26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر ابنِ کثیر

Ayahs 26:192–195

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

اور یہ قرآن (خدائے) پروردگار عالم کا اُتارا ہوا ہے

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اُترا ہے

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

(یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

اور (القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)

مبارک کتاب سورت کی ابتدا میں قرآن کریم کا ذکر آیا تھا وہی ذکر پھر تفصیلاً بیان ہو رہا ہے کہ یہ مبارک کتاب قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔ روح الامین سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں جن کے واسطے سے یہ وحی سرور رسل ؑ پر اتری ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ 97؀) 2۔ البقرة :97) یعنی اس قرآن کو بحکم الٰہی حضرت جبرائیل ؑ نے تیرے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن اگلی تمام الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ یہ فرشتہ ہمارے ہاں ایسا مکرم ہے کہ اس کا دشمن ہمارا دشمن ہے حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جس سے روح الامین بولے اسے زمین نہیں کھاتی۔ اس بزرگ بامرتبہ فرشتے نے جو فرشتوں کا سردار ہے تیرے دل پر اس پاک اور بہتر کلام اللہ کو نازل فرمایا ہے جو ہر طرح کے میل کچیل سے کمی زیادتی سے نقصان اور کجی سے پاک ہے۔ تاکہ تو اللہ کے مخالفین کو گہنگاروں کو اللہ کی سزا سے بچاؤ کرنے کی رہبری کرسکے۔ اور تابع فرمان لوگوں کو اللہ کی مغفرت ورضوان کی خوشخبری پہنچاسکے۔ یہ کھلی فصیح عربی زبان میں ہے۔ تاکہ ہر شخص سمجھ سکے پڑھ سکے۔ کسی کا عذر باقی نہ رہے اور ہر ایک پر قرآن کریم اللہ کی حجت بن جائے ایک مرتبہ حضور ﷺ نے صحابہ ؓ کے سامنے نہایت فصاحت سے ابر کے اوصاف بیان کئے جسے سن کر صحابہ کہہ اٹھے یا رسول اللہ ﷺ آپ تو کمال درجے کے فصیح وبلیغ زبان بولتے ہیں۔ آپ نے فرمایا بھلا میری زبان ایسی پاکیزہ کیوں نہ ہوگی، قرآن بھی تو میری زبان میں اترا ہے فرمان ہے آیت (بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ01905ۭ) 26۔ الشعراء :195) امام سفیان ثوری ؒ فرماتے ہیں وحی عربی میں اتری ہے یہ اور بات ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کے لئے ان کی زبان میں ترجمہ کردیا۔ قیامت کے دن سریانی زبان ہوگی ہاں جنتیوں کی زبان عربی ہوگی (ابن ابی حاتم)
Ayahs 26:196–199

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اور اس کی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں (لکھی ہوئی) ہے

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا ان کے لئے یہ سند نہیں ہے کہ علمائے بنی اسرائیل اس (بات) کو جانتے ہیں

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اُتارتے

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

اور وہ اسے ان (لوگوں کو) پڑھ کر سناتا تو یہ اسے (کبھی) نہ مانتے

بشارت و تصدیق یافتہ کتاب فرماتا ہے کہ اللہ کی اگلی کتابوں میں بھی اس پاک اور اللہ کی آخری کلام کی پیشن گوئی اور اسکی تصدیق وصفت موجود ہے۔ اگلے نبیوں نے بھی اسکی بشارت دی یہاں تک کہ ان تمام نبیوں کے آخری نبی جن کے بعدحضور ﷺ تک اور کوئی نبی نہ تھا۔ یعنی حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو جمع کر کے جو خطبہ دیتے ہیں اس میں فرماتے ہیں کہ اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری جانب اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جو اگلی کتابوں کو سچانے کے ساتھ ہی آنے والے حضرت محمد ﷺ کی بشارت تمہیں سناتا ہوں۔ زبور حضرت داؤد ؑ کی کتاب کا نام ہے یہاں زبر کا لفظ کتابوں کے معنی میں ہے جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي الزُّبُرِ 52؀) 54۔ القمر :52) جو کچھ یہ کررہے ہیں سب کتابوں میں تحریر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ سمجھیں اور ضد اور تعصب نہ کریں تو قرآن کی حقانیت پر یہی دلیل کیا کم ہے کہ خود بنی اسرائیل کے علماء اسے مانتے ہیں۔ ان میں سے جو حق گو اور بےتعصب ہیں وہ توراۃ کی ان آیتوں کا لوگوں پر کھلے عام ذکر کر رہے ہیں جن میں حضور ﷺ کی بعثت قرآن کا ذکر اور آپ کی حقانیت کی خبر ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، حضرت سلمان فارسی ؓ اور ان جیسے حق گو حضرات نے دنیا کے سامنے توراۃ و انجیل کی وہ آیتیں رکھ دیں جو حضور ﷺ کی شان والا شان کو ظاہر کرنے والی تھیں۔ اس کے بعد کی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس فصیح وبلیغ جامع بالغ حق کلام کو ہم کسی عجمی پر نازل فرماتے پھر بھی کوئی شک ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ یہ ہمارا کلام ہے۔ مگر مشرکین قریش اپنے کفر اور اپنی سرکشی میں اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اس وقت بھی وہ ایمان نہ لاتے۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر آسمان کا دروازہ بھی ان کے لئے کھول دیا جاتا اور یہ خود چڑھ کر جاتے تب بھی یہی کہتے ہمیں نشہ پلادیا گیا ہے۔ ہماری آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ اور آیت میں ہے اگر ان کے پاس فرشتے آجاتے اور مردے بول اٹھتے تب بھی انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ان پر عذاب کا کلمہ ثابت ہوچکا، عذاب ان کا مقدر ہوچکا اور ہدایت کی راہ مسدود کردی گئی۔
Ayahs 26:200–209

