل حق بھی رہا۔ خود نبی ﷺ اور آپ کے پیرو بھی اس وقت تک بیت المقدس ہی کو قبلہ بنائے رہے۔ مگر جب بنی اسرائیل اس منصب سے باضابطہ معزول کردیے گئے، تو بیت المقدس کی مرکزیّت آپ سے آپ ختم ہوگئی۔ لہٰذا اعلان کیا گیا کہ اب وہ مقام دین الہٰی کا مرکز ہے، جہاں سے اس رسول کی دعوت کا ظہور ہوا ہے۔ اور چونکہ ابتدا میں ابراہیم ؑ کی دعوت کا مرکز بھی یہی مقام تھا، اس لیے اہل کتاب اور مشرکین، کسی کے لیے بھی تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ قبلہ ہونے کا زیادہ حق کعبے ہی کو پہنچتا ہے۔ ہٹ دھرمی کی بات دوسری ہے کہ وہ حق کو حق جانتے ہوئے بھی اعتراض کیے چلے جائیں۔
Ayah 2:124

وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:124 in the Quran reader

یاد کرو کہ جب ابرہیم ؑ کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا124 اور وہ اُن سب میں پورا اتر گیا، تو اس نے کہا : ”میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں“۔ ابرہیم ؑنے عرض کیا : ”اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے“؟ اس نے جواب دیا:”میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے“125

سورة الْبَقَرَة 124 قرآن میں مختلف مقامات پر ان تمام سخت آزمائشوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے، جن سے گزر کر حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے آپ کو اس بات کا اہل ثابت کیا تھا کہ انہیں بنی نوع انسان کا امام و رہنما بنایا جائے۔ جس وقت سے حق ان پر منکشف ہوا، اس وقت سے لے کر مرتے دم تک ان کی پوری زندگی سراسر قربانی ہی قربانی تھی۔ دنیا میں جتنی چیزیں ایسی ہیں، جن سے انسان محبّت کرتا ہے، ان میں سے کوئی چیز ایسی نہ تھی، جس کو حضرت ابراہیم ؑ نے حق کی خاطر قربان نہ کیا ہو۔ اور دنیا میں جتنے خطرات ایسے ہیں، جن سے آدمی ڈرتا ہے، ان میں سے کوئی خطرہ ایسا نہ تھا، جسے انہوں نے حق کی راہ میں نہ جھیلا ہو۔ سورة الْبَقَرَة 125 یعنی یہ وعدہ تمہاری اولاد کے صرف اس حصّے سے تعلق رکھتا ہے جو صالح ہو۔ ان میں سے جو ظالم ہوں گے، ان کے لیے یہ وعدہ نہیں ہے۔ اس سے یہ بات خود ظاہر ہوجاتی ہے کہ گمراہ یہودی اور مشرک بنی اسماعیل اس وعدے کے مصداق نہیں ہیں۔
Ayah 2:125

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 2:125 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے اس گھر (کعبے) کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیاتھا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ابراہیمؑ جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہو تا ہے اس مقام کو مستقل جائے نماز بنالو، اور ابرہیم ؑاور اسماعیل ؑ کو تاکید کی تھی کہ میرے اس گھر کو طواف اور اعتکاف اور رکوع اورسجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔126

سورة الْبَقَرَة 126 پاک رکھنے سے مراد صرف یہی نہیں ہے کہ کوڑے کرکٹ سے اسے پاک رکھا جائے۔ خدا کے گھر کی اصل پاکی یہ ہے کہ اس میں خدا کے سوا کسی کا نام بلند نہ ہو۔ جس نے خانہء خدا میں خدا کے سوا کسی دوسرے کو مالک، معبُود، حاجت روا اور فریاد رس کی حیثیت سے پکارا، اس نے حقیقت میں اسے گندا کردیا۔ یہ آیت ایک نہایت لطیف طریقے سے مشرکین قریش کے جرم کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ یہ ظالم لوگ ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کے وارث ہونے پر فخر تو کرتے ہیں، مگر وراثت کا حق ادا کرنے کے بجائے الٹا اس حق کو پامال کر رہے ہیں۔ لہٰذا جو وعدہ ابراہیم ؑ سے کیا گیا تھا، اس سے جس طرح بنی اسرائیل مستثنیٰ ہوگئے ہیں، اسی طرح یہ مشرک بنی اسماعیل بھی اس سے مستثنیٰ ہیں۔
Ayahs 2:126–128

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:126 in the Quran reader

اور یہ کہ ابراھیم ؑ نے دعا کی : ”اے میرے رب ، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندو ں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں ، انھیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے۔“ جو اب میں اس کے رب نے فرمایا ”اور جو نہ مانیں گا ، دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اسے بھی دوں گا، 127مگر آخر کار اسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا، اور وہ بد ترین ٹھکانا ہے۔“

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور یاد کرو ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے، تو دعا کرتے جاتے تھے: "اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مُطیع فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

سورة الْبَقَرَة 127 حضرت ابراہیم ؑ نے جب منصب امامت کے متعلق پوچھا تھا، تو ارشاد ہوا تھا کہ اس منصب کا وعدہ تمہاری اولاد کے صرف مومن و صالح لوگوں کے لیے ہے، ظالم اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اس کے بعد جب حضرت ابراہیم ؑ رزق کے لیے دعا کرنے لگے، تو سابق فرمان کو پیش نظر رکھ کر انہوں نے صرف اپنی مومن اولاد ہی کے لیے دعا کی، مگر اللہ تعالیٰ نے جواب میں اس غلط فہمی کو فوراً رفع فرما دیا اور انہیں بتایا کہ امامت صالحہ اور چیز ہے اور رزق دنیا دوسری چیز۔ امامت صالحہ صرف مومنین صالح کو ملے گی، مگر رزق دنیا مومن و کافر سب کو دیا جائے گا۔ اس سے یہ بات خود بخود نکل آئی کہ اگر کسی کو رزق دنیا فراوانی کے ساتھ مل رہا ہو، تو وہ اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ اللہ اس سے راضی بھی ہے اور وہی خدا کی طرف سے پیشوائی کا مستحق بھی ہے۔
Ayahs 2:129–130

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 2:129 in the Quran reader

اور اے رب ، ان لوگوں میں خود انھیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو ، جو انھیں تیری آیات سنائے ، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے128۔ تُو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔“129

