27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمانؑ نے کہا "انجان طریقے سے اس کا تخت اس کے سامنے رکھ دو، دیکھیں وہ صحیح بات تک پہنچتی ہے یا اُن لوگوں میں سے ہے جو راہِ راست نہیں پاتے"

قَالَ [ (سلیمان (علیہ السلام) نے ) کہا ] نَكِّرُوْا [ تم لوگ بھیس بدل دو ] لَهَا [ اس (ملکہ) کے لئے ] عَرْشَهَا [ اس کے تخت کا ] نَنْظُرْ [ تو ہم دیکھیں گے ] اَ [ آیا ] تَهْتَدِيْٓ [ وہ سمجھتی ہے ] اَمْ [ یا ] تَكُوْنُ [ وہ ہوتی ہے ] مِنَ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں میں سے جو ] لَا يَهْتَدُوْنَ [ سمجھ نہیں پاتے ]
Ayah 27:42

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

ملکہ جب حاضر ہوئی تو اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے؟ وہ کہنے لگی "یہ تو گویا وہی ہے ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم نے سرِ اطاعت جھکا دیا تھا (یا ہم مسلم ہو چکے تھے)"

فَلَمَّا [ پھر جب ] جَاۗءَتْ [ وہ آئی ] قِيْلَ [ تو کہا گیا ] اَ [ کیا ] هٰكَذَا [ ایسا ہی ہے ] عَرْشُكِ ۭ [ تیرا تخت ] قَالَتْ [ اس (ملکہ) نے کہا ] كَاَنَّهٗ [ جیسے کہ یہ ] هُوَ ۚ [ وہ ہی ہے ] وَاُوْتِيْنَا [ اور ہم کو دیا گیا ] الْعِلْمَ [ علم ] مِنْ قَبْلِهَا [ اس (معجزہ) سے پہلے ] وَكُنَّا [ اور ہم ہوچکے ] مُسْلِمِيْنَ [ فرمانبردار ] (آیت۔ 42) من قبلہا میں ھا کی ضمیر کا مرجع محذوف ہے جو واقعۃ یا معجزۃ ہوسکتا ہے۔ اور اس سے مراد یہ معجزہ ہے کہ ملکہ اپنا تخت اپنے محل میں چھوڑ کر آئی تھی اور جب وہ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچی تو اس کا تخت وہاں رکھا ہوا تھا۔
Ayah 27:43

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اُس کو (ایمان لانے سے) جس چیز نے روک رکھا تھا وہ اُن معبودوں کی عبادت تھی جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی، کیونکہ وہ ایک کافر قوم سے تھی

وَصَدَّهَا [ اور روک رکھا تھا اس (ملکہ) کو ] مَا [ ان چیزوں نے جن کی ] كَانَتْ تَّعْبُدُ [ وہ عبادت کیا کرتی تھی ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے علاوہ ] اِنَّهَا [ بیشک وہ ] كَانَتْ [ تھی ] مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ [ ایک کافر قوم میں سے ] (آیت۔ 43) اس آیت کے دو طرح ترجمے کئے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ ما کانت تعبد میں ما کو صد کا فاعل مانا گیا ہے۔ اس طرح مطلب یہ ہوگا کہ جن چیزوں کی وہ پوجا کرتی تھی انھوں نے اس کو ایمان لانے سے روک دیا تھا۔ دوسرا یہ کہ شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) نے اپنے فارسی ترجمہ میں اور شیخ الہند (رح) نے اپنے اردو ترجمہ میں صد کی ضمیر فاعلی ھو کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مانا ہے۔ اس طرح مطلب یہ ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ کو ان چیزوں سے روک دیا جن کی وہ پوجا کرتی تھی۔ پروفیسر حافظ احمد یار صاحب مرحوم کا کہنا ہے کہ گرامر کے لحاظ سے دوسرے ترجمہ کی گنجائش نہیں نکلتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صد میں جس کو روکتے ہیں وہ مفعول بنفسہ آتا ہے۔ کہتے ہیں صدہ عن کذا۔ آیت میں اگر ہوتا وصدھا عما کانت تعبد تب یہ ترجمہ ٹھیک ہوتا لیکن عما کے بجائے صرف ما آیا ہے اس لئے پہلا ترجمہ بہتر ہے۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو اس نے جو دیکھا تو سمجھی کہ پانی کا حوض ہے اور اترنے کے لیے اس نے اپنے پائنچے اٹھا لیے سلیمانؑ نے کہا یہ شیشے کا چکنا فرش ہے اس پر وہ پکار اٹھی "اے میرے رب، (آج تک) میں اپنے نفس پر بڑا ظلم کرتی رہی، اور اب میں نے سلیمانؑ کے ساتھ اللہ رب العالمین کی اطاعت قبول کر لی"