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے انکار کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیا

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

وہ جب تک درد دینے والا عذاب نہ دیکھ لیں گے، اس کو نہیں مانیں گے

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

وہ ان پر ناگہاں آ واقع ہوگا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

اس وقت کہیں گے کیا ہمیں ملہت ملے گی؟

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہے

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

پھر ان پر وہ (عذاب) آ واقع ہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

تو جو فائدے یہ اٹھاتے رہے ان کے کس کام آئیں گے

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر اس کے لئے نصیحت کرنے والے (پہلے بھیج دیتے) تھے

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

نصیحت کردیں اور ہم ظالم نہیں ہیں

کفر و انکار تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بےسود ہوگا ان پر لعنت برس چکی ہوگی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بیخبر ی میں ہی آجائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بےسود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لاحاصل۔ فرعون ہی کو دیکھئے حضرت موسیٰ نے اس کے لئے بد دعا کی جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ یہ ایمان بےسود ہے۔ اسی طرح ایک اور آیت میں ہے کہ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سا بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہوگا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے آیت (يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ ۚ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ 96؀) 2۔ البقرة :96) ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہ دلاکر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلاکر لایا جائے گا اور سوال ہوگا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے ؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی۔ حضرت عمربن خطاب ؓ عموما یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔ اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا۔ رسولوں کو بھیجتا کتابیں اتارتا ہے خبریں دیتا ہے ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیائے کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کرکے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے جیسے فرمایا تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتاجب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے۔
Ayahs 26:210–212

وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ Open ayah 26:210 in the Quran reader

اور اس (قرآن) کو شیطان لے کر نازل نہیں ہوئے

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

یہ کام نہ تو ان کو سزاوار ہے اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

وہ (آسمانی باتوں) کے سننے (کے مقامات) سے الگ کر دیئے گئے ہیں

یہ کتاب عزیز یہ کتاب عزیز جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا جو حیکم وحمید اللہ کی طرف سے اتری ہے جس کو روح الامین جو قوت وطاقت والے ہیں لے کر آئیں ہیں اسے شیاطین نہیں لائے پھر ان کے نہ لانے پر تین وجوہات بیان کی گئیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس کے لائق نہیں۔ ان کا کام مخلوق کو بہکانا ہے نہ کہ راہ راست پر لانا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جو اس کتاب کی شان ہے اس کے سراسر خلاف ہے۔ یہ نور یہ ہدایت ہے یہ برہان ہے اور شیاطین ان تینوں چیزوں سے چڑتے ہیں وہ ظلمت کے دلدادہ اور ضلالت کے ہیرو ہیں۔ وہ جہالت کے شیدا ہیں پس اس کتاب میں اور ان میں تو تباین اور اختلاف ہے۔ کہاں وہ کہاں یہ ؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ جہاں اس کے اہل نہیں وہاں ان میں اس کو اٹھانے اور لانے کی طاقت بھی نہیں۔ یہ تو وہ ذی عزت والا کام ہے کہ اگر کسی بڑے سے بڑے پہاڑ بھی اترے تو اس کو بھی چکنا چور کردے۔ پھر تیسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ تو اس کے نزول کے وقت ہٹادئیے گئے تھے انہیں تو سننا بھی نہیں ملا۔ تمام آسمان پر سخت پہرہ چوکی تھی یہ سننے کے لئے چڑھتے تھے تو ان پر آگ برسائی جاتی تھیں۔ اس کا ایک حرف سن لینا بھی ان کی طاقت سے باہر تھا۔ تاکہ اللہ کا کلام محفوظ طریقے پر اس کے نبی ﷺ کو پہنچے اور آپ کی وساطت سے مخلوق الٰہی کو پہنچے۔ جیسے سورة جن میں خود جنات کا مقولہ بیان ہوا ہے کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہر چوکی سے بھر پور پایا اور جگہ جگہ شعلے متعین پائے پہلے تو ہم بیٹھ کر اکا دکا بات اڑا لایا کرتے تھے لیکن اب تو کان لگاتے ہی شعلہ لپکتا ہے اور جلاکر بھسم کردیتا ہے۔
Ayahs 26:213–220

