Ayahs 48:8–10خلاصہ تفسیر
(اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو (اعمال امت پر قیامت کے دن) گواہی دینے والا (عموماً) اور (دنیا میں خصوصاً مسلمانوں کے لئے) بشارت دینے والا اور (کافروں کے لئے) ڈرانے والا کر کے بھیجا ہے (اور اے مسلمانو ! ہم نے ان کو اس لئے رسول بنا کر بھیجا ہے) تاکہ تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس (کے دین) کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو (عقیدة بھی کہ اللہ تعالیٰ کو تمام کمالات کے ساتھ موصوف اور تمام نقائص اور عیوب سے پاک سمجھو اور عملاً بھی کہ اس کی اطاعت کرو) اور صبح و شام اس کی تسبیح (و تقدیس) میں لگے رہو (اگر اس تسبیح کی تفسیر نماز سے کے جائے تو صبح شام کی فرض نمازیں مراد ہوں گی ورنہ مطلق ذکر اگرچہ مستحب ہی ہوا مراد ہوگا آگے بعض حقوق خاصہ کے متعلق ارشاد ہے کہ) جو لوگ آپ سے (حدیبیہ کے روز اس بات پر) بیعت کر رہے ہیں (یعنی بیعت کرچکے ہیں کہ جہاد سے بھاگیں گے نہیں) تو وہ (واقع میں) اللہ تعالیٰ سے بیعت کر رہے ہیں (کیونکہ مقصود آپ سے اس پر بیعت کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لاویں گے اور جب یہ بات ہے تو گویا) خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے پھر (بیعت کے بعد) جو شخص عہد توڑے گا (یعنی بجائے اطاعت کے مخالفت کرے گا) تو اس کے عہد توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا اور جو شخص اس بات کو پورا کرے گا جس پر (بیعت میں) خدا سے عہد کیا ہے تو عنقریب خدا اس کو بڑا اجر دے گا۔
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کا ذکر تھا جو نبی کریم ﷺ اور آپ کی امت پر خصوصاً بیعت رضوان کے شرکاء پر مبذول ہوئے اور چونکہ ان انعامات کا عطا کرنے والا اللہ اور واسطہ عطا نبی کریم ﷺ ہیں اس کی مناسبت سے آیات مذکورہ میں ان کے حقوق اور تعظیم و تکریم کا ذکر ہے اول رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے آپ کی تین صفات بیان فرمائیں۔ شاہد، بشیر، نذیر، شاہد کے معنی گواہ کے ہیں مراد اس کی وہی ہے جو سورة نسا کی (آیت) فکیف اذا جئنا من کل امة بشھید وجئنابک علیٰ ھولا شھیدا۔ کی تفسیر میں معارف القرآن جلد دوم صفحہ 419 میں گزر چکی ہے کہ ہر نبی اپنی امت کی بابت اس بات کی گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام امت کو پہنچا دیا پھر کسی نے اطاعت کی کسی نے نافرمانی۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ اپنی امت کے متعلق گواہی دیں گے۔ سورة نساء کی آیت کی تفسیر میں قرطبی نے لکھا ہے کہ انبیاء کی یہ گواہی اپنے زمانے کے موجودہ لوگوں کے متعلق ہوگی کہ ان کی دعوت حق کو کس نے قبول کیا اور کس نے نافرمانی کی، اسی طرح رسول کریم ﷺ کی یہ گواہی اپنے زمانے کے لوگوں کے متعلق ہوگی اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ گواہی تمام امت کے اعمال اطاعات و سیئات پر ہوگی کیونکہ بعض روایات کے مطابق امت کے اعمال صبح شام رسول اللہ کے سامنے فرشتے پیش کرتے ہیں اس لئے آپ تمام امت کے اعمال سے باخبر ہوں گے (ذکرہ القرطبی عن سعید بن المسیب) اور بشیر کے معنی بشارت دینے والا، نذیر کے معنی ڈرانے والا، مراد یہ ہے کہ آپ امت کے مومنین اور اطاعت کرنے والوں کو جنت کی بشارت دینے والے ہیں اور کفار فجار کو عذاب سے ڈرانے والے ہیں آگے رسول کو بھیجنے کا مقصد یہ بتلایا گیا کہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ایمان کے ساتھ مزید تین اوصاف کا ذکر فرمایا ہے جو مومنین میں ہونے چاہئیں تعزروہ۔ تو قروہ اور تسبحوہ، تعزروہ، تعزیر سے مشتق ہے جس کے معنی مدد کرنے کے ہیں اور سزا کو جو تعزیر کہا جاتا ہے وہ بھی اس لئے کہ مجرم کی مدد حقیقی اس میں ہے کہ اس پر سزا جاری کی جائے (مفردات القرآن راغب) اور تو قروہ، توقیر سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں تعظیم، اور تسبحوہ، تسبیح سے مشتق ہے جس کے معنی پاکی بیان کرنے کے ہیں ان میں آخری لفظ تو متعین ہے کہ اللہ ہی کے لئے ہوسکتا ہے اس لئے تسجوہ کی ضمیر میں بجز اس کے کوئی احتمام نہیں کہ حق تعالیٰ کی طرف راجع ہو اسی لئے اکثر حضرات نے پہلے دونوں جملوں کی ضمیریں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف راجع کر کے معنی یہ قرار دیئے ہیں کہ ایمان لاؤ اور اللہ کی یعنی اس کے دین اور رسول کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور اس تسبیح کرو اور بعض حضرات نے پہلے دو جملوں کی ضمیر رسول کی طرف راجع کر کے مطلب یہ قرار دیا کہ رسول کی مدد کرو اور تعظیم کرو اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرو مگر بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس میں انتشار ضمائر لازم آتا ہے جو بلاغت کے خلاف ہے واللہ اعلم۔ اس کے بعد اس بیعت کا ذکر ہے جس کا واقعہ قصہ حدیبیہ کے جزو دہم میں گزر چکا ہے۔ اس بیعت کے متعلق حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر یہ بیعت کی چونکہ مقصود اس سے اللہ کے حکم کی تعمیل اور رضا جوئی ہے اس لئے گویا خود اللہ تعالیٰ سے بیعت کی اور جب انہوں نے رسول کے ہاتھ میں ہاتھ دیا تو گویا اللہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ اللہ کا ہاتھ متشابہات میں سے ہے جس کی کیفیت اور حقیقت نہ کسی کو معلوم ہے نہ معلوم کرنے کی فکر میں رہنا درست ہے، اس بیعت کی فضیلت آگے بھی آ رہی ہے۔
لفظ بیعت دراصل کسی خاص کام پر عہد لینے کا نام ہے اس کا قدیم اور مسنون طریقہ باہم عہد کرنے والوں کا ہاتھ پر ہاتھ رکھنا ہے اگرچہ ہاتھ پر ہاتھ رکھنا شرط اور ضروری نہیں۔ بہرحال جس کام کا کسی سے عہد کیا جائے اس کی پابندی شرعاً واجب و ضروری ہے اور خلاف ورزی حرام ہے اسی لئے آگے فرمایا کہ جو شخص اس عہد بیعت کو توڑے گا تو کچھ اپنا ہی نقصان کرے گا اللہ اور اس کے رسول کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور جو اس عہد کو پورا کرے گا تو اس کو اللہ تعالیٰ بڑا اجر دینے والے ہیں۔
Ayahs 48:11–14خلاصہ تفسیر
