Ayah 17:61سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 74
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو البقرہ آیات 30 تا 39، النساء آیات 117۔ 121، الاعراف آیات 11۔ 25، الحجر آیات 26۔ 42، اور ابراہیم آیت 22۔
اس سلسلہ کلام میں یہ قصہ دراصل یہ بات ذہن نشین کرنے کے لیے بیان کیا جا رہا ہے کہ اللہ کے مقابلے میں ان کافروں کا یہ تمرد، اور تنبیہات سے ان کی یہ بےاعتنائی، اور کجروی پر ان کا یہ اصرار ٹھیک ٹھیک اس شیطان کی پیروی ہے جو ازل سے انسان کا دشمن ہے، اور اس روش کو اختیار کر کے درحقیقت یہ لوگ اس جال میں پھنس رہے ہیں جس میں اولاد آدم کو پھانس کر تباہ کردینے کے لیے شیطان نے آغاز تاریخ انسانی میں چلینج کیا تھا۔
Ayahs 17:62–63سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 75
”بیخ کنی کر ڈالوں“ ، یعنی ان کے قدم سلامتی کی راہ سے اکھاڑ پھینکوں۔”احتناک“ کے اصل معنی کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے ہیں۔ چونکہ انسان کا اصل مقام خلافت الہی ہے جس کا تقاضا اطاعت میں ثابت قدم رہنا ہے، اس لیے اس مقام سے اس کا ہٹ جانا بالکل ایسا ہے جیسے کسی درخت کا بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا جانا۔
Ayah 17:64سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 76
اصل میں لفظ ”استفزاز“ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی استحفاف کے ہیں۔ یعنی کسی کو ہلکا اور کمزور پا کر اسے بہا لے جانا، یا اس کے قدم پھسلا دینا۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 77
اس فقرے میں شیطان کو اس ڈاکو سے تشبیہ دی گئی ہے جو کسی بستی پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لائے اور ان کو اشارہ کرتا جائے کہ ادھر لوٹو، ادھر چھاپہ مارو، اور وہاں غارتگری کرو۔ شیطان کے سواروں اور پیادوں سے مراد وہ سب جن اور انسان ہیں جو بیشمار مختلف شکلوں اور حیثیتوں میں ابلیس کے مشن کی خدمت کر رہے ہیں۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 78
یہ ایک بڑا ہی معنی خیز فقرہ ہے جس میں شیطان اور اس کے پیروؤں کے باہمی تعلق کی پوری تصویر کھینچ دی گئی ہے۔ جو شخص مال کمانے اور اس کو خرچ کرنے میں شیطان کے اشاروں پر چلتا ہے، اس کے ساتھ گویا شیطان مفت کا شریک بنا ہوا ہے۔ محنت میں اس کا کوئی حصہ نہیں، جرم اور گناہ اور غلط کاری کے برے نتائج میں وہ حصہ دار نہیں، مگر اس کے اشاروں پر یہ بیوقوف اس طرح چل رہا ہے جیسے اس کے کاروبار میں وہ برابر کا شریک، بلکہ شریک غالب ہے۔ اسی طرح اولاد تو آدمی کی اپنی ہوتی ہے، اور اسے پالنے پوسنے میں سارے پاپڑ آدمی خود بیلتا ہے، مگر شیطان کے اشاروں پر وہ اس اولاد کو گمراہی اور بداخلاقی کی تربیت اس طرح دیتا ہے، گویا اس اولاد کا تنہا وہی باپ نہیں ہے بلکہ شیطان بھی باپ ہونے میں اس کا شریک ہے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 79
یعنی ان کو غلط امیدیں دلا۔ ان کو جھوٹی توقعات کے چکر میں ڈال۔ ان کو سبز باغ دکھا۔
Ayah 17:65سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 80
اس کے دو مطلب ہیں، اور دونوں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ میرے بندوں، یعنی انسانوں پر تجھے یہ اقتدار حاصل نہ ہوگا کہ تو انہیں زبردستی اپنی راہ پر کھینچ لے جائے۔ تو فقط بہکانے اور پھسلانے اور غلط مشورے دینے اور جھوٹے وعدے کرنے کا مجاز کیا جاتا ہے۔ مگر تیری بات کو قبول کرنا یا نہ کرنا ان بندوں کا اپنا کام ہوگا۔ تیرا ایسا تسلط ان پر نہ ہوگا کہ وہ تیری راہ پر جانا چاہیں یا نہ چاہیں، بہرحال تو ہاتھ پکڑ کر ان کو گھسیٹ لے جائے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ میرے خاص بندوں، یعنی صالحین پر تیرا بس نہ چلے گا۔ کمزور اور ضعیف الارادہ لوگ تو ضرور تیرے وعدوں سے دھوکا کھائیں گے، مگر جو لوگ میری بندگی پر ثابت قدم ہوں، وہ تیرے قابو میں نہ آسکیں گے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 81
یعنی جو لوگ اللہ پر اعتماد کریں، اور جن کا بھروسہ اسی کی رہنمائی اور توفیق اور مدد پر ہو، ان کا بھروسہ ہرگز غلط ثابت نہ ہوگا۔ انہیں کسی اور سہارے کی ضرورت نہ ہوگی۔ اللہ ان کی ہدایت کے لیے بھی کافی ہوگا اور ان کی دست گیری و اعانت کے لیے بھی۔ البتہ جن کا بھروسہ اپنی طاقت پر ہو، یا اللہ کے سوا کسی اور پر ہو، وہ اس آزمائش سے بخیریت نہ گزر سکیں گے۔
Ayah 17:66سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 82