قِيْلَ [ کہا گیا ] لَهَا [ اس سے ] ادْخُلِي [ تو داخل ہو ] الصَّرْحَ ۚ [ محل میں ] فَلَمَّا [ تو جب ] رَاَتْهُ [ اس نے دیکھا اس (کے صحن) کو ] حَسِبَتْهُ [ تو اس نے گمان کیا اس کو ] لُجَّةً [ پانی کا ایک ذخیرہ ] وَّكَشَفَتْ [ اور اس نے کھولا ] عَنْ سَاقَيْهَا ۭ[ اپنی دونوں پنڈلیوں کو ] قَالَ [ (سلیمان (علیہ السلام) نے) کہا ] اِنَّهٗ [ بیشک یہ ] صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ [ چکنا کیا ہوا محل ہے ] مِّنْ قَوَارِيْرَ ڛ[ شیشوں سے ] قَالَتْ [ اس نے کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] اِنِّىْ [ بیشک میں نے ] ظَلَمْتُ [ ظلم کیا ] نَفْسِيْ [ اپنے آپ پر ] وَاَسْلَمْتُ [ اور میں نے فرمانبرداری قبول کی ] مَعَ سُلَيْمٰنَ [ سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ ] لِلّٰهِ [ اللہ کی ] رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ جو تمام جہانوں کا رب ہے ] ص ر ح (ک) صراحۃ صاف ہونا۔ خالص ہونا۔ واضح ہونا۔ (ف) صرحا ظاہر کرنا۔ واضح کرنا۔ صرح ہر بلند عمارت (ظاہر ہونے کی وجہ سے) زیر مطالعہ آیت۔ 44
Ayah 27:45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح کو (یہ پیغام دے کر) بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، تو یکایک وہ دو متخاصم فریق بن گئے

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ [ اور بیشک ہم بھیج چکے ] اِلٰى ثَمُوْدَ [ ثمود کی طرف ] اَخَاهُمْ [ ان کے بھائی ] صٰلِحًا [ صالح (علیہ السلام) کو ] اَنِ [ کہ ] اعْبُدُوا [ تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] فَاِذَا [ تو جب ہی ] هُمْ [ وہ لوگ ] فَرِيْقٰنِ [ دو فرقے تھے ] يَخْتَصِمُوْنَ [ جھگڑے ہوئے ] نوٹ۔ 1: ثمود یوں کے شہر میں ان کے نوسردار تھے۔ انہی کے مشورے سے اونٹنی کو مار ڈالا گیا تھا۔ جب انھوں نے اونٹنی کو قتل کیا اور دیکھا کہ کوئی عذاب نہیں آیا تو اب نبی اللہ کے قتل پر آمادہ ہوگئے اور شبخوں مارنے کی سازش کی لیکن اس عمل کرنے سے پہلے عذاب آگیا اور سارے ہلاک ہوگئے۔ (ابن کثیر)
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

صالحؑ نے کہا "“اے میری قوم کے لوگو، بھلائی سے پہلے بُرائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟ کیوں نہیں اللہ سے مغفرت طلب کرتے؟ شاید کہ تم پر رحم فرمایا جائے؟"

قَالَ [ (صالح (علیہ السلام) نے) کہا ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] لِمَ [ کیوں ] تَسْتَعْجِلُوْنَ [ تم لوگ جلدی مچاتے ہو ] بِالسَّيِّئَةِ [ برائی کی ] قَبْلَ الْحَسَنَةِ ۚ [ بھلائی سے پہلے ] لَوْلَا [ کیوں نہیں ] تَسْتَغْفِرُوْنَ [ تم لوگ مغفرت مانگتے ] اللّٰهَ [ اللہ سے ] لَعَلَّكُمْ [ شاید تم لوگوں پر ] تُرْحَمُوْنَ [ رحم کیا جائے ]
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

انہوں نے کہا "ہم نے تو تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو بد شگونی کا نشان پایا ہے" صالحؑ نے جواب دیا "“تمہارے نیک و بد شگون کا سر رشتہ تو اللہ کے پاس ہے اصل بات یہ ہے کہ تم لوگوں کی آزمائش ہو رہی ہے"

قَالُوا [ ان لوگوں نے کہا ] اطَّيَّرْنَا [ ہم منحوس سمجھتے ہیں ] بِكَ [ آپ (علیہ السلام) کو ] وَبِمَنْ [ اور ان کو جو ] مَّعَكَ ۭ [ آپ (علیہ السلام) کے ساتھ ہیں ] قَالَ [ (صالح (علیہ السلام) نے ) کہا ] طٰۗىِٕرُكُمْ [ تم لوگوں کی نحوست ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس سے ہے ] بَلْ اَنْتُمْ [ بلکہ تم لوگ ] قَوْمٌ [ ایک ایسی قوم ہو جن کو ] تُفْتَنُوْنَ [ آزمایا جاتا ہے ]
Ayah 27:48

