Ayahs 10:68–70سورة یُوْنُس 66
اوپر کی آیات میں لوگوں کی اس جاہلیت پر ٹوکا گیا تھا کہ اپنے مذہب کی بنا علم کے بجائے قیاس و گمان پر رکھتے ہیں، اور پھر کسی علمی طریقہ سے یہ تحقیق کرنے کی بھی کوشش نہیں کرتے کہ ہم جس مذہب پر چلے جا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل بھی ہے یا نہیں۔ اب اسی سلسلہ میں عیسائیوں اور بعض دوسرے اہل مذاہب کی اس نادانی پر ٹوکا گیا ہے کہ انہوں نے محض گمان سے کسی کو خدا کا بیٹا ٹھیرا لیا۔
سورة یُوْنُس 67
سبحان اللہ کلمہ تعجب کے طور پر کبھی اظہار حیرت کے لیے بھی بولا جاتا ہے، اور کبھی اس کے واقعی معنی ہی مراد ہوتے ہیں، یعنی یہ کہ ”اللہ تعالیٰ ہر عیب سے منزہ ہے“۔ یہاں یہ کلمہ دونوں معنی دے رہا ہے۔ لوگوں کے اس قول پر اظہار حیرت بھی مقصود ہے اور ان کی بات کے جواب میں یہ کہنا بھی مقصود ہے کہ اللہ تو بےعیب ہے، اس کی طرف بیٹے کی نسبت کس طرح صحیح ہو سکتی ہے۔
سورة یُوْنُس 68
یہاں ان کے اس قول کی تردید میں تین باتیں کہی گئی ہیں ایک یہ کہ اللہ بےعیب ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ بےنیاز ہے۔ تیسرے یہ کہ آسمان و زمین کی ساری موجودات اس کی ملک ہیں۔ یہ مختصر جوابات تھوڑی سی تشریح سے بآسانی سمجھ میں آسکتے ہیں
ظاہر بات ہے کہ بیٹا یا تو صلبی ہوسکتا ہے یا متبنّٰی۔ اگر یہ لوگ کسی کو خدا کا بیٹا صلبی معنوں میں قرار دیتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کو اس حیوان پر قیاس کرتے ہیں جو شخصی حیثیت سے فانی ہوتا ہے اور جس کے وجود کا تسلسل بغیر اس کے قائم نہیں رہ سکتا کہ اس کی کوئی جنس ہو اور اس جنس سے کوئی اس کا جوڑا ہو اور ان دونوں کے صنفی تعلق سے اس کی اولاد ہو جس کے ذریعہ سے اس کا نوعی وجود اور اس کا کام باقی رہے۔ اور اگر یہ لوگ اس معنی میں خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں کہ اس نے کسی کو متبنّٰی بنایا ہے تو یہ دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو انہوں نے خدا کو اس انسان پر قیاس کیا ہے جو لاولد ہونے کی وجہ سے اپنی جنس کے کسی فرد کو اس لیے بیٹا بناتا ہے کہ وہ اس کا وارث ہو اور اس نقصان کی، جو اسے بےاولاد رہ جانے کی وجہ سے پہنچ رہا ہے، برائے نام ہی سہی، کچھ تو تلافی کر دے۔ یا پھر ان کا گمان یہ ہے کہ خدا بھی انسان کی طرح جذباتی میلانات رکھتا ہے اور اپنے بیشمار بندوں میں سے کسی ایک کے ساتھ اس کو کچھ ایسی محبت ہوگئی ہے کہ اس نے اسے بیٹا بنا لیا ہے۔
ان تینوں صورتوں میں سے جو صورت بھی ہو، بہرحال اس عقیدے کے بنیادی تصورات میں خدا پرست بہت سے عیوب، بہت سی کمزوریوں، بہت سے نقائص اور بہت سی احتیاجوں کی تہمت لگی ہوئی ہے۔ اسی بنا پر پہلے فقرے میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام عیوب، نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے جو تم اس کی طرف منسوب کر رہے ہو۔ دوسرے فقرے میں ارشاد ہوا کہ وہ ان حاجتوں سے بھی بےنیاز ہے جن کی وجہ سے فانی انسانوں کو اولاد کی یا بیٹا بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اور تیسرے فقرے میں صاف کہہ دیا گیا کہ زمین و آسمان میں سب اللہ کے بندے اور اس کی مملوک ہیں، ان میں سے کسی کے ساتھ بھی اللہ کا ایسا کوئی مخصوص ذاتی تعلق نہیں ہے کہ سب کو چھوڑ کر اسے وہ اپنا بیٹا یا اکلوتا یا ولی عہد قرار دے لے۔ صفات کی بنا پر بیشک اللہ بعض بندوں کو بعض کی بہ نسبت زیادہ محبوب رکھتا ہے، مگر اس محبت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کسی بندے کو بندگی کے مقام سے اٹھا کر خدائی میں شرکت کا مقام دے دیا جائے۔ زیادہ سے زیادہ اس محبت کا تقاضا بس وہ ہے جو اس سے پہلے کی ایک آیت میں بیان کردیا گیا ہے کہ ”جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں، دنیا اور آخرت دونوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے۔
Ayahs 10:71–73سورة یُوْنُس 69
یہاں تک تو ان لوگوں کو معقول دلائل اور دل کو لگنے والے نصائح کے ساتھ سمجھایا گیا تھا کہ ان کے عقائد اور خیالات اور طریقوں میں غلطی کیا ہے اور وہ کیوں غلط ہے، اور اس کے مقابلے میں صحیح راہ کیا ہے اور وہ کیوں صحیح ہے۔ اب ان کے اس طرز عمل کی طرف توجہ منعطف ہوتی ہے جو وہ اس سیدھی سیدھ اور صاف صاف تفہیم و تلقین کے جواب میں اختیار کر رہے تھے۔ دس گیارہ سال سے ان کی روش یہ تھی کہ وہ بجائے اس کے اس معقول تنقید اور صحیح رہنمائی پر غور کر کے اپنی گمراہیوں پر نظر ثانی کرتے، الٹے اس شخص کی جان کے دشمن ہوگئے تھے جو ان باتوں کو اپنی کسی ذانی غرض کے لیے نہیں بلکہ انہی کے بھلے کے لیے پیش کر رہا تھا۔ وہ دلیلوں کا جواب پتھروں سے اور نصیحتوں کا جواب گالیوں سے دے رہے تھے۔ اپنی بستی میں ایسے شخص کا وجود ان کے لیے سخت ناگوار، بلکہ ناقابل برداشت ہوگیا تھا جو غلط کو غلط کہنے والا ہو اور صحیح بات بتانے کی کوشش کرتا ہو۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ہم اندھوں کے درمیان جو آنکھوں والا پایا جاتا ہے وہ ہماری آنکھیں کھولنے کے بجائے اپنی آنکھیں بھی بند کرلے، ورنہ ہم زبردستی اس کی آنکھیں پھوڑ دیں گے تاکہ بینائی جیسی چیز ہماری سر زمین میں نہ پائی جائے۔ یہ طرز عمل جو انہوں نے اختیار کر رکھا تھا، اس پر کچھ اور فرمانے کے بجائے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ انہیں نوح ؑ کا قصہ سنا دو ، اسی قصے میں وہ اپنے اور تمہارے معاملے کا جواب بھی پالیں گے۔
سورة یُوْنُس 70
یہ چیلنج تھا کہ میں اپنے کام سے باز نہ آؤں گا، تم میرے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر گزرو، میرا بھروسہ اللہ پر ہے۔ (تقابل کے لیے ملاحظہ ہو، ہود، آیت 55)۔
Ayah 10:74سورة یُوْنُس 71
حد سے گزر جانے والے لوگ وہ ہیں جو ایک مرتب غلطی کر جانے کے بعد پھر اپنی بات کی پچ اور ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اپنی اسی غلطی پر اڑے رہتے ہیں۔ اور جس بات کو ماننے سے ایک دفعہ انکار کرچکے ہیں اسے پھر کسی فہمائش، کسی تلقین اور کسی معقول سے معقول دلیل سے بھی مان کر نہیں دیتے۔ ایسے لوگوں پر آخرکار ایسی پھٹکار پڑتی ہے کہ انہیں پھر کبھی راہ راست پر آنے کی توفیق نہیں ملتی۔
Ayahs 10:75–76سورة یُوْنُس 72
اس موقع پر ان حواشی کو پیش نظر رکھا جائے جو ہم نے سورة اعراف (رکوع 13 تا 21) میں قصہ موسیٰ ؑ و فرعون پر لکھے ہیں۔ جن امور کی تشریح وہاں کی جا چکی ہے ان کا اعادہ یہاں نہ کیا جائے گا۔
سورة یُوْنُس 73
یعنی انہوں نے اپنی دولت و حکومت اور شوکت و حشمت کے نشے میں مدہوش ہو کر اپنے آپ کو بندگی کے مقام سے بالاتر سمجھ لیا اور اطاعت میں سر جھکا دینے کے بجائے اکڑ دکھائی۔
Ayah 10:77سورة یُوْنُس 74
یعنی حضرت موسیٰ ؑ کا پیغام سن کر وہی کچھ کہا جو کفار مکہ نے محمد ﷺ کا پیغام سن کر کہا تھا کہ ”یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے“۔ (ملاحظہ ہو اسی سورة یونس کی دوسری آیت)۔
یہاں سلسلہ کلام کو نگاہ میں رکھنے سے یہ بات صریح طور پر ظاہر ہوجاتی ہے کہ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) بھی دراصل اسی خدمت پر مامور ہوئے تھے جس پر حضرت نوح ؑ اور ان کے بعد کے تمام انبیاء، سیدنا محمد ﷺ تک، مامور ہوتے رہے ہیں۔ اس سورة میں ابتدا سے ایک ہی مضمون چلا آرہا ہے اور وہ یہ کہ صرف اللہ رب العالمین کو اپنا رب اور الٰہ مانو اور یہ تسلیم کرو کہ تم کو اس زندگی کے بعد دوسری زندگی میں اللہ کے سامنے حاضر ہونا اور اپنے عمل کا حساب دینا ہے۔ پھر جو لوگ پیغمبر کی اس دعوت کو ماننے سے انکار کر رہے تھے ان کو سمجھایا جا رہا ہے کہ نہ صرف تمہاری فلاح کا بلکہ ہمیشہ سے تمام انسانوں کی فلاح کا انحصار اسی ایک بات پر رہا ہے کہ اس عقیدہ توحید و آخرت کی دعوت کو، جسے ہر زمانے میں خدا کے پیغبروں نے پیش کیا ہے، قبول کیا جائے اور اپنا پورا نظام زندگی اسی بنیاد پر قائم کرلیا جائے۔ فلاح صرف انہوں نے پائی جنہوں نے یہ کام کیا، اور جس قوم نے بھی اس سے انکار کیا وہ آخرکار تباہ ہو کر رہی۔ یہی اس سورة کا مرکزی مضمون ہے، اور اس سیاق میں جب تاریخی نظائر کے طور پر دوسرے انبیاء کا ذکر آیا ہے تو لازما اس کے یہی معنی ہیں کہ جو دعوت اس سورة میں دی گئی ہے وہی ان تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی دعوت تھی، اور اسی کو لے کر حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) بھی فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس گئے تھے۔ اگر واقعہ وہ ہوتا جو بعض لوگوں نے گمان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا مشن ایک خاص قوم کو دوسری قوم کی غلامی سے رہا کرانا تھا، تو اس سیاق وسباق میں اس واقعہ کو تاریخی نظیر کے طور پر پیش کرنا بالکل بےجوڑ ہوتا۔ اس میں شک نہیں کہ ان دونوں حضرات کے مشن کا ایک جزء یہ بھی تھا کہ بنی اسرائیل (ایک مسلمان قوم) کو ایک کافر قوم کے تسلط سے (اگر وہ اپنے کفر پر قائم رہے) نجات دلائیں۔ لیکن یہ ایک ضمنی مقصد تھا نہ کہ اصل مقصد بعثت۔ اصل مقصد تو وہی تھا جو قرآن کی رو سے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کا مقصد رہا ہے اور سورة نازعات میں جس کو صاف طور پر بیان بھی کردیا گیا ہے کہ اِذَھَبْ الیٰ فِرْعَوْ نَ اِنَّہ طَغٰی۔ فَقُلْ ھَلْ لَّکَ الیٰٓ اَنْ تَزَکّٰی۔ وَاَھْدِیَکَ الیٰ رَبِّکَ فَتَخْشٰی۔”