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 2:130 in the Quran reader

اب کون ہے، جو ابراہیمؑ کے طریقے سے نفرت کرے؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت و جہالت میں مبتلا کر لیا ہو، اس کے سو ا کون یہ حرکت کرسکتا ہے؟ ابراہیمؑ تو وہ شخص ہے، جس کو ہم نے دنیا میں اپنے کام کے لیے چُن لیا تھا اور آخرت میں اس کا شمار صالحین میں ہوگا

سورة الْبَقَرَة 129 اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ محمد ﷺ کا ظہور دراصل حضرت ابراہیم ؑ کی دعا کا جواب ہے۔
Ayah 2:131

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

اس کا حال یہ تھاکہ جب اس کے رب نے اس سے کہا، ”مسلم ہوجا 130،“ تو اس نے فوراً کہا ”میں مالک کائنات کا ”مسلم“ہو گیا۔“

سورة الْبَقَرَة 130 مُسْلِم وہ جو خدا کے آگے سر اطاعت خم کر دے، خدا ہی کو اپنا مالک، آقا، حاکم اور معبود مان لے، جو اپنے آپ کو بالکلیہ خدا کے سپرد کردے اور اس ہدایت کے مطابق دنیا میں زندگی بسر کرے، جو خدا کی طرف سے آئی ہو۔ اس عقیدے اور اس طرز عمل کا نام ”اسلام“ ہے اور یہی تمام انبیا کا دین تھا جو ابتدائے آفرینش سے دنیا کے مختلف ملکوں اور قوموں میں آئے۔
Ayah 2:132

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

اسی طریقے پر چلنے کی ہدایت اس نے اپنی اولاد کو کی تھی اور اسی کی وصیت یعقوب ؑ 131اپنی اولاد کو کر گیا۔ اس نے کہا تھا کہ ”میرے بچو، اللہ نے تمھارے لیے یہی دین پسند کیا ہے۔132 لہٰذا مرتے دم تک تم مسلم ہی رہنا۔“

سورة الْبَقَرَة 131 حضرت یعقوب ؑ کا ذکر خاص طور پر اس لیے فرمایا کہ بنی اسرائیل براہ راست انہیں کی اولاد تھے۔ سورة الْبَقَرَة 132 دین، یعنی طریق زندگی، نظام حیات، وہ آئین جس پر انسان دنیا میں اپنے پورے طرز فکر اور طرز عمل کی بنا رکھے۔
Ayah 2:133

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

پھر کیا تم اس وقت موجو د تھے جب یعقوب ؑ اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا؟ اس نے مر تے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا ”بچو!میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے ؟“ ان سب نے جواب دیا ”ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے ، جسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراھیم ؑ ، اسماعیل ؑ اور اسحاق ؑ نے خدا مانا ہےاور ہم اسی کے مسلم ہیں۔133“

سورة الْبَقَرَة 133 بائیبل میں حضرت یعقوب ؑ کی وفات کا حال بڑی تفصیل سے لکھا گیا ہے، مگر حیرت ہے کہ اس وصیّت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ البتہ تَلْموُد میں جو مفصّل وصیّت درج ہے، اس کا مضمون قرآن کے بیان سے بہت مشابہ ہے۔ اس میں حضرت یعقوب ؑ کے یہ الفاظ ہمیں ملتے ہیں ”خداوند اپنے خدا کی بندگی کرتے رہنا، وہ تمہیں اسی طرح تمام آفات سے بچائے گا، جس طرح تمہارے آباؤ اجداد کو بچاتا رہا ہے۔۔۔۔۔ اپنے بچوں کو خدا سے محبت کرنے اور اس کے احکام بجا لانے کی تعلیم دینا تاکہ ان کی مہلت زندگی دراز ہو، کیوں کہ خدا ان لوگوں کی حفاظت کرتا ہے، جو حق کے ساتھ کام کرتے ہیں، اور اس کی راہوں پر ٹھیک ٹھیک چلتے ہیں۔“ جواب میں ان کے لڑکوں نے کہا ”جو کچھ آپ نے ہدایت فرمائی ہے ہم اس کے مطابق عمل کریں گے۔ خدا ہمارے ساتھ ہو !“ تب یعقوب ؑ نے کہا ”اگر تم خدا کی سیدھی راہ سے دائیں یا بائیں نہ مڑو گے، تو خدا ضرور تمہارے ساتھ رہے گا۔“
Ayah 2:134

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

وہ کچھ لوگ تھے ، جو گزر گئے۔ جو کچھ انھوں نے کمایا۔ وہ ان کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے ،وہ تمہارے لیے ہے۔ تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔134

سورة الْبَقَرَة 134 یعنی اگرچہ تم ان کی اولاد سہی، مگر حقیقت میں تمہیں ان سے کوئی واسطہ نہیں۔ ان کا نام لینے کا تمہیں کیا حق ہے جبکہ تم ان کے طریقے سے پھرگئے۔ اللہ کے ہاں تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہارے باپ دادا کیا کرتے تھے، بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ تم خود کیا کرتے رہے۔ اور یہ جو فرمایا کہ ”جو کچھ انہوں نے کمایا، وہ ان کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے، وہ تمہارے لیے ہے،“ یہ قرآن کا خاص انداز بیان ہے۔ ہم جس چیز کو فعل یا عمل کہتے ہیں، قرآن اپنی زبان میں اسے کسب یا کمائی کہتا ہے۔ ہمارا ہر عمل اپنا ایک اچھا یا برا نتیجہ رکھتا ہے، جو خدا کی خوشنودی یا ناراضِ کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ وہی نتیجہ ہماری کمائی ہے۔ چونکہ قرآن کی نگاہ میں اصل اہمیّت اسی نتیجے کی ہے، اس لیے اکثر وہ ہمارے کاموں کو عمل وفعل کے الفاظ سے تعبیر کرنے کے بجائے ”کسب“ کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے۔
Ayah 2:135

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

یہودی کہتے ہیں: یہودی ہو تو راہ راست پاؤ گے۔ عیسا ئی کہتے ہیں : عیسائی ہو ، تو ہدایت ملے گی۔ ان سے کہو: ”نہیں ، بلکہ سب کو چھوڑکر ابراھیم ؑ کا طریقہ۔ اور ابراھیم ؑ مشرکوں میں سے نہ تھا۔135“

