Ayahs 4:58–62آیت 58-59
ہر وہ چیز جس پر انسان کو امین بنایا جائے اور اس کے انتظام کی ذمہ داری اس کے سپرد کی جائے، امانت کہلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ امانتیں بغیر کسی کمی اور بغیر کسی ٹال مٹول کے پوری کی پوری ادا کردیں۔ اس میں عہدوں کی امانت، اموال کی امانت، بھید اور رازوں کی امانت اور ان مامورات کی امانت جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، سب شامل ہیں۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کوئی امانت جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، سب شامل ہیں۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کوئی امانت رکھی جائے اس پر اس کی حفاظت کرنا واجب ہے۔ چونکہ امانت کی حفاظت کئے بغیر اس کو واپس ادا کرنا ممکن نہیں، اس لئے حفاظت واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (الی اھلھا) ” اس کے مالک کی طرف “ میں اس بات کی دلیل ہے کہ امانت صرف اسی شخص کو لوصائی جائے اور ادا کی جائے جو اس کا مالک ہے اور وکیل مالک ہی کے قائم مقام ہے۔ اگر وہ امانت مالک کے سوا کسی اور شخص کے حوالے کر دے تو اس نے امانت ادا نہیں کی۔
(واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل) ” اور جب تم لوگوں کے درمیا فیصلہ کرو تو انصاف کے مطابق کرو “ یہ حکم ان کے درمیا نقتل کے مقدمات، مالی مقدمات اور عزت و آبرو کے مقدمات، خواہ یہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سب کو شامل ہے اور اس کا اطلاق قریب، بعید، صالح، فاجر، دوست اور دشمن سب پر ہوتا ہے۔ وہ عدل جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں حکم دیا ہے اس سے مراد حدود و احکام میں عدل کے وہ ضابطے ہیں جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی زبان پر مشروع فرمایا ہے۔ یہ حکم معرفت عدل کو مستلزم ہے تاکہ اس کے مطابق فیصلہ کیا جاسکے۔
چونکہ یہ احکام بہت اچھے اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ان اللہ نعما یعظکم بہ ان اللہ کان سمعیاً بصیرات) ” اللہ تم کو اچھی نصیحت کرتا ہے، بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے اوامرو نواہی کی مدح و تعریف ہے کیونکہ یہ اوامرو نواہی دنیا و آخرت کے مصالح کے حصول اور دنیا و آخرت کی مضرتوں کو دور کرنے پر مشتمل ہیں کیونکہ ان اوامرو نواہی کو مشروع کرنے والی ہستی سمیع وبصیر ہے۔ جس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ اپنے بندوں کے ان مصالح کو جانتا ہے جو وہ خود نہیں جانتے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور یہ اطاعت اللہ اور اس کے رسول کے مشروع کردہ واجبات و مستحبات پر عمل اور ان کی منہیات سے اجتناب ہی کے ذریعے سے ہوسکتی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے اولوالامر کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اولوالامر سے مراد لوگوں پر مقرر کردہ حکام، امراء اور اصحاب فتویٰ ہیں کیونکہ لوگوں کے دینی اور دنیاوی معاملات اس وقت تک درست نہیں ہوسکتے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرتے ہوئے اولوالامر کی اطاعت نہیں کرتے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اولوالامر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہ دیں اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیں تو خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی فرمانبرداری ہرگز جائز نہیں۔ شاید یہی سرنہاں ہے کہ اولوالامر کی اطاعت کے حکم کے وقت فعل کو حذف کردیا گیا ہے اور اولو الامر کی اطاعت کو رسول کی اطاعت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں لہٰذا جو کوئی رسول ﷺ کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ رہے اولوالامر تو ان کی اطاعت کے لئے یہ شرط عائد کی ہے کہ ان کا حکم معصیت نہ ہو۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ لوگ اپنے تمام تنازعات کو، خواہ یہ اصول دین میں ہوں یا فروع دین میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹائیں، یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف کیونکہ تمام اختلافی مسائل کا حل قرآن و سنت میں موجود ہے یا تو ان اختلافات کا حل صراحت کے ساتھ قرآن اور سنت میں موجود ہوتا ہے یا ان کے عموم، ایماء، تنبیہ، مفہوم مخلاف اور عموم معنی میں ان اختلافات کا حل موجود ہوتا ہے اور عموم معنی میں اس کے مشابہہ مسائل میں قیام کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ کتاب اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر دین کی بنیاد قائم ہے ان دونوں کو حجت تسلیم کئے بغیر ایمان درست نہیں۔ اپنے تنازعات کو قرآن و سنت کی طرف لوٹانا شرط ایمان ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاخر) ” اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ “ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی نزاعی مسائل کو قرآن و سنت پر پیش نہیں کرتا وہ حقیقی مومن نہیں بلکہ وہ طاغوت پر ایمان رکھتا ہے، جیسا کہ بعد والی آیت میں ذکر فرمایا ہے۔
(ذلک) ” یہ “ یعنی تنازعات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا (خیر وا حسن تاویلا) ” یہ بہت بہتر ہے اور با اعتبار انجام کے بہت اچھا ہے “ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ سب سے اچھا فیصلہ ہے۔
Ayahs 4:63–64آیت 63
اللہ تعالیٰ منافقین کی حالت کے بارے میں اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار کرتا ہے۔ (الذین یزع مومن انھم امنوا) ” جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں۔ “ یعنی وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس چیز پر ایمان لائے جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے اور جو کچھ آپ ﷺ سے پہلے تھا۔ بایں ہمہ (یریدون ان یتحاکموآ الی الظاغوت) ” وہ چاہتے ہیں کہ وہ فیصلے طاغوت کی طرف لے جائیں۔ “ ہر وہ شخص جو شریعت الٰہی کے بغیر فیصلے کرتا ہے طاغوت ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ (وقد امروا ان یکفروابہ ) ” انہیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں۔ “ ان کا یہ رویہ اور ایمان کیسے اکٹھے ہوسکتے ہیں کیونکہ ایمان اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی پیروی کی جائے اور اس کی تحکیم کو قبول کیا جائے۔ پس جو کوئی مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو چھوڑ کر طاغوت کے فیصلے کو قبول کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ شیطان نے ان کو گمراہ کردیا ہے (ویرید الشیطن ان یضلھم ضلاً بعیداً ) ” اور شیطان تو چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر راستے سے دور کر دے۔ “ یعنی شیطان چاہتا ہے کہ وہ انہیں حق سے دور کر دے۔