اوپر کے سلسلہ بیان سے اس کا تعلق سمجھنے کے لیے اس رکوع کے ابتدائی مضمون پر پھر ایک نگاہ ڈال لی جائے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ابلیس اول روز آفرنیش سے اولاد آدم کے پیچھے پڑا ہوا ہے تاکہ اس کو آرزؤوں اور تمناؤں اور جھوٹے وعدوں کے دام میں پھانس کر راہ راست سے ہٹا لے جائے اور یہ ثابت کر دے کہ وہ اس بزرگی کا مستحق نہی ہے جو اسے خدا نے عطا کی ہے۔ اس خطرے سے اگر کوئی چیز انسان کو بچا سکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی بندگی پر ثابت قدم رہے اور ہدایت و اعانت کے لیے اسی کی طرف رجوع کرے اور اسی کو اپنا وکیل (مدار توکل) بنائے۔ اس کے سوا دوسری جو راہ بھی انسان اختیار کرے گا، شیطان کے پھندوں سے نہ بچ سکے گا۔۔ اس تقریر سے یہ بات خود بخود نکل آئی کہ جو لوگ توحید کی دعوت کو رد کر رہے ہیں اور شرک پر اصرار کیے جاتے ہیں وہ دراصل آپ ہی اپنی تباہی کے درپے ہیں۔ اسی مناسبت سے یہاں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال کیا جا رہا ہے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 83
یعنی ان معاشی اور تمدنی اور علمی و ذہنی فوائد سے متمتع ہونے کی کوشش کرو جو بحری سفروں سے حاصل ہوتے ہیں۔
Ayahs 17:67–69سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 84
یعنی اس بات کی دلیل ہے کہ تمہاری اصلی فطرت ایک خدا کے سوا کسی رب کو نہیں جانتی، اور تمہارے اپنے دل کی گہرائیوں میں یہ شعور موجود ہے کہ نفع و نقصان کے حقیقی اختیارات کا مالک بس وہی ایک ہے۔ ورنہ آخر اس کی وجہ کیا ہے کہ جو اصل وقت دستگیری کا ہے اس وقت تم کو ایک خدا کے سوا کوئی دوسرا دستگیر نہیں سوجھتا ؟
Ayah 17:70سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 85
یعنی یہ ایک بالکل کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ نوع انسانی کو زمین اور اس کی اشیاء پر یہ اقتدار کسی جن یا فرشتے یا سیارے نے نہیں عطا کیا ہے، نہ کسی ولی یا نبی نے اپنی نوع کو یہ اقتدار دلوایا ہے۔ یقینا یہ اللہ ہی کی بخشش اور اس کا کرم ہے۔ پھر اس سے بڑھ کر حماقت اور جہالت کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اس مرتبے پر فائز ہو کر اللہ کے بجائے اس کی مخلوق کے آگے جھکے۔
Ayahs 17:71–72سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 86
یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے کہ قیامت کے روز نیک لوگوں کو ان کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ خوشی خوشی اسے دیکھیں گے، بلکہ دوسروں کو بھی دکھائیں گے۔ رہے بداعمال لوگ، تو ان کا نامہ سیاہ ان کو بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ اسے لیتے ہی پیٹھ پیچھے چھپانے کی کوشش کریں گے۔ ملاحظہ ہو سورة الحاقہ آیت 19۔ 28۔ اور سورة انشقاق آیت 7۔ 13
Ayahs 17:73–74سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 87
یہ ان حالات کی طرف اشارہ ہے جو پچھلے دس بارہ سال سے نبی ﷺ کو مکہ میں پیش آرہے تھے۔ کفار مکہ اس بات کے درپے تھے کہ جس طرح بھی ہو آپ کو توحید کی اس دعوت سے ہٹا دیں جسے آپ پیش کر رہے تھے اور کسی نہ کسی طرح آپ کو مجبور کردیں کہ آپ ان کے شرک اور رسوم جاہلیت سے کچھ نہ کچھ مصالحت کرلیں۔ اس غرض کے لیے انہوں نے آپ کو فتنے میں ڈالنے کی ہر کوشش کی۔ فریب بھی دیے، لالچ بھی دلائے، دھمکیاں بھی دیں، جھوٹے پروپگنڈے کا طوفان بھی اٹھایا، ظلم و ستم بھی کیا، معاشی دباؤ بھی ڈالا، معاشرتی مقاطعہ بھی کیا، اور وہ سب کچھ کر ڈالا جو کسی انسان کے عزم کو شکست دینے کے لیے کیا جاسکتا تھا۔
Ayah 17:75سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 88
اللہ تعالیٰ اس ساری روداد پر تبصرہ کرتے ہوئے دو باتیں ارشاد فرماتا ہے۔ ایک یہ کہ اگر تم حق کو حق جان لینے کے بعد باطل سے کوئی سمجھوتہ کرلیتے تو یہ بگڑی ہوئی قوم تو ضرور تم سے خوش ہوجاتی، مگر خدا کا غضب تم پر بھڑک اٹھتا اور تمہیں دنیا و آخرت، دونوں میں دہری سزا دی جاتی۔ دوسرے یہ کہ انسان خواہ وہ پیغمبر ہی کیوں نہ ہو، خود اپنے بل بوتے پر باطل کے ان طوفانوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا جب تک کہ اللہ کی مدد اور اس کی توفیق شامل حال نہ ہو۔ یہ سراسر اللہ کا بخشا ہوا صبر ثبات تھا جس کی بدولت نبی ﷺ حق و صداقت کے مؤقف پر پہاڑ کی طرح جمے رہے اور کوئی سیلاب بلا آپ کو بال برابر بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹا سکا۔
Ayah 17:76سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 89
یہ صریح پیشین گوئی ہے جو اس وقت تو صرف ایک دھمکی نظر آتی تھی، مگر دس گیارہ سال کے اندر ہی حرف بحرف سچی ثابت ہوگئی۔ اس سورة کے نزول پر ایک ہی سال گزرا تھا کہ کفار مکہ نے نبی ﷺ کو وطن سے نکل جانے پر مجبور کردیا اور اس پر 8 سال سے زیادہ نہ گزرے تھے کہ آپ فاتح کی حیثیت سے مکہ معظمہ میں داخل ہوئے۔ اور پھر دو سال کے اندر اندر سر زمین عرب مشرکین کے وجود سے پاک کردی گئی۔ پھر جو بھی اس ملک میں رہا مسلمان بن کر رہا، مشرک بن کر وہاں نہ ٹھیر سکا۔
