12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

تب یُوسُف ؑ نے اپنے بھائی سے پہلے اُن کی خُرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اپنے بھائی کی خُرجی سے گم شدہ چیز بر آمد کر لی۔۔۔۔اِس طرح ہم نے یُوسُف ؑ کی تائید اپنی تدبیر سے کی۔59 اُس کا یہ کا م نہ تھا کہ بادشاہ کے دین(یعنی مصر کے شاہی قانون)میں اپنے بھائی کو پکڑتا اِلّا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔60 ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں، اور ایک علم رکھنے والا ایساہے جو ہر صاحبِ علم سے بالاتر ہے

59۔ یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ اس پورے سلسلہ واقعات میں وہ کون سی تدبیر ہے جو حضرت یوسف کی تائید میں براہ راست خدا کی طرف سے کی گئی ؟ ظاہر ہے کہ پیالہ رکھنے کی تدبیر جو حضرت یوسف نے خود کی تھی، یہ بھی ظاہر ہے کہ سرکاری ملازموں کا چوری کے شبہ میں قافلے والوں کو روکنا بھی حسب معمول وہ کام تھا جو ایسے مواقع پر سب سرکاری ملازم کیا کرتے ہیں، پھر وہ خاص خدائی تدبیر کون سی ہے ؟ اوپر کی آیات میں تلاش کرنے سے اس کے سوا کسی دوسری چیز کو اس کا مصداق نہیں ٹھہرایا جاسکتا کہ سرکاری ملازموں نے خلاف معمول خود مشتبہ ملزموں سے چور کی سزا پوچھی اور انہوں نے وہ سزا بتائی جو شریعت ابراہیمی کی رو سے چور کو دی جاتی تھی، اس کے دو فائدے ہوئے۔ ایک یہ کہ حضرت یوسف کو شریعت ابراہیمی پر عمل کا موقع مل گیا، دوسرا یہ کہ بھائی کو حوالات میں بھیجنے کے بجائے اب وہ اسے اپنے پاس رکھ سکتے تھے۔ 60۔ یعنی یہ بات حضرت یوسف کی شان پیغمبری کے شایاں نہ تھی کہ وہ اپنے ایک ذاتی معاملہ میں شاہ مصر کے قانون پر عمل کرتے، اپنے بھائی کو روک رکھنے کے لیے انہوں نے خود جو تدبیر کی تھی اس میں یہ خلل رہ گیا تھا کہ بھائی کو روکا تو ضرور جاسکتا تھا مگر شاہ مصر کے قانون تعزیرات سے کام لینا پڑتا، اور یہ اس پیغمبر کی شان کے مطابق نہ تھا جس نے اختیارات حکومت غیر اسلامی قوانین کی جگہ اسلامی شریعت فانذ کرنے کے لیے اپنے ہاتھ میں لیے تھے، اگر اللہ چاہتا تو اپنے نبی کو اس بد نما غلطی میں مبتلا ہوجانے دیتا، مگر اس نے یہ گوارا نہ کیا کہ یہ دھبہ اس کے دامن پر رہ جائے، اس لیے اس نے براہ راست اپنی تدبیر سے یہ راہ نکال دی کہ اتفاقا برادران یوسف سے چور کی سزا پوچھ لی گئی اور انہوں نے اس کے لیے شریعت ابراہیمی کا قانون بیان کردیا، یہ چیز اس لحاظ سے بالکل بر محل تھی کہ برادران یوسف مصری رعایا نہ تھے، ایک آزاد علاقے سے آئے ہوئے لوگ تھے، لہذا اگر وہ خود اپنے ہاں کے دستور کے مطابق اپنے آدمی کو اس شخص کی غلامی میں دینے کے لیے تیار تھے جس کا مال اس نے چرایا تھا، تو پھر مصری قانون تعزیرات سے اس معاملہ میں مدد لینے کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی، یہی وہ چیز ہے جس کو بعد کی دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان اور اپنی علمی برتری سے تعبیر فرامیا ہے، ایک بندے کے لیے اس سے بڑھ کر بلندی درجہ اور کیا ہوسکتی ہے، اگر وہ کبھی بشری کمزوری کی بنا پر خود کسی لغزش میں مبتلا ہورہا ہو تو اللہ تعالیٰ غیب سے اس کو بچانے کا انتظام فرما دے۔ ایسا بلند مرتبہ صرف انہی لوگوں کو ملا کرتا ہے جو اپنی سعی و عمل سے بڑی بڑی آزمائشوں میں اپنا " محسن " ہونا ثابت کرچکے ہوتے ہیں، اور اگرچہ حضرت یوسف صاحب علم تھے خود بہت دانشمندی کے ساتھ کام کرتے تھے، مگر پھر بھی اس موقع پر ان کے علم میں ایک کسر رہ ہی گئی اور اسے اس ہستی نے پورا کیا جو ہر صاحب علم سے بالا تر ہے۔ یہاں چند امور اور وضاحت طلب رہ جاتے ہیں جن پر ہم مختصر کلام کریں گے (1) عام طور پر اس آیت کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ " یوسف بادشاہ کے قانون کی رو سے اپنے بھائی کو نہ پکڑ سکتا تھا "۔ یعنی مَا كَانَ لِيَاْخُذَ کو مترجمین و مفسرین عدم قدرت کے معنی میں لیتے ہیں نہ کہ عدم صحت اور عدم مناسبت کے معنی میں، لیکن اول تو یہ ترجمہ و تفسیر عربی محاورے اور قرآنی استعمالات دونوں کے لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے، کیونکہ عربی میں عموما ما کان لہ بمعنی ما ینبغی لہ، ما صح لہ، ما استقام لہ وغیرہ آتا ہے اور قرآن میں بھی یہ زیادہ تر اسی معنی میں آیا ہے۔ مثلا (آیت) ماکان اللہ ان یتخذ من ولد، ماکان لنا ان نشرک باللہ من شیء، ما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب، ماکان اللہ لیضیع ایمانکم، فما کان اللہ لیظلمھم، ما کان اللہ لیذر المومنین علی ما انتم فیہ، ما کان لمومن ان یقتل مومنا۔ دوسرے اگر اس کے وہ معنی لیے جائیں جو مترجمین و مفسرین بالعموم بیان کرتے ہیں تو بات بالکل مہمل ہوجاتی ہے، بادشاہ کے قانون میں چور کو نہ پکڑ سکنے کی آخر وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟ کیا دنیا میں کبھی کوئی سلطنت ایسی بھی رہی ہے جس کا قانون چور کو گرفتار کرنے کی اجازت نہ دیتا ہو ؟ (2) اللہ تعالیٰ نے شاہی قانون کے لیے " دین الملک " کا لفظ استعمال کر کے خود اس مطلب کی طرف اشارہ فرما دیا ہے جو ما کان لیاخذ سے لیا جانا چاہیے، ظاہر ہے کہ اللہ کا پیغمبر زمین میں " دین اللہ " جاری کرنے کے لیے مبعوث ہوا تھا نہ کہ " دین الملک " جاری کرنے کے لیے، اگر حالات کی مجبوری سے اس کی حکومت میں اس وقت تک پوری طرح دین الملک کی جگہ دین اللہ جاری نہ ہوسکا تھا تب بھی کم از کم پیغمبر کا اپنا کام تو یہ نہ تھا کہ اپنے ایک شخصی معاملہ میں دین الملک پر عمل کرے۔ لہذا حضرت یوسف کا دین الملک کے مطابق اپنے بھائی کو نہ پکڑنا اس بنا پر نہیں تھا کہ دین الملک میں ایسا کرنے کی گنجائش نہ تھی بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ پیغمبر ہونے کی حیثیت سے اپنی ذاتی حد تک دین اللہ پر عمل کرنا ان کا فرض تھا اور دین الملک کی پیروی ان کے لیے قطعا نامناسب تھی۔ (3) قانون ملکی (Law of the Land) کے لیے لفظ " دین " استعمال کر کے اللہ تعالیٰ نے معنی دین کی وسعت پوری طرح واضح کردی ہے، اس سے ان لوگوں کے تصور دین کی جڑ کٹ جاتی ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت کو صرف عام مذہبی معنوں میں خدائے واحد کی پوجا کرانے اور محض چند مذہبی مراسم و عقائد کی پابندی کرا لینے تک محدود سمجھتے ہیں، اور یہ خیال کرتے ہیں کہ انسانی تمدن، سیاست، معیشت، عدالت، قانو اور ایسے ہی دوسرے دنیوی امور کا کوئی تعلق دین سے نہیں ہے، یا اگر ہے بھی تو ان امور کے بارے میں دین کی ہدایات محض اختیاری سفارشات ہیں جن پر اگر عمل ہوجائے تو اچھا ہے ورنہ انسانوں کو اپنے بنائے ہوئے اصول و ضوابط قبول کرلینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں، یہ سراسر گمراہانہ تصور دین، جس کا ایک مدت سے مسلمانوں میں چرچا ہے جو بہت بڑی حد تک مسلمانوں کو اسلامی نظام زندگی کے قیام کی سعی سے غافل کرنے کا ذمہ دار ہے جس کی بدولت مسلمان کفر و جاہلیت کے نظام زندگی پر نہ صرف راضی ہوئے بلکہ ایک نبی کی سنت سمجھ کر اس نظام کے پرزے بننے اور اس کو خود چلانے کے لیے بھی آمادہ ہوگئے، اس آیت کی رو سے قطعا غلط ثابت ہوتا ہے، یہاں اللہ تعالیٰ صاف بتارہا ہے کہ جس طرح نماز، روزہ اور حج دین ہے اسی طرح وہ قانون بھی دین ہے جس پر سوسائٹی کا نظام اور ملک کا انتظام چلایا جاتا ہے۔ لہذا ان الدین عند اللہ الاسلام اور ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ، وغیرہ آیات میں جس دین کی اطاعت کا مطالبہ کیا گیا ہے اس سے مراد صرف نماز، روزہ ہی نہیں بلکہ اسلام کا اجتماعی نظام بھی ہے جس سے ہٹ کر کسی دوسرے نظام کی پیروی خدا کے ہاں ہرگز مقبول نہیں ہوسکتی۔ (4) سوال کیا جاسکتا ہے کہ اس سے کم از کم یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت تک مصر کی حکومت میں " دین الملک " ہی جاری تھا، اب اگر اس حکومت کے حاکم اعلی حضرت یوسف ہی تھے، جیسا کہ تم خود پہلے ثابت کرچکے ہو، تو اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت یوسف خدا کے پیغمبر، خود اپنے ہاتھوں سے ملک میں " دین الملک " جاری کر رہے تھے، اس کے بعد اگر اپنے ذاتی معاملہ میں حضرت یوسف نے " دین الملک " کے بجائے شریعت ابراہیمی پر عمل کیا بھی تو اس سے فرق کیا واقع ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف مور تو دین اللہ جاری کرنے ہی پر تھے اور یہی ان کا پیغمبرانہ مشن اور ان کی حکومت کا مقصد تھا، مگر ایک ملک کا نظام عملا ایک دن کے اندر نہیں بدل جایا کرتا، آج اگر کوئی بالکیہ ہمارے اختیار میں ہو اور ہم اس میں اسلامی نظام قائم کرنے کی خالص نیت ہی سے اس کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیں، تب بھی اس کے نظام تمدن، نظام معاشی، نظام سیاست اور نظام عدالت و قانون کو بالفعل بدلتے بدلتے برسوں لگ جائیں گے اور کچھ مدت تک ہم کو اپنے انتظام میں بھی سابق قوانین برقرار رکھنے پڑیں گے، کیا تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ خود نبی ﷺ کو بھی عرب کے نظام زندگی میں پورا اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے نو دس سال لگے تھے ؟ اس دوران میں خاتم النبیین کی اپنی حکومت میں چند سال شراب نوشی ہوتی رہی، سود لیا اور دیا جاتا رہا، جاہلیت کا قانون میراث جاری رہا، پرانے قوانین نکاح و طلاق برقرار رہے، بیوع فاسدہ کی بہت سی صورتیں عمل میں آتی رہیں، اور اسلامی قوانین دیوانی فوجداری بھی اول روز ہی بتمام و کمال نافذ نہیں ہوگئے، پس اگر حضرت یوسف کی حکومت میں ابتدائی آٹھ نو سال تک سابق مصری بادشاہت کے کچھ قوانین چلتے رہے ہوں تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے اور اس سے یہ دلیل کیسے نکل آتی ہے کہ خدا کا پیغمبر مصر میں خدا کے دین کو نہیں بلکہ بادشاہ کے دین کو جاری کرنے پر مامور تھا۔ رہی یہ بات کہ جب ملک میں دین الملک جاری تھا ہی تو آخر حضرت یوسف کی اپنی ذات کے لیے اس پر عمل کرنا کیوں شایان شان نہ تھا، تو یہ سوال بھی نبی ﷺ کے طریقہ پر غور کرنے سے بآسانی حل ہوجاتا ہے، نبی ﷺ کی حکومت کے ابتدائی دور میں جب تک قوانین اسلامی جاری نہ ہوئے تھے، لوگ پرانے طریقے کے مطابق شراب پیتے رہے، مگر کیا حضور نے بھی پی ؟ لوگ سود لیتے دیتے تھے، مگر کیا آپ نے بھی سودی لین دین کیا ؟ لوگ متعہ کرتے رہے اور جمع بین الاختین کرتے رہے، مگر کیا حضور نے بھی ایسا کیا ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی اسلامی کا عملی مجبوریوں کی بنا پر احکام اسلامی کے اجراء میں تدریج سے کام لینا اور چیز ہے اور اس کا خود اس تدریج کے دور میں جاہلیت کے طریقوں پر عمل کرنا اور چیز، تدریج کی رخصتیں دوسروں کے لیے ہیں، داعی کا اپنا یہ کام نہیں ہے کہ خود ان طریقوں میں سے کسی پر عمل کرے جن کے مٹانے پر وہ مامور ہوا ہے۔
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