جو دیہاتی (اس سفر حدیبیہ سے) پیچھے رہ گئے (شریک سفر نہیں ہوئے) وہ عنقریب (جب کہ آپ مدینہ پہنچیں گے) آپ سے (بات بنانے کے طور پر) کہیں گے کہ (ہم جو آپ کے ساتھ شریک نہیں ہوئے وجہ اس کی یہ ہوئی کہ) ہم کو ہمارے مال اور عیال نے فرصت نہ لینے دی (یعنی ان کی ضروریات میں مشغول رہے) تو ہمارے لئے (اس کوتاہی کی) معافی کی دعا کر دیجئے (آگے حق تعالیٰ ان کی تکذیب فرماتے ہیں کہ) یہ لوگ اپنی زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں (آگے آپ کو تلقین ہے کہ یہ لوگ جب آپ سے یہ عذر پیش کریں تو) آپ کہہ دیجئے کہ (اول تو یہ عذرا گر سچا بھی ہوتا تو بمقابلہ اللہ و رسول کے حکم قطعی کے محض عذر لنگ اور باطل ہوتا) سو (ہم پوچھتے ہیں کہ) وہ کون ہے جو خدا کے سامنے تمہارے لئے (نفع و نقصان میں) کسی چیز کا اختیار رکھتا ہو اگر اللہ تعالیٰ تم کو کوئی نقصان یا کوئی نفع پہنچانا چاہے (یعنی تمہاری ذات یا تمہارے مال اور عیال میں جو نفع یا نقصان تقدیر الٰہی میں مقدر ہوچکا ہے اس کے خلاف کرنے کا کسی کو اختیار نہیں البتہ شریعت اسلام نے بہت سے مواقع پر اس طرح کے خطرات کا عذر قبول کر کے رخصت دے دی ہے بشرطیکہ وہ عذر واقعی ہو اور جہاں شریعت نے اس عذر کو قبول نہیں کیا اور رخصت نہیں دی بلکہ حکم قطعی کردیا جیسا کہ مسئلہ زیر بحث میں ہے کہ سفر حدیبیہ کے لئے اللہ و رسول نے گھر بار کے مشاغل کو قابل قبول عذر قرار نہیں دیا اگرچہ وہ واقعی ہو۔ دوسرے یہ عذر جو تم کر رہے ہو واقعی اور سچا بھی نہیں جیسا کہ آگے آتا ہے اور تم سمجھتے ہو گے کہ مجھ کو اس جھوٹ کی خبر نہیں ہوئی) بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ (نے جو کہ) تمہارے سب اعمال پر مطلع ہے (مجھ کو بذریعہ وحی اطلاع کردی ہے کہ تمہاری غیر حاضری کی وجہ وہ نہیں جو تم بیان کر رہے ہو) بلکہ (اصل وجہ یہ ہے کہ) تم نے یہ سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں کبھی لوٹ کر نہ آویں گے (بلکہ مشرکین سب کی صفائی کردیں گے) اور یہ بات تمہارے دلوں میں اچھی بھی معلوم ہوتی تھی (بوجہ اللہ و رسول کی عداوت کے تمہاری دلی تمنا بھی تھی) اور تم نے برے برے گمان کئے اور تم (ان برے گمانوں کی وجہ سے جو کہ خیالات کفریہ ہیں) برباد ہونے والے لوگ ہوگئے اور (اگر ان وعیدوں کو سن کر تم اب بھی دل سے ایمان لے آؤ تو خیر ورنہ) جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ لاوے گا تو ہم نے کافروں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے اور (مومن و غیر مومن کے لئے مذکورہ قانون مقرر کرنے سے تعجب نہ کیا جائے کیونکہ) تمام آسمان و زمین کی سلطنت اللہ ہی کی ہے وہ جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے سزا دے اور (کافر اگرچہ مستحق عذاب ہوتا ہے لیکن) اللہ تعالیٰ بڑا غفور و رحیم ہے (کہ وہ بھی سچے دل سے ایمان لے آویں تو ان کو بھی بخش دیتا ہے)
معارف و مسائل
یہ مضمون جو اوپر مذکور ہوا ان اعراب کے متعلق ہے جن کو رسول اللہ ﷺ نے سفر حدیبیہ میں ساتھ چلنے کا حکم کیا تھا مگر انہوں نے بہانہ بازی سے کام لیا جس کا بیان قصہ حدیبیہ کے جزو اول میں ہوچکا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بعض حضرات بعد میں تائب اور مخلص ہوگئے تھے۔
Ayahs 48:15–16خلاصہ تفسیر
جو لوگ (سفر حدیبیہ سے) پیچھے رہ گئے وہ عنقریب جب تم (خیبر کی) غنیمتیں لینے چلو گے (مطلب یہ ہے کہ خیبر فتح کرنے کے لئے چلو گے جہاں غنیمت ملنے والی ہے تو یہ لوگ تم سے) کہیں گے کہ ہم کو بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے ساتھ چلیں (وجہ اس درخواست کی مال غنیمت کی طمع تھی جس کا حاصل ہونا قرائن سے ان کو معلوم اور متوقع تھا بخلاف سفر حدیبیہ کے کہ اس میں زحمت بلکہ ہلاکت زیادہ متوقع تھی، اس کے متعلق حق تعالیٰ نے فرمایا) کہ وہ لوگ یوں چاہتے ہیں کہ خدا کے حکم کو بدل ڈالیں (یعنی حکم اللہ کا یہ تھا کہ اس غزوہ میں صرف وہ لوگ جائیں جو حدیبیہ اور بیعت رضوان میں شریک ہوئے ان کے سوا اور کوئی نہ جائے خصوصاً ان لوگوں میں جنہوں نے سفر حدیبیہ میں تخلف اختیار کیا اور بہانہ بازی کی) سو آپ کہہ دیجئے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے (یعنی تمہاری یہ درخواست ہم منظوری نہیں کرسکتے کیونکہ اس میں حکم خدا تعالیٰ کی تبدیلی کا گناہ ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یوں ہی فرما دیا ہے (یعنی حدیبیہ سے واپسی ہی میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے دیا تھا کہ غزوہ خیبر میں اہل حدیبیہ کے سوا کوئی نہ جائے گا اور یہ حکم خداوندی بظاہر قرآن میں مذکور نہیں اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم وحی غیر متلو کے ذریعہ آپ کو ملا تھا جو احادیث کے ذریعہ بیان کی جاتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ حدیبیہ سے واپسی میں جو سورت فتح نازل ہوئی اور اس میں یہ آیت آئی انافتحالک فتحا قریبا، اس فتح قریب سے مراد فتح خیبر ہی ہے تو اس آیت نے اشارہ کردیا کہ یہ فتح خیبر انہی اہل حدیبیہ کو نصیب ہوگی اور جب آپ ان کو یہ جواب دیں گے) تو وہ لوگ کہیں گے (ظاہر یہ ہے کہ آپ کے سامنے کہنا مراد نہیں بلکہ اوروں سے کہیں گے کہ ہمارے ساتھ نہ لینے کو جو خدا کا حکم بتلایا جاتا ہے بات یہ نہیں) بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کرتے ہو (اس لئے ہمارا شریک ہونا گوارا نہیں حالانکہ مسلمانوں میں حسد کا کوئی شائبہ نہیں) بلکہ خود یہ لوگ بہت کم بات سمجھتے ہیں (اگر سمجھ پری ہوتی تو اللہ کے اس حکم کی حکمت بآسانی سمجھ سکتے تھے کہ حدیبیہ میں ان حضرات نے ایک بہت بڑے خطرہ اور بڑے امتحان کا کام کیا منافقین نے اپنی دنیوی اغراض کو مقدم رکھا یہ وجہ ان کی تخصیص اور ان کی محرومی کی ہے۔ یہاں تک مضمون خیبر کے متعلق تھا آگے ایک دوسرے واقعہ کے متعلق گفتگو کے لئے ارشاد ہوتا ہے کہ) آپ ان پیچھے رہنے والے دیہاتیوں سے (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (اگر ایک خیبر میں نہ گئے تو نہ سہی ثواب حاصل کرنے کے اور بھی مواقع آنے والے ہیں چنانچہ) عنقریب تم لوگ ایسے لوگوں (سے لڑنے) کی طرف بلائے جاؤ گے جو سخت لڑنے والے ہوں گے (مراد اس سے فارس و روم کے غزوات ہیں (کذا فی الدر عن ابن عباس) کیونکہ ان کی فوجیں تربیت یافتہ اور باسامان تھیں کہ) یا تو ان سے لڑتے رہو یا وہ مطیع (اسلام) ہوجاویں (خواہ اسلام قبول کر کے یا اسلامی حکومت کی اطاعت اور جزیہ دینا قبول کر کے مطلب یہ کہ تم اس کام کے لئے بلائے جاؤ گے) سو (اس وقت) اگر تم اطاعت کرو گے (اور ان سے جہاد کرو گے) تو تم کو اللہ تعالیٰ نیک بدلہ دے گا اور اگر تم (اس وقت بھی) روگردانی کرو گے جیسا اس کے قبل (حدیبیہ وغیرہ میں) روگردانی کرچکے ہو تو وہ درد ناک عذاب کی سزا دے گا (البتہ دعوت جہاد سے معذور لوگ مستثنیٰ ہیں چنانچہ) نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے اور (اوپر جو مجاہدین کے لئے جنت و نعمت کے وعدے اور جہاد سے جان چرانے والوں کے لئے وعیدیں مذکور ہیں ان میں کچھ انہی لوگوں کی تخصیص نہیں بلکہ قاعدہ کلیہ ہے کہ) جو شخص اللہ اور رسول کا کہنا مانے گا اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور جو شخص (حکم سے) ردگردانی کرے گا اس کو درد ناک عذاب کی سزا دے گا۔