Ayah 17:77سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 90
یعنی سارے انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ اللہ کا یہ معاملہ رہا ہے کہ جس قوم نے ان کو قتل یا جلا وطن کیا، پھر وہ زیادہ دیر تک اپنی جگہ نہ ٹھیر سکی۔ پھر یا تو خدا کے عذاب نے اسے ہلاک کیا، یا کسی دشمن قوم کو اس پر مسلط کیا گیا، یا خود اسی نبی کے پیروؤں سے اس کو مغلوب کرا دیا گیا۔
Ayah 17:78سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 91
مشکلات و مصائب کے اس طوفان کا ذکر کرنے کے بعد فورا ہی نماز قائم کرنے کا حکم دے کر اللہ تعالیٰ نے یہ لطیف اشارہ فرمایا ہے کہ وہ ثابت قدمی جو ان حالات میں ایک مومن کو درکار ہے اقامت صلوۃ سے حاصل ہوتی ہے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 92
”زوال آفتاب“ ہم نے دلوک الشمس کا ترجمہ کیا ہے۔ اگرچہ بعض صحابہ وتابعین نے دلوک سے مراد غروب بھی لیا ہے، لیکن اکثریت کی رائے یہی ہے کہ اس سے مراد آفتاب کا نصف النہار سے ڈھل جاتا ہے۔ حضرت عمر، ابن عمر، انس بن مالک، ابو برزة الاسلمی ؓ حسن بصری۔ شعبی، عطاء۔ مجاہد رحمہم اللہ اور ایک روایت کی رو سے ابن عباس ؓ بھی اسی کے قائل ہیں۔ امام محمد باقر اور امام جعفر صادق رحمہما اللہ سے بھی یہی قول مروی ہے۔ بلکہ بعض احادیث میں خود نبی ﷺ سے بھی دلوک شمس کی یہی تشریح منقول ہے، اگرچہ ان کی سند کچھ زیادہ قوی نہیں ہے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 93
غسق اللیل بعض کے نزدیک ”رات کا پوری طرح تاریک ہوجانا“ ہے، اور بعض اس سے نصف شب مراد لیتے ہیں۔ اگر پہلا قول تسلیم کیا جائے تو اس سے عشاء کا اول وقت مراد ہوگا، اور اگر دوسرا قول صحیح مانا جائے تو پھر یہ اشارہ عشاء کے آخر وقت کی طرف ہے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 94
فجر کے لغوی معنی ہیں ”پو پھٹنا“۔ یعنی وہ وقت جب اول اول سپیدئہ صبح رات کی تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوتا ہے۔
فجر کے قرآن سے مراد فجر کی نماز ہے۔ قرآن مجید میں نماز کے لیے کہیں تو صلوة کا لفظ استعمال ہوا ہے اور کہیں اس کے مختلف اجزاء میں سے کسی جز کا نام لے کر پوری نماز مراد لی گئی ہے، مثلا تسبیح، حمد، ذکر، قیام، رکوع، سجود وغیرہ۔ اسی طرح یہاں فجر کے وقت قرآن پڑھنے کا مطلب محض قرآن پڑھنا نہیں، بلکہ نماز میں قرآن پڑھنا ہے۔ اس طریقہ سے قرآن مجید نے ضمنا یہ اشارہ کردیا ہے کہ نماز کن اجزاء سے مرکب ہونی چاہیے۔ اور انہی اشارات کی رہنمائی میں نبی ﷺ نے نماز کی وہ ہئیت مقرر فرمائی جو مسلمانوں میں رائج ہے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 95
قرآن فجر کے مشہود ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے فرشتے اس کے گواہ بنتے ہیں، جیسا کہ احادیث میں بتصریح بیان ہوا ہے۔ اگرچہ فرشتے ہر نماز اور ہر نیکی کے گواہ ہیں، لیکن جب خاص طور پر نماز فجر کی قرأت پر ان کی گواہی کا ذکر کیا گیا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسے ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے فجر کی نماز میں طویل قرأت کرنے کا طریقہ اختیار فرمایا اور اسی کی پیروی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے کی اور بعد کے ائمہ نے اسے مستحب قرار دیا۔
اس آیت میں مجملا یہ بتایا گیا ہے کہ پنج وقتہ نماز، جو معراج کے موقع پر فرض کی گئی تھی، اس کے اوقات کی تنظیم کس طرح کی جائے۔ حکم ہوا کہ ایک نماز تو طلوع آفتاب سے پہلے پڑھ لی جائے، اور باقی چار نمازیں زوال آفتاب کے بعد سے ظلمت شب تک پڑھی جائیں۔ پھر اس حکم کی تشریح کے لیے جبریل ؑ بھیجے گئے جنہوں نے نماز کے ٹھیک ٹھیک اوقات کی تعلیم نبی ﷺ کو دی۔ چناچہ ابو داؤد ؑ اور ترمذی میں ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا
”جبریل ؑ نے دو مرتبہ مجھ کو بیت اللہ کے قریب نماز پڑھائی۔ پہلے دن ظہر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جبکہ سورج ابھی ڈھلا ہی تھا اور سایہ ایک جوتی کے تسمے سے زیادہ دراز نہ تھا، پھر عصر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے اپنے قد کے برابر تھا، پھر مغرب کی نماز ٹھیک اس وقت پڑھائی جبکہ روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے، پھر عشاء کی نماز شفق غائب ہوتے ہی پڑھا دی، اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جبکہ روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔ دوسرے دن انہوں نے ظہر کی نماز مجھے اس وقت پڑھائی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر تھا، اور عصر کی نماز اس وقت جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد سے دوگنا ہوگیا، اور مغرب کی نماز اس وقت جبکہ روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے، اور عشاء کی نماز ایک تہائی گزر جانے پر، اور فجر کی نماز اچھی طرح روشنی پھیل جانے پر۔ پھر جبریل ؑ نے پلٹ کر مجھ سے کہا کہ اے محمد ﷺ ، یہی اوقات انبیاء (علیہم السلام) کے نماز پڑھنے کے ہیں، اور نمازوں کے صحیح اوقات ان دونوں وقتوں کے درمیان ہیں“۔ (یعنی پہلے دن ہر وقت کی ابتداء اور دوسرے دن ہر وقت کی انتہا بتائی گئی ہے۔ ہر وقت کی نماز ان دونوں کے درمیان ادا ہونی چاہیے)۔
