Ayah 48:11سیقول لک المخلفون من الاعراب شغلتنا اموالنا واھلونا فاستغفرلنا یقولون بالسنتھم ما لیس فے قلوبھم جو دیہاتی پیچھے رہ گئے ‘ وہ عنقریب آپ سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال و عیال (کی مشغولیت) نے فرصت نہیں لینے دی ‘ اب ہمارے لئے (اس کوتاہی کی) معافی کیلئے دعا کر دیجئے۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہیں گے جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں۔
مِنَ الْاَعْرَاب حضرت ابن عباس اور مجاہد نے فرمایا : اعراب سے مراد قبائل غفار ‘ مزینہ ‘ جہینہ ‘ نخع اور اسلم کے بدوی ہیں۔ جب حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ نے ان کو ساتھ چلنے کی دعوت دی تو قریش سے لڑائی کا ڈر ان کے دلوں میں پیدا ہوگیا ‘ کیونکہ ان کے خیال میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اور مسلمان کمزور تھے (اور ان کی شکست لازم تھی) اسلئے ساتھ جانے سے انہوں نے گریز کیا اور رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو ٹال دیا ‘ لیکن جب رسول اللہ ﷺ (اور مسلمان) صحیح سالم لوٹ آئے تو انہوں نے ساتھ نہ جانے کی معذرت پیش کی۔
شَغَلَتْنَآ اَمْوَالْنَا وَاَھْلُوْنَا یعنی ہمارے پاس کوئی ایسا آدمی نہیں تھا جو ہمارے مال اور اہل و عیال کی خبرگیری اور نگرانی کرتا ‘ اسلئے ہم ساتھ نہ جاسکے۔ اب ہماری اس کوتاہی کے معاف کردینے کی اللہ سے دعا کر دیجئے۔
آیت کی پیشن گوئی ایک معجزہ ہے ‘ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو پہلے ہی بتادیا کہ اعراب یہ بات کہیں گے۔ اس کے بعد ان کی معذرت کو غلط قرار دیا اور فرمایا :
یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِھِمْ یہ لوگ جو معذرت کریں گے ‘ وہ دعاء مغفرت کے طلبگار ہوں گے۔ یہ ان کی زبانی بات ہوگی ‘ دل میں نہیں ہوگی۔ دل سے ان کو پروا بھی نہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کیلئے دعاء مغفرت کریں یا نہ کریں۔
قل فمن یملک لکم من اللہ شیئا ان ارادبکم ضرعا او ارادبکم نفعًا بل کان اللہ بما
تعملون خبیرًا آپ کہہ دیجئے کہ کون ہے جو اللہ کے سامنے تمہارے لئے کسی چیز کا (کچھ بھی) اختیار رکھتا ہو ‘ اگر اللہ تم کو کوئی نقصان یا کوئی نفع پہنچانا چاہے ‘ بلکہ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔
فَمَنْ یَّمْلِکُ یعنی اللہ کی مشیت اور فیصلہ کے مقابلہ میں کوئی تمہاری حفاظت نہیں کرسکتا ‘ کوئی نہیں بچا سکتا۔
ضَرًّا اگر اللہ تم کو کوئی ضرر (جیسے قتل ‘ یا شکست ‘ یا مال کی تباہی ‘ یا عیال کی ہلاکت ‘ یا عذاب آخرت) پہنچانا چاہے۔
بَلْ کَان اللّٰہُ یعنی بات یوں نہیں ہے جس طرح تم معذرت کر رہے ہو ‘ بلکہ اللہ جانتا ہے کہ حدیبیہ کو نہ جانے اور پیچھے رہ جانے سے تمہارا مقصد کیا تھا۔ تم اہل مکہ کے ڈر کے مارے ان کی موافقت کرنی چاہتے تھے (ان سے لڑنا نہیں چاہتے تھے) ۔
Ayah 48:12بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول والمؤمنون الی اھلیھم ابدًا وزین ذلک فی قلوبکم
وظننتم ظن السوء وکنتم قومًا بورًا بلکہ تم نے یہ خیال کیا کہ رسول اور (ان کے ہمراہی) مؤمن اپنے گھروں میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں اچھی بھی معلوم ہوئی تھی اور تم نے برے برے گمان کئے تھے۔ اور تم برباد ہونے والے لوگ ہوگئے۔
اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ یعنی مکہ کے مشرک اللہ کے رسول ﷺ اور تمام مؤمنوں کو ہلاک کردیں گے ‘ کوئی بھی گھر لوٹ کر نہیں آئے گا۔
دوسرے بَلْ کا ‘ جو اضراب کیلئے ہے ‘ پہلے اضراب کے مضمون پر عطف ہے۔
وَزُیِّنَ ذٰلِکَ فِیْ قُلُوبِکُمْ یعنی مسلمانوں اور رسول کی تباہی کی پسندیدگی تمہارے دلوں میں پیدا تو اللہ نے کی تھی ‘ مگر شیطان نے تمہارے دلوں میں یہ خیال دل پسند بنا دیا تھا۔
وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِصلے ج یعنی تم نے خیال کیا تھا کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھی مشرکوں کا لقمہ بن جائیں گے ‘ اسی طرح کے اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے متعلق برے برے گمان تم رکھتے تھے۔
قَوْمًام بُوْرًا عند اللہ ہلاک ہونے والے ‘ تباہ ‘ بداعتقاد اور برے گمان رکھنے کی وجہ سے۔
Ayah 48:13ومن لم یؤمن باللہ ورسولہ فانا اعتدنا للکفرین سعیرا۔ اور جو شخص اللہ پر اور اسکے رسول ﷺ پر ایمان نہ لائے گا ‘ سو ہم نے کافروں کیلئے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔
Ayah 48:14واللہ ملک السموت والارض یغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء وکان اللہ غفورًا رحیمًا اور تمام آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کی ہے ‘ وہ جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے سزا دے۔ اور اللہ بڑا غفور ‘ رحیم ہے۔
وَمَنْ لَّمْ یُؤْمِنْم باللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ اس جملہ میں درپردہ اظہار ہے اس امر کا کہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر ان کا ایمان ہی نہیں ہے ‘ کیونکہ اس طرح کی بدگمانیاں اور رسول کے ساتھ نہ جانا تقاضائے ایمان کے خلاف ہے۔ شرط کی جزاء محذوف ہے ‘ یعنی کسی کا ایمان نہ لانا ہم کو ضرر نہیں پہنچاتا ‘ اس سے ہمارا نقصان نہیں ہوتا۔
فَاِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا۔ سعیرًا کی تنوین ہولناکی کو ظاہر کر رہی ہے ‘ یعنی ہولناک ‘ دہکتی ‘ بھڑکتی آگ۔ بجائے ضمیر کے للکافرین صراحت کے ساتھ کہنا اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جو شخص اللہ اور رسول ﷺ پر ایمان نہ لائے ‘ وہ کافر ہے اور کفر کی وجہ سے دوزخ کا مستحق ہے۔
لِمَنْ یَّشَآء یعنی اس پر نہ مغفرت واجب ہے ‘ نہ سزا دینا لازم۔
وَکَان اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا یعنی اللہ کی ذات صفات تو مغفرت اور رحمت ہیں اور عذاب دینے کا فیصلہ عارضی ہے۔
Ayah 48:15سیقول المخلفون اذا انطلقتم الی مغانم لتاخذوھا ذرونا نتبعکم یریدون ان یبدلوا کلم اللہ قل لن تتبعونا کذالکم قال اللہ من قبل فسیقولون بل تحسدوننا بل کانوا لا یفقھون الا قلیلا اور جو لوگ (حدیبیہ کو جانے سے) پیچھے رہ گئے تھے ‘ وہ عنقریب جب تم (خیبر کی) غنیمتیں لینے جاؤ گے ‘ کہیں گے کہ ہم کو بھی اجازت دو ‘ ہم تمہارے ساتھ چلیں۔ وہ لوگ اللہ کے حکم کو بدل ڈالنا چاہتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ تم لوگ ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے ‘ اللہ نے پہلے ہی یوں فرما دیا ہے۔ تو وہ لوگ کہیں گے : (یہ بات نہیں) بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کرتے ہو (مسلمان حس نہیں کرتے) بلکہ یہ لوگ خود بہت کم بات سمجھتے ہیں۔