فرمایا : (فکیف) یعنی ان گمراہوں کا کیا حال ہوتا ہے (اذا اصابتھم مصیبۃ بما قدمت ایدیھم) ” جب ان پر ان کے کرتوتوں کے باعث کوئی مصیبت آپڑتی ہے “ یعنی گناہ، معاصی اور طاغوت کی تحکیم بھی اس میں شامل ہے (ثم جآؤ وک) ” پھر آپ کے پاس آتے ہیں۔ “ یعنی جو کچھ ان سے صادر ہوا اس پر معذرت کرتے ہوئے آپ ﷺ کے پاس آتے ہیں۔ (یحلفون باللہ ان اردنا الا احساناً وتوفیقاً ) ” اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور یمل ملاپ ہی کا تھا۔ “ یعنی ہمارا مقصد تو صرف جھگڑے کے فریقین کے ساتھ بھلائی کرنا اور ان کے درمیان صلح کروانا ہے۔ حالانکہ وہ اس بارے میں سخت جھوٹے ہیں۔ بھلائی تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تحکیم میں ہے۔ (ومن احسن من اللہ حکم لقوم یوقنون) (المائدہ :50/5) ” جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اچھا فیصلہ کس کا ہے ؟ “ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اولئک الذین یعلم اللہ مافی قلوبھم) ” یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں کا بھید اللہ تعالیٰ پر بخوبی روشن ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی پروانہ کیجیے اور جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس پر دھیان نہ دیجیے (وعظھم) ” اور انہیں نصیحت کریں۔ “ یعنی انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ترغیب دیتے ہوئے اور ترک اطاعت پر انہیں ڈراتے ہوئے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا حکم بیان کیجیے۔ (وقل لھم فی انفسھم قولاً بلیغاً ) ” اور ان سے وہ بات کیجیے جو ان کے دلوں میں گھر کرنے والی ہو “ یعنی اپنے درمیان اور ان کے درمیان معاملے کو راز رکھتے ہوئے انہیں نصیحت کیجیے۔ حصول مقصد کے لئے یہ طریقہ زیادہ مفید ہے اور ان کو برائیوں سے روکنے اور زجر و توبیخ میں پوری کوشش سے کام لیجیے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ گناہگار کے ساتھ اگر اعراض کیا جائے تو پوشیدہ طور پر اس کے لئے خیر خواہی کا اہتمام ضرور کیا جائے اور اس کو نصیحت کرنے میں پوری کوشش سے کام لیا جائے جس سے وہ اپنا مقصد حاصل کرسکے۔
Ayahs 4:65–67آیت 65
اللہ تبارک و تعالیٰ اوامر کے ضمن میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی ترغیب دیتے ہوئے آگاہ ہے کہ انبیاء و رسل کو مبعوث کرنے کی غرض وغایت صرف یہی ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے اور جن کی طرف رسول بھیجا گیا ہے وہ اس کے تمام احکام کی تعمیل کریں، اس کے نواہی سے اجتناب کریں اور وہ اس کی ویسے ہی تعظیم کریں جیسے اطاعت کرنے والا مطاع کی تعظیم کرتا ہے۔ اس آیت میں عصمت انبیاء کا اثبات ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے، حکم دینے اور منع کرنے میں ہر لغزش سے پاک ہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو انبیاء کرام کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے اگر وہ منصب تشریع میں خطا سے پاک نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی مطلق اطاعت کا حکم نہ دیتا۔
(باذن اللہ) ” اللہ کے فرمان کے مطابق۔ “ یعنی اطاعت کرنے والے کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے صادر ہوتی ہے۔ پس اس آیت میں قضا و قدر کا اثبات ہے نیز اس میں اس امر کی ترغیب ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے نیز اس میں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان اس وقت تک رسول کی اطاعت نہیں کرسکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال نہ ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم جود و کرم کا ذکر فرمایا ہے اور ان لوگوں کو دعوت دی ہے جن سے گناہ سرزد ہوئے کہ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں، توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں۔ چناچہ فرمایا : (ولو انھم اد ظلموا انفسھم جآء وک) ” اور اگر یہ لوگ جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا آپ کے پاس آجاتے “ یعنی اپنے گناہوں کا اعتراف اور اقرار کرتے ہوئے آپ ﷺ کے پاس آتے۔ (فاستغفروا اللہ واستغفر لھم الرسول لوجدوا اللہ تواباً رحمیاً ) ” اور اللہ سے استغفار کرتے اور رسول ان کے لئے استغفار کرتا تو یقیناً یہ لوگ اللہ کو معاف کرنے والا مہربان پاتے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کا ظلم بخش کر ان کی طرف پلٹ آتا۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے، توبہ کی توفیق اور اس پر ثواب عطا کر کے ان پر رحم فرماتا۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس حاضری کا تعلق آپ کی زندگی کے ساتھ مختص تھا کیونکہ سیاق دلالت کرتا ہے کہ رسول کی طرف سے استغفار آپ کی زندگی ہی میں ہوسکتا ہے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ سے کچھ نہ مانگا جائے، بلکہ یہ شرک ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اقدس کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے جھگڑوں میں اس کے رسول کو حکم تسلیم نہ کریں۔ یعنی ہر اس معاملے میں رسول اللہ ﷺ کو حکم اور فیصل تسلیم کریں جس میں اجماعی مسائل کے برعکس ان کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف واقع ہو۔ کیونکہ اجماعی مسائل کتاب و سنت کی دلیل پر مبنی ہوتے ہیں۔ پھر اس تحکیم کو تسلیم کرنا ہی کافی قرار نہیں دیا بلکہ یہ شرط بھی عائد کی کہ آپ کو حکم تسلیم کرنا محض اغماض کے پہلو سے نہ ہو بلکہ ان کے دلوں میں کسی قسم کی تنگی اور حرج نہ ہو اور اس تحکیم کو ہی کافی قرار نہیں دیا جب تک کہ وہ شرح صدر، اطمینان نفس، ظاہری اور باطنی اطاعت کے ساتھ آپ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرلیں۔ پس آپ کو حکم تسلیم کرنا اسلام کے مقام میں ہے۔ اس تحکیم میں تنگی محسوس نہ کرنا، ایمان کے مقام میں ہے اور آپ کے فیصلے پر تسلیم و رضا احسان کے مقام میں ہے۔
جس کسی نے ان مراتب کو مکمل کرلیا اس نے دین کے تمام مراتب کی تکمیل کرلی اور جس نے اس کا التزام کئے بغیر اس تحکیم کو ترک کردیا وہ کافر ہے اور جس نے التزام کرن کے باوجود اس تحکیم کو ترک کردیا وہ دیگر گناہگاروں کی مانند ہے۔
Ayahs 4:68–69آیت 68