قرآن مجید میں خود بھی نماز کے ان پانچوں اوقات کی طرف مختلف مواقع پر اشارے کیے گئے ہیں۔ چناچہ سورة ہود میں فرمایا
اَقِمِ الصَّلوٰةَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ۔ ط (آیت 114)
”نماز قائم کر دن کے دونوں کناروں پر (یعنی فجر اور مغرب) اور کچھ رات گزرنے پر (یعنی عشاء)“
وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوع الشَّمسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَا وَمِنْ اٰنآئیَ الّیْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَاف النَّھَارِ (آیت 130)
" اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر طلوع آفتاب سے پہلے (فجر) اور غروب آفتاب سے پہلے (عصر) اور رات کے اوقات میں پھر تبیح کر (عشاء) اور دن کے سروں پر (یعنی صبح، ظہر اور مغرب)
پھر سورة روم میں ارشاد ہوا
فَسُبْحٰنَ اللہ حین تُمسُونَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْ نَہ وَلَہُ الْحَمدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْا رْضِ وَعَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْھِرُوْنَ (آیات 17۔ 18)
" پس اللہ کی تسبیح کرو جبکہ تم شام کرتے ہو (مغرب) اور صبح کرتے ہو (فجر)۔ اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔ اور اس کی تسبیح کرو دن کے آخری حصے میں (عصر) اور جبکہ تم دوپہر کرتے ہو (ظہر)
نماز کے اوقات کا یہ نظام مقرر کرنے میں جو مصلحتیں ملحوظ رکھی گئی ہیں ان میں سے ایک اہم مصلحت یہ بھی ہے کہ آفتاب پرستوں کے اوقات عبادت سے اجتناب کیا جائے۔ آفتاب ہر زمانے میں مشرکین کا سب سے بڑا، یا بہت بڑا معبود رہا ہے، اور اس کے طلوع و غروب کے اوقات خاص طور پر ان کے اوقات عبادت رہے ہیں، اس لیے ان اوقات میں تو نماز پڑھنا حرام کردیا گیا۔ اس کے علاوہ آفتاب کی پرستش زیادہ تر اس کے عروج کے اوقات میں کی جاتی رہی ہے، لہٰذا اسلام میں حکم دیا گیا کہ تم دن کی نمازیں زوال آفتاب کے بعد پڑھنی شروع کرو اور صبح کی نماز طلوع آفتاب سے پہلے پڑھ لیا کرو۔ اس مصلحت کو نبی ﷺ نے خود متعدد احادیث میں بیان فرمایا ہے۔ چناچہ ایک حدیث میں حضرت عمرو بن عَبَسہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ نے نماز کے اوقات دریافت کیے تو آپ ﷺ نے فرمایا
صل صلوة الصبح ثم اقصر عن الصلوة حین تطلع الشمس حتٰی ترتفع فانھا تطلع حین تطلع بین قرنی الشیطن وحینئِذ یسجد لہ الکفار۔
" صبح کی نماز پڑھو اور جب سورج نکلنے لگے تو نماز سے رک جاؤ، یہاں تک کہ سورج بلند ہوجائے۔ کیونکہ سورج جب نکلتا ہے تو شیطان کے سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں "۔
پھر آپ نے عصر کی نماز کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا
ثم اقصر عن الصلوة حتی تغرب الشمس فانھا تغرب بین قرنی الشیطن وحینئذ یسجد لھا الکفار (رواہ مسلم)
”غروب ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔“
اس حدیث میں سورج کا شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع اور غروب ہونا ایک استعارہ ہے یہ تصور دلانے کے لیے کہ شیطان اس کے نکلنے اور ڈوبنے کے اوقات کو لوگوں کے لیے ایک فتنہ عظیم بنا دیتا ہے۔ گویا جب لوگ اس کو نکلتے اور ڈوبتے دیکھ کر سجدہ ریز ہوتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شیطان اسے اپنے لیے سر پر لیے ہوئے آیا ہے اور سر ہی پر لیے جا رہا ہے۔ اس استعارے کی گرہ حضور ﷺ نے خود اپنے اس فقرے میں کھول دی ہے کہ ”اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں“۔
Ayah 17:79سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 96
تہجد کے معنی ہیں نیند توڑ کر اٹھنے کے۔ پس رات کے وقت تہجد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ رات کا ایک حصہ سونے کے بعد پھر اٹھ کر نماز پڑھی جائے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 97
نفل کے معنی ہیں " فرض سے زائد "۔ اس سے خود بخود یہ اشارہ نکل آیا کہ وہ پانچ نمازیں جن کے اوقات کا نظام پہلی آیت میں بیان کیا گیا تھا، فرض ہیں، اور یہ چھٹی نماز فرض سے زائد ہے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 98