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اُس شہر میں نو جتھے دار تھے جو ملک میں فساد پھیلاتے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے

وَكَانَ [ اور تھا ] فِي الْمَدِيْنَةِ [ اس شہر میں ] تِسْعَةُ رَهْطٍ [ نوافراد کا ایک ایسا جتھا جو ] يُّفْسِدُوْنَ [ نظم بگاڑتے تھے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَلَا يُصْلِحُوْنَ [ اور اصلاح نہیں کرتے تھے ]
Ayah 27:49

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

انہوں نے آپس میں کہا "خدا کی قسم کھا کر عہد کر لو کہ ہم صالحؑ اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے اور پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہم اس خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے، ہم بالکل سچ کہتے ہیں"

قَالُوْا [ انھوں نے کہا ] تَقَاسَمُوْا [ تم لوگ ایک دوسرے سے قسم لو ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی کہ ] لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ [ ہم لازما شبخوں ماریں گے اس (صالح (علیہ السلام) ) پر وَاَهْلَهٗ [ اور اس کے لوگوں پر ] ثُمَّ لَـنَقُوْلَنَّ [ پھر ہم لازما کہیں گے ] لِوَلِيِّهٖ [ اس کے ولی سے ] مَا شَهِدْنَا [ ہم موجود نہیں تھے ] مَهْلِكَ اَهْلِهٖ [ اس کے لوگوں کے ہلاک ہونے کے وقت ] وَاِنَّا [ اور بیشک ہم ][ لَصٰدِقُوْنَ [ یقینا سچ کہنے والے ہیں ]
Ayah 27:50

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

یہ چال تو وہ چلے اور پھر ایک چال ہم نے چلی جس کی انہیں خبر نہ تھی

وَمَكَرُوْا [ اور انھوں نے خفیہ تدبیر کی ] مَكْرًا [ جیسے خفیہ تدبیر کرتے ہیں وَّمَكَرْنَا [ اور ہم نے خفیہ تدبیر کی ] مَكْرًا [ جیسے خفیہ تدبیر کرتے ہیں ] وَّ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ لوگ [ لَا يَشْعُرُوْنَ [ شعور نہیں رکھتے تھے ]
Ayah 27:51

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

اب دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیا ہوا ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا اُن کو اور ان کی پوری قوم کو

فَانْظُرْ [ تو آپ ﷺ دیکھیں ] كَيْفَ كَانَ [ کیسا تھا ] عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ ۙ [ ان کی خفیہ تدبیر کا انجام ] اَنَّا [ کہ ہم نے ] دَمَّرْنٰهُمْ [ ہلاک کیا ان (یعنی جتھے) کو ] وَقَوْمَهُمْ [ اور ان کی قوم کو ] اَجْمَعِيْنَ [ سب کے سب کو ]
Ayah 27:52

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

وہ اُن کے گھر خالی پڑے ہیں اُس ظلم کی پاداش میں جو وہ کرتے تھے، اس میں ایک نشان عبرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں

فَتِلْكَ [ پس یہ ] بُيُوْتُهُمْ [ ان کے گھر ہیں ] خَاوِيَةًۢ [ اوندھے ہوئے ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] ظَلَمُوْا ۭ [ انھوں نے ظلم کیا ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [ بیشک اس میں ] لَاٰيَةً [ یقینا ایک نشانی ہے ] لِّقَوْمٍ [ ایک ایسی قوم کے لئے جو ] يَّعْلَمُوْنَ [ علم رکھتے ہیں ]
Ayah 27:53

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور بچا لیا ہم نے اُن لوگوں کو جو ایمان لائے تھے اور نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے

وَاَنْجَيْنَا [ اور ہم نے بچا لیا ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ [ اور تقوی اختیار کیا کرتے تھے ]
Ayah 27:54

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوطؑ کو ہم نے بھیجا یاد کرو وہ وقت جب اس نے اپنی قوم سے کہا "کیا تم آنکھوں دیکھتے بدکاری کرتے ہو؟

