15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 15:45–77

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا کہ) ان میں سلامتی (اور خاطر جمع) سے داخل ہوجاؤ۔

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی اس کو ہم نکال (کر صاف کر) دیں گے (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہیں۔

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہوں۔

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

اور یہ کہ میرا عذاب بھی درد دینے والا عذاب ہے۔

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنا دو ۔

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

جب وہ ابر اہیم کے پاس آئے تو سلام کہا (انہوں نے) کہا ہمیں تو تم سے ڈر لگتا ہے۔

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

(مہمانوں نے کہا) کہ ڈریئے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

(وہ) بولے کہ جب مجھے بڑھاپے نے آپکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے۔ اب کہے کی خوشخبری دیتے ہو ؟

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں آپ مایوس نہ ہو جئے۔

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

(ابر اہیم نے) کہا کہ خدا کی رحمت سے میں مایوس کیوں ہونے لگا ؟ اس سے مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے۔

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

پھر کہنے لگے کہ فرشتوں تمہیں (اور) کیا کام ہے ؟

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا کہ ہم ایک گنہگار (قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں کہ اس کو عذاب کریں )

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

مگر لوط کے گھر والے کہ ان سب کو ہم بچا لیں گے۔

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

البتہ ان کی عورت (کہ) اسکے لئے ہم نے ٹھیرا دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے گی۔

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

پھر جب فرشتے لوط کے گھر گئے

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

تو (لوط نے) کہا تم تو نا آشنا لوگ ہو۔

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

وہ بولے کہ (نہیں) بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

اور ہم آپ کے پاس یقینی بات لے کر آئے ہیں اور ہم سچ کہتے ہیں۔

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

تو آپ کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے نکلیں اور خود ان کے پیچھے چلیں اور آپ میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اور جہاں آپ کو حکم ہو وہاں چلے جائیے۔

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کی طرف وحی بھیجی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور اہل شہر (لوط کے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئے۔

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

(لوط نے) کہا کہ یہ میرے مہمان ہیں (کہیں ان کے بارے میں) مجھے رسوا نہ کرنا۔

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اور خدا سے ڈرو اور میری بےآبروئی نہ کیئجو۔

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

وہ بولے کیا ہم نے تم کو سارے جہان (کی حمایت وطرفداری) سے منع نہیں کیا ؟

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں (ان سے شادی کرلو)

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ تمہاری جان کی قسم وہ اپنی مستی میں مدہوش (ہو رہے) تھے۔

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

سو ان کو سورج نکلتے نکلتے چنگھاڑ نے آپکڑا۔

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

اور ہم نے اس (شہر) کو (الٹ کر) نیچے اوپر کردیا اور ان پر کھنگر کی پتھریاں برسائیں۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

بیشک اس (قصے) میں اہل فراست کے لئے نشانی ہے۔

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

اور وہ شہر اب تک سیدھے راستے پر (موجود) ہے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 15:77 in the Quran reader

بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے نشانی ہے۔

ذکر نعمائے اہل جنت قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان میں جاری ہوں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ ان باغوں میں سلامتی کے ساتھ امن سے داخل ہوجاؤ اب تم کو کسی قسم کا خوف اور غم نہیں موت اور ہر آفت سے تم ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو اور ان نعمتوں کے زائل ہونے کا اندیشہ نہ کرو۔ بالکل بےخوف ہو کر رہو اور بمقتضائے بشریت دنیا میں جو ان کے سینوں میں کسی قسم کا کوئی کینہ یا خفگی اور ناگواری تھی۔ جنت میں داخل ہونے سے قبل ہی یک لخت ہم اس کو ان کے سینوں سے نکال ڈالیں گے اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بمقتضائے بشریت دنیا میں ایسے دو شخصوں کے درمیان رنج و ملال پیش آجاتا ہے کہ جو دونوں خدا کے نزدیک متقی ہوتے ہیں اور دونوں اہل بہشت میں سے ہوتے ہیں جیسے جنت جمل اور جنگ صفین میں صحابہ ؓ کے درمیان رنج و ملال پیش آیا۔ جنت میں داخل ہونے سے قبل ان کا باہمی رنج و ملال سینوں سے نکال دیا جائے گا۔ پھر جنت میں داخل ہونے کے بعد وہ بھائی بھائی بنے آمنے سامنے محبت و الفت کے ساتھ جڑاؤ تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ اور محبت و الفت سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے۔ اور ہم کلام ہوں گے۔ اسی طرح صحابہ کے مشاجرات اور باہمی اختلافات کو سمجھو کہ اصحاب علی ؓ اور اصحاب معاویہ ؓ ہر دو گروہ متقی اور پرہیزگار تھے اور ہر دو گروہ اہل جنت ہیں اور بہشت میں داخل ہوں گے۔ دنیا میں جو باہمی اختلاف کی وجہ سے رنج و ملال پیش آیا وہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینوں سے نکال دیا جائے گا۔ چناچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ میں کہتا ہوں کہ میں اور طلحہ ؓ اور زبیر ؓ ان ہی لوگوں میں سے ہوں گے جن کی بابت اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشاد فرمایا ہے ونزعنا ما فی صدورھم من غل اخوانا۔ اس ناچیز کا گمان ہے کہ ان حضرات کا دل دنیا ہی میں صاف ہوچکا تھا۔ جیسا کہ حضرت علی ؓ کا قول اس پر دلالت کرتا ہے۔ نہ ان کو وہاں تکلیف پہنچے گی۔ اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے کیوں کہ جنت دار الخلود ہے وہاں ہمیشگی ہے۔ یہاں تک یہ بیان کیا کہ جہنم غاوین کا ٹھکانہ ہے اور جنت متقین کا ٹھکانا ہے اب آگے گنہگاروں اور خطا کاروں کو تسلی دی جاتی ہے کہ یہ لوگ خدا کی مغفرت اور رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ اے نبی ﷺ میرئے بندوں کو خبر دیجئے کہ تحقیق میں بڑا ہی بخشنے والا مہربان ہوں کسی گناہگار کو میری رحمت اور مغفرت سے ناامید نہ ہونا چاہئے اور یہ بھی خبر دے دیجئے کہ تحقیق میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے اس لیے عذاب سے کسی وقت بےکوف نہ ہونا چاہئے۔ خوف بھی اسی کا چاہئے اور امید بھی اسی کی چاہئے۔
Ayahs 15:78–84

وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ Open ayah 15:78 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والے (یعنی قوم شعیب کے لوگ) بھی گنہگار تھے۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے بھی بدلا لیا اور یہ دونوں شہر کھلے راستے پر (موجود) ہیں۔

وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 15:80 in the Quran reader

اور (وادی) حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھیر تے رہے۔

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمیان) سے رہیں گے

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

تو چیخ نے ان کو صبح ہوتے ہوتے آپکڑا۔

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔

قصہ اصحاب ایکہ واصحاب حجر قال اللہ تعالیٰ : وان کان اصحب الایکۃ لظلمین .... الیٰ .... فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں قوم لوط پر عذاب نازل ہونے کا ذکر تھا اب اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے عذاب کا ذکر کرتے ہیں مقصود سب سے تحقیق رسالت ہے کہ جو نبی کو نہ مانے وہ مستحق عذاب ہے۔ ” ایکہ “ اس بستی کا نام ہے جہاں شعیب (علیہ السلام) پہنچ گئے تھے۔ اصل میں یہ شہر مدین کا ایک مقام ہے چونکہ یہاں درخت زیادہ تھے اس لئے اس کو ایکہ فرمایا۔ ایکہ عرب میں درختوں کے بن کو کہتے ہیں اور ” حجر “ اس وادی کو کہتے ہیں جو شام اور عرب کے درمیان واقع ہے اور اصحاب حجر سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے جو بہت بدکار تھی اور پہاڑوں کو تراش کر مکانات بناتی تھی ان ہی کو صالح (علیہ السلام) نے ناقہ کا معجزہ دکھایا تھا اس پر بھی عناد سے باز نہ آئے بالآخر ہلاک ہوئے قوم لوط کی ہلاکت کے بعد اب مختصراً ان دو قصوں کو بیان فرماتے ہیں۔ قصہ اصحاب ایکہ : اور تحقیق تھے اصحاب ایکہ یعنی بن والے لوگ (اس سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے) بڑے ہی ظالم جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی سو ہم نے عذاب نازل کرکے ان سے اس تکذیب کا انتقام لے لیا اور بیشک یہ دونوں بستیاں یعنی قوم لوط کی بستی دونوں کشادہ اور چلتی سڑک پر واقع ہیں جن کو لوگ آتے جاتے دیکھتے ہیں گزرنے والوں کے لیے عبرت کے نشانات موجود ہیں قصہ اصحاب حجر : اور البتہ تکذیب کی حجر والوں نے یعنی قوم ثمود نے رسولوں کی۔ یعنی صالح (علیہ السلام) کی ” حجر “ مدینہ اور شام کے درمیان ایک میدان ہے جہاں قوم ثمود آباد تھی۔ اس قوم نے صرف صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا۔ مگر چونکہ ایک نبی کا جھٹلانا حقیقت میں سب نبیوں کا جھٹلانا ہے اس لیے فرمایا کہ حجر والوں نے سب رسولوں کو جھٹلایا اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں۔ جن سے اللہ کی وحدانیت اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی نبوت ثابت ہوتی تھی۔ منجملہ ان معجزات کے ایک معجزہ ناقہ کا تھا۔ سو وہ لوگ ان نشانیوں سے منہ پھیر لیتے تھے۔ یعنی ان کی طرف التفات نہیں کرتے تھے۔ اور یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر مکان بناتے تھے درآں حالیکہ وہ اپنے گمان میں بہت عمدہ مکانوں کی وجہ سے مامون اور بےخوف و خطر تھے۔ ان لوگوں کو یہ اندیشہ نہ تھا کہ ہمارے مکان منہدم ہوجائیں گے۔ یا کوئی چوران میں نقب لگا سکے گا۔ مگر یہ نہ سمجھا کہ کوئی قلعہ اور کوئی مکان عذاب الٰہی سے امن وامان نہیں دے سکتا۔ پس اسی خواب خرگوش میں تھے کہ صبح ہوتے ہی عذاب الٰہی کی ایک سخت اور تند آواز نے آپکڑا۔ اور اس طویل خواب غفلت سے ان کو بیدار کردیا۔ پس عذاب کے دفع کرنے میں کچھ کام نہ آیا جو وہ کماتے تھے۔ یعنی مال و دولت اور سازو سامان اور پہاڑوں کے مکان اور عیش و عشرت کے سامان جن پر وہ مغرور تھے کوئی کام نہ آیا سب دھرا رہ گیا اور جب آنکھ کھلی تو تدارک ممکن نہ تھا۔ دیکھتے ہی رہ گئے کہ دم کے دم میں کیا ہوگیا۔ گرفتاری کا وارنٹ اسی طرح جاری ہوتا ہے اور پولیس اخیر رات میں آکر چھاپہ مارتی ہے اور پکڑ کرلے جاتی ہے۔