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

تو خدا کے سوا کسی اور معبود کو مت پکارنا، ورنہ تم کو عذاب دیا جائے گا

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ Open ayah 26:214 in the Quran reader

اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر سنا دو

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور جو مومن تمہارے پیرو ہوگئے ہیں ان سے متواضع پیش آؤ

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

پھر اگر لوگ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بےتعلق ہوں

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور (خدائے) غالب اور مہربان پر بھروسا رکھو

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

جو تم کو جب تم (تہجد) کے وقت اُٹھتے ہو دیکھتا ہے

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

اور نمازیوں میں تمہارے پھرنے کو بھی

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

بےشک وہ سننے اور جاننے والا ہے

مستحق سزا لوگوں سے الگ ہوجاؤ خود اپنے نبی ﷺ سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کردے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بےتعلق ہوجا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کردے۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور آیت میں ہے (وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا 92؀) 6۔ الانعام :92) تاکہ تو مکہ والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے۔ اور آیت میں ہے تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کردے۔ جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنادے اور سرکشوں کو ڈرادے اور آیت میں فرمایا (لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ ۭ 19؀ۘ) 6۔ الانعام :19) تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں۔ اور فرمان ہے اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑجائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔ 001 مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو آنحضرت ﷺ صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور یا صباحاہ کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہوگئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت حضور ﷺ نے فرمایا اے اولاد عبدالمطلب ! اے اولاد فہر ! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے ؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ نے فرمایا سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں۔ اس پر ابو لہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہوجائے یہی سنانے کے لئے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورة تبت یدا اتری (بخاری مسلم وغیرہ) 002 مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد ﷺ اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آسکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لئے تیار ہو (مسلم) 003 ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی حضور ﷺ نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کرکے اور عام طور پر خطاب کرکے فرمایا اے قریشیو ! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو ! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبد المطلب کے لڑکو ! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ ؓ بنت محمد ! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں۔ (مسلم وغیرہ) بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنی پھوپھی حضرت صفیہ اور اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کرلو۔ ابو یعلی میں ہے کہ آپ نے فرمایا اے قصی اے ہاشم اے عبد مناف کی اولادو ! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے 004 مسند احمد میں ہے حضور ﷺ پر یہ آیت اتری تو آپ ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ نے فرمایا اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کردینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لئے آیا تاکہ وہ بچاؤ کرلیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کردیا کہ پہلے ہی خبردار ہوجائیں (مسلم نسائی وغیرہ) حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو حضور ﷺ نے فرمایا کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی مرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا۔ تو ایک شخص نے کہا آپ تو سمندر ہیں آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے ؟ تین دفعہ آپ نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا یارسول اللہ میں اس کے لئے تیار ہوں (مسند احمد) ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ حضور ﷺ نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھا جاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ نے ان سب کے کھانے کے لئے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ نے فرمایا اے اولاد عبد المطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموما نبی بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ تین مرتبہ آپ نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ نے میری بیعت لی۔ امام بہیقی دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے پس آپ خاموش ہوگئے اتنے میں حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمانے لگے حضرت محمد ﷺ اگر آپ نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ کو سزا ہوگی اسی وقت آپ نے حضرت علی ؓ کو بلایا اور فرمایا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کرکے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن حضرت جبرائیل ؑ آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہوگا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کرکے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھر لو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ کے چچا بھی تھے۔ ابو طالب، حمزہ، عباس، اور ابو لہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا اے علی انہیں پلاؤ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہوگئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب حضور ﷺ نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابو لہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لئے تھی۔ چناچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور حضور ﷺ کو نصیحت و تبلیغ کو موقعہ نہ ملا دوسرے روز آپ نے حضرت علی سے فرمایا آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابو لہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہوگئے۔ تیسرے دن پھر حضور ﷺ نے حضرت علی سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کردی اور فرمایا اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں۔ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون مرا ساتھ دیتا ہے ؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اسکی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہوگا اور یہ درجے ملیں گے۔ لوگ سب خاموش ہوگئے لیکن حضرت علی جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یارسول اللہ اس امر میں آپ کی وزارت میں قبول کرتا ہوں آپ نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابو طالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیا کرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا۔ ان روایتوں میں جو حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے ؟ اس سے مطلب آپ کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہوجائیں گے اور مجھے قتل کردیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری (وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 67؀) 5۔ المآئدہ :67) اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا۔ اس وقت آپ بےخطر ہوگئے۔ اس سے پہلے آپ اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنوہاشم میں حضرت علی ؓ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق و یقین والا کوئی نہ تھا۔ اس لئے ہی آپ نے حضور کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو درداء ؓ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بےپرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے حضرت ابو درداء ؓ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء (علیہم السلام) ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت (وانذر سے تعملون) تک ہے پھر فرماتا ہے اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ وناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ 48؀ۙ) 52۔ الطور :48) اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں یہ بھی مطلب ہے کہ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ کو جس طرح آپ کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ ﷺ کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ ﷺ کی نگاہ میں رہتے تھے چناچہ صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے صفیں درست کرلیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ابن عباس ؓ ما یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، انکی حرکات و سکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت (وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ 61؀) 10۔ یونس :61) ، تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں۔
Ayahs 26:221–227

