Ayah 79:41البتہ وہ لوگ جو اپنے رب کے حضور پیشی سے ڈرتے رہے اور دنیا کے پیچھے بھاگنے کے بجائے جنھوں نے اپنے نفس کو خواہشوں کی پیروی سے روکا تو ان کا ٹھکانہ بس جنت ہی ہو گی وہ اس سے کبھی محروم نہ ہوں گے۔
Ayah 79:42نبی صلعم کو تسلی:
یہ اور اس کے بعد خاتمۂ سورہ کی آیات ہیں جن میں نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی پروا نہ کرو جو تمہیں زچ کرنے کے لیے قیامت کے ظہور کا وقت پوچھتے ہیں۔ تمہارا کام اس سے لوگوں کو آگاہ کر دینا ہے تاکہ جو متنبہ ہونا چاہیں وہ متنبہ ہو جائیں۔ رہے وہ جو اس کو دیکھ کر ماننا چاہتے ہیں اور اس کے ظہور کا وقت معلوم کرنے کے درپے ہیں ان کو مطمئن کرنا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ انھوں نے محض اس کی تکذیب کے لیے ایک بہانہ بنایا ہے۔
’اَیَّانَ مُرْسَاہَا‘۔ یعنی یہ اس کے ظہور کے وقت سے متعلق سوال کرتے ہیں۔ ’اَیَّانَ‘ وقت مستقبل سے متعلق سوال کے لیے آتا ہے اس وجہ سے اس کا ترجمہ میرے نزدیک ’کہاں‘ صحیح نہیں ہو گا بلکہ ’کب‘ ہونا چاہیے۔
’مُرْسٰی‘ کے معنی لنگرانداز ہونے کے ہیں۔ اس لفظ میں یہاں ایک قسم کا طنز مضمر ہے۔ یعنی یہ منکرین پوچھتے ہیں کہ ہم کب سے یہ خبر سن رہے ہیں کہ بس قیامت آیا ہی چاہتی ہے لیکن اس کو نہ آنا تھا نہ آئی۔ آخر اس کا سفینہ ہمارے ساحل میں کب لنگرانداز ہو گا! اس کے انتظار میں تو ہماری آنکھیں پتھرا گئیں!
Ayahs 79:43–44فرمایا کہ تمہیں اس بحث سے کیا تعلق؟ اس کا سرا تو صرف تمہارے رب کے پاس ہے۔ تم ان لوگوں کو یہ بتانے نہیں آئے ہو کہ قیامت کس دن آئے گی۔ اس کا علم تمہارے رب کے سوا اور کسی کے پاس نہیں ہے تو جو سوال سرے سے تم سے معلق ہے ہی نہیں تمہیں اس سے کیا واسطہ اور تم اس کی کھوج کرید میں کیوں پڑو! اس کو اللہ کے حوالہ کرو جو اس کا حقیقی علم رکھنے والا ہے۔
Ayah 79:45جو لوگ قیامت کو دیکھ کر اس کو ماننا چاہتے ہیں ان کی ذمہ داری تمہارے اوپر نہیں ہے۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ تمہارا انذار صرف انہی پر کارگر ہو گا جو دلائل کی روشنی میں اس کو بن دیکھے ماننے اور اس سے ڈرنے کے لیے تیار ہوں۔
Ayah 79:46یعنی آج اگر ان کو یہ دکھائی نہیں جاتی یا اس کی تاریخ نہیں مقرر کی جاتی تو اس مغالطہ میں نہ رہیں کہ وہ اتنی دور ہے کہ اس کے لیے انھیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس دن اس کو دیکھیں گے اس دن کا احساس یہ ہو گا کہ گویا دنیا میں وہ ایک دن کے پچھلے یا اس کے پہلے پہر سے زیادہ نہیں رہے۔