یعنی دنیا اور آخرت میں تم کو ایسے مرتبے پر پہنچا دے جہاں تم محمود خلائق ہو کر رہو، ہر طرف سے تم پر مدح و ستائش کی بارش ہو، اور تمہاری ہستی ایک قابل تعریف ہستی بن کر رہے۔ آج تمہارے مخالفین تمہاری تواضع گالیوں اور علامتوں سے کر رہے ہیں اور ملک بھر میں تم کو بدنام کرنے کے لیے انہوں نے جھوٹے الزامات کا ایک طوفان برپا کر رکھا ہے، مگر وہ وقت دور نہیں ہے جبکہ دنیا تمہاری تعریفوں سے گونج اٹھے گی اور آخرت میں بھی تم ساری خلق کے ممدوح ہو کر رہو گے۔ قیامت کے روز نبی ﷺ کا مقام شفاعت پر کھڑا ہونا بھی اسی مرتبہ محمودیت کا ایک حصہ ہے۔
Ayah 17:80سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 99
اس دعا کی تلقین سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت کا وقت اب بالکل قریب آ لگا تھا۔ اس لیے فرمایا کہ تمہاری دعا یہ ہونی چاہیے کہ صداقت کا دامن کسی حال میں تم سے نہ چھوٹے، جہاں سے بھی نکلو صداقت کی خاطر نکلو اور جہاں بھی جاؤ صداقت کے ساتھ جاؤ۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 100
یعنی یا تو مجھے خود اقتدار عطا کر، یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنا دے تاکہ اس کی حمایت سے میں دنیا کے اس بگاڑ کو درست کرسکوں، فواحش اور معاصی کے اس سیلاب کو روک سکوں، اور تیرے قانون عدل کو جاری کرسکوں۔ یہی تفسیر ہے اس آیت کی جو حسن بصری اور قتادہ رحمہما اللہ نے کی ہے، اور اسی کو ابن جریر اور ابن کثیر رحمہما اللہ جیسے جلیل القدر مفسرین نے اختیار کیا ہے، اور اسی کی تائید نبی ﷺ کی یہ حدیث کرتی ہے کہ اِنَّ اللہَ لَیَزَعُ بالسُّلطَانِ مَا لَا یَزَعُ بالقُرْاٰنِ ، یعنی " اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سدباب کردیتا ہے جن کا سد باب قرآن سے نہیں کرتا "۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے وہ صرف وعظ و تذکیر سے نہیں ہو سکتی بلکہ اس کو عمل میں لانے کے لیے سیاسی طاقت بھی درکار ہے۔ پھر جبکہ یہ دعا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو خود سکھائی ہے تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اقامت دین اور نفاذ شریعت اور اجرائے حدود اللہ کے لیے حکومت چاہنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنا نہ صرف جائز بلکہ مطلوب و مندوب ہے اور وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اسے دنیا پرستی یا دنیا طلبی سے تعبیر کرتے ہیں۔ دنیا پرستی اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص اپنے لیے حکومت کا طالب ہو۔ رہا خدا کے دین کے لیے حکومت کا طالب ہونا تو یہ دنیا پرستی نہیں بلکہ خدا پرستی ہی کا عین تقاضا ہے۔ اگر جہاد کے لے تلوار کا طالب ہونا گناہ نہیں ہے تو اجرائے احکام شریعت کے لیے سیاسی اقتدار کا طالب ہونا آخر کیسے گناہ ہوجائے گا ؟
Ayah 17:81سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 101
یہ اعلان اس وقت کیا گیا تھا جبکہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مکہ چھوڑ کر حبشہ میں پناہ گزین تھی، اور باقی مسلمان سخت بیکسی و مظلومی کی حالت میں مکہ اور اطراف مکہ میں زندگی بسر کر رہے تھے اور خود نبی ﷺ کی جان ہر وقت خطرے میں تھی۔ اس وقت بظاہر باطل ہی کا غلبہ تھا اور غلبہ حق کے آثار کہیں دور دور نظر نہ آتے تھے۔ مگر اسی حالت میں نبی ﷺ کو حکم دے دیا گیا کہ تم صاف صاف ان باطل پرستوں کو سنا دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔ ایسے وقت میں یہ عجیب اعلان لوگوں کو محض زبان کا پھاگ محسوس ہوا اور انہوں نے اسے ٹھٹھوں میں اڑا دیا۔ مگر اس پر نو برس ہی گزرے تھے کہ نبی ﷺ اسی شہر مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے اور آپ ﷺ نے کعبے میں جا کر اس باطل کو مٹا دیا جو تین سو ساٹھ بتوں کی صورت میں وہاں سجا رکھا تھا۔ بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے دن حضور ﷺ کعبے کے بتوں پر ضرب لگا رہے تھے اور آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے کہ " جآء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا۔ جآء الحق ومایبدء الباطل ومایعید "۔
Ayahs 17:82–84سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 102
یعنی جو لوگ اس قرآن کو اپنا راہنما اور اپنے لیے کتاب آئین مان لیں ان کے لیے تو یہ خدا کی رحمت اور ان کے تمام مذہبی، نفسانی، اخلاقی اور تمدنی امراض کا علاج ہے۔ مگر جو ظالم اسے رد کر کے اور اس کی راہنمائی سے منہ موڑ کر اپنے اوپر آپ ظلم کریں ان کو یہ قرآن اس حالت پر بھی نہیں رہنے دیتا جس پر وہ اس کے نزول سے، یا اس کے جاننے سے پہلے تھے، بلکہ یہ انہیں الٹا اس سے زیادہ خسارے میں ڈال دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک قرآن آیا نہ تھا، یا جب تک وہ اس سے واقف نہ ہوئے تھے، ان کا خسارہ محض جہالت کا خسارہ تھا۔ مگر جب قرآن ان کے سامنے آگیا اور اس نے حق اور باطل کا فرق کھول کر رکھ دیا تو ان پر خدا کی حجت تمام ہوگئی۔ اب اگر وہ اسے رد کر کے گمراہی پر اصرار کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ جاہل نہیں بلکہ ظالم اور باطل پرست اور حق سے نفور ہیں۔ اب ان کی حیثیت وہ ہے جو زہر اور تریاق، دونوں کو دیکھ کر زہر انتخاب کرنے والے کی ہوتی ہے۔ اب اپنی گمراہی کے وہ پورے ذمہ دار، اور ہر گناہ جو اس کے بعد وہ کریں اس کی پوری سزا کے مستحق ہیں۔ یہ خسارہ جہالت کا نہیں بلکہ شرارت کا خسارہ ہے جسے جہالت کے خسارے سے بڑھ کر ہی ہونا چاہیے۔ یہ بات ہے جو نبی ﷺ نے ایک نہایت مختصر سے بلیغ جملے میں بیان فرمائی ہے کہ " القراٰن حجة لک او علیک " یعنی قرآن یا تو تیرے حق میں حجت ہے یا پھر تیرے خلاف حجت۔
