38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 38:27–40

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کائنات اس میں ہے اسکو خالی از مصلحت نہیں پیدا کیا یہ انکا گمان ہے جو کافر ہیں سو کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے کیا ان کو ہم انکی طرح کردیں گے جو ملک میں فساد کرتے ہیں یا پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کردیں گے

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

(یہ) کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے بہت خوب بندے (تھے اور) رجوع کرنے والے تھے

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

جب ان کے سامنے شام کو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

(بولے کہ) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

(اور) دعا کی اے پروردگار مجھے مغفرت کر اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایان نہ ہو بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیر فرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان کے حکم سے نرم نرم چلنے لگتی

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور دیووں کو بھی (ان کے زیر فرمان کیا) وہ سب عمارتیں بنانے والے اور غوطہ مارنے والے تھے

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور اوروں کو بھی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

(ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے کچھ) حساب نہیں ہے

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور بیشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے

آیت نمبر 27 تا 40 ترجمہ : اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل یعنی بےفائدہ پیدا نہیں کیا یہ یعنی مذکورہ چیزوں کو بےفائدہ پیدا کرنے کا گمان تو مکہ کے کافروں کا ہے، سو کافروں کے لئے آگ کی وادی ہے، کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے برابر کردیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد برپا کرتے رہے ؟ یا پرہیز گاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے (مذکورہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے مومنوں سے یہ کہا کہ ہم کو آخرت میں ویسا ہی دیا جائے گا جیسا تم کو دیا جائے گا، اور أم ہمزہ انکاری کے معنی میں ہے، یہ بابرکت کتاب ہے یہ مبتداء محذوف یعنی ھٰذا کی خبر ہے، جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا کہ لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں یَدَّبَّرُوا کی اصل یتدَبَّرُوْا تھی، ت کو دال میں ادغام کردیا، اس کے معنی میں غور و فکر کریں، پس ایمان لے آئیں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو سلیمان نامی فرزند عطا کیا جو بڑا اچھا بندہ تھا اور وہ ذکر و تسبیح کی طرف ہمہ وقت بہت زیادہ رجوع کرنے والا تھا جب شام کے وقت اور وہ زوال کے بعد کا وقت ہے آپ کے روبرو عمدہ گھوڑے پیش کئے گئے صافِنات کے معنی گھوڑوں کے ہیں اور یہ صافِنَۃٌ کی جمع ہے، اس گھوڑے کو کہتے ہیں جو تین پیروں اور چوتھے کے سم (کُھر) کے کنارے پر سہارا دیکر کھڑا ہوتا ہو، اور یہ صَفَنَ یَصْفِنُ صُفُونًا سے مشتق ہے، الجیادُ ، جوادٌ کی جمع ہے، اس کے معنی تیزرو کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ اگر ان کو روکا جائے تو رک جائیں اور اگر ان کو مہمیز لگائی جائے تو سبقت لے جائیں ایک ہزار گھوڑے تھے جو ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد آپ کے روبرو آپ کے دشمن کے ساتھ جہاد کرنے کے ارادہ سے پیش کئے گئے، ان میں سے نو سو کا معائنہ فرما چکے تھے کہ سورج غروب ہوگیا، اور آپ نے عصر کی نماز نہیں پڑھی تھی، چناچہ آپ کا صدمہ ہوا، تو فرمانے لگے میں نے اپنے پروردگار کی یاد پر ان گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دی یعنی عصر کی نماز پر (ترجیح دی) یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا یعنی ایسی چیز میں روپوش ہوگیا جو اس کو لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ کر دے ان گھوڑوں کو دوبارہ میرے سامنے لاؤ پھر تو تلوار سے پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا سوق، ساقٌ کی جمع ہے، یعنی اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے ان کو ذبح کردیا اور ان کے پیروں کو کاٹ دیا، اس لئے کہ ان کی وجہ سے نماز سے غفلت ہوگئی، اور آپ نے ان کے گوشت کو صدقہ کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بہتر اور زیادہ تیز رفتار چیز عطا فرما دی، اور وہ ہوا تھی، کہ وہ ان کے حکم سے چلتی تھی، جس طرح چاہتے تھے اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کی یعنی ان