فرعون کے پاس جا کیونکہ وہ حدّ بندگی سے گزر گیا ہے اور اس سے کہہ کیا تو اس کے لیے تیار ہے کہ سدھر جائے، اور میں تجھے تیرے رب کی طرف رہنمائی کروں تو تو اس سے ڈرے“ ؟ مگر چونکہ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا اور آخرکار حضرت موسیٰ (علیہما السلام) کو یہی کرنا پڑا کہ اپنی مسلمان قوم کو اس کے تسلّط سے نکال لے جائیں، اس لیے اس کے مشن کا یہی جزء تاریخ میں نمایاں ہوگیا اور قرآن میں بھی اس کو ویسا ہی نمایاں کر کے پیش کیا گیا جیسا کہ وہ تاریخ میں فی الواقع ہے۔ جو شخص قرآن کی تفصیلات کو اس کے کلیات سے جدا کر کے دیکھنے کی غلطی نہ کرتا ہو، بلکہ انہیں کلیات کے تابع کر کے ہی دیکھتا اور سمجھتا ہو، وہ کبھی اس غلط فہمی میں نہیں پڑ سکتا کہ ایک قوم کی رہائی کسی نبی کی بعثت کا اصل مقصد، اور دین حق کی دعوت محض اس کا ایک ضمنی مقصد ہو سکتی ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو طٰہٰ ، آیات 44 تا 82۔ الزخرف، 46 تا 56۔ المزمل 15 – 16)۔
سورة یُوْنُس 75
”مطلب یہ ہے کہ ظاہر نظر میں جادو اور معجزے کے درمیان جو مشابہت ہوتی ہے اس کی بنا پر تم لوگوں نے بےتکلف اسے جادو قرار دے دیا، مگر نادانو ! تم نے یہ نہ دیکھا کہ جادوگر کس سیرت و اخلاق کے لوگ ہوتے ہیں اور کن مقاصد کے لیے جادوگری کیا کرتے ہیں۔ کیا کسی جادوگر کا یہی کام ہوتا ہے کہ بےغرض اور بےدھڑک ایک جبار فرمانروا کے دربار میں آئے اور اس کی گمراہی پر سرزنش کرے اور خدا پرستی اور طہارت نفس اختیار کرنے کی دعوت دے ؟ تمہارے ہاں کوئی جادوگر آیا ہوتا تو پہلے درباریوں کے پاس خوشامدیں کرتا پھرتا کہ ذرا سرکار میں مجھے اپنے کمالات دکھانے کا موقع دلوا دو ، پھر جب اسے دربار میں رسائی نصیب ہوتی تو عام خوشامدیوں سے بھی کچھ بڑھ کر ذلت کے ساتھ سلامیاں بجا لاتا، چیخ چیخ کر درازی عمر و اقبال کی دعائیں دیتا، بڑی منت سماجت کے ساتھ درخواست کرتا کہ سرکار کچھ فدوی کی کمالات بھی ملاحظہ فرمائیں، اور جب تم اس کے تماشے دیکھ لیتے تو ہاتھ پھیلا دیتا کہ حضور کچھ انعام مل جائے۔
اس پورے مضمون کو صرف ایک فقرے میں سمیٹ دیا ہے کہ جودو گر فلاح یافتہ نہیں ہوا کرتے۔
Ayahs 10:78–80سورة یُوْنُس 76
ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا اصل مطالبہ رہائی بنی اسرائیل ہوتا تو فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ اندیشہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ ان دونوں بزرگوں کی دعوت پھیلنے سے سرزمین مصر کا دین بدل جائے گا اور ملک میں ہمارے بجائے ان کی بڑائی قائم ہوجائے گی۔ ان کے اس اندیشے کی وجہ تو یہی تھی کہ حضرت موسیٰ ؑ اہل مصر کو بندگی حق کی طرف دعوت دے رہے تھے اور اس سے وہ مشرکانہ نظام خطرے میں تھا جس پر فرعون کی بادشاہی اور اس کے سرداروں کی سرداری اور مذہبی پیشواؤں کی پیشوائی قائم تھی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، 66۔ المومن، 43)۔
Ayahs 10:81–82سورة یُوْنُس 77
یعنی جادو وہ نہ تھا جو میں نے دکھایا تھا، جادو یہ ہے جو تم دکھا رہے ہو۔
Ayah 10:83سورة یُوْنُس 78
متن میں لفظ ذُرِّیَّۃٌ استعمال ہوا ہے جس کے معنی اولاد کے ہیں۔ ہم نے اس کا ترجمہ ”نوجوان“ کیا ہے۔ مگر دراصل اس خاص لفظ کے استعمال سے جو بات قرآن مجید بیان کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ اس پرخطر زمانے میں حق کا ساتھ دینے اور علمبردار حق کو اپنا رہنما تسلیم کرنے کی جرأت چند لڑکوں اور لڑکیوں نے تو کی مگر ماؤں اور باپوں اور قوم کے سن رسیدہ لوگوں کو اس کی توفیق نصیب نہ ہوئی۔ ان پر مصلحت پرستی اور دنیوی اغراض کی بندگی اور عافیت کوشی کچھ اس طرح چھائی رہی کہ وہ ایسے حق کا ساتھ دینے پر آمادہ نہ ہوئے جس کا راستہ ان کو خطرات سے پر نظر آرہا تھا، بلکہ وہ الٹے نوجوانوں ہی کو روکتے رہے کہ موسیٰ (علیہما السلام) کے قریب نہ جاؤ، ورنہ تم خود بھی فرعون کے غضب میں مبتلا ہو گے اور ہم پر بھی آفت لاؤ گے۔
یہ بات خاص طور پر قرآن نے نمایاں کر کے اس لیے پیش کی ہے کہ مکہ کی آبادی میں سے بھی محمد ﷺ کا ساتھ دینے کے لیے جو لوگ آگے بڑھے تھے وہ قوم کے بڑے بوڑھے اور سن رسیدہ لوگ نہ تھے بلکہ چند باہمت نوجوان ہی تھے۔ وہ ابتدائی مسلمان جو ان آیات کے نزول کی وقت ساری قوم کی شدید مخالفت کے مقابلے میں صداقت اسلامی کی حمایت کر رہے تھے اور ظلم و ستم کے اس طوفان میں جن کے سینے اسلام کے لیے سپر بنے ہوئے تھے، ان میں مصلحت کش بوڑھا کوئی نہ تھا۔ سب کے سب جوان لوگ ہی تھے۔ علی ابن ابی طالب، جعفر طیّار، زبیر، سعد بن ابی وقاص، مُصعَب بن عُمَیر، عبداللہ بن مسعود ؓ جیسے لوگ قبول اسلام کے وقت 20 سال سے کم عمر کے تھے۔ عبد الرحمٰن بن عوف، بلال، صُہَیب ؓ کی عمریں 20 سے 30 سال کے درمیان تھیں۔ ابو عبیدہ بن الجراح، زید بن حارثہ، عثمان بن عفان اور عمر فاروق ؓ 30 سے 35 سال کے درمیان عمر کے تھے۔ ان سے زیادہ سن رسیدہ ابوبکر صدیق ؓ تھے اور ان کی عمر بھی ایمان لانے کے وقت 38 سال سے زیادہ نہ تھی۔ ابتدائی مسلمانوں میں صرف ایک صحابی کا نام ہمیں ملتا ہے جن کی عمر نبی ﷺ سے زیادہ تھی، یعنی حضرت عبیدہ بن حارثہ ؓ مُطَّلبی۔ اور غالبا پورے گروہ میں ایک ہی صحابی حضور کے ہم عمر تھے، یعنی عَمّار بن یاسر ؓ
