Ayahs 69:41–42یہ وہی اوپر والی بات منفی اسلوب سے فرمائی ہے کہ نہ یہ کسی شاعر کا کلام ہے اور نہ کسی کاہن کا۔ اگر تم لوگ ایمان لانے والے اور یاددہانی کی قدر کرنے والے ہوتے تو تم پر ازخود یہ حقیقت واضح ہو جاتی کہ یہ کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہیں ہو سکتا۔ لیکن خرابی یہ ہے کہ تمہارے اندر ایمان کی خواہش اور بات کو سننے سمجھنے کی طلب ہی بہت کم پیدا ہوتی ہے اور جن کے اندر یہ طلب ہی نہ ہو وہ اسی طرح فرار کے بہانے تلاش کر لیتے ہیں۔
قرآن کو کسی شاعر یا کاہن کا کلام کیوں نہیں قرار دیا جا سکتا؟ اس کا مفصل جواب سورۂ شعراء میں دیا گیا ہے اور ہم نے اس کے تمام پہلوؤں کی وہاں وضاحت کی ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
مکذبین کے باطن کی تعبیر: ’قَلِیْلاً مَا تُؤْمِنُوۡنَ‘ اور ’قَلِیْلاً مَا تَذَکَّرُوۡنَ‘ میں دونوں فعل میرے نزدیک ارادۂ فعل کے معنی میں ہیں اور فعل کا ارادۂ فعل کے معنی میں آنا ایک معروف چیز ہے جس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ یہ ان کے اصل سبب اعراض پر روشنی ڈالی ہے کہ اگر تمہارے اندر ایمان لانے کا ارادہ پایا جاتا یا یاددہانی سے فائدہ اٹھانے کی خواہش ہوتی تب تو تم آسانی سے گہر اور پشیز میں امتیاز کر لیتے لیکن یہ ارادہ شاذ و نادر ہی تمہارے اندر پیدا ہوتا ہے۔
یہ بالکل ٹھیک ٹھیک ان مکذبین کے باطن کی تعبیر ہے۔ آخر قریش کے یہ لیڈر اتنے بدذوق اور غبی تو نہیں تھے کہ وہ اللہ کے کلام اور اپنے شاعروں اور کاہنوں کے کلام کے فرق کو نہ سمجھ سکیں۔ وہ اس فرق کو سمجھتے تھے اور گاہ گاہ ان کے اندر سچائی کے اعتراف کا جذبہ بھی ابھرتا رہا ہو گا لیکن نفس کی خواہشوں کے بوجھ تلے یہ جذبہ اس طرح دبا ہوا تھا کہ اول اول تو یہ ابھرتا ہی بہت کم تھا اور اگر کبھی ابھرتا بھی تو اتنا ضعیف ہوتا کہ وہ زندگی میں کوئی مؤثر تبدیلی نہ لا سکتا۔ بس کوئی ایسا ہی خوش قسمت ہوتا تو وہ اپنے نفس کے حجابات سے نکلنے میں کامیاب ہوتا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ حال قریش کے لیڈروں کا بیان ہو رہا ہے ان کے عوام کا حال نہیں بیان ہو رہا ہے۔ ان کی قیادت کے کردار کی تصویر پچھلی سورہ میں بھی سامنے آ چکی ہے۔
Ayah 69:43قرآن کا اصل منبع:
یہ وہی اوپر والی بات پھر مثبت پہلو سے فرمائی جا رہی ہے کہ یہ اللہ رب العٰلمین کی طرف سے اتارا ہوا کلام ہے۔ لفظ ’تنزیل‘ کے صحیح مفہوم کی وضاحت اس کے محل میں ہم کر چکے ہیں کہ ان کے اندر اہتمام اور تدریج کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ خاص طور پر شیاطین جن و انس کی دسترس سے اس کو محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو اہتمام فرمایا وہ جگہ جگہ قرآن میں بیان ہوا ہے اور ہم نے اس کی وضاحت کی ہے۔ ان شاء اللہ، اس کی مزید وضاحت سورۂ جن میں آئے گی۔
’مِّنْ رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ‘ سے اس کی عظمت و شان بھی ظاہر ہو رہی ہے اور اس کی تکذیب کی بدانجامی بھی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بادشاہ کائنات کا اتارا ہوا کلام ہے۔ اگر تم نے اس کی ناقدری کی تو تمہاری محرومی اور بدانجامی پر افسوس ہے۔
Ayah 69:44کفار کے الزام کا جواب:
یہ جواب ہے کفار کے اس الزام کا جو وہ آنحضرت ﷺ پر لگاتے تھے کہ یہ سب کچھ گھڑتے تو ہیں اپنے جی سے لیکن ہم پر دھونس یہ جماتے ہیں کہ یہ کلام ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کیا جاتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کو اپنا رسول بناتا ہے وہ اس کا سفیر اور وحی کی عظیم امانت کا حامل ہوتا ہے اس وجہ سے اس کی نگرانی بھی نہایت کڑی ہوتی ہے۔ مجال نہیں ہے کہ وہ اپنے جی سے اس میں کوئی رد و بدل کر سکے۔ اگر وہ سرمو بھی کوئی بات ہم سے غلط منسوب کرے تو ہم اس کو اپنے قوی بازو سے پکڑیں اور اس کی شہ رگ ہی کاٹ دیں پھر کوئی بھی اس کو ہم سے بچانے والا نہیں بن سکتا۔
یہ بات ایسے اسلوب میں فرمائی گئی ہے جس سے اس کڑی نگرانی کی بھی وضاحت ہو رہی ہے جو رسول کی، اس کی منصبی ذمہ داریوں کے سبب سے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور کفار کے اس مطالبہ کا جواب بھی اس میں آ گیا ہے جو وہ نبی ﷺ سے کرتے تھے کہ اس قرآن کو اگر ہم سے منوانا ہے تو یا تو اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا کم از کم یہ کہ اس میں ایسی ترمیم کرو کہ یہ ہمارے لیے لائق قبول ہو سکے۔ سورۂ یونس میں ان کے اس مطالبہ اور اس کے جواب کا یوں حوالہ آیا ہے:
وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ آیَاتُنَا بَیِّنَاتٍ قَالَ الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَآءَ نَا ائۡتِ بِقُرْآنٍ غَیْرِ ہٰذَآ أَوْ بَدِّلْہُ قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْ أَنْ أُبَدِّلَہُ مِنۡ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ اِنْ أَتَّبِعُ اِلاَّ مَا یُوحٰٓی اِلَیَّ اِنِّیْ أَخَافُ اِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (یونس ۱۰: ۱۵)
’’اور جب ان کو ہماری نہایت واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جو ہماری ملاقات کی توقع نہیں رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یا تو اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں تبدیلی کرو۔ ان کو جواب دے دو کہ مجھے کیا حق ہے کہ میں اپنی چاہت سے اس میں کوئی تبدیلی کروں۔ میں تو بس اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔‘‘
Ayah 69:45’لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ‘ کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے ’ہم اس کا (پیغمبر کا) دہنا پکڑتے‘ کیا ہے لیکن مجھے یہ ترجمہ صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ عربیت کے قاعدہ سے اس کا ترجمہ ’ہم اس کو اپنے قوی بازو سے پکڑتے‘ ہونا چاہیے۔ میں نے یہی ترجمہ کیا ہے اور تفسیر ابن جریر دیکھی تو اس سے بھی اسی کی تائید ہوئی۔
Ayah 69:46’ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ‘۔ ’وَتِیْن‘ کے معنی شہ رگ، رگ جاں یا رگ دل کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم اس سے کچھ دور نہیں ہیں۔ ہماری چٹکیوں میں تو اس کی شہ رگ ہے۔ ہم اسی کو مسل دیتے اور وہ چشم زدن میں ختم ہو جاتا۔
Ayah 69:47’فَمَا مِنۡکُمۡ مِّنْ اَحَدٍ عَنْہُ حَاجِزِیْنَ‘۔ یہ قریش سے خطاب ہے کہ قرآن میں اپنے حسب منشا ترمیم کا مطالبہ تو کر رہے ہو لیکن خدا کی گرفت سے اس کو تم میں سے بچانے والا کون بنے گا! لفظ ’اَحَد‘ چونکہ جمع کے مفہوم میں آتا ہے جیسے ’لَسْتُنَّ کَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ‘ (الاحزاب ۳۳: ۳۲) میں ہے۔ اس وجہ سے ’حَاجِزِیْنَ‘ کا جمع آنا عربیت کے بالکل مطابق ہے۔