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر شاق گزرنے والے احکام فرض کئے ہوتے مثلاً ، اپنے آپ کو قتل کرنا اور گھروں سے نکلنا وغیرہ تو اس پر بہت کم لوگ عمل کرسکتے، پس انہیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے آسان احکام نافذ کئے ہیں جن پر عمل کرنا ہر ایک کے لئے آسان ہے اور ان میں کسی کے لئے مشقت نہیں۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ مومن کو چاہیے کہ اسے جو امور گراں گزرتے ہیں، وہ ان کی ضد کو ملاحظہ کرے تاکہ اس پر عبادات آسان ہوجائیں، تاکہ اپنے رب کے لئے اس کی حمد و ثنا اور شکر میں اضافہ ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انہوں نے اس چیز پر عمل کیا ہوتا جس کی انہیں نصیحت کی گئی ہے، یعنی تمام اوقات کے مطابق ان کے لئے جو اعمال مقرر کئے گئے ہیں، ان کے لئے اپنی ہمتیں صرف کرتے ان کے انتظام اور ان کی تکمیل کے لئے ان کے نفوس پوری کوشش کرتے اور جو چیز انہیں حاصل نہ ہوسکتی اس کے لئے کوشش نہ کرتے اور اس کے درپے نہ ہوتے اور بندے کے لئے یہی مناسب ہے کہ وہ اپنے حال پر غور کرے جس کو قائم کرنا لازم ہے اس کی تکمیل میں جدوجہد کرے۔ پھر بتدریج تھوڑا تھوڑا آگے بڑھتا رہے یہاں تک کہ جو دینی اور دنیاوی علم و عمل اس کے لئے مقدر کیا گیا ہے اسے حاصل کرلے۔ یہ اس شخص کے برعکس ہے جو اس معاملے پر ہی نظریں جمائے رکھتا ہے جہاں تک وہ نہ پہنچ سکا اور نہ اس کو اس کا حکم دیا گیا تھا۔ کیونکہ وہ تفریق ہمت، سستی اور عدم نشاط کی بنا پر اس منزل تک نہیں پہنچ سکا۔
پھر ان کو جو نصیحت کی گئی ہے اس پر عمل کرنے سے جو نتائج حاصل ہوتے ہیں ان کے چار مراتب ہیں۔
اول : بھلائی کا حصول۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ذکر کیا گیا ہے (لکان خیرالھم) ” البتہ ان کے لئے بہتر ہوتا “ یعنی ان کا شمار نیک لوگوں میں ہوتا جو ان افعال خیر سے متصف ہیں جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا اور ان سے شریر لوگوں کی صفات زائل ہوجاتیں کیونکہ کسی چیز کے ثابت ہونے سے اس کی ضد کی نفی لازم آتی ہے۔
ثانی : ثابت قدمی اور اس میں اضافے کا حصول۔ کیونکہ اہل ایمان کے ایمان کو قائم رکھنے کے سبب، جسے قائم رکھنے کی انہیں نصیحت کی گئی تھی، اللہ تعالیٰ انہیں ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی میں، اوامرونواہی میں فتنوں کے وارد ہونے اور مصائب کے نازل ہونے کے وقت انہیں ثابت قدمی عطا کرتا ہے، تب انہیں ثبات حاصل ہوتا ہے اوامر پر عمل کرنے اور ان نواہی سے اجتناب کی توفیق عطا ہوتی ہے نفس جن کے فعل کا تقاضا کرتا ہے اور ان مصائب کے نازل ہونے پر ثابت قدمی اور استقامت عطا ہوتی ہے جن کو بندہ ناپسند کرتا ہے۔ بندے کو صبر و رضا اور شکر کی توفیق کے ذریعے سے ثابت قدمی عطا ہوتی ہے۔ پس بندے پر اس کی ثابت قدمی کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نازل ہوتی ہے اور اسے نزع کے وقت اور قبر میں ثابت قدمی سے نواز دیا جاتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے اوامر کو قائم رکھنے والا بندہ مومن شرعی احکام کا عادی بن جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان احکام سے مانوس ہوجاتا ہے اور ان احکام کا مشتاق بن جاتا ہے اور یہ الفت اور اشتیاق نیکیوں پر ثبات کے لئے اس کے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
ثالث :۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (واذا لاتینھم من لدنآ اجراً عظیماً ) ” اور تب تو انہیں ہم اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے۔ “ یعنی دنیاو آخرت میں ہم اسے اجر عظیم سے نوازتے جو قلب و روح اور بدن کے لئے ہے اور ایسی ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی نے سنا ہے اور نہ کسی کے طائر خیال کا وہاں سے گزرا ہوا ہے۔
رابع : صراط مستقیم کی طرف راہنمائی۔ یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے کیونکہ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی شرف کی حامل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہدایت حق کے علم کو، حق کے ساتھ محبت اور حق کو ترجیح دینے اور اس پر عمل کرنے کو اور اس پر فلاح وسعادت کے موقوف ہونے کو متضمن ہوتی ہے۔ پس جس کسی کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کردی گئی اسے گویا ہر بھلائی کی توفیق عطا کردی گئی اور اس سے ہر برائی اور ہر ضرر کو دور کردیا گیا۔
Ayah 4:70آیت 70
یعنی ہر وہ شخص جو اپنے حسب حال، قدر واجب کے مطابق، خواہ مرد ہو یا عورت اور بچہ ہو یا بوڑھا، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے۔ (فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم) ” پس یہی وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے فضل کیا “ یعنی ان کو عظیم نعمت سے نوازا، جو کمال، فلاح اور سعادت کی مقتضی ہے۔
(من النبین) یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے وحی عطا کر کے فضیلت بخشی اور انہیں خصوصی فضیلت عطا کی کہ ان کو لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی (والصدیقین) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس وحی کی کامل تصدیق کی جو رسول لے کر آئے تھے۔ انہوں نے حق کو جان لیا اور یقین کامل کے ساتھ اس کی تصدیق کی اور پھر اپنے قول و فعل، حال اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے کر اس حق کو قائم کیا۔ (والشھدآء) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو اور قتل کردیئے گئے۔ (والصلحین) یہ وہ لوگ ہیں جن کا ظاہر و باطن درست ہے اور اس کے نتیجے میں ان کے اعمال درست ہیں۔ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ ان لوگوں کی صحبت سے بہرہ ور ہوگا۔ (وحسن اولئک رفیقاً ) ان مذکورہ اصحاب فضیلت کے ساتھ نعمت والے باغوں میں اکٹھے ہونا اور اللہ رب العالمین کے جوار میں ان اصحاب کی قربت کا انس، ایک اچھی رفاقت ہے۔
(ذلک الفضل) یہ فضیلت جو انہوں نے حاصل کی ہے (من اللہ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے انہیں اس کی توفیق سے نوازا، اس کے حصول میں ان کی مدد کی اور انہیں اتنا زیادہ ثواب عطا کیا کہ ان کے اعمال وہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ (وکفی باللہ علیماً ) یعنی اللہ تعالیٰ اپن بندوں کے احوال کا علم رکھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ان میں سے کون ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے، جن پر ان کا دل اور اعضاء متفق ہوں، ثواب جزیل (زیادہ اجر) کا مستحق ہے۔
Ayahs 4:71–74آیت 71