نَتَّبِعْکُمْ یعنی ہم بھی تمہارے ساتھ جہاد پر چلیں تاکہ ہم کو بھی مال غنیمت ملے۔
بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ مغانم سے مراد صرف خیبر (کا مال غنیمت) ہے۔ محمد بن عمرو کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو جہاد پر یعنی خیبر کی طرف چلنے کا حکم دیا۔ حضور ﷺ کے گرداگرد جو لوگ تھے ‘ انہوں نے اس کی کوشش کی اور جو لوگ حدیبیہ میں شرک تھے ‘ وہ جہاد کیلئے تیار ہوگئے اور جو لوگ حدیبیہ پر جانے سے رہ گئے تھے ‘ وہ بھی مال غنیمت کے لالچ میں خیبر کو جانے کیلئے آئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : یہ لوگ میرے ساتھ صرف جہا د کی خواہش سے تو جاسکتے ہیں ‘ مال غنیمت (میں حصہ دار بننے) کیلئے نہیں۔ آیت کا صاف مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے مسلمانوں کی تعداد کو کم اور اہل ایمان کی کمزوری دیکھ کر خیال کیا تھا کہ مسلمانوں کو شکست ہوجائے گی ‘ اسی لئے وہ حدیبیہ کو نہیں گئے۔ جب وہ مسلمانوں کی طاقت محسوس کریں گے اور مسلمانوں کو مال غنیمت حاصل کرنے کیلئے جہاد پر جاتا دیکھیں گے (ان کے خیال میں مسلمان جہاد پر صرف مال غنیمت حاصل کرنے کیلئے جاتے تھے) تو کہیں گے : ہم کو بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دو ۔ وہ چاہتے تھے کہ اللہ کے کلام کو بدل ڈالیں کیونکہ اللہ نے تو اپنی نبی ﷺ کو حکم دے دیا تھا کہ ان میں سے کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ جائے ‘ چناچہ دوسری آیت میں (یہی مضمون) آیا ہے ‘ فرمایا ہے : فَاسْتَأذَنُوْکَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا اِنَّکُمْ رَضِیْتُمْ بالْقعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ۔ ابن زید اور قتادہ نے یہی مطلب بیان کیا۔ میں کہتا ہوں : جو لوگ حدیبیہ کو نہیں گئے تھے ‘ جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کو جہاد کی شدید رغبت ہے اور بیعت رضوان کی حالت وہ سن ہی چکے تھے اور یہ بھی سن لیا ھا کہ وادی مکہ میں اللہ نے مسلمانوں کو مشرکوں پر فتح عنایت کردی کہ مشرک صلح پر راضی ہوگئے اور مسلمانوں کو اہل مکہ کی طرف سے اطمینان حاصل ہوگیا اور اب وہ دوسرے قبائل عرب سے جہاد کرنے کیلئے فارغ ہوگئے تو حدیبیہ کو نہ جانے پر ان کو پشیمانی ہوئی اور ان کو یقین ہوگیا کہ آئندہ مسلمان غالب آئیں گے اور مال غنیمت ان کو حاصل ہوگا ‘ یہ بات ان لوگوں نے اس وقت کہی تھی جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں سے جہاد کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا تھا۔ باوجودیکہ اہل خیبر ‘ مکہ والوں سے زیادہ طاقتور تھے ‘ دس ہزار جنگجو بہادر ان میں موجود تھے (لیکن حضور ﷺ نے ان پر چڑھائی کرنے کا عزم کرلیا) رہی یہ بات کہ جب مسلمان اتنے بہادر تھے ‘ تو مکہ میں زبردستی کیوں داخل نہ ہو سکے ؟ تو اس کی وجہ یہ تھی کہ قریش پر اللہ نے رحم فرمایا کہ اپنے رسول ﷺ کو اور مسلمانوں کو داخل ہونے سے روک دیا ‘ جیسے قریش پر رحم کرنے کے سبب ہاتھی والے حبشیوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا ‘ پھر اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ قریش کے اکثر آدمی مسلمان ہوجائیں گے اور ان کی نسل سے بہت سی مؤمن روحیں پیدا ہوں گی۔ ایک بات یہ بھی تھی کہ مسلمان مکہ میں زبردستی گھستے اور جنگ ہوتی تو وہاں کچھ مسلمان مرد اور عورتیں بھی پوشیدہ تھے اور حملہ کرنے والوں کو معلوم نہیں تھا ‘ اسلئے نادانستگی میں ممکن تھا کہ وہ روندے جاتے ‘ یہی وجوہ تھیں کہ مسلمانوں نے زبردستی داخل ہونے کی کوشش نہیں کی اور اللہ نے ان کو حدیبیہ میں ہی روک دیا۔
قَلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا اللہ کی طرف سے بطور معجزہ یہ ایک پیشین گوئی ہے کہ باوجودیکہ وہ اعراب مال غنیمت کے لالچ میں مخلص مؤمنوں کے ساتھ جانے کا پختہ ارادہ کرچکے تھے ‘ مگر اللہ نے پہلے سے خبر دے دی کہ یہ ساتھ نہیں جائیں گے۔ گویا دو مرتبہ پیشین گوئی فرمائی ‘ ایک بار یہ کہ وہ تمہارے ساتھ جانے کو کہیں گے اور دوسری بار یہ کہ وہ تمہاری ساتھ ہرگز نہیں نکلیں گے۔
بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا اگرچہ نفی ہے لیکن نہی کے معنی میں ہے (تم ہرگز ہمارے ساتھ نہ چلو) ۔
کَذٰلِکُمْ یعنی جیسا میں نے تم سے کہا کہ تم لوگ ہمارے ساتھ نہیں جاؤ گے ‘ ایسا ہی وحی غیر متلو (یعنی الہام نبوت) کے ذریعہ سے ان نے پہلے ہی فرما دیا ہے کہ خیبر کا مال غنیمت صرف شرکاء حدیبیہ کیلئے ہے ‘ دوسروں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ‘ یا یہ بات اللہ نے پہلے ہی فرما دی کہ یہ لوگ رسول کے ساتھ کبھی نہیں جائیں گے اور نہ رسول اللہ ﷺ کسی جہاد میں ان کے ساتھ ہوں گے۔
آیت میں وہ لوگ مراد نہیں ہیں جن کے متعلق آیت فاسْتَأذَنُوْکَ نازل ہوئی تھی ‘ کیونکہ آیت فاسْتَأذَنُوْکَ تو ایک سال بعد 9 ھ میں غزوۂ تبوک کے سلسلے میں نازل ہوئی (اور اعراب کا قول و معذرت اور ساتھ جانے کی درخواست کا واقعہ 8 ھ کا ہے۔
بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا یعنی اللہ نے ایسا نہیں فرمایا ‘ بلکہ تم کو ہم سے حسد ہوتا ہے کہ ہم مال غنیمت میں تمہارے شریک ہوجائیں گے۔
بَلْ کَانُوْا لاَ یَفْقَھُوْنَ یعنی بات یہ نہیں ہے جو اعراب کہتے ہیں ‘ بلکہ انکو معلوم ہی نہیں کہ اللہ کی طرف سے ان کیلئے کیا مفید ہے اور کیا ضرر رساں۔
اِلاَّ قَلِیْلاً مگر تھوڑی سی سمجھ ہے ‘ یعنی دنیوی امور کی۔
Ayah 48:16قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید تقاتلونھم او یسلمون فان تطیعوا یؤتکم اللہ اجرًا حسنًا وان تتولوا کما تولیتم من قبل یعذبکم عذابًا الیمًا آپ ان پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے کہہ دیجئے کہ عنقریب تم ایسے لوگوں سے جہاد کرنے کیلئے بلائے جاؤ گے جو سخت لڑنے والے ہیں ‘ تم کو ان سے اس وقت تک لڑناہو گا کہ وہ (اسلام کے) مطیع ہوجائیں ‘ پس اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تم کو اچھا بدل (جنت) عطا فرمائے گا اور اگر (اس وقت بھی) روگردانی کرو گے جیسا کہ اس سے پہلے کرچکے ہو تو اللہ تم کو دردناک عذاب کی سزا دے گا۔
قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ (بجائے ضمیر غائب کے) دو بار مخلفین کا لفظ صراحت کے ساتھ ذکر کرنے سے مذمت میں قوت پیدا کرنا اور تخلّف کی سخت ترین قباحت ظاہر کرنا مقصود ہے۔
اِلٰی قَوْمٍ اُولِیْ بَأسٍ شَدِیْدٍکعب نے کہا : قوم سے مراد ہیں رومی ‘ یعنی غزوۂ تبوک میں شریک ہونے کی تم کو دعوت دی جائے گی۔