ان بھائیوں نے کہا”یہ چوری کرے تو کچھ تعجّب کی بات نہیں ، اس سے پہلے اس کا بھائی (یُوسُف ؑ)بھی چوری کر چکا ہے۔“61 یُوسُف ؑ ان کی یہ بات سُن کر پی گیا، حقیقت ان پر نہ کھولی، بس (زیرِ لب)اتنا کہہ کر رہ گیاکہ”بڑے ہی بُرے ہو تم لوگ،(میرے منہ در منہ مجھ پر)جو الزام تم لگا رہے ہو اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے۔“

61۔ یہ انہوں نے اپنی خفت مٹانے کے لیے کہا، پہلے کہہ چکے تھے کہ ہم لوگ چور نہیں ہیں، اب جو دیکھا کہ مال ہمارے بھائی کی خرجی سے برآمد ہوگیا ہے تو فورا ایک جھوٹی بات بنا کر اپنے آپ کو اس بھائی سے الگ کرلیا اور اس کے ساتھ اس پہلے بھائی کو بھی لپیٹ لیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت یوسف کے پیچھے بن یمین کے ساتھ ان بھائیوں کا کیا سلوک رہا ہوگا اور کس بنا پر اس کی اور حضرت یوسف کی یہ خواہش ہوگی کہ وہ ان کے ساتھ نہ جائے۔
Ayah 12:78