سورة الْبَقَرَة 135 اس جواب کی لطافت سمجھنے کے لیے دو باتیں نگاہ میں رکھیے ایک یہ کہ یہودیّت اور عیسائیت دونوں بعد کی پیداوار ہیں۔ ”یہُودیّت“ اپنے اس نام اور اپنی مذہبی خصوصیات اور رسوم و قواعد کے ساتھ تیسری چوتھی صدی قبل مسیح میں پیدا ہوئی۔ اور ”عیسائیت“ جن عقائد اور مخصوص مذہبی تصوّرات کے مجمُوعے کا نام ہے وہ تو حضرت مسیح ؑ کے بھی ایک مدت بعد وجود میں آئے ہیں۔ اب یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ اگر آدمی کے برسر ہدایت ہونے کا مدار یہودیّت یا عیسائیت اختیار کرنے ہی پر ہے، تو حضرت ابراہیم ؑ اور دوسرے انبیا اور نیک لوگ، جو ان مذہبوں کی پیدائش سے صدیوں پہلے پیدا ہوئے تھے اور جن کو خود یہودی اور عیسائی بھی ہدایت یافتہ مانتے ہیں، وہ آخر کس چیز سے ہدایت پاتے تھے ؟ ظاہر ہے کہ وہ ”یہُودیّت“ اور ”عیسائیت“ نہ تھی۔ لہٰذا یہ بات آپ سے آپ واضح ہوگئی کہ انسان کے ہدایت یافتہ ہونے کا مدار ان مذہبی خصوصیّات پر نہیں ہے، جن کی وجہ سے یہ یہودی اور عیسائی وغیرہ مختلف فرقے بنے ہیں، بلکہ دراصل اس کا مدار اس عالمگیر صراط مستقیم کے اختیار کرنے پر ہے، جس سے ہر زمانے میں انسان ہدایت پاتے رہے ہیں۔ دُوسرے یہ کہ خود یہود و نصاریٰ کی اپنی مقدس کتابیں اس بات پر گواہ ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ ایک اللہ کے سوا کسی دوسرے کی پرستش، تقدیس، بندگی اور اطاعت کے قائل نہ تھے اور ان کا مشن ہی یہ تھا کہ خدائی کی صفات و خصُوصیات میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھیرایا جائے۔ لہٰذا یہ بالکل ظاہر ہے کہ یہودیت اور نصرانیت دونوں اس راہ راست سے منحرف ہوگئی ہیں، جس پر حضرت ابراہیم ؑ چلتے تھے، کیونکہ ان دونوں میں شرک کی آمیزش ہوگئی ہے۔
Ayahs 2:136–137

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

مسلمانو! کہو کہ ”ہم ایمان لائے او راس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراھیم ؑ ، اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ ، یعقوب ؑ اور اولاد یعقوب ؑ کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ ؑ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتےاور ہم اللہ کے مسلم ہیں 136۔“

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

پھر اگر وہ اُسی طرح ایمان لائیں، جس طرح تم لائے ہو، تو ہدایت پر ہیں، اور اگراس سے منہ پھیریں، تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑ گئے ہیں لہٰذا اطمینان رکھو کہ اُن کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

سورة الْبَقَرَة 136 پیغمبروں کے درمیان تفریق نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے درمیان اس لحاظ سے فرق نہیں کرتے کہ فلاں حق پر تھا اور فلاں حق پر نہ تھا یا یہ کہ ہم فلاں کو مانتے ہیں اور فلاں کو نہیں مانتے۔ ظاہر ہے کہ خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر بھی آئے ہیں، سب کے سب ایک ہی صداقت اور ایک ہی راہ راست کی طرف بلانے آئے ہیں۔ لہٰذا جو شخص صحیح معنی میں حق پرست ہے، اس کے لیے تمام پیغمبروں کو برحق تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔ جو لوگ کسی پیغمبر کو مانتے اور کسی کا انکار کرتے ہیں وہ حقیقت میں اس پیغمبر کے بھی پیرو نہیں ہیں، جسے وہ مانتے ہیں، کیونکہ انہوں نے دراصل اس عالمگیر صراط مستقیم کو نہیں پایا ہے، جسے حضرت موسیٰ ؑ یا عیسیٰ ؑ یا کسی دوسرے پیغمبر نے پیش کیا تھا، بلکہ وہ محض باپ دادا کی تقلید میں ایک پیغمبر کو مان رہے ہیں۔ ان کا اصل مذہب نسل پرستی کا تعصّب اور آباؤ اجداد کی اندھی تقلید ہے، نہ کہ کسی پیغمبر کی پیروی۔
Ayah 2:138

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

کہو:”اللہ کا رنگ اختیار کرو۔137 اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہو گا؟ اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں۔“

سورة الْبَقَرَة 137 اس آیت کے دو ترجمے ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ ”ہم نے اللہ کا رنگ اختیار کرلیا“ ، دوسرے یہ کہ ”اللہ کا رنگ اختیار کرو“۔ مسیحیّت کے ظہور سے پہلے یہودیوں کے ہاں یہ رسم تھی کہ جو شخص ان کے مذہب میں داخل ہوتا، اسے غسل دیتے تھے اور اس غسل کے معنی ان کے ہاں یہ تھے کہ گویا اس کے گناہ دھل گئے اور اس نے زندگی کا ایک نیا رنگ اختیار کرلیا۔ یہی چیز بعد میں مسیحیوں نے اختیار کرلی۔ اس کا اصطلاحی نام ان کے ہاں اسطباغ (بپتسمہ) ہے اور یہ اصطباغ نہ صرف ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو ان کے مذہب میں داخل ہوتے ہیں، بلکہ بچّوں کو بھی دیا جاتا ہے۔ اسی کے متعلق قرآن کہتا ہے، اس رسمی اصطباغ میں کیا رکھا ہے ؟ اللہ کا رنگ اختیار کرو، جو کسی پانی سے نہیں چڑھتا، بلکہ اس کی بندگی کا طریقہ اختیار کرنے سے چڑھتا ہے۔
Ayah 2:139

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

اے نبی! ان سے کہو: ”کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔138 ہمارے اعمال ہمارے لیے تمہارے اعمال تمہارے لیے، اور ہم اللہ ہی کے لیے اپنی بندگی کو خالص کر چکے ہیں۔139