میں کہتا ہوں : آگے اس قوم کی صفت تُقَاتِلُوْنَھُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ ذکر کی گئی ہے ‘ اسلئے قوم سے رومی مراد نہیں ہوسکتے ‘ کیونکہ وہ قوم ایسی ہونی چاہئے جس سے اس وقت تک قتال جاری رکھنا لازم ہے جب تک وہ مسلمان (یا مطیع اسلام) نہ ہوجائیں ‘ لیکن تبوک میں نہ جنگ ہوئی ‘ نہ اسلام انہوں نے قبول کیا۔ کچھ اوپر دس روز رسول اللہ ﷺ نے تبوک میں قیام فرمایا ‘ لیکن ہرقل نے اپنی جگہ سے جنبش نہیں کی ‘ نہ مقابلہ کیلئے کسی کو بھیجا۔ آخر رسول اللہ ﷺ بغیر جنگ کے لوٹ آئے۔
سعید بن جبیر اور قتادہ نے کہا : قبائل ہوازن ‘ ثقیف اور غطفان مراد ہیں۔ حنین میں انہی سے لڑائی ہوئی تھی۔ میں کہتا ہوں : یہ بھی صحیح نہیں ہے۔ کسی صحیح روایت میں نہیں آیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اعراب کو حنین کی جنگ میں شریک ہونے کی دعوت دی ہو۔ اس کے علاوہ قوم سے جو لوگ مراد ہوں ‘ ان کا بڑا طاقتور اور جنگجو ہونا ضروری ہے اور قبائل ہوازن وغیرہ اسلامی لشکر کے مقابلہ میں طاقتور نہیں تھے ‘ ان کی تعداد بھی کم تھی اور اسلامی لشکر کی تعداد زیادہ تھی۔
زہری اور مقاتل کا قول ہے کہ بنی حنیفہ یعنی اہل یمامہ جو مسیلمہ کذاب کے ساتھی تھے ‘ مراد ہیں۔ حضرت رافع بن خدیج نے فرمایا : ہم یہ آیت پڑھتے تھے ‘ لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ قوم سے کون لوگ مراد ہیں ‘ یہاں تک کہ بنی حنیفہ سے لڑنے کیلئے حضرت ابوبکر نے لوگوں کو دعوت دی۔ اس وقت ہم سمجھے کہ قوم سے مراد بنی حنیفہ ہیں۔ اکثر اہل تفسیر کا یہی قول ہے اور بیضاوی نے اسی کو ترجیح دی ہے۔
تُقَاتِلُوْنَھُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ یعنی دونوں باتوں میں سے ایک ہوگی ‘ قتال یا اسلام۔ مراد یہ ہے کہ دونوں میں سے ایک بات ہونی ضروری ہے ‘ یا تو ان سے جنگ کرتے رہو ‘ یا وہ اسلام لے آئیں ‘ تیسری بات نہیں ہوسکتی۔ ان سے جزیہ نہیں لیا جاسکتا۔ یہ حکم صرف عرب کے مشرکوں اور مرتد ہوجانے والے مسلمانوں کیلئے خاص تھا۔ اہل روم اور دوسرے عجمیوں کیلئے تین صورتیں تھیں : جنگ ‘ یا اسلام ‘ یا جزیہ۔
اس تفسیر پر حضرت ابوبکر کی خلافت کا برحق ہونا اس آیت سے ثابت ہوجائے گا ‘ کیونکہ مرتدوں سے جہاد کرنے کی آپ ہی نے مسلمانوں کو دعوت دی ‘ لیکن حضرت ابن عباس ‘ مجاہد ‘ علاء اور ابن جریج کے نزدیک قوم سے مراد اہل فارس ہیں ‘ اس صورت میں حضرت عمر کی خلافت (جو حضرت ابوبکر کی خلافت پر مبنی تھی) کی طرف اشارہ ہوگا ‘ کیونکہ آپ نے ہی اہل فارس سے جہاد کیا۔ مگر اس تفسیر پر یسلمون کا معنی ہوگا ینقادون یعنی تم ان سے لڑو ‘ یہاں تک کہ وہ تمہارے مطیع ہوجائیں اور جزیہ ادا کرنا قبول کرلیں۔
اَجْرًا حَسَنًا یعنی جنت۔
مِنْ قَبْلُ یعنی حدیبیہ کو جانے کے وقت جیسے تم نے روگردانی کی تھی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ جب آیت مذکورہ نازل ہوئی تو اپاہج (لنگڑے لولے) لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہمارے متعلق کیا حکم ہے ؟ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 48:17لیس علی الاعمی حرج ولا علی الاعرج حرج ولا علی المریض حرج ومن یطع اللہ ورسولہ یدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھر ومن یتول یعذبہ عذابًا الیمًا نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کہنا مانے گا تو اللہ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ‘ اور جو شخص (حکم سے) روگردانی کرے گا تو اللہ اسکو دردناک عذاب کی سزا دے گا۔