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

(اچھا) میں تمیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اُترتے ہیں

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

ہر جھوٹے گنہگار پر اُترتے ہیں

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

جو سنی ہوئی بات (اس کے کام میں) لا ڈالتے ہیں اور وہ اکثر جھوٹے ہیں

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں

شیاطین اور جادوگر مشرکین کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اسکو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔ اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملاکر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کرکے لوگوں میں ڈینگیں ماردیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ کوئی چیز نہیں ہیں۔ لوگوں نے کہا حضور کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اسکے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملاکر کہہ دیتے ہیں صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے ؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث حضرت سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلاکر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلاکر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچادیتے ہیں اس میں کاہن و جادوگر اپنے سو جھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں۔ ان تمام احایث کا بیان آیت (حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّكُمْ ۭ قَالُوا الْحَقَّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 23؀) 34۔ سبأ :23) کی تفسیر میں آئے گا۔ انشاء اللہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہوجاتی تھی اور اسکی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ ؓ کی ایک جماعت کیساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ نے فرمایا اس شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا روکو۔ تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے۔ انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا ؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لئے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں ؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کرسکتے ہوں۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنی خلافت کے زمانے میں حضرت نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہوسکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔ اللہ کرے امیر المومنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔ یہ اشعار سچ مچ حضرت امیرالمومنین ؓ تک پہنچ گئے آپ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں (الیہ المصیر) تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔ چناچہ اس خط کو پڑھتے ہی حضرت نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المومنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ و گانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ نے فرمایا یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دو۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت عمر ؓ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لئے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔ چناچہ حدیث میں ہے کہ پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بدتر ہے۔ مطلب یہ کہ رسول کریم ﷺ نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ کا ظاہر حال ہی آپ کے ان عیوب سے براءت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے۔ اور آیت میں ہے یہ رسول کریم کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کردے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کردئیے گئے ہیں۔ جو جھوٹے مفتری اور بد کردا ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سناکر ان کے کانوں میں آکر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اسکا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حضرت حسان بن ثابت، حضرت عبداللہ بن رواحہ، حضرت کعب بن مالک ؓ روتے ہوئے دربار نبی ﷺ میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مسثنیٰ ہو (ابن ابی حاتم وغیرہ)۔ ایک روایت میں حضرت کعب کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ کی اس شکایت پر کہ یارسول اللہ ﷺ شاعر تو میں بھی ہوں اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکنے یہ قابل نظر۔ اس لئے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقینا محل غور ہوگا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت کا نازل بیشک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء ؓ ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہوجائے توبہ کرلے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔ حسنات سیات کو دور کردیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے حضرت عبداللہ بن زبعری ؓ نے اسلام سے پہلے حضور کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا اسی طرح ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں حضور ﷺ سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ صحیح مسلم میں ابن عباس سے مروی ہے کہ ابو سفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو حضور ﷺ سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لئے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبر لوں۔ آپ نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی۔ پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقینا وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود حضور ﷺ نے حضرت حسان سے فرمایا تھا ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ حضرت کعب بن مالک شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور سے عرض کیا آپ نے فرمایا تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہوجائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے۔ آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔ حضرت حسن نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب حضرت فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں کہا گیا کہ اس سے مراد اہل مکہ ہیں، یہ بھی مروی ہے کہ مراد مشرک ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میرے والد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہوجاتا، فاجر بھی توبہ کرلیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کو بنا جارہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں۔ سورة شعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