سورة الْبَقَرَة 138 ”یعنی ہم یہی تو کہتے ہیں کہ اللہ ہی ہم سب کا رب ہے اور اسی کی فرمانبرداری ہونی چاہیے۔ کیا یہ بھی کوئی ایسی بات ہے کہ اس پر تم ہم سے جھگڑا کرو ؟ جھگڑے کا اگر کوئی موقع ہے بھی، تو وہ ہمارے لیے ہے، نہ کہ تمہارے لیے، کیونکہ اللہ کے سوا دوسروں کو بندگی کا مستحق تم ٹھیرا رہے ہو نہ کہ ہم۔ ”اَ تُحَآ جُّوْنَنَا فِی اللہِ“ کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”کیا تمہارا جھگڑا ہمارے ساتھ فِیْ سَبِیْلِ اللہ ہے“ ؟ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اگر واقعی تمہارا یہ جھگڑا نفسانی نہیں ہے، بلکہ خدا واسطے کا ہے، تو یہ بڑی آسانی سے طے ہوسکتا ہے۔ سورة الْبَقَرَة 139 یعنی تم اپنے اعمال کے ذمّے دار ہو اور ہم اپنے اعمال کے۔ تم نے اگر اپنی زندگی کو تقسیم کر رکھا ہے اور اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی خدائی میں شریک ٹھیرا کر ان کی پرستش اور اطاعت بجا لاتے ہو، تو تمہیں ایسا کرنے کا اختیار ہے، اس کا انجام خود دیکھ لو گے۔ ہم تمہیں زبردستی اس سے روکنا نہیں چاہتے۔ لیکن ہم نے اپنی بندگی، اطاعت اور پرستش کو بالکل اللہ ہی کے لیے خالص کردیا ہے۔ اگر تم تسلیم کرلو کہ ہمیں بھی ایسا کرنے کا اختیار ہے، تو خواہ مخواہ کا یہ جھگڑا آپ ہی ختم ہوجائے۔
Ayahs 2:140–141

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

یا پھر کیا تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراھیم ؑ ، اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ ، یعقوب ؑ اور اولاد یعقو ب ؑ سب کے سب یہودی تھے یا نصرانی تھے؟ کہو ”تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟140 اس شخص سے بڑا ظالم اور کو ن ہو گا، جس کے ذمے اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے ؟ تمہاری حرکات سے اللہ غافل تو نہیں ہے۔141

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

وہ کچھ لوگ تھے، جو گزر چکے اُن کی کمائی اُن کے لیے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لیے تم سے اُن کے اعمال کے متعلق سوال نہیں ہوگا"

سورة الْبَقَرَة 140 یہ خطاب یہود و نصاریٰ کے ان جاہل عوام سے ہے جو واقعی اپنے نزدیک یہ سمجھتے تھے کہ یہ جلیل القدر انبیا سب کے سب یہودی یا عیسائی تھے۔ سورة الْبَقَرَة 141 یہ خطاب ان کے علما سے ہے، جو خود بھی اس حقیقت سے ناواقف نہ تھے کہ یہودیت اور عیسائیت اپنی موجودہ خصوصیّات کے ساتھ بہت بعد میں پیدا ہوئی ہیں، مگر اس کے باوجود وہ حق کے اپنے ہی فرقوں میں محدود سمجھتے تھے اور عوام کو اسی غلط فہمی میں مبتلا رکھتے تھے کہ انبیا کے مدّتوں بعد جو عقیدے، جو طریقے اور جو اجتہادی ضابطے اور قاعدے ان کے فقہا، صوفیہ اور متکلّمین نے وضع کیے، انہیں کی پیروی پر انسان کی فلاح اور نجات کا مدار ہے۔ ان علما سے جب پوچھا جاتا تھا کہ اگر یہی بات ہے، تو حضرت ابراہیم ؑ ، اسحاق ؑ ، یعقوب ؑ وغیرہ انبیا (علیہم السلام) آخر تمہارے ان فرقوں میں سے کس سے تعلق رکھتے تھے، تو وہ اس کا جواب دینے سے گریز کرتے تھے، کیونکہ ان کا علم انہیں یہ کہنے کی تو اجازت نہ دیتا تھا کہ ان بزرگوں کا تعلق ہمارے ہی فرقے سے تھا۔ لیکن اگر وہ صاف الفاظ میں یہ مان لیتے کہ یہ انبیا نہ یہودی تھے، نہ عیسائی، تو پھر ان کی حجّت ہی ختم ہوجاتی تھی۔
Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

نادان لوگ ضرور کہیں گے :اِنہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھتے تھے ، اس سے یکایک پھر گئے142 ؟ اے نبیؐ ، ان سے کہو : ”مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے ،سیدھی راہ دکھاتا ہے۔143

سورة الْبَقَرَة 142 نبی ﷺ ہجرت کے بعد مدینہء طیّبہ میں سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المَقْدِس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ پھر کعبے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم آیا، جس کی تفصیل آگے آتی ہے۔ سورة الْبَقَرَة 143 یہ ان نادانوں کے اعتراض کا پہلا جواب ہے۔ ان کے دماغ تنگ تھے، نظر محدود تھی، سمت اور مقام کے بندے بنے ہوئے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ خدا کسی خاص سمت میں مُقَیّد ہے۔ اس لیے سب سے پہلے ان کے جاہلانہ اعتراض کی تردید میں یہی فرمایا گیا کہ مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ کسی سمت کو قبلہ بنانے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ اسی طرف ہے۔ جن لوگوں کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے، وہ اس قسم کی تنگ نظریوں سے بالاتر ہوتے ہیں اور ان کے لیے عالمگیر حقیقتوں کے ادراک کی راہ کھل جاتی ہے۔ (ملاحظہ ہو 115، نمبر 116)
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک ”اُمّتِ وَسَط“بنایا ہے تاکہ تم دُنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رُسول تم پر گواہ ہو۔144 پہلے جس طرف تم رُخ کرتے تھے ، اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے مقرر کیا تھا کہ کون رُسول کی پیروی کرتا ہے اور کو ن اُلٹا پھر جاتا ہے۔145 یہ معاملہ تھا تو بڑا سخت ، مگر اُن لوگوں کے لیے کچھ بھی سخت نہ ثابت ہوا ، جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے ، اللہ تمہارے اس ایمان کو ہر گز ضائع نہ کرے گا، یقین جانو کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق و رحیم ہے