اللہ تبارک و تعالیٰ اپن مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے کفار دشمنوں سے چوکنے رہو۔ یہ حکم ان تمام اسباب کو شامل ہے جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتے ہیں۔ جن کے ذریعے سے دشمن کی چالوں اور سازشوں کو ناکام بنایا جاتا اور اس کی قوت کو توڑا جاتا ہے۔ مثلاً قلعہ بندیوں اور خندقوں کا استعمال، تیر اندازی اور گھوڑ سواری سیکھنا اور ان تمام صنعتوں کا علم حاصل کرنا جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتا ہے، وہ علوم سیکھنا جن کے ذریعے سے دشمن کے داخلی اور خارجی حالات اور ان کی سازشوں سے باخبر رہا جاسکے اور اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلنا۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فانفروا ثبات) ” جماعت جماعت ہو کر نکلا کرو۔ “ یعنی متفرق ہو کر جہاد کے لئے نکلو اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک جماعت یا لشکر جہاد کے لئے نکلے اور دیگر لوگ مقیم رہیں (او انفروا جمعیاً ) ” یا تمام کے تمام جہاد کے لئے نکلو۔ “ یہ سب کچھ مصلحت، دشمن پر غلبہ حاصل کرنے اور دین میں مسلمانوں کی راحت کے تابع ہے۔ اس آیت کریمہ کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (واعدوالھم ما استطعتم من قوۃ) (الانفال :60/18) ” جہاں تک ہو کسے دشمن کے مقابلہ کے لئے فوجی قوت تیار کرو۔ “
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کمزور ایمان مسلمانوں کے بارے میں آگاہ فرمایا جو کاہلی کی بنا پر جہاد سے جی چراتے ہیں۔ (وان منکم لمن لیبطئن) ” اور تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ عمداً دیر لگاتا ہے۔ “ یعنی اے اہل ایمان ! تم میں سے بعض لوگ کمزوری، سستی اور بزدلی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لئے نہیں نکلتے۔ یہی تفسیر صحیح ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس کے معنی ہیں، کہ وہ دوسروں کو جہاد کے لئے نکلنے سے روکتے ہیں۔ ایسا کرنے والے منافق تھے لیکن پہلے معنی دو لحاظ سے زیادہ صحیح ہیں۔
اول : اللہ تعالیٰ کا ارشاد (منکم) ” تم میں سے “ اس پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔
ثانی : آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ) ” گویا کہ تمہارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی نہ تھی “ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفار، مشرکین، منافقین اور اہل ایمان کے مابین محبت اور مودت کو منقطع کردیا، نیز یہ فی الواقع ایسے ہی ہے، اس لئے کہ اہل ایمان کی دو قسمیں ہیں۔ (1) وہ لوگ جو اپنے ایمان میں سچے ہیں، یہ صدق ایمان ان کے لئے کامل تصدیق اور جہاد کا موجب ہوتا ہے۔ (2) وہ کمزور لوگ جو اسلام میں داخل ہوتے ہیں مگر وہ کمزور ایمان کے مالک ہوتے ہیں جہاد پر نکلنے کے لئے قوت سے محروم ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (قالت الاعراب امنا ط قل لم تومنوا ولکن قولوآ اسلمنا۔۔۔ “ (الحجرات :13/79) ” عرب دیہاتی کہتے ہیں : ہم ایمان لائے۔ کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لائے۔ “
پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد میں نہ نکلنے والوں کی غرض وغایت اور ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ ان کا سب سے بڑا مقصد دنیا اور اس کے چند ٹکڑے ہیں۔ (فان اصابتکم مصیبۃ) ” پھر اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے “ یعنی اگر تمہیں ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے، اہل ایمان قتل ہوتے ہیں اور بعض حالات میں دشمن ظفریاب ہوتا ہے کیونکہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کچھ حکمت ہوتی ہے (قال) یعنی جہاد سے جی چرا کر بیٹھ رہنے والا کہتا ہے : (قد انعم اللہ علی اذلم اکن معھم شہیدا) ” اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہیں تھا “ وہ اپنی ضعف عقل اور ضعف ایمان کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا نعمت ہے حالانکہ یہی تو مصیبت ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ حقیقی نعمت تو اس بڑی نیکی کی توفیق ہے جس کے ذریعے سے ایمان قوی ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے بندہ عذاب اور خسران سے محفوظ ہوتا ہے اور اس جہاد میں ثواب اور رب کریم و وہاب کی رضا حاصل ہوتی ہے۔
رہا جہاد چھوڑ کر بیٹھ رہنا تو اگرچہ پیچھے بیٹھ رہنے والا تھوڑا سا آرام تو کرلیتا ہے مگر اس آرام کے بعد طویل دکھ اور بہت بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پ ڑتا ہے اور وہ اس عظیم اجر وثواب سے بھی محروم ہوجاتا ہے جو مجاہدین کو حاصل ہوتا ہے۔ پھر فرمایا : (ولئن اضابکم فضل من اللہ) ” اور اگر تمہیں اللہ کا کوئی فضل مل جائے “ یعنی فتح و نصرت اور مال غنیمت (لیقولن کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ یلیتنی کنت معھم فافوز فوزاً عظیماً ” تو اس طرح ہے کہ گویا تم میں، اس میں دوستی تھی ہی نہیں، (افسوس کرتا اور) کہتا ہے کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو مقصد عظیم حاصل کرلیتا۔ “ یعنی وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ بھی جہاد میں شریک ہوتا تاکہ وہ بھی مال غنیمت حاصل کرسکتا۔ مال غنیمت کے سوا اس کا کوئی مقصد ہے، نہ اس کے سوا کسی اور چیز میں رغبت ہے۔ اے مسلمانوں کے گروہ ! وہ گویا تم میں سے نہیں ہیں اور نہ ان کے درمیان اور تمہارے درمیان رشتہ ایمان کی مودت و محبت ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ تمام مومنین اپنے مفادات و مصالح اور دفع ضرر میں مشترک ہیں۔ وہ اس کے حصول پر خوش ہوتے ہیں خواہ یہ مفاد و مصلحت مومن بھائیوں میں سے کسی کے ذریعے سے حاصل ہوئے ہوں اس سے محرومی پر دکھ محسوس کرتے ہیں اور جس میں ان کے دین اور دنیا کی اصلاح ہو، اس کے حصول کے لئے سب مل کر کوشش کرتے ہیں اور یہ فقط دنیا کی تمنا کرتا ہے اور مذکورہ روح ایمانی سے تہی دست ہوتا ہے۔ یہ بندوں پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ ان پر اپنی رحمت کا سلسلہ منقطع کرتا ہے، نہ اپنی رحمت کے دروازے ان پر بند کرتا ہے بلکہ اگر کوئی ایسا کام کر بیٹھتا ہے جو اس کے حکم کے مطابق نہیں ہوتا تو وہ اسے اپنے نقصان کی تلافی کرنے اور اپنے نفس کی تکمیل کی دعوت دیتا ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اخلاص اور اللہ کی راہ میں نکلنے کا حکم دیا ہے۔