سورة یُوْنُس 79
متن میں فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسیٰ کے الفاظ ہیں۔ اس سے بعض لوگوں کو شبہ ہوا کہ شاید بنی اسرائیل سب کے سب کافر تھے اور ابتداء میں ان میں سے صرف چند آدمی ایمان لائے۔ لیکن ایمان کے ساتھ جب لام کا صلہ آتا ہے تو وہ بالعموم اطاعت وانقیاد کے معنی دیتا ہے، یعنی کسی کی بات ماننے اور اس کے کہے پر چلنا۔ پس دراصل ان الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ چند نوجوانوں کو چھوڑ کر بنی اسرائیل کی پوری قوم میں سے کوئی بھی اس بات پر آمادہ نہ ہوا کہ حضرت موسیٰ ؑ کو اپنا رہبر و پیشوا مان کر ان کی پیروی اختیار کرلیتا اور اس دعوت اسلامی کے کام میں ان کا ساتھ دیتا۔ پھر بعد کے فقرے نے اس بات کو واضح کردیا کہ ان کے اس طرز عمل کی اصل وجہ یہ نہ تھی کہ انہیں حضرت موسیٰ ؑ کے صادق اور ان کی دعوت کے حق ہونے میں کوئی شک تھا، بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ اور خصوصًا ان کے اکابر و اشراف، حضرت موسیٰ ؑ کا ساتھ دے کر اپنے آپ کو فرعون کی سخت گیری کے خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اگرچہ یہ لوگ نسل اور مذہبی دونوں حیثیتوں سے ابراہیم، اسحاق، یعقوب اور یوسف (علیہم السلام) کے امتی تھے اور اس بنا پر ظاہر ہے کہ سب مسلمان تھے، لیکن ایک مدت دراز کے اخلاقی انحطاط نے اور اس پست ہمتی نے جو زیردستی سے پیدا ہوئی تھی، ان میں اتنا بل بوتا باقی نہ چھوڑا تھا کہ کفر و ضلالت کی فرمانروائی کے مقابلہ میں ایمان و ہدایت کا علم لے کر خود اٹھتے، یا جو اٹھا تھا اس کا ساتھ دیتے۔
حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کی اس کشمکش میں عام اسرائیلیوں کا طرز عمل کیا تھا، اس کا اندازہ بائیبل کی اس عبارت سے ہوسکتا ہے
”جب وہ فرعون کے پاس سے نکلے آرہے تھے تو ان کو موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ ملاقات کے لیے راستہ پر کھڑے ملے۔ تب انہوں نے ان سے کہا کہ خداوند ہی دیکھے اور تمہارا انصاف کرے، تم نے تو ہم کو فرعون اور اس کے خادموں کی نگاہ میں ایسا گھنونا کیا ہے کہ ہمارے قتل کے لیے ان کے ہاتھ میں تلوار دے دی ہے“۔ (خروج 6 20 – 21)
تَلمُود میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) سے کہتے تھے
”ہماری مثال تو ایسی ہے جیسے ایک بھیڑیے نے بکری کو پکڑا اور چرواہے نے آکر اس کو بچانے کی کوشش کی اور دونوں کی کشمکش میں بکری کے ٹکڑے ہوگئے۔ بس اسی طرح تمہاری اور فرعون کی کھینچ تان میں ہمارا کام تمام ہو کر رہے گا“۔
انہی باتوں کی طرف سورة اعراف میں بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ اُوْ ذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْ تِیَنَا وَمِنْم بَعْدِ مَا جِئْتَنَا (آیت 12)۔
سورة یُوْنُس 80
متن میں لفظ مُسْرِفِیْنَ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنے والا۔ مگر اس لفظی ترجمے سے اس کی اصل روح نمایاں نہیں ہوتی۔ مسرفین سے مراد دراصل وہ لوگ ہیں جو اپنے مطلب کے لیے کسی برے سے برے طریقے کو بھی اختیار کرنے میں تامل نہیں کرتے۔ کسی ظلم اور کسی بداخلاقی اور کسی وحشت و بربریت کے ارتکاب سے نہیں چوکتے۔ اپنی خواہشات کے پیچھے ہر انتہا تک جاسکتے ہیں۔ ان کے لیے کوئی حد نہیں جس پر جا کر وہ رک جائیں۔
Ayah 10:84سورة یُوْنُس 81
ظاہر ہے کہ یہ الفاظ کسی کافر قوم کو خطاب کر کے نہیں کہے جاسکتے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا یہ ارشاد صاف بتارہا ہے کہ بنی اسرائیل کی پوری قوم اس وقت مسلمان تھی، اور حضرت موسیٰ ؑ ان کو یہ تلقین فرما رہے تھے کہ اگر تم واقعی مسلمان ہو، جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے، تو فرعون کی طاقت سے خوف نہ کھاؤ بلکہ اللہ کی طاقت پر بھروسہ کرو۔
Ayahs 10:85–86سورة یُوْنُس 82
یہ جواب ان نوجوانوں کا تھا جو موسیٰ ؑ کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوئے تھے یہاں قالوا کی ضمیر قوم کی طرف نہیں بلکہ ذریہ کی طرف پھر رہی ہے جیسا کہ سیاق کلام سے خود ظاہر ہے۔
سورة یُوْنُس 83