وَلُوْطًا [ اور (ہم بھیج چکے) لوط (علیہ السلام) کو ] اِذْ قَالَ [ جب انھوں نے کہا ] لِقَوْمِهٖٓ [ اپنی قوم سے ] اَتَاْتُوْنَ [ کیا تم لوگ کرتے ہو ] الْفَاحِشَةَ [ بےحیائی ] وَ [ اس حال میں کہ ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] تُبْصِرُوْنَ [ دیکھتے ہو ] نوٹ۔ 1: حضرت لوط (علیہ السلام) کی تبلیغ پر قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ جب لوط (علیہ السلام) اور ان کے لوگ اس فعل سے بیزار ہیں اور وہ نہ تمہاری مانتے ہیں نہ تم ان کی ، تو ہمیشہ کی اس کلکل کو ختم کیوں نہیں کردیتے۔ لوط (علیہ السلام) کے گھرانے کو دیس نکالا دے کر ان کے روزمرہ کے کچوکوں سے نجات حاصل کرلو۔ جب کافروں نے پختہ ارادہ کرلیا۔ اس پر جم گئے اور اجماع ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (ابن کثیر)
Ayah 27:55

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تمہارا یہی چلن ہے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے جاتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ سخت جہالت کا کام کرتے ہو"

اَىِٕنَّكُمْ [ کیا بیشک تم لوگ ] لَتَاْتُوْنَ [ آتے ہو ] الرِّجَالَ [ مردوں کے پاس ] شَهْوَةً [ شہوت کے لئے ] مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ ۭ [ عورتوں کے علاوہ ] بَلْ اَنْتُمْ [ بلکہ تم لوگ ] قَوْمٌ [ ایک ایسی قوم ہو جو ] تَجْـهَلُوْنَ [ غلط سوچ رکھتی ہے ]
Ayah 27:56

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

مگر اُس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا "نکال دو لوطؑ کے گھر والوں کو اپنی بستی سے، یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں"

فَمَا كَانَ [ تو نہیں تھا ] جَوَابَ قَوْمِهٖٓ [ ان کی قوم کا جواب ] اِلَّا اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] قَالُوْٓا [ ان لوگوں نے کہا ] اَخْرِجُوْٓا [ تم لوگ نکالو ] اٰلَ لُوْطٍ [ لوط (علیہ السلام) کے لوگوں کو ] مِّنْ قَرْيَتِكُمْ ۚ [ اپنی بستی سے ] اِنَّهُمْ [ بیشک یہ لوگ ] اُنَاسٌ [ ایک ایسا گروہ ہیں جو ] يَّتَطَهَّرُوْنَ [ پاک رہنا چاہتے ہیں
Ayah 27:57

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

آخر کار ہم نے بچا لیا اُس کو اور اُس کے گھر والوں کو، بجز اُس کی بیوی کے جس کا پیچھے رہ جانا ہم نے طے کر دیا تھا

فَاَنْجَيْنٰهُ [ تو ہم نے نجات دی ان کو ] وَاَهْلَهٗٓ [ اور ان کے لوگوں کو ] اِلَّا [ سوائے ] امْرَاَتَهٗ ۡ [ ان (علیہ السلام) کی عورت کے ] قَدَّرْنٰهَا [ ہم نے طے کیا اس عورت کو ] مِنَ الْغٰبِرِيْنَ [ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ]
Ayah 27:58

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور برسائی اُن لوگوں پر ایک برسات، بہت ہی بری برسات تھی وہ اُن لوگوں کے حق میں جو متنبہ کیے جا چکے تھے

وَاَمْطَرْنَا [ اور ہم نے برسایا ] عَلَيْهِمْ [ ان لوگوں پر ] مَّطَرًا ۚ [ ایک برسنے والی چیز ] فَسَاۗءَ [ تو بری تھی ] مَطَرُ الْمُنْذَرِيْنَ [ خبردار کئے ہوؤں کی برسنے والی چیز ]
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

(اے نبیؐ) کہو، حمد اللہ کے لیے اور سلام اس کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے برگزیدہ کیا (اِن سے پوچھو) اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنا رہے ہیں؟

قُلِ [ آپ ﷺ کہیے ] الْحَمْدُ [ تمام شکر و سپاس ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لئے ہے ] وَسَلٰمٌ [ اور سلامتی ہے ] عَلٰي عِبَادِهِ الَّذِيْنَ [ اس کے ان بندوں پر جن کو ] اصْطَفٰى ۭ [ اس نے چن لیا ] اٰۗللّٰهُ [ کیا اللہ ] خَيْرٌ [ بہتر ہے ] اَمَّا [ یا وہ (بہتر ہیں) جن کو ] يُشْرِكُوْنَ [ یہ لوگ شریک کرتے ہیں ]
Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے وہ خوشنما باغ اگائے جن کے درختوں کا اگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا بھی (اِن کاموں میں شریک) ہے؟ (نہیں)، بلکہ یہی لوگ راہِ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں

اَمَّنْ [ یا وہ (بہتر ہے) جس نے ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں کو ] وَالْاَرْضَ [ اور زمین کو ] وَاَنْزَلَ [ اور جس نے اتارا ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] مِّنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] مَاۗءً ۚ [ کچھ پانی ] فَاَنْۢبَتْنَا [ پھر ہم نے اگائے ] بِهٖ [ اس (پانی) سے ] حَدَاۗىِٕقَ [ باغات ] ذَاتَ بَهْجَةٍ ۚ [ شادابی والے ] مَا كَانَ [ نہیں ہے (ممکن)] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] اَنْ [ کہ ] تُنْۢبِتُوْا [ تم لوگ اگاؤ] شَجَـرَهَا ۭ [ ان (باغات) کے درخت ] ءَ [ کیا ] اِلٰهٌ [ کوئی الٰہ ہے ] مَّعَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے ساتھ ] بَلْ هُمْ [ بلکہ یہ لوگ ] قَوْمٌ [ ایک ایسی قوم ہیں جو ] يَّعْدِلُوْنَ [ برابر کرتے ہیں (دوسروں کو)] ح د ق (ض) حدقا کسی کو چاروں طرف سے گھیر لینا۔ حدیقۃ ج حدائق۔ چار دیواری والا باغ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 60
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں (پہاڑوں کی) میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں کے درمیان پردے حائل کر دیے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (اِن کاموں میں شریک) ہے؟ نہیں، بلکہ اِن میں سے اکثر لوگ نادان ہیں

اَمَّنْ [ یا وہ (بہتر ہے) جس نے ] جَعَلَ [ بنایا ] الْاَرْضَ [ زمین کو ] قَرَارًا [ ٹھہرائی ہوئی ] وَّجَعَلَ [ اور اس نے بنائیں ] خِلٰلَهَآ [ اس کی دراڑوں سے ] اَنْهٰرًا [ نہریں ] وَّجَعَلَ [ اور اس نے بنائے ] لَهَا [ اس (زمین ) کے لئے ] رَوَاسِيَ [ کچھ پہاڑ ] وَجَعَلَ [ اور اس نے بنایا ] بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ [ دو سمندروں کے درمیان ] حَاجِزًا ۭ [ ایک رکاوٹ ] ءَ [ کیا ] اِلٰهٌ [ کو یہ الٰہ ہے ] مَّعَ اللّٰهِ ۭ[ اللہ کے ساتھ ] بَلْ [ بلکہ ] اَكْثَرُهُمْ [ ان کے اکثر ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ علم نہیں رکھتے ح ج ز (ن۔ ض) حجزا منع کرنا۔ روک دینا۔ حاجز اسم الفاعل کے وزن پر صفت۔ روکنے والا۔ رکاوٹ۔ آڑ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 61
Ayah 27:62

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور (کون ہے جو) تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (یہ کام کرنے والا) ہے؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو

اَمَّنْ [ یا وہ (بہتر ہے) جو ] يُّجِيْبُ [ (دعا) قبول کرتا ہے ] الْمُضْطَرَّ [ مجبور کئے ہوئے کی ] اِذَا [ جب بھی ] دَعَاهُ [ وہ پکارے اس کو ] وَيَكْشِفُ [ اور وہ دور کرتا ہے ] السُّوْۗءَ [ برائی کو ] وَيَجْعَلُكُمْ [ اور بناتا ہے تم لوگوں کو ] خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ ۭ [ زمین کا (یعنی میں) خلیفہ ] ءَ [ کیا ] اِلٰهٌ [ کوئی الٰہ ہے ] مَّعَ اللّٰهِ ۭ[ اللہ کے ساتھ ] قَلِيْلًا مَّا [ بہت ہی تھوڑی ] تَذَكَّرُوْنَ [ تم لوگ نصیحت حاصل کرتے ہو ] نوٹ۔ 1: مضطر وہ شخص ہے جو سب دنیا کے سہاروں سے مایوس ہوکر خالص اللہ تعالیٰ ہی کو فریاد رس سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مضطر کی دعا قبول کرنے کا ذمہ لے لیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے سب سہاروں سے منقطع ہوکر، صرف اللہ تعالیٰ ہی کو کارساز سمجھ کردیا کرنا سرمائی اخلاص ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اخلاص کا بڑا درجہ ہے۔ وہ جس کسی بندے میں پایا جائے، وہ مومن ہو یا کافر، متقی ہو یا فاسق وفاجر، اس کے اخلاص کی برکت سے رحمت حق اس کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں کافروں کا حال ذکر فرمایا کہ یہ لوگ جب دریا میں ہوتے ہیں اور کشتی موجوں کی لپیٹ میں آجاتی ہے اس وقت یہ لوگ (سارے دیوی و یوتا بھول کر) پورے اخلاص کے ساتھ اللہ کو پکارتے ہیں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول کرکے خشکی پر لے آتا ہے تو یہ پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں۔ ایک مظلوم کی دعا ، دوسرے مسافر کی دعا، تیسرے باپ کی جو اپنی اولاد کے لئے بدعا کرے۔ ان تینوں دعاؤں میں بھی وہی صورت ہے جو دعائے مضطر میں ہے کہ دنیا کے سہاروں اور مددگاروں سے مایوس ہوکر خالص اللہ کو پکارتے ہیں۔ اگر کسی مضطر یا مظلوم یا مسافر وغیرہ کو کبھی یہ محسوس ہو کہ اس کی دعا مقبول نہیں ہوئی تو بدگمان اور مایوس نہ ہو۔ بعض اوقات دعا قبول تو ہوجاتی ہے مگر کسی مصلحت ربانی سے اس کا ظہور دیر میں ہوتا ہے۔ یا پھر وہ اپنے نفس کو ٹٹولے کہ اس کے اخلاص اور توجہ الی اللہ میں کمی کوتاہی رہی ہے۔ (معارف القرآن) اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی کسی تکلیف یا پریشانی پر Magnifying Glass لگا کر خود کو مضطر سمجھ بیٹھتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہوتا ہے کہ وہ مضطر نہیں ہے۔ (مرتب) کسی حقیقی مضطر کی فریاد رسی اگر بروقت نہیں ہوتی تو کسی دوسرے زیادہ موزوں تر وقت کے لئے اٹھا رکھی جاتی ہے۔ اور اگر اس شکل میں نہیں ہوتی جس شکل میں وہ چاہتا ہے تو اس سے مختلف اور بہتر شکل میں پوری ہوتی ہے۔ اور اگر اس دنیا میں نہیں ہوتی تو وہ آخرت میں اس کے لئے موجب اجر ہوگی۔ (تدبر القرآن)
Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواؤں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی (یہ کام کرتا) ہے؟ بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