سورة الْبَقَرَة 144 یہ اُمّتِ محمد ﷺ کی امامت کا اعلان ہے۔ ”اسی طرح“ کا اشارہ دونوں طرف ہے اللہ کی اس رہنمائی کی طرف بھی، جس سے محمد ﷺ کی پیروی قبول کرنے والوں کو سیدھی راہ معلوم ہوئی اور وہ ترقی کرتے کرتے اس مرتبے پر پہنچے کہ ”اُمّتِ وَسَط“ قرار دیے گئے، اور تحویل قبلہ کی طرف بھی کہ نادان اسے محض ایک سَمْت سے دوسری سَمْت کی طرف پھرنا سمجھ رہے ہیں، حالانکہ دراصل بیت المقدس سے کعبے کی طرف سَمْت قبلہ کا پھرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو دنیا کی پیشوائی کے منصب سے باضابطہ معزول کیا اور اُمّتِ محمدیہ کو اس پر فائز کردیا۔ ”اُمتِ وَسَط“ کا لفظ اس قدر وسیع معنویت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کسی دوسرے لفظ سے اس کے ترجمے کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے مراد ایک ایسا اعلیٰ اور اشرف گروہ ہے، جو عدل و انصاف اور توسّط کی روش پر قائم ہو، جو دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتا ہو، جس کا تعلق سب کے ساتھ یکساں حق اور راستی کا تعلق ہو اور ناحق، ناروا تعلق کسی سے نہ ہو۔ پھر یہ جو فرمایا کہ تمہیں ”اُمّتِ وَسَط“ اس لیے بنایا گیا ہے کہ ”تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو“ تو اس سے مراد یہ ہے کہ آخرت میں جب پوری نوع انسانی کا اکٹھا حساب لیا جائے گا، اس وقت رسول ہمارے ذمّہ دار نمائندے کی حیثیت سے تم پر گواہی دے گا کہ فکر صحیح اور عمل صالح اور نظام عدل کی جو تعلیم ہم نے اسے دی تھی، وہ اس نے تم کو بےکم وکاست پوری کی پوری پہنچا دی اور عملاً اس کے مطابق کام کر کے دکھا دیا۔ اس کے بعد رسول کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے تم کو عام انسانوں پر گواہ کی حیثیت سے اٹھنا ہوگا اور یہ شہادت دینی ہوگی کہ رسول نے جو کچھ تمہیں پہنچایا تھا، وہ تم نے انہیں پہنچانے میں، اور جو کچھ رسول نے تمہیں دکھایا تھا وہ تم نے انہیں دکھانے میں اپنی حد تک کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اس طرح کسی شخص یا گروہ کا اس دنیا میں خدا کی طرف سے گواہی کے منصب پر مامور ہونا ہی درحقیقت اس کا امامت اور پیشوائی کے مقام پر سرفراز کیا جانا ہے۔ اس میں جہاں فضیلت اور سرفرازی ہے وہیں ذمّہ داری کا بہت بڑا بار بھی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح رسول ﷺ اس اُمّت کے لیے خدا ترسی، راست روی، عدالت اور حق پرستی کی زندہ شہادت بنے، اسی طرح اس اُمّت کو بھی تمام دنیا کے لیے زندہ شہادت بننا چاہیے، حتّٰی کہ اس کے قول اور عمل اور برتاؤ، ہر چیز کو دیکھ کر دنیا کو معلوم ہو کہ خدا ترسی اس کا نام ہے، راست روی یہ ہے، عدالت اس کو کہتے ہیں اور حق پرستی ایسی ہوتی ہے۔ پھر اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جس طرح خدا کی ہدایت ہم تک پہنچانے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذمّہ داری بڑی سخت تھی، حتّٰی کہ اگر وہ اس میں ذرا سی کوتاہی بھی کرتے تو خدا کے ہاں ماخوذ ہوتے، اسی طرح دنیا کے عام انسانوں تک اس ہدایت کو پہنچانے کی نہایت سخت ذمّہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم خدا کی عدالت میں واقعی اس بات کی شہادت نہ دے سکے کہ ہم نے تیری ہدایت، جو تیرے رسول کے ذریعے سے ہمیں پہنچی تھی، تیرے بندوں تک پہنچا دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے، تو ہم بہت بری طرح پکڑے جائیں گے اور یہی امامت کا فخر ہمیں وہاں لے ڈوبے گا۔ ہماری امامت کے دور میں ہماری واقعی کوتاہیوں کے سبب سے خیال اور عمل کی جتنی گمراہیاں دنیا میں پھیلی ہیں اور جتنے فساد اور فتنے خدا کی زمین میں برپا ہوئے ہیں، ان سب کے لیے ائمہء شر اور شیاطین انس و جِنّ کے ساتھ ساتھ ہم بھی ماخوذ ہوں گے۔ ہم سے پوچھا جائے گا کہ جب دنیا میں معصیت، ظلم اور گمراہی کا یہ طوفان برپا تھا، تو تم کہاں مر گئے تھے۔ س rnُوْرَةُ الْبَقَرَة 145 یعنی اس سے مقصود یہ دیکھنا تھا کہ کون لوگ ہیں جو جاہلیّت کے تعصّبات اور خاک و خون کی غلامی میں مبتلا ہیں، اور کون ہیں جو ان بندشوں سے آزاد ہو کر حقائق کا صحیح ادراک کرتے ہیں۔ ایک طرف اہل عرب اپنے وطنی و نسلی فخر میں مبتلا تھے اور عرب کے کعبے کو چھوڑ کر باہر کے بیت المقدس کو قبلہ بنانا ان کی اس قوم پرستی کے بت پر ناقابل برداشت ضرب تھا۔ دوسری طرف بنی اسرائیل اپنی نسل پرستی کے غرور میں پھنسے ہوئے تھے اور اپنے آبائی قبلے کے سوا کسی دوسرے قبلے کو برداشت کرنا ان کے لیے محال تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ بت جن لوگوں کے دلوں میں بسے ہوئے ہوں، وہ اس راستے پر کیسے چل سکتے تھے، جس کی طرف اللہ کا رسول انہیں بلا رہا تھا۔ اس لیے اللہ نے ان بت پرستوں کو سچے حق پرستوں سے الگ چھانٹ دینے کے لیے پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کیا تاکہ جو لوگ عربیّت کے بت کی پرستش کرتے ہیں، وہ الگ ہوجائیں۔ پھر اس قبلے کو چھوڑ کر کعبے کو قبلہ بنایا تاکہ جو اسرائیلیت کے پرستار ہیں، وہ بھی الگ ہوجائیں۔ اس طرح صرف وہ لوگ رسول کے ساتھ رہ گئے، جو کسی بت کے پرستار نہ تھے، محض خدا کے پرستار تھے۔
Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ لو، ہم اُسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجدِ حرام کی طرف رُخ پھیردو۔ اب جہاں کہیں تم ہو ، اُسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھاکرو۔146یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی ، خُوب جانتے ہیں کہ(تحویلِ قبلہ کا )یہ حکم ان کے ربّ ہی کی طرف سے ہے اور بر حق ہے، مگر اس کے باوجود جو کچھ یہ کر رہے ہیں،اللہ اس سے غافل نہیں ہے