سے ان کی حکومت لے کر آزمایا اور یہ آزمائش اس عورت سے نکاح کرنے کی وجہ سے کی جس سے ان کو محبت تھی، اور وہ عورت سلیمان کے گھر میں ان کی لاعلمی میں بت پرستی کرتے تھی، اور ان کی حکومت ان کی انگوٹھی کے زیر اثر تھی، چناچہ ایک روز بیت الخلاء کے ارادہ کے وقت اس انگوٹھی کو اتار کر اپنی ایک بیوی، مسماۃ امینہ کو اپنی عادت کے مطابق دیدی، تو ایک جن سلیمان (علیہ السلام) کی صورت میں اس کے پاس آیا، اور اس انگوٹھی کو اس سے لے لیا، اور ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ ڈال دیا اور یہ وہی جن تھا (جس نے انگوٹھی لی تھی) اور صخر تھا یا اس کے علاوہ کوئی دوسرا تھا، جو کہ سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی پر بیٹھ گیا اور اس کے اوپر پرند وغیرہ سایہ فگن ہوگئے، چناچہ سلیمان (علیہ السلام) اپنی ہیئت معتادہ کے برخلاف نکلے تو اس جنی کو اپنی کرسی پر دیکھا، اور لوگوں سے کہا میں سلیمان ہوں، لیکن لوگوں نے ان کو نہ پہچانا پھر سلیمان (علیہ السلام) اپنی حکومت پر چند دن کے بعد واپس آگئے بایں طور کہ انگوٹھی ان کو مل گئی جس کو پہن کر وہ اپنے تخت سلطنت پر بیٹھ گئے، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے سوا کسی (شخص) کے لائق نہ ہو یعنی میرے بعد کسی کو عطا نہ ہو، مِنْ بَعْدِیْ بمعنی سِوَای جیسا کہ فمَنْ یَھْدِیہِ من بعد اللہ میں بعد اللہ، سِوَی اللہ کے معنی میں ہے، تو بڑا ہی عطا کرنے والا ہے، پس ہم نے ہوا کو اس کے زیر حکم کردیا وہ آپ کے حکم سے جہاں آپ چاہتے سبک رفتاری سے پہنچا دیا کرتی تھی (ان کے زیر فرمان کردیا) اور عمارت بنانے والے ہر جن کو بھی (زیر فرمان کردیا) جو عجیب عجیب عمارتیں بناتے تھے اور دریا میں غوطہ زنی کرنے والے کو بھی جو موتی نکالتا تھا، اور ان میں سے دیگر جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے ان کے ہاتھوں کو گردن سے ملا کر اور ہم نے اس سے کہا یہ ہمارا عطیہ ہے اب تو احسان کر یعنی اس میں سے جس کو چاہے دے (اور جس کو چاہے) نہ دے تجھ پر اس میں کوئی حساب نہیں اور اس کے لئے ہمارے پاس بڑا قرب ہے اور بہت اچھا ٹھکانہ ہے اس کے مثل سابق میں گزر چکا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وما خلقنا السماء والارض وما بینھما باطلاً یہ کلام مستانف ہے مضمون سابق کی تاکید و تقریر کیلئے لایا گیا ہے۔ قولہ : باطلاً یہ مصدر محذوف کی صفت ہے ای خلقًا باطلاً اور یہ بھی جائز ہے کہ خلقنا کی ضمیر فاعل سے حال ہو ای مَا خلقنَا مُبْطلینَ ۔ قولہ : ذٰلک ای خلق ما ذُکِرَ لاَ لِشَیْئٍ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ذٰلک کے مشار الیہ کو متعین کرنا ہے یعنی زمین و آسمان کی عبث تخلیق کا گمان مکہ کے کافروں کا ہے۔ قولہ : کتابٌ، ھٰذا مبتداء محذوف کی خبر ہے ای ھٰذا کتابٌ۔ قولہ : انزلناہُ الَیکَ ، کتابٌ کی صفت ہے۔ قولہ : مُبارکٌ مبتداء محذوف کی خبر ثانی ہے، بعض حضرات نے مبارکٌ کو کتاب کی صفت قرار دیا ہے، مگر یہ درست نہیں ہے، اس لئے کہ جمہور کے نزدیک و صف غیر صریح کو وصف صریح پر مقدم نہیں کرسکتے۔ قولہ : لیَدَّبَّرُوا اس کا تعلق انزلناہ سے ہے، ظاہر یہ ہے کہ لیدَّبَّرُوا کے فاعل کو حذف کردیا گیا ہے، اور یہ باب تنازع فعلان سے ہے، اس لئے کہ لیدَّبَّرُوْا اور لیَتَذَکَّرَ دونوں اُولُوا الالبابِ کو اپنا فاعل بنانا چاہتے ہیں، بصریین کے مذہب کے مطابق فعل ثانی کو عمل دیدیا۔ اور اول کے لئے ضمیر لے آئے۔ قولہ : ای سلمانَ یہ نعم کا مخصوص بالمدح ہے۔ قولہ : اِذ عُرِضَ یہ فعل محذوف کا ظرف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے اذکر اذ عُرِضَ ۔ قولہ : الجیادُ جمع جوادٍ کہا گیا ہے کہ جید کی جمع ہے عمدہ اور تیز رفتار گھوڑے کو کہتے ہیں جواد کا اطلاق نر و مادہ دونوں پر ہوتا ہے۔ قولہ : المعنی یعنی صافنات الجیاد کے معنی۔ قولہ ؛ احببتُ حُبَّ الخَیر، حُبَّ الخیر یہ احببتُ کا مفعول بہ ہے، اور احببتُ بمعنی آثرت ہے اس لئے کہ احببتُ کا صلہ عن نہیں آتا یا حُبَّ الخیر احببتُ کا مفعول مطلق ہے، حرف زوائد حذف کرکے جیسے انبت نباتًا اور عَنْ بمعنی علیٰ ہے اور خیرٌ بمعنی خیلٌ ہے، حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے الخیل معقودٌ بنَواصِیْھَا الخیرُ یعنی گھوڑے کی پیشانی سے خیر وابستہ رہتی ہے، غالباً اسی مناسبت سے خیل کو خیر کہا جاتا ہے، بعض حضرات نے فرمایا ہے چونکہ خیل کثیر المنافع ہوتا ہے اسی وجہ سے اس کو خیر کہتے ہیں۔ (فتح القدیر شوکانی) قولہ ؛ توارت بالحجابِ ، توارت کا فاعل ھِیَ ضمیر مستتر ہے اور ھی کا مرجع الشمس ہے، اگرچہ شمس ما سبق میں مذکور نہیں ہے، جس کی وجہ سے بظاہر اضمار قبل الذکر لازم آتا ہے، مگر چونکہ العشیُ کا قرینہ شمس کے حذف پر دلالت کرتا ہے لہٰذا اضمار قبل الذکر کا اعتراض واقع نہیں ہوگا، اس لئے کہ ذکریا قرینہ ذکر کافی ہوتا ہے، یہاں قرینہ موجود ہے، اور کہا گیا ہے کہ توارتْ کی ضمیر صافنات کی طرف راجع ہے، کذافی الکشاف، امام رازی نے اسی کو راجح قرار دیا ہے، اس لئے کہ گھوڑوں کے معائنہ میں اس قدر مشغول ہوجانا کہ نماز فوت ہوجائے یہ گناہ عظیم ہے، جو انبیاء کی شان کے لائق نہیں ہے، اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) گھوڑوں کا معائنہ فرماتے رہے، یہاں تک وہ نظروں سے غائب ہوگئے (یعنی گھوڑوں کو جہاد کی تیاری کے طور پر دوڑا کر دیکھ رہے تھے حتی کہ نظروں سے غائب ہوگئے) ۔ قولہ : اصَابَ ای ارَادَ سُلیمانُ یہاں اَصَابَ بمعنی اَرَادَ ہے اس لئے کہ یہاں اصاب بمعنی فَعَلَ فِعْلَ الصواب (ای بردرستگی رسید) درست نہیں ہے، اور اصاب بمعنی اراد لغت عرب میں مستعمل ہے، کہا جاتا ہے اصَابَ الصوابَ فاخطَأَ الجواب یعنی درست جواب کا ارادہ کیا مگر جواب خطا ہوگیا۔ قولہ : مُقَرَّنینَ اسم مفعول جمع مذکر واحد مُقرَّنٌ (تفعیل) باندھے ہوئے، جکڑے ہوئے۔ قولہ : الاصفاد جمع صفدٍ بمعنی قید، بیڑی۔ قولہ : زُلفٰی درجہ، مرتبہ، تقرب، قربیٰ کے مانند مصدر ہے، امام بغوی نے لکھا ہے زُلفَۃً اسم بوصف مصدر ہے، اس میں مذکر، مؤنث واحد، تثنیہ جمع سب برابر ہیں۔ تفسیر و تشریح وما خلقنا السماء والارض (الآیۃ) یعنی ہم نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے خالی از حکمت پیدا نہیں کیا بلکہ ہر شئ حکمت سے پُر ہے، ان حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہے کہ میرے بندے میری حکمت اور قدرت کو دیکھ کر میرے وجود اور توحید کے قائل ہوجائیں اور میری بندگی کریں، جو ایسا کرے گا میں اس کو بہترین جزاء سے نوازوں گا، اور جو میری عبادت و اطاعت سے سرتابی کرے گا اس کیلئے جہنم کا عذاب ہے۔ صافناتٌ صافنۃٌ یا صافنٌ کی جمع ہے، وہ گھوڑے جو تین پیروں پر کھڑے ہوں اور چوتھے کو برائے نام زمین پر رکھیں گویا کہ ہمہ وقت دوڑنے کیلئے تیار م ہیں ایسے گھوڑوں کو، اصیل، جواد، کہتے ہیں جواد کی جمع جیاد، ایسے ہی عمدہ گھوڑے شام کے وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے روبرو معائنہ کے لئے پیش کئے گئے۔ مذکورہ آیتوں میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس واقعہ کی مشہور تفسیر تو یہی ہے کہ حضرت سلیمان کے معائنہ کیلئے جہادی گھوڑے پیش کئے گئے، ان کی جانچ پڑتال اور معائنہ میں ایسے مشغول ہوئے کہ آپ کا جو معمول تھا خواہ عصر کی نماز ہو یا اور کوئی وظیفہ، چھوٹ گیا، جب آپ کو تنبہ ہوا تو آپ نے ان گھوڑوں کو ذبح کر ڈالا کہ ان کی وجہ سے یاد الٰہی میں خلل واقع ہوا تھا۔ ان آیات کی یہ تفسیر متعدد ائمہ تفسیر سے منقول ہے، حافظ ابن کثیر جیسے محقق عالم نے بھی اسی تفسیر کو ترجیح دی ہے، اور اس کی تائید ایک مرفوع حدیث سے بھی ہوتی ہے، جو علامہ سیوطی نے معجم طبرانی سے اور ابن مردویہ کے ھوالہ سے نقل کی ہے عَنْ اُبَیِ بن کعب ؓ عن النبی ﷺ فی قولہٖ فطفقَ مسحًا بالسُّوقِ والاعناقِ قالَ قطع سوقھا واعناقھا بالسیف علامہ سیوطی نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ اس حدیث مرفوع کی وجہ سے گویہ تفسیر کافی مضبوط ہوجاتی ہے، لیکن اس تفسیر پر درایۃً کچھ سبہات بھی ہیں، عموماً یہ شبہ کیا جاتا ہے کہ گھوڑے اللہ کا عطا کیا ہوا ایک انعام تھا، اور مال کو اس طرح ضائع کردینا ایک نبی کی شایان شان معلوم نہیں ہوتا، لیکن مفسرین نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ گھوڑے بیت المال کے نہیں تھے بلکہ حضرت سلیمان کی ذاتی ملکیت تھے، اور ان کی شریعت میں دیگر جانوروں کے مانند گھوڑوں کی بھی قربانی جائز تھی، لہٰذا گھوڑوں کی قربانی کردی اور گوشت ضرورت مندوں کو دے دیا، لہٰذا اس کا ضائع کرنا نہیں کہا جائے گا، قربانی کرنا عبادت ہی کا ایک شعبہ ہے۔ (روح المعانی ملخصاً ) مذکورہ آیات کی ایک تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے جس میں واقعہ بالکل مختلف طریقہ سے بیان کیا گیا ہے، اس تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے جہادی گھوڑے معائنہ کے لئے پیش کئے گئے، حضرت سلیمان (علیہ السلام) گھوڑوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور یہ بھی فرمایا کہ مجھے ان گھوڑوں سے جو محبت اور تعلق ہے وہ دنیا کی محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے پروردگار کی یاد کی وجہ سے ہے، اس تفسیر کی صورت میں عَنْ ، اجَل کے معنی میں ہوگا ای لاجلِ ذکرِ ربِّی یعنی اپنے رب کی یاد کی وجہ سے میں ان گھوڑوں سے محبت رکھتا ہوں، یعنی ان کے ذریعہ اللہ کی راہ میں جہاد ہوتا ہے، پھر ان گھوڑوں کو تجربہ اور آزمائش کے طور پر دوڑایا (یعنی ان کی ٹرائی لی) جب نظروں سے اوجھل ہوگئے تو ان کو دوبارہ طلب کیا، اور پیار و محبت سے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا خیرٌ قرآن میں مال کے معنی میں استعمال ہوا ہے، یہاں یہ لفظ گھوڑوں کے لیے استعمال ہوا ہے، اس تفسیر کی صورت میں توارت کی ضمیر کا مرجع صافنات (گھوڑے) ہوں گے، امام ابن جریر طبری اور امام رازی وغیرہ نے اس دوسری تفسیر کو ترجیح دی ہے، قرآن کریم کے الفاظ کے لحاظ سے دونوں تفسیروں کی گنجائش ہے۔ سورج کی واپسی کا قصہ : بعض حضرات نے پہلی تفسیر کو اختیار کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ نماز عصر کے قضا ہوجانے کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے یا فرشتوں سے یہ درخواست کی کہ سورج کو واپس لوٹا دیا جائے، چناچہ سورج لوٹا دیا گیا، اور آپ نے اپنا معمول ادا کرلیا، اس کے بعد دوبارہ سورج غروب ہوا، یہ حضرات رُدُّوھَا کی ضمیر سورج کی طرف راجع مانتے ہیں۔ لیکن محقق مفسرین مثلاً علامہ آلوسی وغیرہ نے اس قصہ کی تردید کی ہے، اور فرمایا کہ رُدُّوھَا کی ضمیر صافنات (گھوڑوں) کی طرف راجع ہے نہ کہ سورج کی طرف اس لئے نہیں کہ معاذ اللہ سورج کو لوٹانا اللہ کی قدرت میں نہیں بلکہ اس لئے کہ یہ قصہ قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ (روح المعانی، معارف) ولقد فتنا سلیمن (الآیۃ) اس آیت میں باری تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ایک اور آزمائش کا تذکرہ فرمایا ہے، اس سلسلہ میں صرف اتنا ذکر کیا گیا ہے کہ اس آزمائش کے دوران کوئی دھڑ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ آزمائش کیا تھی ؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا ؟ اور اس کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی بھی کوئی تفصیل قرآن کریم یا مستند احادیث میں نہیں ملتی، البتہ بعض مفسرین نے صحیح حدیث سے ثابت ایک واقعہ کو اس آیت پر چسپاں کیا ہے، اور وہ یہ کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ایک مرتبہ کہا کہ میں آج کی رات اپنی تمام بیویوں سے (جن کی تعداد 70 یا 90 تھی) ہمبستری کروں گا تاکہ ان سے شہسوار مجاہد پیدا ہوں اور راہ خدا میں جہاد کریں، اور اس پر انشاء اللہ نہیں کہا (یعنی صرف اپنی تدبیر پر پورا اعتماد کیا) نتیجہ یہ ہوا کہ سوائے ایک بیوی کے کوئی بیوی حاملہ نہ ہوئی، اور حاملہ بیوی نے بھی جو بچہ جنا وہ ناقص یعنی ادھورا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا اگر سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہہ لیتے تو سب بیویوں سے مجاہد پیدا ہوتے۔ (صحیح بخاری کتاب الانبیاء، صحیح مسلم کتاب الایمان) ان مفسرین کے خیال میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا انشاء اللہ نہ کہنا آزمائش کا سبب بنا، اور کرسی پر لا کر ڈالا جانے والا جسم یہی ناقص الخلقت بچہ تھا۔ (واللہ اعلم الصواب) بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں ایک واقعہ نقل کیا ہے جو خالص اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہے، وہ یہ کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت کا راز ایک انگوٹھی میں تھا، ایک روز ایک شیطان نے اس انگوٹھی کو اپنے قبضہ میں کرلیا، اسکی صورت یہ ہوئی کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی عادت کے مطابق بیت الخلاء جاتے وقت وہ انگوٹھی اپنی بیوی امینہ کو دیدی، ادھر ایک جن جس کا نام ” صخر مارد “ تھا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ہیئت و شکل میں آیا اور انگوٹھی امینہ سے حاصل کرلی، جس کی وجہ سے وہ جنی اس انگوٹھی کی بدولت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت شاہی پر جلوہ افروز ہو کر حکمراں بن گیا، چالیس روز کے بعد وہ انگوٹھی سلیمان (علیہ السلام) کو ایک مچھلی کے پیٹ سے ملی، اسکے بعد آپ نے دوبارہ حکومت پر قبضہ کرلیا، یہ روایت متعدد مزید قصوں کے ساتھ کئی تفسیر کی کتابوں میں آئی ہے، لیکن حافظ ابن کثیر (رح) اس قسم کی تمام روایات کو اسرائیلیات میں شمار کرنے کے بعد لکھتے ہیں، اہل کتاب میں ایک جماعت ایسی ہے جو حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو نبی نہیں مانتی، ظاہر یہی ہے کہ یہ جھوٹے قصے ان ہی لوگوں کے گھڑے ہوئے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر : ص 26، ج 4) ۔ لہٰذا اس قسم کی روایات کو اس آیت کی تفسیر کہنا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے۔ حقیقت حال : حقیقت یہ ہے کہ زیر بحث آیت میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کی یقینی تفصیلات معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں، اور نہ ہی ہم اس کے مکلف، لہٰذا اتنی بات پر ایمان رکھنا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کوئی آزمائش کی تھی، جس کے بعد ان میں انابت الی اللہ کا جذبہ پہلے سے زیادہ پیدا ہوا۔
Ayahs 38:41–64