اَمَّنْ [ یا وہ (بہتر ہے) جو ] يَّهْدِيْكُمْ [ راہ سجھاتا ہے تم کو ] فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ سمندر اور خشکی کے اندھیروں میں ] وَمَنْ يُّرْسِلُ [ اور جو بھیجتا ہے ] الرِّيٰحَ [ ہواؤں کو ] بُشْرًۢا [ خوشخبریاں ہوتے ہوئے ] بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ۭ [ اپنی رحمت سے پہلے ] ءَ [ کیا ] اِلٰهٌ [ کوئی الٰہ ہے ] مَّعَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے ساتھ ] تَعٰلَى اللّٰهُ [ بلند ہوا اللہ ] عَمَّا [ اس سے جو ] يُشْرِكُوْنَ [ یہ لوگ شرک کرتے ہیں ]
Ayah 27:64

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

اور کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟ اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (اِن کاموں میں حصہ دار) ہے؟ کہو کہ لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو

اَمَّنْ [ یا وہ (بہتر ہے) جو ] يَّبْدَؤُا [ ابتدا کرتا ہے ] الْخَلْقَ [ پیدا کرنے کی ثُمَّ [ پھر ] يُعِيْدُهٗ [ وہ دوبارہ (پیدا) کرے گا اس کو ] وَمَنْ [ اور جو ] يَّرْزُقُكُمْ [ رزق دیتا ہے تم کو ] مِّنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] وَالْاَرْضِ ۭ [ اور زمین سے ] ءَاِلٰهٌ [ کیا کوئی الٰہ ہے ] مَّعَ اللّٰهِ ۭ[ اللہ کے ساتھ ] قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] هَاتُوْا [ تم لوگ دو ] بُرْهَانَكُمْ [ اپنی روشن دلیل ] اِنْ كُنْتُمْ [ اگر تم لوگ ہو ] صٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والے ]
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

اِن سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا، اور وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے

قُلْ ] آپ ﷺ کہیے ] لَّا يَعْلَمُ [ نہیں جانتا ] مَنْ [ جو (بھی)] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ زمین اور آسمانوں میں ہے ] الْغَيْبَ [ غیب کو ] اِلَّا اللّٰهُ ۭ [ سوائے اللہ کے ] وَمَا يَشْعُرُوْنَ [ اور وہ لوگ شعور نہیں رکھتے ] اَيَّانَ [ کب ] يُبْعَثُوْنَ [ وہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے نوٹ۔ 1: آیت۔ 65 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ سوائے خدا کے کوئی انسان ، جن یا فرشتہ غیب داں نہیں ہے۔ بی بی عائشہ ؓ کا فرمان ہے کہ جو کہے کہ رسول اللہ ﷺ کل کی بات جانتے تھے اس نے اللہ تعالیٰ پر بہتان عظیم باندھا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زمین اور آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب کی بات جاننے والا نہیں ہے۔ (ابن کثیر) اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ عالم الغیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اور جس قدر چاہے اپنی معلومات کا کوئی گوشہ کھول دے۔ لیکن علم غیب بحیثیت مجموعی کسی کو نصیب نہیں اور عالم الغیب ہونے کی صفت صرف اللہ کے لئے مخصوص ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 27:66