ان صادق الایمان نوجوانوں کی یہ دعا کہ ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا، بڑے وسیع مفہوم پر حاوی ہے۔ گمراہی کے عالم غلبہ و تسلط کی حالت میں جب کچھ لوگ قیام حق کے لیے اٹھتے ہیں، تو انہیں مختلف قسم کے ظالموں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ایک طرف باطل کے اصلی علمبردار ہوتے ہیں جو پوری طاقت سے ان داعیان حق کو کچل دینا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف نام نہاد حق پرستوں کا ایک اچھا خاصا گروہ ہوتا ہے جو حق کو ماننے کا دعوی تو کرتا ہے مگر باطل کی قاہرانہ فرماں روائی کے مقابلہ میں اقامت حق کی سعی کو غیر واجب، لا حاصل، یا حماقت سمجھتا ہے اور اس کی انتہائی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنی خیانت کو جو وہ حق کے ساتھ کر رہا ہے کسی نہ کسی طرح درست ثابت کر دے اور ان لوگوں کو الٹا برسر باطل ثابت کر کے اپنے ضمیر کی اس خلش کو مٹائے جو ان کی دعوت اقامت دین حق سے اس کے دل کی گہرائیوں میں جلی یا خفی طور پر پیدا ہوتی ہے۔ تیسری طرف عامۃ الناس ہوتے ہیں جو الگ کھڑے تماشا دیکھ رہے ہوتے ہیں اور ان کا ووٹ آخر کار اسی طاقت کے حق میں پڑا کرتا ہے جس کا پلہ بھاری رہے، خواہ وہ طاقت حق ہو یا باطل۔ اس صورت حال میں ان داعیان حق کی ہر ناکامی، ہر مصیبت، ہر غلطی، ہر کمزوری اور ہر خامی ان مختلف گروہوں کے لیے مختلف طور پر فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ کچل ڈالے جائیں یا شکست کھا جائیں تو پہلا گروہ کہتا ہے کہ حق ہمارے ساتھ تھا نہ کہ ان بیوقوفوں کے ساتھ جو ناکام ہوگئے۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ دیکھ لیا ! ہم نہ کہتے تھے کہ ایسی بڑی بڑی طاقتوں سے ٹکرانے کا حاصل چند قیمتی جانوں کی ہلاکت کے سوا کچھ نہ ہوگا، اور آخرکار اس تہلکہ میں اپنے آپ کو ڈالنے کا ہمیں شریعت نے مکلف ہی کب کیا تھا، دین کے کم سے کم ضروری مطالبات تو ان عقائد و اعمال سے پورے ہو ہی رہے تھے جن کی اجازت فراعنہ وقت نے دے رکھی تھی۔ تیسرا گروہ فیصلہ کردیتا ہے کہ حق وہی ہے جو غالب رہا۔ اسی طرح اگر وہ اپنی دعوت کے کام میں کوئی غلطی کر جائیں یا مصائب و مشکلات کی سہار نہ ہونے کی وجہ سے کمزوری دکھا جائیں، یا ان سے، بلکہ ان کے کسی ایک فرد سے بھی کسی اخلاقی عیب کا صدور ہوجائے، تو بہت سے لوگوں کے لیے باطل سے چمٹے رہنے کے ہزار بہانے نکل آتے ہیں اور پھر اس دعوت کی ناکامی کے بعد مدت ہائے دراز تک کسی دوسری دعوت حق کے اٹھنے کا امکان باقی نہیں رہتا۔ پس یہ بڑی معنی خیز دعا تھی جو موسیٰ ؑ کے ان ساتھیوں نے مانگی تھی کہ خدایا ہم پر ایسا فضل فرما کہ ہم ظالموں کے لیے فتنہ بن کر نہ رہ جائیں۔ یعنی ہم کو غلطیوں سے خامیوں سے کمزوریوں سے بچا اور ہماری سعی کو دنیا میں بار آور کر دے، تاکہ ہمارا وجود تیری خلق کے لیے سبب خیر بنے نہ کہ ظالموں کے لیے وسیلہ شر۔
Ayah 10:87سورة یُوْنُس 84
اس آیت کے مفہوم میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ اس کے الفاظ پر اور اس ماحول پر جس میں یہ الفاظ ارشاد فرمائے گئے تھے غور کرنے سے میں یہ سمجھا ہوں کہ غالبا مصر میں حکومت کے تشدد سے اور خود بنی اسرائیل کے اپنے ضعف ایمانی کی وجہ سے اسرائیلی اور مصری مسلمانوں کے ہاں نماز باجماعت کا نظام ختم ہوچکا تھا۔ اور یہ ان کے شیرازے کے بکھرنے اور ان کی دینی روح پر موت طاری ہوجانے کا ایک بہت بڑا سبب تھا۔ اس لیے حضرت موسیٰ ؑ کو حکم دیا گیا کہ اس نظام کو از سر نو قائم کریں اور مصر میں چند مکان اس غرض کے لیے تعمیر یا تجویز کرلیں کہ وہاں اجتماعی نماز ادا کی جایا کرے۔ کیونکہ ایک بگڑی ہوئی اور بکھری ہوئی مسلمان قوم میں دینی روح کو پھر سے زندہ کرنے اور اس کی منتشر طاقت کو از سر نو مجتمع کرنے کے لیے اسلامی طرز پر جو کوشش بھی کی جائے گی اس کا پہلا قدم لازما یہی ہوگا کہ اس میں نماز باجماعت کا نظام قائم کیا جائے۔ ان مکانوں کو قبلہ ٹھیرانے کا مفہوم میرے نزدیک یہ ہے کہ ان مکانوں کو ساری قوم کے لیے مرکز اور مرجع ٹھیرایا جائے، اور اس کے بعد ہی نماز قائم کرو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ متفرق طور پر اپنی اپنی جگہ نماز پڑھ لینے کے بجائے لوگ ان مقرر مقامات پر جمع ہو کر نماز پڑھا کریں، کیونکہ قرآن کی اصطلاح میں اقامت صلوۃ جس چیز کا نام ہے اس کے مفہوم میں لازما نماز باجماعت بھی شامل ہے۔
سورة یُوْنُس 85
یعنی اہل ایمان پر مایوسی علیہ السلام، مرعوبیت اور پژمردگی کی جو کیفیت اس وقت چھائی ہوئی ہے اسے دور کرو۔ انہیں پرامید بناؤ اور ان کی ہمت بندھاؤ اور ان کا حوصلہ بڑھاؤ، بشارت دینے کے لفظ میں یہ سب معنی شامل ہیں۔
Ayah 10:88سورة یُوْنُس 86