سورة الْبَقَرَة 146 یہ ہے وہ اصل حکم، جو تحویل قبلہ کے بارے میں دیا گیا تھا۔ یہ حکم رجب یا شعبان 2 ہجری میں نازل ہوا۔ ابن سعد کی روایت ہے کہ نبی ﷺ بِشْر بن براء بن مَعْرُور کے ہاں دعوت پر گئے ہوئے تھے۔ وہاں ظہر کا وقت آگیا اور آپ لوگوں کو نماز پڑھانے کھڑے ہوئے۔ دو رکعتیں پڑھا چکے تھے کہ تیسری رکعت میں یکایک وحی کے ذریعے سے یہ آیت نازل ہوئی اور اسی وقت آپ اور آپ کی اقتدا میں جماعت کے تمام لوگ بیت المقدس سے کعبے کے رخ پھرگئے۔ اس کے بعد مدینہ اور اطراف مدینہ میں اس کی عام منادی کی گئی۔ بَراء بن عازب کہتے ہیں کہ ایک جگہ منادی کی آواز اس حالت میں پہنچی کہ لوگ رکوع میں تھے۔ حکم سنتے ہی سب کے سب اسی حالت میں کعبے کی طرف مڑ گئے۔ اَنس بن مالک کہتے ہیں کہ بنی سلمہ میں یہ اطلاع دوسرے روز صبح کی نماز کے وقت پہنچی۔ لوگ ایک رکعت پڑھ چکے تھے کہ ان کے کانوں میں آواز پڑی ”خبردار رہو، قبلہ بدل کر کعبے کی طرف کردیا گیا ہے“۔ سنتے ہی پوری جماعت نے اپنا رخ بدل دیا۔ خیال رہے کہ بیت المقدس مدینے سے عین شمال میں ہے اور کعبہ بالکل جنوب میں۔ نماز باجماعت پڑھتے ہوئے قبلہ تبدیل کرنے میں لامحالہ امام کو چل کر مقتدیوں کے پیچھے آنا پڑا ہوگا اور مقتدیوں کو صرف رخ ہی نہ بدلنا پڑا ہوگا، بلکہ کچھ نہ کچھ انہیں بھی چل کر اپنی صفیں درست کرنی پڑی ہوں گی۔ چناچہ بعض روایات میں یہی تفصیل مذکور بھی ہے۔ اور یہ جو فرمایا کہ ”ہم تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں“ اور یہ کہ ”ہم اسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو“ ، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تحویل قبلہ کا حکم آنے سے پہلے نبی ﷺ اس کے منتظر تھے۔ آپ خود یہ محسوس فرما رہے تھے کہ بنی اسرائیل کی امامت کا دور ختم ہوچکا ہے اور اس کے ساتھ بیت المقدس کی مرکزیّت بھی رخصت ہوئی۔ اب اصل مرکز ابراہیمی کی طرف رخ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ مسجد حرام کے معنی ہیں حرمت اور عزّت والی مسجد۔ اس سے مراد وہ عبادت گاہ ہے، جس کے وسط میں خانہء کعبہ واقع ہے۔ کعبے کی طرف رخ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی خواہ دنیا کے کسی کونے میں ہو، اسے بالکل ناک کی سیدھ میں کعبے کی طرف رخ کرنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا ہر وقت ہر شخص کے لیے ہر جگہ مشکل ہے۔ اسی لیے کعبے کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نہ کہ کعبے کی سیدھ میں۔ قرآن کی رو سے ہم اس بات کے لیے ضرور مُکَلف ہیں کہ حتّی الامکان صحیح سَمْتِ کعبہ کی تحقیق کریں، مگر اس بات پر مُکَلف نہیں ہیں کہ ضرور بالکل ہی صحیح سَمْت معلوم کرلیں۔ جس سمت کے متعلق ہمیں امکانی تحقیق سے ظن غالب حاصل ہوجائے کہ یہ سَمْتِ کعبہ ہے، ادھر نماز پڑھنا یقیناً صحیح ہے۔ اور اگر کہیں آدمی کے لیے سَمْتِ قبلہ کی تحقیق مشکل ہو، یا وہ کسی ایسی حالت میں ہو کہ قبلے کی طرف اپنی سَمْت قائم نہ رکھ سکتا ہو (مثلاً ریل یا کشتی میں) تو جس طرف اسے قبلے کا گمان ہو، یا جس طرف رخ کرنا اس کے لیے ممکن ہو، اسی طرف وہ نماز پڑھ سکتا ہے۔ البتہ اگر دوران نماز میں صحیح سمت قبلہ معلوم ہوجائے یا صحیح سَمْت کی طرف نماز پڑھنا ممکن ہوجائے، تو نماز کی حالت ہی میں اس طرف پھرجانا چاہیے۔
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

تم ان اہلِ کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آوٴ ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں، اور نہ تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو، اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دُوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں، اور اگر تم نے اس علم کے بعد ، جو تمہارے پاس آچکا ہے ، ان کی خواہشات کی پیروی کی ، تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا۔147