Ayahs 17:85–86سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 103
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہاں روح سے مراد جان ہے، یعنی لوگوں نے نبی ﷺ سے روح حیات کے متعلق پوچھا تھا کہ اس کی حقیقت کیا ہے، اور اس کا جواب یہ دیا گیا کہ وہ اللہ کے حکم سے آتی ہے۔ لیکن ہمیں یہ معنی تسلیم کرنے میں سخت تامل ہے، اس لیے کہ یہ معنی صرف اس صورت میں لیے جاسکتے ہیں جبکہ سیاق وسباق کو نظر انداز کردیا جائے اور سلسلہ کلام سے بالکل الگ کر کے اس آیت کو ایک منفرد جملے کی حیثیت سے لے لیا جائے۔ ورنہ اگر سلسلہ کلام میں رکھ کر دیکھا جائے تو روح کو جان کے معنی میں لینے سے عبارت میں سخت بےربطی محسوس ہوتی ہے اور اس امر کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ جہاں پہلے تین آیتوں میں قرآن کے نسخہ شفا ہونے اور منکرین قرآن کے ظالم اور کافر نعمت ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، اور جہاں بعد کی آیتوں میں پھر قرآن کے کلام الہی ہونے پر استدلال کیا گیا ہے، وہاں آخر کس مناسبت سے یہ مضمون آگیا کہ جانداروں میں جان خدا کے حکم سے آتی ہے ؟
ربط عبارت کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں روح سے مراد " وحی " یا وحی لانے والا فرشتہ ہی ہوسکتا ہے۔ مشرکین کا سوال دراصل یہ تھا کہ قرآن تم کہاں سے لاتے ہو ؟ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ ، تم سے یہ لوگ روح، یعنی ماخذ قرآن، یا ذریعہ حصول قرآن کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ انہیں بتادو کہ یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے، مگر تم لوگوں نے علم سے اتنا کمزور بہرہ پایا ہے کہ تم انسانی ساخت کے کلام اور وحی ربانی کے ذریعہ سے نازل ہونے والے کلام کا فرق نہیں سمجھتے اور اس کلام پر یہ شہبہ کرتے ہو کہ اسے کوئی انسان گھڑ رہا ہے۔
یہ تفسیر صرف اس لحاظ سے قابل ترجیح ہے کہ تقریر ماسبق اور تقریر مابعد کے ساتھ آیت کا ربط اسی تفسیر کا متقاضی ہے، بلکہ خود قرآن مجید میں بھی دوسرے مقامات پر یہ مضمون قریب قریب انہی الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ سورة مومن میں ارشاد ہوا ہے " یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہ عَلیٰ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِ (آیت 15)۔ " وہ اپنے حکم سے اپنے جس بندے کو چاہتا ہے روح نازل کرتا ہے تاکہ وہ لوگوں کے اکٹھے ہونے کے دن سے آگاہ کرے“۔ اور سورة شوریٰ میں فرمایا " وَکَذٰلِکَ اَوْ حَینَآ اِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَلَا الاْیْمَانُ (آیت 52)۔ " اور اسی طرح ہم نے تیری طرف ایک روح اپنے حکم سے بھیجی۔ تو نہ جانتا تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہے "۔
سلف میں سے ابن عباس ؓ ، قتادہ اور حسن بصری رحمہما اللہ نے بھی یہی تفسیر اختیار کی ہے۔ ابن جریر ؒ نے اس قول کو قتادہ کے حوالہ سے ابن عباس ؓ کی طرف منسوب کیا ہے، مگر یہ عجیب بات لکھی ہے کہ ابن عباس ؓ اس خیال کو چھپا کر بیان کرتے تھے۔ اور صاحب روح المعانی حسن اور قتادہ رحمہما اللہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ " روح سے مراد جبرائیل ؑ ہیں اور سوال دراصل یہ تھا کہ وہ کیسے نازل ہوتے ہیں اور کس طرح نبی ﷺ کے قلب پر وحی کا القاء ہوتا ہے "۔
Ayah 17:87سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 104
خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے، مگر مقصود دراصل کفار کو سنانا ہے جو قرآن کو نبی ﷺ کو اپنا گھڑا ہوا یا کسی انسان کا درپردہ سکھایا ہوا کلام کہتے تھے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ یہ کلام پیغمبر نے نہیں گھڑا بلکہ ہم نے عطا کیا ہے اور اگر ہم اسے چھین لیں تو نہ پیغمبر کی یہ طاقت ہے کہ وہ ایسا کلام تصنیف کر کے لا سکے اور نہ کوئی دوسری طاقت ایسی ہے جو اس کو ایسی معجزانہ کتاب پیش کرنے کے قابل بنا سکے۔
Ayahs 17:88–92سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 105