رسولوں کی حفاظت ان کی ذمہ داری کے اعتبار سے ہوتی ہے: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس طرح کی کڑی نگرانی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی کرتا ہے جن کو وہ منصب رسالت پر مامور فرماتا ہے اس لیے کہ ان کی تحویل میں وحی کا خزانہ ہوتا ہے جس کی حفاظت ضروری ہے۔ اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ جو شخص بھی خدا پر جھوٹ بولے اس کی گردن توڑ دی جائے۔ جھوٹ بولنا تو درکنار کتنے ہیں جو خدا کو گالی دیتے ہیں لیکن اس دنیا میں ان کو بھی مہلت ملی ہوئی ہے۔ وہ اپنا انجام آخرت میں بھگتیں گے۔ البتہ خدا کا کوئی سچا رسول نہ خدا پر کوئی افترا کر سکتا اور نہ کسی کے دباؤ سے اس کے پیغام میں کوئی کمی بیشی کر سکتا۔ رسولوں کو جو عصمت حاصل ہوتی ہے اس کی حکمت بھی یہی ہے کہ ان کی امانت میں خدا کی شریعت ہوتی ہے۔ ان کی معمولی بھول چوک اور غلطی پوری خلق کے لیے موجب فتنہ بن سکتی ہے اس وجہ سے ان سے کوئی معمولی فروگزاشت بھی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو فوراً درست فرما دیتا ہے۔ دوسروں کو یہ حفاظت حاصل نہیں ہوتی کیونکہ وہ اس ذمہ داری پر مامور نہیں ہوتے جس پر حضرات انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں۔
Ayah 69:48رسول کو تسلی:
یعنی لا خیرے اور محروم القسمت قسم کے لوگ اگر اس عظیم رحمت کی قدر نہیں کر رہے تو یہ ان کی اپنی محرومی ہے۔ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ اس سے یاددہانی حاصل کرتے ہیں اور کریں گے اور وہی مقصود ہیں۔ یہ نعمت درحقیقت اللہ نے اتاری ہی انہی کے لیے ہے۔ اس میں پیغمبر ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ اگر ناقدرے اس کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو اس سے دل برداشتہ نہ ہو۔ آخر اس کی قدر کرنے والے بھی تو ہیں!
Ayah 69:49مخالفین کو وعید:
یہ مخالفین کو تہدید و وعید ہے کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ تمہارے اندر اس کو جھٹلانے والے ہیں اور وہ کون ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ جو تکذیب کر رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ ہم سے وہ مخفی نہیں ہیں۔ اور جب وہ مخفی نہیں ہیں تو وہ اپنا انجام دیکھیں گے!
Ayah 69:50یعنی آج تو اس کی تکذیب کر رہے ہیں اور اپنے اس کارنامے پر بہت مگن ہیں لیکن عنقریب وہ دن بھی آنے والا ہے جب یہ کافروں کے لیے سبب حسرت بنے گا اور وہ اپنی بدبختی پر اپنے سر پیٹیں گے کہ انھوں نے اس کی تکذیب کر کے کیوں اپنی یہ شامت بلائی!
Ayah 69:51یعنی یہ کوئی ہوائی بات نہیں بلکہ ایک حق یقینی ہے۔ یہ قرآن جس روز جزا و سزا سے خبردار کر رہا ہے وہ لازماً پیش آئے گا۔
ابتدائی آیات: ’الْحَاقَّۃُ ۵ مَا الْحَاقَّۃُ ۵ وَمَا اَدْرٰکَ مَا الْحَاقَّۃُ‘ (۱-۳) میں جو بات فرمائی ہے اسی کی یاددہانی سورہ کے خاتمہ پر ایک دوسرے اسلوب میں کر دی۔ گویا سورہ جس مضمون سے چلی تھی اسی کی یاددہانی پر ختم ہوئی۔ یہ اسلوب قرآن کی بیشتر سورتوں میں اختیار فرمایا گیا ہے اور یہ قرآن میں نظم کے وجود کی ایک واضح دلیل ہے۔
Ayah 69:52یہ نبی ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ جو جھٹلا رہے ہیں ان کی روش سے بددل نہ ہو بلکہ صبر و انتظار اور اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ یہ تسبیح تمہارے لیے حصول صبر اور قوت و اعتماد کا ذریعہ ہو گی۔ اللہ تعالیٰ بڑی قدرت و عظمت والا ہے۔ جب وقت آ جائے گا تو وہ ان سرکشوں کو دکھا دے گا کہ اس کی ہر بات کس طرح پوری ہوتی ہے۔