فرمایا : (فلیقاتل فی سبیل اللہ الذین یشرون الحیوۃ الدنیا بالاخرۃ) ” پس چاہیے کہ وہ لوگ اللہ کے راستے میں لڑیں جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچتے ہیں “ یہ اس آیت کی تفسیر کے بارے میں چند اقوال میں سے ایک قول ہے اور سب سے زیادہ صحیح ہے۔ ایک اور قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ ان مومنوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا چاہیے جو اپنے ایمان میں کامل اور صدق کے حامل ہیں۔
(الذین یشرون الحیوۃ الدنیا بالاخرۃ) یعنی آخرت میں رغبت رکھتے ہیں دنیا کو آخرت کے بدلے بیچ دیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ کے خطاب کا رخ ہے کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے کے لئے تیار کر کے عادی بنا لیا ہے، اس لئے کہ یہ لوگ ایمان کامل کے حامل ہیں جو جہاد کا تقاضا کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو جہاد کے لئے نہیں اٹھتے تو یہ لوگ جہاد کے لئے نکلیں یا گھر بیٹھے رہیں اللہ تعالیٰ کو ان کی پروا نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے (قل امنوا بہ اولا تومنوا ان الذین اوتوا العلم من قبلہ اذا یتلی علیھم یخزون للاذقان سجدا) (بنی اسرائیل :108/18) ” کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں “ آیات کے آخرتک۔ نیز اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ (فان یکفربھا ھولآء فقد وکلنا بھا قوماً لیسوا بھابکفرین) (الانعام :89/6) ” اگر یہ کفار اس کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے اس پر ایمان لانے کے لئے کچھ ایسے لوگوں کو مقرر کردیا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں۔ “
بعض کہتے ہیں کہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ لڑائی کرنے والے مجاہد کو کفار کے خلاف لڑنا چاہیے جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی ہے۔ تب اس صورت میں آیت کریمہ میں موجود لفظ (الذین) مفعول ہونے کی بنا پر نصب کے مقام پر ہے۔
فرمایا : (ومن یقاتل فی سبیل اللہ) ” اور جو لڑتا ہے اللہ کے راستے میں “ یعنی یہ جہاد ہو جس کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے اور بندہ اس میں اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص اور اس کی رضا کا قصد رکھتا ہو (فیقتل اویغلب فسوف نوتیہ اجراً عظیماً ) ” پس وہ قتل کردیا جائے یا غالب آجائے، ہم اسے اجر عظیم عطا کریں گے “ یعنی یہ اجر ان کے دین و ایمان میں اضافہ، مال غنیمت اور ثنائے حسن کی صورت میں عطا ہوگا۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ ثواب تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں اس کا کبھی گزر ہوا۔
Ayah 4:75آیت 75
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لئے اس کی راہ میں جہاد کی ترغیب ہے نیز یہ کہ جہاد ان پر فرض کردیا گیا ہے اور ترک جہاد ان کے لئے بہت بڑی ملامت کا باعث ہوگا۔ (وما لکم لاتقاتلون فی سبیل اللہ) ” تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں لڑتے نہیں ؟ “ اور حال یہ ہے کہ مستصعفین مرد، عورتیں اور بچے جن کے پاس کوئی چارہ ہے نہ ان کے پاس آزادی حاصل کرنے کا کوئی راستہ اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں دشمنوں کے ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں ماگنتے ہیں کہ وہ ان کو اس بستی سے نکالے جس کے باشندے کفر و شرک کے ارتکاب کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں اہل ایمان کو اذیتیں دے کر، ان کو اللہ کے راستے سے روک کر اور انہیں دعوت دین اور ہجرت سے منع کر کے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کا کوئی ولی اور مددگار مقرر فرما دے جو انہیں اس ظالم بستی سے نکال لے جائے۔ تب اس صورت میں جہاد تمہارے بچوں، عورتوں اور تمہاری عزت و ناموس کے دفاع کے زمرے میں شمار ہوگا۔ کیونکہ جہاد تو وہ ہے جس میں کفار کے مقابلے کی خواہش ہو۔ جہاد کی اگرچہ بہت بڑی فضیلت ہے اور جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے لئے اس سے بڑھ کر ملامت ہے۔ تاہم وہ جہاد جس کے ذریعے سے اہل ایمان مستضعفین کو کفار سے نجات دلائی جاتی ہے اجر وثواب کے اعتبار سے سب سے عظیم اور فائدے کے لحاظ سے سب سے بڑا جہاد ہے کیونکہ یہ دشمنوں سے دفاع کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔
Ayah 4:76آیت 76
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے کہ اہل ایمان اس کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔
(والذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت) ” اور کافر طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں “ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے۔ اس آیت سے متعدد فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
(1) بندہ مومن کے ایمان، اس کے اخلاص اور اس کی اتباع رسول ﷺ کے مطابق، اس کا جہاد اللہ کے راستے میں جہاد شمار ہوتا ہے۔ پس جہاد فی سبیل اللہ ایمان کے آثار، اس کے مقتضیات اور اس کے لوازم میں سے ہے۔ جیسے طاغوت کی راہ میں لڑنا کفر اور اس کے مقتضیات میں سے ہے۔
(2) جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اس کے لئے مناب اور بہتر یہ ہے کہ وہ ایسے صبر و استقلال سے کام لے جس کا مظاہرہ دیگر لوگ نہیں کرسکتے جب اولیائے شیطان لڑائی کرتے ہیں اور لڑائی میں صبر سے کام لیتے ہیں حالانکہ وہ اہل باطل ہیں۔ تب اہل حق کو تو صبر و استقلال سے زیادہ کام لینا چاہیے جیسا کہ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (ان تکونوا تالمون فانھم یالمون کما تالمون و ترجون من اللہ مالا یرجون) (النساء :103/3) ” اگر تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو جس طرح تمہیں تکلیف پہنچتی ہے اسی طرح ان کفار کو بھی تکلیف پہنتچی ہے۔ البتہ تم اللہ تعالیٰ سے ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔ “
(3) وہ بندہ مومن جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اس کے پاس ایک مضبوط سہارا ہوتا ہے اور وہ ہے جق اور اللہ تعالیٰ پر توکل۔ اس مضبوط اور صاحب قوت ہستی سے صبر و ثبات اور نشاط طلب کئے جاتے ہیں۔ جبکہ باطل کے راستے میں لڑنے والے، جس کی کوئی حقیقت نہیں اور نہ اس کا کوئی قابل تعریف انجام ہے یہ صبر و ثبات کہیں سے طلب نہیں کرسکتے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :
(فقاتلوآ اولیآء الشیطن ان کید الشیطن کان ضعیفاً “ تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو یقیناً شیطان کا داؤ کمزور ہوتا ہے۔ “ (کید) سے مراد وہ خفیہ چال ہے جس کے ذریعے سے دشمن کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ شیطان کی چال خواہ کتنی ہی خطرناک کیوں نہ ہو، بہرحال وہ انتہائی کمزور ہوتی ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ حق کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ نہ وہ اس چال کے سامنے کھڑی رہ سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے لئے چلتا ہے۔
Ayah 4:77آیت 77
جب مسلمان مکہ میں تھے تو انہیں نماز اور زکوۃ کا حکم دیا گیا تھا، یعنی محتاجوں کی غمگساری کرنا اور اس سے مراد وہ معروف زکوۃ نہیں جو ایک مخصوص نصاب کے مطابق اور مخصوص شرائط کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ یہ زکوۃ مدینہ منورہ میں فرض ہوئی تھی اسی طرح اس وقت تک متعدد فوائد کی بنا پر جہاد کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ مثلاً
(1) اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں پر شریعت کے احکام اس طرح فرض کرے کہ وہ ان پر شاق نہ گزریں۔ سب سے پہلے اہم ترین امر کا حکم دے، پھر آسان امور سے ابتدا کر کے بتدریج مشکل امور کا حکم دے۔
(2) اگر اہل ایمان پر ان کی قلت تعداد و قلت سامان اور کثرت اعداء کے باوجود قتل فرض کردیا جاتا تو یہ چیز اسلام کو مضمحل کردیتی۔ اس لئے چھوٹی مصلحت کو نظر انداز کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی گئی اور اس میں اس قسم کی دیگر حکمتیں تھیں۔
بعض اہل ایمان چاہتے تھے کہ اس حال میں بھی ان پر قتال فرض کردیا جاتا مگر ان حالات میں ان پر جہاد فرض کیا جانا مناسب نہ تھا۔ اس وقت ان لوگوں کے لئے مناسب یہی تھا کہ وہ توحید، نماز، زکوۃ اور اس نوع کے دیگر احکام پر عمل کرتے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ولو انھم فعلوا مایوعظون بہ لکان خیراً لھم واشد تثبیتاً (النساء :66/3) ” اگر یہ اس نصیحت پر عمل کرتے جو ان کو کی جاتی ہے تو ان کے لئے بہتر ہوتا اور دین میں زیادہ ثابت قدمی اور استقامت کا باعث ہوتا۔ “
جب مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور اسلام قوی ہوگیا تو مناسب وقت پر ان پر قتال فرض کردیا گیا۔ وہ لوگ جو اس سے قبل قتال فرض ہونے کے لئے جلدی مچاتے تھے ان میں سے ایک گروہ نے لوگوں کے خوف، کمزوری اور بزدلی کی وجہ سے کہا۔ (ربنا لم کتبت علینا القتال) ” اے ہمارے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا ؟ “ ان الفاظ سے ان کی تنگ دلی اور اللہ تعالیٰ پر اعتراض کا اظہار ہوتا ہے حالانکہان کے لئے مناسب حال یہ تھا کہ وہ اس سے متضاد رویہ کا اظہار کرتے یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور اس کے اوامر پر صبر کرنا، مگر جو کچھ ان سے مطلوب تھا انہوں نے اس کے برعکس کیا۔ پس انہوں نے کہا (لو لا اخرتنا الی اجل قریب) ” تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی۔ “ یعنی تو نے قتال کی فرضیت کچھ عرصہ اور مؤخر کیوں نہ کردی۔ غالب طور پر اس قسم کی صورت ان لوگوں کو پیش آتی ہے جو غیر سنجیدہ ہوتے ہیں اور تمام امور میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا غالب رویہ یہ ہوتا ہے کہ ان امور کے نازل ہونے پر یہ لوگ صبر نہیں کرسکتے۔ یہ امور ان کے لئے بوجھل تو نہیں مگر یہ لوگ بہت ہی کم صبر سے بہرہ ور ہیں۔
جن حالات میں وہ جہاد سے جی چرا کر بیٹھ رہے ان سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو نصیحت کی چناچہ فرمایا : (قل متاع الدنیا قلیل والاخرۃ خیر لمن اثقی) ” آپ کہہ دیجیے دنیا کا فائدہ تو بہت ہی کم ہے اور آخرت اس شخص کے لئے بہتر ہے جو متقی ہے “ یعنی دنیا کی لذت اور راحت سے فائدہ اٹھانا بہت ہی کم عرصہ کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں تھوڑی سی مدت کے لئے بھاری بوجھ اٹھانا نفوس انسانی کے لئے آسان اور ہلکا ہوتا ہے کیونکہ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مشقت جو وہ برداشت کر رہا ہے طویل عرصے کے لئے نہیں ہے تو اس کے لئے اس کو برداشت کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ تب کیا کیفیت ہوگی جب تو دنیا اور آخرت کا موازنہ کرے اور معلوم ہو کہ آخرت اپنی ذات اور لذات میں اور زمان کے اعتبار سے دنیا سے کہیں بہتر ہے۔ جنت کی ذات کے بارے میں ایکصحیح حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جنت میں ایک کوڑے کے برابر جگہ دینا اور اس کی موجودات سے کہیں بہتر ہے۔ “ (1)
جنت کی لذتیں ہر قسم کی کدورتوں سے پاک ہیں بلکہ لذت کا جو تصور بھی فکر و خیال کی گرفت میں آسکتا ہے۔ جنت کی لذتیں اس پر فوقیت رکھتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین) (السجدہ :18/32) ” کوئی انسان نہیں جانتا کہ ان کے لئے (جنت میں) کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔ “ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی زبان پر فرمایا :” میں نے (جنت میں) اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں ان کا کبھی گزر ہوا ہے۔ “ (2)
رہی دنیا کی لذتیں تو یہ مختلف قسم کی کدورتوں کے شائبے سے پاک نہیں ہوتیں۔ اگر ان لذات کا ان آلام و مصائب اور غم و ہموم سے مقابلہ کیا جائے جو ان لذات کے ساتھ ملے ہوتے ہیں تو جنت کی لذتوں کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے ان کی کوئی نسبت ہی نہیں۔ رہا ان لذات کا زمانہ، تو دنیا آخر کار ختم ہوجائے گی اور انسان کی عمر، دنیا کی نسبت سے نہایت ہی معمولی سا عرصہ ہے۔ آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں اور وہاں کے رہنے والوں کے لئے ہمیشہ کی زندگی ہے۔ جب عقلمند شخص ان دو گھروں کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے اور ان کی حقیقت کا تصور کرتا ہے جیسا کہ تصور کرنے کا حق ہے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ ان میں سے کو نسا گھر ترجیح کا مستحق ہے ؟ کس کے لئے کوشش کرنی چاہیے اور کس کی طلب میں اسے جدوجہد کرنی چاہیے ؟ (والاخرۃ خیر لمن اثقی) ” اور پرہیز گار کے لئے آخرت تو بہت اچھی چیز ہے۔ “ یعنی جو کوئی شرک اور دیگر تمام محرمات سے بچتا ہے اس کے لئے آخرت بہتر ہے۔ (ولا تظلمون قتیلاً ) ” اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا “ تم آخرت
(1) جامع ترمذی، تفسیر، باب ومن سورة آل عمران، حدیث 3513
(2) مسند احمد 338/2