معارف و مسائل
آیات مذکورہ میں اس واقعہ کا ذکر ہے جو حدیبیہ سے واپسی کے بعد 7 ہجری میں پیش آیا کہ جب آنحضرت ﷺ نے غزوہ خیبر کا ارادہ فرمایا تو صرف ان لوگوں کو ساتھ لیا جو سفر حدیبیہ اور بیعت رضوان میں شریک تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو خیبر کی فتح اور وہاں سے اموال غنیمت ملنے کا وعدہ فرمایا تھا اس وقت دیہات کے وہ لوگ جو سفر حدیبیہ میں باوجود بلانے کے عذر کر کے پیچھے رہ گئے تھے ان لوگوں نے بھی جہاد خیبر میں ساتھ چلنے کا ارادہ کیا خواہ اس طرح سے کہ ان کو قرائن سے خیبر کا فتح ہونا اور وہاں مال غنیمت ملنے کی توقع تھی اور یا مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے معاملات اور صلح حدیبیہ کے کچھ برکات دیکھ کر ان کو جہاد سے پیچھے رہنے پر ندامت ہوئی اور اب شرکت جہاد کا ارادہ کیا۔ ان کے جواب میں قرآن نے فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے کلام یعنی اس کے حکم کو بدلنا چاہتے ہیں (آیت) یریدون ان یبدلوا کلم اللہ۔ اور مراد اس حکم سے غزوہ خیبر اور اس کے مغانم کا صرف اہل حدیبیہ کے ساتھ مخصوص ہونا ہے اور اس کے بعد (آیت) کذلکم قال اللہ من قبل میں بھی یہی تخصیص اہل حدیبیہ کا قول ہے مگر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں تو کہیں اس تخصیص کا ذکر ہے نہیں پھر اس تخصیص کے وعدہ کو کلام اللہ اور قال اللہ کہنا کیسے صحیح ہوا۔
وحی الٰہی صرف قرآن میں منحصر نہیں، قرآن کے علاوہ بھی بذریعہ وحی احکام آئے ہیں اور احادیث رسول بھی کلام اللہ کے حکم میں ہیں
علماء نے فرمایا کہ یہ تخصیص اہل حدیبیہ کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اس کا قرآن میں کہیں صراحتہ ذکر نہیں، بلکہ یہ تخصیص اہل حدیبیہ کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے وحی غیر متلو کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ سے سفر حدیبیہ میں فرمایا تھا، اسی کو اس جگہ کلام اللہ اور قال اللہ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ علاوہ احکام قرآن کے جو احکام احادیث صحیحہ میں مذکور ہیں وہ بھی حسب تصریح اس آیت کے کلام اللہ اور قول اللہ میں داخل ہیں۔ جو ملحدین احادیث رسول اللہ ﷺ کو حجت دین نہیں مانتے یہ آیتیں ان کے الحاد کو کھولنے کے لئے کافی ہیں، رہا یہ معاملہ کہ اسی سورت میں جو سفر حدیبیہ کے شروع میں نازل ہوئی ہے یہ الفاظ قرآن میں موجود ہیں (آیت) اثابھم فتحا قریبا، اور باتفاق مفسرین یہاں فتح قریب سے فتح خیبر مراد ہے تو اس طرح قرآن میں فتح خیبر کا اور اس کے غنائم اہل حدیبیہ کو ملنے کا وعدہ آ گیا وہی اس لفظ کلام اللہ اور قال اللہ کی مراد ہو سکتی ہے، تو حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں غنیمت کا وعدہ تو ہے مگر اس کا کہیں ذکر نہیں کہ یہ غنیمت اہل حدیبیہ کے ساتھ مخصوص ہوگی دوسرے اس میں شریک نہ ہو سکیں گے یہ تخصیص تو بلاشبہ حدیث رسول ہی سے معلوم ہوئی ہے وہی کلام اللہ اور قال اللہ کا مصداق ہے اور بعض حضرات نے جو سورة توبہ کی آیت کو اس کا مصداق قرار دیا ہے یعنی (آیت) فاستاذنوک للخروج فقل لن تخرجوا معی ابدا ولن تقاتلوا معی عدوا انکم رضیتم بالقعود اول مرة تو اس لئے صحیح نہیں کہ یہ آیات غروہ تبوک کے متعلق آئی ہیں اور وہ غزوہ خیبر کے بعد سن 9 ہجری میں ہوا ہے (قرطبی وغیرہ)
قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا، اس میں جو تاکیدی طور پر متخلفین حدیبیہ سے یہ فرمایا ہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں ہو سکتے یہ صرف غزوہ خیبر کے ساتھ مخصوص ہے آگے کسی اور جہاد میں بھی شریک نہ ہو سکیں یہ اس سے لازم نہیں آتا، یہی وجہ ہے کہ ان متخلفین حدیبیہ میں سے قبائل مزنیہ اور جہلینہ بعد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوئے (کمافی الروح عن البحر۔ بیان)
متخلفین حدیبیہ میں سے بعض لوگ بعد میں تائب ہو کر سچے مسلمان ہوگئے تھے
غزوہ خیبر کے وقت جتنے متخلفین حدیبیہ تھے سبھی کو اس جہاد کی شرکت سے روک دیا گیا تھا حالانکہ ان میں سب منافق نہیں، بعض مسلمان بھی تھے اور بعض گو اس وقت منافق تھے مگر بعد میں سچے ایمان کی ان کو توفیق ہوگئی تھی اس لئے ایسے لوگوں کی دل جوئی کے لئے اگلی آیات آئیں جن میں ان کو تسلی دی گئی ہے کہ اگرچہ غزوہ خیبر اللہ کے وعدے کے مطابق اہل حدیبیہ کے لئے مخصوص کردیا گیا مگر جو مخلص مسلمان ہیں اور دل سے شرکت جہاد چاہتے ہیں ان کے لئے دوسرے مواقع آنے والے ہیں ان مواقع کو قرآن کریم ایک خاص پیشین گوئی کی صورت میں بیان فرماتا ہے جس کا ظہور آنحضرت ﷺ کے بعد ہونے والا ہے۔ ارشاد فرمایا، (آیت) سَـتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ ، یعنی ایک ایسا وقت آنے والا ہے جبکہ تمہیں جہاد کی دعوت دی جائے گی اور یہ جہاد ایک بڑی سخت جنگجو قوم کے ساتھ ہوگا اور تاریخ اسلام شاہد ہے کہ یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں پیش نہیں آیا، کیونکہ اولا تو آپ کا اس کے بعد اعراب کو کسی غزوہ میں دعوت شرکت دینا ثابت نہیں ثانیاً اس کے بعد کسی ایسی قوم سے مقابلہ بھی نہیں ہوا جس کے بہادر اور سخت ہونے کا قرآن نے ذکر فرمایا ہے کیونکہ غزوہ تبوک میں اگرچہ مقابلہ ایسی قوم سے تھا مگر نہ اس غزوہ میں اعراب کو دعوت دینا ثابت ہے اور نہ اس میں قتال کی نوبت آئی کیونکہ مقابل آدمیوں پر اللہ نے رعب ڈال دیا وہ مقابلہ پر نہیں آئے آنحضرت ﷺ اور صحابہ بغیر قتال کے واپس آئے اور غزوہ حنین میں بھی نہ ان کو دعوت دینا ثابت ہے اور نہ اس وقت مقابل کوئی ایسی قوم تھی جو سخت اور ساز و سامان والی ہو، اس لئے ائمہ تفسیر میں سے بعض نے فرمایا ہے کہ مراد اس سے فارس اور روم یعنی کسریٰ و قیصر کی قومیں ہیں جن کے ساتھ جہاد حضرت فاروق اعظم کے عہد میں ہوا ہے (ہو قول ابن عباس وعطاء و مجاہد ابن ابی لیلیٰ و الحسن قرطبی) اور حضرت رافع بن خدیج نے فرمایا کہ ہم قرآن کی یہ آیت پڑھتے تھے اور ہمیں معلوم نہ تھا کہ اس قوم سے کون سی قوم مراد ہے یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کے بعد صدیق اکبر نے اپنی خلافت کے زمانے میں ہمیں بنوحنیفہ اہل یمامہ یعنی مسیلمہ کذاب کی قوم کے ساتھ جہاد کرنے کی دعوت دی اس وقت ہم سمجھے کہ یہی قوم اس آیت میں مراد تھی مگر ان دونوں اقوال میں کوئی تضاد و تعارض نہیں ہوسکتا ہے کہ سبھی قومیں اس میں داخل ہوں۔