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

انہوں نے کہا”اے سردار ذی اقتدار(عزیز) 62، اس کا باپ بہت بُوڑھا آدمی ہے، اس کی جگہ آپ ہم میں سےکسی کو رکھ لیجیے، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں۔“

62۔ یہاں لفظ " عزیز " حضرت یوسف کے لیے جو استعمال ہوا ہے صرف اس کی بنا پر مفسرین نے قیاس کرلیا کہ حضرت یوسف اسی منصب پر مامور ہوئے تھے جس پر اس سے پہلے زلیخا کا شوہر مامور تھا پھر اس پر مزید قیاسات کی عمارت کھڑی کرلی گئی کہ سابق عزیز مرگیا تھا، حضرت یوسف اس کی جگہ مقرر کیے گئے، زلیخا ازسر نو معجزے کے ذریعہ سے جوان کی گئی، اور شاہ مصر نے اس سے حضرت یوسف کا نکاح کردیا۔ حد یہ ہے کہ شب عروسی میں حضرت یوسف اور زلیخا کے درمیان جو باتیں ہوئیں وہ تک کسی ذریعہ سے ہمارے مفسرین کو پہنچ گئیں۔ حالانکہ یہ سب باتیں سراسر وہم ہیں، لفظ " عزیز " کے متعلق ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ یہ مصر میں کسی خاص منصب کا نام نہ تھا بلکہ محض " صاحب اقتدار " کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ غالبا مصر میں بڑے لوگوں کے لیے اس طرح کا کوئی لفظ اصطلاحا رائج تھا جیسے ہمارے ملک میں لفظ " سرکار " بولا جاتا ہے، اسی کا ترجمہ قرآن میں " عزیز " کیا گیا ہے۔ رہا زلیخا سے حضرت یوسف کا نکاح، تو اس افسانے کی بنیاد صڑف یہ ہے کہ بائیبل اور تلمود میں فوطیفرع کی بیٹی آسناتھ سے ان کے نکاح کی روایت بیان کی گئی ہے۔ اور زلیخا کے شوہر کا نام فوطیفار تھا، یہ چیزیں اسرائیلی روایات سے نقل در نقل ہوتی ہوئی مفسرین تک پہنچیں اور جیسا کہ زبانی افواہوں کا قاعدہ ہے، فوطیفرع بآسانی فوطیفار بن گیا، بیٹی کی جگہ بیوی کو مل گئی اور بیوی لا محالہ زلیخا ہی تھی، لہذا اس سے حضرت یوسف کا نکاح کرنے کے لیے فوطیفار کو مار دیا گیا، اور اس طرح " یوسف زلیخا " کی تصنیف مکمل ہوگئی۔
Ayah 12:79

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

یُوسُف ؑ نے کہا”پناہِ خدا، دُوسرے کسی شخص کو ہم کیسے رکھ سکتے ہیں، جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے63 اُس کو چھوڑ کر دُوسرے کو رکھیں گے تو ہم ظالم ہوں گے۔“

63۔ احتیاط ملاحظہ ہو کہ " چور " نہیں کہتے بلکہ صرف یہ کہتے ہیں کہ " جس کے پاس ہم نے اپنا مال مایا ہے " اسی کو اصطلاح شرع میں " توریہ " کہتے ہیں، یعنی حقیقت پر پردہ ڈالنا، یا امر واقعہ کو چھپانا، جب کسی مظلوم کو ظالم سے بچانے یا کسی بڑے مظملہ کو دفع کرنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہ ہو کہ کچھ خلاف واقعہ بات کہی جائے یا کوئی خلاف حقیقت حیلہ کیا جائے، تو ایسی صورت میں ایک پرہیزگار آدمی صریح جھوٹ بولنے سے احتراز کرتے ہوئے ایسی بات کہنے یا ایسی تدبیر کرنے کی کوشش کرے گا، جس سے حقیقت کو چھپا کر بدی کو دفع کیا جاسکے۔ ایسا کرنا شرع و اخلاق میں جائز ہے بشرطیکہ محض کام نکالنے کے لیے ایسا نہ کیا جائے بلکہ کسی بڑی برائی کو دور کرنا ہو، اب دیکھیے کہ اس سارے معاملہ میں حضرت یوسف نے کس طرح جائز توریہ کی شرائط پوری کی ہیں۔ بھائی کی رضا مندی سے اس کے سامان میں پیالہ رکھ دیا مگر ملازموں سے یہ نہیں کہ کہ اس پر چوری کا الزام لگاؤ، پھر جب سرکاری ملازم چوری کے الزام میں ان لوگوں کو پکڑ لائے تو خاموشی کے ساتھ اٹھ کر تلاشی لے لی، پھر اب جو ان بھائیوں نے کہا کہ بن یمین کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیے، تو اس کے جواب میں بھی بس انہی کی بات ان پر الٹ دی کہ تمہارا اپنا فتویٰ یہ تھا کہ جس کے سامان میں سے تمہارا مال نکلے وہی رکھ لیا جائے، سو اب تمہارے سامنے بن یمین کے سامان میں سے ہمارا مال نکلا ہے اور اسی کو ہم رکھ لیتے ہیں، دوسرے کو اس کی جگہ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ اس قسم کے توریہ کی مثالیں خود نبی ﷺ کے غزوات میں بھی ملتی ہیں اور کسی دلیل سے بھی اس کو اخلاقا معیوب نہیں کہا جاسکتا۔
Ayahs 12:80–83

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

جب وہ یوسفؑ سے مایوس ہو گئے تو ایک گوشے میں جا کر آپس میں مشورہ کرنے لگے ان میں جو سب سے بڑا تھا وہ بولا "تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے خدا کے نام پر کیا عہد و پیمان لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسفؑ کے معاملہ میں جو زیادتی تم کر چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے اب میں تو یہاں سے ہرگز نہ جاؤں گا جب تک کہ میرے والد مجھے اجازت نہ دیں، یا پھر اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرما دے کہ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ "ابا جان، آپ کے صاحبزادے نے چوری کی ہے ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا، جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں، اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کر سکتے تھے

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

آپ اُس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیجیے جہاں ہم تھے اُس قافلے سے دریافت کر لیجیے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں"

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

باپ نے یہ داستان سُن کر کہا”دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک اور بڑی بات کو سہل بنا دیا۔64 اچھا، اس پر بھی صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا۔ کیا بعید ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا ملائے، وہ سب کچھ جانتا ہے اور اُس کے سب کا م حکمت پر مبنی ہیں۔“

64۔ یعنی تمہارے نزدیک یہ باور کرلینا بہت آسان ہے کہ میرا بیٹا جس کے حسن سیرت سے میں خوب واقف ہوں ایک پیالے کی چوری کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ پہلے تمہارے لیے اپنے ایک بھائی کو جان بوجھ کر گم کردینا اور اس کے قمیص پر جھوٹا خون لگا کرلے آنا بہت آسان کام ہوگیا تھا۔ اب ایک دوسرے بھائی کو واقعی چور مان لینا اور مجھے آکر اس کی خبر دینا بھی ویسا ہی آسان ہوگیا۔
Ayahs 12:84–88

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

پھر وہ ان کی طرف سے منہ پھیر کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ "ہا ئے یوسف!" وہ دل ہی دل میں غم سے گھٹا جا رہا تھا اور اس کی آنکھیں سفید پڑ گئی تھیں

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

بیٹوں نے کہا "خدارا! آپ تو بس یوسف ہی کو یاد کیے جاتے ہیں نوبت یہ آ گئی ہے کہ اس کے غم میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے یا اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے"