سورة الْبَقَرَة 147 ”مطلب یہ ہے کہ قبلے کے متعلق جو حُجَّت و بحث یہ لوگ کرتے ہیں، اس کا فیصلہ نہ تو اس طرح ہوسکتا ہے کہ دلیل سے انہیں مطمئن کردیا جائے، کیونکہ یہ تعصّب اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں اور کسی دلیل سے بھی اس قبلے کو چھوڑ نہیں سکتے، جسے یہ اپنی گروہ بندی کے تعصّبات کی بنا پر پکڑے ہوئے ہیں۔ اور نہ اس کا فیصلہ اس طرح ہوسکتا ہے کہ تم ان کے قبلے کو اختیار کرلو، کیونکہ ان کا کوئی ایک قبلہ نہیں ہے، جس پر یہ سارے گروہ متفق ہوں اور اسے اختیار کرلینے سے قبلے کا جھگڑا چُک جائے۔ مختلف گروہوں کے مختلف قبلے ہیں۔ ایک کا قبلہ اختیار کر کے بس ایک ہی گروہ کو راضی کرسکو گے۔ دوسروں کا جھگڑا بدستور باقی رہے گا۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پیغمبر کی حیثیت سے تمہارا یہ کام ہے ہی نہیں کہ تم لوگوں کو راضی کرتے پھرو اور ان سے لین دین کے اصول پر مصالحت کیا کرو۔ تمہارا کام تو یہ ہے کہ جو علم ہم نے تمہیں دیا ہے، سب سے بےپروا ہو کر صرف اسی پر سختی کے ساتھ قائم ہوجاؤ۔ اس سے ہٹ کر کسی کو راضی کرنے کی فکر کرو گے، تو اپنے پیغمبری کے منصب پر ظلم کرو گے اور اس نعمت کی ناشکری کرو گے، جو دنیا کا امام بنا کر ہم نے تمہیں بخشی ہے۔
Ayahs 2:146–149

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جِن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ، وہ اس مقام کو(جسے قبلہ بنایا گیا ہے) ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں،148 مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

یہ قطعی ایک امر حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، لہٰذا اس کے متعلق تم ہرگز کسی شک میں نہ پڑو

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

ہر ایک کے لیے ایک رُخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو۔149 جہاں بھی تم ہو گے ، اللہ تمہیں پا لے گا۔ اُس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو، وہیں اپنا رُخ (نماز کے وقت) مسجد حرام کی طرف پھیر دو، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل حق فیصلہ ہے اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے

سورة الْبَقَرَة 148 یہ عرب کا محاورہ ہے۔ جس چیز کو آدمی یقینی طور پر جانتا ہو اور اس کے متعلق کسی قسم کا شک و اشتباہ نہ رکھتا ہو، اسے یوں کہتے ہیں کہ وہ اس چیز کو ایسا پہچانتا ہے، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ یعنی، جس طرح اسے اپنے بچّوں کو پہچاننے میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا، اسی طرح وہ بلا کسی شک کے یقینی طور پر اس چیز کو بھی جانتا ہے۔ یہُودیوں اور عیسائیوں کے علما حقیقت میں یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ کعبے کو حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا تھا اور اس کے برعکس بیت المقدس اس کے 13 سو برس بعد حضرت سلیمان ؑ کے ہاتھوں تعمیر ہوا اور انہی کے زمانے میں قبلہ قرار پایا۔ اس تاریخی واقعے میں ان کے لیے ذرہ برابر کسی اشتباہ کی گنجائش نہ تھی۔
Ayahs 2:150–152

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور جہاں بھی تم ہو، اُسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجّت نہ ملے۔150 ہاں جو ظالم ہیں ، اُن کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی۔ تو اُن سے تم نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو۔ اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں151 اور اس توقع پر 152کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم اسی طرح فلاح کا راستہ پاوٴ گے

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جس طرح (تمہیں اِس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ) میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا، جو تمہیں میری آیات سناتا ہے، تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے، جو تم نہ جانتے تھے

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

لہٰذا تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو، کفران نعمت نہ کرو

سورة الْبَقَرَة 150 یعنی ہمارے اس حکم کی پوری پابندی کرو۔ کبھی ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی شخص مقررہ سَمْت کے سوا کسی دوسری سَمْت کی طرف نماز پڑھتے دیکھا جائے۔ ورنہ تمہارے دشمنوں کو تم پر یہ اعتراض کرنے کا موقع مل جائے گا کہ کیا خوب اُمّتِ وَسَط ہے، کیسے اچھے حق پرستی کے گواہ بنے ہیں، جو یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہ حکم ہمارے رب کی طرف سے آیا ہے اور پھر اس کی خلاف ورزی بھی کیے جاتے ہیں۔ سورة الْبَقَرَة 151 نعمت سے مراد وہی امامت اور پیشوائی کی نعمت ہے، جو بنی اسرائیل سے سَلْب کر کے اس امت کو دی گئی تھی۔ دنیا میں ایک اُمّت کی راست روی کا یہ انتہائی ثمرہ ہے کہ وہ اللہ کے اَمِر تَشْرِیْعِی سے اقوام عالم کی رہنما و پیشوا بنائی جائے اور نوع انسانی کو خدا پرستی اور نیکی کے راستے پر چلانے کی خدمت اس کے سپرد کی جائے۔ یہ منصب جس امت کو دیا گیا، حقیقت میں اس پر اللہ کے فضل و انعام کی تکمیل ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرما رہا ہے کہ تحویل قبلہ کا یہ حکم دراصل اس منصب پر تمہاری سرفرازی کا نشان ہے، لہٰذا تمہیں اس لیے بھی ہمارے اس حکم کی پیروی کرنی چاہیے کہ ناشکری و نافرمانی کرنے سے کہیں یہ منصب تم سے چھین نہ لیا جائے۔ اس کی پیروی کرو گے، تو یہ نعمت تم پر مکمل کردی جائے گی۔ سورة الْبَقَرَة 152 یعنی اس حکم کی پیروی کرتے ہوئے یہ امید رکھو۔ یہ شاہانہ انداز بیان ہے۔ بادشاہ کا اپنی شان بےنیازی کے ساتھ کسی نوکر سے یہ کہہ دینا کہ ہماری طرف سے فلاں عنایت و مہربانی کے امیدوار رہو، اس بات کے لیے بالکل کافی ہوتا ہے کہ وہ ملازم اپنے گھر شادیانے بجوا دے اور اسے مبارکبادیاں دی جانے لگیں۔
Ayah 2:153

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

153اے لوگو جو ایمان لائے ہو صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔154