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (بار الہا) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(ہم نے کہا زمین پر) لات مارو (دیکھو) یہ (چشمہ نکل آیا) نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو (شیریں )

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اہل (و عیال) اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور بخشے (یہ) ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لئے نصیحت تھی

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو بیشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا بہت خوب بندے تھے بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو قوت والے اور آنکھوں والے تھے

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے ان کو ایک (صفت) خاص (آخرت کے) گھر کی یاد سے ممتاز کیا تھا

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور وہ ہمارے نزدیک منتخب اور نیک لوگوں میں سے تھے

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کرو اور وہ سب نیک لوگوں میں سے تھے

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ نصیحت ہے اور پرہیزگاروں کیلئے تو عمدہ مقام ہے

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

ان میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور (کھانے پینے کے لئے) بہت سے میوے اور شراب منگواتے رہیں گے

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی (اور) ہم عمر (عورتیں) ہوں گی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ وہ چیزیں ہیں جن کا حساب کے دن کے لئے تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

یہ (نعمتیں تو فرماں برداروں کے لئے ہیں) اور سرکشوں کے لئے برا ٹھکانا ہے

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

(یعنی) دوزخ جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بری آرام گاہ ہے

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ کھولتا ہوا گرم پانی اور پیپ (ہے) اب اس کے مزے چکھیں

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اسی طرح کے اور بہت سے (عذاب ہوں گے)

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ داخل ہوگی ان کو خوشی نہ ہو یہ دوزخ میں جانے والے ہیں

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

کہیں گے کہ بلکہ تم ہی کو خوشی نہ ہو تم ہی یہ (بلا) ہمارے سامنے لائے سو (یہ) برا ٹھکانا ہے

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

وہ کہیں گے اے پروردگار جو اس کو ہمارے سامنے لایا ہے اس کو دوزخ میں دونا عذاب دے

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور کہیں گے کیا سبب ہے کہ (یہاں) ہم ان شخصوں کو نہیں دیکھتے جن کو بروں میں شمار کرتے تھے