اوپر کی آیات حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور یہ دعا زمانہ قیام مصر کے بالکل آخری زمانے کی ہے۔ بیچ میں کئی برس کا طویل فاصلہ ہے جس کی تفصیلات کو یہاں نظر انداز کردیا گیا ہے۔ دوسرے مقامات پر قرآن میں اس بیچ کے دور کا بھی مفصل حال بیان ہوا ہے۔
سورة یُوْنُس 87
یعنی ٹھاٹھ، شان و شوکت اور تمدن وتہذیب کی وہ خوش نمائی جس کی وجہ سے دنیا ان پر اور ان کے طور طریقوں پر ریجھتی ہے اور ہر شخص کا دل چاہتا ہے کہ ویسا ہی بن جائے جیسے وہ ہیں۔
سورة یُوْنُس 88
یعنی ذرائع اور وسائل جن کی فراوانی کی وجہ سے وہ اپنی تدبیروں کو عمل میں لانے کے لیے ہر طرح کی آسانیاں رکھتے ہیں اور جن کے فقدان کی وجہ سے اہل حق اپنی تدبیروں کو عمل میں لانے سے عاجز رہ جاتے ہیں۔
سورة یُوْنُس 89
جیسا کہ ابھی ہم بتا چکے ہیں، یہ دعا حضرت موسیٰ ؑ نے زمانہ قیام مصر کے بالکل آخری زمانے میں کی تھی، اور اس وقت کی تھی جب پے در پے نشانات دیکھ لینے اور دین کی حجت پوری ہوجانے کے بعد بھی فرعون اور اس کے اعان سلطنت حق کی دشمنی پر انتہائی ہٹ دھرمی کے ساتھ جمے رہے۔ ایسے موقع پر پیغمبر جو بددعا کرتا ہے وہ ٹھیک ٹھیک وہی ہوتی ہے جو کفر پر اصرار کرنے والوں کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے، یعنی یہ کہ پھر انہیں ایمان کی توفیق نہ بخشی جائے۔
Ayah 10:89سورة یُوْنُس 90
جو لوگ حقیقت کو نہیں جانتے اور اللہ تعالیٰ کی مصلحتوں کو نہیں سمجھتے وہ باطل کے مقابلہ میں حق کی کمزوری، اور اقامت حق کے لیے سعی کرنے والوں کی مسلسل ناکامیاں اور ائمہ باطل کے ٹھاٹھ اور ان کی دنیوی سرفرازیاں دیکھ کر یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ کو یہی منظور ہے کہ اس کے باغی دنیا پر چھائے رہیں، اور شاید حضرت حق خود ہی باطل کے مقابلہ میں حق کی تائید کرنا نہیں چاہتے۔ پھر وہ نادان لوگ آخرکار اپنی بدگمانیوں کی بنا پر یہ نتیجہ نکال بیٹھتے ہیں کہ اقامت حق کی سعی لاحاصل ہے اور اب مناسب یہی ہے کہ اس ذرا سی دینداری پر راضی ہو کر بیٹھ رہا جائے جس کی اجازت کفروفسق کی سلطانی میں مل رہی ہو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو اور ان کے پیرؤوں کو اسی غلطی سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے ارشاد خداوندی کا منشا یہ ہے کہ صبر کے ساتھ انہی ناموافق حالات میں کام کیے جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں بھی وہی غلط فہمی ہوجائے جو ایسے حالات میں جاہلوں اور نادانوں کو عموما لاحق ہوجایا کرتی ہے۔
Ayahs 10:90–91سورة یُوْنُس 91
بائیبل میں اس واقعہ کا کوئی ذکر نہیں ہے، مگر تلمود میں تصریح ہے کہ ڈوبتے وقت فرعون نے کہا میں تجھ پر ایمان لاتا ہوں اے خداوند تیرے سوا کوئی خدا نہیں۔
Ayah 10:92سورة یُوْنُس 92
آج تک وہ مقام جزیرہ نمائے سینا کے مغربی ساحل پر موجود ہے جہاں فرعون کی لاش سمندر میں تیری ہوئی پائی گئی تھی۔ اس کو موجودہ زمانے میں جبل فرعون کہتے ہیں اور اسی کے قریب ایک گرم چشمہ ہے جس کو مقامی آبادی نے حمام فرعون کے نام سے موسوم کر رکھا ہے۔ اس کی جائے وقوع ابو زنیمہ سے چند میل اوپر شمال کی جانب ہے، اور علاقے کے باشندے اسی جگہ کی نشان دہی کرتے ہیں کہ فرعون کی لاش یہاں پڑی ہوئی ملی تھی۔ اگر یہ ڈوبنے والا وہی فرعون منفتہ ہے جس کو زمانہ حال کی تحقیق نے فرعون موسیٰ قرار دیا ہے تو اس کی لاش آج تک قاہرہ کے عجائب خانے میں موجود ہے۔ سن 1907 میں سر گرافٹن الیٹ سمتھ نے اس کی ممی پر سے جب پٹیاں کھولی تھیں تو اس کی لاش پر نمک کی ایک تہ جمی ہوئی پائی گئی تھی جو کھاری پانی میں اس کی غرقابی کی ایک کھلی علامت تھی۔
سورة یُوْنُس 93
یعنی ہم تو سبق آموز اور عبرت انگیز نشانات دکھائے ہی جائیں گے اگرچہ اکثر انسانوں کا حال یہ ہے کہ کسی بڑی سے بڑی عبرتناک نشانی کو دیکھ کر بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلتی۔
Ayahs 10:93–94سورة یُوْنُس 94
یعنی مصر سے نکلنے کے بعد ارض فلسطین
سورة یُوْنُس 95
مطلب یہ ہے کہ بعد میں انہوں نے اپنے دین میں جو تفرقے برپا کیے اور نئے نئے مذہب نکالے اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کو حقیقت کا علم نہیں دیا گیا تھا اور ناواقفیت کی بنا پر انہوں نے مجبورا ایسا کیا، بلکہ فی الحقیقت یہ سب کچھ ان کے اپنے نفس کی شرارتوں کا نتیجہ تھا۔ خدا کی طرف سے تو انہیں واضح طور پر بتادیا گیا تھا کہ دین حق یہ ہے، یہ اس کے اصول ہیں، یہ اس کے تقاضے اور مطالبے ہیں، یہ کفر واسلام کے امتیازی حدود ہیں، طاعت اس کو کہتے ہیں، معصیت اس کا نام ہے، ان چیزوں کی بازپرس خدا کے ہاں ہونی ہے، اور یہ وہ قواعد ہیں جن پر دنیا میں تمہاری زندگی قائم ہونی چاہیے، مگر ان صاف صاف ہدایتوں کے باوجود انہوں نے ایک دین کے بیسیوں دین بنا ڈالے اور خدا کی دی ہوئی بنیادوں کو چھوڑ کر کچھ دوسری ہی بنیادوں پر اپنے مذہبی فرقوں کی عمارتیں کھڑی کرلیں۔