کے گھر کے لئے جو دوڑ دھوپ کرو گے تو اس کا کامل اور وافر اجر پاؤ گے جس میں کچھ بھی کم نہ ہوگی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ بچاؤ کی تدبیر تقدیر کے مقابل میں کوئی کام نہیں آسکتی اور گھر میں بیٹھ رہنے والے کا بیٹھنا، اللہ کی تقدیر کو ہٹا نہیں سکتا۔ (این ماتکونوا یدرکم الموت) ” تم جہاں کہیں بھی رہو موت تمہیں آپکڑے گی “ یعنی تم کسی زمانے میں اور کسی بھی جگہ پر ہو (ولو کنتم فی بروج مشیدۃ) ” خواہ تم مضبوط قلعوں اور اونچے محلوں میں ہی پناہ کیوں نہ لے لو (موت تمہیں پالے گی۔ “
یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کی ترغیب کے لئے ہے اللہ تعالیٰ کبھی تو جہاد کی فضیلت اور اس کا ثواب بیان کر کے اس کی ترغیب دیتا ہے اور کبھی جہاد کو ترک کرنے کی سزا سے ڈرا کر جہاد پر آمادہ کرتا ہے۔ کبھی اس بارے میں آگاہ کر کے جہاد کے لئے ابھارتا ہے کہ جہاد سے جی چرا کر گھروں میں بیٹھ رہنے والوں کا بیٹھنا کسی کام نہیں آتا اور کبھی کبھی اللہ تعالیٰ جہاد کے راستے کو ان کے لئے آسان کردیتا ہے۔
Ayahs 4:78–79آیت 78
(وان تصبھم حسنۃ) ” اور اگر انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے “ اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو علم نہیں رکھتے، انبیاء و رسل کی تعلیمات سے روگردانی اور ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ جب انہیں کوئی بھلائی مثلاً شادابی، کثرت مال، کثرت اولاد اور صحت وغیرہ حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں (ھذہ من عند اللہ) ” یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ “ جب انہیں کسی تکلیف مثلاً قحط، فقر و فاقہ، احباب و اولاد کی موت اور مرض وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے تو پکار اٹھتے ہیں (ھذہ من عندک) ” یہ (تکلیف) آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچی) ہے۔ “ یعنی اے محمد ! ﷺ یہ تمام مصیبت اس کے سبب سے آن پڑی ہے جو آپ لے کر آئے ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس سے بدشگونی لی، جیسا کہ ان سے پہلے کفار اللہ تعالیٰ کے رسولوں سے براشگون لیتے رہے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی قوم کے بارے میں خبر دی ہے : (فاذا جآء تھم الحسنۃ قالو الناھذہ و ان تصبھم سیءۃ یطیروا بموسیٰ ومن معہ) (الاعراف :131/8) ” جب ان کو کوئی ھلائی حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچتی ہے تو موسیٰ اور ان کے اصحاب کی بدشگونی قرار دیتے ہیں “ اور جیسا کہ حضرت صالح کی قوم نے کہا : (اطیرنا بک وبمن معک) (النمل :38/78) ” تم اور تمہارے ساتھی ہمارے لئے بدشگونی کا باعث ہیں “ اور جیسے سورة یٰسین میں مذکور قوم نے اپنے رسولوں سے کہا : (انا تطیرنا بکم لئن لم تنتھوا لنرجمنکم) (یٰسین :18/36) ” ہم تمہیں بدشگون سمجھتے ہیں اگر تم باز نہیں آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے۔ “
چونکہ کفر کی وجہ سے ان کے دل باہم مشابہ ہیں اس لئے ان کے اقوال و افعال میں بھی مشابہت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو برائی کے حصول اور بھلائی کے زوال کو انبیائے کرام کی تعلیمات یا بعض تعلیمات سے منسوب کرتے ہیں وہ اس مذمت میں داخل ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے : (قل کل) ” کہہ دیجیے کہ سب “ یعنی نیکی اور برائی خیر اور شر (من عند اللہ) ” اللہ ہی کی طرف یس ہے۔ “ ” یعنی سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے اور اسی کی تخلیق ہے۔ (فمال ھولاء القوم) ” انہیں کیا ہوگیا ہے ؟ “ یعنی جن لوگوں سے یہ باطل قول صادر ہوا ہے۔ (لا یکادون یفقون حدیثاً ) ” کہ بات بھی نہیں سجھ سکتے۔ “ یعنی یہ لوگ بات کو بالکل ہی نہیں سمجھ پاتے اور نہ یہ لوگ سمجھنے کے قریب جاتے ہیں یا یہ لوگ بات کو بہت ہی کم سمجھتے ہیں۔ مذکورہ تمام معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ ان کے عدم فہم اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام میں عدم تفقہ پر زجر و توبیخ ہے اور اس کا سبب ان کا کفر اور روگردانی ہے۔
اس آیت کریمہ میں ضمناً ان لوگوں کی مدح کا پہلو نکلتا ہے جو اللہ تعالیٰ ٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کا فہم رکھتے ہیں، نیز اس میں فہم اور اس کے اسباب کے حصول کی رتغیب ہے۔ یہ فہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے کلام میں تدبر و تفکر اور اس منزل تک پہنچانے والے راستوں پر گامزن ہونے ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو سمجھا ہوتا تو معلوم ہوجاتا کہ نیکی اور برائی اور خیر و شر سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے کوئی چیز باہر نہیں، تیز انبیاء و رسل اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کبھی شرکا کا باعث اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے کوئی چیز باہر نہیں، نیز انبیاء، و رسل اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کبھی بھی شرکا باعث نہیں ہوتیں کیونکہ وہ تو دین وہ تو دین و دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لئے مبعوث کئے جاتے ہیں۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (وما اصابک من حسنۃ) ” تجھ کو جو فائدہ پہنچے۔ “ یعنی دنیا و آخرت میں پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ما اصابک من حسنۃ) ” تجھ کو جو فائدہ پہنچے۔ “ یعنی دنیا و آخرت میں تھے جو بھلائی حاصل ہوتی ہے (فمن اللہ) ” وہ لوگ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ “ وہی ہے جس نے اس بھلائی سے نوازا اور اس کے اسباب پیدا کر کے اس کے حصول کو آسان بنایا (وما اصابک من سیءۃ) ” اور تجھے جو نقصان پہنچے۔ “ یعنی دنیا و آخرت میں تجھے جو برائی پہنچتی ہے (فمن نفسک) ” وہ تیری طرف سے ہے۔ “
یعنی تیرے اپنے گناہوں کی وجہ سے اور تیری اپنی کمائی ہے اور جو اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے فضل و احسان کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ اس نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے فضل و کرم سے بہرہ مند ہونے کے لئے ان دروازوں میں داخل ہوں اور انہیں آگاہ فرمایا ہے کہ گناہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حصول سے مانع ہیں۔ اس لئے جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اسے صرف اپنے نفس کو ملاملت کرنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حصورل سے تو وہ خود مانع ہوا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے جناب محمد ﷺ کی رسالت کی عمومیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا (وارسلنک للناس رسولاً وکفی باللہ شھیداً ) ” اور اے محمد ! ﷺ ہم نے آپ کو لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) اللہ ہی گواہ کافی ہے۔ ‘ اللہ تعالیٰ کی شہادت اس بات پر کافی ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی فتح و نصرت، بڑے بڑے معجزات اور روشن براہین و دلائل کے ساتھ آپ کی تائید فرمائی اور یہ علی الاطلاق سب سے بڑی شہادت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (قل ای شیء اکبر شھادۃ قل اللہ شھیداً بینی وبینکم) (الانعام :19/6) ” ان سے پوچھو کہ سب سے بڑشہادت کس چیز کی ہے۔ کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ ہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔ “
جب اسے یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا علم کامل، اس کی قدرت تام اور اس کی حکمت عظیم ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنی تائید سے نوازا اور نصرت عظیم کے ذریعے سے اس کی مدد فرمائی اسے تو اسے یقین ہوجائے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ ورنہ اگر آپ نے جھوٹ گھڑا ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو دائیں ہاتھ سے پکڑتا اور آپ ﷺ کی رگ جاں کاٹ دیتا ہے۔
Ayahs 4:80–81آیت 80
یعنی ہر وہ شخص جس نے اوامرونواہی میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی (فقد اطاع) ” اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ “ کیونکہ اگر آپ کسی چیز کا حکم دیتے یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت ،۔ چونکہ اگر آپ کسی چیز کا حکم دیتے ہے یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ “ کیونکہ کسی چیز کا حکم دیتے ہیں یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت، اس کی وحی اور تنزیل ہے۔ یہ آیت کریمہ رسول اللہ ﷺ کی عصمت کی دلیل ہے۔ (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے، لہٰذا اگر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچانے کے بارے میں معصوم نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مطلق اطاعت کا حکم نہ دیتا اور اطاعت کرنے والوں کی مدح نہ فرماتا۔
اور اس کا مشترکہ حقوق میں ہوتا ہے۔ یہ حقوق تین اقسام میں منقسم ہوتے ہیں۔
(1) اللہ تعالیٰ کا حق۔ یہ حق مخلوق میں سے کسی کے لئے نہیں ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی طرف رغبت ہے اور ان کے توابع ہیں۔
(2) رسول اللہ ﷺ کا حق، جو صرف آپ کے ساتھ مختص ہے وہ ہے آپ کی توقیر، آپ کا احترام اور آپ کی مدد کرنا۔
(3) حقوق کی تیسری قسم اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان مشترکہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، ان سے محبت کرنا اور ان کی اطاعت کرنا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان حقوق کو اس آیت کریمہ میں جمع کردیا ہے : (لتومنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ وتوقروہ وتسبحوۃ بکرۃ واصیلاً ) (الفتح :9/38) ” تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی مدد اور اس کی توقیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ “
پس جس نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اس کے لئے وہی ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مترتب ہوتا ہے (ومن تولیٰ ) ” اور جس نے (اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے) منہ موڑا “ وہ صرف اپناہی نقصان کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتا۔ (فما ارسلنک علیھم حفیظاً ) ” ہم نے آپ کو ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ “ یعنی ہم نے آپ کو اس لئے مبعوث نہیں کیا کہ آپ ان کے اعمال و احوال کی نگہبانی کریں، بلکہ ہم نے تو آپ کو مبلغ، کھول کھل کر بیان کرنے والا اور ناصح بنا کر بھیجا ہے اور آپ نے اپنا فرض ادا کردیا ہے آپ کے لئے آپ کا اجر واجب ہوگیا۔ خواہ وہ راہ راست اختیار کریں یا نہ کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فذکر انما انت مذکر، لست علیھم بمصطیر) (الغاشیہ :22-21/88) ” تم ان کو نصیحت کرتے رہو اور تم صرف نصیحت کرنے والے ہی ہو۔ تم ان پر نگہبان نہیں۔ “
نیز یہ بھی لازم ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ظاہر و باطن اور جلوت و خلوت میں ہو۔ رہا وہ شخص جو لوگوں کے سامنے اطاعت اور التزام کا اظہار کرتا ہے اور جب تنہا ہوتا ہے یا اپنے ہم مشرب ٹولے کے ساتھ ہوتا ہے تو اطاعت ترک کردیتا ہے اور ایسے کام کرتا ہے جو اطاعت کی ضد ہوتے ہیں تو ایسی اطاعت جس کا اس نے اظہار کیا ہے اس کے لئے نفع مند اور مفید نہیں ہے۔ اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ویقولون طاعۃ) ” وہ کہتے ہیں مان لیا۔ “ یعنی جب وہ آپ ﷺ کے پاس ہوتے ہیں تو اطاعت کا اظہار کرتے ہیں (فا ذا برزوا من عندک) ” جب وہ آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں “ یعنی تنہا ہوتے ہیں اور ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ کوئی ان کی اس حالت سے مطلع نہیں ہوتا۔ (بیت طآئفۃ منھم غیر الذین تقول) ” مشورہ کرتے ہیں رات کو کچھ لوگ ان میں سے اس کے خلاف جو آپ کہتے ہیں۔ “ تورات کے وقت آپ ﷺ کی اطاعت کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں اور وہاں ان کے پاس نافرمانی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد (بیت طآئفۃ منھم غیر الذین تقول) میں اس امر کی دلیل ہے کہ وہ معاملہ جس کو انہوں نے دائمی و تیرہ بنایا ہوا تھا وہ عدم اطاعت کا رویہ تھا۔ کیونکہ (تبیت) سے مراد رات کے وقت اس طرح معاملات کی تدبیر کرنا ہے کہ اس پر رائے کا استقرار ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل پر وعید سناتے ہوئے فرمایا : (واللہ یکتب مایبیتون) ” اور اللہ لکھتا ہے جو وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی ان کارستانیوں کو محفوظ کر رہا ہے وہ عنقریب ان کو ان کارستانیوں کی پوری پوری جزا دے گا یہ ان کے لئے وعید ہے۔
ان کی ان کارستانیوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اعرضا اور سختی کا حکم دیا ہے۔ اگر آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا، اس کے دین کی نصرت اور اس کی شریعت کے نفاذ میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی تو وہ آپ ﷺ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (فاعرض عنھم و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا) ” پس آپ ان سے منہ پھیر لیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اللہ تعالیٰ کافی کار ساز ہے۔ “