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

اُس نے کہا "میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا، اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

میرے بچو، جا کر یوسفؑ اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں"

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

جب یہ لوگ مصر جا کر یُوسُف ؑ کی پیشی میں داخل ہوئےتو انہوں نے عرض کیا”اے سردار با اقتدار، ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت مصیبت میں مُبتلا ہیں، اور ہم کچھ حقیر سی پُونجی لے کر آئے ہیں، آپ ہمیں بھرپور غلّہ عنایت فرمائیں اور ہم کو خیرات دیں65، اللہ خیرات کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔“

65۔ یعنی ہماری اس گزارش پر جو کچھ آپ دیں گے وہ گویا آپ کا صدقہ ہوگا۔ اس غلے کی قیمت میں جو پونجی ہم پیش کر رہے ہیں وہ تو بیشک اس لائق نہیں ہے کہ ہم کو اس قدر غلہ دیا جائے جو ہماری ضرورت کو کافی ہو۔
Ayahs 12:89–94

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

(یہ سن کریوسفؑ سے نہ رہا گیا) اُس نے کہا "تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوسفؑ اور اُس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جبکہ تم نادان تھے"

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ چونک کر بولے "کیا تم یوسفؑ ہو؟" اُس نے کہا، "ہاں، میں یوسفؑ ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان فرمایا حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا"

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

انہوں نے کہا "بخدا کہ تم کو اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی اور واقعی ہم خطا کار تھے"

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

اس نے جواب دیا، "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

جاؤ، میرا یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے منہ پر ڈال دو، اُن کی بینائی پلٹ آئے گی، اور اپنے سب اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ"

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

جب یہ قافلہ (مصر سے)روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں)کہا”میں یُوسُف ؑ کی خوشبو محسُوس کر رہا ہوں،66 تم لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں۔“

66۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کی غیر معمولی قوتوں کا اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی قافلہ حضرت یوسف کا قمیص لیکر مصر سے چلا ہے اور ادھر سیکڑوں میل کے فاصلے پر حضرت یعقوب اس کی مہک پالیتے ہیں، مگر اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی یہ قوتیں کچھ ان کی ذاتی نہ تھیں بلکہ اللہ کی بخشش سے ان کو ملی تھیں اور اللہ جب اور جس قدر چاہتا تھا انہیں کام کرنے کا موقع دیتا تھا۔ حضرت یوسف برسوں مصر میں موجود رہے اور کبھی حضرت یعقوب کو ان کی خوشبو نہ آئی۔ مگر اب یکایک قوت ادراک کی تیزی کا یہ عالم ہوگیا کہ ابھی ان کا قمیص مصر سے چلا ہے اور وہاں ان کی مہک آنی شروع ہوگئی۔ یہاں یہ ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ایک طرف قرآن حضرت یعقوب کو اس پیغمرانہ شان کے ساتھ پیش کر رہا ہے، اور دوسری طرف بنی اسرائیل ان کو ایسے رنگ میں دکھاتے ہیں جیسا عرب کا ہر معمولی بد ہوسکتا ہے، بائیبل کا بیان ہے کہ جب بیٹوں نے آکر خبر دی کہ یوسف اب تک جیتا ہے اور وہی سارے ملک مصر کا حاکم ہے تو یعقوب کا دل دھک سے رہ گیا کیونکہ اس نے ان کا یقین نہ کیا، اور جب ان کے باپ یعقوب نے وہ گاڑیاں دیکھ لیں جو یوسف نے ان کو لانے کے لیے بھیجی تھیں تب اس کی جان میں جان آئی، پیدائش 45، 26، 27ٌ)
Ayah 12:95

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

گھر کے لوگ بولے”خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنے اسی پُرانے خبط میں پڑے ہوئے ہیں۔“67

67۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پورے خاندان میں حضرت یوسف کے سوا کوئی اپنے باپ کا قدر شناس نہ تھا اور حضرت یعقوب خود بھی ان لوگوں کی ذہنی و اخلاقی پستی سے مایوس تھے، گھر کے چراغ کی روشنی باہر پھیل رہی تھی، مگر خود گھر والے اندھیرے میں تھے اور ان کی نگاہ میں وہ ایک ٹھیکرے سے زیادہ کچھ نہ تھا، فطرت کی اس ستم ظریفی سے تاریخ کی اکثر و بیشتر بڑی شخصیتوں کو سابقہ پیش آیا ہے۔
Ayahs 12:96–99

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

پھر جب خو ش خبری لانے والا آیا تو اس نے یوسفؑ کا قمیص یعقوبؑ کے منہ پر ڈال دیا اور یکا یک اس کی بینائی عود کر آئی تب اس نے کہا "میں تم سے کہتا نہ تھا؟ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے"

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

سب بول اٹھے "ابا جان، آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا کریں، واقعی ہم خطا کار تھے"

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

اُس نے کہا "میں اپنے رب سے تمہارے لیے معافی کی درخواست کروں گا، وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے"

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

پھر جب یہ لوگ یُوسُف ؑ کے پاس پہنچے68 تو اُس نے اپنےوالدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا69 اور (اپنےسب کنبے والوں سے کہا)”چلو، اب شہر میں چلو، اللہ نے چاہا تو امن چین سے رہو گے۔“