یہ چیلنج اس سے پہلے قرآن مجید میں تین مقامات پر گزر چکا ہے۔ سوررہ بقرہ، آیات 23، 24۔ سورة یونس، آیت 38 اور سورة ہود، آیت 13۔ آگے سورة طور، آیات 33۔ 34 میں بھی یہی مضمون آرہا ہے۔ ان سب مقامات پر یہ بات کفار کے اس الزام کے جواب میں ارشاد ہوئی ہے کہ محمد ﷺ نے خود یہ قرآن تصنیف کرلیا ہے اور خواہ مخواہ وہ اسے خدا کا کلام بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ مزید برآں سورة یونس، آیت 16 میں اسی الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا گیا کہ " قُلْ لَّوْ شَآء اللہُ مَا تَلَوْ تُہُ عَلَیْکُمْ وَلَآ اَدْرٰکُمْ بِہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہ اَفَلَا تَعْقِلُونَ۔ یعنی ”اے محمد ﷺ ان سے کہو کہ اگر اللہ نے یہ نہ چاہا ہوتا کہ میں قرآن تمہیں سناؤں تو میں ہرگز نہ سنا سکتا تھا بلکہ اللہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا۔ آخر میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں، کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے“ ؟
ان آیات میں قرآن کے کلام الہی ہونے پر جو استدلال کیا گیا ہے وہ دراصل تین دلیلوں سے مرکب ہے
ایک یہ کہ یہ قرآن اپنی زبان، اسلوب بیان، طرز استدلال، مضامین، مباحث، تعلیمات اور اخبار غیب کے لحاظ سے ایک معجزہ ہے جس کی نظیر لانا انسانی قدرت سے باہر ہے۔ تم کہتے ہو کہ اسے ایک انسان نے تصنیف کیا ہے، مگر ہم کہتے ہیں کہ تمام دنیا کے انسان مل کر بھی اس شان کی کتاب تصنیف نہیں کرسکتے۔ بلکہ اگر وہ جن جنہیں مشرکین نے اپنا معبود بنا رکھا ہے، اور جن کی معبودیت پر یہ کتاب علانیہ ضرب لگا رہی ہے، منکرین قرآن کی مدد پر اکٹھے ہوجائیں تو وہ بھی ان کو اس قابل نہیں بنا سکتے کہ قرآن کے پائے کی کتاب تصنیف کر کے اس چلینج کو رد کرسکیں۔
تیسرے یہ کہ محمد ﷺ تمہیں قرآن سنا کر کہیں غائب نہیں ہوجاتے بلکہ تمہارے درمیان ہی رہتے سہتے ہیں۔ تم ان کی زبان سے قرآن بھی سنتے ہو اور دوسری گفتگوئیں اور تقاریر بھی سنا کرتے ہو۔ قرآن کے کلام اور محمد ﷺ کے اپنے کلام میں زبان اور اسلوب کا اتنا نمایاں فرق ہے کہ کسی ایک انسان کے دو اس قدر مختلف اسٹائل کبھی ہو نہیں سکتے۔ یہ فرق صرف اسی زمانہ میں واضح نہیں تھا جبکہ نبی ﷺ اپنے ملک کے لوگوں میں رہتے سہتے تھے۔ بلکہ آج بھی حدیث کی کتابوں میں آپ کے سینکڑوں اقوال اور خطبے موجود ہیں۔ ان کی زبان اسلوب قرآن کی زبان اور اسلوب سے اس قدر مختلف ہیں کہ زبان و ادب کا کوئی رمز آشنا نقاد یہ کہنے کی جرأت نہیں کرسکتا کہ یہ دونوں ایک ہی شخص کے کلام ہو سکتے ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة یونس حاشیہ 21۔ الطور، حواشی 22، 27)
Ayah 17:93سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 106
معجزات کے مطالبے کا ایک جواب اس سے پہلے آیت 59 " وَمَا نُرْسِلُ بالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا " میں گزر چکا ہے۔ اب یہاں اسی مطالبے کا دوسرا جواب دیا گیا ہے۔ اس مختصر سے جواب کی بلاغت تعریف سے بالاتر ہے۔ مخالفین کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر تم پیغمبر ہو تو ابھی زمین کی طرف ایک اشارہ کرو اور یکایک ایک چشمہ پھوٹ بہے، یا فورا ایک لہلہاتا باغ پیدا ہوجائے اور اس میں نہریں جاریں ہوجائیں۔ آسمان کی طرف اشارہ کرو اور تمہارے جھٹلانے والوں پر آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر جائے۔ ایک پھونک مارو اور چشم زدن میں سونے کا ایک محل بن کر تیار ہوجائے۔ ایک آواز دو اور ہمارے سامنے خدا اور اس کے فرشتے فورا آ کھڑے ہوں اور وہ شہادت دیں کہ ہم ہی نے محمد ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے آسمان پر چڑھ کر جاؤ اور اللہ میاں سے ایک خط ہمارے نام لکھوا لاؤ جسے ہم ہاتھ سے چھوئیں اور آنکھوں سے پڑھیں۔۔ ان لمبے چوڑے مطالبوں کا بس یہ جواب دے کر چھوڑ دیا گیا کہ " ان سے کہو، پاک ہے میرا پروردگار ! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں "؟ یعنی بیوقوفوں ! کیا میں نے خدا ہونے کا دعوی کیا تھا کہ تم یہ مطالبے مجھ سے کرنے لگے ؟ میں نے تم سے کب کہا تھا کہ میں قادر مطلق ہوں ؟ میں نے کب کہا تھا کہ زمین و آسمان پر میری حکومت چل رہی ہے ؟ میرا دعوی تو اول روز سے یہی تھا کہ میں خدا کی طرف سے پیغام لانے والا ایک انسان ہوں۔ تمہیں جانچنا ہے تو میرے پیغام کو جانچو۔ ایمان لانا ہے تو اس پیغام کی صداقت و معقولیت دیکھ کر ایمان لاؤ۔ انکار کرنا ہے تو اس پیغام میں کوئی نقص نکال کر دکھاؤ۔ میری صداقت کا اطمینان کرنا ہے تو ایک انسان ہونے کی حیثیت سے میری زندگی کو، میرے اخلاق کو، میرے کام کو دیکھو۔ یہ سب کچھ چھوڑ کر تم مجھ سے یہ کیا مطالبہ کرنے لگے کہ زمین پھاڑو اور آسمان گراؤ ؟ آخر پیغمبری کا ان کاموں سے کیا تعلق ہے ؟