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

کیا ہم نے ان سے ٹھٹھا کیا ہے یا (ہماری) آنکھیں ان (کی طرف) سے پھر گئی ہیں ؟

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

بیشک یہ اہل دوزخ کا جھگڑنا برحق ہے

آیت نمبر 41 تا 64 ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی مردہ اولاد کو زندہ کردیا اور اتنے ہی ان کو اور عطا فرمائے، اور عقلمندوں کی نصیحت کے لئے اور اپنے ہاتھوں میں گھاس یا تنکوں کا ایک مٹھا لے کر اپنی بیوی کو مار دے، ایک روز اس کے دیر سے آنے کی وجہ سے قسم کھالی تھی کہ میں اس کو سو کوڑے ضرور لگاؤں گا، اور ضغث، گھاس یا سینکوں کے مٹھے کو کہتے ہیں، اور ترک ضرب کرکے تو حانث نہ ہو، چناچہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اذخر یا کسی اور چیز کی سو سینکیں لیں اور ان سب کو ملا کر ایک ضرب ماردی سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسے بڑا صابر پایا وہ بڑا نیک اور اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والا بندہ تھا، ہمارے بندوں ابراہیم، اسحٰق، اور یعقوب کا بھی ذکر کیجئے جو عبادت میں بڑے قوی تھے، اور دین میں بصیرت والے تھے اور ایک قراءت میں عبدنا ہے، اور ابراھیم اس کا بیان ہے، اور اس کا مابعد عبدنا پر معطوف ہے اور ہم نے ان کو ایک خاص بات کے ساتھ مخصوص کردیا تھا اور وہ (بات) آخرت کی یاد ہے یعنی اس کو یاد رکھنا اور اس کے لئے عمل کرنا اور ایک قراءت میں اضافت بیانیہ کے ساتھ ہے اور یہ لوگ ہمارے نزدیک برگزیرہ بہتر لوگ تھے (اخیار) خَیّرْ مشدد کی جمع ہے اور اسماعیل والیسعَ وہ نبی ہیں اور لام زائدہ ہے اور ذوالکفل (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کا بھی ذکر کیجئے اور ذوالکفل کی نبوت کے بارے میں اختلاف ہے، کہا گیا ہے کہ انہوں نے سو نبیوں کی کفالت کی تھی جو قتل کے خوف سے فرار ہو کر ان کے پاس گئے تھے، اور یہ سب بہتر لوگ تھے اخیار خیر مشدد کی جمع ہے، اور یہاں ان کا یہ ذکر جمیل ہے اور یقین جانو متقیوں کے لئے جو ان میں شامل ہیں آخرت میں اچھا ٹھکانہ ہے یعنی ہمیشگی کی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کیلئے کھلے ہوئے ہیں جنّٰت عدن، حسن مآب سے بدل ہے یا عطف بیان ہے جن میں مسہریوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے با فراغت طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کی شرابوں کر رہے ہوں گے، اور ان کے پاس نیچی نظروں والی یعنی اپنی نظروں کو اپنے شوہروں پر محصور رکھنے والی ہم عمر حوریں ہوں گی یعنی (33) سالہ ہوں گی، اترابٌ تربٌ کی جمع ہے یہ مذکور وہی ہے جس کا تم سے یوم حساب کیلئے وعدہ کی جاتا تھا غیبت کے ساتھ اور بطور التفات کے خطاب کے ساتھ بیشک یہ ہمارا عطیہ ہے جس کا کبھی خاتمہ ہی نہیں یعنی انقطاع نہیں اور جملہ رزقنا سے ھال ہے یا انَّ کی خبر ثانی ہے یعنی دائمًا (حال کی صورت میں) دائمٌ (خبر ثانی کی صورت میں) یہ جو مذکور ہوا مومنین کیلئے ہے اور سرکشوں کیلئے برا ٹھکانہ ہے یہ جملہ مستانفہ ہے یہ جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوں گے کیا ہی برا بچھونا ہے ؟ یہ عذاب جو مابعد سے مفہوم ہے کھولتا ہوا پانی اور پیپ ہے غساق (سین) کی تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے بہے گا، اسے چکھو (اس کے علاوہ) مختلف اصناف ہیں یعنی ان کا عذاب مختلف انواع و اقسام کا ہوگا، اور آخر جمع اور افراد کے ساتھ ہے (یعنی آخر واُخَرُ ) یہ ایک قوم ہے جو سختی کے ساتھ تمہارے ہمراہ دوزخ میں داخل ہو رہی ہے، تو سردار کہیں گے ان کے لئے کوئی خوش آمدید نہیں یعنی ان کے لئے کسی قسم کی سہولت نہیں یہی تو جہنم میں جانے والے ہیں پیروکار جواب دیں گے، بلکہ تم ہی ہو جن کے لئے خوش آمدید نہیں، تم ہی نے تو کفر کو ہمارے سامنے پیش کیا تھا، لہٰذا ہمارے اور تمہارے لئے جہنم برا ٹھکانہ ہے اے ہمارے پروردگار جس نے (کفر کی رسم) ہمارے لئے نکالی ہو اس کے حق میں جہنم کی سزا دوگنی کر دے یعنی ان کے کفر میں عذاب دوگنا کر دے اور کفار مکہ کہیں گے حال یہ کہ وہ جہنم میں ہوں گے کیا بات ہے ہمیں وہ لوگ نطر نہیں آرہے جنہیں ہم دنیا میں برے لوگوں میں شمار کرتے تھے ؟ کیا ہم نے انکا مذاق بنا رکھا تھا ؟ سین کے ضمہ اور کسرہ کے ساتھ یعنی دنیا میں ہم ان کا مذاق اڑاتے تھے اور سُخْریّا میں (ی) نسبتی ہے یعنی آیا وہ غائب ہیں یا ان سے ہماری نگاہیں ہٹ گئی ہیں ؟ جس کی وجہ سے ہم ان کو نہیں دیکھ رہے ہیں اور وہ فقراء مسلمین ہیں جیسا کہ عمار، بلال، وصہیب و سلمان فارسی ؓ بلاشبہ یہ حق ہے اس کا وقوع ضروری ہے یقین جانو دوزخیوں کا یہ جھگڑا ضرور ہوگا جیسا کہ سابق میں گزر چکا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بِنُصبٍ ، النُصبُ نون کے ضمہ اور صاد کے سکون کے ساتھ نَصْبٌ نون کے نصب اور صاد کے سکون کے ساتھ نُصبٌ دونوں کے ضمہ کے ساتھ، دکھ، تکلیف، بلاء (لغات القرآن) اُذْکُرْ عبدنا ایوُّب کا عطف قصہ علی القصہ کے طور پر اذکر عبدنا داؤد پر ہے۔ سوال : سلیمان (علیہ السلام) کے واقعہ کو ذکر کرتے وقت اُذکُرْ نہیں کہا گیا اس کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : حضرت داؤد اور ان کے صاحبزادے سلیمان کے درمیان چونکہ کمال اتصال ہے گویا کہ دونوں کا ایک ہی قصہ ہے اس لئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قصہ کو اذکر سے شروع نہیں کیا۔ قولہ : اذکُرْ عبدناَ ایُّوبَ ، ایوبَ ، عبدناَ سے بدل یا عطف بیان ہے اور اذ نادٰی، ایوب سے بدل الاشتمال ہے۔ قولہ : ووھَبْنَا لَہٗ اھلہٗ واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف محذوف پر ہے جس کی طرف مفسر نے فاغتسل مقدر مان کر اشارہ کردیا۔ قولہ : رحمَۃً ، وذِکریٰ دونوں بذریعہ عطف، وھبنَا کے مفعول لاجلہٖ ہیں۔ قولہ : ضغثًا، حُزمۃُ حشیشٍ سوکھی گھاس کا مٹھا حزمۃ مٹھا فارسی میں دستہ کہتے ہیں۔ قولہ : بخالصۃٍ یہ موصوف محذوف کی صفت ہے ای نخصلۃٍ خالصۃٍ ۔ قولہ : ذکری الدَّارِ کو مفسر (رح) نے ھی مبتداء محذوف کی خبر قرار دی ہے اس صورت میں ذکریٰ محلاً مرفوع ہوگا اور ایک قراءت میں ذکری الدَّار کو خالصۃٍ کا مضاف الیہ قرار دیا ہے اضافت بیانیہ ہوگی، اس صورت میں ذکریٰ محلاً مجرور ہوگا۔ قولہ : الیسع ھو ابن اخطوب بن العجوز۔ قولہ : مفتحۃً یہ جنت عدن سے حال ہے اور جنّٰت عدنٍ ، حسن مآب سے بدل یا عطف بیان ہے۔ قولہ : متقین، لَھُمْ کی ضمیر ھم سے حال ہے۔ قولہ : التفاتًا یعنی تُوْعدونَ (ت) کے ساتھ پڑھا جائے تو غیبَتْ سے خطاب کی جانب التفات ہوگا۔ قولہ : ھٰذا فلیذُوقُوْہُ حمیمٌ وغَسَّاقٌ، ھٰذا مبتداء ہے اور حمیمٌ وغسَّاقٌ معطوف معطوف علیہ سے مل کر مبتداء کی خبر ہے، عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ھٰذا حَمِیمٌ وغَسَّاقٌ فلیذُوْقُوْہُ ۔ قولہ : یُقال لھم قائل فرشتے ہوں گے، اس عبارت سے اشارہ کردیا کہ ھٰذا فوجٌ کلام مستانف ہے۔ قولہ : باتباعِھِم ای مع اتباعھم۔ قولہ : بَلْ انتم ای بل انتم احق بمَا قُلْتُمْ لَنا۔ قولہ : انتُمْ قدَّ مْتُمُوہُ یہ ان کی احقیت کی علت ہے۔ قولہ : فی النار یہ یا تو زِدہُ کا ظرف ہے یا عذابًا کی صفت ہے ای عَذَابًا کائنًا فی النار۔ قولہ : وھُمْ ، ھُم ضمیر رجالاً کی طرف راجع ہے۔ قولہ : وسلم انَ یہ کلام چونکہ ائمہ کفر و ضلال کا مکہ کے فقراء مسلمین کے بارے میں ہے لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ لفظ سلیمان کو حذف کردیا جائے اس لئے کہ یہ مدینہ میں ایمان لائے تھے۔ تفسیر و تشریح مذکورہ آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ آپ ﷺ کو صبر کی تلقین کیلئے لایا گیا ہے، یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة انبیاء میں گزر چکا ہے، حضرت ایوب (علیہ السلام) کے نسب کے بارے میں یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ وہ نبی اسرائیل میں سے تھے اور یہ کہ ان کے والد کا نام اموص تھا، ابن جریر نے آپ کا نسب اس طرح بیان کیا ہے ایوب بن اموص بن روم بن عیص بن اسحٰق (علیہ السلام) (روح المعانی) نُصبٌ سے جسمانی تکلیف اور عذاب سے اہلی و مالی نقصان مراد ہے۔ مسنی۔۔۔ وعذابٍ شیطان نے مجھے رنج و آزار پہنچایا ہے، بعض مفسرین نے شیطان کے ربج و آزار پہنچانے کی یہ تفصیل بیان کی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) جس بیماری میں متلا ہوئے وہ شیطان کے تسلط کی وجہ سے آئی تھی۔ اور اس کی صورت یہ پیش آئی تھی کہ ایک مرتبہ فرشتوں نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بہت تعریف کی، جس پر شیطان کو بہت حسد ہوا، تو شیطان نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی مجھے اس کے جسم، مال، اولاد پر ایسا تسلط عطا فرما کہ جس سے میں اسکے ساتھ جو چاہوں کروں، چونکہ اللہ تعالیٰ کو حضرت ایوب (علیہ السلام) کی آزمائش مقصود تھی اسلئے شیطان کو یہ حق دیدیا گیا اور اس نے آپ کو اس بیماری میں مبتلا کردیا۔ لیکن محقق مفسرین نے اس واقعہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی تصریح کے مطابق انبیاء (علیہ السلام) پر شیطان کو تسلط حاصل نہیں ہوسکتا، اس لئے یہ ممکن نہیں کہ شیطان نے آپ کو بیمار کردیا ہو۔ بعض حضرات نے شیطان کے رنج و آزار پہنچانے کی یہ تشریح کی ہے کہ بیماری کی حالت میں شیطان حضرت ایوب (علیہ السلام) کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالا کرتا تھا، اس سے آپ کو اور زیادہ تکلیف ہوتی تھی یہاں آپ نے اسی کا ذکر فرمایا ہے۔ (معارف) مگر اس آیت کی سب سے بہتر توضیح اور شیطانی رنج و آزار کی تشریح وہ ہے جو امام احمد بن حنبل (رح) نے کتاب الزبد میں ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کے زمانہ میں ایک بار شیطان ایک طبیب کی شکل میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی، ” رحمت “ کو ملا، ایوب ( علیہ السلام) کی بیوی نے طبیب سمجھ کر علاج کی درخواست کی، شیطان نے کہا اس شرط پر علاج کرتا ہوں کہ اگر ان کی شفاء ہوجائے ت ویوں کہہ دینا کہ تو نے ان کو شفا دی، میں اور کچھ معاوضہ نہیں چاہتا، بیوی نے حضرت ایوب (علیہ السلام) سے صورت حال کا تذکرہ کیا، حضرت ایوب (علیہ السلام) نے فرمایا بھلی مانس وہ تو شیطان تھا، میں عہد کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے شفا دیدے تو میں تجھ کو سو قمچیاں ماروں گا، حضرت ایوب (علیہ السلام) کو اس واقعہ سے رنج ہوا، حضرت ایوب (علیہ السلام) یہاں اسی رنج و تکلیف کا تذکرہ فرما رہے ہیں۔ مسنِی۔۔۔ وعذابٍ رنج و آزار کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، حالانکہ سب کچھ کرنے والا صرف اللہ ہے، ممکن ہے کہ کسی شیطانی وسوسہ سے ہی کوئی ایسا عمل ہوا ہو جو اس آزمائش کا سبب بنا ہو، شیطان کو چونکہ انبیاء پر بھی وسوسہ کی قدرت حاصل ہے تو ممکن ہے کہ شیطان حضرت ایوب (علیہ السلام) پر وسوسہ کے ذریعہ اثر انداز ہوا ہو لا سلطان لہ الا الوسوسۃ (روح المعانی) یا پھر یہ ہوسکتا ہے کہ ادبًا رنج و آزار کی نسبت شیطان کی طرف کردی گئی ہو اس لئے کہ شر کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا سوء ادبی ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا مرض : قرآن کریم میں اتنا تو بتایا گیا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو ایک شدید قسم کا مرض لاحق ہوگیا تھا، لیکن اس مرض کی نوعیت نہیں بتائی گئی، احادیث میں بھی اس مرض کی کوئی تفصیل مذکور نہیں، البتہ بعض آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے جسم کے ہر حصہ پر پھوڑے نکل آئے تھے، یہاں تک کہ گھن کی وجہ سے لوگوں نے آپ کو آبادی سے دور کسی جگہ پر ڈال دیا، لیکن بعض محقق مفسرین نے ان آثار کو درست تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) پر بیماریاں تو آسکتی ہیں مگر ان کو کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جاتا کہ لوگ ان سے گھن اور نفرت کرنے لگیں، لہٰذا مذکورہ آثار قابل اعتبار نہیں۔ (ملخص روح المعانی) خُذْ بیدکَ ضَغْثًا اس واقعہ کا پس منظر سابق میں گزر چکا ہے، چند مسائل درج ذیل ہیں : مسئلہ : اگر کوئی شخص کسی کو سو قمچیاں مارنے کی قسم کھالے اور بعد میں سو قمچیاں الگ الگ مارنے کی بجائے تمام قمچیوں کا ایک مٹھا بنا کر ایک ہی مرتبہ مار دے تو اس سے قسم پوری ہوجاتی ہے، اس لئے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو ایسا کرنے کا حکم دیا گیا، یہی امام ابوحنیفہ کا مسلک ہے، لیکن جیسا کہ علامہ ابن ہمام نے لکھا ہے اس کیلئے دو شرطیں ضروری ہیں ایک تو یہ کہ اس شخص کے بدن پر ہر قمچی طولاً یا عرضاً ضرور لگے، دوسری شرط یہ کہ اس کو ہر قمچی سے کچھ نہ کچھ تکلیف ضرور ہو، اگر اتنی آہستہ قمچیاں بدن سے لگائی گئیں کہ مطلقاً تکلیف نہ ہوئی تو قسم پوری نہ ہوگی۔ (فتح القدیر لابن ھمام) حیلوں کی شرعی حیثیت : اس آیت سے دوسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ کسی نامناسب یا مکروہ بات سے بچنے کیلئے کوئی شرعی عذر اختیار کیا جائے تو وہ جائز ہے، ظاہر ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی قسم کا تقاضہ تو یہ تھا کہ بیوی کو سو قمچیاں ماریں لیکن چونکہ ان کی زوجہ مطہرہ بےگناہ تھیں اور انہوں نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بےمثال خدمت انجام دی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو ایک حیلہ کی تلقین فرمائی، اور یہ تصریح کردی کہ اس طرح ان کی قسم پوری ہوجائے گی، اس لئے یہ واقعہ حیلہ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔ (معارف) مقاصد شرعیہ کو باطل کرنے کیلئے حیلہ حرام ہے : اس قسم کے حیلے اسی وقت جائز ہوتے ہیں جبکہ ان کو مقاصد شرعیہ کے ابطال کا ذریعہ نہ بنایا جائے، اگر حیلہ کا مقصد یہ ہو کہ حیلہ کے ذریعہ کسی کے حق کو باطل کیا جائے یا کسی صریح فعل احرام کو اپنے لئے حلال کرلیا جائے تو ایسا حیلہ بالکل ناجائز ہے، مثلاً زکوٰۃ سے بچنے کیلئے بعض لوگ یہ حیلہ کرتے ہیں کہ سال کے ختم ہونے سے ذرا پہلے اپنا مال بیوی کو دیدیتے ہیں، پھر کچھ عرصہ بعد بیوی نے اس مال کا مالک پھر شوہر کو بنادیا، اس طرح کسی پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوئی، ایسا کرنا چونکہ مقاصد شرعیہ کو باطل کرنے کی ایک کوشش ہے اسلئے حرام ہے اور شاید اس کا وبال ترک زکوٰۃ سے زیادہ ہو۔ اخلصنٰھم بخالصۃ ذکری الدارِ فکر آخرت انبیاء (علیہم السلام) کا امتیازی وصف ہوتا ہے، اس آیت میں انبیاء کے اسی وصف خاص کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ذکری الدار کے لفظی معنی ہیں گھر کی یاد، اور گھر سے مراد آخرت ہے لفظ آخرت اختیار کرنے کے بجائے دار کا لفظ اختیار کرنے سے اس بات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ انسان کو اپنا اصلی گھر آخرت ہی کو سمجھنا چاہیے، اور اسی کی فکر کو اپنے افکار و اعمال کی بنیاد بنانا چاہیے۔ واذکر اسمعیل والیسع، الیسع عجمی لفظ ہے الف لام تعریف کیلئے ہے، اس کا غیر عربی ہونا الف لام کے دخول کیلئے مانع نہیں ہے، بعض عجمی اسماء پر بھی الف لام تعریف کا داخل ہوجاتا ہے، جیسا کہ الاسکندریہ وغیرہ، حضرت یسع انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں قرآن کریم میں ان کا صرف دو جگہ ذکر آیا ہے ایک سورة انعام میں اور دوسرے یہاں، دونوں میں سے کسی جگہ بھی آپ کی تفصیلی حالات مذکور نہیں، تاریخ کی کتابوں سے منقول ہے کہ آپ حضرت الیاس (علیہ السلام) کے چچا زاد بھائی ہیں، اور ان کے نائب و خلیفہ بھی۔ (معارف)