68۔ بائیبل کا بیان ہے کہ سب افراد خانہ جو اس موقع پر مصر گئے 67 تھے۔ اس تعداد میں دوسرے گھرانوں کی ان لڑکیوں کو شمار نہیں کیا گیا ہے جو حضرت یعقوب کے ہاں بیاہی ہوئی آئی تھیں، اس وقت حضرت یعقوب کی عمر 130 سال تھی اور اس کے بعد وہ مصر میں 17 سال زندہ رہے۔ اس موقع پر ایک طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر میں داخل ہوئے تو حضرت یوسف سمیت ان کی تعداد 68 تھے، اور جب تقریبا 5 سو سال کے بعد وہ مصر سے نکلے تو وہ لاکھوں کی تعداد میں تھے، بائیبل کی روایت ہے کہ خروج کے بعد دوسرے سال بیابان سینا میں حضرت موسیٰ نے ان کی جو مردم شماری کرائی تھی اس میں صرف قابل جنگ مردوں کی تعداد 603550 تھی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ عوعرت، مرد، بچے سب ملا کر وہ کم از کم 20 لاکھ ہوں گے۔ کیا کسی حساب سے پانچ سو سال میں 68 آدمیوں کی اتنی اولاد ہوسکتی ہے ؟ مصر کی کل آبادی اگر اس زمانے میں 2 کروڑ فرض کی جائے (جو یقینا بہت مبالغہ آمیز اندازہ ہوگا) تو اس کے معنی یہ ہیں کہ صرف بنی اسرائیل وہاں 10 فیصد تھے، کیا ایک خاندان محض تناسل کے ذریعہ ستے اتنا بڑھ سکتا ہے، اس سوال پر غور کرنے سے ایک اہم حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے، ظاہر بات ہے کہ 5 سو برس میں ایک خاندان تو اتنا نہیں بڑھ سکتا، لیکن بنی اسرائیل پیغمبروں کی اولاد تھے، ان کے لیڈر حضرت یوسف جن کی بدولت مصر میں ان کے قدم جمے، خود پیغمبر تھے، ان کے بعد چار پانچ صدی تک ملک کا اقتدار انہی لوگوں کے ہاتھ میں رہا۔ اس دوران میں یقینا انہوں نے مصر میں اسلام کی خوب تبلیغ کی ہوگی، اہل مصر میں سے جو لوگ اسلام لائے ہوں گے ان کا مذہب ہی نہیں بلکہ ان کا تمدن اور پورا طریق زندگی غیر مسلم مصریوں سے الگ اور بنی اسرائیل سے ہم رنگ ہوگیا ہوگا۔ مصریوں نے ان سب کو اسی طرح اجنبی ٹھہرایا ہوگا جس طرح ہندوستان میں ہندوؤں نے ہندوستانی مسلمانوں کو ٹھہرایا، ان کے اوپر اسرائیلی کا لفظ اسی طرح چسپاں کردیا گیا ہوگا، جس طرح غیر عرب مسلمانوں پر " محمڈن " کا لفظ آج چسپاں کیا جاتا ہے، اور وہ خود بھی دینی و تہذیبی روابط اور شادی بیاہ کے تعلقات کی وجہ سے غیر مسلم مصریوں سے الگ اور بنی اسرائیل سے وابستہ ہو کر رہ گئے ہوں گے، یہی وجہ ہے کہ جب مصر میں قوم پرستی کا طوفان اٹھا تو مظالم صرف بنی اسرائیل ہی پر نہیں ہوئے بلکہ مصری مسلمان بھی ان کے ساتھ یکساں لپیٹ لیے گئے، اور جب بنی اسرائیل نے ملک چھوڑا تو مصری مسلمان بھی ان کے ساتھ ہی نکلے اور ان سب کا شمار اسرائیلیوں ہی میں ہونے لگا۔ ہمارے اس قیاس کی تائید بائیبل کے متعدد اشارات سے ہوتی ہے، مثال کے طور پر " خروج " میں جہاں بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے کا حال بیان ہوا ہے، بائیبل کا مصنف کہتا ہے کہ ان کے ساتھ ایک ملی جلی گروہ بھی گئی، (12۔ 38) اسی طرح گنتی میں وہ پھر کہتا ہے کہ جو ملی جلی بھیڑ ان لوگوں میں تھی وہ طرح طرح کی حرص کرنے لگی (11۔ 4) پھر بتدریج ان غیر اسرائیلی مسلمانوں کے لیے اجنبی اور پردیسی کی اصطلاحیں استعمال ہونے لگیں، چناچہ توراۃ میں حضرت موسیٰ کو جو احکام دیے گئے ان میں ہم کو یہ تصریح ملتی ہے " تمہارے لیے اور اس پردیسی کے لیے جو تم میں رہتا ہے نسل در نسل سدا ایک ہی آئین رہے گا، خداوند کے آگے پردیسی بھی ویسے ہی ہوں جیسے تم ہو، تمہارے لیے اور پردیسیوں کے لیے جو تمہارے ساتھ رہتے ہیں ایک ہی شرع اور ایک ہی قانون ہو " (گنتی 15۔ 15۔ 16) جو شخص بےباک ہو کر گناہ کرے خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی وہ خداوند کی اہانت کرتا ہے، وہ شخص اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے گا (گنتی 15۔ 3) خواہ بھائی بھائی کا معاملہ ہو یا پردیسی کا، تم ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کرنا (اتثناء، 1۔ 16) اب یہ تحقیق کرنا مشکل ہے کہ کتاب الہی میں غیر اسرائیلیوں کے لیے وہ اصل لفظ کیا استعمال کیا گیا تھا جسے مترجموں نے " پردیسی " بنا کر رکھ دیا۔ 69۔ تلمود لکھا ہے جب حضرت یعقوب کی آمد کی خبر دار السلطنت میں پہنچی تو حضرت یوسف سلطنت کے بڑے بڑے امراء و اہل مناسب اور فوج فراء کو لیکر ان کے استقبال کے لیے نکلے اور پورے تزک و احتشام کے ساتھ ان کو شہر میں لائے، وہ دن وہاں جشن کا دن تھا، عورت، مرد، بچے سب اس جلوس کو دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوگئے تھے، اور سارے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

(شہر میں داخل ہونے کے بعد)اس نے اپنے والدین کو اُٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے بے اختیار سجدے میں جُھک گئے۔70 یُوسُف ؑ نے کہا”ابا جان، یہ تعبیر ہے میرے اُس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا، میرے ربّ نے اسے حقیقت بنا دیا۔ اس کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے قید خانے سے نکالا، اور آپ لوگوں کو صحرا سے لاکر مجھ سے ملایا حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ میرا ربّ غیر محسُوس تدبیروں سے اپنی مشیّت پُوری کرتا ہے، بے شک وہ علیم اور حکیم ہے