امام قرطبی نے اس کو نقل کر کے فرمایا کہ یہ آیت اس کی دلیل ہے کہ حضرت صدیق اکبر اور فاروق اعظم کی خلافت حق کے مطابق تھی ان کی دعوت کا ذکر خود قرآن نے آیت مذکورہ میں فرمایا ہے۔
(آیت) تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ يُسْلِمُوْنَ ، حضرت ابی کی قرات میں او یسلموا بغیر نون کے آیا ہے اس لئے قرطبی نے اس کے مطابق حرف او کو حتیٰ کے معنی میں لیا ہے یعنی اس قوم سے قتال اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک کہ وہ مطیع فرمانبردار نہ ہوجائیں خواہ اسلام قبول کر کے یا اسلامی حکومت کی اطاعت میں رہنا قبول کر کے۔
Ayah 48:17(آیت) لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى حَرَجٌ، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جب اوپر کی آیات میں جہاد کی شرکت سے ہٹنے والوں کے لئے عذاب کی وعید آئی (آیت) وَاِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِّنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا، تو کچھ معذور لوگ جو صحابہ کرام میں تھے ان کو فکر ہوئی کہ ہم تو شرکت جہاد کے قابل نہیں، کہیں ہم بھی اس وعید میں شامل نہ ہوں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اندھے، لنگڑے اور بیمار کو حکم جہاد سے مستثنیٰ کردیا گیا (قرطبی) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Ayah 48:18خلاصہ تفسیر
تحقیق اللہ ان مسلمانوں سے (جو آپ کے ہم سفر ہیں) خوش ہوا جبکہ یہ لوگ آپ سے درخت کے نیچے (جہاں میں ثابت قدم رہنے پر) بیعت کر رہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ (اخلاص اور عہد کو پورا کرنے کا عزم) تھا اللہ کو وہ بھی معلوم تھا اور (اس وقت) اللہ تعالیٰ نے ان (کے قلب) میں اطمینان پیدا کردیا (جس سے ان کو خدا کا حکم ماننے میں ذرا پس و پیش یا تردد نہیں ہوا۔ یہ تو معنوی نعمتیں ہوئیں) اور (اس کے ساتھ کچھ محسوس نعمتیں بھی دی گئیں جن میں معنوی نعمتیں بھی شامل تھیں، چنانچہ) ان کو ایک لگتے ہاتھ فتح دے دی (مراد اس فتح سے فتح خیبر ہے) اور (اس فتح میں) بہت سی غنیمتیں بھی (دیں) جن کو یہ لوگ لے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست (اور) بڑا حکمت والا ہے (کہ اپنی قدرت اور حکمت سے جس وقت جس کے لئے مناسب سمجھتا ہے فتح دے دیتا ہے اور کچھ اسی فتح خیبر پر بس نہیں بلکہ) اللہ تعالیٰ نے تم سے (اور بھی) بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کر رکھا ہے جن کو تم لو گے سو (ان میں سے) سردست تم کو یہ دے دی ہے اور (اس کے دینے کے لئے خیبر اور حلفاء خیبر کے) لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے (یعنی سب کے دلوں پر رعب ڈال دیا کہ ان کو زیادہ دراز دستی کی ہمت نہ ہوئی اور اس سے تمہارا دنیوی نفع بھی مقصود تھا تاکہ آرام اور فراغت ملے) اور (دینی نفع بھی تھا) تاکہ یہ (واقعہ) اہل ایمان کیلئے (دوسرے وعدوں کے سچے ہونے کا) ایک نمونہ ہوجائے (یعنی خدا کے وعدوں کے سچا ہونے پر اور زیادہ ایمان پختہ ہوجائے) اور تاکہ (اس نمونہ کے ذریعہ) تم کو (آئندہ کے لئے ہر کام میں) ایک سیدھے راستہ پر ڈال دے (مراد اس راستہ سے توکل اور اللہ پر بھروسہ ہے یعنی ہمیشہ کے لئے اس واقعہ کو سوچ کر اللہ پر اعتماد سے کام لیا کرو اس طرح دینی نفع دو ہوگئے ایک علمی اور اعتقادی جس کو ولتکون سے بیان فرمایا، دوسرا عملی و اخلاقی جس کو یھدیکم کے الفاظ سے ارشاد فرمایا) اور ایک فتح اور بھی (موعود) ہے جو (اس وقت تک) تمہارے قابو میں نہیں آئی (مراد اس سے فتح مکہ ہے جو اب تک واقع نہیں ہوئی تھی مگر) خدا تعالیٰ اس کو احاطہ (قدرت) میں لئے ہوئے ہے (جب چاہے گا تم کو عطا کر دے گا) اور (اسی کی کیا تخصیص ہے) اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
معارف و مسائل
(آیت) لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، اس بیعت سے مراد بیعت حدیبیہ ہے جس کا ذکر اس سے پہلے بھی (آیت) ان الذین یبایعونک میں آ چکا ہے یہ آیت بھی اسی سے متعلق اور اس کی تاکید ہے اس آیت میں حق تعالیٰ نے اس بیعت کے شرکاء سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا دیا ہے اسی لئے اس کو بیعت رضوان بھی کہا جاتا ہے اور مقصود اس سے ان شرکاء بیعت کی مدح اور ان کو اس عہد کے پورا کرنے کی تاکید ہے۔ صحیحین میں حضرت جابر کی روایت ہے کہ حدیبیہ کے دن ہماری تعداد چودہ سو نفر کی تھی ہم سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انتم خیر اھل الارض، یعنی تم لوگ تمام روئے زمین کے انسانوں سے بہتر ہو اور صحیح مسلم میں ام بشر سے مرفوعاً روایت ہے کہ لایدخل النار احد ممن بایع تحت الشجرة، یعنی جن لوگوں نے اس درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان میں کوئی جہنم میں نہیں جائے گا (مظہری) اس لئے اس بیعت کے شرکاء کی مثال شرکاء غزوہ بدر کی سی ہے جیسا ان کے متعلق قرآن و حدیث میں رضائے الٰہی اور جنت کی بشارتیں ہیں اسی طرح شرکاء بیعت رضوان کے لئے بھی یہ بشارت آئی ہے۔ یہ بشارتیں اس پر شاہد ہیں کہ ان سب حضرات کا خاتمہ ایمان اور اعمال صالحہ مرضیہ پر ہوگا کیونکہ رضائے الٰہی کا یہ اعلان اس کی ضمانت دے رہا ہے۔
صحابہ کرام پر طعن وتشنیع اور ان کی لغزشوں میں غور و بحث اس آیت کیخلاف ہے
تفسیر مظہری میں فرمایا کہ جن خیار امت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے غفران و مغفرت کا یہ اعلان فرما دیا ہے، اگر ان سے کوئی لغزش یا گناہ ہوا بھی ہے تو یہ آیت اس کی معافی کا اعلان ہے۔ پھر ان کے ایسے معاملات کو جو مستحسن نہیں ہیں غور و فکر اور بحث و مباحثہ کا میدان بنانا بدبختی اور بظاہر اس آیت کی مخالفت ہے۔ یہ آیت روافض کے قول کی واضح تردید ہے جو ابوبکر و عمر اور دوسرے صحابہ پر کفر و نفاق کے الزام لگاتے ہیں
شجرة رضوان