Ayah 17:94سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 107
یعنی ہر زمانے کے جاہل لوگ اسی غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں کہ بشر کبھی پیغمبر نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے جب کوئی رسول آیا تو انہوں نے یہ دیکھ کر کہ کھاتا ہے، پیتا ہے، بیوی بچے رکھتا ہے، گوشت پوست کا بنا ہوا ہے، فیصلہ کردیا کہ پیغمبر نہیں ہے، کیونکہ بشر ہے۔ اور جب وہ گزر گیا تو ایک مدت کے بعد اس کے عقیدت مندوں میں ایسے لوگ پیدا ہونے شروع ہوگئے جو کہنے لگے کہ وہ بشر نہیں تھا، کیونکہ پیغمبر تھا۔ چناچہ کسی نے اس کو خدا بنایا، کسی نے اسے خدا کا بیٹا کہا، اور کسی نے کہا کہ خدا اس میں حلول کر گیا تھا۔ غرض بشریت اور پیغمبری کا ایک ذات میں جمع ہونا جاہلوں کے لیے ہمیشہ ایک معما ہی بنا رہا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة یس، حاشیہ 11)۔
Ayah 17:95سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 108
یعنی پیغمبر کا کام صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ آ کر پیغام سنا دیا کرے، بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ اس پیغام کے مطابق انسانی زندگی کی اصلاح کرے۔ اسے انسانی احوال پر اس پیغام کے اصولوں کا انطباق کرنا ہوتا ہے۔ اسے خود اپنی زندگی میں ان اصولوں کا عملی مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ اسے ان بیشمار مختلف انسانوں کے ذہن کی گتھیاں سلجھانی پڑتی ہیں جو اس کا پیغام سننے اور سمجنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسے ماننے والوں کی تنظیم اور تربیت کرنی ہوتی ہے تاکہ اس پیغام کی تعلیمات کے مطابق ایک معاشرہ وجود میں آئے۔ اسے انکار اور مخالفت و مزاحمت کرنے والوں کے مقابلے میں جدوجہد کرنی ہوتی ہے تاکہ بگاڑ کی حمایت کرنے والی طاقتوں کو نیچ دکھایا جائے اور وہ اصلاح عمل میں آسکے جس کے لیے خدا نے اپنا پیغمبر مبعوث فرمایا ہے۔ یہ سارے کام جبکہ انسانوں ہی میں کرنے کے ہیں تو ان کے لیے انسان نہیں تو اور کون بھیجا جاتا ؟ فرشتہ تو زیادہ سے زیادہ بس یہی کرتا کہ آتا اور پیغام پہنچا کر چلا جاتا۔ انسانوں میں انسان کی طرح رہ کر انسان کے سے کام کرنا اور پھر انسانی زندگی میں منشاء الہی کے مطابق اصلاح کر کے دکھا دینا کسی فرشتے کے بس کا کام نہ تھا۔ اس کے لیے تو ایک انسان ہی موزوں ہوسکتا تھا۔
Ayah 17:96سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 109
یعنی جس طرح سے میں تمہیں سمجھا رہا ہوں اور تمہاری اصلاح حال کے لیے کوشش کر رہا ہوں اسے بھی اللہ جانتا ہے، اور جو جو کچھ تم میری مخالفت میں کر رہے ہو اس کو بھی اللہ دیکھ رہا ہے۔ فیصلہ آخرکار اسی کو کرنا ہے اس لیے بس اسی کا جاننا اور دیکھنا کافی ہے۔
Ayahs 17:97–99سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 110
یعنی جس کی ضلالت پسندی اور ہٹ دھرمی کے سبب سے اللہ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیے ہوں اور جسے اللہ ہی نے ان گمراہیوں کی طرف دھکیل دیا ہو جن کی طرف وہ جانا چاہتا تھا، تو اب اور کون ہے جو اس کو راہ راست پر لا سکے ؟ جس شخص نے سچائی سے منہ موڑ کر جھوٹ پر مطمئن ہونا چاہا، اور جس کی اس خباثت کو دیکھ کر اللہ نے بھی اس کے لیے وہ اسباب فراہم کردیے جن سے سچائی کے خلاف اس کی نفرت میں اور جھوٹ پر اس کے اطمینان میں اور زیادہ اضافہ ہوتا چلا جائے، اسے آخر دنیا کی کونسی طاقت جھوٹ سے منحرف اور سچائی پر مطمئن کرسکتی ہے ؟ اللہ کا یہ قاعدہ نہیں کہ جو خود بھٹکنا چاہے اسے زبردستی ہدایت دے، اور کسی دوسری ہستی میں یہ طاقت نہیں کہ لوگوں کے دل بدل دے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 111
یعنی جیسے وہ دنیا میں کر رہے کہ نہ حق دیکھتے تھے، نہ حق سنتے تھے اور نہ حق بولتے تھے، ویسے ہی وہ قیامت میں اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 17:100سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 112
یہ اشارہ اسی مضمون کی طرف ہے جو اس سے پہلے آیت 55 " وَ رَبُّکَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضِ " میں گزر چکا ہے۔ مشرکین مکہ جن نفسیاتی وجوہ سے نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے تھے ان میں سے ایک اہم وجہ یہ تھی کہ اس طرح انہیں آپ کا فضل وشرف ماننا پڑتا تھا، اور اپنے کسی معاصر اور ہم چشم کا فضل ماننے کے لیے انسان مشکل ہی سے آمادہ ہوا کرتا ہے۔ اسی پر فرمایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کی بخیلی کا حال یہ ہے کہ کسی کے واقعی مرتبے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے بھی ان کا دل دکھتا ہے، انہیں اگر کہیں خدا نے اپنے خزانہائے رحمت کی کنجیاں حوالے کردی ہوتیں تو وہ کسی کو پھوٹی کوڑی بھی نہ دیتے۔