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گم ہو گیا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس سے اندھے ہیں

بَلِ [ بلکہ ] ادّٰرَكَ [ (اگلوں سے) جاملا ] عِلْمُهُمْ [ ان کا علم ] فِي الْاٰخِرَةِ ۣ [ (انکار) آخرت کے بارے میں ] بَلْ هُمْ [ بلکہ وہ لوگ ] فِيْ شَكٍّ [ شک میں ہیں ] مِّنْهَا ڹ [ اس کے بارے میں ] بَلْ هُمْ [ بلکہ وہ لوگ ] مِّنْهَا [ اس سے ] عَمُوْنَ [ اندھے ہیں ]
Ayah 27:67

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

یہ منکرین کہتے ہیں "کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو چکے ہوں گے تو ہمیں واقعی قبروں سے نکالا جائے گا؟

وَقَالَ [ اور کہا ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں نے جنہوں نے ] كَفَرُوْٓا [ انکار کیا ] ءَاِذَا [ کیا جب ] كُنَّا [ ہم ہوجائیں گے ] تُرٰبًا [ مٹی ] وَّاٰبَاۗؤُنَآ [ اور ہمارے باپ دادا بھی ] اَىِٕنَّا [ تو کیا ہم ] لَمُخْرَجُوْنَ [ ضرور نکالے جانے والے ہیں ]
Ayah 27:68

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے ہمارے آباء اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو اگلے وقتوں سے سُنتے چلے آ رہے ہیں"

لَقَدْ وُعِدْنَا [ بیشک وعدہ کیا جا چکا ہے ہم سے ] هٰذَا [ اس کا ] نَحْنُ [ ہم سے بھی ] وَاٰبَاۗؤُنَا [ اور ہمارے باپ دادا سے بھی ] مِنْ قَبْلُ ۙ [ اس سے پہلے ] اِنْ هٰذَآ[ نہیں ہے یہ ] اِلَّآ [ مگر ] اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ [ پہلے لوگوں کے افسانے ]
Ayah 27:69

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہو چکا ہے

قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] سِيْرُوْا [ تم لوگ گھومو پھرو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] فَانْظُرُوْا [ پھر دیکھو ] كَيْفَ كَانَ [ کیسا تھا ] عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِيْنَ [ مجرموں کا انجام
Ayah 27:70

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اے نبیؐ، اِن کے حال پر رنج نہ کرو اور نہ اِن کی چالوں پر دل تنگ ہو

وَلَا تَحْزَنْ [ اور آپ ﷺ افسوس مت کریں ] عَلَيْهِمْ [ ان لوگوں پر ] وَلَا تَكُنْ [ اور آپ مت ہوں ] فِيْ ضَيْقٍ [ کسی گھٹن میں ] مِّمَّا [ اس سے جو ] يَمْكُرُوْنَ [ یہ لوگ مکر کرتے ہیں ]
Ayah 27:71

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ "یہ دھمکی کب پُوری ہو گی اگر تم سچے ہو؟"

وَيَقُوْلُوْنَ [ اور وہ لوگ کہتے ہیں ] مَتٰى [ کب ] هٰذَا الْوَعْدُ [ یہ وعدہ (پورا) ہوگا ] اِنْ كُنْتُمْ [ اگر تم لوگ ] صٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والے ہو ] نوٹ۔ 1: رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے ۔ ایک عذاب دنیا سے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازما ظاہر ہوتا ہے ۔ دوسرے عذاب آخرت سے ۔ اس کا جواب ان کی قوموں نے ہمیشہ یہی دیا کہ یہ عذاب کب آئے گا ۔ اگر سچے ہو تو یا تو قیامت لائو، اگر قیامت نہیں تو وہ عذاب ہی لا کر دکھائو جو تمہاری تکذیب کی صورت میں ہم پر آنے والا ہے ۔ فرمایا ان سے کہہ دو کہ عجب نہیں کہ جس چیز کے لئے تم جلدی مچاتے ہو اس کا کوئی حصہ تمہارے پیچھے ہی لگا ہوا ہو ۔ تستعجلون سے قیامت مراد ہے جس کے لئے وہ جلدی مچاتے تھے ۔ بعض سے مراد وہ عذاب ہے جو رسول کی تکذیب کا لازمی نتیجہ ہے ۔ یہاں اس بات کو عسیٰ کے لفظ سے کہنے کی وجہ یہ ہے کہ بہرحال عذاب کے ظہور کا انحصار قوم کے رویے پر تھا کہ وہ ایمان لا کر اس سے محفوظ بھی رہ سکتی تھی ۔ چناچہ ہوا بھی یہی کہ آنحضرت ﷺ عذاب کی قوم کی اکثریت ایمان لائی اس وجہ سے اس پر ایسا عذاب نہیں آیا جیسا پچھلی قوموں پر آیا تھا ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 27:72