حَرَجٌ تنگی ‘ سختی اور ترک جہاد کا عذاب۔
وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہِ یعنی جہاد وغیرہ میں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر چلے گا۔
وَمَنْ یَّتَوَلَّ یعنی باوجود قدرت کے جو اطاعت سے روگردانی کرے گا۔
Ayah 48:18لقد ؓ عن المؤمنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ فعلم ما فی قلوبھم فانزل السکینۃ علیھم واثابھم فتحًا قریبًا۔ بیشک اللہ مسلمانوں سے خوش ہوا ‘ جبکہ یہ لوگ آپ سے درخت (الشجرہ) کے نیچے بیعت کر ہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا ‘ اللہ کو وہ بھی معلوم تھا۔ پس اللہ نے ان کیلئے اطمینان پیدا کردیا اور ان کو ایک لگے ہاتھ فتح عنایت کی
Ayah 48:19ومغانم کثیرۃً یاخذونھا وکان اللہ عزیزًا حکیمًا اور (اس فتح میں) بہت سی غنیمتیں بھی دیں جن کو لوگ لے رہے ہیں۔ اور اللہ بڑا زبردست (اور) بڑی حکمت والا ہے۔
تَحْتَ الشَّجَرَۃِ یعنی حدیبیہ میں درخت کے نیچے ‘ اسی آیت کی وجہ سے اس بیعت کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے۔ اس آیت سے مقصود مؤمنوں کی تعریف اور مدح ہے اور گذشتہ کلام سے ایفاء بیعت پر برانگیختہ کرنا مقصود ہے۔
صحیحین میں آیا ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ نے فرمایا : ہم حدیبیہ کے دن ایک ہزار چار سو تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔
مسلم نے حضرت ام بشر کی مرفوع روایت سے بیان کیا ہے کہ جو کوئی اس درخت کے نیچے بیعت کرچکا ‘ وہ دوزخ میں نہیں جائے گا۔
فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ یعنی سچائی اور بیعت کا ایفاء۔
فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ یعنی ان کے دلوں میں اطمینان پیدا کردیا کہ حضور قلب کے ساتھ وہ ذکر خدا میں مشغول ہوگئے اور نفسانی پسندیدگی کو چھوڑ کر اللہ کے حکم پر راضی ہوگئے۔
فَتْحًا قَرِیْبًا یعنی فتح خیبر۔ ابن عائذ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ حدیبیہ سے واپس آکر دس روز رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں قیام فرمایا۔ سلیمان تیمی نے پندرہ روز قیام بتایا۔ ابن عقبہ نے زہری کا قول نقل کیا ہے کہ بیس روز قیام فرمایا۔ ابن اسحاق نے بحوالۂ مسور و مروان بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ماہ ذی الحجہ میں مدینہ میں تشریف فرما ہوئے اور محرم تک قیام پذیر رہے ‘ محرم میں خیبر کی طرف روانہ ہوگئے اور فتح خیبر صفر 7 ھ میں ہوئی ‘ کذا فی المغازی للو اقدی۔ حافظ نے کہا : یہی روایت راجح ہے۔ حاکم نے واقدی سے یہی نقل کیا ہے۔
وَمَغَانِمَ کَثِیْرۃً بخاری نے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا : خیبر فتح ہوگیا تو ہم نے کہا : اب ہم پیٹ بھر کر چھوارے کھائیں گے۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا : جب تک خیبر کی فتح نہ ہوگئی ‘ ہم نے پیٹ بھر کر چھوارے نہیں کھائے۔
حافظ محمد بن یوسف صالحی نے کہا : خیبر زمین کا ایک قطعہ تھا جس میں قلعے تھے ‘ کھیت تھے ‘ بکثرت نخلستان تھے۔ حدیبیہ سے تین روز کی مسافت پر شامی حاجیوں کے بائیں ہاتھ کو واقع تھا۔