70۔ اس لفظ " سجدہ " سے بکثرت لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے، حتی کہ ایک گروہ نے تو اسی سے استدلال کر کے بادشاہوں اور پیروں کے لیے سجدہ تحیۃ اور سجدہ تعظیمی کا جواز نکال لیا، دوسرے لوگوں کو اس قباحت سے بچنے کے لیے اس کی یہ توجیہ کرنی پڑی کہ اگلی شریعتوں میں صرف سجدہ غیر اللہ کے لیے حرام تھا، باقی رہا وہ سجدہ جو عبادت کے جذبہ سے خالی ہو تو وہ خدا کے سوا دوسروں کو بھی کیا جاسکتا تھا، البتہ شریعت محمدی میں ہر قسم کا سجدہ غیر اللہ کے لیے حرام کردیا گیا، لیکن ساری غلط فہمیاں دراصل اس وجہ سے پیدا ہوئی ہیں کہ لفظ " سجدہ " کو موجودہ اسلامی اصطلاح کا ہم معنی سمجھ لیا گیا، یعنی ہاتھ، گھٹنے اور پیشانی زمین پر ٹکانا، حالانکہ سجدہ کے اصل معنی محض جھکنے کے ہیں اور یہاں یہ لفظ اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے، قدیم تہذیب میں یہ عام طریقہ تھا (اور آج بھی بعض ملکوں میں اس کا رواج ہے) کہ کسی کا شکریہ ادا کرنے کے لیے، یا کسی کا استقبال کرنے کے لیے، یا محض سلام کرنے کے لیے سینے پر ہاتھ رکھ کر کسی حد تک آگے کی طرف جھکتے تھے، اسی جھکاؤ کے لیے عربی میں سجود اور انگریزی میں (Bow) کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، بائیبل میں اس کی بکثرت مثالیں ہم کو ملتی ہیں کہ قدیم زمانے میں یہ طریقہ آداب تہذیب میں شامل تھا، چناچہ حضرت ابراہیم کے متعلق ایک جگہ لکھا ہے کہ انہوں نے اپنے خیمہ کی طرف تین آدمیوں کو آٹے دیکھا تو وہ ان کے استقبال کے لیے دوڑے اور زمین تک جھکے۔ عربی بائیبل میں اس موقع پر جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں فلما نظر رکض لاستقبالھم من باب الخیمۃ و سجد الی الارض (تکوین 18۔ 3) پھر جس موقع پر یہ ذکر آتا ہے کہ بنی حت نے حضرت سارہ کے دفن کے لیے قبر کی زمین مفت دی وہاں اردو بائٰیبل کے الفاظ یہ ہیں ابرھام نے اٹھ کر اور بنی حت کے آگے جو اس ملک کے لوگ ہیں، آداب بجا لاکر ان سے یوں گفتگو کی، اور جب ان لوگوں نے قبر کی زمین ہی نہیں بلکہ ایک پورا کھیت اور ایک غار نذر میں پیش کردیا تب ابرھام اس ملک کے لوگوں کے سامنے جھکا، مگر عربی ترجمہ میں ان دونوں مواقع پر آداب بجا لانے اور جھکنے کے لیے سجدہ کرنے ہی کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ فقام ابراہیم و سجد لشعب الارض لبنی حت (تکوین 23۔ 7) فسجد ابراہیم امام شعب الارض (23۔ 12) انگریزی بائیبل میں ان مواقع پر جو الفاظ آئے ہیں وہ یہ ہیں Bowed himself toward thee ground Bowed himself to the people of the land and abraham bowed اس مضمون کی مثالیں بڑی کثرت سے بائیبل میں ملتی ہیں اور ان سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سجدے کا مفہوم وہ ہے ہی نہیں جو اب اسلامی اصطلاح کے لفظ " سجدہ " سے سمجھا جاتا ہے۔ جن لوگوں نے معاملہ کی اس حقیقت کو جانے بغیر اس کی تاویل میں سرسری طور پر یہ لکھ دیا ہے کہ اگلی شریعتوں میں غٰیر اللہ کو تعظیمی سجدہ کرنا یا سجدہ تحیۃ بجالانا جائز تھا انہوں نے محض ایک بےاصل بات کہی ہے۔ اگر سجدے سے مراد وہ چیز ہو جسے اسلامی اصطلاح میں سجدہ کہا جاتا ہے، تو وہ خدا کی بھیجی ہوئی کسی شریعت میں کبھی کسی غیر اللہ کے لیے جائز نہیں رہا ہے۔ بائیبل میں ذکر آتا ہے کہ بابل کی اسیری کے زمانے میں جب اخسویرس بادشاہ نے ہامان کو اپنا امیر الامرا بنایا اور حکم دیا کہ سب لوگ اس کو سجدہ تعظیمی بجا لایا کریں تو مرد کی جو بنی اسرائیل کے اولیاء میں سے تھے یہ حکم ماننے سے انکار کردیا (آستر 3 1۔ 2) تلمود میں اس واقعہ کی شرح کرتے ہوئے اس کی جو تفصیل دی گئی ہے وہ پڑھنے کے لائق ہے " بادشاہ کے ملازموں نے کہا آخر تو کیوں ہامان کو سجدہ کرنے سے انکار کرتا ہے ؟ ہم بھی آدمی ہیں مگر شاہی حکم کی تعمیل کرتے ہیں، اس نے جواب دیا تم لوگ نادان ہو، کیا ایک فانی انسان جو کل خاک میں مل جانے والا ہے اس قابل ہوسکتا ہے کہ اس کی بڑائی مانی جائے ؟ کیا میں اس کو سجدہ کروں جو ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا، کل بچہ تھا آج جوان ہے کل بوڑھا ہوگا اور پرسوں مر جائے گا ؟ نہیں میں تو اس ازلی و ابدی خدا ہی کے آگے جھکوں گا جو حی وقیوم ہے۔ وہ جو کائنات کا خالق اور حاکم ہے، میں تو بس اسی کی تعظیم بجا لاؤں گا، اور کسی کی نہیں "۔ یہ تقریر نزول قرآن سے تقریبا ایک ہزار برس پہلے ایک اسرائیلی مومن کی زبان سے ادا ہوئی ہے اور اس میں کوئی شائبہ تک اس تخیل کا نہیں پایا جاتا کہ غیر اللہ کو کسی معنی میں بھی " سجدہ " کرنا جائز ہے۔
Ayah 12:101

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

اے میرے ربّ، تُو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنا سکھایا۔ زمین و آسمان کے بنانے والے، تُو ہی دُنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجامِ کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا۔“71

71۔ یہ چند فقرے جو اس موقع پر حضرت یوسف کی زبان سے نکلے ہیں ہمارے سامنے ایک سچے مومن کی سیرت کا عجیب دلکش نقشہ پیش کرتے ہیں، صحرائی گلہ بانوں کے خاندان کا ایک فرد جس کو خود اس کے بھائیوں نے حسد کے مارے ہلاک کردینا چاہا تھا زندگی کے نشیب و فراز دیکھتا ہوا بالاخر دنیوی عروج کے انتہائی مقام پر پہنچ گیا ہے، اس کے قحط زدہ اہل خاندان اب اس کے دست نگر ہو کر اس کے حضور آئے ہیں اور وہ حاسد بھائی بھی جو اس کو مار ڈالنا چاہتے تھے، اس کے تخت شاہی کے سامنے سرنگوں کھڑے ہیں۔ یہ موقع دنیا کے عام دستور کے مطابق فخر جتانے، ڈینگیں مارنے، گلے اور شکوے کرنے، اور طعن و ملامت کے تیر برسانے کا تھا، مگر ایک سچا خدا پرست انسان اس موقع پر کچھ دوسرے ہی اخلاق ظاہر کرتا ہے، وہ اپنے اس عروج پر فخرنے کے بجائے اس خدا کے احسان کا اعتراف کرتا ہے جس نے اسے یہ مرتبہ عطا کیا، وہ خاندان والوں کو اس ظلم و ستم پر کوئی ملامت نہیں کرتا جو وائل عمر میں انہوں نے اس پر کیے تھے، اس کے برعکس وہ اس بات پر شکر ادا کرتا ہے کہ خدا نے اتنے دنوں کی جدائی کے بعد ان لوگوں کو مجھ سے ملایا۔ وہ حاسد بھائیوں کے خلاف شکایت کا ایک لفظ زبان سے نہیں نکالتا، حتی کہ یہ بھی نہیں کہتا کہ انہوں نے میرے ساتھ برائی کی تھی۔ بلکہ ان کی صفائی خود ہی اس طرح پیش کرتا ہے کہ شیطان نے میرے اور ان کے درمیان برائی ڈال دی تھی اور پھر اس برائی کے بھی برے پہلو چھوڑ کر اس کا یہ اچھا پہلو پیش کرتا ہے کہ خدا جس مرتبے پر مجھے پہنچانا چاہتا تھا اس کے لیے یہ لطیف تدبیر اس نے فرمائی، یعنی بھائیوں سے شیطان نے جو کچھ کرایا اسی میں حکمت الہی کے مطابق میرے لیے خیر تھی، چند الفاظ میں یہ سب کچھ کہہ جانے کے بعد وہ بےاختیار اپنے خدا کے آگے جھک جاتا ہے، اس کا شکر ادا کرتا ہے کہ تو نے مجھے بادشاہی دی اور وہ قابلیتیں بخشیں جن کی بدولت میں قید خانے میں سڑنے کے بجائے آج دنیا کی سب سے بڑی سلطنت پر فرماں روائی کررہا ہوں، اور آخر میں خدا سے کچھ مانگتا ہے تو یہ کہ دنیا میں جب تک زندہ رہوں تیری بندگی و غلامی پر ثابت قدم رہوں، اور جب اس دنیا سے رخصت ہوں تو مجھے نیک بندوں کے ساتھ ملا دیا جائے کسی قدر بلند اور کتنا پاکیزہ ہے یہ نمونہ سیرت۔ حضرت یوسف کی اس قیمتی تقریر نے بھی بائیبل اور تلمود میں کوئی جگہ نہیں پائی ہے، حیرت ہے کہ یہ کتابیں قصوں کی غیر ضروری تفصیلات سے تو بھری پڑی ہیں مگر جو چیزیں کوئی اخلاقی قدر و قیمت رکھتی ہیں اور جن سے انبیاء کی اصلی تعلیم اور ان کے حقیقی مشن اور ان کی سیرتوں کے سبق آموز پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے ان سے ان کتابوں کا دامن خالی ہے۔ یہاں یہ قصہ ختم ہورہا ہے اس لیے ناظرین کو پھر اس حقیقت پر متنبہ کردینا ضروری ہے کہ قصہ یوسف ؑ کے متعلق قرآن کی یہ روایت اپنی جگہ ایک مستقل روایت ہے، بائیبل یا تلمود کا چربہ نہیں ہے، تینوں کتابوں کا متقابل مطالعہ کرنے سے یہ بات بات واضح ہوجاتی ہے کہ قصے کے متعدد اہم اجزاء میں قرآن کی روایت ان دونوں سے مختلف ہے۔ بعض چیزیں قرآن ان سے زائد بیان کرتا ہے، بعض ان سے کم، اور بعض میں ان کی تردید کرتا ہے، لہذا کسی کے لیے کہ کہنے کی گنجائش نہیں ہے کہ محمد ﷺ نے جو قصہ سنایا وہ بنی اسرائیل سے سن لیا ہوگا۔
Ayahs 12:102–103