شجرہ، جس کا ذکر اس آیت میں آیا ہے ایک ببول کا درخت تھا اور مشہور یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد کچھ لوگ وہاں چل کر جاتے اور اس درخت کے نیچے نمازیں پڑھتے تھے۔ حضرت فاروق اعظم کو خطرہ ہوا کہ کہیں آئندہ آنے والے جہلاء اسی درخت کی پرستش نہ شروع کردیں جیسے پچھلی امتوں میں اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں اس لئے اس درخت کو کٹوا دیا مگر صحیحین میں ہے کہ حضرت طارق بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حج کے لئے گیا تو راستے میں میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جو ایک مقام پر جمع تھے اور نماز پڑھ رہے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کونسی مسجد ہے انہوں نے کہا کہ یہ وہ درخت ہے جس کے نیچے رسول اللہ ﷺ نے بیعت رضوان لی تھی، میں اس کے بعد حضرت سعید بن مسیب کے پاس حاضر ہوا اور اس واقعہ کی خبر ان کو دی، انہوں نے فرمایا کہ میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جو اس بیعت رضوان میں شریک ہوئے انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ ہم جب اگلے سال مکہ مکرمہ حاضر ہوئے تو ہم نے وہ درخت تلاش کیا ہمیں بھول ہوگئی اس کا پتہ نہیں لگا۔ پھر سعید بن مسیب نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ جو خود اس بیعت میں شریک تھے ان کو تو پتہ نہیں لگا تمہیں وہ معلوم ہوگیا عجیب بات ہے کیا تم ان سے زیادہ واقف ہو (روح المعانی) اس سے معلوم ہوا کہ بعد میں لوگوں نے محض اپنے تخمینہ اور اندازہ سے کسی درخت کو متعین کرلیا اور اس کے نیچے حاضر ہونا اور نمازیں پڑھنا شروع کردیا، فاروق اعظم کو یہ بھی معلوم تھا کہ یہ وہ درخت نہیں پھر خطرہ ابتلائے شرک کا لاحق ہوگیا اس لئے اس کو قطع کرا دیا ہو۔ کیا بعید ہے۔
فتح خیبر
خیبر در حقیقت ایک صوبہ کا نام ہے جس میں بہت سی بستیاں اور قلعے اور باغات شامل ہیں (مظہری)
(آیت) وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا، اس فتح قریب سے مراد باتفاق فتح خیبر ہے جو حدیبیہ سے واپس آنے کے بعد واقع ہوئی ہے بعض روایات کے مطابق تو حدیبیہ سے واپسی کے بعد آپ کا قیام مدینہ منورہ میں صرف دس روز اور دوسری روایت کے مطابق بیس روز رہا اس کے بعد خیبر کے لئے روانہ ہوگئے اور ابن اسحاق کی روایت کے مطابق آپ ذی الحجہ میں مدینہ طیبہ واپس تشریف لائے اور محرم 7 ہجری میں آپ غزوہ خیبر کے لئے تشریف لے گئے اور ماہ صفر سن 7 ہجری میں خیبر فتح ہوا۔ واقدی کے مغازی میں یہی لکھا ہے اور حافظ ابن حجرنے فرمایا کہ یہی راحج ہے (تفسیر مظہری)
بہرحال یہ ثابت ہوا کہ یہ واقعہ فتح خیبر سفر حدیبیہ سے کافی دنوں کے بعد پیش آیا ہے اور سورة فتح کا سفر حدیبیہ کے دوران نازل ہونا سب کے نزدیک متفق علیہ ہے البتہ اس میں اختلاف ہے کہ پوری سورت اسی وقت نازل ہوئی یا کچھ آیتیں بعد میں آئیں۔ اگر پہلی صورت راجح ہو تو ان آیتوں میں واقعہ خیبر کا بیان بطور پیشگوئی کے ہو اور اس کو بصیغہ ماضی قطعی اور یقینی ہونے کی بناء پر تعبیر کیا گیا اور اگر دوسرا قول راحج ہو تو یہ ہوسکتا ہے کہ یہ آیتیں بعد وقوع فتح خیبر کے نازل ہوئی ہوں واللہ اعلم۔
Ayah 48:19(آیت) وَّمَغَانِمَ كَثِيْرَةً يَّاْخُذُوْنَهَا، مراد اس سے خیبر کا مال غنیمت ہے جس سے مسلمانوں کو سہولت اور فراغ بالی حاصل ہوئی۔
Ayah 48:20(آیت) وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ اس سے مراد تمام اسلامی فتوحات اور ان کے غنائم ہیں جو قیامت تک حاصل ہونے والی ہیں۔ پہلے مغانم اہل حدیبیہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مخصوص کردیئے گئے تھے یہ سب کے لئے عام ہیں۔ اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ تخصیص کا حکم ان آیات میں ذکر نہیں کیا گیا بلکہ وہ جداگانہ وحی کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کو بتلایا گیا ہے۔ آپ نے اس پر عمل کیا اور صحابہ کرام کو بتلایا۔
(آیت) وَكَفَّ اَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ اس سے مراد کفار اہل خیبر ہیں کہ ان کو اس جہاد میں کچھ زیادہ زور دکھانے کا موقع اللہ تعالیٰ نے نہیں دیا۔ امام بغوی نے فرمایا کہ قبیلہ غطفان یہود خیبر کا حلیف تھا جب اس قبیلہ نے خبر سنی کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر پر چڑھائی کی ہے تو یہ لوگ یہود کی مدد کے لئے بڑے سازو سامان سے نکلے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور یہ اس فکر میں پڑگئے کہ اگر ہم اس طرف گئے تو بعید نہیں کہ مسلمانوں کا کوئی لشکر ہمارے پیچھے ہمارے گھروں پر حملہ کر دے اس لئے سب ٹھنڈے ہو کر بیٹھ گئے (مظہری)
(آیت) وَيَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا، اصل ہدایت صراط مستقیم کی تو ان حضرات کو پہلے سے حاصل تھی مگر جیسا کہ پہلے لکھا گیا ہے کہ ہدایت کے درجات بیشمار ہیں یہاں وہ درجہ مراد ہے جو پہلے سے حاصل نہ تھا یعنی اللہ پر بھروسہ اور قوت ایمان کی زیادتی۔
Ayah 48:21(آیت) وَّاُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا قَدْ اَحَاط اللّٰهُ بِهَا، یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے اور بہت سی فتوحات کا وعدہ کیا ہے جس پر ابھی ان کو قدرت نہیں۔ ان فتوحات میں چونکہ سب سے پہلے مکہ مکرمہ کی فتح ہے اس لئے بعض حضرات نے اس سے فتح مکہ مراد لیا ہے مگر الفاظ عام ہیں قیامت تک ہونے والی فتوحات اس میں شامل ہیں (مظہری)
Ayahs 48:22–23خلاصہ تفسیر
اور (چونکہ ان کفار کے مغلوب ہونے کے مقتضیات موجود تھے جو آگے آتے ہیں اس لئے) اگر (تم میں یہ صلح نہ ہوتی بلکہ) تم سے یہ کافر لڑتے تو (ان مقتضیات کی وجہ سے وہ) ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگتے، پھر نہ ان کو کوئی یار ملتا نہ مددگار (اور) اللہ تعالیٰ نے (کفار کے لئے) یہی دستور کر رکھا ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے (کہ مقابلہ میں اہل حق غالب اور اہل باطل مغلوب رہے ہیں اور کبھی کسی وقت کسی حکمت و مصلحت سے اس میں تاخیر ہونا اس کے منافی نہیں) اور آپ خدا کے دستور میں (کسی شخص کی طرف سے) رد و بدل نہ پاویں گے (کہ خدا تعالیٰ کوئی کام کرنا چاہئے اور کوئی اس کو نہ ہونے دے) اور وہ ایسا ہے کہ اس نے ان کے ہاتھ تم سے (یعنی تمہارے قتل سے) اور تمہارے ہاتھ ان (کے قتل) سے عین مکہ (کے قریب) میں (یعنی حدیبیہ میں) روک دیئے بعد اس کے کہ تم کو ان پر قابو دے دیا تھا (یہ اشارہ اس واقعہ کی طرف ہے جو قصہ حدیبیہ کے جزو ہشتم میں شروع میں بیان ہوچکا ہے