Ayah 10:95سورة یُوْنُس 96
یہ خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے مگر دراصل بات ان لوگوں کو سنانی مقصود ہے جو آپ کی دعوت میں شک کر رہے تھے۔ اور اہل کتاب کا حوالہ اس لیے دیا گیا ہے کہ عرب کے عوام تو آسمانی کتابوں کے علم سے بےبہرہ تھے، ان کے لیے یہ آواز ایک نئی آواز تھی، مگر اہل کتاب کے علماء میں سے جو لوگ متدین اور منصف مزاج تھے وہ اس امر کی تصدیق کرسکتے تھے کہ جس چیز کی دعوت قرآن دے رہا ہے یہ وہی چیز ہے جس کی دعوت تمام پچھلے انبیاء (علیہم السلام) دیتے رہے ہیں۔
Ayahs 10:96–97سورة یُوْنُس 97
یعنی یہ قول کہ جو لوگ خود طالب حق نہیں ہوتے، اور جو اپنے دلوں پر ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کے قفل چڑھائے اور جو دنیا کے عشق میں مدہوش اور عاقبت سے بےفکر ہوتے ہیں انہیں ایمان کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔
Ayah 10:98سورة یُوْنُس 98
یونس ؑ جن کا نام بائیبل میں یوناہ ہے اور جن کا زمانہ سن 784 سے سن 860 ء قبل مسیح کے درمیان بتایا جاتا ہے ! اگرچہ اسرائیلی نبی تھے، مگر ان کو اشور (اسیریا) والوں کی ہدایت کے لیے عراق بھیجا گیا تھا اور اسی بنا پر اشوریوں کو یہاں قوم یونس کہا گیا ہے۔ اس قوم کا مرکز اس زمانہ میں نینوی کا مشہور شہر تھا جس کے وسیع کھنڈرات آج تک دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر موجودہ موصل کے عین مقابل پائے جاتے ہیں اور اسی علاقے میں یونس ؑ نبی کے نام سے ایک مقام بھی موجود ہے۔ اس قوم کے عروج کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ اس کا دارالسلطنت نینوی تقریبا 60 میل کے دور میں پھیلا ہوا تھا۔
سورة یُوْنُس 99
قرآن میں اس قصہ کی طرف تین جگہ صرف اشارات کیے گئے ہیں، کوئی تفصیل نہیں دی گئی (ملاحظہ ہو سورة انبیاء آیات 87، 88۔ الصافات 139، 148 القلم 48 تا 50) اس لیے یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ قوم کن خاص وجوہ کی بنا پر خدا کے اس قانون سے مستثنی کی گئی کہ عذاب کا فیصلہ ہوجانے کے بعد کسی کا ایمان اس کے لیے نافع نہیں ہوتا، بائیبل میں یوناہ کے نام سے جو مختصر سا صحیفہ ہے اس میں کچھ تفصیل تو ملتی ہے مگر وہ چنداں قابل اعتماد نہیں ہے۔ کیونکہ اول تو نہ وہ آسمانی صحیفہ ہے، نہ خود یونس ؑ کا اپنا لکھا ہوا ہے، بلکہ ان کے چار پانچ سو برس بعد کسی نامعلوم شخص نے اسے تاریخ یونس کے طور پر لکھ کر مجموعہ کتب مقدسہ میں شامل کردیا ہے۔ دوسرے اس میں بعض صریح مہملات بھی پائے جاتے ہیں جو ماننے کے قابل نہیں ہیں۔ تاہم قرآن کے اشارات اور صحیفہ یونس کی تفصیلات پر غور کرنے سے وہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔ جو مفسرین قرآن نے بیان کی ہے کہ حضرت یونس ؑ چونکہ عذاب کی اطلاع دینے کے بعد اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اپنا مستقر چھوڑ کر چلے گئے تھے، اس لیے جب آثار عذاب دیکھ کر آشوریوں نے توبہ و استغفار کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا۔ قرآن مجید میں خدائی دستور کے جو اصول وکلیات بیان کیے گئے ہیں ان میں ایک مستقل دفعہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک اس پر اپنی حجت پوری نہیں کرلیتا۔ پس جب نبی نے اس قوم کی مہلت کے آخری لمحے تک نصیحت کا سلسلہ جاری نہ رکھا اور اللہ کے مقرر کردہ وقت سے پہلے بطور خود ہی وہ ہجرت کر گیا، تو اللہ تعالیٰ کے انصاف نے اس کی قوم کو عذاب دینا گوارا نہ کیا کیونکہ اس پر اتمام حجت کی قانونی شرائط پوری نہیں ہوئی تھیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة الصافات، 85)
سورة یُوْنُس 100
مطلب یہ ہے کہ آخرکار معاملہ اس خدا کے ساتھ ہے جس سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی۔ اس لیے بالفرض اگر کوئی شخص دنیا میں اپنے نفاق کو چھپانے میں کامیاب ہوجائے اور انسان جن جن معیاروں پر کسی کے ایمان و اخلاص کو پرکھ سکتے ہیں ان سب پر بھی پورا اتر جائے تو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ نفاق کی سزا پانے سے بچ نکلا ہے۔
Ayah 10:99سورة یُوْنُس 101
یہ لوگ ایسے تھے جن کا معاملہ مشکوک تھا۔ نہ ان کے منافق ہونے کا فیصلہ کیا جاسکتا تھا نہ گناہگار مومن ہونے کا ان دونوں چیزوں کی علامات ابھی پوری طرح نہ ابھری تھیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے معاملہ کو ملتوی رکھا۔ نہ اس معنی میں کہ فی الواقع خدا کے سامنے معاملہ مشکوک تھا، بلکہ اس معنی میں کہ مسلمانوں کو کسی شخص یا گروہ کے معاملہ میں اپنا طرز عمل اس وقت تک متعین نہ کرنا چاہیے کہ جب تک اس کی پوزیشن ایسی علامات سے واضح نہ ہوجائے جو علم غیب سے نہیں بلکہ حس اور عقل سے جانچی جاسکتی ہوں۔