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

اے محمدؐ، یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں ورنہ تم اُس وقت موجود نہ تھے جب یوسفؑ کے بھائیوں نے آپس میں اتفاق کر کے سازش کی تھی

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

مگر تم خواہ کتنا ہی چاہو ان میں سے اکثر لوگ مان کر دینے والے نہیں ہیں۔72

72۔ یعنی ان لوگوں کی ہٹ دھرمی کا عجیب حال ہے، تمہاری نبوت کی آزمائش کے لیے بہت سوچ سمجھ کر اور مشورے کر کے جو مطالبہ انہوں نے کیا تھا اسے تم نے بھری محفل میں برجستہ پورا کردیا، اب شاید تم متوقع ہوگے کہ اس کے بعد تو انہیں یہ تسلیم کرلیتے ہیں کوئی تامل نہ رہے گا کہ تم یہ قرآن خود تصنیف نہیں کرتے ہو بلکہ واقعی تم پر وحی آتی ہے، مگر یقین جانو کہ یہ اب بھی نہ مانیں گے اور اپنے انکار پر جمے رہنے کے لیے کوئی دوسرا بہانہ ڈھونڈ نکالیں گے کیونکہ ان کے نہ ماننے کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ تمہاری صداقت کا اطمینان حاصل کرنے کے لیے یہ کھلے دل سے کوئی معقول دلیل چاہتے تھے اور وہ ابھی تک انہیں نہیں ملی، بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تمہاری بات یہ ماننا چاہتے ہیں ہیں، اس لیے ان کو تلاش دراصل ماننے کے لیے کسی دلیل کی نہیں بلکہ نہ ماننے کے لیے کسی بہانے کی ہے۔ اس کلام سے مقصود نبی ﷺ کی کسی غلط فہمی کو رفع کرنا نہیں ہے، اگرچہ بظاہر خطاب آپ ہی سے ہے، لیکن اس کا اصل مقصد مخاطب گروہ کو جس کے مجمع میں یہ تقریر کی جارہی تھی، ایک نہایت لطیف وبلیغ طریقہ سے اس کی ہٹ دھرمی پر متنبہ کرنا ہے، انہوں نے اپنی محفل میں آپ کو امتحان کے لیے بلایا تھا اور اچانک یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر تم نبہ ہو تو بتاؤ بنی اسرائیل نے مصڑ جانے کا قصہ کیا ہے، اس کے جواب میں ان کو وہیں اور اسی وقت پورا قصہ سنا دیا گیا اور آخر میں یہ مختصر سا فقرہ کہہ کر آئینہ بھی ان کے سامنے رکھ دیا گیا کہ ہٹ دھرمو اس میں اپنی صورت دیکھ لو، تم کس منہ سے امتحان لینے بیٹھے تھے ؟ معقول انسان اگر امتحان لیتے ہیں تو اس لیے لیتے ہیں کہ اگر حق ثابت ہوجائے تو اسے مان لیں گے، مگر تم وہ لوگ ہو جو اپنا منہ مانگا ثبوت مل جانے پر بھی مان کر نہیں دیتے۔
Ayah 12:104

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

حالانکہ تم اس خدمت پر ان سے کوئی اُجرت بھی نہیں مانگتے ہو۔ یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے۔ 73

73۔ اوپر کی تنبیہ کے بعد یہ دوسری لطیف تر تنبیہ ہے جس میں ملامت کا پہلو کم اور فہمائش کا پہلو زیادہ ہے، اس ارشاد کا خطاب بھی بظاہر نبی ﷺ سے ہے مگر اصل مخاطب کفار کا مجمع ہے اور اس کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اللہ کے بندو غور کرو، تمہاری یہ ہٹ دھرمی کس قدر بےجا ہے، اگھر پیغمبر نے اپنے کسی ذاتی مفاد کے لیے دعوت و تبلیغ کا یہ کام جاری کیا ہوتا یا اس نے اپنی ذات کے لیے کچھ بھی چاہا ہوتا تو بیشک تمہارے لیے یہ کہنے کا موقع تھا کہ ہم اس مطلبی آدمی کی بات کیوں مانی، مگر تم دیکھ رہے ہو کہ یہ شخص بےغرض ہے، تمہاری اور دنیا بھر کی بھلائی کے لیے نصیحت کر رہا ہے اور اس میں اس کا اپنا کوئی مفاد پوشیدہ نہیں ہے، پھر اس کا مقابلہ اس ہٹ دھرمی سے کرنے میں آخر کیا معقولیت ہے ؟ جو انسان سب کے بھلے کے لیے ایک بات بےغرضی کے ساتھ پیش کرے اس سے کسی کو خواہ مخواہ ضد کیوں ہو ؟ کھلے دل سے اس کی بات سنو، دل کو لگتی ہو تو مانو، نہ لگتی ہو نہ مانو۔
Ayah 12:105

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

زمین74 اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سےیہ لوگ گزرتے ہیں اور ذرا توجّہ نہیں کرتے۔ 75

74۔ اوپرے کے گیارہ رکوعوں میں حضرت یوسف کا قصہ ختم ہوگیا، اگر وحی الہی کا مقصد محض قصہ گوئی ہوتا تو اسی جگہ تقریر ختم ہوجانی چاہیے تھی، مگر یہاں تو قصہ کسی مقصد کی خاطر کہا جاتا ہے، اور اس مقصد کی تبلیغ کے لیے جو موقع بھی مل جائے اس سے فائدہ اٹھانے میں دریغ نہیں کیا جاتا، اب چونکہ لوگوں نے خود نبی کو بلایا تھا اور قصہ سننے کے لیے کان متوجہ تھے اس لیے ان کے مطلب کی بات ختم کرتے ہی چند جملے اپنے مطلب کے بھی کہہ دیے گئے اور غایت درجہ اختصار کے ساتھ ان چند جملوں ہی میں نصیحت اور دعوت کا سارا مضمون سمیٹ دیا گیا۔ 75۔ اس سے مقصد لوگوں کو ان کی غفلت پر متنبہ کرنا ہے، زمین اور آسمان کی ہر چیز بجائے خود محض ایک چیز ہی نہیں ہے بلکہ ایک نشانی بھی ہے جو حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے، جو لوگ ان چیزوں کو محض چیز ہونے کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، وہ انسان کا سا دیکھنا نہیں بلکہ جانوروں کا سا دیکھنا دیکھتے ہیں، درخت کو درخت اور پہاڑ کو پہاڑ اور پانی کو پانی تو جانور بھی دیکھتا ہے اور اپنی اپنی ضرورت کے لحاظ سے ہر جانور ان چیزوں کا مصرف بھی جانتا ہے، مگر جس مقصد کے لیے انسان کو حواس کے ساتھ سوچنے والا دماغ بھی دیا گیا ہے، وہ صرف اسی حد تک نہیں ہے کہ آدمی ان چیزوں کو دیکھے اور ان کا مصرف اور استعمال معلوم کرے، بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی حقیقت کی جستجو کرے اور ان نشانیوں کے ذریعہ سے اس کا سراغ لگائے، اسی معاملہ میں اکثر انسان غفلت برت رہے ہیں، اور یہی غفلت ہے جس نے ان کو گمراہی میں ڈال رکھا ہے، اگر دلوں پر یہ قفل نہ چڑھ لیا گیا ہوتا تو انبیاء کی بات سمجھنا اور ان کی رہنمائی سے فائدہ اٹھانا لوگوں کے لیے اس قدر مشکل نہ ہوجاتا۔
Ayah 12:106