سورة الْبَقَرَة 153 منصب امامت پر مامور کرنے کے بعداب اس اُمّت کو ضروری ہدایات دی جارہی ہیں۔ مگر تمام دوسری باتوں سے پہلے انہیں جس پات پر متنبہ کیا جا رہا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ کوئی پھُولوں کا بستر نہیں ہے، جس پر آپ حضرات لٹائے جارہے ہوں۔ یہ تو ایک عظیم الشّان اور پُر خطر خدمت ہے، جس کا بار اٹھانے کے ساتھ ہی تم پر ہر قسم کے مصائب کی بارش ہوگی، سخت آزمائشوں میں ڈالے جاؤ گے، طرح طرح کے نقصانات اٹھانے پڑیں گے۔ اور جب صبر و ثبات اور عزم و استقلال کے ساتھ ان تمام مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے خدا کی راہ میں بڑھے چلے جاؤ گے، تب تم پر عنایات کی بارش ہوگی۔ سورة الْبَقَرَة 154 یعنی اس بھاری خدمت کا بوجھ اٹھانے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہے، وہ تمہیں دو چیزوں سے حاصل ہوگی۔ ایک یہ کہ صبر کی صفت اپنے اندر پرورش کرو۔ دوسرے یہ کہ نماز کے عمل سے اپنے آپ کو مضبوط کرو۔ آگے چل کر مختلف مقامات پر اس امر کی تشریحات ملیں گی کہ صبر بہت سے اہم ترین اخلاقی اوصاف کے لیے جامع عنوان ہے۔ اور حقیقت میں یہ وہ کلید کامیابی ہے، جس کے بغیر کوئی شخص کسی مقصد میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح آگے چل کر نماز کے متعلق بھی تفصیل سے معلوم ہوگا کہ وہ کِس کِس طرح افراد مومنین اور جماعت مومنین کو اس کار عظیم کے لیے تیار کرتی ہے۔
Ayahs 2:154–155

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ، انہیں مُردہ نہ کہو ، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں ، مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوت155ا

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے

سورة الْبَقَرَة 155 موت کا لفظ اور اس کا تصوّر انسان کے ذہن پر ایک ہمّت شکن اثر ڈالتا ہے۔ اس لیے اس بات سے منع کیا گیا کہ شہداء فی سبیل اللہ کو مردہ کہا جائے، کیونکہ اس سے جماعت کے لوگوں میں جذبہء جہاد و قتال اور روح جاں فروشی کے سرد پڑجانے کا اندیشہ ہے۔ اس کے بجائے ہدایت کی گئی کہ اہل ایمان اپنے ذہن میں یہ تصوّر جمائے رکھیں کہ جو شخص خدا کی راہ میں جان دیتا ہے، وہ حقیقت میں حیات جاوداں پاتا ہے۔ یہ تصوّر مطابق واقعہ بھی ہے اور اس سے روح شجاعت بھی تازہ ہوتی اور تازہ رہتی ہے۔
Ayahs 2:156–157

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے ، تو کہیں کہ ”ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جا نا ہے156،“

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

انہیں خوش خبری دے دو ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رَو ہیں

سورة الْبَقَرَة 156 کہنے سے مراد صرف زبان سے یہ الفاظ کہنا نہیں ہے، بلکہ دل سے اس بات کا قائل ہونا ہے کہ ”ہم اللہ ہی کے ہیں“ ، اس لیے اللہ کی راہ میں ہماری جو چیز بھی قربان ہوئی، وہ گویا ٹھیک اپنے مَصْرَف میں صرف ہوئی، جس کی چیز تھی اسی کے کام آگئی۔ اور یہ کہ ”اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹنا ہے“ ، یعنی بہرحال ہمیشہ اس دنیا میں رہنا نہیں ہے۔ آخر کار، دیر یا سویر، جانا خدا ہی کے پاس ہے۔ لہٰذا کیوں نہ اس کی راہ میں جان لڑا کر اس کے حضور حاضر ہوں۔ یہ اس سے لاکھ درجہ بہتر ہے کہ ہم اپنے نفس کی پرورش میں لگے رہیں اور اسی حالت میں، اپنی موت ہی کے وقت پر کسی بیماری یا حادثے کے شکار ہوجائیں۔
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

یقیناً صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے157، اس کے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کر لے158اور جو برضا و رغبت کوئی بھلائی کا کام کرے گا اللہ کو اس کا علم ہے اوروہ اس کی قدر کرنے والا ہے۔159

سورة الْبَقَرَة 157 ذُوالحجّہ کی مقرر تاریخوں میں کعبے کی جو زیارت کی جاتی ہے، اس کا نام حج ہے اور ان تاریخوں کے ماسوا دوسرے کسی زمانے میں جو زیارت کی جائے، وہ عُمْرَہ ہے۔ سورة الْبَقَرَة 158 “ صَفَا اور مَرْوَہ مسجد حرام کے قریب دو پہاڑیاں ہیں، جن کے درمیان دوڑنا منجملہ ان مناسک کے تھا، جو اللہ تعالیٰ نے حج کے لیے حضرت ابراہیم ؑ کو سکھائے تھے۔ بعد میں جب مکّے اور آس پاس کے تمام علاقوں میں مشرکانہ جاہلیّت پھیل گئے، تو صَفَا پر ”اِساف“ اور مَرْوَہ پر ”نائلہ“ کے استھان بنا لیے گئے اور ان کے گرد طواف ہونے لگا۔ پھر جب نبی ﷺ کے ذریعے سے اسلام کی روشنی اہل عرب تک پہنچی، تو مسلمانوں کے دلوں میں یہ سوال کھٹکنے لگا کہ آیا صَفَا اور مَرْوَہ کی سَعْی حج کے اصلی مناسک میں سے ہے یا محض زمانہء شرک کی ایجاد ہے، اور یہ کہ سَعْی سے کہیں ہم ایک مشرکانہ فعل کے مرتکب تو نہیں ہوجائیں گے۔ نیز حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل مدینہ کے دلوں میں پہلے ہی سے سعی بین الصّفا و المَرْوَہ کے بارے میں کراہت موجود تھی، کیونکہ وہ مناۃ کے معتقد تھے اور اساف و نائلہ کو نہیں مانتے تھے۔ انہی وجوہ سے ضروری ہوا کہ مسجدِحرام کو قبلہ مقرر کرنے کے موقع پر ان غلط فہمیوں کو دور کردیا جائے جو صَفَا اور مَرْوَہ کے بارے میں پائی جاتی تھیں، اور لوگوں کو بتادیا جائے کہ ان دونوں مقامات کے درمیان سعی کرنا حج کے اصلی مَنَاسِک میں سے ہے اور یہ کہ ان مقامات کا تقدس خدا کی جانب سے ہے، نہ کہ اہل جاہلیّت کی من گھڑت۔ سورة الْبَقَرَة 159 یعنی بہتر تو یہ ہے کہ یہ کام دلی رغبت کے ساتھ کرو، ورنہ حکم بجا لانے کے لیے تو کرنا ہی ہوگا۔