Ayah 70:41وہ بات جس پر قسم کھائی گئی ہے:
’عَلٰی أَن نُّبَدِّلَ خَیْْرًا مِّنْہُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِیْنَ‘۔ یعنی ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ان کی جگہ ان سے بہتر مخلوق لائیں جو اللہ کے دین کو ماننے والی ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ان کو دوبارہ اس سے بہتر صورت میں پیدا کر دیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب ہم اس سے بہتر صورت میں پیدا کر دینے پر بھی قادر ہیں تو بعینہٖ انہی کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا ہمارے لیے اور بھی آسان ہے۔ عام طور پر لوگوں نے پہلے مطلب ہی کو اختیار کیا ہے اور زبان کے پہلو سے اس میں کوئی خرابی بھی نہیں ہے لیکن میرا رجحان دوسرے مطلب کی طرف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سورہ میں اصل زیربحث موضوع وقوع قیامت ہے جس کو مستبعد سمجھنے کی بڑی وجہ منکرین کے لیے یہی تھی کہ مر کھپ جانے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کو وہ خارج از امکان قرار دیتے تھے۔ آگے کی آیات سے اس خیال کی تائید ہوتی ہے۔
Ayah 70:42یہ آخر میں نبی ﷺ کے لیے تسلی اور منکرین کے لیے وعید ہے کہ اگر یہ لوگ نہیں سمجھتے تو ان کو چھوڑو۔ یہ جن سخن سازیوں اور دلچسپیوں میں لگے ہوئے ہیں ان میں لگے رہیں یہاں تک کہ وہ دن ان کے آگے آ جائے جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے اور وہ اس سے نچنت ہیں۔
Ayah 70:43لفظ ’نُصُبٌ‘ جمع ہے ’نَصِیْبٌ‘ کی جس کے ایک معنی گاڑے ہوئے پتھر کے ہیں۔ گاڑے ہوئے پتھر سے مراد وہ پتھر بھی ہو سکتے ہیں جو مشرکین اپنی نذریں اور قربانیاں پیش کرنے کے لیے گاڑتے تھے اور وہ پتھر بھی ہو سکتے ہیں جو دوڑ وغیرہ کے مقابلہ کے لیے نشان کے طور پر گاڑ دیے جاتے ہیں۔
ابن عباسؓ، مجاہدؒ اور ضحاکؒ اس سے مراد لیتے ہیں جس کو دوڑ لگانے کے لیے ایک نشان کے طور پر گاڑا جائے۔
ابوالعالیہؒ اور یحییٰ بن کثیرؒ اس سے ’غایت‘ (یعنی گول کا نشان) مراد لیتے ہیں جس کو نشان ٹھہرا کر اس کی طرف مقابلہ کی دوڑ لگائی جائے۔
’ایفاض‘ کے معنی ’اسراع‘ یعنی تیزی سے چلنے یا بھاگنے کے ہیں۔
میرے نزدیک لفظ ’نُصُبٌ‘ یہاں نشان اور عَلم ہی کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ متمردین اللہ کے داعی سے اکڑتے اور اس کی بتائی ہوئی راہ سے منحرف ہو کر دوسری راہوں پر چل رہے ہیں لیکن وہ دن بھی آنے والا ہے جب قیامت کا داعی اپنا صور پھونکے گا اور یہ قبروں سے نکل کر تیزی سے اس طرح اس کی طرف لپکیں گے گویا وہ دوڑ کے معین نشانوں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن ان کے سارے کَس بل نکل جائیں گے اور یہ کج روی ان کی ختم ہو جائے گی۔ قیامت کے داعی کی پکار پر جس طرح لوگ اس طرف بھاگیں گے اس کی تصویر قرآن میں یوں کھینچی گئی ہے:
’یَوْمَئِذٍ یَتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗ‘ (طٰہٰ ۲۰: ۱۰۸)
(جس دن وہ داعی کی پکار کی پیروی بغیر کسی کجی کے کریں گے)۔
یعنی جس طرح تیر سیدھا اپنے معین ہدف کی طرف جاتا ہے اسی طرح یہ داعی کی طرف لپکیں گے۔ عام طور پر لوگوں نے ’نُصُبٌ‘ سے معبودوں کے تھان اور استھان مراد لیے ہیں لیکن اول تو یہ اس لفظ کا ضمنی مفہوم ہے دوسرے تھان یا استھان کی طرف دوڑنے کا کوئی مفہوم سمجھ میں نہیں آتا۔ مشرکین کے متعلق اس قسم کی کوئی روایت بھی میرے علم میں نہیں ہے۔
Ayah 70:44یعنی آج تو اللہ کا رسول اس دن سے ان کو ڈراتا ہے تو اس کا منہ نوچنے کو دوڑتے ہیں لیکن جب قیامت کا داعی ان کو پکارے گا تو یہ اس کی طرف اس طرح لپکیں گے کہ خوف سے ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور ان کے چہروں پر ذلت چھائی ہوئی ہو گی۔۔۔ فرمایا کہ یہ وہ دن ہو گا جس کی ان کو وعید سنائی جاتی رہی ہے۔ یہاں اس سوال کو ذہن میں تازہ کر لیجیے جو پہلی آیت میں ’سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ‘ کے الفاظ سے نقل ہوا ہے۔ اس کے ضروری پہلوؤں پر بحث اور اس کی تصویر کے بعد یہ آخری آیت میں اس کا جواب دے دیا کہ یہ ہے وہ عذاب کا دن جس سے ان کو ڈرایا جاتا رہا لیکن وہ اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس طرح شروع سے آخر تک تمام کلام مربوط ہو گیا۔