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اُس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔76

76۔ یہ فطری نتیجہ ہے اس غفلت کا جس کی طرف اوپر کے فقرے میں اشارہ کیا گیا ہے جب لوگوں نے نشان راہ سے آنکھیں بند کیں تو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور اطراف کی جھاڑیوں میں پھنس کر رہ گئے، اس پر بھی کم انسان ایسے ہیں جو منزل کو بالکل ہی گم کرچکے ہوں اور جنہیں اس بات سے قطعی انکار ہو کہ خدا ان کا خالق و رازق ہے، پیشتر انسان جس گمراہی میں مبتلا ہیں وہ انکار خدا کی گمراہی نہیں بلکہ شرک کی گمراہی ہے، یعنی وہ یہ نہیں کہتے کہ خدا نہیں ہے، بلکہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ خدا کی ذات اس کی صفاتت، اختیارات اور حقوق میں دوسرے بھی کسی نہ کسی طرح شریک ہیں، یہ غلط فہمی ہرگز نہ پیدا ہوتی اگر زمین و آسمان کی ان نشانیوں کو نگاہ عبرت سے دیکھا جاتا جو ہر جگہ اور ہر آن خدائی کی وحڈت کا پتہ دے رہی ہیں۔
Ayah 12:107

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی یا بے خبری میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آجائے گی؟77

77۔ اس سے مقصود لوگوں کو چونکانا ہے کہ فرصت زندگی کو دراز سمجھ کر اور حال کے امن کو دائم خیال کر کے فکر مآل کو کسی آنے والے وقت پر نہ ٹالو، کسی انسان کے پاس بھی اس امر کے لیے کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اس کی مہلت حیات فلاں وقت تک یقینا باقی رہے گی، کوئی نہیں جانتا کہ کب اچانک اس کی گرفتاری ہوجاتی ہے اور کہاں سے کس حال میں وہ پکڑ بلایا جاتا ہے، تمہارا شب و روز کا تجربہ ہے کہ پردہ مستقبل ایک لمحہ پہلے بھی خبر نہیں دیتا کہ اس کے اندر تمہارے لیے کیا چھپا ہوا ہے، لہذا کچھ فکر کرنی ہے تو ابھی کو لر زندگی کی جس راہ پر چلے جارہے ہو اس میں آگے بڑھنے سے پہلے ذرا ٹھہر کر سوچ لو کہ کیا یہ راستہ ٹھیک ہے ؟ اس کے درست ہونے کے لیے کوئی واقعی حجت موجود ہے ؟ اس کے راہ راست ہونے کی کوئی دلیل آثات کائنات سے مل رہی ہے ؟ اس پر چلنے کے جو نتائج تمہارے ابنائے نوع پہلے دیکھ چکے ہیں اور جو نتائج اب تمہارے تمدن میں رونما ہورہے ہیں وہ یہی تصدیق کرتے ہیں کہ تم ٹھیک جارہے ہو۔
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

تم ان سے صاف کہہ دو کہ ”میرا رستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بُلاتا ہوں، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی، اور اللہ پاک ہے78 اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں۔“

78۔ یعنی ان باتوں سے پاک جو اس کی طرف منسوب کی جارہی ہیں، ان نقائص اور کمزوریوں سے پاک جو ہر مشرکانہ عقیدے کی بنا پر لازما اس کی طرف منسوب ہوتی ہیں، ان عیوب اور خطاؤں اور برائیوں سے پاک جن کا اس کی طرف منسوب ہونا شرک کا منقطی نتیجہ ہے۔
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اے محمد ؐ ، تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان ہی تھے، اور اِنہی بستیوں کے رہنے والوں میں تھے، اور اُنہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اُن قوموں کا انجام اِنہیں نظر نہ آیا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں؟ یقیناً آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے اَور زیادہ بہتر ہے جنہوں نے (پیغمبروں کی بات مان کر)تقوٰی کی روش اختیار کی۔ کیا اب بھی تم لوگ نہ سمجھو گے؟79

79۔ یہاں ایک بہت بڑے مضمون کو دو تین جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے، اس کو اگر کسی تفصیلی عبارت میں بیان کیا جائے تو یوں کہا جاسکتا ہے یہ لوگ تمہاری بات کی طرف اس لیے توجہ نہیں کرتے کہ جو شخص کل ان کے شہر میں پیدا ہوا اور انہی کے درمیان بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھا ہوا اس کے متعلق یہ کیسے مان لیں کہ یکایک ایک روز خدا نے اسے اپنا سفیر مقرر کردیا، لیکن یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے جس سے آج دنیا میں پہلی مرتبہ انہی کو سابقہ پیش آیا ہو، اس سے پہلے بھی خدا اپنے نبی بھیج چکا ہتے اور وہ سب بھی انسان ہی تھے، پھر یہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ اچانک ایک اجنبی شخص کسی شہر میں نمودار ہوگیا ہو اور اس نے کہا ہو کہ میں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں، بلکہ جو لوگ بھی انسانوں کی اصلاح کے لیے اٹھائے گئے وہ سب ان کی اپنی ہی بستیوں کے رہنے والے تھے، مسیح، موسی، ابراہیم، نوح (علیہم السلام) آخر کون تھے ؟ اب تم خود ہی دیکھ لو کہ جن قوموں نے ان لوگوں کی دعوت اصلاح کو قبول نہ کیا اور اپنے بےبنیاد تخیلات اور بےلگام خواہشات کے پیچھے چلتی رہیں ان کا انجام کیا ہوا، تم خود اپنے تجارتی سفروں میں عاد، ثمود، مدین اور قوم لوط وغیرہ کے تباہ شدہ علاقوں سے گزرتے رہے ہو، کیا وہاں کوئی سباق تمہیں نہیں ملا ؟ یہ انجام جو انہوں نے دنیا میں دیکھا یہی تو خبر دے رہا ہے کہ عاقبت میں وہ اس سے بد تر انجام دیکھیں گے۔ اور یہ کہ جن لوگوں نے دنیا میں اپنی اصلاح کرلی وہ صرف دنیا ہی میں اچھے نہ رہے آخرت میں ان کا انجام اس سے بھی زیادہ بہتر ہوگا۔
Ayahs 12:110–111

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

(پہلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ وہ مدتوں نصیحت کرتے رہے اور لوگوں نے سن کر نہ دیا) یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہو گئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا تھا، تو یکا یک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی پھر جب ایسا موقع آ جاتا ہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں بچا لیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالا ہی نہیں جا سکتا

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

اگلے لوگوں کے ان قصّوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جا رہا ہے یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں انہی کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل80 اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت۔

80۔ یعنی ہر اس چیز کی تفصیل جو انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ضروری ہے، بعض لوگ " ہر چیز کی تفصیل " سے مراد خواہ مخواہ دنیا بھر کی چیزوں کی تفصیل لے لیتے ہیں، اور پھر انکو یہ پریشانی پیش آتی ہے کہ قرآن میں جنگلات اور طب اور ریاضی اور دوسرے علوم و فنون کے متعلق کوئی تفصیل نہیں ملتی۔