کہ قریش کے پچاس آدمیوں کو صحابہ کرام نے گرفتار کرلیا تھا اور پھر کچھ لوگ بھی گرفتار ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے تھے اس وقت اگر مسلمان ان کو قتل کردیتے تو دوسری طرف مکہ میں حضرت عثمان غنی اور ان کے چند ساتھی روک لئے گئے تھے وہ ان کو شہید کردیتے اس کا لازمی نتیجہ مکمل طور پر جنگ چھڑ جانا ہوتا اور اگرچہ مذکور الصدر آیات کی پہلی آیت میں حق تعالیٰ نے یہ بھی واضح فرما دیا ہے کہ اگر جنگ ہو بھی جاتی تو فتح مسلمانوں ہی کی ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں مسلمانوں کی بڑی مصلحت اس میں تھی کہ اس وقت جنگ نہ ہو اس لئے اس طرف مسلمانوں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ان کے قیدیوں کو قتل نہ کریں اس طرح مسلمانوں کے ہاتھ ان کے قتل سے روک دیئے دوسری طرف قریش کے دلوں پر اللہ نے مسلمانوں کا رعب ڈال دیا کہ انہوں نے صلح کی طرف مائل ہو کر سہیل کو آپ کی خدمت میں بھیجا، اس طرح حق تعالیٰ کی حکمت نے دو طرفہ انتظام جنگ نہ ہونے کا کردیا) اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو (اس وقت) دیکھ رہا تھا (اور ان کاموں کے نتائج کو جانتا تھا اس لئے ایسا کام نہیں ہونے دیا جس سے جنگ چھڑ جائے۔ آگے اس کا بیان ہے کہ اگر جنگ ہوجاتی تو کفار کی مغلوبیت کس طرح اور کیوں ہوتی) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو (عمرہ کرنے کے لئے) مسجد حرام سے روکا (مراد مسجد حرام اور صفا مروہ کے درمیان کا میدان جہاں سعی ہوتی ہے دونوں ہی ہیں مگر چونکہ طواف اصل اور اول ہے اور وہ مسجد حرام میں ہوتا ہے اس لئے اس سے روکنے کے ذکر پر اکتفا کیا گیا) اور قربانی کے جانور کو جو (حدیبیہ میں) رکا ہوا رہ گیا اس کو اس کے موقع میں پہنچنے سے روکا (جانوروں کی قربانی کا موقع منیٰ ہے ان لوگوں نے جانوروں کو منیٰ تک نہیں جانے دیا، ان کے ان جرائم) اور (حرم محترم میں بیٹھ کر ایسا ظلم کرنے کا تقاضا یہ تھا کہ مسلمانوں کو جنگ کا حکم دے کر ان کو مغلوب کردیا جاتا، لیکن بعض حکمتیں اس تقاضے کو پورا کرنے سے مانع ہوگئیں ان حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس وقت مکہ میں بہت سے مسلمان کفار کے ہاتھوں محبوس اور مظلوم تھے جیسا کہ قصہ حدیبیہ کے جزو دہم میں اس کا ذکر آیا ہے اور ان میں سے ابو جندل کا حضور کی خدمت میں پہنچ کر فریاد کرنا بیان ہوچکا ہے، اگر اس وقت جنگ چھڑ جاتی تو غیر شعوری طور پر ان مسلمانوں کو بھی نقصان پہنچ جاتا اور ممکن تھا کہ ان کے ہاتھ سے ہی وہ قتل ہوجاتے اور عام مسلمانوں کو پھر اس پر ندامت و افسوس ہوتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا فرما دیئے کہ جنگ نہ ہو۔ اسی مضمون کو آگے فرمایا ہے کہ) اگر (مکہ میں اس وقت) بہت سے مسلمان مرد اور بہت سی مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کی تم کو خبر بھی نہ تھی یعنی ان کے پس جانے کا احتمال نہ ہوتا جس پر ان کی وجہ سے تم کو بھی بیخبر ی ہیں (رنج و افسوس کا) ضرر پہنچتا (اگر یہ بات نہ ہوتی) تو سب قصہ طے کردیا جاتا، لیکن ایسا اس لئے نہیں کیا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے (چنانچہ جنگ نہ ہونے سے ان مسلمانوں کی جان بچی اور تم ان کے قتل کے گناہ اور پھر اس پر رنج و افسوس سے بچے البتہ) اگر یہ (مذکور مسلمان مکہ سے کہیں) ٹل گئے ہوتے تو ان (اہل مکہ) میں جو کافر تھے ہم ان کو (مسلمانوں کے ہاتھ سے) درد ناک سزا دیتے (اور ان کفار کے مغلوب و مقتول ہونے کا ایک مقتضیٰ اور بھی تھا) جبکہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں عار کو جگہ دی اور عار بھی جاہلیت کی (اس عار سے وہ ضد مراد ہے جو بسم اللہ اور لفظ رسول اللہ کے لکھنے پر انہوں نے مزاحمت کی جیسا کہ اوپر صلح نامہ حدیبیہ کے بیان میں اس کا ذکر آ چکا ہے) سو (اس کا مقتضا یہ تھا کہ مسلمان جوش میں آ کر لڑ پڑتے مگر) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اور مومنین کو اپنی طرف سے تحمل عطا فرمایا۔ (جس کی وجہ سے انہوں نے اس کلمہ کے لکھنے پر اصرار چھوڑ دیا اور صلح ہوگئی) اور (اس وقت) اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا (تقویٰ کی بات سے مراد کلمہ طیبہ یعنی توحید و رسالت کا اقرار ہے اور مطلب اس پر جمائے رکھنے کا یہ ہے کہ توحید و رسالت کے اعتقاد کا تقاضا اطاعت ہے اللہ اور رسول کی اور مسلمانوں کا یہ صبر و ضبط اپنے جذبات کے خلاف صرف اس وجہ سے تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ضبط و صبر کا حکم فرمایا تھا ایسے سخت مرحلہ میں اپنے جذبات کے خلاف رسول کی اطاعت ہی کا نام کلمہ تقویٰ پر جمنا ہے) اور وہ (مسلمان) اس (کلمہ تقویٰ) کے (دنیا میں بھی) زیادہ مستحق ہیں (کیونکہ ان کے قلوب میں طلب حق ہے اور یہ طلب ہی ایمان تک پہنچاتی ہے) اور (آخرت میں بھی) اس (کے ثواب) کے اہل ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 48:24معارف و مسائل
بِبَطْنِ مَكَّةَ ، اس لفظ کے اصلی معنی عین مکہ کے ہیں مگر یہاں اس سے مراد مقام حدیبیہ ہے اس کو مکہ مکرمہ سے بہت متصل ہونے کی بناء پر بطن مکہ سے تعبیر کردیا گیا ہے اور اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے جو حنفیہ نے اختیار کی ہے کہ حدیبیہ کا کچھ حصہ حرم میں داخل ہے (آیت) ان یبلغ محلہ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محصر عن الحج و العمرہ یعنی جس کو احرام باندھنے کے بعد کسی وجہ سے دخول مکہ سے روک دیا گیا ہو اس پر باتفاق یہ تو لازم ہے کہ قربانی کر کے احرام سے حلال ہو لیکن اس میں اختلاف ہے کہ یہ قربانی اسی جگہ ہو سکتی ہے جہاں وہ روک دیا گیا ہے، یا دوسری قربانیوں کی طرح اس کے لئے بھی حدود حرم کے اندر ہونا شرط ہے حنفیہ کے نزدیک اس کے لئے بھی حدود حرم شرط ہیں اس آیت سے ان کا استدلال ہے کہ یہاں اس قربانی کے لئے قرآن نے ایک خاص محل قرار دیا ہے جس سے کفار نے مسلمانوں کو روک دیا تھا اس سے معلوم ہوا کہ اس قربانی کے لئے حدود حرم میں ہونا شرط ہے۔ رہا یہ معاملہ کہ خود حنفیہ ہی کا یہ قول بھی ہے کہ حدیبیہ کے بعض حصے حرم میں داخل ہیں تو پھر حرم سے روکنا کیسے ثابت ہوا، تو جواب یہ ہے کہ اگرچہ اس قربانی کا حدود حرم میں کسی بھی جگہ کردینا شرعاً کافی ہے مگر اس خاص جگہ میں جو منیٰ کے اندر منحر کے نام سے موسوم ہے اس میں ہونا افضل ہے۔ کفار مکہ نے اس وقت مسلمانوں کو اس افضل مقام تک قربانی کا جانور لے جانے سے روک دیا تھا۔