Ayah 10:100سورة یُوْنُس 103
یعنی جس طرح تمام نعمتیں تنہا اللہ کے اختیار میں ہیں اور کوئی شخص کسی نعمت کو بھی اللہ کے اذن کے بغیر نہ خود حاصل کرسکتا ہے نہ کسی دوسرے شخص کو بخش سکتا ہے، اسی طرح یہ نعمت بھی کہ کوئی شخص صاحب ایمان ہو اور راہ راست کی طرف ہدایت پائے اللہ کے اذن پر منحصر ہے۔ کوئی شخص نہ اس نعمت کو اذن الہی کے بغیر خود پاسکتا ہے، اور نہ کسی انسان کے اختیار میں یہ ہے کہ جس کو چاہے یہ نعمت عطا کر دے۔ پس نبی اگر سچے دل سے یہ چاہے بھی کہ لوگوں کو مومن بنا دے تو نہیں بنا سکتا۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا اذن اور اس کی توفیق درکار ہے۔
سورة یُوْنُس 104
”سیدھی راہ“ یعنی وہ راہ جس سے انسان بامراد ہوتا اور حقیقی کامیابی کی منزل پر پہنچتا ہے۔
Ayahs 10:101–103سورة یُوْنُس 105
یہ ان کے اس مطالبہ کا آخری اور قطعی جواب ہے جو وہ ایمان لانے کے لیے شرط کے طور پر پیش کرتے تھے کہ ہمیں کوئی نشانی دکھائی جائے جس سے ہم کو یقین آجائے کہ تمہاری نبوت سچی ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ اگر تمہارے اندر حق کی طلب اور قبول حق کی آمادگی ہو تو وہ بےحدوحساب نشانیاں جو زمین و آسمان میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں تمہیں پیغام محمدی کی صداقت کا اطمینان دلانے کے لیے کافی سے زیادہ ہیں۔ صرف آنکھیں کھول کر انہیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر یہ طلب اور یہ آمادگی ہی تمہارے اندر موجود نہیں ہے تو پھر کوئی نشانی بھی، خواہ وہ کیسی ہی خارق عادت اور عجیب و غریب ہو، تم کو نعمت ایمان سے بہرہ ور نہیں کرسکتی۔ ہر معجزے کو دیکھ کر تم فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف کہو گے کہ یہ تو جادوگری ہے۔ اس مرض میں جو لوگ مبتلا ہوتے ہیں ان کی آنکھیں صرف اس وقت کھلا کرتی ہیں جب خدا کا قہروغضب اپنی ہولناک سختی گیری کے ساتھ ان پر ٹوٹ پڑتا ہے جس طرح فرعون کی آنکھیں ڈوبتے وقت کھلی تھیں۔ مگر عین گرفتاری کے موقع پر جو توبہ کی جائے اس کی کوئی قیمت نہیں۔
Ayah 10:104سورة یُوْنُس 106
جس مضمون سے تقریر کی ابتدا کی گئی تھی اسی پر اب تقریر کو ختم کیا جا رہا ہے۔ تقابل کے لیے پہلے رکوع کے مضمون پر پھر ایک نظر ڈال لی جائے۔
سورة یُوْنُس 107
متن میں لفظ يَتَوَفّٰىكُمْ ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے " جو تمہیں موت دیتا ہے۔ " لیکن اس لفظی ترجمے سے اصل روح ظاہر نہیں ہوتی۔ اس ارشاد کی روح یہ ہے کہ " وہ جس کے قبضے میں تمہاری جان ہے، جو تم پر ایسا مکمل حاکمانہ اقتدار رکھتا ہے کہ جب تک اس کی مرضی ہو اسی وقت تک تم جی سکتے ہو اور جس وقت اس کا اشارہ ہوجائے اسی آن تمہیں اپنی جان اس جان آفرین کے حوالے کر دینی پڑتی ہے، میں صرف اسی کی پرستش اور اسی کی بندگی و غلامی اور اسی کی اطاعت و فرمانبرداری کا قائل ہوں۔ " یہاں اتنا اور سمجھ لینا چاہیے کہ مشرکین مکہ یہ مانتے تھے اور آج بھی ہر قسم کے مشرک یہ تسلیم کرتے ہیں کہ موت صرف اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے، اس پر کسی دوسرے کا قابو نہیں ہے۔ حتی کہ جن بزرگوں کو یہ مشرکین خدائی صفات و اختیارات میں شریک ٹھیراتے ہیں ان کے متعلق بھی وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی خود اپنی موت کا وقت نہیں ٹال سکا ہے۔ پس بیان مدعا کے لیے اللہ تعالیٰ کی بیشمار صفات میں سے کسی دوسری صفت کا ذکر کرنے کے بجائے یہ خاص صفت کہ " وہ جو تمہیں موت دیتا ہے، یہاں اس لیے انتخاب کی گئی ہے کہ اپنا مسلک بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے صحیح ہونے کی دلیل بھی دے دی جائے۔ یعنی سب کو چھوڑ کر میں اس کی بندگی اس لیے کرتا ہوں کہ زندگی و موت پر تنہا اسی کا اقتدار ہے۔ اور اس کے سوا دوسروں کی بندگی آخر کیوں کروں جب کہ وہ خود اپنی زندگی و موت پر بھی اقتدار نہیں رکھتے کجا کہ کسی اور کی زندگی و موت کے مختار ہوں۔ پھر کمال بلاغت یہ ہے کہ " وہ مجھے موت دینے والا ہے " کہنے کے بجائے " وہ جو تمہیں موت دیتا ہے۔ " فرمایا۔ اس طرح ایک ہی لفظ میں بیان مدعا، دلیل مدعا، اور دعوت الی المدعی، تینوں فائدے جمع کردیے گئے ہیں۔ اگر یہ فرمایا جاتا کہ " میں اس کی بندگی کرتا ہوں جو مجھے موت دینے والا ہے " تو اس سے صرف یہی معنی نکلتے کہ " مجھے اس کی بندگی کرنی ہی چاہیے "۔ اور تم یہ غلطی کر رہے ہو کہ اس کے سوا دوسروں کی بندگی کیے جاتے ہو۔