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

کہو کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آ لگا ہو

قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] عَسٰٓى [ ہوسکتا ہے ] اَنْ يَّكُوْنَ [ کہ ہو ] رَدِفَ لَكُمْ [ تمہارے پیچھے ہی ] بَعْضُ الَّذِيْ [ اس کا بعض جس کی ] تَسْتَعْجِلُوْنَ [ تم لوگ جلدی مچاتے ہو ]
Ayah 27:73

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب تو لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

وَاِنَّ رَبَّكَ [ اور بیشک آپ ﷺ کا رب ] لَذُوْ فَضْلٍ [ یقینا فضل والا ہے ] عَلَي النَّاسِ [ لوگوں پر ] وَلٰكِنَّ [ اور لیکن ] اَكْثَرَهُمْ [ ان کے اکثر ] لَا يَشْكُرُوْنَ [ شکر نہیں کرتے ]
Ayah 27:74

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

بلا شبہ تیرا رب خُوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں

وَاِنَّ رَبَّكَ [ اور بیشک آپ ﷺ کا رب ] لَيَعْلَمُ [ یقینا جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] تُكِنُّ [ چھپاتے ہیں ] صُدُوْرُهُمْ [ ان کے سینے ] وَمَا [ اور اس کو جو ] يُعْلِنُوْنَ [ یہ لوگ اعلان کرتے ہیں ]
Ayah 27:75

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

آسمان و زمین کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں لکھی ہوئی موجود نہ ہو

وَمَا [ اور نہیں ہے ] مِنْ غَاۗىِٕبَةٍ [ کوئی بھی غائب ہونے والی ] فِي السَّمَاۗءِ [ آسمان میں ] وَالْاَرْضِ [ اور زمین میں ] اِلَّا [ سوائے اس کے کہ ] فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ [ (وہ) ایک واضح کتاب میں ہے ]
Ayah 27:76

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

یہ واقعہ ہے کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کو اکثر اُن باتوں کی حقیقت بتاتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ [ بیشک یہ قرآن ] يَقُصُّ [ بیان کرتا ہے ] عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل پر ] اَكْثَرَ الَّذِيْ [ اس کے اکثر کو ] هُمْ [ وہ لوگ ] فِيْهِ [ جس میں ] يَخْتَلِفُوْنَ [ اختلاف کرتے ہیں
Ayah 27:77

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے

وَاِنَّهٗ [ اور بیشک یہ ] لَهُدًى [ یقینا ہدایت ہے ] وَّرَحْمَةٌ [ اور رحمت ہے ] لِّلْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں کے لئے ]
Ayah 27:78

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

یقیناً (اِسی طرح) تیرا رب اِن لوگوں کے درمیان بھی اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے

اِنَّ رَبَّكَ [ بیشک آپ ﷺ کا رب ] يَقْضِيْ [ فیصلہ کرے گا ] بَيْنَهُمْ [ ان کے درمیان ] بِحُكْمِهٖ ۚ [ اپنے حکم سے ] وَهُوَ الْعَزِيْزُ [ اور وہ ہی بالادست ہے ] الْعَلِيْمُ [ جاننے والا ہے ]
Ayah 27:79

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

پس اے نبیؐ، اللہ پر بھروسا رکھو، یقیناً تم صریح حق پر ہو

فَتَوَكَّلْ [ پس آپ ﷺ بھروسہ کریں ] عَلَي اللّٰهِ ۭ [ اللہ پر ] اِنَّكَ [ بیشک آپ ﷺ ] عَلَي الْحَقِّ الْمُبِيْنِ [ واضح حق پر ہیں ]
Ayah 27:80

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے، نہ اُن بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں

اِنَّكَ [ بیشک آپ ] لَا تُسْمِعُ [ نہیں سناتے ] الْمَوْتٰى [ مردوں کو ] وَلَاتُسْمِعُ [ اور آپ ﷺ نہیں سناتے ] الصُّمَّ [ بہروں کو ] الدُّعَاۗءَ [ (اپنی) پکار ] اِذَا [ جب ] وَلَّوْا [ وہ چل دیتے ہیں ] مُدْبِرِيْنَ [ پیٹھ دینے والے ہوتے ہوئے ]