Ayah 48:25(آیت) فَتُصِيْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۚ، لفظ معرہ کے معنی بعض حضرات نے گناہ کے بیان کئے ہیں اور بعض حضرات نے مطلق مضرت کے اور بعض نے عیب کے بیان کئے ہیں، اس مقام پر ظاہر یہی آخری معنی ہیں کہ اگر جنگ چھڑ جاتی اور بیخبر ی کی حالت میں مسلمانوں کے ہاتھ سے مکہ میں محبوس مسلمان قتل ہوجاتے تو یہ ایک عیب اور عار کی بات بھی تھی کہ کفار ان کو عار دلاتے کہ اپنے ہی دینی بھائیوں کو مار ڈالا اور مضرت بھی، مقتول مسلمانوں کی مضرت تو ظاہر ہی ہے۔ قاتل مسلمانوں کو جب خبر ہوتی سخت ندامت اور افسوس ہوتا، یہ مضرت عام مسلمانوں کو پہنچتی۔
صحابہ کرام کو غلطی اور عیب سے بچانے کا قدرتی انتظام
امام قرطبی نے فرمایا کہ بغیر علم کے اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کے ہاتھ سے مارا جائے وہ گناہ تو نہیں مگر ایک عیب اور عار اور ندامت و افسوس کا سبب ضرور ہے اور قتل خطاء پر دیت وغیرہ دینے کے بھی احکام ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے صحابہ کی اس سے بھی حفاظت فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کے ساتھ حق تعالیٰ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اگرچہ انبیاء کی طرح معصوم تو نہیں مگر عامتہ ان کو خطاؤں اور عیبوں سے بچانے کا قدرتی انتظام ہوجاتا ہے۔
لِيُدْخِلَ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚ یعنی حق تعالیٰ نے اس موقع پر مسلمانوں کے قلوب میں تحمل پیدا کر کے جنگ نہ ہونے کا انتظام اس لئے فرمایا کہ ان میں سے بہت سے لوگوں کا آئندہ اسلام قبول کرلینا اللہ تعالیٰ جانتا تھا ان پر رحمت کرنے کے لئے نیز جو مسلمان محبوس تھے ان پر رحمت کے لئے یہ سارا سامان کیا گیا۔
لوتزیلوا، تزیل کے معنی اصل میں تفرق کے ہیں مطلب یہ ہے کہ مکہ میں محبوس مسلمان اگر کفار سے الگ اور ممتاز ہوتے کہ مسلمان ان کو پہچان کر تکلیف سے بچا لیتے تو ان کفار کے حالات کا تقاضا یہی تھا کہ اسی وقت ان کو مسلمانوں کے ہاتھوں سزا دلوادی جاتی مگر چونکہ محبوس ضعفاء مسلمین مرد اور عورتیں انہی کے اندر مخلوط تھے اگر قتال ہوتا تو ان کو بچانے کی صورت نہ بنتی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس جنگ کو موقوف رکھا۔
Ayah 48:26(آیت) وَاَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَكَانُوْٓا اَحَقَّ بِهَا وَاَهْلَهَا، کلمہ تقویٰ سے مراد اہل تقویٰ کا کلمہ ہے یعنی کلمہ توحید و رسالت، اس کو کلمہ تقویٰ اس لئے کہا گیا کہ یہ کلمہ ہی تقویٰ کی بنیاد ہے اور صحابہ کرام کو اس کلمہ کا احق اور اہل فرما کر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی رسوائی واضح کردی جو ان حضرات پر کفر و نفاق کا الزام لگاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تو ان کو کلمہ اسلام کا اہل اور احق فرمائے اور یہ بدبخت ان پر تبرا کریں۔
Ayah 48:27خلاصہ تفسیر
بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھلایا ہے جو مطابق واقعہ کے ہے تم لوگ مسجد حرام میں انشاء اللہ ضرور جاؤ گے امن وامان کے ساتھ کہ تم میں کوئی سر منڈاتا ہوگا کوئی بال کتراتا ہوگا تم کو کسی طرح کا اندیشہ نہ ہوگا (چنانچہ سال آئندہ ایسا ہی ہوا اور اس سال سے تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ) سو اللہ تعالیٰ کو وہ باتیں (اور حکمتیں) معلوم ہیں جو تم کو معلوم نہیں (ان حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ) پھر اس (خواب کے واقع ہونے) سے پہلے تم کو ایک قریبی فتح (خیبر کی) دے دی (تاکہ اس سے مسلمانوں کو قوت اور سامان حاصل ہوجائے اور وہ پورے اطمینان کے ساتھ عمرہ ادا کریں جیسا کہ ایسا ہی واقع ہوا) وہ اللہ ایسا ہے کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت (کا سامان یعنی قرآن) اور سچا دین (اسلام) دے کر بھیجا ہے تاکہ اس (دین) کو تمام دینوں پر غالب کر دے (یہ غلبہ حجت و دلیل کے اعتبار سے تو دائمی اور ہمیشہ ہی رہے گا اور شوکت و سلطنت کے اعتبار سے بھی غلبہ رہے گا مگر ایک شرط کے ساتھ وہ یہ کہ اہل دین یعنی مسلمان باصلاحیت ہوں، جب یہ شرط نہیں ہوگی تو غلبہ ظاہری کا وعدہ نہیں اور چونکہ صحابہ کرام میں یہ شرط موجود تھی جیسا کہ اگلی آیات جو صحابہ کے متعلق آ رہی ہیں ان میں اس صلاحیت کا ذکر ہے اس لئے اس آیت میں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی بشارت ہے ایسا ہی صحابہ کرام کے لئے فتوحات کی بشارت ہے جیسا کہ مشاہدہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات پر پچیس سال گزرنے نہ پائے تھے کہ اسلام اور قرآن دنیا کے گوشہ گوشہ میں فاتحانہ طور پر پہنچ گیا) اور (حمیت جاہلیت والے اگر آپ کے نام کے ساتھ رسول کا لفظ لکھنے سے گریز کرتے ہیں تو آپ مغمول نہ ہوں، کیونکہ آپ کی رسالت پر) اللہ کافی گواہ ہے (جس نے آپ کی رسالت کو دلائل واضحہ اور کھلے ہوئے معجزات سے ثابت کر دکھایا جس سے ثابت ہوگیا کہ) محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں (اس جگہ محمد رسول اللہ کا پورا جملہ لانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ حمیت جاہلیت والوں نے ان کے نام کے ساتھ رسول اللہ لکھنا گوارا نہ کیا تو کیا پروا ہے اللہ نے یہ کلمہ آپ کے نام کے ساتھ لکھ دیا جو قیامت تک پڑھا جائے گا، آگے آپ کی متبعین صحابہ کے فضائل و بشارات مذکور ہیں کہ) اور جو لوگ آپ کی صحبت پائے ہوئے ہیں (یہ لفظ تمام صحابہ کرام کو شامل ہے خواہ ان کی صحبت طویل میسر ہو یا قلیل اور جو صحابہ حدیبیہ میں آپ کے ساتھ تھے وہ اصالتہ اور خصوصاً اس کے مصداق ہیں، حاصل یہ ہے کہ سب صحابہ کرام ان صفات کمال کے ساتھ موصوف ہیں کہ) وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں (اور) آپس میں مہربان ہیں (اور) اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کر رہے ہیں کبھی سجدہ کر رہے ہیں (اور) اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضا مندی (یعنی ثواب اور قرب) کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ان (کی عبدیت) کے آثار (ان کے) سجدہ کی تاثیر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں (مراد ان آثار سے خشوع و خضوع کے انوار ہیں جو مومن متقی کے چہرہ میں عموماً مشاہدہ کیے جاتے ہیں) یہ ان کے اوصاف (مذکورہ) تورات میں ہیں اور انجیل میں ان کا یہ وصف (مذکور) ہے کہ جیسے کھیتی کہ اس نے (اول زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس نے (مٹی، پانی، ہوا وغیرہ سے غذا پا کر اپنی) اس (سوئی) کو قوی کیا (یعنی یہ کھیتی قوی ہوگئی) پھر وہ کھیتی اور موٹی ہوئی پھر اپنے تنہ پر سیدھی کھڑی ہوگئی کہ (اپنے ہرے بھرے ہونے سے) کسانوں کو بھلی معلوم ہونے لگی (اسی طرح صحابہ میں اول صنعف تھا پھر روزانہ قوت بڑھتی گئی اور اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کو یہ نشوونما اس لئے دیا) تاکہ ان (کی اس حالت) سے کافروں کو (حسد میں) جلا دے اور (آخرت میں) اللہ نے ان صاحبوں سے جو کہ ایمان لائے ہیں اور نیک کام کر رہے ہیں (گناہوں کی) مغفرت اور (طاعات پر) اجر عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔
معارف و مسائل
جب صلح حدیبیہ مکمل ہوگئی اور یہ بات طے ہوگئی کہ اس وقت بغیر دخول مکہ اور بغیر ادائے عمرہ کے واپس مدینہ جانا ہے اور صحابہ کرام کا یہ عزم عمرہ رسول اللہ ﷺ کے خواب کی بنا پر ہوا تھا جو ایک طرح کی وحی تھی۔ اب بظاہر اس کے خلاف ہوتا ہوا دیکھ کر بعض صحابہ کرام کے دلوں میں خود یہ شکوک پیدا ہونے لگے کہ (معاذاللہ) آپ کا خواب سچا نہ ہوا۔ دوسری طرف کفار و منافقین نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ تمہارے رسول کا خواب صحیح نہ ہوا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) لَـقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بالْحَقِّ الآیتہ (رواہ البیہقی وغیرہ عن مجاہد)
(آیت) لَـقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بالْحَقِّ ، لفظ صدق بمقابلہ کذب کے اقوال میں استعمال ہوتا ہے، جو قول واقعہ کے مطابق ہو اس کو صدق جو مطابق نہ ہو اس کو کذب کہا جاتا ہے اور بعض اوقات یہ لفظ افعال کے لئے بھی بولا جاتا ہے تو اس وقت اس کے معنی کسی فعل کو محقق اور ثابت کرنے کے ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے (آیت) رجال صدقوا ماعاھدوا اللہ، یعنی وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے معاہدہ کو پورا کر دکھایا اس وقت لفظ صدق کے دو مفعول ہوتے ہیں جیسا کہ اس آیت میں لفظ صدق کا پہلا مفعول رسولہ اور دوسرا رؤیا ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ نے اپنے رسول کو اپنے خواب میں سچا کر دکھایا (بیضاوی) اور اگرچہ یہ سچا کر دکھانے کا واقعہ آگے آنے والا تھا مگر اس کو بلفظ ماضی تعبیر کر کے اس کے قطعی اور یقینی ہونے کی طرف اشارہ کردیا چناچہ آگے بلفظ مستقبل فرمایا گیا کہ (آیت) َتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ، یعنی آپ نے جو خواب میں دیکھا تھا کہ ہم مسجد حرام میں داخل ہوئے یہ ضرور ہو کر رہے گا مگر اس سال نہیں بلکہ اس سال کے بعد ہوگا۔ خواب میں اس کا وقت معین نہیں تھا، صحابہ کرام نے اپنے اشتیاق کی وجہ سے اسی سال عزم سفر کرلیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی موافقت فرمائی جس میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمتیں تھیں جن کا ظہور صلح حدیبیہ کے وقت ہوا، جیسا کہ صدیق اکبر نے اول ہی حضرت عمر کے جواب میں فرمایا تھا کہ آپ کو شک میں نہیں پڑنا چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ کے خواب میں کوئی وقت اور سال معین نہیں تھا اگر اس وقت نہیں تو پھر ہوگا (قرطبی)
آئندہ ہونے والے کاموں کیلئے انشاء اللہ کہنے کی تاکید
اس آیت میں حق تعالیٰ نے آئندہ ہونے والے داخلہ مسجد حرام کے ساتھ انشاء اللہ کا لفظ استعمال فرمایا حالانکہ اللہ تعالیٰ تو خود اپنی مشیت کے عالم ہیں ان کو اس کے کہنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن اپنے رسول اور سب بندوں کو تعلیم دینے کیلئے اس جگہ حق تعالیٰ نے بھی لفظ انشاء اللہ استعمال فرمایا (قرطبی)
(آیت) مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَمُقَصِّرِيْنَ ۙ، صحیح بخاری میں ہے کہ اگلے سال عمرہ قضاء میں حضرت معاویہ نے آنحضرت ﷺ کے موئے مبارک قینچی سے تراشے تھے، یہ واقعہ عمرہ قضا ہی کا ہے کیونکہ حجتہ الوداع میں تو آپ نے حلق فرمایا ہے (قرطبی)
فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا، یعنی اللہ کی قدرت میں تو یہ بھی تھا کہ اسی سال تمہیں دخول مسجد حرام اور عمرہ نصیب ہوجاتا مگر اگلے سال تک تاخیر کرنے میں بڑی مصالح تھیں جو اللہ کو معلوم تھیں تم ان کو نہ جانتے تھے، منجملہ ان مصالح کے ایک یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اس سے پہلے خیبر فتح ہو کر مسلمانوں کی قوت اور سامان میں اضافہ ہوجائے اور وہ فراغت و اطمینان کے ساتھ عمرہ ادا کریں اسی لئے فرمایا
(آیت) فَجَــعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًا، دون ذلک سے مراد دون الرویا ہے یعنی اس خواب کے واقع ہونے سے پہلے خیبر کی فتح قریب مسلمان کو حاصل ہوجائے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس فتح قریب سے مراد خود صلح حدیبیہ ہے کہ وہ فتح مکہ اور دوسری تمام فتوحات کا مقدمہ تھی اور بعد تو سبھی صحابہ نے اس کو اعظم الفتوحات قرار دیا ہے تو اب مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ اس سال تمہارے عزم سفر اور پھر ناکام ہونے اور صلح ہونے میں جو حکمتیں اور مصالح تھیں وہ تمہارے علم میں نہیں تھیں لیکن اللہ تعالیٰ سب سے واقف تھا وہ چاہتا تھا کہ تم کو اس خواب کے واقعہ سے پہلے صلح حدیبیہ کے ذریعہ ایک فتح قریب نصیب فرما دے اسی فتح قریب کا یہ نتیجہ سب نے دیکھ لیا کہ صحابہ کرام جن کی تعداد سفر حدیبیہ میں ڈیڑھ ہزار سے زائد نہ تھی اس کے بعد دس ہزار تک پہنچ گئی۔
Ayah 48:28(آیت) هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ ، سابقہ آیات میں جو فتوحات اور غنائم کے وعدے اور اہل حدیبیہ کے خصوصاً اور تمام صحابہ کے عموماً فضائل اور بشارتیں مذکور ہوئے ہیں اب خاتمہ سورت میں ان مضامین کی تلخیص و تاکید ہے اور چونکہ یہ سب نعمتیں اور بشارتیں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور تصدیق کی بنا پر ہوئیں اس لئے اس تصدیق و اطاعت کی مزید تاکید کے لئے نیز منکرین رسالت محمدیہ پر رد کرنے کے لئے اور صلح حدیبیہ کے وقت جو بعض مسلمانوں کے دلوں میں کچھ شکوک پیدا ہوگئے تھے ان کے ازالہ کے لئے ان آیات میں آپ کی رسالت کا اثبات بلکہ تمام دنیا کے دینوں پر آپ کے دین کو غالب کرنے کی بشارت دی گئی ہے۔